تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا
تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس میں محصور ہے،اراکین رات بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بیٹھے رہے،پولیس کی جانب سے کسی کو پارلیمنٹ کے اندر جانے اور کسی کو اندر سے باہر آنے نہیں دیا جارہا ،پارلیمنٹ ہاؤس کے تمام دروازوں کو تالے لگا دیئے گئے،تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت بھوک سے نڈھال ہو گئی،پولیس کی جانب سے رات کو کھانا اور اب صبح ناشتہ بھی اندر نہیں لے جانے دیا جارہا،پولیس کی بھاری نفری پارلیمنٹ کے تمام گیٹس پہ تعنیات ہے
مصطفی نواز کھرکھر ناشتہ لے کر پارلیمنٹ کے گیٹ پر پہنچ گئے،پولیس سے بحث تکرار پولیس نے ناشتہ اندر لے جانے کی اجازت نہ دی ، مصطفی نواز کھوکھر نے پارلیمنٹ کی عقبی سائیڈ سے ناشتے دینے کی کوشش کی جس پرپولیس کے اہلکاروں نے سختی سے روک دیا،ترجمان تحرہک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی پولیس کے رویے پر شدید غصے ہو گئے اور کہا کہ ہم کل سے پارلیمنٹ کے اندر محصور ہیں نا پانی اور نہ ناشتہ اندر جانے دے رہے،سینٹر فلک ناز چترالی کی طبیعت رات سے خراب ہے دوائی نہیں آنے دے رہے
خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر اور پارلیمنٹ لاجز کے اندر دھرنے میں محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور سمیت کئی اہم رہنما شامل ہیں۔وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی دھرنے میں شریک ہیں،









