Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عافیہ صدیقی کے ساتھ  امریکی جیل میں جنسی زیادتی کاایک اور واقعہ

    عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکی جیل میں جنسی زیادتی کاایک اور واقعہ

    امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل کلاؤ اسٹیفورڈ اسمتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی جیل میں ایک بار پھر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کی فورٹ ورتھ جیل میں قید ہیں، انکے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ہفتے قبل جیل کے ایک گارڈ نے عافیہ صدیقی کے ساتھ زیادتی کی ہے،عافیہ صدیقی کے وکیل کلاؤ اسٹیفورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ ” امریکا کی فورٹ ورتھ جیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے”۔

    کلاؤ اسٹیفورڈ اسمتھ نے جیل میں ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی ہے، ملاقات کے بعد نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے وکیل کلاؤ اسٹیفورڈ اسمتھ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی جیل میں مشکل میں ہیں، انکے ساتھ جنسی زیادتی کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، بلکہ انکے ساتھ جیل میں مسلسل جنسی زیادتی کی جا رہی ہے،وکیل کلاؤ اسٹیفورڈ اسمتھ کی جمعرات اور جمعہ کو جیل میں قید عافیہ سے دو ملاقاتیں ہوئی، ان ملاقاتوں کے وقت شیشے کی دیوار حائل تھی، فون پر بات چیت ہوئی تاہم آواز صاف نہیں تھی، جس پر وکیل کلاؤ اسٹیفورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ ہم نے تقریبا چیخ چیخ کر بات کی،فون کی خرابی سے متعلق جیل حکام سے شکایت کی اور دو دنوں کے بعد دوسرا فون دیا گیا، اتوار کو ڈاکٹر عافیہ سے ان کی بہن فوزیہ کی ملاقات ہوئی تو عافیہ زار و قطار رو رہی تھیں” ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں کافی پرامید ہوں، پیش رفت ہورہی ہے، کل واشنگٹن میں کچھ لوگوں سے ملاقاتیں ہیں، نام نہیں بتا سکتا، وہ لوگ وائٹ ہاؤس کو ڈاکٹر عافیہ کے سلسلہ میں آگاہی دیں گے”۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

  • توہین عدالت کیس،مصطفیٰ کمال نے معافی مانگ لی

    توہین عدالت کیس،مصطفیٰ کمال نے معافی مانگ لی

    توہین عدالت کیس، ایم کیو ایم کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی

    ایم کیو ایم رہنما سید مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بیان حلفی جمع کرا دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ” اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا دل سے احترام کرتا ہوں، عدلیہ اور ججز کے اختیارات اور ساکھ بدنام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، عدلیہ سے متعلق اپنے بیان پر بالخصوص 16 مئی کی پریس کانفرنس پر غیرمشروط معافی چاہتا ہوں، معزز عدالت سے معافی کی درخواست اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں”۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر  ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    پاکستانی نیوز رپورٹنگ کا معروف نام، مبشر لقمان، صحافت کے مستقبل میں ایک انقلابی قدم اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی جدت متعارف کرائی ہے جو پہلے کہیں نظر نہیں آئی – ایک مصنوعی ذہانت سے چلنے والا جوہر جو جغرافیائی حدود اور زبان کی رکاوٹوں سے بالاتر ہے۔ اس انقلابی ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں نیوز کے استعمال کو نئے سرے سے متعارف کرانے کی صلاحیت ہے۔

    زبان کی رکاوٹ توڑنا:
    مبشر لقمان کا اے آئی اوتار تقریبا 100 زبانوں میں خبریں دینے کی قابل ہے جو ایک قابل ذکر صلاحیت ہے۔ یہ روایتی نیوز نشریات کی حدود کو توڑتا ہے، جس سے معلومات پہلے سے کہیں زیادہ وسیع تر لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ تصور کریں ایسی دنیا کا جہاں افریقہ کے دور دراز کے دیہات، چین کے پررونق شہر، یا اس کے درمیان کہیں بھی، دیکھنے والے اپنی مادری زبان میں نیوز اپڈیٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ مبشرلقمان کا اوتار اس خلا کو پورا کرتا ہے، اور ایک زیادہ جامع اور باخبر عالمی شہریت کو فروغ دیتا ہے۔ اپنی مادری زبان میں خبریں حاصل کرنے کی صلاحیت نہ صرف سمجھ بوجھ کو بہتر بناتی ہے بلکہ رپورٹ کی جانے والی کہانیوں کے ساتھ جذباتی رشتے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔

    جغرافیائی حدود سے آگے:
    اس اوتار کی صلاحیت زبان سے کہیں آگے ہے۔مبشر لقمان ایسے مستقبل کا تصور کرتے ہیں جہاں یہ دنیا میں کہیں سے بھی رپورٹ کر سکتا ہے، جس سے جسمانی سفر کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ تصادم زدہ علاقوں، آفت زدہ علاقوں، یا یہاں تک کہ محدود رسائی والے دور دراز کے مقامات سے حقیقی وقت کی رپورٹنگ کے لیے دروازے کھولتا ہے۔ تصور کریں کہ یہ اوتار ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے رپورٹ کر رہا ہے، جنگ زدہ علاقے سے براہ راست اپڈیٹس فراہم کر رہا ہے، یا ایمیزون کے بارش کے جنگل کے قلب سے زمینی رپورٹس فراہم کر رہا ہے۔ اوتار ناظرین کو کہانی کے مرکز میں لے جا سکتا ہے، ایک ایسا دلچسپ اور بغیر فلٹر والا نقطہ نظر پیش کر سکتا ہے جو انسانی صحافیوں کے لیے حاصل کرنا مشکل یا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

    نیوز کے استعمال کا مستقبل:
    مبشر لقمان کا AI اوتار ایک ایسے مستقبل کی طرف ایک جرات مندانہ قدم ہے جہاں خبریں قابل رسائی، فوری، اور سرحدوں کو عبور کرتی ہیں۔ اگرچہ چیلنجز اور سوالات باقی ہیں، یہ اختراع معلومات کو جمہوری بنانے اور خبروں کے استعمال کے طریقے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی پختہ ہوتی جارہی ہے اور اخلاقی تحفظات پر توجہ دی جاتی ہے،مبشر لقمان کا اوتار ڈیجیٹل دور میں خبروں کی رپورٹنگ کے جوہر کی نئی وضاحت کرسکتا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا بھر کی دیگر نیوز آرگنائزیشنز اس پیشرفت پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں اور کیا وہ اسی طرح کے AI سے چلنے والے ٹولز کو اپنی نشریات میں شامل کرنے کی تلاش کریں گی۔ ایک بات یقینی ہے: مبشر لقمان کی اختراع میں آنے والے برسوں تک عالمی خبروں کے منظر نامے کو نئی شکل دینے کی صلاحیت ہے۔

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم ،عمران خان، قریشی بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم ،عمران خان، قریشی بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور شاہ محمود کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کر دیا.اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔محفوظ فیصلہ اسلام ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سنایا،عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں رہا کرنے کا حکم دے دیا،

    سائفر کیس فیصلہ سے قبل ، کمرہ عدالت میں پولیس اہلکاروں نے روسٹرم کے سامنے حصار بنا لیا تھا ، تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان، شعیب شاہین و دیگر کمرہ عدالت میں موجود تھے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے. عامر ڈوگر نے عدالت میں موجود رہنمائوں و کارکنان کو ہدایت کی کہ سائفر کیس کے فیصلے کے وقت عدالت میں کوئی نعرے بازی نہیں کرنی ،

    عدالتی فیصلے کے بعد بھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی رہائی ممکن نہیں، عمران خان کو دوران عدت نکاح کیس میں بھی سزا ہو چکی ہے جبکہ شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، لاہور پولیس نے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری 25 مئی کو اڈیالہ جیل میں ڈالی تھی،بعد ازاں عدالت نے شاہ محمود قریشی کا ریمانڈ دیا تھا، لاہور کی جے آئی ٹی کی پانچ رکنی تفتیشی ٹیم 26 مئی کو اڈیالہ جیل آئی تھی،عمران خان پر بھی نومئی کے مقدمے ہیں

    بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کا مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مختصر فیصلہ جاری کیا،جس میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی سزا کیخلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کا 30 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری قرار دیا جاتا ہے،اگر کسی دوسرے کیس میں قید نہیں تو بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور حامد علی شاہ عدالت میں پیش نہ ہوئے،معاون پراسیکیوشن نے کہا کہ حامد علی شاہ راستے میں ہیں،20منٹ دے دیں وہ آجائیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ہم آپ کے لئیے یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں،میں نے آج ریگولر ڈی بی اسی لئیے کینسل کر دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہو گئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ حامد علی شاہ صاحب کہاں ہیں؟معاون پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ صاحب معروف اسپتال میں ہیں میری ابھی ان سے بات کوئی ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسٹیٹ کونسل عبد الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے آپ نے کوئی ایسا ٹرائل کنڈکٹ کیا ہے،آج آرام سے تیار کر کے ہمیں دے دیں،آپ نے ابھی تک کونسا کرمنل کیس کا ٹرائل کیا ہے ،ان کیسز کی لسٹ دے دیجیے گا ،کیس ٹائٹل کس کورٹ میں تھا تاکہ ہم اسکو ویرفائی کر سکیں،

    اعظم خان نے سائفر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو دیا، اس سے متعلق کوئی دستاویز موجود نہیں،وکیل
    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ ہم نے 342 میں گناہ تسلیم کیا ہے، سیکریٹریٹ رولز کے مطابق اعظم خان جوابدہ ہیں ان سے پوچھا جانا چاہیے ،سکریٹریٹ رولز کا ذکر حامد علی شاہ نے یہاں نہیں کیا، سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ کی مختلف عدالتی نظریوں کا حوالہ دیا گیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے سائفر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو دیا، اس سے متعلق کوئی دستاویز موجود نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر وصولی سے متعلق تو آپ کےموکل کا اپنا اعتراف بھی موجود ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ تو پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بات ثابت کریں، قانون بڑا واضح اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں ،پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنے کی ذمہ داری پوری کرنی ہے،اگر 342 کا بیان لینا ہے تو مکمل بیان کو لیا جائے گا ،ٹکڑوں میں بیان نہیں لے سکتے ،رات 12 بجے تک سماعت ہو ئی، صبح8 بجے سابق پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے ،جب 342 کا بیان ریکارڈ ہو ا،اس دن فیصلہ بھی سنا دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد دلائل دیے گئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ 2کونسلز جنہوں نے ٹرائل کورٹ میں جرح کی انہوں نے کبھی کرمنل کیس لڑا ہے، اگر انہوں نے کیسز لڑے ہیں تو تمام کیسز کی لسٹ تیار کر کے عدالت میں جمع کروا دیں،

    سائفر کی 9کاپیاں واپس نہیں آئی تھیں،تو پہلے انکوائری شروع کیوں نہیں کی گئی،وکیل
    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم نے سائفریا دشمن ملک کو دے دیا،اپنے پاس رکھا یا اسکو رٹین کر دیا پراسیکیوشن کوئی ایک بات کرے،اگر برآمدگی نہیں ہوئی تو پھر یہ چارج کیسے لگ گیا،عمران خان کی حد تک یہ جرم اپلائی بھی نہیں کرتا،جب سائفرشفٹ کیا گیا اسکا کوئی ثبوت عدالت میں لیکر نہیں آئے،9کاپیاں واپس نہیں آئی تھیں،تو پہلے انکوائری شروع کیوں نہیں کی گئی،ہمیں کسی ایک کے بارے میں انکوائری دکھا دیں،جو 8 کاپیاں لیٹ آئیں انکے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی،جب ثبوت کو ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو 201 لگتی ہے سائفر تو انکے پاس موجود ہے، سلمان صفدریہ صرف سیاسی انتقام ہے،سائفر تو ان لوگوں کے پاس موجود ہے تو پھر کیوں نہیں لائے,تین چیزوں کو میں عدالت میں بیان کرنا چاہتا ہوں ،تین چیزیں عدالت میں پیش نہیں کی گئی سائفر ڈاکومنٹ نہیں آیا ، سائفر کا کانٹینٹ اور سائفر بک لیٹ ٹرائل کورٹ میں پیش کی گئی، سائفر سے متعلق بک لیٹ راجہ رضوان عباسی نے ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں کی اور شاہ صاحب ہائیکورٹ میں لے آئے ،

    ایف آئی اے پرسکیوٹر ذالفقار علی نقوی کمرہ عدالت پہنچ گئے

    عدالت میں کسی مخصوص ملک کا نہیں بتایا گیا جس کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے،وکیل
    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ حامد علی شاہ گزشتہ تین سماعت پر موجود نہیں تھے،مزید ثبوت جمع کروانے کے متفرق درخواست بھی مسترد کی گئی ، حامد علی شاہ نے ڈیڑھ ماہ عدالت میں دلائل دیتے رہے ہیں ، ثبوت بعد میں لائے گئے اس کا مطلب کے ہم کیس ثابت نہیں کر سکے،عدالت نے کئی سوالات پوچھے شاہ صاحب نے کہا اس کا جواب بعد میں دوں گا اب شاہ صاحب عدالت میں ہی نہیں ،اعظم خان خود کہتے ہیں کہ سائفر گم ہو گیا ہے،دفتر خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے،اعظم خان نے اپنے بیان میں بتایا ملٹری سکریٹری، اے ڈی سی اور دفتر کا سٹاف ڈھونڈتا رہا،دفتر خارجہ کو آگاہ کرنے کے بعد آئی بی نے انکوئری کرنی تھی جو نہیں کی گئی،میری استدعا ہے کے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو تمام چارجز سے ڈسچارج کیا جائے۔جس سورس سے آیڈیوز،ویڈیوز آتی ہیں اسکی آئی پی ایڈریس ٹریس نہیں ہوئی،عدالت میں کسی مخصوص ملک کا نہیں بتایا گیا جس کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے،جب ہم ضمانت پر ائے تو انہوں نے کہا ضمانت کا حق حاصل نہیں ،پھر ہم اپیل میں گئے وہاں بھی کہا گیا اپیل کا حق بھی نہیں مل سکتا،نقوی صاحب نے کہا ان کو کھانسی آتی تھی درخواست دیتے تھے، یہ بات درست ہے ہم نے 55 درخواستیں دیں،جج صاحب نے کام ہی ایسا کیا کیا کرتے،آخر میں آ کر کہتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ کیس واپس بھیجا جائے تا کہ غلطیاں ختم کی جائیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس بات کو چھوڑیں ہم جانیں پراسیکیوشن جانے،ٹرائل کورٹ میں جو پہلے دو راؤنڈ تھے اس میں جرح آپ نے کی تھی ناں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی جی بلکل ایسا ہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر پراسیکیوشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کیس کو ٹرائل کورٹ واپس بھیج دیں اس میں خامیاں ہیں،سلمان صفدر صاحب! آپ اس پر کیا کہنا چاہتے ہیں وہ بتا دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج ہمیں اس کیس میں 3 ماہ ہو گئے ہیں، ہر کیس کہ ایک اسٹیج ہوتی ہے ہم اس سے بہت آگے بڑھ چکے ہیں ، 2 بار کیس ریمانڈ بیک ہوچکا تیسری بار کیس ریمانڈ بیک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ، عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے پراسکیوٹر ذولفقار علی نقوی صاحب کی جانب سے کہا گیا کیس کو میرٹ پر نہیں سنا جا سکتا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم آپ سے قانونی طور پر معاونت چاہتے ہیں ،

    دس سال کے لئے کسی کو جیل میں رکھنا صرف اس پر ہو سکتا ہے کہ تعلقات "خراب ہو سکتے تھے،عدالت
    سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہونے پر ایف آئی سے پراسیکیوٹر ذولفقار عباس نقوی نے دلائل کا آغاز کر دیا۔دلائل کے آغاز میں ہی چیف جسٹس عامر فاروق ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذولفقار عباس نقوی پر شدید برہم ہو گئے،عدالت نے کہا کہ آپ خالی یہ کہہ رہے ہیں "تعلقات خراب ہو سکتے تھے” قانون کی منشا یہ نہیں ، آپ نے کسی کو سزائے موت دینی ہے ،دس سال کے لئے کسی کو جیل میں رکھنا صرف اس پر کیا ہو سکتا ہے کہ تعلقات "خراب ہو سکتے تھے” ،عدالت نے اسپیشل پراسکیوٹر کو ہدایت کی کہ فائیو ون سی پڑھیں آپ کا کیس یہ ہے ، جان بوجھ کر سائفر عمران خان نے اپنے پاس رکھی اس سے متعلق بتائیں ، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی سائفر عوام کے سامنے لایا، سائفر ایک کلاسیفائیڈ دستاویز ہے، سابق وزیراعظم نے سائفر کا کنٹینٹ بھی پبلک کیا جس سے مختلف ممالک سے تعلقات خراب ہوئے ، گواہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بار بار کہا گیا سائفر کاپی کے ساتھ یہ نا کریں ، 342 کے بیان میں بانی پی ٹی آئی مان رہے ہیں ، عدالت نے کہا کہ اگر وہ کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں جان بوجھ کر کر رہے ہیں ، آپ نے ثابت کرنا ہے ، عدالت نےاسپیشل پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ یہ کہنا کہ "یہ نا کرو” یہ الگ چیز ہے آپ نے رولز دیکھنے ہیں،کس نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی کو رولز کے مطابق ڈائریکشن دی ؟ اسپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ وہ سائفر کاپی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے ، عدالت نے کہا کہ یہ تو رولز ہیں کوئی الگ سے قانون تو نہیں ، سپریم کورٹ کا قانون واضع ہے جہاں ملزم تسلیم بھی کر لے تو پراسیکوشن نے ثابت کرنا ہے ،اگر آپ کاپی ٹرائل کورٹ کو دیکھا دیتے تو پھر پراسیکوشن کا کیس بن سکتا تھا ، پتہ تو چلتا جو افسانہ ہے وہ افسانہ ہے کیا ؟کورٹ کے اندر کلاسیفائیڈ نہیں ہوتا ، کورٹ میں قانون کے طریقہ کار بتا دیا ہے کلاسیفائیڈ کو ڈیل کیسے کرنا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے مانا ہے یا نہیں آپ اس کو چھوڑیں آپ نے اسکو ثابت کرنا ہے،کیا وزیراعظم کو بتایا گیا تھا اس ڈاکومنٹ کو واپس کرنا ہے، سائفر کو جو کنٹینٹ ہے وہ عدالت کو بتانا چاہیے تھا ناں، کورٹ میں کوئی دستاویز کلاسیفائیڈ نہیں ہوتی، جس چیز کا ہمیں پتہ ہی نہیں ہم نے دیکھا ہی نہیں اس پر ہم کیا کریں ،پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا چارج ہے اس میں انفارمیشن لیک کی گئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کونسی انفارمیشن لیک کی گئی ، شاہ صاحب دنیا گول ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے پرسکیوٹر سے استفسار کیا کہ تیس جنوری کو سزا سنائی گئی، آپ نے کتنی دیر دلائل دیے تھے،پراسکیوٹر نے کہا کہ تھوڑی دیر دلائل دیے ،عدالت نے کہا کہ تھوڑی دیر کیا مطلب چار گھنٹے 15 منٹس؟ پراسکیوٹر نے کہا کہ ایک گھنٹہ میرے خیال سے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ 11:30 پر 342 کا بیان ریکارڈ ہوا 2 بجے فیصلہ آ گیا ،342 بیان ریکارڈ کرنے کے ایک ڈیڑھ گھنٹے کے اندر 70 صفحات پر مشتمل فیصلہ آ گیا،ہم اپنے فیصلے میں لکھیں گے کہ بہت اچھا ٹرائل ہوا ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر ٹرائل ٹھیک نہیں ہوا تو ریمانڈ بیک کر دیں ، عدالت نے کہا کہ تین مہینے آپ کو اور سلمان صفدر کو سنا اب ہم واپس کیسے بھیج سکتے ہیں کوئی دلائل ہے آپ کے پاس، آپ بھی پراسیکیوشن تھے عدالت کو بتانا چاہیے تھا ٹیک اٹ ایزی ،فائیو ون سی کا تقاضا پورا کیا یا نہیں ؟ وہ بتائیں ،مجھے جو سمجھ آتی ہے آپ نے تقاضا پورا نہیں کیا ،پراسیکوشن نے کہاں ثابت کیا ہوا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے ؟آپ نے ایک پری written ججمنٹ لکھی ہوئی ہے یہ کوئی طریقہ نہیں ،ایک اسٹیج پر حامد علی شاہ صاحب نے کہا تھا ہم ٹرائل کا دفاع کریں گے ، ہم لکھیں گے یہ آئیڈیل ٹرائل تھا اس سے بہتر ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا تھا ،ساڑھے تین ماہ سن سن کر اب تو میرے اسٹاف کو بھی یاد ہو گیا ہو گا ،

    بنچ اٹھ کر چیمبر چلا گیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم دس پندرہ منٹ میں واپس آرہے ہیں ، کیا دنیا میں کوئی justify کر سکتا ہے کہ دوپہر کو 342 کا بیان مکمل ہوتا ہے اور 77 صفحے کا فیصلہ آجاتا ہے ، آپ بھی کہہ سکتے تھے آپ نے بھی غیر معمولی جلدی تیزی دیکھائی ،

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاتھا جو اب سنا دیا گیا ہے.

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،عمران خان، شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کورٹ نے کتنی سزا سنائی تھی؟
    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا تھا، اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی تھی اور سائفر کس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمو د قریشی کو سزا سنائی تھی، سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی تھی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ: سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 13 ججز پر مشتمل فل کورٹ نے سماعت کی،جسٹس مسرت ہلالی طبیعت ناسازی کے باعث فل کورٹ کا حصہ نہیں ہیں ،سلمان اکرم راجہ اور فیصل صدیقی ایڈوکیٹ روسٹرم پر آگئے ، فیصل صدیقی نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم نامہ پڑھ کر سنایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوئی تنازع نہیں، کیونکہ وہاں ہماری کوئی نمائندگی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا 2 اپیلیں فائل کی گئی ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی دو اپیلیں ہم نے فائل کی ہیں، ایک میری اور دوسری خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے فائل کی گئی ،ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا ایک کیس عدالتوں میں زیر التوا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کیس ہے تو ایڈووکیٹ جنرل استغاثہ بنتے ہیں، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ توہین عدالت کیس وزیر اعلی ٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کی کارروائی چلتی ہے تو کیا موقف ہوگا؟ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس وزیر اعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک درخواست پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر نے دائر کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواستوں پر سماعت کرتے ہیں اس پر کیا فیصلہ آئے گا وہ دیکھیں گے، سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے کوئی نشست جیتی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی نہیں، سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں جیتی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں اور میرے ساتھی ججز کے سوال نوٹ کر لیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ پارٹی کسی کو نامزد کرے، سرٹیفکیٹ دے اور امیدوار کی بھی خواہش ہے کہ میں اس پارٹی سے آؤں اور الیکشن کمیشن اسے آزاد ڈیکلیئر کر دے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کس کو فریق بنایا گیا تھا اور فائدہ کس کو پہنچا، کس جماعت کو کتنی اضافی نشستیں ملیں وہ بتائیں، یہ بتائیں کہ یہ نشستیں کس کو گئیں؟ واضح ہے نشستیں سیاسی مخالفین کو گئی ہوں گی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں اضافی نشستیں دی گئیں وہی بینیفشری ہیں، مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی کی کتنی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہیں، تفصیل دے دیں؟ فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی کی 55 نشستیں متنازع ہیں،سندھ میں 2 نشستیں متنازع ہیں، ایک پیپلزپارٹی اور دوسری ایم کیو ایم کو ملی جبکہ پنجاب اسمبلی میں 21 نشستیں متنازع ہیں جس میں سے 19 نشستیں ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی اور ایک استحکام پاکستان پارٹی کو ملی، اقلیتوں کی ایک متنازع نشست ن لیگ ، ایک پیپلزپارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا اسمبلی میں 8 متنازع نشستیں جے یو آئی کو ملیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی 5، 5 نشستیں ملیں، ایک نشست خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور ایک عوامی نیشنل پارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا میں 3 اقلیتوں کی متنازع نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں

    مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی مخالفت ،ن لیگ پیپلز پارٹی کی حمایت کر دی
    جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دستاویز کو درخواست میں لگایا ہواہے ،
    آپ کو پارٹی تسلیم کیا گیا وہ آ پ کا تیار کردہ دستاویز ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ دستاویز الیکشن کمیشن کا سرٹیفائیڈ ہے، عدالت نے کہا کہ کیا وہ سرٹیفائیڈ فہرست تھی جو کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر کرے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپنی فہرست دی تھی لیکن اس کو مانا نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا کی نمائندگی یہاں موجود ہے ؟ پیپلزپارٹی کی طرف سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،جے یو آئی کی جانب سے کامران مرتضٰی عدالت میں پیش ہوئے،خصوصی نشستوں سے متعلق کیس میں جے یو آئی نے اپنے وکیل سینٹر کامران مرتضی کے زریعے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے درخواست گزار یعنی پی ٹی آئی کے موقف کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی جماعت جے یو آئی پاکستان ہے یا ف؟کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایف نکل جائے تو کیا حیثیت ہو گی،کامران مرتضیٰ نے کہا کہ کسی بھی پارٹی سے کوئی بھی لیڈر نکل جائے تو حیثیت نہیں ہو گی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا ان جماعتوں نے اپنی نشستیں کتنی جیتی ہیں؟ جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو تمام جماعتوں کی نشستوں کی تفصیل بتادی،مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت کر دی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے سیاسی جماعتیں اضافی مخصوص نشستیں رکھنا چاہتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت آئین کے تحت اضافی مخصوص نشست نہیں لے سکتی،

    سپریم کورٹ میں دوران سماعت بجلی چلی گئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہاں تو اب لاٸٹ بھی چلی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بجلی چلی گٸی تو پھر یہ جنریٹر سے کیوں نہیں آئی؟یہ ٹی وی اور لاٸٹس تو چل رہی ہے،

    دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خطاب نہ کریں، یہ نہ کریں، درخواست دینی ہے تو دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر کو بولنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ”الیکشن کمیشن نے ان ممبران کو آزاد ڈیکلیئر نہیں کیا بلکہ سنی اتحاد کونسل کا ممبر نوٹیفائی کیا ہے” چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ "کیا دیگر جماعتیں آپکی تائیدکرتی ہیں؟”- وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مائی لارڈ ان کو مال غنیمت ملا ہے وہ کیوں ہماری تایئد کریں گے،15دسمبر کو الیکشن شیڈول جاری کیا گیا، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لیا، پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی،کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں 2 دن کا اضافہ کیا گیا، پشاور ہائیکورٹ نے بلے کے نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے کے بعد آرٹیکل 17 کے تحت قائم سیاسی جماعت ختم ہوگئی تھی؟ کیا انتخابی نشان واپس ہونے پر سیاسی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کرسکتی؟ تاثر تو ایسا دیا گیا جیسے سیاسی جماعت ختم ہوگئی اور جنازہ نکل گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے بطور سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لیا؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرٹیکل 218(3) پر فوکس بہت زیادہ رہتا ہے،کیا 17 فروری تک تمام جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوچکا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ کے علاوہ الیکشن کمیشن نے جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا تھا، 2فروری کو الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں دینے کیلئے درخواست جمع کرائی، الیکشن کمیشن نے 22 فروری کو سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا، سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا گیا لیکن مخصوص نشستیں دینے سے انکار کردیا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ درجنوں سیاسی جماعتوں نے کبھی جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے کوئی غلطی بھی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن کو درست کرنا چاہیے تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں کوئی نشست نہیں جیتی تھی،الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی، الیکشن کمیشن کہتا ہے سنی اتحاد الیکشن نہیں لڑی ساتھ ہی پارلیمانی جماعت بھی مان رہا، اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے پی ٹی آئی کی شمولیت ہے تو وہ پہلے ہوچکی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے غلطی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن تصحیح کر سکتا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی سنی اتحاد کو نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کو کبھی بھی انتخابی عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ عوام نے کسی آزاد کو نہیں سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن نے منطق کے بغیر فیصلہ دیا،ایک سیاسی جماعت الیکشن لڑ رہی ہو تو اس سے مخصوص نشستیں کیسے واپس لے سکتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی خود جماعت ہے تو کیس ختم ہوگیا،پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں پھر سنی اتحاد کونسل کیسے لے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،یہ سارا معاملہ عوام کا ہے،عوام سے ان کا حق نہیں لیا جاسکتا،

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فہرستیں جمع کرائیں، لیکن الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سوالات کو چھوڑیں اپنے طریقے سے جواب دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شکر ہے ابھی آپ نے سوال نہیں پوچھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کیخلاف جا سکتا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 218 تین کا حوالہ دینا بہت پسند ہے،

    دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سارا معاملہ عوام کا ہے، ٹیکنکلٹی کے ذریعے عوام کا حق نہیں لیا جاسکتا، الیکشن کمیشن کو یہ غلطی خود درست کرنی چاہئے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل سے کہا کہ کہ آپ مزید بحث کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کیس پر بحث کریں، میں آپ کو ریسکیو کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ ریسکیو ہونا نہیں چاہتے، دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرا خیال ہے فیصل صدیقی صاحب ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں،آپ آگے بڑھیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ ایک غیرذمہ دارانہ بیان ہے،فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا اختیار اور حق حاصل ہے، اس قسم کا بیان تسلیم نہیں کیا جاسکتا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صاحب آگے بڑھیں میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اس قسم کا غیرذمہ دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا،

    ،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،جسٹس جمال مندو خیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ پی ٹی آئی کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ کچھ دیر تک جمع کرا دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن غیر قانونی کام کرے تو کیا ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے مطابق تین روز میں آزاد امیدوار کوئی جماعت چن سکتے ہیں، ہوسکتا ہے چار روز بعد پی ٹی آئی سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئی ہو،شمیولیت صرف آزاد ارکان کر سکتے ہیں،کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے آزاد امیدوار تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ آزاد امیدوار کے طور پر ہی نوٹیفائی ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی نکات کی بنیاد پر عوام کو ڈس فرنچائز نہیں کیا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اب غلطی تسلیم کرتے ہوئے آزاد ارکان کو دوبارہ تین دن کا وقت دیدے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلے کے نشان کو اتنا ہوا بنایا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ گمراہ ہوگئے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا، یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی کی کوئی نشست نہیں تھی،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،آپکے مطابق سنی اتحاد کی کوئی جنرل نشست تھی نہ ہی پی ٹی آئی کی،بلے کے نشان والے فیصلے کو نہ کسی نے پڑھا نہ ہی سمجھا،

    جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بول سکتے ، میرے قلم نے آدھے گھنٹے سے کچھ نہیں لکھا، آپ نے آدھے گھنٹے سے کچھ بھی نہیں لکھوایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں پہلے حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں،آپ کا قلم سوکھنے نہیں دونگا،

    قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ریکارڈ دکھا دیں کس روز پی ٹی آئی نے درخواست کی اور سنی اتحاد کونسل نے منظور کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا تمام ریکارڈ دے دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک کاغذکے ٹکڑے سے کیسے مان لیں کہ سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کی شمولیت ہوگئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں، آزاد امیدوار بھی جماعت میں شامل ہوجائیں تو مخصوص نشستیں دی جانی ہیں ماضی میں ایک قانون آیا تھا کہ مخصوص نشستوں کیلئے الیکشن لڑنا اور پانچ فیصد ووٹ لینا لازم ہے ، وہ قانون بعد میں ختم کر دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا حقیقی پوزیشن یہی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی سارا تنازعہ یہی ہے،الیکشن کمیشن اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کر چکا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نشست حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکشن میں جیتنا ضروری ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت سے بھی نشستیں لی جا سکتی ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں گیا وہاں ایک گھنٹے میں وکیل دلائل مکمل کرتے ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں بھی ججز سوال پوچھ رہے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وقت مقرر کر دیں تو وکلاء اس کے اندر دلائل مکمل کر دینگے، یہ بات کینیڈا کی سپریم کورٹ سے نہیں اپنی بیگم سے سیکھی ہے، بیگم جو وقت مقرر کرتی ہے میں اس سے آگے نہیں جاتا،

    غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ نشستیں خالی چھوڑ دیں نہ آپکو ملیں نہ کسی اور کو،آرٹیکل 51 کے مطابق نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کسی اور کو دینے سے نشستیں خالی چھوڑنا ہی بہتر ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ایسی جماعت جو الیکشن نہ لڑے سیاسی جماعت کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت ہی نہیں تھی تو اس میں شمولیت کیسے ہوسکتی؟سنی اتحاد میں شمولیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا یہ ضروری ہوگا کہ آرٹیکل 51 کی تشریح کیلئے ووٹرز کا حق بھی مدنظر رکھا جائے،اصل حق تو ووٹرز کا ہے باقی تو سب بعد کی باتیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ساری بحث سیاسی جماعتوں کے سیاق و سباق میں ہو رہی ہے،کیا الیکشن کمیشن ووٹرز کے حق کو متاثر کر سکتا ہے؟ غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بلا واپس لیکر کہا بیٹنگ کرو،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ
    بلا جماعت سے لیا تھا بلے بازوں سے نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ امیدوار خود بلے کا نشان مانگ سکتے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو اس نکتے پر لازمی سنیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں ہماری بلے کے بغیر بھی بلے بلے ہوگئی ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی،

    ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایک ٹیکس کیس میں بھی لارجر بنچ بنا ہوا ہے وہ منسوخ کر رہے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کیوں بنائی تھی،پیپلز پارٹی اور تلوار چھین لیے گئے تھے، مسلم لیگ ن کیساتھ بھی یہی ہوا ہے،ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، ایسی صورتحال میں قانون کی تشریح اسی تناظر میں ہی کرنی چاہیے سب کچھ سامنے بھی ہوتا ہے نظر بھی آ رہا ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ حق دار کو اس کا حق واپس کرکے انہیں نشستوں کا دعویٰ کرنے دیا جائے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے لیکن ہر چیز یہاں آتی ہے،کوئی یہاں سے خوش اور کوئی ناراض جاتا ہے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی,عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کیس،عمران خان،قریشی،اسد عمر ودیگر بری

    آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کیس،عمران خان،قریشی،اسد عمر ودیگر بری

    سیشن کور ٹ اسلام آباد، آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی
    عدالت نےسابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو مقدمات سے بری کردیا، سیشن کور ٹ اسلام آباد نے اسد عمر ،علی محمد خان اورمراد سعید کو بھی بری کردیا،جوڈیشل مجسٹریٹ احتشام عالم نے بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف تھانہ گولڑہ میں 2 مقدمات درج تھے،اسد عمر اور علی محمد خان عدالت پیش ہو کر حاضری لگوائی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سب رہنماؤں کو بری کر دیا.

    قبل ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس خان نے 2022 میں تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے حوالے سے تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمات میں عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی بریت کی درخواستوں پر سماعت کی اور رہنماؤں کو مقدمے سے بری کر دیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر لانگ مارچ کے دوران احتجاج اور توڑ پھوڑ کے کیس میں عمران خان، فیصل جاوید، علی نواز اعوان ، سیف اللہ نیازی، زرتاج گل اور اسد عمر کو بری کیا،

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    واضح رہے کہ 2022 میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کیے گئے تھے،مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،پولیس کے مطابق مقدمات تحریک انصاف کے ڈی چوک پر لانگ مارچ پر تھانہ کوہسار میں درج ہوئے ہیں دونوں مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد نے سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان و دیگررہنماؤں کی ایما پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایاجناح ایونیو پر میٹرو اسٹیشن کو آگ لگائی گئی، ایکسپریس چوک پر سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا،درج مقدموں میں لکھا گیا کہ مظاہرین نے پولیس پارٹی پر پتھراؤ کیا، مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کے شیشے توڑے،درختوں کو آگ لگائی، ڈنڈے اٹھا کر آنے والے مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا،

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • غزہ کے مسلمانوں کے قتل عام میں بھارت بھی برابر کا شریک،شواہد سامنے آ گئے

    غزہ کے مسلمانوں کے قتل عام میں بھارت بھی برابر کا شریک،شواہد سامنے آ گئے

    بھارت بھی فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک ہے،بھارت سے اسرائیل جانے والے بحری جہاز جس پر 27 ٹن مہلک ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد تھا کو اسپین نے اپنی بندرگارہ پر لنگر انداز ہونے سے انکار کیا، وہ جہاز اب چنئی سے بحیرہ احمر کے چھوٹے راستے کے بجائے لمبا راستہ اٰختیار کرکے اسرائیل کے اشدود ساحل کے راستے پر ہے

    اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اوپن سیکرٹ نامی صارف نے بھارت سے اسرائیل جانے والے جہاز کی تمام لوکیشنز شیئر کی ہیں، اوپن سیکرٹ کے مطابق کارگو جہاز ڈنمارک سے جسٹرڈ ہے جس کا نام ماریانی ڈینیکا ہے 6 دن قبل تک بھارت سے اسرائیل جانے والے جہاز کا مقام اسرائیلی بندرگاہ اشدود تھا جو غزہ کی پٹی کے بالکل ساتھ ہے .راستے میں جہاز نے پورٹ گرانڈے، کیپ وردے پر لنگر انداز کیا جبکہ اس کو اسپین میں لنگر انداز ہونا تھا تاہم اسپین نے بارودی مواد سے لدے بحری جہاز کو لنگر انداز سے ہونے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ” کہ وہ معصوم شہریوں کے قتل عام میں شریک نہیں ہوسکتا”۔جس کے بعد بھارت سے اسرائیل جانے والا جہاز اسپین میں لنگر انداز ہونے کی بجائے آگے بڑھ گیا

    https://twitter.com/OpenSecrets7Ave/status/1796964856303677502

    اسرائیلی بندر گاہ حیفہ جانے والے جہاز کو اشدود کی طرف موڑ دیا گیا تھا جو رفح،غزہ کے بہت قریب ہے اور جہاں مہاجرین کیمپوں پر بمباری ابھی شروع ہوئی ہے۔ بھارت نے اسرائیل سے 3 ارب ڈالر کا اسلحہ درآمد کیا اور چین اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ اب بھارت اسرائیل کو فلسطین کے خلاف اسلحہ مہیا کر رہا ہے،

    ہسپانوی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ جس جہاز میں بھارتی دھماکہ خیز مواد اسرائیل لے جایا جا رہا تھا اس پر ڈنمارک کا جھنڈا لگا ہوا ہے، جہاز بھارت کے چنئی سے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ جا رہا ہے،ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس کا کہنا ہے کہ اسپین نے ہتھیار لے کر اسرائیل جانے والے جہاز کو ہسپانوی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ جہاز مبینہ طور پر بھارت سے آیا اور 27 ٹن دھماکہ خیز مواد سے لدا ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر کے راستے اسرائیل میں داخل ہونے سے گریز کیا ہو جہاں یمن کے حوثیوں کا قبضہ ہے۔یہ پہلی بار ہے جب ہم نے ایسا کیا ، ہم نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی کھیپ لے جانے والے جہاز کا پتہ لگایا ہے جو ہسپانوی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونا چاہتا تھا،

    بھارت اسرائیل ہتھیاروں کا گٹھ جوڑ

    ایل پیس اخبار کے مطابق ڈنمارک کے جھنڈے والا جہاز 27 ٹن دھماکہ خیز مواد ہندوستان کے مدراس ،چنئی سے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ جا رہا ہے،بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے، جن میں سے کچھ مشرقی اور وسطی بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں استعمال ہوتے ہیں۔پچھلے 10 سالوں میں، بھارت نے مبینہ طور پر اسرائیل سے 2.9 بلین ڈالر کا فوجی سازوسامان درآمد کیا ہے۔ جس میں جنگی ڈرون، میزائل، ریڈار اور دیگر نگرانی کے نظام شامل ہیں۔ بھارت اور اسرائیل نے 1992 میں سفارتی تعلقات کو معمول پر لایا لیکن نئی دہلی کو تل ابیب کی فوجی برآمدات 1960 کی دہائی سے ہیں۔

    اسرائیل نے چین اور پاکستان کے خلاف جنگوں میں بھارت کی مدد کی ہے،۔ ایلبٹ سسٹمز، جو اسرائیل کی سب سے بڑی فوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے 2018 میں ہندوستانی گروپ اڈانی گروپ کے ساتھ مل کر جنوبی ہندوستان میں ا 900 ڈرون بنانے کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جو اسرائیل کو اپنے استعمال کے لیے واپس برآمد کیے جاتے ہیں۔ان میں سے کچھ قاتل ڈرون مبینہ طور پر بھارت نے غزہ پر جاری حملے میں اسرائیل کو بھیجے ہیں۔

    ایک سال میں 16 خواتین قتل،کاروکاری کے پانچ،گمشدگی کے سات کیس رپورٹ

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • اسلام آباد،ویتنام کے سفیر کی لاپتہ اہلیہ کو تلاش کر لیا گیا

    اسلام آباد،ویتنام کے سفیر کی لاپتہ اہلیہ کو تلاش کر لیا گیا

    پاکستان میں موجود ویتنام کے سفیر کی اہلیہ اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئی تھیں جن کو تلاش کر لیا گیا ہے

    4 گھنٹوں میں اسلام آباد پولیس نے ویتنام کے سفیر کی اہلیہ ٹریس کرلی۔ سیف سٹی کیمروں اور سیلولر ٹیکنالوجی کی مدد سے 7 ٹیمیں اس پر کام کر رہی تھیں۔خاتون کو ان کے شوہر کے ہمراہ گھر روانہ کردیا گیا۔ سفیر کی اہلیہ ایف نائن پارک میں بیٹھی ہوئی تھی۔

    قبل ازیں ویتنام کے سفیر نے پولیس ہیلپ لائن ون فائیو پر اہلیہ کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی،ترجمان اسلام آباد پولیس نے ون فائیو پر ویتنام کے سفیر کی کال کی تصدیق کی ہے،ویتنام کے سفیر نے پولیس کو بتایا کہ اہلیہ دن گیارہ بجے واک کیلئے نکلی تھی اور کہا تھا کہ بیوٹی پارلر بھی جائیں گی،وہ ابھی تک گھر واپس نہیں پہنچی،اہلیہ جاتے ہوئے موبائل فون اور پرس بھی گھر چھوڑ گئی ہیں ،واقعہ ایف ایٹ میں پیش آیا ہے،پولیس کے مطابق سفیر کی اہلیہ بیوٹی پارلر پہنچی ہی نہیں، خدشہ ہے کہ وہ کسی دوست کے گھر گئی ہوں گی.

    ترجمان اسلام آباد کے مطابق پولیس نے شکایت ملنے پر سفیر کی اہلیہ کی تلاش شروع کردی تھی، پاکستان میں ویتنام کے سفیر کی اہلیہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات پر پولیس کے اعلی حکام ویتنام کے سفیر کی اہلیہ کو تلاش کرنے کے لئے سرگرم ہو گئے تھے.

  • سپریم کورٹ کی انسداد اسمگلنگ ایکٹ 1977 میں ترمیم کی سفارش

    سپریم کورٹ کی انسداد اسمگلنگ ایکٹ 1977 میں ترمیم کی سفارش

    سپریم کورٹ نے انسداد اسمگلنگ ایکٹ 1977 میں ترمیم کی سفارش کر دی

    سپریم کورٹ نے انسداد سمگلنگ ایکٹ 1977 جائزے کیلئے پارلیمنٹ کو بھجوا دیا سپریم کورٹ نے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن، سیکرٹری قانون کو بھجوانے کا حکم دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے کی کاپی اٹارنی جنرل کو بھی بھجوا دی،سپریم کورٹ کا 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اے این ایف نے 1998 میں شکایت درج کرائی کہ عبید خان نامی شخص نے جائیداد سمگلنگ سے بنائی ہے، انسداد اسمگلنگ ایکٹ میں اے این ایف کا کردار صرف سپیشل جج کو اطلاع دہندہ کا ہے، ملزمان کا موقف سامنے آنے کے بعد معاملہ جج اور ملزمان کے درمیان رہ جاتا ہے،انسداد سمگلنگ ایکٹ کے تحت جج کو اطلاع دینے کے بعد شکایت کنندہ کا کردار ختم ہو جاتا ہے،اے این ایف کا کردار شکایت کے بعد ختم ہونے پر وہ فیصلے سے متاثرہ فریق نہیں ہوگا، انسداد سمگلنگ ایکٹ میں اے این ایف یا ریاست کو اپیل کا کوئی حق نہیں دیا گیا،انسداد اسمگلنگ ایکٹ میں اپیل کا حق صرف متاثرہ فریق یعنی ملزمان کو ہی ہے،پشاور ہائیکورٹ نے اے این ایف کی اپیل متاثرہ فریق نہ ہونے پر ہی خارج کی،دنیا بھر میں ریاست اور حکومت کو انسداد سمگلنگ قانون میں اپیل کا حق دیا گیا ہےمناسب ہوگا کہ پارلیمان قانون کا جائزہ لے تاکہ ریاست کو اپیل کا حق دیا جا سکے

    پی آئی اے کا ایک اور کارنامہ،میت اسلام آباد چھوڑ کر لواحقین کوسکردو پہنچا دیا

    پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اے کا جون سے یورپ اور برطانیہ کا آپریشن شروع کرنے کا امکان

    (پی آئی اے) کی نجکاری کا دوسرا اور انتہائی اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل

    پی آئی اے کی نجکاری سب سے پہلے ہو گی،وفاقی وزیر خزانہ

    پی آئی اے نے پچھلے پانچ سالوں میں پانچ سو ارب کا نقصان کیا، علیم خان

    عمان میں ہنگامی لینڈنگ کرنیوالے پی آئی اے طیارے کی فنی خرابی دور نہ ہوسکی،مسافر منتظر

    وزیراعظم نے پی آئی اے کی نجکاری پر عمل درآمد کیلئے حتمی شیڈول طلب کر لیا

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئ

  • وزیراعظم کا حکم ہوا میں،پٹرول 15 کی بجائے 4 روپے سستا

    وزیراعظم کا حکم ہوا میں،پٹرول 15 کی بجائے 4 روپے سستا

    وزیراعظم شہباز شریف کا حکم ہوا میں اڑا دیا گیا، پٹرول کی قیمتوں میں 15 روپے کی بجائے چار روپے کی کمی کر دی گئی

    وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے حوالہ سے بیان جاری کیا تھا جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے 40 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 90 پیسے کمی کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے اور معاشی استحکام آیا ہے ، تا ہم وزیراعظم کا حکم ہوا میں اڑا دیا گیا، پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی ہے،جب وزارت خزانہ کے پٹرولیم ڈویژن نے مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تو عوام دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ پٹرول کی قیمت میں وزیراعظم نے 15 روپے کمی کا حکم دیا تھا تا ہم ادھر چار روپے کمی ہوئی۔وزرات خزانہ نے وزیراعظم کی ہدایت کے برعکس پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 74 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 86 پیسے کمی کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش کے باوجود پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کمی نہ کرنے کا اقدام لاہور پائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا،اظہر صدیق کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، اظہر صدیق کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت وزارت خزانہ کو پیٹرول کی قیمت میں کمی کا نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے۔

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان