Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی ،شاہد خاقان عباسی

    بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی ،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے کنوینئر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اکٹھے بیٹھ کر مسائل کا حل نکلے گا،بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج اکٹھے بیٹھ کر ملکی معاملات حل کرنے کی ضرورت ہے،کیوں گولی چلی، کیوں مظاہرین آئے،؟کیونکہ آپ نے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا ہوا ہے۔عمران خان نے بھی اپوزیشن کو دیوار سے لگایا۔میرے دور میں جو ہوا اس کا ذمہ دار ہوں۔دھرنا صحیح ہوا یا غلط لیکن گولی نہیں چلی۔کسی کو قتل نہیں کیا۔عمران خان کے دور میں ہم نے بھی مشکل وقت گزارا ،سیاست میں دشمنی اب خونی ہو گئی ہے صدر اور وزیراعظم کی ذمہ داری ہے ،تمام جماعتوں کو بیٹھ کر ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کرنا ہونگے.اسلام آباد میں پٹھانوں کوگرفتارکیاجارہا ہے، ملک میں قانون نام کی چیزنہیں، رات کی تاریکی میں 26ویں آئینی ترمیم کی گئی، یہ سمجھتے ہیں بندوق کےزورپرترقی کرینگے، یہ درست نہیں، ہم نہ حکومت میں نہ اپوزیشن میں ۔ہم ملک کی بات کر رہے ہیں، حکومت بات کرے، ہم اسکے ساتھ ہیں،جو ملک کی بات کرے ہم اس کے ساتھ ہیں۔یہ کسی ایک کے بس کی بات نہیں ہے،

    اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں اگر سسٹم ملنے دے۔ ن لیگ کاووٹ کوعزت دو کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، نوجوان مایوس ہوکرملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔ میاں صاحب آٹھ فروری کویہ کہہ دیتے ہم الیکشن ہار گئے ہیں، آج ملک کی سیاست کچھ اور ہوتی، آج بھی فیصلے ان کے ہاتھ میں ہیں، جوملک کے حالات کو بہتر کرسکتے ہیں،جو پارلیمان ساری رات بیٹھ کر بغیر پڑھے ترمیم کردے اس سے کوئی امید نہیں۔مجھے کوئی امید نہیں، جو حکومت یہ کام کرے اس سے بھی مجھےکوئی امید نہیں ہے،ہماری سوچ یہ ہے کہ سب ایک جگہ بیٹھیں، بات ملک کی کریں، آگے بڑھنے کی بات کریں،ہم ہر ایک سے ملنے کو تیار ہیں،حکومت اپوزیشن جنگ میں مصروف ہیں،پورا ملک تماش بین ہے۔جن کو حکومت و اپوزیشن ہونا چاہئے وہ متحارب ہیں، یہ خرابی کو ہم نے دور کرنا ہے، کم از کم چھ آٹھ لوگ ایسے ہوں جو بات کر سکیں، دوری کو ختم کرنے کی کوشش کریں،مہنگائی بڑھ گئی ہے،سٹاک مارکیٹ کا اوپرجانا حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے، لوگ اپنا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں سٹاک خرید رہے ہیں،

    ہر پاکستانی گزرتے سال کے ساتھ غریب ہو رہا ہے،مفتاح اسماعیل
    دوسری جانب عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت کا کارنامہ یہی ہے کہ ہر چیز مہنگی کر دی گئی ہے،پاکستان میں 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، آج بھی ملک میں لاکھوں بچے بھوکے سوئیں گے، ہر پاکستانی گزرتے سال کے ساتھ غریب ہو رہا ہے، اس حکومت نے اپنا پورا سال ضائع کر دیا، حکومت نے ایک سال میں صرف اپنی کرسی مضبوط کی ہے،سب سے مہنگی بجلی اور گیس پاکستان میں ہے۔ڈیڑھ لاکھ سٹاک مارکیٹ میں کام کر رہے انکے لئے اچھی بات ہےلیکن اس سے عوام کو کیا فائدہ، عوام کے پاس تو بل بھرنے، راشن کے پیسے ہونے چاہئے، دوائی کے پیسے ہونے چاہئے، دس سال پہلے جو تین بچوں کی کفالت کرتا تھا کیا آج وہ کر سکتا ہے، اسٹاک مارکیٹ کا اوپر جانا اچھی بات ہے لیکن غربت کتنی ہے، معیشت کی بات کرتے ہوئے غریب عوام کو بھی دیکھنا چاہئے،لوگوں کی آمدن کم ہوئی، عوام غریب ہوئے، تنخواہیں کٹ رہی ہیں،کہیں ایک تنخواہ،کہیں آدھی دی جا رہی، حکومت نے صرف قانون سازی کر کے خود کو مضبوط کیا،عوام کے لئے کچھ نہیں کیا، صوبوں کو وزارتیں نہیں دیں، زراعت پر ٹیکس نہیں لگایا، اپنے خرچے کم نہیں کئے لیکن تنخواہ دار پر ٹیکس حکومت نے لگا دیا، حکومت اپنے ان کارناموں پر خوش ہے کہ زیادہ ٹیکس لے رہے ہیں مہنگی بجلی گیس بیچ رہے ہیں تو اس پر شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہیں.

  • خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

    خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ عدالت کو بچوں کے حقوق کا احساس ہے۔

    یونیسیف اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام سیمینار سے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد بچوں کو عدالت میں سنا جائے گا، ہمیں بچوں کو سننا ہوگا،بچے پیش ہوتے ہیں لیکن ہم نہیں سنتے،خدا کیلئے بچوں کو بھی سنیں، آئندہ کوئی بچہ عدالت میں پیش ہو تو اسکو بھی عدالتی عمل میں شامل کریں، بچے نہ صرف ہمارا مستقبل ہیں، ہمارا حال بھی ہیں، بچے کل کے لوگ نہیں آج کے افراد ہیں۔ماتحت عدلیہ کے ججز کو بتانا چاہتا ہوں بچوں کیلئے انصاف کس قدر اہم ہے،بدقسمتی سے ہمارے سامنے جب بچہ پیش ہوتا ہے ہم اسکو سنتے نہیں ہیں، ایک جج کو کمرہ عدالت میں بچوں کو سننا ہوگا،عدلیہ کو بچوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا چاہیے، بچوں کو عدالتی نظام سے دور رکھنے کی ضرورت ہے، بچوں کو بھی کیسز سے گزرنے میں 15 یا 20 سال نہیں لگنے چاہئیں،ملک میں 25 ملین سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے بچوں کو سائبربلنگ جیسے نئے خطرات کا بھی ذکر کیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےخطاب کے دوران آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ کیا،جسٹس منصورعلی شاہ نے ہال میں موجود جسٹس جمال مندوخیل کو مخاطب کر دیا اور کہا کہ بچوں سے متعلق آئین کے آرٹیکل 11 تین کی تشریح کی ضرورت ہے میں اب یہ تشریح کر نہیں سکتا آپ کر سکتے ہیں آئی ایم سوری، مجھے یہ بار بار کہنا پڑ رہا ہے میں مگر اب کیا کروں میں یہ تشریح کر نہیں سکتا ،

    بھاگ کر نہیں جائیں گے، جو کام کر سکتا ہوں وہ جاری رکھوں گا، جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس منصور علی شاہ نے مستعفیٰ ہونے کی تردید کردی ہے، بچوں کے انصاف سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کی خبروں کی تردید کردی،صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپکے مستعفی ہونے سے متعلق افواہیں درست ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے جواب دیا کہ پتہ نہیں آپ کو یہ فکر کہاں سے لاحق ہوئی، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ، بھاگ کر نہیں جائیں گے، جو کام کر سکتا ہوں وہ جاری رکھوں گا، ابھی ایک کانفرنس پر آیا اس کے بعد دوسری پر جا رہا ہوں، ہاتھ میں نظام کو جتنا بہتر کرنے کا اختیار ہے وہ استعمال کریں گے۔

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

  • حکومت اور افواج دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    حکومت اور افواج دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک بحریہ ہرطرح کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے،بلیو اکانومی سے ہی ہماری ترقی و خوشحالی ممکن ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان نیوی وار کالج میں ساتویں میری ٹائم سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کی وجہ سے بھاری قیمت ادا کر رہا ہے، حکومت اور افواج پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔۔ میری ٹائم سکیورٹی ورکشاپ کا مقصد بحری سلامتی اور میری ٹائم اکانومی کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔ ورکشاپ کے شرکاء میں ارکان پارلیمنٹ، سیاستدان، بیوروکریٹس، مسلح افواج کے افسران، میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک تھے۔ وزیرا عظم نے کہا کہ پاک بحریہ ہرطرح کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ،پاک بحریہ کے بہادر افسر اور جوان پاکستان کی سمندری حدود کا تحفظ یقینی بنا رہے ہیں،پاک بحریہ سمندری وسائل سے استفادہ کیلئے اقدامات کررہی ہے،دوست ملک چین بھی بحری شعبہ میں بھرپور تعاون فراہم کرنے کیلئے تیار ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 2018ء میں ہم نے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کردیا تھا،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہمارے 80ہزار لوگ شہید اور ملکی معیشت کو 3ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان دہشت گردی کی وجہ سے بھاری قیمت ادا کررہا ہے،ہمارے افسر اور جوان اپنے عوام کے محفوظ مستقبل کیلئے جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں،پاکستان کے لاکھوں بچوں کو بچانے کے لیے ان کے بچے یتیم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور افواج پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، بدقسمتی سے دہشت گردی کے ناسور نے اب دوبارہ سراٹھالیا ہے ،جب تک دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ نہیں کرلیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے،دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے ہمارا عزم پختہ ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ میں نے رواں سال جولائی میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کا دورہ کیا ،کراچی پورٹ ٹرسٹ کا کام ریئل اسٹیٹ کا نہیں بلکہ بزنس مین افراد کو کاروبار کیلئے سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے ،کراچی پورٹ ٹرسٹ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز ترین لوڈنگ اور ان لوڈنگ پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ برادر ملک سعودی عرب نے ایک سال کیلئے تین ارب ڈالر قرض کی ادائیگی میں توسیع کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال اور صلاحیتوں سے بھرپور ملک ہے ، پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، ہمیں اپنی کوششوں کو یکجا کرکے یکسوئی کے ساتھ اقدامات اٹھانا ہوں گے، ہمیں اپنے حقیقی کام پر توجہ دینی ہے ، پاکستان کے قیام کیلئے ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی قربانیاں دی ہیں،ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایپکس کمیٹی کے متعد اجلاس ہوئے ہیں تاکہ حکومت پاکستان، فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر پختہ عزم کر کے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ لڑ سکیں، ہم ملک میں فول پروف سکیورٹی چاہتے ہیں تاکہ لوگ اپنی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرسکیں تاکہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں ماحول کو ساز گار دیکھ کر سرمایہ کاری کریں ۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں بلیو اکانومی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، بلیو اکانومی سے ہی ہماری ترقی و خوشحالی ممکن ہے، یہ وقت ہے کہ ہم اس پر توجہ مرکوز کریں اور حکومت اس کیلئے ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ گوادر بندرگاہ ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے، اسے بہترین کمرشل بندرگارہ بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سکلز اور جہاز سازی کو فروغ دیا جاسکتا ہے، بدقسمتی سے ماضی میں اس مقصد کو توسیع نہیں دی جاسکی اور ہم سب کو اس کی وجوہات کا علم ہے۔قبل ازیں چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے پاکستان نیوی وار کالج آمد پر وزیراعظم کا استقبال کیا۔کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج ریئر ایڈمرل اظہر محمود نے ورکشاپ کے دوران مختلف سرگرمیوں کا خلاصہ بیان کیا۔ورکشاپ کے شرکاء کی جانب سے ملکی میری ٹائم سیکٹر میں بہتری کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئیں۔

    سندھ حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

    ننکانہ: فیسوں کا بوجھ، تعلیم کا زوال، پرائیویٹ سکول مافیا بے قابو،عوام کی چیخیں

    بلوچستان سے کراچی منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

  • روسی ہیکرز کا حملوں کے لیے پاکستانی ہیکرز کے سرورز کو ہائی جیک کرنے کا انکشاف

    روسی ہیکرز کا حملوں کے لیے پاکستانی ہیکرز کے سرورز کو ہائی جیک کرنے کا انکشاف

    بدنام زمانہ روسی سائبر جاسوسی گروپ "ٹورلا” دیگر ہیکرز کو ہیک کر رہا ہے، پاکستانیہیکرز کے گروپ "اسٹورم-0156” کے انفراسٹرکچر کو ہائی جیک کرکے اپنے خفیہ حملے انجام دے رہا ہے جو پہلے سے متاثرہ نیٹ ورکس پر کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی تحقیق کے مطابق اس حکمتِ عملی کو استعمال کرتے ہوئے، ٹورلا (جسے "سیکریٹ بلزرڈ” بھی کہا جاتا ہے) نے اسٹورم-0156 کے پہلے سے متاثرہ نیٹ ورکس، جیسے افغان اور بھارتی حکومتی ادارے، تک رسائی حاصل کی اور اپنے میلویئر ٹولز تعینات کیے۔لومن کے بلیک لوٹس لیبز کی ایک رپورٹ کے مطابق، جو اس مہم کو جنوری 2023 سے مائیکروسافٹ کی تھریٹ انٹیلیجنس ٹیم کی مدد سے ٹریک کر رہی ہے، ٹورلا کا یہ آپریشن دسمبر 2022 سے جاری ہے۔

    ٹورلا گروپ کی شناخت

    ٹورلا (جسے "سیکریٹ بلزرڈ” بھی کہا جاتا ہے) روسی ریاست کے زیرسرپرستی کام کرنے والا ہیکنگ گروپ ہے جو روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (FSB) کے مرکز 16 سے منسلک ہے۔ یہ یونٹ غیر ملکی اہداف سے ڈیٹا کے حصول، انکوڈنگ، اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا ذمہ دار ہے۔یہ خطرناک عناصر 1996 سے خفیہ سائبر جاسوسی مہمات کے ذریعے دنیا بھر میں حکومتوں، اداروں، اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
    انہیں امریکہ کے سینٹرل کمانڈ، پینٹاگون، ناسا، مشرقی یورپ کی متعدد وزارتِ خارجہ، اور فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ پر سائبر حملوں کے پیچھے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔حال ہی میں، "فائیو آئیز” اتحاد نے ٹورلا کے "اسنیک” سائبر جاسوسی میلویئر بوٹ نیٹ کو ناکام بنایا، جو آلات کو متاثر کرنے، ڈیٹا چوری کرنے، اور نیٹ ورکس میں چھپنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسٹورم-0156 پر حملہ

    لومن نے کئی سالوں سے اسٹورم-0156 کے حملوں کی نگرانی کی ہے کیونکہ یہ گروپ بھارت اور افغانستان پر حملے کر رہا تھا۔اس نگرانی کے دوران، محققین نے ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سرور (C2) دریافت کیا جس پر "hak5 Cloud C2” کا بینر دکھائی دیا۔ یہ C2 اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر کسی بھارتی حکومتی نیٹ ورک پر ایک فزیکل ڈیوائس، جیسے وائی فائی پائن ایپل، نصب کرنے میں کامیاب رہے۔مزید تحقیق کے دوران، لومن نے اسٹورم-0156 کے نیٹ ورک میں ٹورلا کی موجودگی دریافت کی جب عجیب نیٹ ورک رویے دیکھے گئے، جیسے کہ C2 تین VPS آئی پی ایڈریسز کے ساتھ تعامل کر رہا تھا جو روسی ہیکرز سے منسلک تھے۔

    ٹورلا کی مزید کارروائیاں

    2022 کے آخر میں، ٹورلا نے اسٹورم-0156 کے متعدد C2 نوڈز میں داخل ہوکر اپنے میلویئر پےلوڈز، جیسے ٹائنی ٹورلا بیک ڈور ویرینٹ، ٹو ڈیش بیک ڈور، اسٹیچی زی کلپ بورڈ مانیٹر، اور منی پاکٹ ڈاؤن لوڈر، تعینات کیے۔مایئکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ رسائی زیادہ تر افغان حکومت کے اداروں، بشمول وزارتِ خارجہ، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس (GDI)، اور افغان حکومت کے غیر ملکی قونصل خانوں پر بیک ڈورز نصب کرنے کے لیے استعمال ہوئی۔

    ہیکرز کے خلاف ہیکنگ

    2023 کے وسط تک، روسی حملہ آوروں نے اسٹورم-0156 کے اپنے ورک سٹیشنز میں بھی داخل ہوکر میلویئر ٹولز، چوری شدہ اسناد، اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔لومن کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ریاستی حملہ آوروں کے ماحول میں نسبتاً آسان ہوتی ہیں کیونکہ یہ جدید سیکیورٹی ٹولز استعمال کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

    جدید حکمت عملی

    ٹورلا کا یہ طریقہ کار، جس میں وہ دیگر حملہ آوروں کے انفراسٹرکچر کا استحصال کرتے ہیں، انہیں بغیر اپنا آپ ظاہر کیے خفیہ طور پر انٹیلیجنس جمع کرنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ ذمہ داری کو منتقل کرنے اور شناخت کو پیچیدہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔روس کے ہیکرز 2019 سے اس حکمت عملی کو استعمال کر رہے ہیں، جب انہوں نے ایرانی ریاستی حمایت یافتہ گروپ "آئل ریگ” کے انفراسٹرکچر اور میلویئر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ممالک پر حملے کیے۔

  • جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور جے یو آئی سربراہ مولانافضل لرحمان صاحب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو مدارس رجسٹریشن بل پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ۔وزیر اعظم نے بل پر تمام تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت متفقہ بل کو متنازع بنانے سے گریز کرے ۔ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور مدارس کی آزادی اور حریت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

    دوسری جانب جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان نے مدارس رجسٹریش بل کو مسترد کرکے، طبل جنگ، بجا دیا۔ بل کو مسترد کرنا پارلیمنٹ جمہوریت اور آئین کے چہرے پر زوردار طمانچہ ہے۔ کیا اسی کو، جمہوریت زبردست انتقام ہے، کہاجاتاہے؟ کیا صدر پاکستان مسلم لیگی حکومت کےلئے مشکلات پیدا کررہاہے ؟مدارس بل مسترد کرکے والد نے بیٹے کو بھی لال جھنڈادکھا دیا ،بل مسترد کرنے کا ذمہ دار صدر پاکستان کے ساتھ ساتھ شہباز شریف اور بلاول بھی ذمہ دارہے ۔محسوس ہورہا ہے کہ صدر کے ہاتھوں بنایا ہوا وزیراعظم کو،، آوٹ،، اور،،بیٹے،،کو،،ان،، کیا جارہاہے

    علاوہ ازیں جے یو آئی رہنما عبدالغفورحیدری کا کہنا ہے کہ اگر 8 دسمبر تک دینی مدارس رجسٹریشن بل پر دستخط نہیں ہوا تو ہوسکتا ہے کہ ہم اسلام آباد کا رُخ کریں گے،یہ بل سب کی طرف سے ہے، جے یو آئی ،یا وفاق المدارس کا نہیں بلکہ سب کی طرف سے ہے،ایسے میں نہیں سمجھتا کہ دانستہ طور پر کوئی ملک کے حالات خراب کرے.

  • سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ،  خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ،بلاول

    سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ، خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ہمیشہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، اور اپنے اسی عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے، پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ نے خواتین کے لیے ایک تاریخی اقدام کے طور پر "سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ” کا آغاز کیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ خواتین کھلاڑیوں کو کھیلوں کے شعبے میں برابری کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

    آج سے اس ٹورنامنٹ کا آغاز لیاری کے انٹرنیشنل فٹ بال گراونڈ میں ہوا، جہاں سندھ کے مختلف اضلاع سے 320 خواتین کھلاڑیوں پر مشتمل 16 ٹیمیں اس مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے، جس کا مقصد خواتین کی کھیلوں میں شرکت کو فروغ دینا اور انہیں ایک بہتر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود اس اہم موقع پر لیاری فٹ بال گراونڈ پہنچے اور سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے حوالے سے پیپلز پارٹی ہمیشہ صف اول میں رہی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگ ایسے ہیں جو خواتین کی ترقی کو نہیں دیکھنا چاہتے، مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔ آج، میں یہاں لیاری انٹرنیشنل فٹ بال گراونڈ میں کھڑا ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے صوبے کی خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے خواتین کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے۔”

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ "سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ جیسے اقدامات سے نہ صرف خواتین کی کھیلوں میں شمولیت بڑھے گی، بلکہ ان کے اندر خود اعتمادی بھی پیدا ہو گی۔ یہ ٹورنامنٹ ایک پلیٹ فارم ہے جہاں خواتین اپنے کھیل کے جوہر دکھا سکتی ہیں اور معاشرتی طور پر بھی اپنی حیثیت کو مستحکم کر سکتی ہیں۔”قائداعظم نےکہا تھاجب تک خواتین کاکردار نہ ہوکوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ،کچھ لوگ خواتین کو پیچھے کھینچنا چاہتے ہیں، ترقی نہیں کرنے دیتے، ایسی سوچ کے لوگ ہمارے ملک میں موجود ہیں، ہمارے ہمسایہ ممالک میں موجود ہیں، ان کے لئے سمجھتا ہوں سب سے بہترین جواب یہ خواتین ہیں جو آج گراؤنڈ میں موجود ہیں،بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے فٹ بال گراؤنڈ میں آج موجود ہیں جو حکومت سندھ نے کراچی کی عوام کے لئے منصوبہ شروع کیا، میں فخر کرتا ہوں صوبہ بھر کے نوجوان خاص طور کر صوبہ بھر سے خواتین وہ یہاں کھیلوں کے لئے موجود ہیں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے،خواتین کو برابری کا کردار ملنا چاہئے، شہید بینظیر بھٹو نے خواتین کے لئے بہت کام کیا اور کہا تھا کہ پاکستانی خواتین جو کرنا چاہیں کر سکتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے محنت میں، جدوجہد میں، قربانیوں میں اور شہادت قبول کرنے میں لیاری والے سب سے آگے ہیں۔میں اپنے نوجوانوں کو کھیلتے ہوئے، پڑھتے ہوئے اور روزگار حاصل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔

    سندھ پنک فٹبال ٹورنامنٹ کا افتتاح،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال گراؤنڈلیاری کے عوام کیلئے تحفہ ہے،سندھ کےہرضلع میں یوتھ سینٹربنائے گئے ہیں

    سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ میں سندھ کے مختلف اضلاع سے خواتین کھلاڑیوں کی 16 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان ٹیموں کے درمیان دو گروپوں میں مقابلے ہوں گے، اور ہر گروپ کی فاتح ٹیم فائنل میں پہنچے گی۔ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف خواتین کھلاڑیوں کو کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، بلکہ ان کے لیے ایک قومی سطح پر خود کو ثابت کرنے کا بھی موقع ہے۔

    یہ ٹورنامنٹ پیپلز پارٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کو کھیلوں سمیت تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ سندھ حکومت نے ہمیشہ کھیلوں کے شعبے میں خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے لیے ترقی کے راستے کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے ذریعے سندھ کی خواتین کھلاڑیوں کو نہ صرف کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، بلکہ ان کی سماجی اور معاشی حالت میں بھی بہتری آئے گی۔

    اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کے بعد، یہ امید کی جا رہی ہے کہ سندھ سمیت پورے پاکستان میں خواتین کے لیے کھیلوں کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، جو نہ صرف ان کی ذاتی ترقی کا باعث بنیں گے بلکہ پورے ملک کی کھیلوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اس اقدام کی مدد سے پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک اور قدم اٹھایا ہے تاکہ وہ خواتین کی ترقی اور انہیں ہر میدان میں برابری کے حقوق فراہم کر سکے۔

  • جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،جسٹس مسرت ہلالی

    جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز میں غیر قانونی تعمیرات قائم ہونے پر سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کرلی ہے

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مارگلہ ہلز پر غیر قانونی تعمیرات کے کیس کی سماعت کی،سی ڈی اے وکیل اور ڈی جی ماحولیات عدالت میں پیش ہوئے، مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی بینچ کے حکم پر ہمارے ریسٹورینٹ کو گرا دیا گیا مگر مارگلہ ہلز میں ابھی 134 کے قریب ہوٹل ریسٹورینٹس اور کھوکھے قائم ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مارگلہ ہلز پروٹیکٹڈ ایریا ہے، وہاں ہر قسم کی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے،جسٹس مظہر نے استفسار کیا کہ ابھی کتنی غیر قانونی تعمیرات مارگلہ ہلز میں قائم ہیں، وکیل میونسپل کارپوریش نے بتایا کہ مارگلہ ہلز پر 80 سے 132 تعمیرات باقی ہیں جب کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں اسلام آباد کلب بھی آجاتا ہے، جسٹس نعیم نے کہا کہ 1960 کے ماسٹرپلان میں سپریم کورٹ بھی مارگلہ نیشنل پارک کی حدود میں تعمیر ہوا، سی ڈی اے پہلے مونال کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کو دیکھ لے

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف مونال کےلیے تھا؟ عدالت نےمارگلہ ہلز میں تعمیرات سے متعلق اصول طے کردیا ہے، سی ڈی اے اپنا کام کیوں نہیں کرتا؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سی ڈی اے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کر رہا ہے؟ڈی جی ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ مارگلہ ہلز میں ابھی 50 سے زاہد کھوکھے چل رہے ہیں جو مارگلہ ہلز میں ماحولیاتی مسائل کا سبب بن رہے ہیں، عدالتی احکامات میں کھوکھوں کو گرانے سے روک دیا گیا تھا۔ آئینی بینچ نے سی ڈی اے سے مارگلہ ہلز میں غیر قانونی تعمیرات پر رپورٹ طلب کرلی۔

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ: مارگلہ ہلز نیشنل غیر قانونی تعمیرات کیس میں دلچسپ صورتحال سامنے آئی ہے،وکیل میونسپل کارپوریشن نے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں اسلام آباد کلب بھی آجاتا ہے ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ بات مارگلہ ہلز کی ہوتی ہے آپ سپریم کورٹ اسلام آباد کلب چلے جاتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،ناران جاکر دیکھیں وہاں کیا حال ہے،

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    اسلام آباد: مونال ریسٹورنٹ کا نام تبدیل کرکے "مارگلہ ویو پوائنٹ” رکھ دیا گیا

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں کمرشل سرگرمیوں کو روکنے کا تاریخی فیصلہ

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

  • میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان، جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر ،ستارہ جرات عطا

    میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان، جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر ،ستارہ جرات عطا

    میجر شبیر شریف شہید (نشانِ حیدر)کا 53 واں یومِ شہادت.آج میجر شبیر شریف شہید کا یومِ شہادت پوری عقیدت اور احترام سے منایا جا رہا ہے.

    ملک بھر کی مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا.علما کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کو بھولنے والی قوموں کا تاریخ میں نام لینے والا کوئی نہیں ہوتا، میجر شبیر شریف شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا،

    میجر شبیر شریف شہید(نشانِ حیدر)کا53واں یومِ شہادت.میجر شبیر شریف 28 اپریل 1943ء کو ضلع گجرات کے گاؤں کُنجاہ میں پیدا ہوئے.میجر شبیر شریف نے اپریل 1964 میں کمیشن حاصل کیا ، میجر شبیر شریف کوپاسنگ آؤٹ پریڈ میں ”اعزازی شمشیر” سے نوازا گیا.میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان ہیں جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر اور ستارہ جرات عطاء کئے گئے.6دسمبر کو میجر شبیر شریف نے دشمن کا ایک اور جوابی حملہ پسپا کیا .اس دوان43بھارتی فوجیوں کو ہلاک ،38کو جنگی قیدی اور4ٹینک تباہ کیے .میجر شبیر شریف بھارتی ٹینک کے گولے کا نشانہ بن کر شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو ئے .آپ کی اس بے مثال جرات اور بہادری کے صلے میں حکومت پاکستان نے آپ کو نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا

    میجر شبیر شریف کا یوم شہادت، صدر مملکت، وزیراعظم کا خراج تحسین پیش
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کو 53ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا،صدر آصف علی زرداری نے میجر شبیر شریف شہید کی جرات اور بہادری کو سراہا اور کہا کہ میجر شبیر شریف شہید نے 1971 میں دشمن کا جوانمردی سے مقابلہ کیا.میجر شبیر شریف شہید جیسے بہادر افسران پر پوری قوم کو فخر ہے.میجر شبیر شریف شہید نے مادر وطن کے دفاع کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا.پوری قوم میجر شبیر شریف کو وطن کیلئے قربانی اور بہادری پر سلام پیش کرتی ہے.قوم تمام شہداء کی قربانیوں کی معترف ہے، اُنہیں فراموش نہیں کرے گی.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےمیجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کے 53ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر جرآت و بہادری کی عمدہ مثال تھے.1971 کی جنگ میں میجر شبیر شریف شہید نے سلمانکی میں دشمن کی پیش قدمی کو روکے رکھا.میجر شبیر شریف شہید نے نہ صرف اپنے ہدف کی حفاظت کی، دشمن کے ٹینکوں کو ٹینک شکن رائفل سے ناکارہ بنایا بلکہ کمپنی کمانڈر سمیت دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا.طاقت کے نشے میں چور اپنی عددی برتری کے باوجود دشمن، میجر شبیر شریف شہید کی موثر مدافعت کا مقابلہ نہ کر سکا.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر نے مادر وطن کی حفاظت کی خاطر جام شہادت نوش کیا.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کا وطن سے محبت اور دفاعِ وطن کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کرنے کا جذبہ نوجوان نسل کیلئے قابل تقلید ہے.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کے جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی نے دشمن کی عددی برتری کو خاک میں ملا دیا.مجھ سمیت پوری قوم کو میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر اور انکے اہل خانہ پر فخر ہے.پاکستان کی غیور قوم دفاعِ وطن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے بہادر و جری جوانوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کر سکتی.میجر شبیر شریف شہید کی فرض شناسی اور وطن سے وفاداری کی مثال رہتی دنیا تک آئندہ نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی.

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان سمیت دیگر پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان سمیت دیگر پر فردجرم عائد

    انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں 60 سے زائد ملزمان پر فرد جرم عائد کردی، جیل کی حدود سے راجہ بشارت گرفتار کر لئے گئے

    9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے،سابق صوبائی وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کو اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا۔ راجہ بشارت جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے بعد جیل سے باہر نکلے تھے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو بھی حراست میں لے لیا گیا،عمر ایوب کو بھی پولیس چوکی اڈیالہ منتقل کر دیا گیا،وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،مجموعی طور پر 100 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

    اس کیس میں 40 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں، شہباز گل ،زلفی بخاری، حماد اظہر ،مرادسعید اشتہاری ہیں، عمر ایوب راجہ بشارت احمد چٹھہ سمیت چار ملزمان گرفتار ہو گئے ہیں

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی چالان تفصیلات کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت ملزمان پر مجموعی طور پر 27 سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں،ملزمان نے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت قیادت میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا، جی ایچ کیو گیٹ پر دھاوا بولا گیا اور گیٹ توڑ دیا، فوجی جوانوں نے منع کیا مگر باز نہیں آئے اور توڑ پھوڑ کرتے رہے،ملزمان نے حساس عسکری املاک توڑی اور آگ لگا دی، ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا گیا، پیٹرول بم بھی مارا گیا، ملزمان جی ایچ کیو گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور فورسز سے بھرپور مزاحمت کی گئی، پاکستان میں بغاوت کا ساماں پیدا کیا گیا،جی ایچ کیو گیٹ پر پیٹرول بم ٹائر جلا کر آگ لگائی گئی اور بلڈنگ کے شیشے توڑے دیے گئے، پاک آرمی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا، عسکری ملازمین پر حملے کیے گئے، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی کے نعرے اور خان نہیں تو پاکستان نہیں کے نعرے لگائے گئے،حساس دفاتر آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو عمارات پر حملے کیے گئے، مظاہرہ اور احتجاج منظم سازش مجرمانہ کے تحت کیا گیا، موقع پر 6 ملزم گرفتار کیے ان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں کی گئیں، چالان میں استدعا کی گئی کہ ملزمان کو سخت ترین عبرت ناک سزائیں دی جائیں

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو مظاہرین کی جانب سے جی ایچ کیو سمیت سرکاری املاک، فوجی چوکیوں اور تنصیبات کو توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں تا ہم پی ٹی آئی کے باقی رہنما ضمانتوں پر ہیں، نومئی کے مقدمات کی سماعت تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، ڈیڑھ برس ہو چکا ہے ابھی تک فیصلے نہیں ہوئے

    بانی پی ٹی آئی عمران خان 9 مئی جی ایچ کیو کے سامنے پر امن اختجاج کے بیان پر قائم ہیں،29 جولائی کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے وضاحت کے ساتھ دوبارہ اعتراف کرلیا،عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی اعتراف نہیں کیا،میرے جی ایچ کے او کے باہر پرامن احتجاج کے بیان کو اعتراف اور اقبال جرم بنا کر پیش کیا گیا،میں نے کوئی اعتراف یا اقبال جرم نہیں کیا۔ 9 مئی کے بعد میرے 3 وی لاگز بھی موجود ہیں، میں 9 مئی مقدمات کی تفتیش میں بھی کہہ چکا ہوں پر امن اختجاج کریں گے، 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ہماری بے گناہی چھپی ہے،

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • توشہ خانہ ٹو،عدم پیشی،بشریٰ بی بی کے وارنٹ جاری

    توشہ خانہ ٹو،عدم پیشی،بشریٰ بی بی کے وارنٹ جاری

    توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت میں عدالت نے بشریٰ بی بی کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے،

    بشریٰ بی بی کے ضامن کو نوٹس جاری، حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی گئی، اسپیشل جج سنٹرل نے سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کر دی،،توشہ خانہ ٹو کیس میں آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی،وارنٹ گرفتاری مسلسل غیر حاضری پر جاری کیے گئے۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ گزشتہ 10سماعتوں سے عدالت پیش نہیں ہوئیں.

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے بشری بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ فرد جرم کو تاخیر کا شکار کرنے کے لیے حاضری سے استثنی کی درخواستیں دی جا رہی ہیں ۔

    عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے، بشریٰ رہائی کے بعد بنی گالہ سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچ چکی ہےواضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان