Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • تحریک تحفظ آئین پاکستان، پی ٹی آئی کا دھرناجاری،پارلیمنٹ ہاؤس کو تالے لگ گئے

    تحریک تحفظ آئین پاکستان، پی ٹی آئی کا دھرناجاری،پارلیمنٹ ہاؤس کو تالے لگ گئے

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا

    تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس میں محصور ہے،اراکین رات بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بیٹھے رہے،پولیس کی جانب سے کسی کو پارلیمنٹ کے اندر جانے اور کسی کو اندر سے باہر آنے نہیں دیا جارہا ،پارلیمنٹ ہاؤس کے تمام دروازوں کو تالے لگا دیئے گئے،تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت بھوک سے نڈھال ہو گئی،پولیس کی جانب سے رات کو کھانا اور اب صبح ناشتہ بھی اندر نہیں لے جانے دیا جارہا،پولیس کی بھاری نفری پارلیمنٹ کے تمام گیٹس پہ تعنیات ہے

    مصطفی نواز کھرکھر ناشتہ لے کر پارلیمنٹ کے گیٹ پر پہنچ گئے،پولیس سے بحث تکرار پولیس نے ناشتہ اندر لے جانے کی اجازت نہ دی ، مصطفی نواز کھوکھر نے پارلیمنٹ کی عقبی سائیڈ سے ناشتے دینے کی کوشش کی جس پرپولیس کے اہلکاروں نے سختی سے روک دیا،ترجمان تحرہک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی پولیس کے رویے پر شدید غصے ہو گئے اور کہا کہ ہم کل سے پارلیمنٹ کے اندر محصور ہیں نا پانی اور نہ ناشتہ اندر جانے دے رہے،سینٹر فلک ناز چترالی کی طبیعت رات سے خراب ہے دوائی نہیں آنے دے رہے

    خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر اور پارلیمنٹ لاجز کے اندر دھرنے میں محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور سمیت کئی اہم رہنما شامل ہیں۔وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی دھرنے میں شریک ہیں،

  • پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل پر بات جاری ہے،آئی ایم ایف

    پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل پر بات جاری ہے،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت جاری ہے، جس میں صارفین پر ممکنہ اثرات اور حکومتی معاشی اہداف کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف حکام کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات میں اس امر پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں کسی بھی ممکنہ اضافے یا ردوبدل کا بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر نہ پڑے۔ حکام کے مطابق سماجی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے کمزور طبقہ غیر متناسب مالی دباؤ کا شکار نہ ہو۔

    آئی ایم ایف حکام نے واضح کیا کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم کا جائزہ پاکستان کے ساتھ طے شدہ معاشی اصلاحاتی پروگرام کے تناظر میں لیا جائے گا۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ بجلی کے شعبے میں کی جانے والی کسی بھی تبدیلی کا تعلق حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور اصلاحاتی اہداف سے ہم آہنگ ہو۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے، سبسڈی کے نظام اور محصولات کی بہتری جیسے معاملات بھی زیر غور ہیں تاکہ بجلی کے شعبے کی مالی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے بغیر طویل مدتی معاشی استحکام ممکن نہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم کے مہنگائی، صارفین کی قوتِ خرید اور مجموعی معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اعداد و شمار اور مختلف معاشی اشاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی فیصلے کے ممکنہ مضمرات کو پیشگی سمجھا جا سکے۔ماہرین معاشیات کے مطابق بجلی کے نرخوں میں ردوبدل کا براہ راست اثر صنعتی لاگت، برآمدات، گھریلو بجٹ اور مہنگائی کی مجموعی شرح پر پڑتا ہے، اس لیے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات کو معیشت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ایئر چیف مارشل انڈونیشیا پہنچ گئے، انڈونیشیا کے صدر،عسکری قیادت سے ملاقات

    ایئر چیف مارشل انڈونیشیا پہنچ گئے، انڈونیشیا کے صدر،عسکری قیادت سے ملاقات

    پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو انڈونیشیا کے سرکاری دورہ جکارتہ پہنچ گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی انڈونیشیا کے صدر پربوو سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کی دیرینہ برادرانہ شراکت داری پر زور دیا گیا،اس موقع پر انڈونیشی صدر پربوو نے پاک فضائیہ کے جدید تربیتی نظام میں دلچسپی ظاہر کی، انڈونیشیا نے دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے پاک فضائیہ سے تعاون کی خواہش ظاہر کی،ایئر چیف نے انڈونیشین وزیر دفاع اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، ایئر چیف کو تمام مقامات پر باقاعدہ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،دونوں فضائی افواج نے مشترکہ تربیت اور پیشہ ورانہ تبادلوں پر اتفاق کیا، ابھرتے ایرو اسپیس شعبوں میں باہمی اشتراک بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انڈونیشین ایئر چیف نے پاک فضائیہ کے جنگی تجربے کو سراہا، اس موقع پر ایئر چیف کو انڈونیشین فضائیہ کا اعلیٰ ترین میڈل آف آنر دیا گیا، مشترکہ اجلاس میں دفاع اور سلامتی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • غفلت نہیں بلکہ منظم بیانیہ، بلوچستان میں استحکام کے لیے جامع حکمتِ عملی

    غفلت نہیں بلکہ منظم بیانیہ، بلوچستان میں استحکام کے لیے جامع حکمتِ عملی

    بلوچستان میں بدامنی محض معاشی مسئلہ نہیں ہے۔ کم شرح خواندگی اور بعض علاقوں میں نوجوانوں کی بے روزگاری 25 فیصد سے زائد ہونے کے باوجود، کئی دہائیوں سے جاری علیحدگی پسند نظریاتی تربیت، جس میں پاکستان کو “قابض” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نے بداعتمادی کو گہرا کیا اور شدت پسند گروہوں میں بھرتی کو ہوا دی۔

    تاریخی طور پر صوبے کا تقریباً 77 فیصد حصہ رضاکارانہ طور پر پاکستان سے الحاق کر چکا تھا؛ صرف قلات نے ابتدا میں مزاحمت کی۔ تاہم، مسلسل پروپیگنڈا نے اس تناظر کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ ریاست نے اسکولوں، فنی تربیتی پروگراموں اور سی پیک سے منسلک ترقیاتی منصوبوں کو وسعت دی ہے، لیکن صرف معاشی اقدامات تاثر پر مبنی تنازع کو حل نہیں کر سکتے۔ استحکام کے لیے ترقی کے ساتھ اسٹریٹجک ابلاغ، شہری شمولیت اور شفاف طرزِ حکمرانی کو یکجا کرنا ضروری ہے۔

    بلوچستان کی بدامنی کی بنیادی وجہ نظریاتی تربیت ہے، محض معاشی محرومی نہیں، اگرچہ بعض اضلاع میں نوجوانوں کی بے روزگاری 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ بلوچستان کے تقریباً 77 فیصد علاقے نے رضاکارانہ طور پر پاکستان سے الحاق کیا، جبکہ صرف قلات نے ابتدا میں مخالفت کی، جو بعد ازاں پُرامن طور پر حل ہوئی۔ ریاست مخالف بیانیے سے متاثرہ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں میں شمولیت کا رجحان اُن علاقوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا جہاں شہری شمولیت کے پروگرام موجود ہیں۔

    ریاستی پروگراموں کے تحت 1,200 سے زائد اسکولوں کا قیام اور 30,000 سے زیادہ نوجوانوں کا فنی تربیتی اقدامات سے مستفید ہونا شمولیت کی عملی مثالیں ہیں۔ صرف معاشی ترقی شورش کا توڑ نہیں؛ “قبضے” کے بیانیے کی مسلسل تکرار بداعتمادی کو بڑھاتی رہتی ہے۔ معلوماتی مہمات، تاریخی شعور کی ترویج اور کمیونٹی مکالمہ کئی دہائیوں کی علیحدگی پسند نظریاتی تربیت کے اثرات کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ سیکیورٹی اقدامات کو اسٹریٹجک ابلاغ کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے؛ قانونی و اخلاقی جواز کا تاثر علاقائی کنٹرول جتنا ہی اہم ہے۔

    نمایاں سرکاری جوابدہی اور شمولیتی طرزِ حکمرانی اعتماد میں اضافہ کرتی ہے، شدت پسند بیانیے کی کشش کم کرتی ہے اور مقامی نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ فکری، سماجی اور معاشی پہلوؤں کا مجموعہ ہے، بداعتمادی اور عسکریت کے چکر کو توڑنے کے لیے ایک جامع ریاستی حکمتِ عملی درکار ہے۔

  • یو اے ای کی پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع

    یو اے ای کی پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع

    متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر پاکستان کے2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں دو ماہ کی مختصر مدت کے لیے توسیع (رول اوور) پر اتفاق کر لیا۔

    میڈیارپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یو اے ای نے 17 اپریل 2026 تک دو ماہ کے لیے اس رقم کو رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ یقین دہانی اس وقت کرائی گئی جب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رواں ہفتے اعلیٰ اماراتی حکام سے رابطہ کیا،اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب امارات نے یہ مختصر مدتی توسیع 6.5 فیصد شرح سود پر دی ہے، متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ منظوری کسی بھی وقت موصول ہونے کی توقع ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تیسرے جائزہ مذاکرات سے امارات کے اس اقدام کو اہم قراردیاجارہاہے، یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ کی سابقہ توسیع ختم ہونے میں محض چار دن باقی تھے۔متحدہ عرب امارات کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسلام آباد دوبارہ طویل مدتی رول اوور کے لیے رابطہ کرے گا۔

    یاد رہے کہ جنوری میں بھی یو اے ای نے رقم کی میعاد ختم ہونے پر ایک ماہ کی توسیع دی تھی جبکہ ایک ارب کی تیسری قسط جولائی 2026 میں واجب الادا ہوگی۔ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے بتایا ہے کہ اسحاق ڈار اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور وہ اماراتی حکام کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ رول اوور کی مدت کا تعین کرنا قرض دینے والے کا اختیار ہوتا ہے، نائب وزیر اعظم کی کوششوں سے رول اوور یقینی ہو چکا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ وزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے قائمہ کمیٹی خزانہ میں دیے گئے بیانات کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے وزیر خزانہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی پروفائل میں کوئی خلا نہیں ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات بھی درست سمت میں جا رہے ہیں۔

  • ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وزیراعظم

    ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کی زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر (TUME) کے بورڈ چیرمین عبدلقادر قاراگوز (Abdulkadir Karagöz) کی سربراہی میں 4 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے مثالی برادرانہ تعلقات کی مزید مضبوطی کے ساتھ ساتھ معاشی شراکت داری کے فروغ کا بھی خواہاں ہے،برادر ملک ترکیہ سے زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کہ بے شمار مواقع موجود ہیں، ترکیہ کے ذرعی اجناس اور لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہونے والی ترقی کی طرح پاکستان کے زرعی شعبے کو جدت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہیں، قدرت نے پاکستان کو زرعی شعبے میں بے شمار وسائل سے نوازا ہے، اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ان وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں، ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،

    عبدالقادر چیئرمین TUME کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور پاکستان کی برادرانہ قیادت کاروباری حضرات کے مابین تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مشعل راہ ہے،

    وزیراعظم نے ترکیہ سمیت دیگر ممالک میں جدید ٹیکنالوجی اور زرعی ماہرین کی بدولت زرعی شعبے میں جدت سے مستفید ہونے کے لیے باہمی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے زراعت کے شعبے میں پاکستان کے بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے لیے جامع حکمت عملی اور دوست ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ ملاقات کے دوران TUME کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر قاراگوز نے اپنے فرم میں پیداوار بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

    ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نزیراوولو، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیران سید طارق فاطمی اور ہارون اختر اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • تانگیر، گلگت بلتستان میں ایف ڈبلیو او کی گاڑی پر حملہ، ایک شہید، متعدد زخمی

    تانگیر، گلگت بلتستان میں ایف ڈبلیو او کی گاڑی پر حملہ، ایک شہید، متعدد زخمی

    گلگت بلتستان کے پُرفضا مگر حساس علاقے تانگیر بوشیداس میں جمعرات 12 فروری 2026 کو دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا جا رہا ہے،

    ایف ڈبلیو او کے اہلکار تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے معمول کے دورے کے بعد گلگت واپس جا رہے تھے کہ پہلے سے نصب آئی ای ڈی کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ گاڑی تباہ ہوگئی ،حملے کے وقت گاڑی میں ایک میجر اور تین فوجی اہلکار سوار تھے۔ شدید زخمی ہونے والے ڈرائیور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ میجر سمیت دیگر اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔ بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران مزید چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن سے تفتیش جاری ہے۔

    تانگیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا اور خطے کے امن کو متاثر کرنا ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے اس عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ ایسے عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ ایف ڈبلیو او گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اہم انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبوں پر کام کر رہی ہے،حکام نے شہید اہلکار کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ ادارے پوری قوت کے ساتھ سرگرم ہیں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی

  • پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ EO-2 کامیابی سے لانچ

    پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ EO-2 کامیابی سے لانچ

    پاکستان نے خلائی شعبے میں ایک بڑا سنگِ میل حاصل کر لیا

    پاکستانی خلائی ادارے سپارکو (SUPARCO) کا PRSC-EO2 سیٹلائٹ چین سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا گیا ہے، جو ملک کے خلائی اور ٹیکنالوجی پروگرامز کے لیے نئی راہیں کھول دے گا۔یہ کامیابی پاکستان کے خلائی عزائم کی جانب ایک اہم اور بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے،

    سپارکو نے چین کے یانگ جیانگ سی شور سینٹر سے پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ ای او-2 (EO-2) کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا۔ اس اہم پیش رفت کو ملکی خلائی پروگرام میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے بھی سنگِ بنیاد ثابت ہوگی۔سپارکو کے ترجمان کے مطابق ای او-2 سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے (Earth Observation) اور جدید امیجنگ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ جدید ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ معیار کی تصاویر اور ڈیٹا حاصل کیا جا سکے گا۔ اس ڈیٹا کو زراعت، شہری منصوبہ بندی، آبی وسائل کے انتظام، ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ ای او-2 کی کامیاب لانچنگ پاکستان کی بڑھتی ہوئی خلائی مہارت اور تکنیکی خود اعتمادی کی علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سیٹلائٹ ملک میں وسائل کے مؤثر انتظام، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔سپارکو حکام کے مطابق پاکستان کے سیٹلائٹس کے بیڑے میں اضافے سے زمین کے مسلسل اور زیادہ درست مشاہدات ممکن ہوں گے، جس سے ڈیٹا کے تسلسل (Data Continuity) اور درستگی (Accuracy) میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس سے مختلف سرکاری اداروں کو بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہوں گی، جو بہتر حکمرانی (Good Governance) میں معاون ثابت ہوں گی۔

    مزید برآں، ای او-2 سیٹلائٹ قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران فوری معلومات فراہم کرنے میں مددگار ہوگا، جس سے ہنگامی صورتحال میں بروقت فیصلے کیے جا سکیں گے اور جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے گا۔سپارکو کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر تیار کردہ ای او-2 سیٹلائٹ پاکستان کی سیٹلائٹ تیاری میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف قومی خلائی پروگرام کو تقویت ملے گی بلکہ نوجوان سائنسدانوں اور انجینئرز کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق ای او-2 کی لانچنگ خطے میں پاکستان کی خلائی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گی اور عالمی سطح پر ملک کی سائنسی شناخت کو تقویت دے گی۔

  • سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے آئی ایس پی آر کی اپڈیٹ

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے آئی ایس پی آر کی اپڈیٹ

    پاک فوج کے ترجمان نے سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے اپڈیٹ جاری کر دی

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اپنی رہائش گاہ پر گرنے کے باعث زخمی ہوگئے ہیں،آئی ایس پی آر کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ کی صحت سے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی گئی ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر باجوہ اپنےگھر میں گرگئے،انہیں رہائشگاہ پر گرنے کی وجہ سے چوٹ لگی ہے،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں.

  • افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کاگٹھ جوڑ

    افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کاگٹھ جوڑ

    ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ قندھار میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سرغنہ بشیر زیب بلوچ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر غازی خراسانی کے درمیان ایک خفیہ ملاقات کی اطلاعات سامنے ائی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں منظم اور مشترکہ دہشتگرد حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بشیر زیب اس وقت قندھار کے علاقے عینو مینہ میں ایک انتہائی محفوظ سیف ہاؤس میں موجود ہے۔ جبکہ اس مقام کے اطراف میں سیکورٹی کے لئےبڑی تعداد میںمسلح افراد تعینات ہیں جبکہ بیرونی نگرانی افغان طالبان کے اہلکار کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ سیف ہاؤس کے اندر موجود سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعے مبینہ طور پر مجید بریگیڈ کا دہشتگرد پروپیگنڈا مواد اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بشیر زیب کی موجودگی کی تصدیق انٹرسیپٹڈ کالز، انسانی مخبروں اور ڈرون فوٹیج سے ہوئی ہے۔