Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ججز اذ خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی

    اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ مجھے گزشتہ آرڈر کی کاپی ابھی نہیں ملی،مجھے اس کیس میں وزیراعظم سے بھی بات کرنی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آرڈر پر تین دستخط ابھی بھی نہیں ہوئے۔کمرہ عدالت میں ججزکو آرڈرکاپی دستخط کرنے کیلئے دے دی گئی،جسٹس منصور علی شاہ نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو کتنا وقت چاہئے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجھے کل تک کا وقت دے دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آج کون دلائل دینا چاہے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم 45منٹ میں دلائل مکمل کر لیں گے،

    اعتزاز احسن کی جانب سے خواجہ احمد حسین سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ بار، بلوچستان ہائیکورٹ بار اور بلوچستان بار کے وکیل حامد خان پیش ہوئے،وکیل حامد خان نے دلائل کیلئے ایک گھنٹہ مانگ لیا،سپریم کورٹ بار کے صدر اور ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ کے درمیان روسٹرم پر اختلاف ہو گیا،سپریم کورٹ بار کے صدر شہزاد شوکت نے دلائل کیلئے آدھا گھنٹہ مانگ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ہم پہلے وکلا تنظیموں کو سنیں گے، ایڈیشنل سیکرٹری شہبازکھوسہ نے کہاکہ ذاتی حیثیت میں الگ درخواست دائرکی ہے ،ایگزیکٹو کمیٹی کی کل رات میٹنگ ہوئی ہے ،صدر شہزادشوکت نے کہایہ معلوم نہیں کیوں اپنی تشہیر چاہتے ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ نے کہاکہ میں کوئی تشہیر نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تعجب ہو رہا ہے کہ اتنے وکیل ہیں لیکن ایک پیج پر نہیں آسکتے، تعجب ہے کہ وکیل عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی ایک پیج پر نہیں آ سکتے، پاکستان بار کونسل سے شروع کرتے ہیں، ہر شخص کہہ رہاہے کہ اپنی بات کرنی ہے,جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انفرادی طور پر یہ کریں، میں یہ تجویز کر رہا تھا کہ ایک باڈی کی میٹنگ کر لیتے، جمہوری ادارے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اہم حصہ ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل کو جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی پڑھنے کی ہدایت کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایک جج کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے وہ پڑھیں،اٹارنی جنرل کو پڑھنے پردشوارپرجسٹس اطہر من اللہ نے خود اپنا نوٹ پڑھ دیا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نوٹ میں لکھا ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ مطمئن کرے مداخلت نہیں،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہایہ بات اصل آرڈر کے پیراگراف 5میں بھی ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس پیرا گراف میں صرف تجاویز مانگنے کی بات تھی۔

    ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جج کچھ نہیں کر سکتا تو گھر بیٹھ جائے، ایسے ججز کو جج نہیں ہونا چاہیے جو مداخلت دیکھ کر کچھ نہیں کرتے، صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی لائیو سماعت روکی جائے، یہاں جو ہوا اس سے اچھا پیغام نہیں گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پلیز پروسیڈ،

    پاکستان بار کونسل کے وکیل ریاضت علی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، وکیل نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے معاملے پر جوڈیشل تحقیقات کرانا چاہتی ہے، ایک یا ایک سے زیادہ ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنا کر قصورواروں کو سزا دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018/19 میں ہائی کورٹس کا سب سے بڑا چیلنج سپریم کورٹ کا مسائل پر خاموشی اختیار کرنا تھا،لگتا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ ہائیکورٹس کے جواب کی روشنی میں نہیں کیں، پاکستان بار کونسل یہ توقع کرتی ہے کہ ضلعی عدالت کا جج وہ کام کر لے جو سپریم کورٹ کا جج بھی نہیں کر سکتا؟ حقیقت بہت مختلف ہے، وکیل شہزاد شوکت وائس چیئرمین سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ جب آپ براہ راست نشریات میں کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ مداخلت پر خاموش رہی تو اس سے عوام میں اچھا پیغام نہیں جاتا،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مداخلت پر سزاؤں کا قانون لانے کی سفارش کرتی ہے،اس معاملے سے عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے،

    سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر کی تھی، لیکن کاروائی نہیں ہوئی،جسٹس اطہرمن اللہ
    احسن بھون نے کہا کہ جج کے پاس توہین عدالت سمیت دیگر آپشنز موجود ہیں کاروائی کر سکتے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں جو کام سپریم کورٹ نہیں کر سکتی وہ ڈسٹرکٹ جج کرے ۔ سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر (جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی) کی تھی جس پر عوامی طاقت پر بحال ہونے والی سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے بحالی کے بعد کوئی توہینِ عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کریں،ہائیکورٹس کے ججز نے جو کہا ہے اسکو دیکھیں وہ ججز ہیں وہ غلط نہیں کہہ سکتے۔

    سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے، ہائیکورٹ کے ججز نے نشاندہی کی کہ مداخلت کا سلسلہ ابتک جاری ہے اور سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، ساری ہائیکورٹس نے اپنی رپورٹس میں سیاسی مقدمات پر سنگین باتوں کو اجاگر کیا ہے اور ایک ہائیکورٹ نے تو یہ کہا کہ یہ آئین کو سبوتاژ کیا گیا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا مداخلت تو ہورہی ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی، ہم سب کو ماننا چاہیے انڈر ٹیکنگ دیں کہ وکلا کی مداخلت بھی روکی جائے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہو یا نہ ہو؟ مجھے بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ آگے بڑھتے ہیں کیونکہ دیگر افراد بھی ہیں، میں سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین ہوں لیکن میں بطور خود سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں دیگر ممبران بھی ہیں۔

    پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، سارے میڈیا نے چلایا، کسی نے نہیں پوچھا اس کا کوئی ثبوت ہے، دوسرے ممالک میں ایسا الزام لگے تو ہتک عزت کیس میں ان کی جیبیں خالی ہوجاتی ہیں، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا قبضہ ہے۔میں نے جج بنتے وقت حلف لیا ہوا ہے، یہ میرا فرض ہے، ہمیں تنخواہ اسی چیز کی ملتی ہے، اس میں دو رائے نہیں کہ میں آزاد بیٹھنا چاہوں یا نہیں، پریشرمیں آنا چاہوں یا نہیں، یقیناً آپ بھی اپنے دلائل یا ڈانٹ ڈپٹ کر مجھ پر پریشر ڈالیں گے، پریشر بہت سارے ہو سکتے ہیں،پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو،

    عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے، سپریم کورٹ بار
    دوران سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالت میں اپنی تجاویز جمع کرائیں جس میں سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ بارعدلیہ کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کو کسی بھی قسم کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے تھی، ہائیکورٹ کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل،، قتل کرنا کب سے منع ، کیا وہ رک گیا ہے؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل ہوتا ہے، قتل کرنا کب سے منع ہے، کیا وہ رک گیا ہے؟ معاشرے ہوتے ہیں، لوگ ہوتے ہیں، یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، آج حکم دیں کہ قتل ہونا بند کر دیا جائے، یہ رکے گا تو نہیں چلتا رہے گا، بات یہ کہ ہم اسے کیسے ڈیل کرتے ہیں، سزا و جزا کا عمل ہے جو چلتا رہے گا، ایک ڈیٹرنس تو یہ ہو سکتا ہے کہ سزائے موت دیکھ کر دوسرے کہیں قتل نہیں کرنا چاہیے، دوسرا یہ کہ کچھ نہ ہو، سزا نہ ہو تو وہ کہیں گے کہ ہم بھی کر لیتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ عدلیہ میں مداخلت ہو رہی ہے، حکومت اس مداخلت کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی، سوال یہ ہے کہ اس مداخلت کو ختم کیسے کیا جائے؟ مداخلت کا معاملہ اب 6 ججز کے خط سے آگے بڑھ چکا ہے،پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، عدلیہ کو خود ایکشن لینا ہو گا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عوام کو سچ جاننے کا پورا حق ہے، عوام کو سب جواب دہ ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وائس چیئرمین صاحب! ہم آپ سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، آپ کو سننا چاہتے ہیں، سب لوگوں نے لمبا وقت لیا، کب تک مکمل کریں گے؟پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ ججوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے کہ ان کے پاس جو قانون موجود ہے اسے استعمال کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 3 چیزیں کہہ رہے ہیں، ایک تو تحقیق ہو، دوسرا فوجداری قوانین کو جج استعمال کریں، تیسرا یہ کہ توہینِ عدالت کی کارروائی ہو۔

    ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پاکستان بار کو یہ بھی تجویز دینا چاہیے تھی کہ وکلاء کی جانب سے مداخلت کو کیسے روکیں؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے وکلاء کی نمائندگی کر رہے ہیں، ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، چیف جسٹس کافی مشکل وقت سے بھی گزرے، 2018 سے آج تک میری دیانتداری پر سوال اٹھا، لیکن کچھ فرق پڑا؟ ججز کو تنقید سے فرق نہیں پڑنا چاہیے، عوام کا ججز پر اعتماد ہونا چاہیے، ملک میں جوڈیشل تاریخ میں سب سے بڑی توہینِ عدالت کیا تھی؟

    خطرناک بات جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،احسن بھون
    احسن بھون نے کہا کہ لاہور اور پشاور ہائی کورٹ سے جو ردِ عمل آیا ہم نے وہ عدلیہ پر چھوڑا ہے، کوئی دوسری رائے نہیں کہ ڈیٹرنس ہونا چاہیے، انتہائی خطرناک بات ہے کہ جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے کہا کہ یہ کیسے روکا جا سکتا ہے؟ کیا ایسے واقعات کی تفتیش ہو یا نہ ہو؟.جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے جو بذات خود ٹھیک سمجھا وہی کہا ہے، میری رائے ہے کہ دنیا بھر میں سماعتوں میں مداخلت ہوتی ہے، 3 نومبر کو سپریم کورٹ کے 8 ممبر بینچ نے عدلیہ بحال کی، کیسے ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں؟ ابھی تک معاملہ زیرِ التواء ہے، آپ توہینِ عدالت کی درخواست لائیں، اب تو سب ریٹائرڈ ہو چکے، یہی تو المیہ ہے،احسن بھون نے کہا کہ اسی لیے کہا ہے کہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

    تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس
    ریاضت علی خان نے کہا کہ عدلیہ کو آزاد کرنے کے لیے ایگزیکٹیو کی ایک فورس عدلیہ کے ماتحت ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا ایگزیکٹیو اب عدلیہ کے ماتحت نہیں ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آگے بڑھیں، کیونکہ ایسے باتیں ختم نہیں ہوں گی، بیوروکریٹ کے پاس تو کوئی توہینِ عدالت کا اختیار نہیں، عدالت کے پاس تو توہینِ عدالت کا اختیار ہوتا ہے، تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، میڈیا نے جھوٹ چلایا، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ان سے پوچھا کہ آپ توقع کرتے ہیں کہ ماتحت عدلیہ کا جج وہ کام کرے جو سپریم کورٹ کے جج نہیں کر سکتے؟ 6 ججز نے ایک ایشو اٹھایا، جس کی ساری ہائی کورٹس نے توثیق کی، ساری ہائی کورٹس نے کہا کہ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے، اگر کوئی نشاندہی کرے گا تو اس کے ساتھ ایسا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسی ڈیٹرنس ہونی چاہیے کہ جو ایسا کرے اس کو بھگتنا پڑے، میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ جج کمپرومائز ہیں،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت سے کیا عدلیہ کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، ایسا نہ کہیں کہ سب برابر ہے، ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، کہیں کہ کچھ اچھے نکلے اور کچھ برے نکلے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پچھلے 50 سال میں کیا ہوا، میں آپ سے ہمدردی کر سکتا ہوں، بدل نہیں سکتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ بتائیں کہ ایسی صورتِ حال میں کیا کیا جائے جس پر ہائی کورٹس بھی روشنی ڈال رہی ہیں؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اگر یہ پیغام جائے گا کہ آپ ججز ملے ہوئے ہیں تو کیا پیغام جائے گا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ دلائل دیں ورنہ ہم آپس میں لگے رہیں گے، لائٹر نوٹ پر بتاؤں مجھے کسی نے کہا تھا کہ جج کو سنیں اور وکیل کو بولنے دیں،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ کیسے یقین دہانی کی جائے کہ مداخلت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سچ کہیں اور اسے نظر آنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوری مجھے یہاں مداخلت کرنا پڑے گی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ آپ یہ کہہ کر قبول کر رہے ہیں کہ آپ ملے ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ آپ کو یہاں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، سوری میں بہت بلنٹ بات کر رہا ہوں کہ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کو نہیں بیٹھنا چاہیے، ہائی کورٹ کے ججوں کا خط باہمی خفیہ ادارہ جاتی خط و کتابت تھی جو میڈیا میں آئی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ججز کا خط لیک ہونے کی انکوائری ہونی چاہیے، خط کوئی شکایت نہیں ہے اور یہ عوام کے لیے خط و کتابت نہیں تھی، جسٹس بابر ستار نے یہ کہا ہے جو کہ خط پر دستخط کنندہ ہیں

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں کوئی گولی تو نہیں ملتی کہ جس سےمضبوط جج بنا جاسکے، سسٹم بنانا ہوگا،کمپرومائزڈ جج کو ایک منٹ میں سسٹم سے باہر نکال دینا چاہیے، اگر کوئی جج کھڑا ہو تو اُس کیساتھ کھڑے ہوجائیں،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن آئی کیوب قمر  کل8 مئی کو چاند کے مدار میں داخل گا

    پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن آئی کیوب قمر کل8 مئی کو چاند کے مدار میں داخل گا

    آئی کیوب قمر آئی کیوب قمر کاخلا میں سفر کامیابی سے جاری ہے پاکستانی سٹیلائٹ کل چاند کے مدار میں پہنچ جائے گا

    آیہ کیوب قمر قریباً ساڑھے تین سے چار بجے کے درمیان چاند پر پہنچے گا،ڈاکٹر خرم خورشید آج رات کو چین کے لیے روانہ ہوں گے، ڈاکٹر قمر السلام پہلے سے چین میں موجود ہیں ، مدار کی جانچ اور تصدیق میں ذیلی نظام کا جائزہ لیا جاۓ گا،سیٹلائٹ امیجنگ سسٹم کے آپریشنل ہونے سے پہلے تمام ذیلی نظاموں کی تصدیق میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔چاند کی پہلی تصویر 15 یا 16 مئی تک موصول ہو جاۓ گی

    واضح رہے کہ تین مئی کو پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن چاند کےمدار کی طرف روانہ ہواتھا،چاند پر پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن”آئی کیوب قمر”چین کے ہینان اسپیس لانچ سائٹ سے روانہ کیا گیا ہے، اس موقع پر اسپارکو کا آفس نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا تھا،انسٹیٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کے اساتذہ و انتظامیہ کی جانب سے چانگ ای 6 کی کامیابی کے لئے دعائیں کی گئی ہیں

    مشن کی کامیابی کے بعد پاکستان ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے چاند کے مدار میں اپنے سیٹلائٹ بھیجے ہیں آئی کیوب قمر چاند تک سیٹلائٹ بھیجنے کے مشن کی تیاری میں طلباء کا مرکزی کردار ہے۔

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • شہزاد اکبر تو "وڑ گیا”،تیزاب حملہ،کوئی شواہد نہ ملے، تحقیقات بند

    شہزاد اکبر تو "وڑ گیا”،تیزاب حملہ،کوئی شواہد نہ ملے، تحقیقات بند

    بانی پی ٹی آئی کے سابق مشیر شہزاد اکبر کو دھچکا، خود پر حملے کے حوالے سے لگائے گئے الزامات دھرے رہ گئے

    شواہد نہ ملنے پر پولیس نے شہزاد اکبر پر حملے کی تحقیقات بند کردیں,شہزاد اکبر کے خود پر حملے کے دعووں کے حوالے سے پولیس کو کوئی ثبوت نہ مل سکا ,پولیس نے چھ ماہ تک شہزاد اکبر پر حملے کے حوالے تحقیقات کرنے کے بعد ہاتھ اٹھا لئے,شہزاد اکبر کی رہائش گاہ کی ہر طرف کیمرے موجود ہیں، پولیس کو کئی گھنٹوں کی فوٹج دیکھنے کے باوجود کوئی مشتبہ شخص نظر نہ آیا,ذرائع کے مطابق مقامی پولیس نے شہزاد اکبر کو تین ہفتہ قبل ہی کسی بھی مشتبہ شخص کی عدم موجودگی کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا

    شہزاد اکبر نے پولیس کی طرف سے ٹکا سا جواب ملنے پر الزام حکومت پاکستان پر دھر دیا، ذرائع کے مطابق محض مبینہ حملے کے حوالے شہزاد اکبر حکومت پاکستان کے خلاف برطانیہ میں کارروائی نہیں کرسکتے، شہزاد اکبر نے مقدمہ دائر کرنے کی بجائے پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خط کا ڈرامہ رچایا ,پولیس بھی شہزاد اکبر پر حملے کے حوالے سے پریشان ہے کہ وہ کون سا تیزاب ہے جو چہرے پر پھینکنے پر صرف عینک کے شیشہ کو لگا،فرانزک رپورٹ کے مطابق بھی تیزاب ہوتا تو چہرہ جھلس سکتا تھا،

    برطانیہ کی پولیس نے شہزاد اکبر پر تیزاب حملے کی تحقیقات تقریباً نصف سال تک جاری رہنے کے بعد کوئی مشتبہ شخص نہ ملنے کے بعد بند کر دی ہیں۔انسداد دہشت گردی کی پولیسنگ سے منسلک ایک پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ "ہم نے انکوائری کی،اور اس دوران کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں کر سکے۔”

    ہرٹ فورڈ شائر کانسٹیبلری، علاقائی پولیس فورس جو انگلینڈ میں ہرٹ فورڈ شائر کی کاؤنٹی کی پولیسنگ کے لیے ذمہ دار ہے جہاں شہزاد اکبر رہتا ہے، اور تحقیقات سے واقف ایک انٹیلی جنس ذریعہ نے اس معاملے پر جیو اور دی نیوز سے بات کی۔ہرٹ فورڈ شائر کانسٹیبلری نے کہا کہ یہ (شہزاد اکبر کی شکایت) ایک انتہائی پیچیدہ تفتیش تھی۔ "نومبر کے بعد سے، افسران ملوث افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر، ہم کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں کر سکے۔ اس نوعیت کے واقعات شکر ہے کہ ہرٹ فورڈ شائر میں بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی نئی معلومات سامنے آئیں تو ہم اس کے مطابق کارروائی کریں گے۔

    انٹیلی جنس ذرائع نے اس رپورٹر کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران کوئی مشتبہ شخص نہ ملنے کے بعد تفتیش بند کر دی گئی ہے۔ کئی گھنٹوں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا جس میں رائسٹن کے مقامی علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کا بھی جائزہ لیا گیا لیکن کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہوئی۔ فرانزک نے کوئی پیش رفت نہیں کی اور کوئی سراغ نہیں ملا، اس لیے بغیر کسی کارروائی کے تفتیش کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گزشتہ ہفتے شہزاد اکبر نے اعلان کیا کہ وہ تیزاب گردی کے حوالے سے حکومت پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی قانونی کارروائی کی کاپی لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو پیش کی ہے۔ اس نے کئی پاکستانی سرکاری اہلکاروں کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ شہزاد نے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے حکومت پاکستان کا ہاتھ تھا۔برطانیہ کی پولیس کی جانب سے بغیر کسی مشتبہ شخص کے ملنے والی انکوائری کو بند کرنے پر تبصرہ کرنے کے لیے شہزاد اکبر نے کہا: "میں پہلے ہی یہ بتا چکا ہوں کہ مجھ پر حملے کا ذمہ دار کون ہے، جو پاکستانی حکومت کے کہنے پر کیا گیا۔

    سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،ترجمان دفتر خارجہ
    شہزاد اکبر نے جب خود پر تیزاب پھینکنے کا دعویٰ کیا تھا اسوقت ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آیا تھا، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر مبینہ حملہ، لندن کی مقامی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ہائی کمیشن سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی، شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستان اور پاکستانی اداروں پر الزامات کو مسترد کرتے ہیں،پاکستان بیرون ملک اپنے شہریوں کی حفاظت اور سہولیات کے لیے کوشاں رہتا ہے، بہت سے سیاسی مخالفین نے برطانیہ میں سیاسی پناہ لی اور کئی دہائیوں سے بیرون مالک مقیم ہیں، سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والے بہت سے لوگوں کے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں سے تعلقات تھے،پاکستان مخالف بیانات دینے والوں کے خلاف کسی انتقامی کاروائی پر یقین نہیں رکھتے، ہمیں برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے،امید ہے مبینہ حملے میں مجرموں کی شناخت اور برطانیہ کے قانون کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا، پاکستان تحقیقات پر گہری نظر رکھے گا

    شہزاد اکبر پاکستان میں اشتہاری
    عمران خان دور حکومت میں معاون خصوصی رہنے والے شہزاد اکبر کو پاکستا ن میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے، شہزاد اکبر کو تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمہ میں دو دسمبر کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا،مرزا شہزاد اکبر کو سول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت سے اشتہاری قرار دیا گیا ،شہزاد اکبر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں 8 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔شہزاد اکبر کے خلاف مقدمہ نمبر 156 فراڈ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • سائفر کیس،سزا کیخلاف اپیل پر سماعت بدھ تک ملتوی

    سائفر کیس،سزا کیخلاف اپیل پر سماعت بدھ تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، دوران سماعت عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت نہیں ہوسکی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ پرسوں سماعت کےلیے مقرر کردیں گے، میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے ریگولر بینچ کی کازلسٹ منسوخ کی گئی، میں اس کیس کےلیے یہاں بیٹھا ہوں ورنہ بہتر محسوس نہیں کر رہا ہوں۔

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے اپیلوں پر دلائل کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ کیس بہت طویل ہوگیا ہے، پراسیکیوٹر صاحب اب دلائل مکمل کرلیں اس پر پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ میرا ارادہ قطعی طور پر دلائل کو طوالت دینا نہیں ہے، سلمان صفدر نے رمضان کے مہینے میں بہت لمبے دلائل دیے، میں نے ان کے دلائل کا جواب تو دینا ہے، میرا تاخیر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ سائفر ٹیلی گرام کو 6 مہینے کے بعد ضائع کردیا جاتا ہے، سائفر کی ہر کاپی پر کلاسیفائیڈ ہونے کی مہر لگی ہوتی ہے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے سائفر گائیڈ لائن کتابچہ عدالت کے سامنے پڑھا،

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ سائفر دستاویز اگر ڈی کلاسیفائی بھی ہوجائے تو اس پر وہی طریقہ کار استعمال ہوگا، ڈی کلاسیفائی ہونے کے باوجود بھی دستاویز کو اسی طرح ضائع کیا جائے گا، 31 مارچ کی قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ میں ڈی مارش کا فیصلہ کیا گیا، ڈی مارش کا ایکشن لینے کے فیصلے کے بعد موجودہ سائفر کا عمل مکمل ہوگیا، اس کے بعد اس سائفر کو دفتر خارجہ واپس بھیجنے کے علاوہ کوئی عمل باقی نہیں رہاعمران خان کے علاوہ تمام سائفر کاپیز دفتر خارجہ کو واپس بھجوا دی گئیں، دفتر خارجہ نے واپس آنے والی تمام کاپیز کو تلف کردیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے استفسار کیا کہ عدالت نے سوال کیا تھا کہ کیا ملزم کا دفاع وکیل کی عدم موجودگی میں ہوسکتا ہے؟وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے بیان کی اہمیت کم تو نہیں ہوجائے گی؟ جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر 342 کے دفاع کے بیان میں وکیل کی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر دستاویز دانستہ اور لاپرواہی سے گم کرنے کے دونوں الزامات پر سزا سنائی گئی، کیا یہ دونوں الزامات بیک وقت ہوسکتے ہیں؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ مختلف اوقات کے اقدامات پر دونوں الزامات بیک وقت لگیں گے،سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے، چند حالات کے علاوہ سائفر کو کمرے سے کہیں باہر نہیں لے جایا جاسکتا، سائفر کو کنٹینر میں رکھ کر غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کرنے ہوتے ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان نے سائفر دستاویز موصول کرنے پر ریسیونگ دی تھی؟ جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے خود نہیں بلکہ اسٹاف نے سائفر دستاویز موصول کی، اعظم خان نے بیان دیا کہ انہیں سائفر کاپی دی گئی اور وہ انہوں نے وزیراعظم کو دے دی، اس ڈاکومنٹ کو سابق وزیراعظم نے اپنے پاس رکھا جو وہ نہیں رکھ سکتے تھے، سابق وزیراعظم نے سائفر کی کاپی اپنے پاس رکھی اور وہ اس کی قانون کے مطابق حفاظت نہیں کرسکے

    اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ دلائل اس ہفتے میں مکمل کر لوں گا ،عدالت نے کہا کہ اگر ایک میں بریت ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں سب میں بریت ہے ، اگر ایک میں سزا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں سب میں سزا ہے ، سائفر کیس کی سماعت بدھ 8 مئی تک ملتوی کر دی گئی،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • امریکی سفیر سے  پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب، بیرسٹر گوہر کی ملاقات

    امریکی سفیر سے پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب، بیرسٹر گوہر کی ملاقات

    امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان سے ملاقات ہوئی ہے

    امریکی سفیر سے ملاقات میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، رؤف حسن بھی شامل تھے،ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے چیمبر میں ہوئی،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،

    ملاقات کے بعد عمر ایوب کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ نے ہم سے رابطہ کیا تھا،امریکی سفیر ملنا چاہتے ہیں،ہم نے انہیں کہا ضرور ملیں گے،خفیہ نہیں بلکہ پراپر چینل کے زریعے ملیں گے ،امریکی سفیر سے ملاقات اچھی رہی,پبلک اکاونٹس کمیٹی کا فیصلہ سیاسی کمیٹی کو خان صاحب نے سپرد کیا تھا،فائنل فیصلہ بانی چیئرمین ہی کرینگے ،وزارت خارجہ کے کہنے پر امریکی سفیر سے ملاقات کی،ملاقات میں ملٹری بیسز کے حوالے سے کوئی بات نہیں کوئی،امریکی سفیر اور پولیٹیکل آفیسر ملاقات میں موجود تھے۔لندن پلان کے تحت بانی پی ٹی آئی کو ہٹایا گیا، امریکی سفیر یا کسی غیر ملکی کے سامنے اپنے تحفظات نہیں رکھیں گے۔بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں انہوں نے اپنے با ہمت کارکنان کو پیغام دیا تھا، کارکنان کی ہمت اور حوصلے کی تعریف کی اور کہا کہ ایسے ہی ڈٹے رہیں،آج کے اجلاس میں الیکشن کے حوالے سے بات ہوئی ، اجلاس میں نو مئی کے حوالے سے بھی غور کیا گیا، اجلاس میں نو مئی کو ہونے والے احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی گئی،دھرنے کی کال صرف بانی چیئرمین ہی دے سکتے ہیں، جب تک لیٹر کی صورت میں ہمیں دھرنے کی کال نہیں آئے ہم نے دھرنا نہیں کرنا، شعیب شائین کو تنظیم سازی کا کام سوپنا گیا ہے، بانی پی ٹی کی سب سے زیادہ فوکس تنظیم سازی کے اوپر ہے،مشکل دن آرہے ہیں، ہم نے منظم رہنا ہے، ہم پر گولیاں برسائی، لاٹھی چارج کیا گیا ہم نہیں ٹوٹے، ہمارے چادر چاردیواری کا تقدس پامال ہوا ہم نہیں ٹوٹے،ہمارے خلاف فارم 47 کے ذریعے لوگ لائے گئے ہم نہیں ٹوٹے، اب ہمارا دشمن ہمیں آپس میں لڑوا رہا ہے،

    پی ٹی آئی رہنماؤں سے امریکی سفیر کی ملاقات کا سفارتخانے کی جانب سے اعلامیہ جاری
    امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد امریکی سفارتخانے کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، قائم مقام امریکی مشن کے ترجمان تھامس مونٹگمری کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے آج قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان اور حزب اختلاف کے دیگر سینئر اراکین سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات ،اقتصادی اصلاحات، انسانی حقوق کے لئے امریکی حمایت، علاقائی سلامتی سمیت اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا،پاکستانی عوام کے لیے مستحکم اور محفوظ مستقبل کے لیے پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے طویل مدتی اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اس کے اصلاحاتی پروگرام پر تعمیری انداز میں شمولیت کے لیے امریکہ کی حمایت پر زور دیا۔امریکی سفیر نے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کی اہمیت اور ہمارے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے بہت سے مواقع پر روشنی ڈالی، ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کیلئےآئی ایم ایف پروگرام پر امریکا کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

    امریکی سفیر سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات میں دونوں اطراف سے باہمی روابط کے تسلسل پر بھی اتفاق
    پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم کی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف عمر ایوب خان سے ملاقات ہوئی، عوام کے ووٹ کے حق کے خلاف ریاستی یلغار، بنیادی سیاسی آزادیوں پر عائد اعلانیہ اور غیراعلانیہ قدغنوں اور اظہار و ابلاغ کی آزادیوں کے خلاف غیرقانونی انتظامی اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی ،بانی چیئرمین عمران خان، ان کی اہلیہ، تحریک انصاف کے مرد و خواتین قائدین کارکنان سمیت سینکڑوں سیاسی قیدیوں کے خلاف ماورائے دستور و قانون سیاسی انتقام کے رواں سلسلے پر بھی بات چیت کی گئی،امریکی سفیر کی جانب سے پاکستان کی کثیرالجہتی ترقی میں بطور شراکت دار کردار ادا کرتے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،ملاقات میں دونوں اطراف سے باہمی روابط کے تسلسل پر بھی اتفاق کیا گیا،

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس، کمیشن کی رپورٹ پر چیف جسٹس برہم

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس، کمیشن کی رپورٹ پر چیف جسٹس برہم

    فیض آباد دھرنا نظرِ ثانی کیس،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر افغان بینچ کا حصہ تھے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان سے سوال کیا کہ اس کیس کو آخر میں سنیں گے،الیکشن کمیشن نے رپورٹ جمع کرائی آپ نے وہ دیکھی ہے،اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے جواب دیا کہ ابھی الیکشن کمیشن کی رپورٹ نہیں دیکھی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تب تک رپورٹ کا جائزہ لے لیں اس کیس کو آخر میں سنتے ہیں، فیض آباد دھرنا کیس ساڑھے 11 بجے سنیں گے۔

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے روسٹرم پر آکر کہا کہ بینچ 2 میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس ہے میں نے ساڑھے 11 بجے وہاں پیش ہونا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان کوہدایت کی کہ پھر آپ وہاں سے فارغ ہو جائیں تو ہمیں بتا دیں پھر کیس سن لیں گے۔

    کمیشن نے کوئی فائنڈنگ نہیں دی، ہمارا وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں؟چیف جسٹس
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالتِ عظمیٰ میں دوباہ پیش ہوئے جہاں انہوں نے اٹارنی جنرل عدالت میں فیض آباد دھرنا کیس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پڑھ کر سنائی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے کوئی فائنڈنگ نہیں دی، ہمارا وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں؟ کمیشن کوئی فائنڈنگ تو دے ہی نہیں رہا، 15 نومبر 2023ء کا ہمارا آرڈر بھی پڑھیں، آپ 2019ء کا آرڈر پڑھ رہے ہیں، 2023ء والا آرڈر پڑھیں کہ آگے بھی پڑھیں پاکستان بنتا کیسے اور تباہ کیسے کیا جاتا ہے؟

    یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پنجاب سے اسلام آباد آ ہی نہیں سکتے، کون ہے وہ شخص رانا ثناء اللّٰہ؟ چیف جسٹس
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے 15 نومبر 2023ء کا سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ سب 2007ء میں شروع ہوا اور ہم 2024ء میں پہنچ گئے،پوری دنیا میں احتجاج ہو رہا ہے، کمیشن نے کیا کیا؟ کمیشن نے پورا وقت ضائع کیا، احتجاج کرنا جمہوری حق ہے، ایک شخص کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے، کراچی میں 55 لوگ مر گئے، کوئی بات ہی نہیں، 9 سال کا بچہ مر گیا کوئی بات ہی نہیں، فلسطین کے حوالے سے دنیا بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں، فلسطین کے حوالے سے حتیٰ کہ یورپ میں پُرامن مظاہرے ہو رہے ہیں، انہوں نے کیا کیا ہے؟ کمیشن والے تقریر جھاڑ رہے ہیں، نہ آپ پارلیمان ہو نہ حکومت، آئین تو شہریوں کو نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے، نقل و حرکت کی اجازت تو آئین دیتا ہے، ہم نہیں روک رہے، یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پنجاب سے اسلام آباد آ ہی نہیں سکتے، کون ہے وہ شخص رانا ثناء اللّٰہ؟مجھے تو یہ رپورٹ پڑھ کر تعجب ہو رہا ہے، جملہ تو کم از کم صحیح بنا لیتے کہ کس نے یہ خلاف ورزی کی ہے، یہی تو پوچھ رہے ہیں کہ بتاؤ کس نے یہ خلاف ورزی کی؟ ان کو پالیسی اور حلف میں فرق کا نہیں پتہ؟

    ہجوم پتھراؤ کر رہا تھا، گاڑیوں کو آگ لگا رہا تھا، آپ کی اس میں کوئی مداخلت نہیں تھی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہجوم پتھراؤ کر رہا تھا، گاڑیوں کو آگ لگا رہا تھا، آپ کی اس میں کوئی مداخلت نہیں تھی، ان کو بتانا چاہیے کہ اگر آپ آئی جی پر ذمے داری ڈال رہے ہیں تو لکھتے، کون تھا اس وقت آئی پنجاب؟ کمیشن نے کچھ نہیں لکھا، یہ کس قسم کی رپورٹ ہے؟ کمیشن نے کیا لکھا؟ اے بی سی ہی لکھ دیتے، رپورٹ میں ایک طرف وفاقی حکومت اور پھر صوبائی حکومت لکھا ہے، ڈنڈے مارنے چاہئیں یا گولیاں مارنی چاہئیں؟ کیا کرنا چاہیے؟ اس میں کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی، یہ کوئی سفارشات تو دے دیتے، ہم کیا قانون سکھا رہے ہیں،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کمیشن رپورٹ سے متعلق اعتراف کیا کہ اس میں کوئی سفارشات نہیں ہیں۔

    فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کر لیا جاتا تو 9 مئی کے واقعات نہ ہوتے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ انگریزی محاورے استعمال کرنے ہیں تو صحیح تو استعمال کر لیں، یہ کیا ہے، ان کا اِن پٹ کیا ہے؟ کمیشن نے کہا کہ پاکستان میں قانون موجود ہے، عمل کر لیں، اچھا بھئی پھر آپ نے کیا کیا ہے؟ کمیشن نے پوچھا چوری تو نہیں کی انہوں نے کہہ دیا نہیں کی، فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کر لیا جاتا تو 9 مئی کے واقعات نہ ہوتے، انہوں نے کہا کہ قانون پڑھا دیتے ہیں، کتنا خوبصورت اتفاق تھا سب نے نظرِ ثانی درخواستیں واپس لے لیں، کیا نظرِ ثانی درخواستیں واپس لینے والوں سے پوچھا؟ پوری رپورٹ میں کہیں لکھا ہے کہ ہم نے ان کو بلوایا ہے؟ ان کو گھر پر سوالات بھجوا دیے، حسنِ اتفاق دیکھیے، ہمیں بہت مایوسی ہوئی، پتہ نہیں کیوں وقت ضائع کیا؟ کیا ٹی ایل پی کی جانب سے کسی کو بلایا گیا؟اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے جواب دیا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے کسی کو نہیں بلایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ٹی ایل پی والوں کو ہی کو بلا لیتے، وہ شاید مدد کر دیتے، ٹی ایل پی اس کیس میں ایک فریق تھی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بتایا کہ جن سے اسلحہ برآمد ہوا ان کو بھی نہیں بلایا گیا،جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے کھانا اور ناشتہ دیا ان کو تو بلا لیا گیا، اگر نہیں بلایا تو ٹی ایل پی والوں کو نہیں بلایا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمیشن کو ٹی ایل پی کو بلانا چاہیے تھا، ان کا مؤقف آنا ضروری تھا، کمیشن کے لوگ آفس سے تو نکلیں ہی نہیں، یہ کہاں بیٹھے تھے، کمیشن کے لوگ تو کہیں گئے ہی نہیں، رپورٹ بیٹھے بیٹھے دے دی، محاورے پر محاورے بنا کر رپورٹ دے دی، کمیشن 12 مئی کے دھرنے کو گول کر گیا، پتہ نہیں یہ کدھر سے آ گئے ہیں لوگ، کمیشن نے بس گھسے پٹے محاورے جوڑ کر رپورٹ بنا دی۔

    یہ تو لگتا ہے صرف جنرل فیض کو بری کرنے کے لیے یہ سب کرنا تھا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا پالیسی تھی؟ آئی ایس آئی کی ڈومین کی یہ بات کہاں سے اٹھا کر لے آئے، یہ اتنے بااثر شخص سے کیسے سوال پوچھ سکتے ہیں؟ جنرل فیض کا کتنی مرتبہ انہوں نے حوالہ دیا ہے، یہ تو لگتا ہے صرف جنرل فیض کو بری کرنے کے لیے یہ سب کرنا تھا، ہم نے تو جنرل فیض کا لکھا نہیں تھا، انہوں نے جنرل فیض کو کتنی مرتبہ بلایا؟اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے جواب دیا کہ جنرل فیض کو ایک مرتبہ بلایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کمیشن کیسے قانون سازی کا کہہ رہا ہے؟اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے جواب دیا کہ جنرل فیض کو سوال نامہ بھیجا گیا تو ان کا جواب آیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موبائل فون کا ایک بٹن دبا دیں تو اس سے ریکارڈنگ ہو جاتی ہے، یہ اس آدمی کو کیسے بری کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں؟ آرمی حکومت کا حصہ ہے، آرمی کیسے سیکرڈ ہو گئی، جو کام کمیشن کو دیا تھا وہ کام نہیں کیا، جو کام نہیں دیا وہ کر رہے ہیں،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کمیشن ہمیں کہہ رہا ہے کہ مصطفیٰ کیس پر نظرِثانی کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سینئر بیوروکریٹ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے، پتہ نہیں یہ کس قسم کی رپورٹ ہے، رپورٹ میں کوئی ایک چیز بتا دیں، ایک ڈی جی سی آ کر کہہ گیا کہ میرا یہ مینڈیٹ ہی نہیں، یہ مینڈیٹ نہیں تو پھر رپورٹ میں لکھنا چاہیے تھا، آپ آؤٹ آف وے جا کر ان کا ذکر کررہے ہو، پھر آپ آؤٹ آف وے جا کر ان کو بری کر رہے ہو،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ بلوچستان میں آئی ایس آئی کے کہنے پر امپورٹر ایکسپورٹر کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے، یہاں وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ان کا مینڈیٹ ہی نہیں۔

    کمیشن والے جنرل فیض اور ابصار عالم کو آمنے سامنے بٹھا لیتے، چیف جسٹس
    سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم روسٹرم پر آ گئے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ میں میرا بھی ذکر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابصار عالم نے بتایا کہ جنرل فیض نے ان سے رابطہ کیا، رپورٹ میں کہا گیا کہ ابصار عالم سے جنرل فیض کے رابطے کا ثبوت نہیں، جبکہ ابصار عالم کہہ رہے ہیں کہ رابطہ کیا ہے، اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ رابطہ نہیں کیا تو کمیشن جنرل فیض کو بلا لیتا، کمیشن والے جنرل فیض اور ابصار عالم کو آمنے سامنے بٹھا لیتے، کمیشن والے ان سے سوال جواب کرتے اور نتیجہ لکھ دیتے، ایک کو مسترد کر دیں اور دوسرے کو مان لیں یہ درست نہیں، اگر ابصار عالم پر یقین نہیں کر رہے تھے تو ان سے سوال جواب کرتے،سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے کہا کہ میرے بارے میں کمیشن آدھا مان رہا ہے اور آدھا نہیں مان رہا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کی فنانسنگ کو دیکھنے سے متعلق یہ کہہ رہے ہیں ان کا کام نہیں، اہم متاثرہ فریق ٹی ایل پی تھی اس سے بھی کچھ نہیں پوچھا، ہم جنرل فیض کو نوٹس کر دیتے ہیں کہ اس کو مانتے ہیں یا نہیں،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کمیشن ابصار عالم کا بیان حلف پر لے رہا ہے، جنرل فیض کا بیان نہیں لے رہا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے کمیشن کی رپورٹ کی ابھی توثیق نہیں کی، سرکار کی مرضی ہے رپورٹ پبلک کرے نہ کرے۔

    حیران کن طور پر کمیشن نے تحریکِ لبیک کے کسی رکن کا بیان ریکارڈ نہیں کیا،حکمنامہ
    اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا،سپریم کورٹ نے اپنے آج کی سماعت کے حکم نامے میں کہا ہے کہ 3 رکنی کمیشن نے 8 والیوم پر مشتمل اپنی رپورٹ پیش کی، اٹارنی جنرل نے کمیشن کے ٹی او آرز پڑھ کر سنائے، اٹارنی جنرل نے کمیشن کے نتائج اور سفارشات کو پڑھا، فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ ٹی او آرز پر پوری نہیں اترتی، کچھ لوگوں کا حلف پر بیان لیا گیا، کچھ لوگوں کو سوالنامے بھیجے گئے، حیران کن طور پر کمیشن نے تحریکِ لبیک کے کسی رکن کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، کمیشن نے فیصلے کے کئی اہم نکات کو نظر انداز کیا، وفاقی حکومت بتائے کہ کیا وہ رپورٹ عام کرنا چاہتی ہے یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے اپنی سر بمہر رپورٹ پیش کر دی ہے، اٹارنی جنرل نےرپورٹ پر حکومتی ردِ عمل سے آگاہ کرنے کے لیے 2 ہفتے کا وقت مانگا، اس حکم نامے کی ایک کاپی کمیشن کے ارکان کو بھجوائی جائے، کمیشن کے ارکان چاہیں تو وہ عدالت کی ابتدائی آبزرویشنز پر اپنا ردِعمل دے سکتے ہیں، کمیشن کے ارکان چاہیں تو تحریری یا عدالت میں پیش ہو کر اپنی پوزیشن واضح کر سکتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ کمیشن کے ارکان ہمیں قائل کر لیں کہ یہ بہت اچھی رپورٹ دی ہے۔

    فیض آباد کمیشن ایک مذاق تھا، اس رپورٹ کی کوئی وقعت نہیں،خواجہ آصف

    احسن اقبال نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کے حوالے نئے راز افشا ں کر دئے

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • سعودی عرب پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتا ہے،سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری

    سعودی عرب پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتا ہے،سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری

    سعودی نائب وزیرِ سرمایہ کاری ابراہیم بن یوسف المبارک نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے انتہائی موزوں سمجھتا ہے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری فورم 2024ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری ابراہیم بن یوسف المبارک کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی سعودی عرب کی ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں، سعودی عرب پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتا ہے،سعودی سرمایہ کار پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نجی و سرکاری شعبے میں شراکت دار ی کو بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں ،

    آئندہ کوشش کریں پرائیویٹ سیکٹر کے لوگ فرنٹ پر ، وزراء اور بیوروکریٹ پچھلی سیٹیوں پر بیٹھا کریں،وزیر خزانہ
    پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری فورم 2024ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پچھلے 10 سال سے پاکستان کی کرنسی میں استحکام آیا ہے زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، ہمیں ایکسپورٹ کو بڑھانا ہے، توانائی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، حکومت کا کام پالیسی فریم ورک دینا ہے، پرائیوٹ سیکٹر کولیڈ کرنا چاہیے، آگے بیٹھنا چاہیے، ہم وزراء اور بیورو کریٹس کو پیچھے بیٹھنا چاہیے،

    سعودی کمپنیوں کےدورے سےروزگار کےمواقع ملیں گے، مصدق ملک
    علاوہ ازیں وفاقی وزرا عطا تارڑ، جام کمال ، مصدق ملک نے پریس کانفرنس کی ہے، اس موقع پر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سعودی تجارتی وفد پاکستان کے اہم دورے پر ہے، پاکستان اور سعودیہ کے مابین گزشتہ چند ہفتوں میں اہم تجارتی دورے اور گفتگو ہوئی، پاکستان سعودی وژن 2030 کیلئے بھی کردار ادا کرے گا، سعودی سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، سعودی کمپنیز کے ساتھ ایک ایک کوآرڈینیٹرمنسلک کیا گیا ہے، ہم نے ملک کی ترقی کیلئے دن رات کوشاں رہنا ہے، ملک کےمختلف حصوں میں چھوٹے اور بڑے کاروبار کا جال بچھے گا، پہلے حکومت سے حکومت کےدرمیان معاہدے ہوئے، اب بزنس سے بزنس کے معاہدے ہوں گے،

    سعودی عرب کے تاجر پاکستان کی معیشت میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں،جام کمال
    جام کمال کا کہنا تھا کہ دنیا میں معیشت کو اہمیت حاصل ہے،موجودہ دور میں معیشت خارجہ پالیسی کی بنیاد اور قوموں کو استحکام دیتی ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہے،حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرے گی، سعودی عرب کے تاجر پاکستان کی معیشت میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں،کئی سعودی سرمایہ کار نجی حیثیت میں بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں، پاکستان کی ترقی میں تاجر برادری کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا،مختلف مرحلوں میں سعودی تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے، بزنس سیکٹر کو فروغ دینا وزیراعظم کا وژن ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف آج سعودی وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے، نائب وزیر سرمایہ کاری کی قیادت میں 30 بڑی سعودی کمپنیوں کے 50 اہم افراد پاکستان کے دورے پر ہیں۔وی آئی پی پروٹوکول اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، وزیر مہمان داری کے لئے مصدق ملک اور جام کمال مقرر کئے گئے ہیں،

    سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کا اعلیٰ سطح کا وفد گزشتہ شب پاکستان پہنچا تھا،سعودی وفد میں 30سے زائد کمپنیوں کے سرمایہ کار شامل ہیں، وفاقی وزرا مصدق ملک اور جام کمال نے سعودی وفدکا استقبال کیا، سعودی وفد میں ٹیکنالوجی، توانائی، ہوابازی، تعمیرات، مائننگ اور ہیومن ریسورسز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 30 کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں،

    سعودی عرب میں موجود وزیراعظم کی امیر کویت سے ملاقات

    سرمایہ کاری سےمتعلق پاکستان ہماری ترجیح ہے،سعودی وزیر کی وزیراعظم کو یقین دہانی

    وزیر اعظم شہباز شریف کادورہ سعودی عرب،صدر اسلامی ترقیاتی بینک ڈاکٹرمحمد سلیمان الجاسر سے ملاقات

    چاہتے ہیں کہ پاک ،سعودیہ معاشی تعلقات سعودی ویژن 2030 کے تناظر میں آگے بڑھیں، آل تویجری

    سعودی عرب نےہرمشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا،علامہ طاہر اشرفی

    خواجہ آصف کا سعودی عرب کے حوالے سے شیر افضل مروت کے بیان پر ردعمل

    سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اگلے مہینے مئی میں پاکستان کا دورہ متوقع 

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا عام پرواز میں‌سفر،مسافروں کو ملی اذیت،پی آئی اے کو بھی نقصان

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا 3 روزہ دورہ مکمل 

    شہزادہ محمد بن سلمان کا وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو افطار کی خصوصی دعوت

    وزیراعظم کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری ،ملک و قوم اورفلسطین کیلئے خصوصی دعائیں کی

    پاک سعودی عرب انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقادخوشحالی کی نوید ہے،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان آنے والے سعودی تجارتی وفد کا خیر مقدم کیا ہے، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پاک سعودی انویسٹمنٹ کانفرنس نے کامیابی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آنے والے سعودی سرمایہ کاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں، سعودی عرب سے تاریخی برادرانہ رشتہ،معاشی تعلقات میں تبدیل ہورہا ہے، سعودی عرب پاکستان کا ہر دور میں قابل اعتماد برادر ملک ہے،پاک سعودی عرب انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقادخوشحالی کی نوید ہے،30سعودی کمپنیوں کے 50رکنی وفد کی آمدسعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان سے لگاؤ کا واضح ثبوت ہے،سعودی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے درمیان براہ راست ایگریمنٹ خوش آئند امر ہے،

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

    مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

    سپریم کورٹ ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کیس کی سماعت ہوئی،

    دائر اپیل پر سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں قومی اسمبلی کے اعدادو شمار دیں، اُن میں سے کتنے آزاد امیدوار ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ چارٹ کے مطابق ٹوٹل قومی اسمبلی میں 82 سیٹس ہیں آپکی مخصوص سیٹیں نیشنل اسمبلی میں کتنی بنتی ہیں تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا 23 ہماری مخصوص بنتی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا وہ فارمولا بتائیں جس کے تحت 23 بنتی ہیں،بیرسٹر گوہر نے کہا آرٹیکل 51 ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا 51 فارمولا نہیں ہے۔ سات امیدوار تاحال آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا حصہ ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آزاد جیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے بنچ پر اعتراض کیا گیا، وکیل خواتین اراکین اسمبلی نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 51 کی تشریح کا مقدمہ ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت کیس پانچ رکنی بنچ سن سکتا، وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بنچ پر اعتراض کر دیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان بے کہا کہ اپیلیں لارجر بنچ ہی سن سکتا ہے، عدالت نے بنچ پر اعتراض مسترد کر دیا

    انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے صرف الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آزاد اراکین کو کتنے دنوں میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آزاد اراکین قومی اسمبلی کو تین روز میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے،دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے اور آزاد جیتے ہوئے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مخصوص نشستوں کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جماعت کیا اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق مخصوص نشستیں لے گی یا زیادہ بھی لے سکتی ہے؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت اپنے تناسب سے زیادہ کسی صورت مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی،

    قانون میں کہاں لکھا بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں بانٹی جائیں گی؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک بات تو طے ہے جس جماعت کی جتنی نمائندگی ہے اتنی ہی مخصوص نشستیں ملیں گی،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ، کیا جس پارٹی سنی اتحاد کونسل کی بات کی جا رہی ہے، وہ رجسٹرڈ ہے؟کیا اُسے انتخابی نشان الاٹ کیا گیا تھا؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ جی بالکل سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ ہے اور اسے انتخابی نشان الاٹ کیا گیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں بانٹی جائیں گی؟ عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کریں گے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن حکام کو ساڑھے گیارہ بجے طلب کرلیا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے۔عدالت نے سماعت آج 11:30 بجے تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن حکام کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر نمٹانا چاہتے ہیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت وقفہ کے بعد شروع ہو گئی،الیکشن کمیشن حکام سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے،سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کردی،جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس کیس میں دو اہم سوالات آپ سے پوچھیں گے،سلمان اکرم راجہ کے بعد آپکو سنتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے کہا کہ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں اس لیے مخصوص نشستیں نہیں مل سکتی لیکن بعد میں اسے سیاسی جماعت قبول کر کے فہرست جاری کر دی، الیکشن کمیشن کے فیصلے تو آپس میں ہی مطابقت نہیں رکھتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے تناسب سے تو نشستیں لے سکتی ہیں،باقی نشستیں انہیں کیسے مل سکتی ہیں؟جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا باقی بچی ہوئی نشستیں بھی انہیں دی جاسکتی ہیں؟قانون میں ایسا کچھ ہے؟ اگر قانون میں ایسا کچھ نہیں تو پھر کیا ایسا کرنا آئینی اسکیم کے خلاف نہیں؟اگر قانون میں ایسا نہیں تو پھر کیا ایسا کرنا آئینی اسکیم کے خلاف نہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن سوموٹو اختیار سے بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہیں جماعتوں کو نہیں دی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو کام ڈائریکٹ نہیں کیا جاسکتا وہ ان ڈائریکٹ بھی نہیں ہوسکتا، ایک سیاسی جماعت کے مینڈیٹ کو ان ڈائریکٹ طریقے سے نظر انداز کرنا کیا درست ہے؟

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق تحریک انصاف کی درخواستیں سماعت کےلئے منظور کر لیں ،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر رہے ہیں، تاہم فیصلوں کی معطلی صرف اضافی سیٹوں کو دینے کی حد تک ہوگی، سپریم کورٹ نے تحریکِ انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق تحریکِ انصاف کی درخواست پر سماعت 3 جون تک ملتوی کر دی

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا،پشاور ہائیکورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں،اسپیکر کے پی نے پشاور ہائیکورٹ فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں.

    اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی،بیرسٹر گوہر
    عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا،وفاقی وزیر قانون
    مخصوص نشستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ فیصلے کی معطلی پر حکومتی مؤقف سامنے آ گیا ،وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا عدالت عظمیٰ کے عبوری حکم نامے پر بیان سامنے آیا ہے، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کے تحت 5 رکنی لارجر بینچ کا معاملے کی سماعت کرنا موزوں ہوتا ،مناسب ہوتا اگر لارجر بینچ ہی کوئی عبوری حکم نامہ بھی جاری کرتا ،یہ آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کا معاملہ ہے، پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار کے معاملے میں امتناع کے حکم سے احتراز برتا جانا چاہیے تھا، منتخب رکن کے قانون سازی کے اختیار پر زد پڑتی ہو تو زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے ، آرٹیکل 67 واضح ہے کہ رکن کی طرف سے کی گئی قانون سازی قانونی نااہلیت کے باوجود برقرار رہتی ہے ،آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا، امید ہے حتمی فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا،

    قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا امکان
    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا حکم نامہ ،قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا امکان ہے،سنی اتحاد کونسل کے کوٹے کی 23 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کی گئی تھیں،قومی اسمبلی میں خواتین کی 14 مخصوص نشستیں ن لیگ کو دی گئی تھیں ،خواتین کی چار مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی دو جے یو آئی کو دی گئی تھیں،اقلیتوں کی تین مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی میں تقسیم کی گئی تھیں،20 اراکین کی معطلی سے حکمران اتحاد کی پارٹی پوزیشن بھی متاثر ہوگی ،اس وقت 227 اراکین پر حکمران اتحاد مشتمل ہے جو کہ20 اراکین کی معطلی کے بعد 207 رہ جائے گی ،حکمران اتحاد کی دو تہائی اکثریت بھی ختم ہو جائے گی،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا موقف سامنے آگیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے اس کیس میں ہمیں کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا ۔مخصوص نشستوں پر بعد میں 23 اراکین نے حلف لیا تھا،اس حوالے سے نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن کی طرف سے موصول ہوا تھا ،اب بھی ان اراکین کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن سے آنا ہے،جیسے ہی الیکشن کمیشن کوئی حکم یا نوٹیفیکیشن بھجواتا ہے اس پر عمل ہو گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے براہ راست مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرنے کی صورت میں اپیل میں جانے کا امکان
    دوسری جانب اسپیکر سندھ اسمبلی نے بھی قانونی ماہرین سے مشاورت کی ہے،شارٹ آرڈر یا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد اسپیکر سندھ اسمبلی فیصلہ کریں گے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے براہ راست مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرنے کی صورت میں اپیل میں جانے کا امکان ہے،پیپلزپارٹی کو دو اور ایم کیو ایم کو ایک مخصوص نشست اضافی ملی ،سمیتا افضال سید ، سریندر ولاسائی پی پی جبکہ فوزیہ حمید ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھیں،سندھ اسمبلی اجلاس میں آئندہ سال کےلیے بجٹ تجاویز پیش کی جائیں گی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف

    پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف سامنے آئی ہے،

    سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کی اسکیم منظور کرلی ہے، اس ضمن میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ” 3 مئی کو پی آئی اے کی نجکاری میں اسکیم آف ارینجمنٹ منظور ہوئی، فیصلے سے اسٹاک مارکیٹ کو بھی آگاہ کردیا گیا، اسکیم آف ارینجمنٹ میں پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ کے تمام اثاثے، خسارے اور قرض پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کردیے گئے ہیں”۔

    سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری میں اہم قانونی پیشرفت سے متعلق وزارت خزانہ اور وزارت نجکاری کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے، اسکیم آف ارینجمنٹ کیلئے وزارت نجکاری نے وزارت خزانہ اور ایوی ایشن کی مشاورت اور معاونت حاصل کی تھی،پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈیپازیٹری اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی کو بھی باضابطہ آگاہ کردیا گیا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی لسٹنگ کیلئے رولز اور ریگولیشن اب باآسانی کی جاسکتی ہیں

    قبل ازیں وفاقی وزیر برائے نجکاری ،سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کےلئے اب تک 10بڑے اداروں نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ابتدائی دستاویزات حاصل کر لی ہیں جبکہ پرائیویٹائزیشن کمیشن پی آئی اے کی نجکاری کے لئے15دن کی توسیع کر رہا ہے اور 18مئی تک اظہار دلچسپی کے کاغذات داخل کیے جا سکیں گے اور اس تاریخ میں مزید توسیع نہیں ہوگی۔

    کونسی کمیٹی اپوزیشن کو جائے گی، کونسی حکومت کو ،ملکر طےکرتے ہیں،سپیکر قومی اسمبلی

    متروکہ وقف املاک کی 14 سو47 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے،وزیر قانون

    عمران خان کی سابق معاون خصوصی کو حکومت میں عہدہ مل گیا

    پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض عائد

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گند م درآمد اسکینڈل میں موجودہ حکمران بھی ملوث نکلے، موجودہ حکمرانوں‌کا نام بھی آنے لگا، وزیراعظم شہبا زشریف کے وزارت فوڈ کے وزیر ہوتے ہوئے گندم کی درآمد کا انکشاف ہوا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دستاویز کے مطابق موجودہ دور حکومت میں گندم درآمد کے وقت فوڈ سیکیورٹی کی وزارت بھی وزیراعظم شہبازشریف ہی کے پاس تھی، رواں مالی سال مارچ تک 283 ارب روپے کی گندم درآمد کی گئی، اس وقت وزیراعظم شہباز شریف ہی وزارت فوڈ کے انچارج وزیر تھے،بعد میں 3 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے رانا تنویر کو نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا اضافی قلمدان دیا تھا ، ایک ماہ شہباز شریف اس کے وزیر رہے، وزیراعظم شہباز شریف نے گندم درآمد معاملے پر سیکرٹری فوڈ محمد آصف کو او ایس ڈی کردیا تھا،دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے ماہ 6 لاکھ 91 ہزار 136 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی جبکہ نگران دور میں 27 لاکھ 58 ہزار 226 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی تھی، مارچ 2024 میں 57 ارب 19 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی گندم درآمد کی گئی جبکہ فروری تک 225 ارب 78 کروڑ 30 لاکھ روپے کی گندم امپورٹ ہوئی، رواں مالی سال مارچ تک کل 34 لاکھ 49 ہزار 436 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی، یوں مارچ تک 282 ارب 97 کروڑ 50 لاکھ روپے کی گندم درآمد کی گئی،

    انوارالحق کاکڑ نے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی ذمے داری تحریک انصاف حکومت پر ڈال دی
    سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اگر انہیں گندم تحقیقات کمیٹی نے بلایا تو ضرور جائیں گے، انکی حکومت نے گندم درآمد کرنے کا کوئی نیا قانون منظور نہیں کیا،انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی ذمے داری تحریک انصاف کی حکومت پر ڈال دی اور کہا کہ پرائیوٹ سیکٹر کو گندم کی درآمد کی اجازت دینے کا ایس آر او پی ٹی آئی حکومت نے جاری کیا تھا، ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ وہی ایس آر او 2 سال تک پی ٹی آئی حکومت میں اور 16 ماہ تک پی ڈی ایم حکومت اور آج کی حکومت میں بھی لاگو ہے، ای سی سی نے 30 سے 40 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت کی بات کی، فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری خزانے کی بجائے یہ گندم پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے منگوائی جائے، 60 کمپنیوں نے یہ گندم درآمد کی، 400 ارب گندم کی بات انسپکٹر جمشید کی کہانی کی طرح ہے، تحقیقاتی کمیٹی بلائے گی تو وہ پیش ہوں گے، پرائیوٹ سیکٹر کی بڈنگ حکومت کا کام نہیں، گندم سرکاری خزانے سے درآمد کرنے کو منع کردیا تھا، گندم آرڈر چند دن کے اندر پہنچنا معمول ہے، فرانس کی کمپنی کے پاس فلوٹنگ ویسل ہیں، جو دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں، جہاں ڈیمانڈ ہوتی ہے، وہاں فرانس کی کمپنی اشیا فوراً بھیج دیتی ہے،

    جماعت اسلامی کا کسانوں کے مطالبات کی عدم منظوری پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان
    جماعت اسلامی نے کسانوں کے مطالبات نہ ماننے پر لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان کردیا ہے، ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کسانوں کے حق کےلیے احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا ہے،جماعت اسلامی کے زیراہتمام منگل تک احتجاجی دھرنے جاری رہیں گے، آئندہ 2 دن میں ملک میں احتجاجی کیمپ اور مظاہروں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو منگل تک کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ گندم خریدیں،6 مئی تک حکومت نے مطالبات نہیں مانے تو وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان ہوگا

    خیبر پختونخوا حکومت نے گندم خریدنے کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں،وزیر خوراک خیبر پختونخوا ظاہر شاہ طورو کا کہنا ہے کہ گندم کا معیار جانچنے کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں، گندم خریداری مہم 7 مئی سے شروع کی جائے گی، خریداری مراکز میں سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جائے گی،گندم خریداری ایپ متعارف کروائی گئی ہے، شکایات کےلیے مانیٹرنگ کنٹرول روم قائم کیا جائے گا، گندم خریداری مہم میں شفافیت یقینی بنائیں گے، 24 گھنٹے کے اندر بینک کے ذریعے کاشتکاروں کو ادائیگی ہوگی، محکمہ خوراک نے ایس او پی سے متعلق تمام متعلقہ حکام کو مراسلہ جاری کر دیا

    گندم خریداری میں دانستہ تاخیر کے باعث کسان مڈل مین کے رحم و کرم پر ہے’ ہمایوں اختر خان
    سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم خریداری میں دانستہ تاخیر کے باعث کسان مڈل مین کے رحم و کرم پر ہے ،ایسے حالات میں جب ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے گو مگو کی صورتحال کی وجہ سے کسان شدید تشویش میں مبتلا ہے ،حکومت مستقبل میں اس طرح کے حالات سے بچنے کیلئے کسانوں کیلئے وئیر ہائوسز کی سکیم کو فعال کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ این اے 97کے دورہ کے موقع پر کسانوں ، سماجی شخصیات اور علاقہ عمائدین سے ملاقاتوں میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ہمایوں اختر خان نے عطا المصطفیٰ، رانا تنویر، ملک شہباز،اسد اقبال،حافظ نعیم،میاں عبد الرحمان،رانا مشتاق، غلام رسول آرائیں،ملک وریام،ملک نصیر ، ملک عمران نمبردار ،رانا محمد شہزاد،وقار حسین اور دیگر سے ملاقاتیں کر کے حلقے کے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ہمایوں اختر خان نے مختلف شخصیات سے انتقال کر جانے والے ان کے عزیز و اقارب کے انتقال پر اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی ۔سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا کہ ہم کسان کے ساتھ ہیں اور اس کے استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ، آج کسان کے پاس آئندہ فصل کاشت کرنے کیلئے سرمایہ نہیں ہے ، حکومت فی الفور اعلان کردہ نرخوں پر گندم کی خریداری شروع کرے ، حکومت نے مشکل حالات میں ہاتھ نہ تھاما تو کسان متنفر ہو جائے گا جس کے انتہائی منفی اثرات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ وئیر ہائوسز کی سکیم فعال ہو تاکہ کسان اپنی فصل رکھوا کر اس کے عوض مالی معاونت حاصل کر کے آئندہ فصل کی تیاری کر سکے ، ہم اپنے ساتھیوں کے ذریعے اس آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچائیں گے

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    دوسری جانب وزیراعظم آفس کو اعلی متعلقہ حکام نے گندم کے حوالہ سے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ نگراں حکومت کے دور میں وزارت خزانہ کی سفارش پر نجی شعبے کو مقررہ حد کی بجائے کھلی چھوٹ دی گئی ،گندم کے ٹریڈرزنے اربوں روپے کا کھیل کھیلا،کسٹم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی چھوٹ بھی دی گئی، نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کی منظوری ملنے کے بعد وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے سمری ارسال کی ۔وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے وزارت تجارت اور ٹی سی پی کی اہم تجاویز کو نظرانداز کیا ،منظم منصوبے کے تحت اضافی گندم درآمد ہوئی جس سے 300 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا پاسکو اور صوبائی محکمے مطلوبہ ہدف 7.80 کی بجائے 5.87 ملین ٹن گندم خرید سکے 28.18 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی،2.45 ملین ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی