Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیرِ اعظم  سے انسانی خلائی مشن پر جانے والے پاکستانی خلا بازنوجوانوں کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے انسانی خلائی مشن پر جانے والے پاکستانی خلا بازنوجوانوں کی ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے انسانی خلائی مشن پر جانے والے پاکستانی خلا باز، خرم داؤد اور محمد ذیشان علی کی ملاقات ہوئی. اس موقع پر سپارکو کے خلاباز اتاشی حسنین افتخار بھی موجود تھے.

    ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی سید طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے شرکت کی. ملاقات میں چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ بھی شریک تھے.

    وزیرِ اعظم نے خلابازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں نوجوان خلا بازوں اور خلاباز اتاشی سے مل کر دلی مسرت ہوئی. آپکا خلائی مشن پر تحقیق کیلئے جانا پاکستان کیلئے ایک اہم سنگ میل اور مجھ سمیت پوری قوم کیلئے قابل فخر امر ہے. پر اعتماد ہوں کہ آپ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنے جا رہے ہیں. آپ کی شبانہ روز محنت کی بدولت آپ نے یہ مقام حاصل کیا جو قابل ستائش ہے. چینی تعاون سے آپکا یہ سفر دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ کرے گا.

    وزیرِ اعظم نے چین کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلائی تحقیق میں پاکستان اور چین کے تعاون سے دونوں ممالک کی دوستی آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ستاروں پر کمند ڈالنے کیلئے تیار ہے.چین کے سفیر نے وزیرِ اعظم کی گفتگو کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک کے خلائی تحقیق میں تعاون کو خوش آئند قرار دیا. خلابازوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیلئے خلاء میں تحقیق کے فرائض سر انجام دینا باعث عزت، منفرد اعزاز اور باعث افتخار ہے. محنت اور لگن سے قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے.

  • دشمن ڈرونز کی نگرانی کے باوجود فائرمشن کامیابی سے مکمل کیا، کیپٹن ارباز خان خلجی

    دشمن ڈرونز کی نگرانی کے باوجود فائرمشن کامیابی سے مکمل کیا، کیپٹن ارباز خان خلجی

    محاذِ جنگ پر دشمن کے ڈرونز کی موجودگی کے باوجود پاک فوج کے بہادر افسر کیپٹن ارباز خان خلجی نے جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معرکہ حق کے دوران اپنا مشن کامیابی سے مکمل کیا۔

    کیپٹن ارباز خان خلجی نے اپنے بیان میں کہا کہ محاذ جنگ پر انہیں کسی قسم کا خوف یا ڈر محسوس نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن کے ڈرونز کی نگرانی کے باوجود انہوں نے فائرمشن کامیابی سے مکمل کیا اور دشمن کے ٹاپ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے جوانوں کو ایسے ہی کٹھن حالات اور محاذ جنگ کے تقاضوں کے مطابق تربیت دیتی ہے، جس کی بدولت وہ ہر مشکل صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔کیپٹن ارباز خان خلجی نے مزید کہا کہ معرکہ حق کے بعد ان کا جذبہ پہلے سے بھی زیادہ جوان ہو گیا ہے اور ان کے جوش و ولولے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے قومی موٹو “نصر من اللہ و فتح قریب” پر ان کا ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔

  • امریکا ایران کشیدگی،فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات ناکام ہونے سے بچانے کیلئے سرگرم

    امریکا ایران کشیدگی،فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات ناکام ہونے سے بچانے کیلئے سرگرم

    برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کو مکمل طور پر ناکام ہونے سے بچانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں سفارتی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک غیر روایتی مگر مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ پس پردہ رابطہ کاری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔جریدے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی، اقتصادی پابندیوں اور بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث مذاکرات پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی یہ کوششیں خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں، اور اگر یہ سفارتی کاوشیں کامیاب رہتی ہیں تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ وسیع تر علاقائی امن کے لیے بھی مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔

  • پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئےبھارتی ریاستی دہشتگردی کا ناپاک کردار بے نقاب

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئےبھارتی ریاستی دہشتگردی کا ناپاک کردار بے نقاب

    بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” ریاستی سرپرستی میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشت گردی پھیلانے میں سرگرم ہے

    پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث بھارتی خفیہ ایجنسی را کے افسر کلبھوشن یادو بھی بھارتی دہشت گردی کا برملا اعتراف کر چکا ہے،بھارتی مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول بارہا بلوچستان کو توڑنے کی کھلےعام دھمکی دے چکا ہے،کینیڈا،امریکا اور دیگر ممالک میں بھارتی ریاستی سرپرستی میں سکھ رہنماؤں کے بہیمانہ قتل بھی بھارتی ریاستی دہشتگردی کاواضح ثبوت ہےماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت بیرون ممالک دہشت گردی اور خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے منظم حکمتِ عملی کے تحت مہم سازی کر رہاہے،

  • امریکہ،ایران جنگ بندی کی توسیع،اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکراتی پیشرفت متوقع

    امریکہ،ایران جنگ بندی کی توسیع،اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکراتی پیشرفت متوقع

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا ہے، جس کے بعد صورتحال میں وقتی طور پر بہتری کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے جسے سفارتی حلقے اس بات کی علامت قرار دے رہے ہیں کہ اس مرحلے پر جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اگرچہ خطے میں بیانات کی شدت برقرار ہے، تاہم زمینی سطح پر کسی بھی جانب سے فوجی کارروائی یا مزید عسکری کشیدگی کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔مزید اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع پاکستان کی درخواست پر کی گئی، جبکہ ایرانی مؤقف کے مطابق پاکستان اس عمل میں واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں ایک کلیدی اور مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

    سفارتی و باخبر ذرائع کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، تاہم اس بارے میں حتمی صورتحال آئندہ پیش رفت پر منحصر ہوگی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ملاقات کی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، امن کی کوششوں اور سفارتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں فریقین نے خطے میں کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا،اس موقع پر علاقائی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار جاری رکھے گا۔

    ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے خطے میں امن کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کردار علاقائی استحکام کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان  مذاکراتی حل کیلئے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا،وزیراعظم

    پاکستان مذاکراتی حل کیلئے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان، امریکا اور ایران تنازع کے مذاکراتی حل کیلئے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا، امید ہے فریقین اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک جامع امن معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے سیزفائر میں توسیع پر اپنی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہماری درخواست کو فراخدلی سے قبول کیا، پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سیزفائر میں توسیع کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران سیزفائر کی پاسداری جاری رکھیں گے۔

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالات

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالات

    پہلگام میں پیش آنے والے متنازعہ واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا، تاہم اس دوران نہ تو واقعے کی شفاف تحقیقات سامنے آ سکیں اور نہ ہی کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی گئی۔ اس صورتحال نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق پہلگام واقعہ کئی حوالوں سے مشکوک تھا، "فالس فلیگ آپریشن”تھا، واقعے کے فوراً بعد بغیر ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک منظم بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جو ماضی میں بھی مختلف مواقع پر دیکھا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پلوامہ، اڑی اور چھتیس گڑھ جیسے واقعات کے بعد بھارت کی جانب سے فوری طور پر پاکستان پر الزام تراشی کی گئی، تاہم بعد ازاں کئی سوالات اور تضادات سامنے آئے جنہوں نے ان دعوؤں کی ساکھ کو متاثر کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

    پہلگام واقعے کے حوالے سے ایک سال گزرنے کے باوجود تحقیقات کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہ آنا اور ذمہ داران کا تعین نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملے کو دانستہ طور پر سرد خانے کی نذر کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اگر سیکیورٹی میں واقعی کوتاہی ہوئی تھی تو اس کے ذمہ داروں کا تعین اور احتساب ضروری تھا، جو اب تک نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت بغیر ثبوت کے الزام تراشی سے گریز کرے اور اگر کوئی شواہد ہیں تو انہیں عالمی سطح پر پیش کیا جائے۔خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ الزامات کے بجائے حقائق اور شفاف تحقیقات کو بنیاد بنایا جائے۔

  • وزیراعظم شہباز،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست،ٹرمپ کا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

    وزیراعظم شہباز،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست،ٹرمپ کا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے اور سفارتی کوششوں کو مزید وقت ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کردیا،امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روک رہے ہیں، جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا، اس لیےجنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے گی جب تک کہ ایران کی تجویز پیش نہیں کی جاتی،انہوں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر لحاظ سے تیار رہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جا رہی ہے جب تک تہران اپنی تجویز پیش نہیں کر دیتا اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔

    ٹرمپ کے اس اعلان سے قبل وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران سے متعلق آئندہ حکمت عملی، مذاکراتی عمل اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق دن بھر ایران سے مذاکرات کے مستقبل اور جنگ بندی کے خاتمے کے وقت سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اچانک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی بدھ کی شام واشنگٹن وقت کے مطابق ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے کوئی واضح وقت نہیں دیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہوگی، جو واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 7 بج کر 50 منٹ بنتا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی میں توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق فوری تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار ایران کی مجوزہ شرائط اور مذاکراتی نتائج پر ہوگا۔

  • پاک بحریہ کا کروز میزائل تیمور کی کامیاب فائرنگ کے ذریعے جنگی قوت کا مظاہرہ

    پاک بحریہ کا کروز میزائل تیمور کی کامیاب فائرنگ کے ذریعے جنگی قوت کا مظاہرہ

    پاک بحریہ نے کامیابی کے ساتھ تیمور ایئر سے لانچ کئے جانے والے کروز میزائل کا لائیو ویپن فائرنگ تجربہ کیا ہے، جو کہ مقامی طور پر تیار کردہ ایک اینٹی شپ ہتھیار نظام ہے۔ یہ تجربہ درست نشانے کی صلاحیت اور آپریشنل تیاری کے ایک طاقتور مظاہرے کے طور پر انجام دیا گیا۔

    پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے کروز میزائل ‘تیمور’ کا کامیاب تجربہ کیا، جس کے ذریعے سمندر میں درست نشانہ لگانے اورآپریشنل تیاری کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔فضا سے سمندر پر فائر کئے گئے میزائل نے انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ اس کامیاب تجربے سے پاک بحریہ کی سمندر میں درپیش خطرات اور اپنے اہداف کی طویل فاصلے پر نشاندہی کرنے اور فیصلہ کن انداز میں تباہ کرنے کی جنگی صلاحیت کی توثیق ہوتی ہے۔ پاک بحریہ کی جانب سے فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے میزائل تیمور کی فائرنگ کا مظاہرہ قومی دفاعی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے، جس سے پاکستان کی مسلح افواج کی روایتی میدان میں کثیرالجہتی مربوط دفاعی حکمت عملی اور صلاحیتوں کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔پاک بحریہ قومی بحری مفادات اور اپنی سمندری حدود کے دفاع کے لیے پر عزم ہے۔صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس فورسز اور سروسز چیفس نے سائنسدانوں اور انجینئرز کو اس اہم سنگِ میل کے حصول پر مبارکباد پیش کی۔