Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے نامو ں کا دبئی پر اپرٹی لیکس میں انکشاف

    پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے نامو ں کا دبئی پر اپرٹی لیکس میں انکشاف

    دبئی پراپرٹی لیکس میں انکشاف ہوا ہے کہ 17 ہزار پاکستانیوں نے دبئی میں 23 ہزار جائیدادیں خرید رکھی ہیں، پراپرٹی لیکس میں صدر آصف زرداری کے تین بچوں کے نام شامل ہیں۔دبئی میں غیر ملکیوں کی تقریباً 400 ارب ڈالرز کی جائیدادیں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ "پراپرٹی لیکس” میں دنیا کی کئی سیاسی شخصیات، حکومتی اہلکاروں اور ریٹائرڈ سرکاری افسروں کے نام شامل ہیں۔اس نئے اسکینڈل میں اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ پاکستانیوں کی دبئی میں 11 ارب ڈالرز کی جائیدادیں ہیں، دبئی میں جائیدادیں خریدنے والے غیرملکیوں میں پاکستانیوں کا دوسرا نمبر ہے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا نام بھی دبئی کی جائیداد کے مالکوں کی فہرست میں شامل ہے جبکہ پراپرٹی لیکس میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا نام بھی شامل ہے۔
    ایک درجن سے زیادہ ریٹائرڈ سرکاری افسروں، ایک پولیس چیف، ایک سفارتکار اور ایک سائنسدان کا نام بھی پراپرٹی لیکس میں شامل ہے۔پراپرٹی لیکس کے مطابق حسین نواز شریف کی بھی دبئی میں جائیداد ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہلیہ بھی دبئی میں جائیداد کی مالک ہیں۔شرجیل میمن اور ان کے فیملی ممبرز کے نام بھی دبئی میں جائیداد کے مالکوں کے ناموں میں شامل ہیں۔سینیٹر فیصل واوڈا کا نام بھی دبئی کے جائیداد کے مالکوں کے نام میں شامل ہے۔پراپرٹی لیکس میں انکشاف ہوا ہے کہ سندھ کے چار ارکان قومی اسمبلی کی بھی دبئی میں جائیدادیں ہیں۔ بلوچستان اور سندھ کے چھ سے زائد ارکان صوبائی اسمبلی کے نام بھی پراپرٹی لیکس میں شامل ہیں۔پراپرٹی لیکس میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی شہری دبئی میں جائیدادیں خریدنے والے غیرملکیوں میں سب سے آگے ہیں۔
    اس میں انکشاف ہوا ہے کہ 29 ہزار 700 بھارتیوں کی دبئی میں 35 ہزار جائیدادیں ہیں۔ بھارتیوں کی دبئی میں جائیدادوں کی مالیت تقریباً 17 ارب ڈالر ہے۔اس کے علاوہ 19 ہزار 500 برطانوی شہریوں کی دبئی میں 22 ہزار جائیدادیں ہیں۔ برطانوی شہریوں کی دبئی میں خریدی گئی جائیدادوں کی مالیت 10ارب ڈالر ہے۔آٹھ ہزار پانچ سو سعودی شہریوں نے دبئی میں ساڑھے آٹھ ارب ڈالرز کی 16 ہزار جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔
    دبئی میں جائیدادوں کا یہ ڈیٹا واشنگٹن میں قائم این جی او "سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹیڈیز، نے حاصل کیا ہے۔جائیدادوں کا ڈیٹا واشنگٹن کی این جی او نے ناروے کے فنانشل آؤٹ لک ای ٹوئنٹی فور کے ساتھ شیئر کیا۔ جائیدادوں کا ڈیٹا "آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ” نامی تنظیم سے بھی شیئر کیا گیا۔
    آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ” نے چھ ماہ کے تفتیشی پراجیکٹ پر کام کر کے جائیدادوں کے مالکوں کا پتہ لگایا ۔تفتیشی پراجیکٹ پر 58 ملکوں کے 74 میڈیا اداروں کے رپورٹرز نے کام کیا۔تفتیشی پراجیکٹ سے دبئی میں حال ہی میں کم از کم ایک جائیداد خریدنے والے سزا یافتہ مجرموں، مفروروں اور سیاسی شخصیات کا پتہ لگایا۔

    دبئی لیکس میں‌بلاول و آصفہ کی جائیدادوں پر ترجمان کا ردعمل
    سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان ذوالفقار علی بدر نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کے ملکی و غیر ملکی اثاثے الیکشن کمیشن اور ایف بی آر میں ڈکلیئر ہیں، دونوں نے جلاوطنی میں پرورش پائی، دبئی میں شہید بینظیر بھٹو کے ہمراہ جلا وطنی کے دوران ان کے بچے مذکورہ املاک میں رہائش پذیر تھے، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد دبئی میں املاک ان کی اولاد کو وراثت میں ملی، بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کی دبئی میں املاک کی تفصیلات پہلے سے ہی پبلک ہیں، موجودہ خبر میں کچھ نیا نہیں نہ غیر قانونی ہے، بدنیتی پر مبنی کسی بھی کارروائی کو متعلقہ فورمز پر چیلنج کیا جائے گا۔

    اہلیہ کے نام دبئی میں خریدی جائیداد باقاعدہ ڈکلیئر ہے: وزیر داخلہ
    وزیر داخلہ محسن نقوی نے پراپرٹی لیکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اہلیہ کے نام دبئی میں خریدی جائیداد باقاعدہ ڈکلیئر ہے، جائیداد کو ٹیکس گوشواروں میں بھی ظاہر کیا، ایک برس قبل جائیداد کو فروخت کر کے اس رقم سے چند ہفتے قبل ایک اور پراپرٹی خریدی ہے۔

    دبئی میں جن جائیدادوں کا تذکرہ ہوا وہ عوام کے علم میں ہیں: شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ دبئی میں جن جائیدادوں کا تذکرہ کیا جا رہا وہ پہلے ہی ڈکلیئرڈ اور عوام کے علم میں ہیں، جائیدادیں الیکشن کمیشن اور متعلقہ ٹیکس اتھارٹیز میں ڈکلیئرڈ ہیں، ہم ہر سال اثاثوں اور جائیداد کی ڈکلیئریشن میں یہ تفصیلات جمع کرواتے ہیں۔

    دبئی میں ایک اپارٹمنٹ کا مالک ہوں جو 6 سال سے ڈکلیئر ہے: شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ دبئی میں ایک اپارٹمنٹ کا مالک ہوں، اپارٹمنٹ ایف بی آر، الیکشن کمیشن میں 6 سالوں سے رجسٹرڈ اور ڈکلیئر ہے، ایف بی آر سے بھی تصدیق کی جا سکتی ہے، میں نے 2018ء کے نامزدگی فارموں میں بھی اس کا اعلان کیا تھا۔

  • عدلیہ میں مداخلت : جسٹس بابر ستار کا ایک اور خط سامنے آگیا

    عدلیہ میں مداخلت : جسٹس بابر ستار کا ایک اور خط سامنے آگیا

    اسلام آباد: عدلیہ میں مداخلت کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کا ایک اور خط سامنے آگیا،انہوں نے خط چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے نام لکھا-

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے کے مطابق جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کو لکھے خط میں انکشاف کیا ہے خط میں جسٹس بابرستار نے کہا کہ آڈیو لیکس کیس میں مجھے یہ پیغام دیا گیا پیچھے ہٹ جاؤ، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاپ آفیشل کی طرف سے پیغام ملا پیچھے ہٹ جاؤ۔

    جسٹس بابر ستار نے خط میں کہا کہ مجھے پیغام دیا گیا سرویلینس کے طریقہ کارکی سکروٹنی کرنے سےپیچھے ہٹ جاؤ، میں نے اس طرح کے دھمکی آمیز حربے پر کوئی توجہ نہیں دی، میں نے یہ نہیں سمجھا کہ اس طرح کے پیغامات سے انصاف کے عمل کو کافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے مقدمات بارے بدنیتی پر مبنی مہم کا فوکس عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کے لیے ایک دھمکی آمیز حربہ معلوم ہوتا ہے، آڈیولیکس کیس میں خفیہ اور تحقیقاتی اداروں کو عدالت نے نوٹس کیے، متعلقہ وزارتیں ، ریگولیٹری باڈیز اورآئی ایس آئی ، آئی بی اورایف آئی اے کونوٹس کیے، عدالت نے ریگولیٹری باڈیز پی ٹی اے اور پیمرا کو بھی نوٹس کیے تھے ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے اقدامات سے دشمن کی سازش ناکام ہوگئی،عطا تارڑ

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے بنگلہ دیش کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کے کیس میں ملوث چھٹا ملزم بھی گرفتار

  • نیب ترامیم کیس :عمران خان کوویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت

    نیب ترامیم کیس :عمران خان کوویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو نیب ترامیم کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت کی جبکہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں،دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت میں پیش ہوئے-

    سماعت کے آغاز پر حکومتی وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آئے ہیں، وکیل نیب کا کہنا تھا کہ اس کیس میں جو دلائل وفاقی حکومت کے ہوں گے ہم انہیں اپنائیں گے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فریق اول کی جانب سے کون وکیل ہے؟ جس پر وکیل وفاقی حکومت ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے کہا کہ مرکزی اپیل میں خواجہ حارث فریق اول کے وکیل تھے، بعدازاں سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا گیا۔

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ بے نظیر کیس کے تحت یہ اپیل تو قابل سماعت ہی نہیں،زیادہ تر ترامیم نیب آرڈیننس سے لی گئی ہیں،ہائیکورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں بھی ترامیم کی گئی ہیں،عدالت متاثرہ فریق کی تعریف کر چکی ہے۔مخدوم علی خان نےکہا کہ وفاقی حکومت کی ترامیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے،وفاقی حکومت متاثرہ فریق ہے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کیسے متاثرہ فریق ہے،متاثرہ فرد ہی اپیل کر سکتا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ یہ معاملہ قانون میں ترمیم کی شقوں کا ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بے نظیر کیس کے تحت یہ اپیل تو قابل سماعت ہی نہیں،زیادہ تر ترامیم نیب آرڈیننس سے لی گئی ہیں،ہائیکورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں بھی ترامیم کی گئی ہیں،عدالت متاثرہ فریق کی تعریف کر چکی ہے۔

    عدت نکاح کیس:وکیل کی عدم پیشی،عمران خان و اہلیہ کی سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت …

    چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ صدر کو آرڈیننس جاری کرنے کیلئے وجوہات لکھنا چاہئیں،مخدوم علی خان نے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے سے متعلق آئینی شقوں کو پڑھا-

    اٹارنی جنرل اور نیب نے حکومتی وکیل کی اپیلوں کی حمایت کردی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت نے اس حوالے سے حکم بھی جاری کیا تھا، ہم عدالت آنے سے کسی کا راستہ نہیں روک سکتے، نیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی انجنیرنگ میں ملوث رہی، اگروہ ویڈیو لنک سے پیش ہونا چاہتے ہیں تو اقدامات کرنے چاہیئے،مخدوم علی خان نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو بذریعہ ویڈیو یا وکیل کے ذریعے نمائندگی دی جا سکتی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ معاملہ قانون کا ہے، یہ معاملہ کسی انفرادی شخصیت کا نہیں،کیا تمام مقدمات میں بھی ایسے ہی سائلین کو نمائندگی ملنی چاہئے،کیس ترامیم کے درست ہونے یا غلط ہونے سے متعلق ہے، وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دے دی۔

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کے انتظامات کیے جائیں، یہ بڑی عجیب صورتحال ہے کہ بانی پی ٹی آئی جو اس مقدمے میں درخواست گزار تھے اور اب اپیل میں ریسپانڈنٹ ہیں ان کی یہاں پر نمائندگی نہیں، بانی تحریک انصاف اگر دلائل دینا چاہیں تو ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دے سکتے ہیں، ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دینے کا بندوبست کیا جائے، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کتنے وقت تک ویڈیو لنک کا بندوبست ہو جائے گا؟پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کے انتظامات کر لیے جائیں۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا مرکزی اپیلیں قابل سماعت بھی تھیں یا نہیں،فاروق ایچ نائیک انفرادی درخواست گزار کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے۔

    فحش اداکارہ کیساتھ جنسی اسکینڈل کیس:ٹرمپ کے سابق وکیل نے بیان ریکارڈ کرا دیا

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جو 25ریفرنس واپس ہوئے ان کا ٹرائل کہاں ہوگا،کیا یہ صوبائی خودمختاری میں مداخلت نہیں ہے،1999میں نیب کا جو کنڈکٹ رہا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ نیب کیا ملک میں کسی کو جوابدہ ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کرپشن ایک مسئلہ ہے، نیب مکمل ناکام ہو چکا ہے،نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا گیا،نیب بتائے پچھلے 10سال میں کتنے سیاستدانوں کیخلاف کیسز چلوائے،نیب بتائے پچھلے 10سال میں کتنے سیاستدانوں کو قید کیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ نیب نے تین سال ایک شخص کو جیل میں رکھا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ لوگوں کیساتھ ظلم بھی بہت ہو رہا ہے،آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ لوگوں پر اب تو ظلم نہیں ہو رہا ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اٹارنی جنرل آپ نے یقینی بنانا ہے کہ ویڈیو لنک کام کرے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ حکومت نے وجوہات دینی ہیں کہ آرڈیننس اس وجہ سے جاری کرنا ضروری ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بریگیڈیئر اسد منیر کا خودکشی کا نوٹ کافی ہے،یہ بنیادی انسانی حقوق کی بات ہے،سپریم کورٹ کا 11رکنی لارجر بنچ ایسی درخواستوں کو سن چکا ہے،مخدوم علی خان نے کہاکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ معطل تھا جب نیب ترامیم کیخلاف درخواست سنی گئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ درخواست میں ایسی کوئی ترمیم چیلنج کی گئی جو آئین کے خلاف ہو؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اہم سوال یہ ہے جو منصور علی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں اٹھایا،چیف جسٹس نے کہاکہ کسی نے کروڑوں کھا لئے، وہ لاکھوں میں بھی ہو سکتے ہیں،کیا دنیا میں ایسی کوئی مثال ہے کہ قانون سازوں نے رقم کا تعین کیا ہو۔

    بعدازان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوادیا،حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کو یقینی بنائیں، وفاق اور پنجاب ویڈیو لنک پر عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں، خیبر پختونخوا حکومت کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں،عدالتی معاونت کے لیے خواجہ حارث کو بھی نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔

    اس میں کہا گیا کہ اپیل کنندگان کے مطابق عمران خان نیک نیتی سے عدالت نہیں آئے،اپیل کنندہ کے مطابق کوئی ترمیم بانی پی ٹی آئی یا عوام کے خلاف نہیں تھی،اپیل کنندہ کے مطابق نیب ترامیم کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا، اپیل کنندہ کے مطابق سپریم کورٹ کو ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

    سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اس حکم نامے کی کاپی خواجہ حارث اور بانیٔ پی ٹی آئی کو بھجوائی جائےچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب سے اخراجات اور ریکوری کی تفصیلات طلب کرلیں، جسٹس اطہرمن اللہ نےکہا کہ ساتھ یہ بھی بتائیں 10سال میں کتنے سیاستدانوں کو گرفتار کیا؟،بعدازاں عدالتِ عظمیٰ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت 16 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • ہمارے شہدا درحقیقت قوم کے لیے امید اور استقامت کی کرن ہیں،آرمی چیف

    ہمارے شہدا درحقیقت قوم کے لیے امید اور استقامت کی کرن ہیں،آرمی چیف

    جی ایچ کیو میں فوجی اعزازات دینے کی تقریب ہوئی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جوانوں اور افسران کو فوجی اعزازات سے نوازا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے آپریشنز کے دوران بہادری کے کاموں اور قوم کے لیے شاندار خدمات پر فوجی جوانوں کو فوجی اعزازات سے نوازا۔ تقریب میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور ایوارڈ یافتہ افراد کے اہل خانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ افسران اور جوانوں کو ستارہ امتیاز (ملٹری) اور تمغہ بسالت سمیت تمغوں سے نوازا گیا، شہداء کے تمغے ان کے اہل خانہ نے وصول کئے۔

    شہدا اور غازیوں کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ مادر وطن کے دفاع کے لیے جان دینے سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، ہمارے شہداء کی قربانیاں انتہائی لگن اور قربانی کے جذبے کے ساتھ لڑنے کے ہمارے عزم کو مضبوط کرتی ہیں۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شہدا کے بہادر خاندانوں کو ان کے بلند حوصلوں اور ان کی قربانیوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ شہدا اور غازی ہمارے قومی ہیرو ہیں اور قوم اپنی آزادی اور سلامتی اپنے بہادر جنگجوؤں کی قربانیوں کی مرہون منت ہے، ہمارے شہدا درحقیقت قوم کے لیے امید اور استقامت کی کرن ہیں.

    پاک وطن پاک افواج زندہ باد
    وطن سلامت رہے تاقیامت رہے

    پاکستان کی ترقی کی راہ میں رخنہ ڈالنے والوں کی تمام کوششیں ناکام ہونگی،آرمی چیف

    سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی

    آرمی چیف کی ہدایت پر سینئر کمانڈرز کی شہید کسٹم اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات

    آرمی چیف سے سعودی نائب وزیر دفاع کی ملاقات

    آرمی چیف کا آواران کا دورہ،شہداء کے اہلخانہ، مقامی عمائدین سے ملاقات

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    آرمی چیف کا دورہ بحرین، ملا ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس ایوارڈ

    افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

  • کونسا مشہور آدمی چکوال میں ؟ گالیاں دینا ہوں تو ہر کوئی شروع ہو جاتا ،چیف جسٹس برہم

    کونسا مشہور آدمی چکوال میں ؟ گالیاں دینا ہوں تو ہر کوئی شروع ہو جاتا ،چیف جسٹس برہم

    سپریم کورٹ،صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،چکوال سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار کمرہ عدالت میں درخواست دائر کرنے سے ہی مکر گئے،سپریم کورٹ میں کوڈ آف کنڈکٹ تشکیل دینے کی درخواست 2022 میں دائر کی گئی تھی، چکوال سے تعلق رکھنے والے راجہ شیر بلال،ابرار احمد، ایم آصف ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہی نہیں کی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے آپکے نام اور رہائشی پتے کیسے استعمال کیے؟کیا آپ بغیر اجازت درخواست دائر کرنے والوں کیخلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے؟ ایم آصف نے کہا کہ اگر آپکی سرپرستی ہوگی تو ہم ایف آئی آر کٹوا دیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیوں سرپرستی کریں؟، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ رفاقت حسین شاہ نے کہا کہ جس ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے ذریعے درخواست دائر ہوئی انکا انتقال ہو چکا ہے،

    پہلے ہم پر بمباری کی جاتی ہے پھر عدالت میں پیش ہوکر کہتے ہیں کیس ہی نہیں چلانا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپکو صرف چکوال والے کلائنٹ ہی کیوں ملتے ہیں،ٹی وی پر بیٹھ کر ہمیں درس دیا جاتا ہے عدالتوں کو کیسے چلنا چاہیے،پہلے ہم پر بمباری کی جاتی ہے پھر عدالت میں پیش ہوکر کہتے ہیں کیس ہی نہیں چلانا،ملک کو تباہ کرنے کیلئے ہر کوئی اپنا حصہ ڈال رہا ہے،سچ بولنے سے کیوں ڈرتے ہیں،وکیل کو اپنا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ خود کرنے کا اختیار ہوتا ہے، کونسا مشہور آدمی چکوال میں بیٹھا ہوا ہے؟ گالیاں دینا ہوں تو ہر کوئی شروع ہو جاتا ہے، کوئی سچ نہیں بولتا،ہم جانچ کیلئے معاملہ پنجاب فرانزک لیبارٹری کو بجھوا دیتے ہیں، ایڈوکیٹ حیدر وحید نے کہا کہ مجھے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے ہدایات دی تھیں،

    غلطیاں تو جیسے صرف سپریم کورٹ کے جج ہی کرتے ہیں، بس فون اٹھایا اور صحافی بن گیا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غلط خبر پر کوئی معافی تک نہیں مانگتا،کوئی غلط خبر پر یہ نہیں کہتا ہم سے غلطی ہو گئی ہے، غلطیاں تو جیسے صرف سپریم کورٹ کے جج ہی کرتے ہیں، بس فون اٹھایا اور صحافی بن گیا کہ ہمارے ذرائع ہیں، کسی کے کوئی ذرائع نہیں،ہم کچھ کرتے نہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ بس پتھر پھینکی جاؤ،باہر کے ملک میں ایسا ہوتا تو ہتک عزت کے کیس میں جیبیں خالی ہو جاتیں،

    جھوٹ بولنے پولیس میں آئے ہو؟ پولیس یونیفارم کی توہین کر رہے ہو،چیف جسٹس برہم
    مطیع اللہ جان کیس میں پیشرفت نہ ہونے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایس ایس پی انویسٹگیشن کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سامنے آ ؤ، واقعے کی ریکارڈنگ موجود ہے اغواکاروں کا سراغ کیوں نہ ملا؟ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے کہا کہ ہماری سی سی ٹی وی موجود نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بولنے پولیس میں آئے ہو؟ یہ کیا بات کر رہے ہو؟ پولیس یونیفارم کی توہین کر رہے ہو،ریکارڈنگ موجود ہے اور کہہ رہے ہو ریکارڈنگ نہیں، کچھ پڑے لکھے بھی ہو یا نہیں؟ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے کہا کہ جی سر، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کتنے سال ہو گئے ہیں پولیس میں؟ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے کہا کہ مجھے پولیس میں 13 سال ہو گئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے آفیسر کو ہٹایا کیوں نہیں جا رہا؟ فوری فارغ کریں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ان کی طرف سے معافی مانگتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معافی کیوں، ان کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے کارروائی کریں،میں بالکل مطمئن نہیں ہوں ان سے، یہ مذاق بنا رہے ہیں،

    اچھا آپ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں،چیف جسٹس کا آئی جی سے مکالمہ
    صحافی مطیع اللہ جان اغوا کیس میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی جی اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب کیا کر رہی ہے آپکی پولیس ؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ سر ہمیں کچھ وقت دے دیں میں خود اس کیس کو دیکھوں گا،کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اچھا آپ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں،کل میڈیا میں ہیڈلائن ہوگی کہ آئی جی اسلام آباد نے کہہ دیا کوئی قانون سے بالاتر نہیں،سلام آباد پولیس کو کوئٹہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پڑھائیں،کینیڈا کو دیکھیں کیسے انھوں نے دوسرے ملک کے باشندوں کیخلاف تحقیقات کیں،ہم لوگ اور ہمارے صحافی بہت خوش ہوئے کہ کسی اور ملک کیخلاف کینیڈا نے تحقیقات کیں،مگر یہاں اسلام آباد پولیس کو خود سیکیورٹی چاہیئے،ایک ایس ایس پی کیساتھ گارڈز ہوتے ہیں جیسے انکو کسی سے خطرہ ہے،جو پولیس کبھی ہماری حفاظت کرتی تھی اب انکی حفاظت کی جاتی ہے،ایک پولیس افسر کے گرد پوری نفری گھوم رہی ہوتی ہے،

    پولیس نے ہمارے موبائل لئے اور ابھی تک واپس نہیں کیے، مطیع اللہ جان، اسد طور
    صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ اغوا کے وقت میں نے موبائل پھینکا تھا جو پولیس لے گئی تھی،پولیس نے میرا موبائل واپس نہیں کیا،اسد طور نے کہا کہ میرے موبائل بھی لے لیے گئے تھے جو آج تک واپس نہیں ہوئے،
    مجھ پر حملہ ہوا تو وہ لوگ موبائل پر بات کر رہے تھے مگر جیو فینسنگ نہیں کی گئی،تفتیشی افسر نے کہا کہ مطیع اللہ جان کا موبائل حملہ آور ساتھ لے گئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ تو آسان تھا اگر موبائلز کا ڈیٹا نکال لیا جاتا تو ملزمان پکڑے جاتے،پولیس کو شاید ڈر تھا کہ موبائل کسی ایسی جگہ نہ ہو جن کیخلاف کاروائی نہیں ہوتی،لگتا ہے اب پولیس والوں کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کو کہنا پڑے گا،جیسے پولیس جے آئی ٹی بنا لیتی ہے ہم پولیس کیخلاف جے آئی ٹی بنا لیتے ہیں،پولیس والے عدالت آکر سر سر کہہ کر مکھن لگاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مجھے اسلام آباد کا چارج سنبھالے تھوڑا سا وقت ہوا ہے میں خود یہ ان کیسز کی نگرانی کرونگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی ہوگی یا اوپر سے آرڈر آجائے گا،مطیع اللہ جان اغوا کی تحقیقات کرنی والی پولیس ٹیم تبدیل ہوگی یا نہیں،آئی جی اسلام آباد نے مطیع اللہ جان اغوا کیس میں تفتیشی افسران تبدیل کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ تفتیشی افسران تبدیل کر کے خود صحافیوں پر حملوں کے مقدمات دیکھوں گا،

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس کی سماعت جون تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے اسد طور، ابصار عالم اور مطیع اللہ جان پر تشدد اور اغوا کے کیس میں پولیس تفتیش کو غیر تسلی بخش قرار دیدیا،عدالت نےکہا کہ تفتیش کیلئے اہل افسر تعینات کیے جائیں، عدالت نے ابصار عالم، مطیع اللہ جان ، اسد طور پر حملے کی تفتیش ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کو 30 دن کی مہلت دے دی،عدالت نے اسد طور حملہ کے ملزمان کے خاکے اخبارات میں شائع کرانے کا حکم دیا، اور کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے انعامی رقم مقرر کر کے اشتہار دیا جائے، مطیع اللہ جان اغوا کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج پنجاب فارنزک لیب کو بھیجنے کا حکم بھی دیا.

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کاعدالتوں کو زبردستی بند کروانے کا نوٹس

    ہڑتال پر چیف جسٹس برہم،بولے اتنے جرمانے لگائیں گےکہ یاد رکھیں گے

    عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

  • گندم خریداری میں غفلت،وزیراعظم کا ایکشن،پاسکو افسران معطل

    گندم خریداری میں غفلت،وزیراعظم کا ایکشن،پاسکو افسران معطل

    گندم خریداری میں غفلت، وزیراعظم کا ایکشن، پاسکو کے ایم ڈی اور جی ایم پروکیورمنٹ کومعطل کردیا

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت گندم کی طلب، رسد اور خریداری پروگرام سے متعلق اجلاس ہوا ،اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ،اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے استفسار کیا کہ گندم کی خریداری کے عمل کے لیے موبائل ایپلی کیشن تیار کیوں نہیں کروائی گئی ؟ وزیراعظم شہباز شریف نے گندم خریداری کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ہدایات پر عمل نہ کرنے اور غفلت برتنے پر پاسکو کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور جنرل مینیجر پروکیورمنٹ کو معطل کردیا،وزیر اعظم شہباز شریف نے گندم کی خریداری کا عمل شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال اور موبائل فون ایپلی کیشن تیار کرنے کی تاکید کی ، وزیراعظم نے پاسکو کے اسٹاک کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی بھی ہدایت کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں گے، حکومت ملک میں غذائی تحفظ کے حوالے سے ہر ممکن کوششیں کررہی ہے، کسان کے معاشی تحفظ کے لیے اجناس کی انشورنس کو یقینی بنایا جائے، پاسکو 4 لاکھ میٹرک ٹن اضافی گندم کی شفاف اور مؤثر طریقے سے خریداری کرے، کسان کا نقصان کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ،اچھی کارکردگی دکھانے والے پاسکو مراکز اور افسران کا انتخاب کیا جائے گا اور ان کی حکومتی سطح پر پذیرائی کی جائے گی۔

    گندم سیکنڈل،تحقیقات کیلیے عدالت میں درخواست دائر

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

  • ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی اضافی دستاویزات جمع کروانے کی متفرق درخواست منظور

    ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی اضافی دستاویزات جمع کروانے کی متفرق درخواست منظور

    ارشد شریف قتل کیس، تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی صحافی حامد میر کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اضافی دستاویزات جمع کروانے کی متفرق درخواست منظور کرلی،سپریم کورٹ میں زیرسماعت ارشد شریف کیس کی سماعتوں کے تحریری حکمنامے پیش کر دیئے گئے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے حامد میر کی درخواست پر سماعت کی.حامد میر کے وکیل شعیب رزاق ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،

    واضح رہے کہ سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے ارشد شریف کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے،حامد میر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت فریقین کو ارشد شریف قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے، سینئر صحافی حامد میر نے وکیل شعیب رزاق کے ذریعے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، دائر کی گئی درخواست میں ایف آئی اے ،وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • آزاد کشمیر،مطالبات مان لئے گئے، بجلی، آٹا سستے،انٹرنیٹ بحال

    آزاد کشمیر،مطالبات مان لئے گئے، بجلی، آٹا سستے،انٹرنیٹ بحال

    وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کرلیے گئے۔ آزاد کشمیر میں امن و امان کی فضا قائم ہوجائے گی۔

    مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کا کہنا تھا کہ سستی روٹی اور بجلی کے دو مطالبات ایسے ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،جس وقت یہ صورتحال پیدا ہوئی وزیراعظم شہباز شریف نے مجھے فون کیا انہوں نے یقین دلایا ساتھ چلیں گے، مسئلے کو حل کرلیں گے،عرصہ دراز سے التوا میں پڑے کام کےلیے حکومت آزاد کشمیر کو وسائل فراہم کردیے ہیں، بجلی کے ایک سے 100 یونٹ تک کے نرخ 3 روپے، 100 سے 300 یونٹ کے 6 روپے ہوں گے۔ سبسڈی سے 23 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا جسے حکومت پاکستان نے خوش دلی سے قبول کیا ہے،دھرنے کے شرکا کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا نہ کوئی زخمی ہوا۔ حالیہ صورتحال میں 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں،

    قبل ازیں آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی منظوری سے متعلق معاہدہ طے پاگیا ہے، بجلی اور آٹا سستا کر دیا گیا ہے،چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کے مطابق آل جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں اور مطالبات کی منظوری سے متعلق معاہدہ بھی طے پاچکا ہے، انٹرنیٹ سروسز بحال کردی گئی ہے، آٹے کی فی من قیمت 2 ہزار روپے اور 20 کلو آٹے کی قیمت ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے،بجلی بھی سستی کی گئی، 100 یونٹ تک بجلی کی قیمت 3 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، 100 سے 300 یونٹ تک 5 روپے اور 300 سے زائد پر 6 روپے فی یونٹ قیمت مقرر کی گئی ہے، کمرشل 300 یونٹ تک 10 روپے اور 300 سے زائد پر 15 روپے فی یونٹ قیمت مقرر کی گئی ہے۔

    قبل ازیں آزاد کشمیر میں مطالبات کی منظوری کے لئے ایک طرف احتجاج جاری ہے تو دوسری جانب ہڑتال کی وجہ سےکھانے پینے کی اشیا کی قلت ہو گئی ہے، وہیں آزاد کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر سیاسی قیادت نے سر جوڑنے پر اتفاق کر لیا، قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء خواجہ فاروق احمد نے سیاسی سٹیک ہولڈرز سے رابطے قائم کر لیے

    باوثوق زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان معاملات طے پا چکے ہیں۔ فقط معاہدے کی کچھ جزئیات اور تفصیلات پر اتفاق رائے ہونا باقی ہے امید ہے جلد ہی ان حل طلب مسائل کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا ،آزاد کشمیر میں احتجاج کی وجہ سے ہڑتال جاری ہے، مظفرآباد میں کہیں کہیں انٹرنیٹ کی سروس ہے ہڑتال اور لاک ڈاون کی وجہ سے خوراک سزیوں اور ادویات کی قلت ہو گئی ہے زیادہ تر سبزی فروٹ مانسہرہ سے جاتی ہے فرسٹ ایڈ کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے میڈیکل سٹورز مکمل بند ہیں، ہڑتال کے باعث سبزی، فروٹ اور دیگر غذائی اجناس لانے والی گاڑیاں مارکیٹوں تک نا پہنچ سکیں جس کے باعث کھانے پینے کے اشیاء کی قلت ہوگئی، آزاد کشمیر حکومت نے آج بھی تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ضلعی دفاتر بھی بند رکھے جائیں گے۔

    دوسری جانب آزادکشمیر میں 11 مئی کو مظاہرین اور پولیس کی جھڑپوں میں گولی لگنے سے شہید ہونے والے سب انسپکٹر کی تدفین کردی گئی ،آزاد کشمیر کے کئی شہروں میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں پولیس اہلکاروں سمیت اب تک 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، عوامی ایکشن کمیٹی نے پُرتشدد واقعات سے اظہار لاتعلقی کیا ہے مرکزی قیادت نے ان پرتشدد واقعات سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ بھارت کے منفی پروپیگنڈا کو بھی بے نقاب کر دیا۔ تمام ممبران نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہماری تحریک پر امن ہے اور رہے گی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکار دشمن بھارت کا میڈیا مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو دبانے کے لیے بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔قیادت نے اس بات کا یقین دلوایا کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور انشا اللہ مقبوضہ کشمیر بھارت سے آزاد کروا کر پاکستان کا حصہ بنائیں گے۔

    آزاد کشمیر کے عوام کے مطالبات کو پورا کیا جانا چاہیے، صدر مملکت

    آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب

    وزیراعظم شہباز شریف کا آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سے رابطہ

    آزاد کشمیر میں کشیدہ صورتحال، متعدد شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل

    آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی کال پر شٹر ڈاؤن، پہیہ جام ہڑتال

  • آزاد   کشمیر کے عوام کے مطالبات کو  پورا کیا جانا چاہیے، صدر مملکت

    آزاد کشمیر کے عوام کے مطالبات کو پورا کیا جانا چاہیے، صدر مملکت

    صدر آصف زرداری سے پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبران کے وفد نے ملاقات کی۔

    پیپلز پارٹی قیادت نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔اجلاس میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا،وفد نے صدر مملکت کو آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے حالیہ افسوسناک واقعات سے آگاہ کیا۔صدر مملکت نے آزاد جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر افسوس اور پولیس اہلکار کی افسوسناک ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر مملکت کی حالیہ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔اس موقع پر صدرمملکت کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز تحمل کا مظاہرہ کریں، آزاد جموں و کشمیر کے مسائل بات چیت اور باہمی مشاورت سے حل کریں۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے، تاکہ دشمن عناصر حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے مطالبات کو قانون کے مطابق پورا کیا جانا چاہیے، موجودہ صورتحال کا حل نکالنے کیلئے عوام کی شکایات پر وزیراعظم سے بات کروں گا۔

    دوسری جانب صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے وزیراعظم شہباز شریف صاحب سے آزاد کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کی اور انہیں عوام کے مطالبات سے پوری طرح آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے پرامن رہنے اور پرامن طریقے سے مسائل کے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی کمیٹی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ایم کیو ایم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مہنگی بجلی، مہنگائی اور ڈیمز کی رائلٹی جیسے اہم مسائل پر عوام احتجاج کر رہے ہیں،عوامی احتجاج پر طاقت کا استعمال عوام کو مزید مشتعل کرنے کا باعث بنے گا،حکومت و انتظامیہ عوامی احتجاج پر کسی بھی قسم کی طاقت کے استعمال سے گریز کرے،ایم کیوایم نے آزاد کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ خدارا پُرامن رہیں اور کسی صورت اشتعال میں نہ آئیں۔ تمام معاملات کو طاقت کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔

    صحافی و اینکر غریدہ فاروقی ٹویٹر پر کہتی ہیں کہ آزاد کشمیر تاجروں کا احتجاج ایک اھم، سنجیدہ اور سنگین مسئلہ ہے۔ خدارا اسے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر حل کریں۔ ایک سال قبل سے تاجروں کا بجلی اور آٹے کے ریٹ پر احتجاج شروع ہوا تھا؛ گزشتہ سال وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے اسے احسن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا کام انجام دیا تھا لیکن بجلی ریٹ کا اصل مُدّعا چونکہ پاکستان کی وفاقی حکومت سے جُڑا ہے؛ حکومتِ پاکستان کو چاہییے اس معاملے کے حل کیطرف فوری توجہ دیں۔ ایک کشمیری وزیراعظم پاکستان کے ہوتے، آزاد کشمیر میں حالات ایسے خراب ہو جائیں یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کو فوری نوٹس لینا چاہئیے، وزیراعظم آزاد کشمیر کیساتھ engage کریں؛ متعلقہ وزیر اور حکومتِ آزاد کشمیر کو engage کروائیں اور تاجروں کو مذاکرات کے ذریعے مطمئن کریں۔ ہو سکتا ہے احتجاجیوں کے سارے مطالبات درست نہ بھی ہوں لیکن کشیدہ مسئلے کا حل بات چیت سے نکالئیے اور فوری۔ وزیراعظم آزاد کشمیر بار بار مذاکرات کی پیشکش کر رہے ہیں؛ احتجاج کرنیوالوں کو بھی چاہئیے ذرا سا قدم پیچھے ہٹائیں، لچک دکھائیں اور مذاکرات کی میز پر آئیں۔ آزادکشمیر بذاتِ خود ایک حسّاس علاقہ ہے لیکن ایسے وقت میں جبکہ بھارت میں الیکشن ہو رہے ہیں؛ آزاد کشمیر کی صورتحال کو کوئی بھی پاکستان دشمن اپنے مفاد کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ کشمیری انتہائی محِبِّ وطن اور وفادار قوم ہیں، یقیناً کسی بیرونی یا اندرونی دشمن کو ایسا موقع نہیں دینگے۔ جو پولیس افسر شہید ہو گئے ہیں ان کا خون کس کے ہاتھ پر ہو گا؟ سرکاری اِملاک کو کیوں نقصان پہنچایا جائے؟ عوام کی زندگی میں پریشانی کیوں پیدا کی جائے؟ تین دن سے 80% آزاد کشمیر میں شٹرڈاؤن ہے؛ اس احتجاج کو بات چیت سے فوراً حل کیا جانا چاہئیے؛ نوبت یہاں تک کیوں آئی اس کی بھی تفتیش ہونی چاہئیے۔ تاجروں نے گزشتہ آٹھ ماہ/سال بھر، جب سے گزشتہ سال احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا؛ بجلی کے بل ادا نہیں کیے۔ یہ بھی غیرمناسب رویہ ہے، جائز اور مناسب مطالبات حکومت کو تسلیم کرنے چاہئیں اور کچھ لچک تاجر حضرات بھی دکھائیں۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان کے بیرونی اور اندرونی دشمن و انتشارپسند اس معاملے کو محض اپنی سیاست چمکانے اور مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ بطور کشمیری، مجھے یہ سب دیکھ کر انتہائی افسوس ہو رہا ہے اور اپیل اور امید ہے کہ اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ وزیراعظم شہبازشریف اپنا کردار ادا کریں۔

  • ملک میں سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا گیا ، بلاول بھٹو

    ملک میں سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا گیا ، بلاول بھٹو

    لاہور میں “بھٹو ریفرنس اورتاریخ “کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ سیمینار میں آنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سپریم کورٹ نے یہ تسلیم کیا کہ بھٹو کا ٹرائل فیئر نہیں تھا، سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی فیصلہ ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آج ملک میں نفرت کی سیاست عروج پر ہے، ملک میں سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا گیا جبکہ مسائل کے حل کے لیے سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا پڑے گا، بھٹو ریفرنس پر تاریخی عدالتی فیصلہ آیا، ثابت ہوا کہ شہید بھٹو کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب سیاست میں وہ گنجائش ہی نہیں رہی کہ ایک دوسرے کی اختلاف رائے کا احترام کریں، پاکستان میں سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا گیا اور ایک دوسرے کے اختلاف رائے کا احترام نہیں کیا جارہا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاست ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوگئی ہے، ہم نے ہمیشہ کوشش کی کہ نظام میں جمہوری بہتری لے کر آئیں، جب سیاستدان ایک دوسرے سے ہاتھ ملاے کے لیے تیار نہیں ہوں گے تو پھر مسائل کیسے حل ہوں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں عدالتی اصلاحات بھی کرنا تھیں، ہم نے ایک ایسا فورم قائم کرنا تھا جو ججز کی تعیناتی کو بھی دیکھتا، ہم نے عدالتی اصلاحات کے حوالے سے عملدرآمد نہیں کیا، کوشش ہے کہ قانونی یا آئینی ترمیم لائیں اور عدالت کو طاقتور بنائیں، ایسی اصلاحت ہوں کہ شہید بھٹو جیسے عدالتی قتل پھر کبھی نہ ہوں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ ہم 1973 کا آئین اور 18 ویں ترمیم مشاورت سے لائے، نظام درست کرنے کے لیے جو کرنا ہوگا ہم اس کے لیے تیار ہیں، مسائل کے حل کے لیے سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا پڑے گا، کچھ سیاستدان ذاتی مفاد کے علاوہ کچھ نہیں سوچتے جو درست نہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ حکومت جوڈیشل ریفامرز کے لیے آئینی ترمیم لے کر آئے، عدالت خود بھی ریفارمز لاسکتی ہے لیکن سب سے بڑی ذمہ داری پارلیمان کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے یکجہتی کا پیغام بھیجا لیکن ایک ایسا سیاستدان ہے جو اپنی ذات سے باہر نہیں دیکھتا، اس نے بات چیت کی پیشکش کے جواب میں گالی گلوچ کی، ہمیں گالم بلوچ کی سیاست کے بجائے پاکستان کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔سابق وزیر خارجہ نے کہا عوام کو یقین ہونا چاہیئے کہ دوبارہ عدالتی قتل نہیں ہوگا، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کرنا چاہتیں، بات چیت کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں، عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث پریشان ہیں، ہمیں عدلیہ سے متعلق اصلاحات کرنی چاہیئے۔