Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہمیں پاکستان اسپیڈ نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔چیئرمین چائینہ امپورٹ ایکسپورٹ بینک

    ہمیں پاکستان اسپیڈ نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔چیئرمین چائینہ امپورٹ ایکسپورٹ بینک

    مجھے کوئی شک نہیں کہ پاکستان معاشی طور پر مضبو ط ملک بن کر ابھرے گا،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں‌ پاک چائنہ فرینڈشپ اینڈ بزنس ریسپشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے کوئی شک نہیں کہ پاکستان معاشی طور پر مضبو ط ملک بن کر ابھرے گا، چین نے ا پنی ترقی پر توجہ دی اور ہر قسم کے تنازعات سے گریز کیا،چینی صدر شی جن پنگ نے محنت اور لگن سے کام کیا ،کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی نے چینی باشندوں کو نشانہ بنایا جس پر بے انتہا افسوس ہوا،ملک دشمن عناصر پاک چین تعلقات خراب کرنے پر تلے ہیں،مضبوط عز م سے کہہ رہاہوں چینی باشندوں کو بہترین سیکیورٹی فراہم کی جائے گی ،دونوں ممالک شراکت داری کو معاشی اہداف کےحصول کے لیے نتیجہ خیزبنائیں گے ، پاک چین دوستی ہر موقع پر ثابت ہوئی اور ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، ایسی دوستی کی کہیں مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، پاکستان معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور پاکستان کو کاروباردوست ملک بنانا ہماری ترجیح ہے،چین کی مختصر مدت میں تیز رفتار ترقی ہماری لیے مشعل راہ ہے، پاکستان چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

    قبل ازیں چائینہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی (سی آئی ڈی سی اے) کے چیئرمین جناب لو ژاؤہوئی کی وزیرِاعظم سے ملاقات ہوئی ہے،وزیرِاعظم اور چیئرمین سی آئی ڈی سی اے نے چین پاکستان کی منفرد اور پائیدار دوستی اور مشترکہ ترقی، اسٹریٹجک اعتماد اور باہمی فائدے سے چلنے والے عملی تعاون کے مزید فروغ پر تبادلہِ خیال کیا۔چیئرمین سی آئی ڈی سی اے کا کہنا تھا کہ پاک چین مشترکہ خلا میں سٹیلائٹ بھیجنے کے مشن سے پاک چین دوستی سرحدوں سے پار اب خلاؤں میں پہنچ چکی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جناب لو ژاؤہوئی آپ نے پاکستان میں بطور سفیر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سر انجام دیں،آپ نا صرف پاکستان میں چین کے سفیر تھے بلکہ آپ پاکستان میں پاکستان کے بہترین دوست بھی تھے اور یہ جذبہ اب بھی قائم ہے۔ پاکستان میں مقیم چینی باشندوں کی سیکیورٹی حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔پاکستان چین کے ساتھ زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بلیو اکانومی، مواصلات، معدنیات و کان کنی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان چین کی ترقی کے ماڈل سے استفادہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔پاکستان ریلوے مین لائین 1 (ایم ایل1) کی اپ گریڈیشن کا منصوبے میں چینی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔

    سی آئی ڈی سی اے نے پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا،وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے چائنہ انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (سی آئی ڈی سی اے) کے چیئرمین لو ژاؤہوئی نے آج بیجنگ میں ملاقات کی۔وزیرِاعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے CIDCA کی بھرپور حمایت کو سراہا۔ انہوں نے ترقی اور سلامتی کے درمیان باہمی طور پر مضبوط تعلقات پر بھی تبادلہِ خیال کیا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی آہنی علامت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت سماجی اقتصادی ترقی پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ دونوں اطراف کی عوام کی زندگیوں اور معاش کو بہتر بنانے کے لیے سی پیک کے فیز II میں تعاون کی یہ رفتار برقرار رہے گی۔وزیرِاعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور عوام قدرتی آفات اور آفات کے وقت ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے کووڈ – CoVID-19, 2022 کے بعد کے سیلاب کی تعمیر نو اور پولیو ویکسین کی فراہمی کے دوران ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر پاکستان کی مدد کرنے میں CIDCA کے اہم کردار کی تعریف کی۔ چیئرمین سی آئی ڈی سی اے نے مختلف شعبوں میں چین پاکستان تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، موسمیاتی تبدیلی کے ردِعمل اور انسانی وسائل کی ترقی بشمول بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (بی آر آئی) اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹیو (جی ڈی آئی) کے تحت جاری منصوبوں میں دو طرفہ شراکت داری کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ، وفاقی وزیرِ نجکاری عبد العلیم خان، وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی نے شرکت کی۔

    چائینہ امپورٹ ایکسپورٹ بینک کے چیئرمین کی وزیرِاعظم سے ملاقات
    علاوہ ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے چائینہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک (سی ای ایکس آئی ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر وو فلن نے آج بئیجنگ میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے حکومتِ پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے گورننس کی بہتری ٹیکس نیٹ بڑھانے اور کاروبار کرنے میں آسانی کے حوالے سے حکومت پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا تاکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں کیونکہ غذائی شعبے میں مہنگائی پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے اور پبلک ڈیبٹ کو مزید پائیدار سطح پر لایا گیا ہے۔وزیرِاعظم نے پاکستان کی صنعتوں، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں کی جدید کاری کے لیے ایگزم بینک کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی برآمدات کو فروغ دینے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر پاک چین مشترکہ منصوبے کے منصوبوں اور تجارتی فنانسنگ میں چینی ایگزم بینک کے ممکنہ کردار پر بھی تبادلہِ خیال کیا۔

    ایگزم بینک کے چیئرمین نے وزیرِاعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جس طرح آپ نے پنجاب اسپیڈ سے کام کیا اور بہترین کارکردگی دکھائی اسی طرح ہمیں پاکستان اسپیڈ نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کا ہر منصوبہ چائینہ ایگزم بینک کے لیے ترجیحی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سی پیک فیز II کے تحت اقتصادی اور مالی تعاون کے اہم کردار اور چائینہ ایگزم بینک کی پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور "مشترکہ خوشحالی” کے تصور کے تحت پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون پر زور دیا۔ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ، وفاقی وزیرِ پاور اویس احمد خان لغاری اور وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی نے شرکت کی۔

    وزیراعظم کا ہواوے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چینی کمپنی کیساتھ فریم ورک معاہدے پر دستخط

    ہم چین کے اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، وزیراعظم

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    سابق وزیراعظم ،تحریک انصاف کے بانی عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انہیں عدالت نے تین مقدمات میں سزا سنائی تھی جن میں سے دو میں معطل ہو چکی ہے،ایک مقدمے میں اپیل زیر سماعت ہے، دوران عدت نکاح کیس کی اپیل دوسرے جج کو منتقل ہو چکی ہے،

    عمران خان کو جیل میں حکومت نے سہولیات دے رکھی ہیں تا ہم سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس میں گزشتہ سماعت پر عمران خان نے ویڈیو لنک پر کہا تھا کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، سہولیات نہیں دی گئیں، آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تو وفاقی حکومت نے عمران خان کو جیل میں دی گئی سہولیات بارے آگاہ کر دیا اور ثبوت کے طور پر تصاویر بھی جمع کروا دیں

    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید کردی ،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے موقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں ،اضافی دستاویزات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں وکلا سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں،حکومت نے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا مؤقف بھی غلط ہےعمران خان نے سپریم کورٹ میں وکلاء تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے توعمران خان کے بیان اور حقیقت جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے،عمران خان کو جیل میں کتابیں، ایئر کولر، ٹی وی تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں،عمران خان کو راہداری میں چہل قدمی کی بھی اجازت ہے،ورزش کی مشین بھی دی گئی ہے، ایئر کولر بھی فراہم کیا گیا ہے، کتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں.

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

  • والٹن ایئر پورٹ کیوں بند کیا گیا؟ نیب نے تحقیقات شروع کر دیں

    والٹن ایئر پورٹ کیوں بند کیا گیا؟ نیب نے تحقیقات شروع کر دیں

    نیب نے والٹن ائیرپورٹ سے متعلق تحقیقات شروع کر دی ہیں
    نیب کی جانب سے والٹن ایئر پورٹ کے حوالہ سے تحقیقات میں سابق ڈی جی خاقان مرتضٰی سمیت دیگر سول ایوی ایشن افسران کو شامل کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے اس ضمن میں 13 سوالات تیار کئے ہیں جو خاقان مرتضیٰ عباسی سے دوران تحقیقات پوچھے جائیں گے،سوالات میں والٹن ائیرپورٹ لاہور بند کر کے کمرشل سرگرمیوں کیلئے دینے سے متعلق پوچھا گیا ہے، والٹن ائیرپورٹ کو بند کرنے کی کیا وجہ تھی؟یہ بھی سوال تیار کیا گیا ہے.نیب لاہور نے ائیر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن سے مددکے لیے بھی رابطہ کیا ہے،اور تحقیقات میں مدد کی درخواست کی ہے،نیب لاہور نے 13 سوالات پر مشتمل سوالنامہ ائیر کرافٹس اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کو بھی بھیجا ہے

    واضح رہے کہ مئی 2021 میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے والٹن ائیر پورٹ کو بند کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ائیرپورٹ پر فلائنگ کلبز کو تمام طیارے گراؤنڈ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    قبل ازیں والٹن ایئر پورٹ لاہور میگا کرپشن اسکینڈل کے معاملے میں پاکستان سول ایوی ایشن آفیسرز ایسوسی ایشن نے وزیر ہوا بازی خواجہ آصف کو خط بھی لکھا تھا،خط کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن آفیسرز ایسوسی ایشن کسی بھی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی، ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے خط میں الزامات کی بھی تصدیق کرتے ہیں،خط میں والٹن ایئر پورٹ کا ریکارڈ فوری قبضے میں لے کر تحقیقاتی اداروں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن، سیکیورٹی آڈٹ ٹیم کا دورہ پاکستان مکمل

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    جعلی پائلٹ لائسنس بحال کرنے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 15دن کا الٹی میٹم

    دیو آنند پاکستان ایئرفورس کی تاریخ کے پہلے ہندو پائلٹ بن گئے

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا ڈی جی سول ایوی ایشن پر برہم ہو گئے،

    والٹن ایئرپورٹ:اگرعمران خان یہ کام کرنے میں کامیاب ہوگئے تویہ پاکستان کی کامیابی ہوگی:اہم شخصیت نے بڑا دعویٰ‌ کردیا

    وزیراعلیٰ بزدار والٹن ایئرپورٹ اورملحقہ علاقوں کے لئے ترقیاتی اتھارٹی کی سربراہی کریں گے

    والٹن ائیرپورٹ کو تجارتی مرکز بنانے کیلئے درخت اور نرسریاں کاٹنے کیخلاف درخواست پر ہوئی سماعت

    لاہور کا تاریخی والٹن ایئرپورٹ بند ، طلبا سراپا احتجاج

    والٹن ایئر پورٹ پر فلائنگ آپریشن بارے لاہور ہائیکورٹ نے حکم دے دیا

    واضح رہے کہ والٹن ائیرپورٹ کی زمین کی فروخت میں سیکنڑوں ارب کے فراڈ کا انکشاف ،،ایئرکرافٹ اونر اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کا دعوی ہے کہ پاکستان ایئرکرافٹ اونر اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر ہوابازی کو خط میں نشاندہی کردی ، ڈی جی سول ایوی ایشن اور حکومتی نمائندوں نے لینڈ مافیا کیساتھ ملکر والٹن ائیرپورٹ کی زمین میں تین سو ارب سے زیادہ غبن کیا۔ایئرکرافٹ اونر اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کا کہناہےکہ 350 ارب روپے کی والٹن ائیرپورٹ کی زمین 50 ارب میں بیچ دی گئی والٹن ائیرپورٹ کو قیمتی زمین کی جگہ مریدکے میں دیہی زمین دے دی گئی، لینڈ مافیا نے 50 ارب میں سے بھی صرف 1 ارب اب تک سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ادا کیے ۔یاد رہے کہ حکومت نے والٹن ائیرپورٹ کی زمین سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو فروخت کی تھی ،ایئرکرافٹ اونر اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر ہوابازی سے معاملے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

  • پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    سپریم کورٹ . نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو گئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سی گرین کلر کا لباس زیب تن کر رکھا ہے.جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں

    ‏اپیل کنندہ زہیر صدیقی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آگئے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی تحریری معروضات تیار کر لی ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ اپنی معروضات عدالت میں جمع کرا دیں، کیا آپ فیصلہ سپورٹ کر رہے ہیں؟ وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ مخدوم علی خان کے دلائل اپنا رہے ہیں؟وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا مؤقف وہی ہے لیکن دلائل میرے اپنے ہیں۔

    درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو نیب قانون کو کیوں تبدیل نہیں کیا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا نا کہ نیب قانون کو , نیب ترامیم اس لیے کی گئیں کیونکہ مخصوص سیاسی رہنما اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صرف سیاست دانوں کو نیب کے دائرہ اختیار میں کیوں رکھا گیا یہ سمجھ سے بالاتر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بتائیں کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں،نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب ترامیم کیس، نیب کی کاروائی کے لیے عوام کا اختیار کتنا ہے میری سمجھ کے مطابق تو کوئی بھی شہری شکایت درج کر سکتا ہے،یہ اختیار نیب کا ہے پتہ کرے کرپشن ہوئی یا نہیں؟

    آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے،چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ سمیت جن اداروں اور شخصیات پر نیب قانون لاگو نہیں ہوتا اس حوالے سے ترمیم نہیں کی گئی، پارلیمنٹ موجود تھی قانون سازی کر سکتے تھے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 1999 سے 2018 تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں حکومت میں رہیں، تمام عرصے میں کسی سیاسی جماعت نے نیب قوانین میں ایسی ترمیم نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں عدالت میں فریق نہیں،نیب ترامیم پی ٹی آئی نے چیلنج کی، انہی سے پوچھیں گے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چیلنج کی گئی نیب ترامیم مخصوص تناظر میں کی گئیں تھی، کرپشن عوام کے بنیادی حقوق متاثر کرتی ہے، عوام کا پیسہ لوٹا جانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیب قوانین کا اطلاق پبلک آفس ہولڈر پر ہوتا ہے، پبلک آفس ہولڈرز صرف سیاستدان نہیں ہوتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ نیب ارڈیننس کب آیا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ 1999 میں آیا تھا,چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نام لیں نا وہ کس کا دور تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مشرف کا دور تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے، پرویز مشرف نے تو کہا تھا نیب کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں کو سسٹم سے نکالنا ہے،بانی پی ٹی آئی کی درخواست میں بھی کچھ ایسا ہی تھا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہماری درخواست میں کسی سیاستدان کا نام نہیں لکھا گیا، بظاہر بانی پی ٹی آئی کی حکومت بھی صرف سیاستدانوں کا احتساب چاہتی تھی،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں ، کیا آپ کو نیب پر مکمل اعتماد ہے ، کیا آپ 90 دنوں میں نیب ریمانڈ سے مطمئن ہیں ، کیا آپ 500 ملین سے کم کرپشن پر بھی نیب کی کارروائی حامی ہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل دوں گا کہ اقلیتی رائے درست نہ تھی

    خواجہ حارث نے کہا کہ دبئی لیکس اور جعلی اکاؤنٹس ہمارے سامنے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏کیا ہم زخم ٹھیک کریں مگر وجہ نہ دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ جو دلائل دینا چاہتے ہیں وہ دیں ،باقی نوٹ کروا دیں ہم پڑھ لیں گے،آپ بتائیں آپ کو کتنا وقت درکار ہو گا،خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل میں تین گھنٹے سے زیادہ وقت لوں گا،

    سپریم کورٹ،وفاقی حکومت کی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید
    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید کردی ،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے موقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں ،اضافی دستاویزات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں وکلا سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں،حکومت نے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا مؤقف بھی غلط ہےعمران خان نے سپریم کورٹ میں وکلاء تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے توعمران خان کے بیان اور حقیقت جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے،عمران خان کو جیل میں کتابیں، ایئر کولر، ٹی وی تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، عمران خان راہداری میں چہل قدمی کر سکتے ہیں، عمران خان کو ورزش کی بھی اجازت ہے

    شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا.چیف جسٹس
    خواجہ حارث نے کہا عمران خان کی درخواست پر ہائیکورٹ کے بجائے سپریم کورٹ آنے پر اعتراض نہیں بنتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کس نے دائر کی تھی؟خواجہ حارث نے جواب دیا ہائیکورٹ میں درخواست ہائیکورٹ بار نے دائر کی تھی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہمارے پاس ہائیکورٹ کا ریکارڈ آگیا ہے وہ پی ٹی آئی کے لوگ تھے، شعیب شاہین صاحب نے حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کی تھی، شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ حامد خان کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم درخواست جون 2022 میں دائر کر چکے تھے، ہائیکورٹ میں درخواست جولائی میں دائر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس لگنے سے پہلے ہائیکورٹ معاملہ پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کرچکی تھی،آپ سپریم کورٹ میں پہلی سماعت پر کہہ سکتے تھے کہ اب ہائیکورٹ میں کیس شروع ہو چکا ہے، ہائیکورٹ بار کے صدر سپریم کورٹ کو آکر کہہ سکتے تھے کیس ہائیکورٹ میں چلنے دیں یا میری درخواست بھی یہاں منگوا لیں، شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا،

    کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں،چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اگر غلط ہوں تو عدالت میں آکر نشاندہی کریں، اپنی سیاست اور آئینی معاملات کو علیحدہ علیحدہ رکھیں، اس رویے کی وجہ سے ہمارے نظام انصاف کی درجہ بندی نچلی سطح پر ہے،کیمرے پر تو سب تنقید کرتے ہیں، کھلی عدالت میں کوئی بات نہیں کرتا، کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں، باہر بات کرنا تو آسان ہے،انصاف نا صرف ہونا چاہئے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے، اگر میں نے غلطی کی تو مجھ پر انگلی اٹھائیں، دنیا کی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر اسی وجہ سے گراوٹ کا شکار ہے،اس طرح کے حکم امتناع سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، میری رائے ہے کہ قانون معطل نہیں ہوسکتا ،نیب ترامیم اتنا خطرناک تھا تو اسے معطل کردیتے، 53 سماعتوں تک ترامیم زندہ رہیں، پارلیمنٹ کے قانون کو معطل کرنا پارلیمنٹ کی توہین ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو معطل نہیں کیا جاسکتا،

    سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھی گئی جب عمران خان کے وکیل نیب ترامیم کی مخالفت میں دلائل دے رہے تھے تو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا آپکے موکل اتنے ہی ایماندار تھے تو ایمنسٹی کیوں لائی گئی؟جب چیف جسٹس پاکستان نے یہ سوال پوچھا اس وقت علیمہ خان کمرہ عدالت میں موجود تھیں

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے ذریعے اٹارنی جنرل کو نوٹس ہوا تھا، اٹارنی جنرل نے کیوں کوشش نہیں کی کہ کیس دوبارہ لگے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت موسم گرما کی تعطیلات شروع ہو چکی تھیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون بنا تو میں نے عدالت میں بیٹھنا ہی چھوڑ دیا تھا، اس وقت بحث چل رہی تھی کہ اختیار میرا ہے یا کسی اور کا ہے، باہر جا کر بڑے شیر بنتے ہیں لیکن سامنے آکر اس پر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے طاقتور ادارے تھے، بتائیں اس کیس کا کیا بنا؟خواجہ حارث نے کہا کہ طاقتور اداروں کی موجودگی کے باوجود اس کیس میں کچھ ثابت نہ ہو سکا، جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا خواجہ صاحب بتا دیں کون کونسی ترامیم کو چیلنج کیا گیا تھا، آپ نے سیکشن 9 فائیو اے میں ترامیم کو چیلنج کیا تھا، سیکشن 14 کے حذف کرنے کو چیلنج کیا تھا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ترامیم کالعدم ہو جاتی ہیں تو نقصان بانی پی ٹی آئی کو اپنے کیس میں ہو سکتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نیب قوانین کو بھگت رہے ہیں مگر چاہتے ہیں یہ کرپشن کے خلاف برقرار رہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نیب کے ادارے میں لوگ خود کرپشن کریں کون دیکھے گا ،اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کہ ادارے پر ادارہ تو نہیں بٹھایا جا سکتا ، چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی پر تو آپ کو بھروسہ کرنا ہوگا ۔

    سپریم کورٹ،وقفے کے بعد سماعت،عمران خان ویڈیو لنک پر سکرین سے غائب
    سپریم کورٹ میں سماعت کا وقفہ ہوا، دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کی ویڈیو لنک پر تصویر نہیں آ رہی تھی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ٹیکنیکل اسٹاف کو اپنے پاس بلا کر وجہ دریافت کی،عدالتی عملے نے بتایا عمران خان کمرہ عدالت میں ہونے والی گفتگو سن سکتے ہیں مگر کوئی تکنیکی مسئلہ ہے جس کے باعث انکی ویڈیو نہیں آ رہی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فون کر کے پتہ کریں اور مسئلہ حل کریں .

    کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے ایک لسٹ جمع کرائی تھی،
    لسٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2019 میں اس وقت کی حکومت نے نیب ترامیم کی تھیں، آپ چاہتے ہیں اثاثوں کی سیکشن سے کرپشن کی شرط نکال دیں صرف آمدن اور اثاثوں میں فرق ہونا کافی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی وزیراعظم سے نہیں پوچھے گا یہ گھر کہاں سے لیا وہ کہے بھائی نے تحفہ دیا تو کیا ہوگا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ایسے میں اس کے بھائی سے پوچھا جائے گا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس طرح تو یہ گھومتا رہے گا, جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ بانی پی ٹی آئی کو بھی ڈرکونین قوانین سے ایکسپوز کر رہے ہیں،اگر کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایسے میں وکیل کے خلاف بھی کاروائی ہو سکتی ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو پوری فیملی کو پتہ ہوتا ہے ہمارے سربراہ کی آمدن کتنی ہے اور خرچہ کتنا کر رہا ہے کیا ایسے میں تمام فیملی کے خلاف کارروائی ہوگی، میں وکیلوں کو تھوڑا ریسکیو کر رہا ہوں، جسٹس جمال مندو خیل کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار نہیں تھا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اسفند یارولی کیس میں سپریم کورٹ نیب کی تمام شقوں کا جائزہ لے چکی ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر پی سی او نہ ہوتا تو شاید تب پورا نیب قوانین اڑا دیا جاتا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا برطانیہ میں نیب جیسا ادارہ ہے؟ نیب پر آپ کو اتنا اعتماد کیوں ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون اور اسے چلانے والوں میں فرق ہے،دوسرے خلیفہ سے ان کی چادر کا سوال پوچھا گیا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے خلیفہ سے جس نے پوچھا تھا وہ عام آدمی تھا،عام آدمی حکمرانوں سے آج بھی پوچھ سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عام آدمی تو بیچارہ کمزور ہوتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ عوام کی طاقت، ووٹر کی طاقت کو کمزور کیوں کہہ رہے ہیں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کو ترمیم کے بعد جرم کی تعریف سے ہی باہر کردیا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس منصور نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ کیسز دیگر فورمز پر جائیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایمنسٹی پارلیمنٹ نے نہیں دی تھی.وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے فوجداری پہلو ختم نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اربوں کی جائیداد کا غبن کرکے کروڑوں روپے کی واپسی کا اختیار بھی ایمنسٹی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی حکومت کی پالیسی ہے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے حکومت جو کام ختم کرسکتی ہے وہ کام پارلیمنٹ کیوں ختم نہیں کرسکتی.وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ رضاکارانہ رقم واپسی پر عملدرآمد سپریم کورٹ نے روک رکھاہے،رضاکارانہ رقم واپسی اور پلی بارگین کی رقم کا تعین چیئرمین نیب کرتاہے،بحریہ ٹاؤن کیس میں پلی بارگین ہوئی تھی یا رضاکارانہ رقم واپس ہوئی؟460ارب روپے کے عوض سپریم کورٹ نے ریفرنس ختم کر دیےتھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تمام مقدمات متعلقہ فورم پر چلے جائیں تو کیا کوئی اعتراض ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کالعدم کیے بغیر مقدمات منتقل نہیں ہوسکتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب کی 2023 کی ترامیم مقدمات منتقلی کے حوالے سے تھیں،سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران منتقلی سے متعلق نیب ترمیم کا جائزہ نہیں لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے موکل کو فائدہ ہو، خواجہ صاحب آپ کا ریکارڈ ہے کہ کیس 53 سماعتوں میں سنا گیا،وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی پروٹیکشن آف اکنامکس ایکٹ کے تحت ہوتی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا،ایک بات پر تو قوم کیلئے سب ساتھ بیٹھ جائیں،جوائنٹ سیشن میں نیب قانون کو دوبارہ ٹھیک کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو کسی نے منع نہیں کیاکہ نیب قوانین کو سخت یا نرم نہ کریں،کل کو پارلیمنٹ نیب قوانین کو سخت بھی کرسکتی ہے، ترامیم ختم کریں اور کل پارلیمنٹ نیب قانون ہی ختم کردےتوکیا ہوگا؟1999میں مارشل لاء نہ ہوتاتو نیب قانون کا وجود بھی نہ ہوتا.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 سے پہلے احتساب ایکٹ موجود تھا، احتساب ایکٹ کا مقصد بھی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا ہی تھا،

    خواجہ حارث نے جعلی اکاونٹس کیس کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جعلی اکاونٹس کیس کی اپیل ہمارے پاس آئے، کسی کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں، کیس پر بات نہ کریں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہئے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر مملکت نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی لیکن کوئی نہیں بیٹھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائنڈ نا کیجئے گا آپ کو نیب پر بہت اعتماد ہے،کیا اب نیب ٹھیک ہوگیا ہے ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں اب ٹھیک نہیں ہے نیب پہلے ٹھیک تھا،

    میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے، عمران خان
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ہمیں سن سکتے ہیں؟کیا آپ کیس سے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں، کیس سے متعلق ہی بات کیجئے گا، آپ جیل میں اپنے حالات سے متعلق گفتگو کرنے لگ جاتے ہیں.عمران خان نے کہا کہ "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے گزشتہ سماعت پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ، مجھے تکلیف ہوئی کہا گیا کہ میں غیر ذمہ دار سا کریکٹر ہوں اس لئے لائیو نشر نہیں کیا جائے گا "، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "عدالت اپنے فیصلے کی وضاحت نہیں کرتی، آپ نظر ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں” .آپ اپنے کیس پر رہیں،عمران خان نے کہا کہ میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیل کی مخالفت کرتاہوں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم ہوئیں تو میرا نقصان ہوگا،مجھے 14 سال کی قید ہوگئی کہ میں نے توشہ خانہ تحفےکی قیمت کم لگائی، پونے دو کروڑ روپے کی میری گھڑی تین ارب روپے میں دکھائی گئی،میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے.نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتےہیں کہ پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے یا نہیں؟عمران خان نے کہا کہ فارم 47 والے ترمیم نہیں کرسکتے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر اسی طرف جارہے جو کیسز زیر التوا ہیں .

    نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے.عمران خان
    جسٹس اطہرمن اللہ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرا نوٹ نہیں پڑھا شاید، نیب سے متعلق آپ کے بیان کے بعد کیا باقی رہ گیاہے،عمران خان آپ کا نیب پر کیا اعتبار رہےگا؟ عمران خان نے کہا کہ میرے ساتھ 5 روز میں نیب نے جو کیا اس کے بعد کیا اعتبار ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جیل میں جا کر تو مزید میچورٹی آئی ہے، عمران خان نے کہا کہ ستائیس سال قبل بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا،غریب ملکوں کے سات ہزار ارب ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں، اس کو روکنا ہوگا،میں اس وقت نیب کو بھگت رہا ہوں ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب ایسے ہی برقرار رہے گی ،عمران خان نے کہا کہ نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے ، جسٹس اطہر من اللہ نے بانی پی ٹی آئی کو چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کا معاملہ یاد کرا دیا،عمران خان نے کہا کہ میں جیل میں ہی ہوں ترمیم بحال ہونے سے میری آسانی تو ہو جائے گی ملک کا دیوالیہ ہو جائے گا .حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو تھرڈ امپائر تعینات کرتاہے،نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا.دبئی لیکس میں بھی نام آچکے، پیسے ملک سے باہر جارہے ،

    جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں.جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کررہی ہیں”.عمران خان نے کہا کہ میں ایسا کوئی خطرناک آدمی نہیں ہوں ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ "حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں،جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں”، عمران خان نے کہا کہ بھارت میں اروند کیجریوال کو آزاد کرکے، سزا معطل کرکے انتخابات لڑنے دیاگیا، مجھے 5 دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کردیا،

    ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں، آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں،عمران خان نے کہا کہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہواہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کچھ بھی ہوگیاتو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا،ہم آپ کی طرف دیکھ رہے، آپ ہماری طرف دیکھ رہے،ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے روک دیا اور کہا کہ سائفرکیس میں شائد اپیل ہمارے سامنے آئے.

    خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں.چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کیوں نیب بل کی مخالف نہیں کی؟عمران خان نے کہا کہ یہی وجہ بتانا چاہتاہوں کہ حالات ایسے بن گئے تھے، شرح نمو چھ عشاریہ دو پر تھی، حکومت سازش کے تحت گرا دی گئی، پارلیمنٹ جا کر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتاتھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں ،عمران خان نے کہا کہ ہم نے حکومت آنے کے بعد بلیک اکانومی کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے ایمنسٹی دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک کو بانی پی ٹی آئی کے سامنے کردیا اور کہا کہ یہ رکن پارلیمنٹ ہیں دشمن نہیں ، پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں ، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ، ہم سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے مگر آپ کو روک نہیں رہے ، ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق نائک صاحب آپ کی بھی ذمہ داری ہے، ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں .

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خان صاحب آپ سارا دن بہت تحمل سے بیٹھے،نیب نے ریکوڈک کیس میں 10 ارب ڈالر کی ریکوری کیسے لکھ دی، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ ہماری ان ڈائریکٹ ریکوری تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب پراسکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی غلط دستاویز دائر کرنے پر اپ کو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے، کدھر ہیں پراسیکیوٹر جنرل کیسے یہ غلط دستاویز پیش کیں، نیب کے یہ والے پراسیکیوٹر آئندہ اس عدالت میں نہ آئیں، چیف جسٹس ریکوڈک ریکوری کا کریڈٹ لینے پر نیب پر برہم ہو گئے. کہا کہ اپ سپریم کورٹ کو مذاق نہ سمجھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو ایسی رپورٹ لکھتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دلائل مکمل ہو گئے،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر آج کے کیس کی کارروائی مکمل ہو گئی،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف کیس، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا.سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک ہفتے میں کوئی فریق اگر کوئی دستاویزات جمع کروانا چاہتا ہے تو کروا دے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوا دیا.حکمنامہ میں کہا گیا کہ نیب کا 10 ارب ڈالر ریکوری کا کریڈٹ لینا سرپرائزنگ تھا.اداروں کی جانب سے ایسی غلط دستاویزات جمع نہیں ہونی چاہیے، چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل خود ریکوری اور بجٹ کی اصل رپورٹ پیش کریں، نیب کا گزشتہ 10 سال کا سالانہ بجٹ بھی دیکھنا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کے مطابق، وفاقی حکومت اس کیس میں اپیل دائر کر سکتی تھی،نیب کا آج جمع کرویا گیا جواب مسترد کرتے ہیں،

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

  • وزیراعظم کا ہواوے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چینی کمپنی کیساتھ فریم ورک معاہدے پر دستخط

    وزیراعظم کا ہواوے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چینی کمپنی کیساتھ فریم ورک معاہدے پر دستخط

    وزیر اعظم کا دورہ چین:وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور جام کمال خان کے چینی کمپنیوں سے معاہدے

    اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان کے رواں دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے مابین کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرکایہ کاری کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری عبدالعلیم خان اور وزیر کامرس جام کمال خان نے چین کے اہم کاروباری اداروں کے سی ای اوز سے ملاقاتیں کیں اور چینی کمپنیوں سے دو طرفہ معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہوئے جن میں پاکستان کی کامرس کی وزارت، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور نیشنل فوڈ سکیورٹی کی بزنس ٹو بزنس سرگرمیاں شامل ہیں۔ وفاقی وزراء نے چین کے چنگ ڈاؤ اور ژنگ جیانگ کے وفود سے بھی ملاقاتیں کیں جن سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ،نجکاری اور مواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ اس پاک چائنہ بزنس فورم میں 500چینی اور 100پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی، 32ایم او یوز پر دستخط ہوئے جبکہ چین اور پاکستان دونوں کی بزنس کمیونٹی باہم منسلک ہو گئی۔

    عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے چین کو بھی دیگر ممالک کو ڈائریکٹر ایکسپورٹ کا موقع ملے گا۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کیلئے چینی کمپنیوں کی مکمل حوصلہ افزائی کریں گے جہاں نجی شعبے کو مکمل فری ہینڈ دیا جائے گا تاکہ توانائی، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، فارمنگ، انجینئرنگ کنسٹرکشن اور لاجسٹک کے شعبوں میں سرمایہ کاری ہو سکے۔

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ دورہ چین میں پاکستان کی طرف سے معروف کاروباری شخصیات کی شرکت حوصلہ افزا ہے اور مستقبل قریب میں پاکستان کے لئے ہوٹلنگ، ٹور ازم،کلچر، سپورٹس گڈز، ٹیکسٹائل، ڈیکوریشن انڈسٹری اور ائیر پورٹ ڈیزائننگ کے لئے بھی سرمایہ کاری کی پیشکش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں اور آج بھی مناسب ماحول کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جا سکتا ہے جس سے معیشت کا پہیہ بھی چلے گا اور نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم ہوگا۔ وفاقی وزراء عبدالعلیم خان اور جام کمال خان نے چین کے اہم کاروباری گروپس سے مشاورتی اجلاس منعقد کیا جس میں دو طرفہ تجاویز پر غور و خوض کیا گیا۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان اور وزیر کامرس جام کمال خان نے چین کے دورے کے پہلے روز دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری اور تجارتی امور کے حوالے سے مصروف ترین دن گزارا، مختلف چینی کمپنیوں سے دو طرفہ معاہدے اور مذاکرات کیے جبکہ دونوں وزراء نے پاکستانی کاروباری برادری کے ہمراہ چین کے اہم کاروباری گروپس سے مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جن میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔

  • سپریم کورٹ،مصطفیٰ کمال کی معافی مسترد،پریس کانفرنس دکھانے والے چینل کو نوٹس

    سپریم کورٹ،مصطفیٰ کمال کی معافی مسترد،پریس کانفرنس دکھانے والے چینل کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فاٸزعیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،بنچ میں جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم افغان شامل ہیں،سپریم کورٹ طلبی پر فیصل واڈا، کمال مصطفی عدالت پیش ہو گئے،مصطفی کمال کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم اور فیصل واوڈا روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ میں نے غیر مشروط معافی کی درخواست مصطفے کمال کی جانب سے دائر کی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وہ درخواست پڑھیں، فروغ نسیم نے مصطفی کمال کا معافی کی درخواست پڑھ کر سنائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے درخواست میں ربا کا ذکر کیا ہے اس کا کیا مطلب؟ ربا والا کیس کا فیصلہ ہو نہیں چکا؟ فروغ نسیم نے کہا کہ ربا والا کیس اس وقت وفاقی شریعت عدالت میں زیر التوا ہے اس پیرائے میں میرے مؤکل نے بات کی تھی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ربا والے معاملے پر دوسرے جج کی تعیناتی کا مسئلہ حل ہوجائے گا، نئے جج کی تعیناتی اس لئے کی جارہی ہے کہ ایک عالم جج فوت ہوچکے ہیں

    ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی عزت کرنی چاہئے، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس اتفاقی تھی یا فیصل واوڈا سے متاثر ہوئے؟ اس پر وکیل فروغ نسیم نے کہا، پریس کانفرنس اتفاقی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ کیوں آپ لوگ فیصل واوڈا سے متاثر نہیں ہیں ، کیا آپ اب بھی سینیٹر ہیں ، فروغ نسیم نے کہا کہ نہیں اب میں سینیٹر نہیں ہوں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ بطور کورٹ آفسر بتائیں کہ آپ کے موکل کے توہینِ عدالت کی ہے یا نہیں ؟ وکیل مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین عدالت نہیں ہے،

    مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین نہیں تھی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کا بے حد احترام کرتے ہیں،پارلیمنٹ نے کئی قوانین بنائے مگر ہم نے کچھ نہیں کہا،پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ آئینی باڈی ہے ،اگر مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین نہیں تھی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ہیں؟قوم کو ایک ایسی پارلیمنٹ اور عدلیہ چاہیے جس کی عوام میں عزت ہو ، میرا خیال ہے یہ پہلی بار ہے کہ ہم نے توہین عدالت کا نوٹس لیا ہے ، فیصل واوڈا سینیٹ میں ہیں وہاں تو اور بھی سلجھے ہوئے لوگ ہونے چاہئیں ، جب ارکان پارلیمنٹ ہوتے ہوئے عدلیہ پر ایسا حملہ کیا جائے تو یہ ایک آئینی ادارے کا دوسرے ادارے پر حملہ ہوتا ہے،اگر مصطفیٰ کمال سمجھتےہیں کہ انہوں نےتوہین عدالت نہیں کی تو پھر معافی قبول نہیں کریں گے،اپ ڈرائنگ روم میں بات کرتےتو الگ بات تھی، اگر پارلیمنٹ میں بات کرتےتوکچھ تحفظ حاصل ہوتا، آپ پریس کلب میں بات کریں اور تمام ٹی وی چینل اس کو چلائیں تو معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ معافی کی گنجائش اسلام میں قتل پر بھی ہے مگر اعتراف جرم لازم ہےآپ نے پریس کلب میں جا کر تو معافی نہیں مانگی،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ایسا کرنے پر بھی تیار ہیں مصطفیٰ کمال کی معافی مانگنے کی وجہ یہ ہے وہ عدلیہ کی عزت کرنا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی ججز کے کنڈکٹ کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا ، میں دونوں ملزمان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ وہ ارکان پارلیمنٹ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالتوں میں زیر التوا مقدمات پر بات ہو تو وہ توہین عدالت نہیں وہ ایک فیئر کمنٹ ہے،ہم آپ کے مؤکل کی تقریر سنتے ہیں اور اس میں کوئی توہین والا عنصر نکل آئے تو کیا کریں؟ فروغ نسیم نے کہا کہ سر اس میں ایک آدھ جملہ ہوسکتا ہے اس لئے عدالت سے معافی کے طلبگار ہیں

    جسٹس عرفان سعادت نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے کہے ہوئے الفاظ پر شرمندہ ہیں ؟ فروغ نسیم نے کہا کہ جی بلکل ، ہم نے یہ بات اپنے جواب میں لکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز کی دوہری شہریت پر کوئی پابندی نہیں،فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی کمال نے ججز کی دوہری شہریت پر کوئی بات نہیں کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں لکھاہے کہ پارلیمنٹ میں کسی جج کے حوالے سے بات نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایسا کوئی ممبر کرتا ہے تو پھر کیا ہونا چاہیئے۔ ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس پر آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے،میں دونوں شخصیات کے بارے میں کہوں گا وہ پارلیمنٹرینز ہیں بات کرنے سے پہلے سوچیں، پارلیمنیٹیرنز نے خود پارلیمنٹ کے ممبرز پر دوہری شہریت کی پابندی لگائی ہے،

    کچھ لوگ کہتے ہیں عدلیہ کو ڈرا دھمکا کر گالیاں دے کر فیصلے لے لو، گالی گلوچ کرنے والے کس سے متاثر ہیں؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے سامنے دوہری شہریت کا معاملہ نہیں توہین عدالت کا کیس ہے، آئین پاکستان دیکھیں، کتنے خوبصورت الفاظ سے شروع ہوتاہے، جو لوگ گالم گلوج کرتے کہان سے اثر لیتےہیں، کیا ایسا دینی فرائض میں ہے؟ ہمیں کسی کو توہین کا نوٹس دینے کا شوق نہیں، امام نے فرمایا تھا کسی سے اختلاف ایسے کریں کہ اس کے سر پر چڑیا بیٹھی ہو تو بھی نہ اڑے، کچھ لوگ کہتے ہیں عدلیہ کو ڈرا دھمکا کر گالیاں دے کر فیصلے لے لو، گالی گلوچ کرنے والے کس سے متاثر ہیں؟ اختلاف رائے کے بھی قواعد ہیں، اسلام سے دور ہوکر ہر بندا گالم گلوچ پر اترا ہوا ہے، فیصلوں پر جتنی مرضی تنقید کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، عدلیہ اور پارلیمان کو لوگوں نے لڑنے کیلئے نہیں بنایا، آپ کو کوئی جج بے ایمان لگتا ہے تو ریفرنس دائر کردیں

    34 منٹ پریس کانفرنس چلائی گئی مگر نامناسب الفاظ کو نہیں روکا گیا؟ کیا ہم ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کردیں؟ کیا ٹی وی چینلز 34 منٹ معافی بھی چلائینگے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین کا مذہب میں کیا اسٹیٹس ہے، فیصل واوڈا کے وکیل سے پوچھ لیتے ہیں،وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ مجھے اس بارے میں قرآن پاک کی آیات یاد نہیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذہب میں ڈیسنسی کا خیال رکھا جائے، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ اس حوالے سے احادیث موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو قرآن پاک سے سمجھاتے ہیں، سورہ الحجرات میں ایسی آیات ہیں،ہر روز گالم گلوچ سنتے ہیں،ٹی وی والے سب چلادیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ فریڈم آف اسپیچ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیمرا کی رپورٹ ہے 34منٹ کی پریس کانفرنس ٹی وی چینلز نے چلائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اب ان ٹی وی والوں کو نوٹس دیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں سب کو نوٹس دینے چاہئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیمرا نے ایک رول بنایا ہے کہ کورٹ کارروائی ریکارڈ اور رپورٹ نہیں ہوگی ،کیا ایسا کوئی آرڈر پیمرا نے ارڈر جاری کیا ہے ؟اگر کوئی توہین عدالت کے الفاظ ہوں تو اس پر کارروائی کی جاسکتی ہے، ایک طرف پوری پریس کانفرنس دکھائی گئی اس پر پیمر انے نوٹس نہیں لیا لیکن کورٹ کی رپورٹنگ اور ریکارڈنگ سے روک دیا،کیا ایسا معیارہے،، ادارے ایسے چلتے ہیں ،پیمرا کے نوٹیفیکیشن کے بارے میں اخبار میں پڑھا تھا،اس کا پرنٹ لے لیں، کیا ٹی وی چینلز کے اندر کوئی معیار ہے؟ 34 منٹ پریس کانفرنس چلائی گئی مگر نامناسب الفاظ کو نہیں روکا گیا؟ کیا ہم ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کردیں؟ کیا ٹی وی چینلز 34 منٹ معافی بھی چلائینگے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو معافی بھی 34 منٹ چلانی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب ان کی جیبوں پر جرمانے کی مد میں بات آئے گی تو پتہ چل جائے گا؟ پیمرا نے عدالتی سماعتوں کو نشر نہ کرنے کا عجیب قانون بنایا؟ عجیب قانون ہے کیا یہ آئین کے خلاف ہے؟

    مجھے اوپر والے سے ڈر لگتا ہے مجھے جس نے گالی دی اسے بھی انصاف دینا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے نہیں کہا ہمارے فیصلوں پر تنقید نہ کریں ،فیصل واوڈا کے وکیل کی بڑی شرعی شکل ہے،فیصل واوڈا کے وکیل وکیل معیزاحمد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اللہ کرے ہمارے اعمال بھی شرعی ہو جائیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں علم ہی نہ ہو کہ قرآن میں اس بارے کیا ہے تو کیا کریں ،ٹی وی والے سب سے زیادہ گالم گلوج کو ترویج دیتے ہیں ، ایسی گالم گلوچ کسی اور ملک میں بھی ہوتی ہے ،مجھے جتنی گالیاں پڑی ہیں شاید کسی کو نہ پڑی ہوں ،کبھی اپنی ذات پر نوٹس نہیں لیا ، آپ نے عدلیہ پر بات کی اس لیے نوٹس لیامجھے اوپر والے سے ڈر لگتا ہے مجھے جس نے گالی دی اسے بھی انصاف دینا ہے ،وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ میرے موکل پیمرا سے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنی نہیں آپ کو سننا ہے ، آپ وکیل ہیں ، فیصل واوڈا اس پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے ، کیا آپ نے کوئی قانون بدلنے کے لیے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا ، ہم نے کبھی کہا فلاں سینیٹر نے اتنے دن اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی ،

    باہر جاکر نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کردیتے ہیں،اتنی بہادری ہے توسامنے آئیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں بیٹھے صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی لوگ بیٹھے ہیں بڑی بڑی ٹویٹس کر جاتے ہیں ، جو کرنا ہے کریں بس جھوٹ تو نہ بولیں ،صحافیوں کو ہم نے بچایا ہے ان کی پٹیشن ہم نے اٹھائی ، باہر جاکر نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کردیتے ہیں،اتنی بہادری ہے توسامنے آئیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کا وکالت نامہ ختم ہوچکا ہے جو موکل بات کرنا چاہے ہیں؟ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا ا سکرپٹ موجود ہے، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ ٹرانسکرپشن میں لکھا ہے کہ پریس کانفرنس میں 2ہائیکورٹ کے ججز کا نام لیا گیا، کیا وہ پریس کانفرنس ججز سے متعلق ہی تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدلیہ سے متعلق پریس کانفرنس کی، وہ بار کونسل یا بار ایسو سی ایشن ہیں؟کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ یہ کام کرے وہ کام کرے ؟یہاں تو جھوٹ پر لوگوں کو ڈالرز ملتے ہیں ، ایک ویڈیو کو زیادہ دیکھا جاتاہے ،ہر بات سورس کے ذریعے کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی سورس نہیں ہوتا، صحافیوں کا کیس ہم نے اٹھایا ان کے سارے کیسز سن رہے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا کے وکیل سے کہا کہ کیا آپ کیس چلانا چاہتے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ میں مشورہ کرکے بتاتا ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ہم مزید وقت دے سکتے ہیں، فیصل واوڈا روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ روسٹرم پر بات کرنا چاہتا ہوں ،جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں، وہ نہ ہوتے تو بات کرسکتے تھے

    کبھی زبان سے بات نکل جاتی ہے لیکن پریس کانفرنس کے ڈائنامکس الگ ہیں،چیف جسٹس
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پیمرا کورٹ رپورٹنگ سے متعلق جو ہدایات ہیں وہ درست نہیں ،پیمرا کو چاہیے کہ وہ ایک چیک کا نظام رکھے،چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ہمیں کام کے لیے بٹھایا گیا،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ شام کو ٹاک شوز میں باتیں ہوتی ہیں اس کو بھی دیکھنا ہےچیف جسٹس نے کہا کہ کیا پھر چینلز کو نوٹس جاری کیے جائیں ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چینلز سے پوچھیں کہ ان کی ایڈیٹوریل پالیسی کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ آپ بے شک فیصلوں پر تنقید کریں لیکن بہتر طریقے سے کریں،کیا ایک جملے میں10 بار توہین ہورہی ہے تو پھر کیا وہ ایک توہین ہوگی؟کبھی زبان سے بات نکل جاتی ہے لیکن پریس کانفرنس کے ڈائنامکس الگ ہیں،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال توہین عدالت کیس کی سماعت28جون تک ملتوی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ نے مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی درخواست مسترد کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے؟ کبھی ہم نے یہ کہا کہ فلاں کو پارلیمنٹ نے توسیع کیوں دے دی. آپ نے کس حیثیت میں پریس کانفرنس کی تھی ، آپ بار کونسل کے جج ہیں کیا ؟سپریم کورٹ نے فیصل واوڈ اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس دکھانےوالے تمام چینلز کو نوٹس جاری کر دیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،  سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

  • ہم چین کے  اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، وزیراعظم

    ہم چین کے اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہے کہ ماضی میں رہیں گے تو کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے، ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھیں گے تو ہی کامیابی مل سکے گی۔

    چین کے شہر شینزن میں پاک چائنا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا چین کی ترقی ہمارے لئے قابل تقلید ہے، چین کو دباؤ میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر چینی عوام و قیادت نے دباؤ کے آگے نہ جھکنے اور کامیابی حاصل کرنے کا آہنی عزم کیا، ہم اسی عزم کیساتھ پاکستان واپس جائیں گے اور عظیم چینی اقتصادی ماڈل کی پیروی کریں گے۔دنیا کو چین کی ترقی سے سبق سیکھنا چاہیے چین مختصر مدت میں دنیا کی دوسری بڑی معاشی و فوجی طاقت بن گیا ہم چین کے عظیم اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، ہماری سب سے بڑی طاقت نوجوان افرادی قوت ہے۔بزنس کانفرنس دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری روابط کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے،چین کے شہر شینزن نے مختصر مدت میں ترقی حاصل کی جو ہمارے لیے ایک مثال ہے،پاکستانی کمپنیاں اپنی مصنوعات بہتر انداز سے دنیا کے سامنے پیش کریں، چین نے ترقی کے لیے فرسودہ طریقہ چھوڑ کر جدید طریقے کو اپنایا، پاکستان بھی بدعنوانی پر قابو پانے کےلیے مؤ ثر اقدامات کر رہا ہے، پاکستان میں کاروبار میں آسانی پیداکرنے کے لیے بزنس کونسل قائم کی،بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ترقی کی ضمانت ہے، یہاں قرضوں کے لیے نہیں بلکہ کاروبار اور ترقی کے لیے آیا ہوں،5 چینی باشندوں کی دہشت گردی کے واقعے میں ہلاکت افسوسناک لمحہ تھا، پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے، چینی شہریوں کو فول پروف سکیورٹی دیں گے۔

    وزیرِاعظم کاشینزن میں نانشان ون اسٹاپ سروسز سینٹر اور شینزن ایگزیبیشن میوزیم کا دورہ
    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نےشینزن میں نانشان ون اسٹاپ سروسز سینٹر اور شینزن ایگزیبیشن میوزیم کا دورہ کیا،وزیرِاعظم نے دورے کے دوران موقع پر ہی وفاقی وزراء اور متعلقہ پاکستانی حکام کو آج ہی نانشان ون اسٹاپ سروسز سینٹر کے ساتھ مزاکرات کرکے پاکستان میں ایسے جدید نظام کے قیام کیلئے لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کردی.نانشان ون اسٹاپ سروسز سینٹر پہنچے پر شینزن نانشان دسٹرکٹ پیپلز گورنمنٹ کی پارٹی لیڈرشپ گورنمنٹ کی رکن اور ڈپٹی مئیر لی زنہا (Li Zhina) نے وزیر اعظم کا استقبال کیا. نانشان ون اسٹاپ سروسز کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو کمپنیوں کی ایک ہی چھت تلے رجسٹریشن و دیگر کاروائی کے حوالے سے ڈیجیٹل نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے نانشان ون اسٹاپ سروسز میں کمپنی و کاروباری کی رجسٹریشن کیلئے جدید نظام کی تعریف کی. وزیرِ اعظم نے وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، سیکٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و دیگر متعلقہ حکام کو پاکستان میں ایسا نظام متعارف کرنے کیلئے فوری طور پر نانشنان ون اسٹاپ سروسز کے حکام سے مذاکرات کرنے کی ہدایت کردی. وزیرِ اعظم نے چینی تعاون سے پاکستان میں فوری طور پر ایسے سینٹر کے قیام کیلئے پاکستانی حکام کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کردی. وزیرِ اعظم نے پاکستانی حکام کو شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے بھی ایسا ہی جدید اور تیز تر نظام متعارف کرانے کی ہدایات بھی دیں.وزیرِاعظم نے شینزن کے ارتقاء و ترقی کے حوالے سے قائم شینزن ایگزیبیشن میوزیم کا بھی دورہ کیا. میوزیم کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو شینزن کی ترقی کے سفر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے میوزیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور شینزن کے قلیل مدت میں ترقی کے سفر کی تعریف کی.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چینی کمپنی ترانشیئن ہولڈنگز کے بانی کی ملاقات
    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چینی کمپنی ترانشیئن ہولڈنگز کے بانی و چیئرمین ژو ژاؤجیانگ کی شینزن میں ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں ٹرانشیئن ہولڈنگز کے چیئرمین نے وزیرِ اعظم کو کمپنی کے پاکستان میں موجودہ آپریشنز، عالمی سطح پر اسکی برآمدات اور پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ چیئرمین ٹرانشیئن ہولڈنگز نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ کمپنی کا پاکستان میں موبائل فونز کی تیاری کے حوالے سے پہلے سے ایک یونٹ قائم ہے جس میں 5 ہزار کے سے زائد پاکستانیوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ کمپنی پاکستان میں موبائل فونز کے حوالے سے اپنی سرمایہ کاری میں وسعت میں گہری دلچسپی رکھتی ہے جس سے موبائل فونز کی تیاری کے بعد پاکستان سے انکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔چینی کمپنی نے پاکستان میں اپنے موبائل بنانے کے یونٹ میں سرمایہ کاری میں وسعت اور پاکستان میں چار شعبوں: موبائل فونز کی تیاری، الیکٹرک بائیکس، جدید زراعت اور فِن ٹیک میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا،وزیرِ اعظم نے وفاقی وزراء اور پاکستان کے چین میں سفیر کو ٹرانشیئن ہولڈنگز کے ساتھ مل کر جلد ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ حکومت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں و کاروباری شخصیات کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے ٹرانشیئن ہولڈنگز کو پاکستان میں مقامی سطح پر اشیاء تیار کرکے انکی پاکستان سے بیرونِ ملک برآمدات کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں، ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری نوجوان افرادی قوت ہے۔ملاقات میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، عبدالعلیم خان، جام کمال، عطاءاللّٰہ تارڑ اور وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ نے بھی شرکت کی۔

    شینزن لاہور کا سسٹر شہر اور گوانگڈونگ پنجاب کا سسٹر صوبہ ہے۔وزیراعظم شہباز شریف
    قبل ازیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے شینزن کے سربراہ (Secretary) اور صوبہ گوانگڈونگ کے نائب سربراہ (Deputy Secretary) مینگ فینلی کی وزیرِاعظم سے شینزن میں ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں مینگ فین لی نے وزیرِاعظم کا شینزن آنے پر خیر مقدم کیا اور انہیں شینزن کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کئی برس بعد شینزن آکر دلی خوشی ہوئی۔ شینزن کی حکومت اور اسکے عوام کی مہمان نوازی پر مشکور ہوں۔ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے اونچی، سمندر کی گہرائی جتنی گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔پاکستانی قیادت اور عوام ہر مشکل وقت میں چین کے تعاون پر چینی قیادت اور اسکے عوام کی مشکور ہے۔ پاکستان چین کی ون چائنہ پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ شینزن لاہور کا سسٹر شہر اور گوانگڈونگ پنجاب کا سسٹر صوبہ ہے۔ پاکستان چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے اور چین کی ترقی سے سیکھنا چاہتا ہے۔ ہماری حکومت سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے اشتراک اور سرمایہ کاری سے ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔ اپنے دورے کے شینزن سے آغاز کا مقصد شینزن کی ترقی بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی سے سیکھنا ہے۔ پاکستانی حکومت جدید ٹیکنالوجی سے ملکی زرعی شعبے کی پیداوار اور زرعی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید زراعت و دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اسکی نوجوان افرادی قوت ہے جو ملکی آبادی کے 60 فیصد ہے، شینزن اور پاکستان میں یہ قدر مشترک ہے۔ امید کرتا ہوں کہ شینزن میں پاکستانی طلباء کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

    مینگ فینلی کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کی دوستی بہت مضبوط اور گہری ہے۔ شینزن کی حکومت اور شینزن کے لوگوں کیلئے آپکی میزبانی اعزاز کی بات ہے۔امید کرتا ہوں آپکی چینی اعلیٰ قیادت بالخصوص چینی صدر عزت مآب شی جن پنگ اور چینی وزیرِاعظم لی چیانگ کے ساتھ ملاقاتیں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور شراکت داری کے فروغ کے حوالے سے مفید ثابت ہونگی۔ شینزن میں پاکستانی طلباء کی بڑی تعداد زیرِ تعلیم ہے۔ پاکستان اور شینزن کے مابین تجارت کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ مینگ فینلی

    ملاقات کے بعد مینگ فینلی نے وزیرِاعظم اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ، وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان اور وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ بھی شریک تھی.

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • رواں برس مختلف آپریشنز میں 529 دہشتگرد جہنم واصل

    رواں برس مختلف آپریشنز میں 529 دہشتگرد جہنم واصل

    وطن عزیز پاکستان کو پچھلی دو دہائیوں سے شدید دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج متحرک ہے اور اس ضمن میں افواج پاکستان نے مربوط اور منظم انداز میں مختلف آپریشنز کیے ہیں

    وطن عزیز پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 87 ہزار سے زائد افراد نے قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے، اگست 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کی ایک نئی لہر نے سر اٹھایا تا ہم دہشتگردانہ کارروائیوں کے باوجود پاک فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پر عزم ہے۔ اس سلسلے میں پاک فوج کی جانب سے ان دہشت گردوں کے خلاف سال بھرسے بلا تسلسل کارروائیاں جاری ہیں،یکم جنوری 2024 سے 31 مئی 2024 تک پاک فوج نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف 505 آپریشنزکیے جن کے دوران 259 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا

    پاکستان نےدہشتگردی کی جنگ کا بحیثیت قوم یکجا ہو کر بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔ ہمارا یہ سفر قربانیوں اور لازوال حوصلوں کی ایک شاندار مثال ہےپاک فوج کا یہ عزم ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی، انشاء اللہ،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،

    ژوب،ایک ماہ میں 29 دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • بھارتی انتخابات،نتائج مکمل،مودی کو وزیراعظم بننے کیلئے اتحادیوں کی مدد درکار

    بھارتی انتخابات،نتائج مکمل،مودی کو وزیراعظم بننے کیلئے اتحادیوں کی مدد درکار

    بھارت میں سات مرحلوں کے انتخابات مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے نتائج کا اعلان کر دیا ہے، بی جے پی سمیت کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکی، حکومت بنانے کے لئے اتحادیوں کی ضرورت ہو گی،

    نتائج کے مطابق 2024 کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 240 نشستوں کے ساتھ سب سے آگےرہی، انڈین نیشنل کانگریس 99 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور سماج وادی پارٹی 37نشستوں کے ساتھ تیسری نمبر پر رہی،آل انڈیا ترینامول کانگریس کزاغم 29 اور تیلگو دیسام 16 اور جنتا دل نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) نے 9 نشستیں اپنے نام کیں۔

    بی جے پی لوک سبھا میں سادہ اکثریت کے لیے درکار 272 نشستیں اکیلے حاصل کرنے میں ناکام رہی، تاہم اتحاد 295 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ سادہ اکثریت کی بنیاد کی حکومت بنالے گا، اس کے برعکس کانگریس کی زیر قیادت اپوزیشن اتحاد انڈیا نے 231 نشستیں حاصل کرلی ہیں

    بھارت کے سابق حکمران اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی میٹنگ آج ہوگی جس میں بی جے پی نریندر مودی کو تیسری بار وزیراعظم نامزد کرانے کی کوشش کرے گی۔ وہیں اپوزیشن اتحاد کا بھی اجلاس ہو گا جس میں اہم فیصلے ہوں گے اب وزیراعظم کا فیصلہ پارلیمان کرے گا ، مودی تیسری بار وزیراعظم بن پائیں گے یا نہیں یہ ایک دو روز میں پتہ لگ جائے گا،

    دہلی میں بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں ایک تقریب کے دوران بے جے پی کی قیادت میں بننے والے اتحادی گروپ ’این ڈی اے‘ نے جیت کا دعویٰ کیا اور اسی تقریب سے خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ وہ اپنی تیسری مدت میں کرپشن کو جڑ سے ختم کریں گے۔میں اس نعمت کے لیے تمام ہم وطنوں کا مقروض ہوں۔ آج کا دن بہت مبارک ہے۔ اس مبارک دن پر، این ڈی اے کا مسلسل تیسری بار حکومت بنانا یقینی ہے،آج کی جیت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جیت ہے۔ یہ ہندوستان کے آئین کے ساتھ اٹوٹ وفاداری کی جیت ہے۔ یہ ترقی یافتہ ہندوستان کے وعدے کی جیت ہے۔ یہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس منتر کی جیت ہے۔ وزیر اعظم مودی نے آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کا نام بھی لیا

    وارانسی سیٹ سے مودی ڈیڑھ لاکھ کی لیڈ سے جیت گئے
    بھارتی وزیراعظم مودی وارانسی کی سیٹ سے الیکشن جیت گئے ہیں، مودی نے چھ لاکھ 12 ہزار 970 ووٹ لئے ہیں،مودی ایک لاکھ 52 ہزار 513 کی لیڈ سے جیتے ہیں، مودی کے مقابلے میں کانگریس کے اجے رائے امیدوار تھے جنہوں نے تقریبا ساڑھے چار لاکھ ووٹ لئے ہیں، مودی 2014 اور 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں اسی سیٹ سے جیت کر وزیراعظم بنے تھے۔

    مودی حکومت کے 15 وزیر الیکشن ہار گئے
    اسمرتی ایرانی کو امیٹھی سیٹ سے کانگریس امیدوار کشوری لال شرما سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کیرلہ کی سیٹ پر مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر کانگریس کے ششی تھرور سے ہار گئے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کو سماج وادی پارٹی کے اتکرش ورما کے ہاتھوں شکست ہوئی،ریاستی وزیر تعلیم سبھاش سرکار مغربی بنگال بھی ہار گئے۔مرکزی قبائلی امور کے وزیر اور موجودہ ایم پی ارجن منڈا جھارکھنڈ کی سیٹ سے ہار گئے ، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت کیلاش چودھری بھی ہار گئے ہیں۔ مرکزی وزیر ایل مروگن تمل ناڈو سے ہار گئے۔مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نستھ پرمانک کوچ بہار سیٹ پر ہار گئے۔ مرکزی وزیر سنجیو بالیان سماج وادی پارٹی کے ہریندر سنگھ ملک سے 24,000 سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئے۔ مرکزی وزیر بھگونت کھوبا کو بیدر میں کرناٹک کے وزیر ایشور کھنڈرے کے بیٹے ساگر کھنڈرے سے ہار گئے، ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر مملکت کوشل کشور سماج وادی پارٹی کے امیدوار آر کے سے ہار گئے۔مرکزی وزیر مہندر ناتھ پانڈے ایس پی کے بیریندر سنگھ سے ہار گئے۔ پنچایتی راج کے وزیر مملکت کپل پاٹل کو بھی شکست ہوئی، وزیر مملکت برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے بھی ہار گئے،وزیر مملکت برائے صحت اور خاندانی بہبود بھارتی پوار بھی انتخابات نہ جیت سکے.

    بھارت نے فیصلہ دے دیا مودی نہیں چاہیے، راہول گاندھی
    کانگریس کا کہنا ہے کہ واضح ہے انتخابات میں مینڈیٹ ہمیں ملا ہے ،انتخابی نتائج بی جے پی کی واضح ہار ہے ، عوام نے مودی اور اس کے نظریے کو مسترد کردیا ،راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام کا شکر گزار ہوں کہ آئین بچانے کا پہلا قدم اٹھا لیا ہے ، مجھے یقین تھا بھارتی عوام ایک ساتھ کھڑے ہو کر لڑیں گے ،لڑائی آئین کو بچانے کی تھی اور عوام نے مودی کو جواب دے دیا ،مودی کو واضح شکست ہوئی ہے، ہم نے بی جے پی نہیں ریاستی مشینری کے خلاف الیکشن لڑے، خفیہ ایجنسیاں ، بیوروکریسی اور آدھی عدلیہ بھی ہمارے خلاف تھی ،بھارت نے فیصلہ دے دیا مودی نہیں چاہیے، عوام مودی اور ان کے حواریوں کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے،

    بھارتی انتخابات،کروڑ پتی افراد، مقدمات میں نامزد، جیلوں میں گرفتار بھی جیت گئے
    2024 کے بھارتی انتخابات میں ہزاروں امیدواروں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا،کروڑ پتی امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا تو مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد نے بھی قسمت آزمائی۔2573کروڑ پتی امیدوار میدان میں اترے۔ جن میں سے 503 کروڑ پتی کامیابی حاصل کرپائے۔ بھارتی ہدایتکارہ اور اداکارہ ہیمامالنی دو سو اٹھہتر کروڑ روپے کے اثاثوں کی مالکہ ہیں۔4013گریجویٹس امیدواروں میں سے390 امیدوار اپنی نشست لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔2019میں کامیاب ہونے والے لوک سبھا کے ارکان میں سے324نے 2024کے الیکشن میں حصہ لیا جن میں سے212 ممبران اپنی کامیابی کو یقینی بنا پائے۔1643 ایسے امیدواربھی تھے جنہیں مقدمات کا سامنا تھا، جن میں سے کامیاب امیدواروں کی تعداد 250ہے۔آسام جیل میں قید خالصتان تحریک کے رہنما امرت پال سنگھ بھی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کانگریسی رہنما راہول گاندھی کو بھی انیس مقدمات کا سامنا ہے۔

    راہول گاندھی نے اتر پردیش کی نشست رائے بریلی سے تقریبا 4لاکھ کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی وارانسی کی نشست سے جیتے مگر برتری کا مارجن صرف ڈیڑھ لاکھ ووٹ رہا۔ ایودھیا(فیض آباد) جہاں بابری مسجد کو شہید کیا گیا وہاں سے بھی بی جے پی کو بری طرح ناکامی کا سامنا رہا۔ سماج وادی پارٹی کےآودھیش پرساد ساڑھے پانچ لاکھ ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔

    بھارتی وزیراعظم مودی نے استعفیٰ دے دیا
    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں، مودی تیسری بار الیکشن جیتےہیں اور وہ اب تیسری بار وزیراعظم بنیں گے، مودی 8 جون کو تیسری بار وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیں گے، کابینہ کی میٹنگ کے بعد بھارتی وزیراعظم نے صدر کی رہائش گاہ جا کر لوک سبھا تحلیل کرنے کے لیے سفارشی خط پیش کیا۔مودی کا استعفیٰ بھارتی صدر نے منظور کر لیا ہے

    بھارتی انتخابات، مسلمان امیدوار بھی الیکشن جیت گئے
    بھارتی انتخابات میں کم از کم 78 مسلمان امیدوار وں نے الیکشن لڑا،2019 میں بھارتی انتخابات میں 115 مسلمان امیدوار تھے،کئی مسلمان امیدوار جیت چکے ہیں ،سہارنپور سے کانگریس کے امیدوار عمران مسعود جیتے ہیں، کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی نوجوان امیدوار اقرا حسن چودھری نے بی جے پی کے پردیپ کمار کوشکست دی ہے،غازی پور کے افضال انصاری نے سیٹ جیت لی، اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے حیدر آباد سے سیٹ جیتی،لداخ میں آزاد امیدوار محمد حنیفہ ،عبدالرشید شیخ نے جموں و کشمیر کی بارہمولہ سیٹ سسے کامیابی حاصل کی،نیشنل کانفرنس کے میاں الطاف احمد نے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خلاف 281794 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ سری نگر میں این سی امیدوار آغا سید روح اللہ مہدی جیتے ہیں،اتر پردیش میں، سماج وادی پارٹی کے محب اللہ ، سنبھل سے ضیا الرحمان،مغربی بنگال سے یوسف پٹھان، بہار سے محمد جاوید ، کٹیہار میں طارق انور ، دھوبری، آسام میں رقیب الحسین جیت چکے ہیں،

    بھارتی انتخابات میں چار کم عمر امیدوار بھی الیکشن جیت گئے ہیں،چاروں امیدواروں کی عمریں 25 برس ہیں،بھارتی میڈیا کے مطابق پشپیندر سروج، پریا سروج، سنجنا جاٹو اور شمبھاوی چوہدری کی عمریں 25 سال ہیں اور وہ لوک سبھا الیکشن جیت چکے ہیں،پشپیندر سروج، پریا سروج نے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔ سنجنا جاٹو کو کانگریس اورشمبھاوی چودھری کو لوک جن شکتی پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر براہ راست سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے مخصوص نشستوں سےمتعلق کیس کی سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان تفریق ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئین سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرٹیکل 17اور63اے میں سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کاذکر ہے،سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی . چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سیاسی اور پارلیمانی جماعت کے لیے آئین میں کیاتشریح ہے؟آپ 8 فروری سے پہلے کیا تھے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 8فروری سے پہلے ہم سیاسی جماعت تھے،آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد ہم پارلیمانی جماعت بن گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کیخلاف کھڑے ہو سکتے ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا عدالت کے سامنے موجود معاملے سے تعلق نہیں،سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان ایک تفریق ہے،

    آپ کو اپنے سربراہ کا نام ہی نہیں معلوم، آپ درخواستگزار ہیں، پارلیمنٹری سربراہ کا کوئی الیکشن ہوتاہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئین اس تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی 63 اے آرٹیکل موجود ہے، سنی اتحاد کونسل دونوں سیاسی اور پارلیمنٹری پارٹی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا پارلیمنٹری سربراہ کون ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں سربراہ کے حوالے سے ابھی بتا دیتاہوں لیکن عدالت میں یہ بات اہم نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو اپنے سربراہ کا نام ہی نہیں معلوم، آپ درخواستگزار ہیں، پارلیمنٹری سربراہ کا کوئی الیکشن ہوتاہے؟ معلوم کیسے ہوتا پارلیمنٹری سربراہ کون ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹری سربراہ کا مقدمہ سے تعلق نہیں اس لیے اس حوالے سے تیاری نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے آپ کے سوالات سے پولیٹیکل لفظ ہذف کردیا ہے،

    الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟جسٹس منیب اختر
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ سیاسی جماعت ہونے کے بغیر پارلیمانی پارٹی ہو؟ جو بھی پارٹی اسمبلی میں ہوگی تو پارلیمانی پارٹی ہوگی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارلیمان میں فیصلے پارلیمانی پارٹی کرتی ہے اسکے فیصلے ماننے کے سب پابند ہوتے ہیں،پارلیمانی پارٹی قانونی طور پر پارٹی سربراہ کی بات ماننے کی پابند نہیں ہوتی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 51 میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے پارلیمانی پارٹی کا نہیں، آرٹیکل 51 اور مخصوص نشستیں حلف اٹھانے سے پہلے کا معاملہ ہے،ارکان حلف لیں گے تو پارلیمانی پارٹی وجود میں آئے گی، پارلیمانی پارٹی کا ذکر اس موقع پر کرنا غیرمتعلقہ ہے، مناسب ہوگا کہ سیاسی جماعت اور کیس پر ہی فوکس کریں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد امیدوار وہ ہوتا ہے جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہ ہو، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں کوئی خود کو پارٹی امیدوار ظاہر کرے اور ٹکٹ جمع کرائے تو جماعت کا امیدوار تصور ہوگا، آزاد امیدوار وہی ہوگا جو بیان حلفی دے گا کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، سنی اتحاد میں شامل ہونے والوں نے خود کو کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی امیدوار ظاہر کیا، کاغذات بطور پی ٹی آئی امیدوار منظور ہوئے اور لوگ منتخب ہوگئے، الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟ انتخابی نشان ایک ہو یا نہ ہو وہ الگ بحث ہے لیکن امیدوار پارٹی کے ہی تصور ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کل سے میں یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس حساب سے تو سنی اتحاد میں پی ٹی آئی کے کامیاب لوگ شامل ہوئے،پارٹی میں تو صرف آزاد امیدوار ہی شامل ہو سکتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کس بنیاد پر امیدواروں کو آزاد قرار دیا تھا؟الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو خود آزاد تسلیم کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کرنا اس سارے تنازع کی وجہ بنا، سپریم کورٹ نے انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، انتخابی نشان کا مسئلہ خود الیکشن کمیشن کا اپنا کھڑا کیا ہوا تھا،الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیکر اپنے کھڑے کیے گئے مسئلے کا حل نکالا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہونے پر سیاسی جماعت کو نشان نہیں ملا،کیا کسی امیدوار نے بلے کے نشان کیلئے رجوع کیا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو درخواست دی گئی مسترد ہونے پر آرڈر چیلنج بھی کیا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان صرف سیاسی جماعت کی سہولت کیلئے ہے، انتخابی نشان کے بغیر بھی سیاسی جماعت بطور پارٹی الیکشن لڑ سکتی ہے،

    جو انتخابی نشان سیاسی جماعت کیلئے مختص ہو وہ کسی اور امیدوار کو نہیں مل سکتا، جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا، قانونی غلطیوں کی پوری سیریز ہے جس کا آغاز یہاں سے ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے خود کو پی ٹی آئی امیدوار قرار دینے کیلئے رجوع کیا تھا، الیکشن کمیشن نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست مسترد کر دی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہر امیدوار اگر بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی امیدوار ہوتا تو یہ سپریم کورٹ فیصلے کی خلاف ورزی ہوتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جو انتخابی نشان سیاسی جماعت کیلئے مختص ہو وہ کسی اور امیدوار کو نہیں مل سکتا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ بلے باز بھی کسی سیاسی جماعت کا نشان تھا جو پی ٹی آئی لینا چاہتی تھی،بلے باز والی جماعت کیساتھ کیا ہوا تھا؟ وکیل نے کہا کہ بلے باز والی جماعت کیساتھ انضمام ختم کر دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے میں لکھا ہے کہ بلے کا نشان کسی اور کو الاٹ نہیں ہوسکتا؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں ایسا کچھ نہیں لکھا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کو ایسا کہنے کی ضرورت تھی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کہنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ نشان کسی اور کو نہیں مل سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس انتخابی نشان کا نہیں انٹرا پارٹی انتخابات کا تھا، عدالت نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر کہا تھا کوئی ایشو ہوا تو رجوع کر سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت مضبوط توجیہات ہیش کی جا رہی ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے کے بعد بلے کے نشان کو ختم کیا گیا تھا یا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جسٹس منیب کے مطابق بلے کے نشان ختم ہونے کے باجود امیدواروں نے پی ٹی آئی امیدواروں کے طور پر الیکشن لڑا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سر یہ ہی ہم کرنا چاہتے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے ختم کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کرنا چاہتے تھے کیا مطلب، ؟ وکیل نے کہا کہ میں سنی اتحاد کونسل کے ہر ممبر کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل اختلاف آسکتا ہے وہ کہیں ہمارے ممبرز ہیں یہ کہیں ہمارے،

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحادکونسل نے شیڈول کے مطابق مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، الیکشن کمیشن نے درخواست مستردکرتے ہوئےکہا سنی اتحاد کونسل نےانتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ اس میں کوئی تنازع نہیں کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات نہیں لڑے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تنازع کی بات کیوں کررہے ہیں، بس کہیں الیکشن نہیں لڑا،جو امیدوار ہمارےسامنے نہیں جن کی آپ نمائندگی کررہے ہیں وہ تو سب تحریک انصاف کے ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار تو آپ کو چھوڑ رہے ہیں، آپ کی پارٹی میں نہیں آرہے، تحریک انصاف کے امیدوارتوپھرآزاد نہ ہوئے۔

    ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتے سارے مسئلے حل ہو جاتے،چیف جسٹس
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ تحریک انصاف کے امیدوار انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑسکتے تھے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے امیدواروں کوکس بنیاد پرانتخابی نشان دیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابی نشان دیا اور بطور آزاد امیدوار شناخت دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتے سارے مسئلے حل ہو جاتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اصل اسٹیک ہولڈر ووٹر ہے جو ہمارے سامنے نہیں، پی ٹی آئی مسلسل شکایت کر رہی تھی لیول پلئنگ فیلڈ نہیں مل رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ شکایت ہمارے سامنے نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں، ہمیں دیکھنا ہے ووٹرز کے حقوق کا تحفظ کیسے ہو سکتا تھا، ایک جماعت مسلسل شفاف موقع نہ ملنے کا کہہ رہی تھی اور یہ پہلی بار نہیں تھا،

    دلائل آگے بڑھائیں ورنہ آپس میں ہی تنقید ہوتی رہے گی، جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایوان کو نشستوں کی مقرر کردہ تعداد سے کم رکھا جا سکتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایوان کی مختص تمام نشستیں پوری ہونا لازمی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ
    متناسب نمائندگی کے نام پر ڈراماٹائز کرنے کی ضرورت نہیں،مخصوص نشستوں پر تو پارٹی سربراہ کی صوابدید ہے چاہے دوستوں کو نواز دے،مخصوص نشستوں میں ووٹرز کا کوئی کردار نہیں ہوتا یہ پارٹی سربراہ مقرر کرتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق لسٹ سیاسی جماعت نے دینی ہوتی سربراہ نے نہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا حوالہ دیا اور کہا کہ بظاہر پی ٹی آئی امیدواروں نے پارٹی تبدیل کی، پارٹی تبدیل کرنے پر آرٹیکل 63 اے والا فیصلہ موجود ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی سے متعلق ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دلائل آگے بڑھائیں ورنہ آپس میں ہی تنقید ہوتی رہے گی،

    عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی انتخابات ہوتے تو فائدہ پی ٹی آئی کے لوگوں کا ہوتا،جمہوریت کی بات کرنی ہے تو پوری جمہوریت کی بات کریں، عوام کو جماعت میں شامل کرتے ہیں تو ارکان کا حق ہے کہ وہ الیکشن لڑیں،عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،آپ نے اس بات کو چھیڑا ہے تو پوری بات کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس کیس پر نظرثانی زیرالتواء ہے کیا سب کچھ یہاں ہی کہنا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم سب سچ بولنا شروع کریں تو سچ بہت کڑوا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں حاصل کی گئی سیٹوں پر ملتی ہیں ووٹوں پر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی میں شمولیت کیلئے جماعت کا اسمبلی میں ہونا لازمی نہیں؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسمبلی میں حاصل کی گئی سیٹوں پر الاٹ ہوتی ہیں، قانون میں نشستیں حاصل کرنے کا ذکر ہے جیتنے کا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایوان میں زیادہ آزاد امیدوار ہوں اور دو سیاسی جماعتیں ہوں تو کیا ہو گا؟ کیا ساری مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں کو جائیں گی؟ یاان جماعتوں کو صرف اپنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی؟پہلے اس تنازعے کو حل کریں اس کا کیا جواب ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حقیقی آزاد امیدوار ہوں تو ان کے تو مزے ہو جائیں گے، حقیقی آزاد امیدواروں کو تو دیگر سیاسی جماعتیں لے لیتی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر یہ 77 لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا؟

    کیس کی سماعت 24جون کو ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 24اور 25کو پورے دو دن کیس کی سماعت کرینگے، ان دو دنوں میں کوئی اور کیسز نہ لگائے جائیں،

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل