Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    تحریک انصاف کا سیاسی مستقبل خطرے میں،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا،

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے حالیہ انتخابات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیئے،پارٹی انتخابات کے بغیر جنرل کونسل، مرکزی مجلس عاملہ کے انتخاب اور اجلاسوں پر بھی تحفظات کا اظہارکیا گیا،5 سال سے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ہی نہیں ہوئے تو مختلف پارٹی تنظیمیں کیسے کام کر رہی ہیں، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کی کوئی باڈی نہیں بچی، نہ ہی کوئی انتخابی نشان ہے، مسلسل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 208 کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، کیوں نہ پارٹی کے خلاف کاروائی کی جائے،

    الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ جب باڈیز ہی نہیں تو جنرل باڈی کا اجلاس کیسے بلایا جا سکتا ہے؟ جنرل باڈی کے تحت کیسے چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جا سکتا ہے؟الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے تحفظات پر تحریری طور پر جواب طلب کر لیا،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف انٹراپارٹی الیکشن کے خلاف درخواستگزاروں کے تحفظات پر بھی جواب مانگ لیا،الیکشن کمیشن تحریری جواب آنے پر سماعت مقرر کرے گا،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،

    عمران خان کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان ریاض گل ،ایف آئی اے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ اور ذوالفقار عباس نقوی عدالت پیش ہوئے، عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنما عامر مغل اور دیگر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت بھی عدالت پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی۔

    سلمان صفدر نے کہاکہ تجسس ہے حامد علی شاہ کب اپنے دلائل مکمل کریں گے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ دلائل کیلئے ایک دن لگے گا، پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے خود 14 روز وقت لیا ہے،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ حکومت جتنا وقت لے رہی ہے اتنا کیس کو سنبھالنا پڑ رہاہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے عمران خان کا 342 کا بیان پڑھتے ہوئے کہاکہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان سے پوچھا کہ آپ کیخلاف کیس کیوں بنا، عمران خان نے اس سوال کا جواب دیا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کا دفاع کا بیان وکیل کی عدم موجودگی میں ہوا؟کیا وکیل کی عدم موجودگی میں 342کے بیان کے کوئی اثرات ہوتے ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اس نکتے پر تیاری کرکے آئیں اور عدالت کی معاونت کریں، کیا وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے دفاع کے بیان کی اہمیت کم ہو جائے گی؟

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر عدالت میں بیان دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا وہ مقدس کتاب قرآن پاک ہی تھی؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ قرآن پاک ہاتھ میں رکھ کر دیئے گئے بیان کو ہلکا نہیں لیا جاسکتا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ‏آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں دستاویز گم جانے کی جو سزا ہے وہ کس دستاویز کی بات ہے یا کچھ نہیں لکھا ہوا ، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ دستاویز گم ہونے کو قابل احتساب ہونے کے ساتھ پڑھا جائے گا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ‏کیا قابل احتساب دستاویز کو ہم کوڈ کہہ سکتے ہیں؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ ہے عمران خان کے پاس سائفر تھا،دستاویزات کی چار اقسام ہیں،دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا، عدالت نے کہا کہ ان چاروں اقسام میں سے کوئی بھی دستاویز گم ہو جائے تو کیا جرم ہوگا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں خود مانا کہ سائفر ان سے گم ہو گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ دفاع (342) کے بیان میں جو کہا وہی اصل ہے. انٹرویو میں کیا کہا اہمیت نہیں رکھتا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تسلیم شدہ ہے عمران خان کے پاس سائفر تھا،دستاویزات کی 4اقسام ہیں،عدالت نےاستفسار کیا کہ چاروں اقسام میں سے کوئی بھی دستاویزگم ہو جائے تو کیا جرم ہوگا؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا بیرون ممالک سے آنیوالی تمام دستاویزات کانفیڈینشل ہوتی ہیں؟کوئی دستاویز قابل احتساب نہیں وہ گم جائے پھر تاخیر ہے؟وزیراعظم آفس میں تو روزانہ ایک ہزار چٹھیاں آتی ہوں گی،دانستہ نہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک آدھ گم بھی ہو جاتی ہوگی، کیا ہم نے سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ واپس کردیا ہے؟ایف آئی اےپراسیکیوٹر نے کہاکہ جی ہاں، آپ نےواپس کر دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ نہ ہو پھر ہمارے خلاف بھی ایف آئی آر ہو جائے،جو گائیڈ لائنز ہیں ان کو ہم کیا کہیں گے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ اس کو سکیورٹی آف سائفر گائیڈ لائنز کہتے ہیں جوکابینہ ڈویژن نے تیار کی ہیں،عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ سلمان صفدر کو دےدیں۔

    پراسیکیوٹر نے کہاکہ قانون کہتا ہے سائفر گم یا چوری ہونے پروزارت خارجہ اور آئی بی کو آگاہ کرنا ہوتا ہے،سائفر کی 9کاپیوں میں سے ایک کاپی وزیراعظم ہاؤس سے واپس نہیں آئی،باقی 8 کاپیوں کو ضائع کردیا گیا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے وزارت خارجہ رپورٹ عدالت میں پیش کردی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت 6مئی تک ملتوی کردی گئی

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • پاکستان کسی غیر ملکی حکومت یا ملٹری کو اڈے فراہم نہیں کرے گا،  ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کسی غیر ملکی حکومت یا ملٹری کو اڈے فراہم نہیں کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ امریکا کو پاکستان کی جانب سے اڈے دینے کے قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے بیان کی تردید کردی۔

    ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کسی بھی ملک یا حکومت کو اڈے دینے کا ارادہ نہیں، پاکستان اپنی سرزمین یا فضائی حدود کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔پاکستان کے اداروں اور حکام کیخلاف بے بنیاد سوشل میڈیا مہم کی مذمت کرتے ہیں،بے بنیاد اور جھوٹی مہم بند ہونی چاہیے،امریکا کو پاکستان کی جانب سے اڈے دینے کے قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں ہے،اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سے رابطہ کیا جائے،

    شہزاداکبر کے الزامات بے بنیاد ،سوشل میڈیا بے بنیاد مہم کی مذمت کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ شہزاداکبر کی جانب سے پاکستان اور اداروں کیخلاف بیانات کو مسترد کرتے ہیں ،شہزاداکبر کے الزامات بے بنیاد اور سیاسی ہیں،ہم پاکستانی حکام اور اداروں کے خلاف ٹرولنگ اور سوشل میڈیا کی بے بنیاد مہم کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان، چین ، ایران سہ فریقی مذاکرات اہم ہیں،ابھی تک مذاکرات کی تاریخ طے نہیں ہوئی،پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز ہیں،حالیہ عرصے میں پاک ایران روابطہ مضبوط ہوئے،ایران کیساتھ تعاون بڑھانے کیلئے رابطے جاری رکھیں گے،وزیراعظم شہباز شریف نے گیمبیا کا دورہ کرناتھا،مصروفیات کی وجہ سے وزیراعظم کا پلان تبدیل ہوا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار او آئی سی سمٹ میں شرکت کیلئے گیمبیا میں ہیں،پاکستان سمٹ میں غزہ کی صورتحال کو اجاگر کرے گا، امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے مشترکہ حل پر بھی بات کریں گے، امریکی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور وزارت خارجہ میں قائم مقام سیکرٹری سے ملاقات کی،وفد کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر نتیجہ خیز گفتگو ہوئی،تجارت ، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا،

    سیکیورٹی کونسل کو غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں،پاکستان
    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے،جموں کشمیر میں بارشوں سے نقصان ہوا ہے،مقبوضہ کشمیر میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کیساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں،پاکستان کشمیریوں کی املاک چھیننے کے بھارتی عمل کی مذمت کرتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور ناکہ بندی قابل مذمت ہے،پاکستان اسرائیل کی جارحیت اور غیرقانونی آباد کاری کی مذمت کرتا ہے،سیکیورٹی کونسل کو غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں،پاکستان فلسطینی عوام کی حمایت کااعادہ کرتا ہے،اسرائیلی لیڈرز کے رفاہ پر حملے کے بیانات تشویشناک ہیں

    ماورائے عدالت قتل کا بھارتی نیٹ ورک دنیا بھر میں پھیل چکا ہے،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان توانائی شعبے میں بات چیت ہوئی،پاکستان اور سعودی عرب ماریہ کاری کے حوالے سے بات چیت جاری رکھے ہوئےہیں،بھارتی قیادت سیاسی مقاصد کیلئے بیانات دیتی ہے،پاکستان کی افواج اور عوام ملک کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں،بھارتی وزیراعظم کے حالیہ بیان پر تبصرہ نہیں کریں گے،بھارتی نیٹ ورک کئی دہائیوں سے خطے میں متحرک تھا،ماورائے عدالت قتل کا بھارتی نیٹ ورک دنیا بھر میں پھیل چکا ہے،پاکستان نے بھارتی ایجنٹس کے دہشتگرد حملوں کے ٹھوس شواہد دنیا کے سامنے رکھے،بھارتی عمل غیرقانونی اور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے،دنیا بھارت کو اس کے اقدامات پر کٹہرے میں لائے،

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا امریکی وفد کے کے ساتھ جمہوریت کی صورتحال ایران پاکستان گیس پائپ کائن پر بات چیت ہوئی ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں دورے کی تفصیلات میں نہیں جاؤنگی، پاکستان کے امریکہ اور ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں دونوں ممالک کے ساتھ قومی مفاد میں اپنے تعلقات کو بڑھائیں گے،

    ترجمان دفتر خارجہ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جرمن سفیر کے واقعے پر ردعمل میں کہا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جرمن سفیر اور طلباء کے درمیان پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک ہے، غزہ کی صورتحال پر پاکستان سمیت پوری دنیا میں تشویش ہے،

    پاکستان کی ترقی کی راہ میں رخنہ ڈالنے والوں کی تمام کوششیں ناکام ہونگی،آرمی چیف

    سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی

    آرمی چیف کی ہدایت پر سینئر کمانڈرز کی شہید کسٹم اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات

    آرمی چیف سے سعودی نائب وزیر دفاع کی ملاقات

    آرمی چیف کا آواران کا دورہ،شہداء کے اہلخانہ، مقامی عمائدین سے ملاقات

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

  • سندھ حکومت ڈرگ مافیا اور اسمگلنگ کے خلاف بھر پور کام کر رہی ہے،وزیراعلیٰ

    سندھ حکومت ڈرگ مافیا اور اسمگلنگ کے خلاف بھر پور کام کر رہی ہے،وزیراعلیٰ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل بابر افتخار، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی، ڈی جی رینجرز میجر جرنل اظہر وقاص، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب، چیف کلیکٹر کسٹمز یعقوب ماکو، ڈائریکٹر ایف آئی اے زعیم اقبال اور دیگر شریک ہوئے،

    اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس گزشتہ ایپکس کمیٹی کا تسلسل ہے، صدر پاکستان آصف علی زرداری نے امن امان پر کل وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم اجلاس کیا، صدر مملکت نے کچے میں ڈاکوؤں کے سہولتکاروں کو بھی گرفت میں لانے کی ہدایت کی ہے، صدر مملکت نے منشیات کے خلاف آپریشن کو تیز کرنے کی ہدایت دی، صدر پاکستان نے زمینوں پر قبصوں کو ناقابل برداشت قرار دیا، سندھ حکومت صدر مملکت کے احکامات پر مکمل عمل کرے گی، سندھ حکومت صوبے میں امن امان کی بحالی کیلئے سخت اقدامات کر رہی ہے، اسٹریٹ کرائم اور اغوا برائے تاوان کیلئے جامع حکمت عملی بنائی ہے، ان تمام محرکات پر کام ہو رہا ہے جو اسٹریٹ کرائم اور اغوا برائے تاوان کے اسباب ہیں، سندھ حکومت ڈرگ مافیا اور اسمگلنگ کے خلاف بھر پور کام کر رہی ہے،

    منشیات کے کاروبار میں ایک نائیجیرین گرفتار
    اجلاس میں صوبائی وزیر ایکسائیز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس شرجیل انعام میمن نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ایک نائیجیرین کو گرفتار کیا گیا جبکہ حیدرآباد میں کریک ڈاؤن میں 3 منشیات فروش مقابلے میں مارے گئے ہیں،منشیات کے کاروبار سے متعلق 164 مقدمات درج کیے اور 166 گرفتاریاں ہوئی ہیں، کریک ڈاون میں 4.3 کلو گرام ہیروئن، 419.472 کلو گرام چرس اور 1200 کلو گرام بھنگ برآمد کی ہے۔

    منشیات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے اسکولوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں منشیات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے اسکولوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ کا کہنا تھا منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے ادارے قائم کیے جائیں، نارکوٹکس ڈپارٹمنٹ دیگر صوبوں اور وفاقی اداروں کے ساتھ ملکر آپریشن تیز کرے، سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ رابطے میں ہیں جبکہ کور کمانڈر کراچی کا کہنا تھا منشیات کے خلاف آپریشن میں سندھ حکومت کی بھر پور مدد کی جائے گی۔

    کراچی پولیس چیف کے آفس پر حملے کا ایک ملزم مدرسے کا معلم تھا، شرجیل میمن کا انکشاف
    وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی مقیم افراد کو فوری طور پر نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کوئی بھی جرائم پیشہ افراد کی سہولت کاری کرے گا تو ایکشن لیا جائے گا،کراچی پولیس چیف کے آفس پر حملے کا ایک ملزم مدرسے کا معلم تھا، حملے میں معلم کا ملوث ہونا تشویش کی بات ہے، اس طرح کے لوگ کسی بھی یونیورسٹی یا مدرسے میں ہوں ان کی مکمل مانیٹرنگ ہوگی،اب منشیات فروشوں کے برے دن شروع ہوگئے ہیں، منشیات کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، 40 سے 45 دن میں محکمۂ ایکسائز نے 200 ملزمان گرفتار کیے ہیں، اس وقت ایکسائز اور نارکوٹکس کا محکمۂ متحرک ہے، ہم ایکسائز اور نارکوٹکس ڈپارٹمنٹ میں مزید تبدیلی لائیں گے، کچھ لوگ اسکولوں اور گھروں میں منشیات سپلائی کر رہے ہیں،وفاقی اور صوبائی ادارے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، سندھ میں رینجرز، پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس کارروائی کریں گے، غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے، غیر قانونی طور پر مقیم افراد مختلف جگہوں پر شیلٹرز لے رہے ہیں، جہاں یہ شیلٹر لے رہے ہیں اس جگہ کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے

    اسرائیل کا پیسہ استعمال کرنیوالے عمران خان نے ایمانداری کا ماسک لگایا ہوا تھا،شرجیل میمن

    صحافی دوست شرجیل میمن کا اقدام، کراچی پریس کلب کی گرانٹ 5 کروڑ سے 10 کروڑ کر دی

    آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے اراکین کا شرجیل میمن کےوزیر اطلاعات مقرر ہونے کا خیرمقدم

    عمران خان کو سنگین جرائم پر ریلیف دیا گیا، شرجیل میمن

    آئی ایم ایف کو خط لکھنا حب الوطنی نہیں،شرجیل میمن

    استعفیٰ دیتا ہوں سب مل کر میری نشست پر الیکشن لڑ لیں ،شرجیل میمن کا چیلنج

    ہم کسی کی سزا پر خوش نہیں ہوتے،عمران کی اہلیہ قابل احترام ہیں،شرجیل میمن

    جب بھی پیپلز پارٹی نے احسان کیا ، ن لیگ نے پیٹھ میں چھرا گھونپا،شرجیل میمن

    لگ رہا ہے لوگ ن لیگ سے نفرت کر رہے ہیں،شرجیل میمن

  • اپنی آئینی حدود کو بخوبی جانتے، دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری  کی توقع رکھتے ہیں،آرمی چیف

    اپنی آئینی حدود کو بخوبی جانتے، دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری کی توقع رکھتے ہیں،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری) نے پاکستان ائیر فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کیا ہے

    پی اے ایف اکیڈمی رسالپورمیں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب ہوئی، بری فوج کے سربراہ سید عاصم منیر تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،”آپ ہماری امیدوں کا مرکز، آسمانوں کے محافظ اور علاقائی یکجہتی کے ضامن ہیں” آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ؛ "آپ کردار، ہمت اور قابلیت کی خوبیوں سے مُزیّن زندگی گزاریں گے” آپ کا طرز عمل نہ صرف آپ کی ذاتی اخلاقیات بلکہ قابل احترام ادارے کے لیے بھی غیر معمولی ہوگا،آپ مادر وطن کے دفاع ،عزت و وقار کے لئے قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کریں گے،عسکری قیادت آپ سے توقع کرتی ہے کہ؛” آپ ہمارے ملک کے بہترین جذبے، ادارے کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کی لازوال روایت کو ہمیشہ قائم رکھیں گے”

    پاک فضائیہ ہمیشہ قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے،آرمی چیف
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 میں واضح طور پر آزادی اظہار اور اظہار رائے کی حدود متعین کی گئی ہیں، جو لوگ آئین میں دی گئی آزادی رائے پر عائد کی گئی واضح قیود کی برملا پامالی کرتے ہیں وہ دوسروں پر انگلیاں نہیں اٹھا سکتے، ہم اپنی آئینی حدود کو بخوبی جانتے ہیں اور دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری کو مقدم رکھنے کی توقع رکھتے ہیں،اسلحے کی دوڑ سے ہمارے خطے میں طاقت کا توازن بھی بگڑنے کا امکان ہے، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت مخصوص ٹیکنالوجیز فضائی طاقت کے استعمال کو تبدیل کر نے کے ساتھ ساتھ اس کے دائرہ کار کو وسعت دے رہے ہیں،ایک مضبوط فضائیہ کے بغیر ملک کسی بھی جارح کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، پاک فضائیہ ہمیشہ قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے،پاک فضائیہ نے بے مثال بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ہر طرح کی مشکلات میں فضائی حدود کی نگرانی کی جس کی بڑی مثال فروری 2019 ء ہم سب کے سامنے ہے،

    کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر پوری دنیا کی خاموشی وہاں گونجنے والی آزادی کی آواز کو دبا نہیں سکتی،آرمی چیف
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ غزہ جنگ اس بات کی تازہ ترین مثال ہے کہ جنگیں کیا کیا مصائب سامنے لاسکتی ہیں، غزہ میں بوڑھوں، خواتین اور بچوں کا اندھا دھند قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں تشدد بڑھ رہا ہے، مقبوضہ کشمیر پر بھارت نے اپنا ناجائز قبضہ کررکھا ہے،کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر پوری دنیا کی خاموشی وہاں گونجنے والی آزادی کی آواز کو دبا نہیں سکتی، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، ہمیشہ یاد رکھیں کہ حق طاقت ہے جبکہ باطل کبھی طاقتور نہیں ہوسکتا،راشد منہاس، سرفراز رفیقی اور ایم ایم عالم جیسے بنیں جنہوں نے وطن عزیز کے وقار کے تحفظ کے لیے اپنی خدمات اور زندگیاں پیش کیں، آپ کو جو ذمہ داری سونپی جا رہی ہے اس کے لیے پرعزم رہیں اور ریاست پاکستان کے ساتھ وفادار رہیں،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو دہشتگردی، معیشت اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا جیسے چیلنجز کا سامنا ہے،،معاشرے کے گمراہ کن عناصر جھوٹے بیانیے پھیلاتے ہیں،،گمراہ، غلط اور سیاسی طور پر محرک پروپیگنڈے کا شکار نہ بنیں،،دوسروں کیخلاف زہر اگلنے کی آزادی نہیں ہونی چاہیے

    پاکستان کی ترقی کی راہ میں رخنہ ڈالنے والوں کی تمام کوششیں ناکام ہونگی،آرمی چیف

    سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی

    آرمی چیف کی ہدایت پر سینئر کمانڈرز کی شہید کسٹم اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات

    آرمی چیف سے سعودی نائب وزیر دفاع کی ملاقات

    آرمی چیف کا آواران کا دورہ،شہداء کے اہلخانہ، مقامی عمائدین سے ملاقات

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    آرمی چیف کا دورہ بحرین، ملا ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس ایوارڈ

    افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

  • لوگوں کےدماغ میں اسرائیل سےمتعلق عجیب سوالات ڈالےجاتےہیں،مولانا فضل الرحمان

    لوگوں کےدماغ میں اسرائیل سےمتعلق عجیب سوالات ڈالےجاتےہیں،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہاں بلاوجہ شہبازشریف کی شکایت کی گئی اس بیچارے کی حکومت ہی کب ہے، حکومت کس کی ہے ان کی بات کی جائے ان کی بات اب کرنی پڑے گی،کیپٹن ر صفدر نے بھی غصہ کیا ہمیں پتہ نہیں چلا انہوں نے ہمیں ڈانٹا ہے یا اپنے سسرال کو ڈانٹا ہے

    لاہور میں قومی فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ خطہ اسرائیل کا نام تاریخ میں نہیں ملتا، یہودیوں کو ایک سازش کے تحت برطانیہ کی سرپرستی میں آباد کیا گیا، پاکستان نہیں بنا تھا کہ اسرائیل کے قیام کی قرارداد منظور ہوئی تھی،ہم نے قائد اعظم کے اسرائیل مخالف نظریہ کو بھی نہیں سمجھا، ہم نے نظریہ پاکستان سے بھی بے وفائی کی، حیرت اس بات پر ہے جس کا حدود اربعہ ہی نہیں اسے تسلیم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ، آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا گیا، اقوام متحدہ اسرائیل کو دفاع کا جواز فراہم کرتا ہے، مسلم دنیا کیوں ہچکچا رہی ہے گولان کی پہاڑیاں ان کے قبضے میں ہیں ، امریکا کے مقابلے میں سپر پاور موجود تھی لیکن روس نے غلطی کرکے افغانستان میں جنگ چھیڑی جس سے دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ،مسجد اقصیٰ امت مسلمہ کا ہے، سعودی عرب کویقین دلایا ہے حرمین کے تحفظ کے لیے کٹ مرنے کے لیے تیار ہیں

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور یورپ جنگی جرم میں شریک ہیں، امریکا انسانی حقوق کا قاتل ہے، تاریخ میں سب سے پہلے امریکا نے ایٹمی طاقت کااستعمال کیا، ابو غریب جیل میں آپ نے کیا کیا، عقوبت خانوں میں لگا ہوا خون تمھارے انسانی حقوق کے دعووں کو بے نقاب کر رہا ہے،عراق پر ظلم ہوا، صدام حسین آج بھی زندہ ہے، جنہو ں نے مارا وہ آج مرے ہوئے ہیں، امریکا انسانی حقوق کا قاتل ہے، ہم اسے انسانی کسی صورت نہیں حقوق ماننے ہیں ،میں داد دیتا ہوں کہ جنوبی افریقہ فلسطینوں کےلیے عالمی عدالت میں چلا گیا، آج اسرائیل کو قبول کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ، حماس نے حملہ کرکے فلسطین کو آزاد کرنے کے لیے یہ کیا ہے، دنیا حماس کی جانب سے فلسطینوں کےلیے شروع کی جانے والی جنگ کو فلسطینوں کی آزادی کےلیے شروع کی گئی جنگ کہتے ہیں ، لوگوں کےدماغ میں اسرائیل سےمتعلق عجیب سوالات ڈالےجاتےہیں، کہاجاتاہےاسرائیل حقیقت ہے، تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے، اسرائیل کےحوالےسے تاریخی حقائق کایہ کچھ نہیں بتاتے، خطہ فلسطین کا ذکرتاریخ میں ہزارسالوں تک مل سکتاہے مگرخطہ اسرائیل کا کہیں نہیں،7 ستمبر 2024 کو مینار پاکستان لاہور پر ختم نبوت قانون کے پاس ہونے کی نسبت گولڈن جوبلی منائی جائے گی

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے سے قبل ہمارے تحفظات کو دور کرنا ضروری ہو گا،ترجمان جے یو آئی
    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ اسمبلی فلور پر جے یو آئی کے اصولی اور جمہوری موقف سے پی ٹی آئی کے دوسرے درجے کے رہنما غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں، ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا تھا کہ جےیوآئی نے سیاست میں ہمیشہ جمہوری اور اصولی موقف اپنایا ہے ،پی ٹی آئی قیادت اپنے اندرونی معاملات میں ہمیں نہ گھسیٹیں، پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے سے قبل ہمارے تحفظات کو دور کرنا ضروری ہو گا، ہم اپنی تحریک شروع کر چکے ہیں انتظار کرنے کے عادی نہیں ہیں، کل سندھ کی عوام عوامی اسمبلی کراچی میں فروری کے انتخابات کو بھاری اکثریت سے مسترد کریں گے،

    دوسری جانب جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری راشد محمود سومرو کا کہنا ہے کہ جے یو آئی بھی جمہوری نظام کےلیے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے،مولانا فضل الرحمان کا اس ملک کی جمہوریت کےلیے کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، مولانا نے مذہبی طبقے کو ووٹ کی طرف متوجہ کیا، مولانا نے بندوق چھین کر ووٹ کا راستہ دکھایا، اگر کچھ قوتیں سمجھتی ہیں کہ پہاڑوں کے راستے سے اسلام کا راستہ نکلتا ہے تو یہ غلط ہے،اس میں سب سے بڑا کردار مولانا فضل الرحمٰن کا ہے جنہوں نے لوگوں کو پہاڑوں سے اتار کر آئین کا راستہ دکھایا۔

  • پاک برطانیہ علاقائی استحکام کانفرنس،آرمی چیف کی شرکت،برطانوی آرمی چیف بھی شریک

    پاک برطانیہ علاقائی استحکام کانفرنس،آرمی چیف کی شرکت،برطانوی آرمی چیف بھی شریک

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پاک برطانیہ علاقائی استحکام کانفرنس کا انعقاد ہوا جہاں پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور اور دو طرفہ دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پاک برطانیہ علاقائی استحکام پر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کلیدی خطاب کیا،برطانوی چیف آف جنرل سٹاف جنرل سر پیٹرک سینڈرز مقررین بھی میں شامل تھے، نامزد برطانوی چیف آف جنرل سٹاف رولنڈ والکر بھی کانفرنس میں موجود تھے، کانفرنس میں ماہرین، دفاعی حکام، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے برطانیہ کے موجودہ اور نامزد چیف آف جنرل سٹاف سے ملاقاتیں کیں اور دو طرفہ فوجی تعلقات کو بڑھانے میں جنرل پیٹرک سینڈرز کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نامزد چیف آف جنرل سٹاف جنرل رولینڈ واکر کویو کی نامزدگی پر مبارکباد بھی دی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک برطانیہ سٹیبلائزیشن کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان اہم دفاعی ڈائیلاگ ہے، کانفرنس کیلئے برطانیہ کا30رکنی وفد29اپریل سے3مئی تک پاکستان کا دورہ کررہا ہے، برطانوی وفد کی قیادت سٹینڈنگ جوائنٹ فورس کمانڈر میجر جنرل ٹام بیٹ مین کررہے ہیں، کانفرنس میں عالمی ،علاقائی امور سمیت قومی سلامتی ،علاقائی امن واستحکام پر بات ہوگی۔

  • تنویر الیاس کی سینٹورس پر قبضے کی کوشش،گارڈ ز پر حملہ، مقدمہ درج

    تنویر الیاس کی سینٹورس پر قبضے کی کوشش،گارڈ ز پر حملہ، مقدمہ درج

    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے خلاف وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے

    تنویر الیاس کے خلاف مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا ہے، مقدمہ ڈپٹی سیکورٹی انچارج سینٹورس مال کرنل ر ٹیپو سلطان اعوان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، درج مقدمہ کے مطابق تنویر الیاس پر ساتھیوں سمیت اسلحہ کے زور پر زبردستی سینٹورس کے دفتر میں گھسنے کا الزام ہے،تنویر الیاس 20 سے 25 مسلح افراد کے ہمراہ زبردستی تالہ توڑ کر دفتر میں داخل ہوئے،گارڈ کو شدید زدوکوب کیا اور زخمی کر دیا۔

    مقدمہ تنویر الیاس، محمد علی، انیل سلطان ، رضوان و دیگر نا معلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ، درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ سائل سنٹورس مال میں بطور ڈپٹی سیکیورٹی انچارج اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے میں امروز بوقت تقریباً 1:45pm ہمراہ ساتھی ملازمان مسعود اور طیب و غیر ہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے کہ اسی اثناء میں تنویر الیاس، انیل سلطان رضوان، محمد علی، و ہمراہ دیگر 20/25 نامعلوم افراد جن کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتا ہوں یہ تمام لوگ مسلح آتشیں اسلحہ سے لیس ہو کر زور زبر دستی ٹاورA میں واقع دفتر 1708 جو کہ ہمارے مالکان کی کمپنی (Pak Gulf Construction) کا آفس ہے اور ہمارے مالکان کا ملکیتی ہے کا تالا توڑ کر کمرہ میں داخل ہو گئے وہاں پر موجود گارڈ امداد علی کو شدید زدو کوب کیا اور زخمی کر دیا میں وقوعہ کی اطلاع پاکر موقع پر پہنچا تو دیکھا کہ مذکورہ ملزمان تنویر الیاس، انیل سلطان ، رضوان، محمد علی و دیگر نا معلوم مسلح آتشیں اسلحہ موجود تھے جبکہ ہمارا گاڑد زخمی حالت میں موجود تھا مجھے دیکھتے ہی مذکورہ تنویر الیاس نے مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی اور پسٹل کاک کر کے اس کا ٹریگر دبا دیا اور گولی مس ہو گئی اور اتنے میں ہمارے سٹاف کے دیگر لوگ موقع پر پہنچ گئے ملزم تنویر الیاس للکار تارہا اور اپنے ساتھی ملزمان کو اکساتا رہا کہ فورا دفتر پر قبضہ کر کے ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لو ،تنویر الیاس نے مجھے، دیگر ملازمین اور یا سر الیاس اور ڈاکٹر راشد الیاس کو غلیظ گالیاں دیں اور للکار تارہا اور اپنے ساتھی ملزمان کو کہا کہ جو نہی یا سرالیاس اور ڈاکٹر راشد الیاس سامنے آئیں ان کو جان سے مار دو،مذکورہ وقوعہ کی اطلاع ہمارے ساتھی ملازم بر گیڈئیرر عمران الحق نے آپ پولیس والوں کو بذریعہ 15 دے دی تھی مذکورہ گروپ ، ملزمان اس سے قبل بھی یہ عمل کرچکے ہیں جن کیخلاف مقدمہ نمبر 2106/23 تھانہ مارگلہ میں درج ہو چکا ہے اور اب وہی ملزمان دوبارہ کمپنی کے آفس پر قبضہ کرنے کیلئے مسلح آتشیں ہو کر آئے ہیں اور سکیورٹی پر مامور ملازمین کو زدو کوب کیا، خوف و ہراس پھیلایا جس سے ہمارے کمپنی کے ملازمین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں ملزمان بالا نامز دو نا معلوم ملزمان نے زبر دستی اسلحہ کی نوک پر آفس کا تالا توڑ کر ایک کس کو زخمی کر کے اور میرے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے اسلحہ کی نوک پر مجھے اور دیگر ملازمین کو جان سے مارنے کی کوشش کی سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور کمپنی کے دفتر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر کے سخت زیادتی کی ہے ان تمام کیخلاف دعویدار ہوں قانون کے مطابق ان کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے اور ہمیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے .

    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کا بیٹا شراب کیس میں گرفتار

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تنویر الیاس مشکل میں پھنس گئے،سیکرٹ فنڈز کا غیر قانونی استعمال، انکوائری شروع

  • ڈی جی خان،پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا گیا

    ڈی جی خان،پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا گیا

    ڈی جی خان میں پولیس کے جوانوں نے چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں جھنگی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے رات گئے حملہ کیا تھا جسے پولیس نے ناکام بنایا، ریجنل پولیس آفیسرسجاد حسن نے بتایا کہ چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے میں7 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، آر پی او کے مطا بق جھنگی چیک پوسٹ تونسہ کے علاقے میں خیبرپختونخوا پنجاب بارڈر پر واقع ہے، حملہ آور چیک پوسٹ پر قبضہ کرناچاہتے تھے۔دہشت گرد جھنگی پولیس چیک پوسٹ پر قبضہ، تعینات اہلکاروں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے،15 سے 20 دہشت گردوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر مختلف اطراف سے شدید حملہ کیا،دہشتگردوں نے حملے میں راکٹ لانچرز، ہینڈ گرینڈ، لیزر لائٹ گنز سمیت جدید اسلحہ استعمال کیا،پولیس جوانوں کی زبردست مزاحمت، ایمونیشن ختم ہونے پر دہشتگرد بھاگنے پر مجبور ہوئے،

    ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گرد جھنگی پولیس چیک پوسٹ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، 15 سے 20 دہشت گردوں نےتاریکی کا فائدہ اٹھا کر مختلف اطراف سے حملہ کیا۔حملے میں راکٹ لانچرز، ہینڈ گرینڈ، لیزر لائٹ گنز سمیت جدید اسلحہ استعمال کیا گیا،جھنگی چوکی پر تعینات 7 جوان بہادری سے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں اے ایس آئی عمران، کانسٹیبلزعامر،عاشق ، رحمت اللہ، ثنا اللہ،طارق شامل ہیں۔زخمی ایلیٹ کانسٹیبل شاہد منظور کو علاج معالجے کیلئے نشتر اسپتال ملتان منتقل کردیا گیا۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے مذ موم عزائم کامیاب نہیں ہونےدیں گے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے پر پولیس ٹیم کوخراج تحسین پیش کیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زخمی اہلکاروں کو علاج کی بہترین سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہمارا عزم ہے۔

    بہاولپور، سی ٹی ڈی کی کاروائی، دو دہشتگرد جہنم واصل
    دوسری جانب بہاولپورمیں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کےتبادلے میں زیرحراست 2 دہشتگرد ہلاک ہو گئے، سی ٹی ڈی کے مطابق بہاولپور میں فائرنگ کے واقعے میں زیر حراست دو دہشت گرد ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جن کی شناخت عدیل عرف سیف اللہ خراسانی اور زین عرف اسد اللہ خراسانی کے نام سے کی گئی ہے۔حکام کے مطابق فائرنگ کے دوران سی ٹی ڈی ٹیم بھی بال بال بچ گئی،دونوں دہشت گردوں کو حاصل پور سے ایک قتل کی تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا انہیں بہاولپور میں چھپائے گئے اسلحہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جارہا تھا، راستے میں دہشت گردوں کے ساتھیوں نے گھات لگا کر فائرنگ کی۔حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے نیٹ ورک نے وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی اس حملے کیلئے ہلاک دہشت گرد عدیل عرف سیف اللہ خراسانی نے چار رکنی نیٹ ورک تشکیل دیا تھا، سی ٹی ڈی ٹیم پر فائرنگ کرنے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

    دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، ایاز صادق
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تونسہ شریف میں جھنگی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی ہے،اسپیکر نے دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنانے پر پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا، اور کہا کہ پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام ہوا، دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،

  • عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سماعت کے اغاز ہر وکلا کی جانب سے گفتگو پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برہم ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی گفتگو کرتا نظر آیا تو اسے کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا،میں آپکو 184(3) کے استعمال کے حوالے سے بتانا چاہتا ہوں، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے ،فل کورٹ بناتے ہوئے انتخاب نہیں کیا گیا، جسٹس یحییٰ آفریدی کو صرف بینچ سے علیحدہ نہیں کیا، جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے علیحدہ ہوتے وقت کچھ آبزرویشنز بھی دی ہیں ،دو ججز کے عدم دستیابی کے باعث فل کورٹ تشکیل نہیں ہوسکتی،سابقہ چیف پر اعتراضات کئے گئے تو وہ کمیشن سے علیحدہ ہوگئے،ہر کوئی اپنی خواہش عدلیہ ہر مسلط کرنا چاہتا ہے، یہ بھی دباؤ کی ایک قسم ہے، میں سپریم کورٹ کی تاریخ کا ذمہ دار نہیں، جب سے چیف جسٹس بنا ہو ں تب سے ذمہ داری ہے، عدالتی مداخلت اندر، باہر ، انٹیلیجنس ایجنسیز سمیت سوشل میڈیا اور فیملی سے بھی ہوسکتی ہے،میں اس عدالت کی تاریخ کا ذمہ دار نہیں ہوں، اپنے دور کا ذمہ دار ہوں،پارلیمان نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بنایا کیوں کہ ہم ناکام ہوئے، ہم عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کریں گے جیسے بھی ہو، ماضی کی غلطیاں سامنے آنے پر ہم نے اپنی تصحیح کی،تبدیلی راتوں رات نہیں آتی ،ہمیں اپنی مرضی کے راستے پر چلانے کیلئے مت دباؤ دیں ، عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے، بہت سے لوگ مقدمہ میں فریق بننا چاہتے، مثبت بات کو بغیر فریق بنائے بھی سنیں گے، کیا تجاویز اٹارنی جنرل آپکے پاس ہیں،ہائیکورٹ کی تجاویز سے شروع کرتے ہیں، آپ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی سفارشات دیکھی ہیں؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہ میں نے ہائیکورٹ کی سفارشات ابھی نہیں دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے آگے چلائیں؟

    صرف تجاویز نہیں ،چارج شیٹ ہے،ہائیکورٹ جج کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تجاویز نہیں ،چارج شیٹ ہے، ریاست کا ججز کے خلاف ہونا ہائیکورٹ خط میں بتایا گیا ہے،ہائیکورٹ جج کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ،اندرونی مسائل کا ہم نے حل تلاش کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ معاملے کو حل کریں،ہمیں مداخلت کے سامنے ایک فائر وال کھڑا کرنی ہو گی، ہمیں بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا، ہمیں طے کرنا ہو گا کہ اگر کوئی مداخلت کرتا ہے تو اس کے خلاف کیسے ایکشن لینا چاہئے،

    ہائیکورٹ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی، ماضی میں مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلے،چیف جسٹس
    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے عدالت میں ہائیکورٹ کی سفارشات پڑھ کر سنائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہائیکورٹ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی، ماضی میں ہائیکورٹس کے کام میں مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلے،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کہہ رہے ہیں کہ مداخلت تسلسل کے ساتھ ہوتی ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کی تجاویز متفقہ ہیں؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں بظاہر متفقہ نظر آ رہی ہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی جج نے اختلاف نہیں کیا۔

    آج سنہری موقع ہے عدلیہ پر دباؤ اور مداخلت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ دو بینچ کے ممبران کو ٹارگٹ کیا گیا،ہم نے نوٹس لیا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے، فیصلہ ایک نہیں دس دے دیں کیا ہو گا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے ،فیملی ممبران کا ڈیٹا حکومتی اداروں سے چرایا گیا، ججز کو صرف کہہ دیں تمہارا بچہ فلاں جگہ پڑھتا ہے،میں نے 2018 میں بطور چیف جسٹس 4 سال کام کیا اس دوران مداخلت نہیں ہوئی،ایسا لگتا ہے کہ لوگ مداخلت کی کوشش کرتے ہیں کہیں ان کو فائدہ ہوتا ہے کہیں نہیں ہوتا،ایسا کلچر چل رہا ہے،جسٹس بابر ستار کے ساتھ جو ہوا ہے سامنے ہے،بیوی بچوں تک کا ڈیٹا پبلک ہو جائے تو ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، 76 سال سے اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری میں پارٹنرشپ چل رہی ہے، جسٹس بابر ستار کے ساتھ جو ہوا ہے سامنے ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مہربانی کریں 76 سال میں مجھے شامل نہ کریں، کوئی مداخلت ہوئی ہے تو ظاہر کریں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آج اس ایشو کو حل نہ کیا تو بہت نقصان ہوگا ،اس کمرے میں نہ بیٹھو ادھر بیٹھو ، فون ادھر رکھ دو کس طرح کا کلچر ہے یہ، آج سنہری موقع ہے عدلیہ پر دباؤ اور مداخلت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے،ہائیکورٹ خود کارروائی کر سکتی تھی مگر نہیں کی، سپریم کورٹ اس معاملے پرطریقہ کار واضح کرتی ہے توعدلیہ مضبوط ہوگی۔یہ کس قسم کی ریاست ہے کہ ہر وقت اس چیز کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے، کوئی ہمیں سن رہا ہے، کوئی ہماری ریکارڈنگ کر رہا ہے، کیمرے ہماری ویڈیو بنا رہے ہیں،کیا ریاست اس طرح چلائی جاتی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص نتائج کے حصول کیلئے یہاں مخصوص اقدامات اٹھائے جاتے رہے میں نے پہلے دن کہا تھا کہ کوئی مداخلت نہیں کروں گامیں جب سے چیف جسٹس پاکستان بنا کوئی شکایت نہیں آئی. اگر میرے کام میں مداخلت ہو اور وہ نہ روک سکوں تو میں گھر چلا جاؤں،ہم تو چاہتے ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں، اگر پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوگی تو دوسری قوتیں مضبوط ہونگی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا رہا،وکلا اور سیاست دان عدلیہ میں مداخلت کرتے رہے،چیف جسٹس کےچیمبر میں ملاقاتیں ہوتی تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرعدلیہ کے اندر سے مداخلت ہے تو عدلیہ کی کمزوری ہے،مداخلت اب بھی جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 2018 میں جو ہمارے خلاف مہم چلائی گئی اس پر کچھ نہیں کہا کیونکہ ہم نے حلف لیا ہے،مکران کا سول جج بھی اتنا ہی طاقت ور ہے جتنا چیف جسٹس پاکستان ہے،میں نے عدلیہ کے آزادی کے لیے اندرونی مداخلت سے جنگ لڑی ہے، عدلیہ کی آزادی کو اندرونی مداخلت سے خطرہ ہے، فیض آباد دھرنا کیس پر عملدرآمد رکوانے کے لیے متعدد پٹیشنرز سامنے آئے، اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا، تحریک انصاف نے بھی کیا، ضیا الحق کے صاحبزادے نے بھی پٹیشن دائر کی اور متعدد پٹیشنر سامنے آئے،5 سال تک نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں، کیا اس کی کوئی وضاحت دی جاسکتی ہے؟سوشل میڈیا پر جو کچھ ہوا اسی وجہ سے سابق چیف جسٹس نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا. مداخلت ایجنسیوں کے علاوہ خود عدلیہ کے اندر سے، ججز کی فیملیز سے، ساتھ کام کرنے والوں سے، سوشل میڈیا سے بھی ہوسکتی ہے.اگر ہم مانیٹرنگ جج لگائیں گے تو وہ بھی عدلیہ کی مداخلت ہے، اگر جے آئی ٹی میں انٹیلیجنس ایجنسیز کے بندے شامل کریں گے تو وہ بھی مداخلت ہے.

    چاہے کوئی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس ہو یا موجودہ چیف جسٹس کوئی قانون سے بالاتر نہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ سب کو پتا ہے، بولتا کوئی نہیں ہے، جو سچ بولتا ہے اس کے ساتھ بھی وہی ہوتا ہے، جو چھ ججز کیساتھ ہو رہا ہے، انٹیلی جنس ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہوتے ہیں،انٹیلی جنس ادارے کچھ کرتے ہیں تو اسکے ذمہ دار وزیراعظم اور انکی کابینہ ہے، آئین دیکھ لیں کچھ بھی آزادانہ نہیں ہوتا، ہمیں اپنی آرمڈ فورسز کا امیج بھی برقرار رکھنا ہے، یہ ہماری ہی مسلح افواج ہے جو ملک کے محافظ ہیں، یہ ہمارے سولجرز ہیں جو ملک کا دفاع کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دباو ہر جگہ ہوتا ہے کیا بیوروکریسی میں فونز نہیں آتے ، کوئی مان لیتا ہے اور کوئی کام کر دیتا ہے جو نہیں مانتا اس کو او ایس ڈی کر دیا جاتا ہے۔ وہ اس دباو میں پر تو کچھ کر ہی نہیں سکتا، دباو تو ہر جگہ ہوتا ہے، بیوروکریسی کے پاس تو کوئی اختیار ہی نہیں ہمارے پاس تو اختیارات ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اختیارات کیوں استعمال نہیں کرتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دروازے خود کھولے ہیں اس لیے دباو آرہا ہے، یہ دروازے بند ہونے چاہیے بدقسمتی سے ہم نے خود دروازے کھولے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے دروازے کھولے ہیں ان کے خلادف مس کنڈیکٹ کی کارروائی کریں نا، ہر بندہ اتنا تگڑا نہیں ہوتا کہ وہ کھڑا ہو جائے یہ سسٹم مضبوط ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے سپریم کورٹ کا دروازہ بند کرنا ہوگا، اس کے بعد دوسرے لوگوں کو ہمت ملے گی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر کوئی جج کھڑا ہوتا ہے وہ اس کے خلاف ریفرنس دائر ہوجاتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس کس کے پاس آتا ہے کسی ایجنسی کے پاس تو نہیں آتا نا ، اٹھا کر پھینک دے اس ریفرنس کو باہر پھینک دیں جرمانے عائد کر دیں، ہم نے ایسا کیا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ ہے جسٹس شوکت صدیقی کا آپ نے کیا کیا ہے؟ کس کا احتساب کیا ہے؟ کیا کوئی کارروائی ہوئی ہے؟ صرف فیصلے دینے سے کچھ نہیں ہوگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مائی لارڈ اس میں سابق چیف جسٹسز ملوث ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس ہو یا موجودہ چیف جسٹس کوئی قانون سے بالاتر نہیں ، جب تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ہم سب ہائیکورٹس میں رہ چکے ہیں ہمیں فئیر ہونا چاہیے، ہائیکورٹ کے ججز کی شکایات پر پاورفل جواب نہیں ملتا، احکامات سے انحراف کا کلچر معمول بننے سے ججز کی بولنے میں حوصلہ شکنی ہوتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اب آپ جسٹس یحیی آفریدی کا نوٹ پڑھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پڑھنے سے پہلے آپ دیکھیں آپ خود مان چکے 2017 میں آپ کیخلاف پولیٹیکل انجینئرنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاست کو چھوڑ دیا جائے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سیاست نہیں حقیقت ہے،کبھی بھی سول بالادستی نہیں رہی، جب ریاست خود جارحیت پر اتر آئے کوئی شہری اس سے لڑ نہیں سکتا، ادارہ جاتی رد عمل ہی اس کا حل ہے، ‏ہم سچ بولیں گے، کیونکہ سچ بولنا ہماری ذمہ داری ہے، بدقسمتی سے سچ کیوں نہیں بولتا اور کوئی بول دیتا ہے تو اس کے ساتھ وہ ہوتا ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے ساتھ ہورہا ہے اور پورے ملک کی عدالتیں اب اس کی تصدیق کر رہی ہیں،

    کوئی مداخلت برداشت کر جاتا ہے، ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا تو ایسے جج کو اپنی کرسی پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے،جسٹس مسرت ہلالی
    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی بھجوائی گئی تجاویز پبلک کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر چیز ہی میڈیا پر چل رہی ہے تو ہم بھی پبلک کر دیتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شکایات کرنے والوں کو چھوڑیں، ازخود نوٹس لینے پر سپریم کورٹ کیساتھ کیا کچھ ہوا یہ دیکھیں،کیا عدلیہ کی آزادی ایسے ہو سکتی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مداخلت برداشت کر جاتا ہے اور اُسے ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا تو ایسے جج کو اپنی کرسی پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہائیکورٹس کے ججز نے لکھا ہے، کیوں نہ اس پر تینوں حساس ادارے اپنا جواب تحریری طور پر جمع کرائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ان کو چاہئے کہ اس پر ایک بیان حلفی جمع کرائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں اس معاملے پر قانون سازی ہونی چاہئے ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایجنسیوں کو بیانات حلفی دینے دیں کہ ان کی طرف سے مداخلت نہیں ہوتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے گا تو میں تو کہوں گا کہ مداخلت ہوئی لیکن ہمیں مستقبل کا دیکھنا ہے،

    پوری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے ،اگر ہم متحد ہونگے تو مضبوط ہونگے ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور دیگر بار کونسلز اپنی تحریری معروضات جمع کروا دیں ،ہم اس کیس کو زیادہ لمبا نہیں لے کر جا سکتے،لوگوں کے دیگر کیسز بھی لگے ہوئے ہیں ،ہدف ایک ہے سب کا اس طرف پہنچنا کیسے ہے آپ معاونت کر دیں،پوری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے اگر ہم متحد ہونگے تو مضبوط ہونگے ، نمائندہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ اداراتی ریسپانس کے دو طریقے ان میں فل کورٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب کوئی دو ججز نہیں آئے تو کیا کریں انکا ؟ پھر ملتوی کرنا پڑ جاتا کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز خط پر از خود نوٹس کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کر دیتے ہیں،جن لوگوں نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں سب فریقین کو سننا مشکل ہوجائے گا،تمام فریقین تحریری معروضات دے دیں،فریقین چھ مئی تک جوابات جمع کرا دیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوادیا،حکمنامے میں کہا کہ 5 ہائیکورٹس نے اپنی تجاویز جمع کرائیں،اٹارنی جنرل نے دوران سماعت تجاویز پڑھ کر سنائیں، پاکستان بار کونسل نے اپنی تجاویز بھی جمع کرائیں، مناسب ہو گابار ایسوشی ایشنز اور بار کونسلز متفقہ طور پر کوئی جواب جمع کرائیں، جن نکات پر اتفاق نہ ہوان کو الگ دائر کیا جاسکتا ہے، بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ بار کا اجلاس نہیں ہوا،بتایا گیا سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن آئندہ سماعت سے قبل تجاویز جمع کرا دے گی، حکومت اور انٹیلیجنس ایجنسیز، اٹارنی جنرل کے ذریعے اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دیں اور اگر کوئی تجاویز ہیں تو وہ بھی دیں.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے تجاویز دیں کہ شکایات خفیہ رکھی جائیں،عدلیہ اور حکومتی شاخوں سے بات چیت کرکے طریقہ کار طے کرنے کا سنہری موقع ہے، ججز کو ایجنسیوں یا انکے نمایندگان سے ملاقاتیں نہیں کرنی چاہیے، ججز کو سوشل میڈیا جیسے کہ وٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک سے دور رہنا چاہیے، عدالتی احاطے میں ایجنسیوں کے نمائندگان کا داخلہ بند ہونا چاہیئے،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔