Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نو منتخب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم  نےعہدے کا حلف اٹھا لیا

    نو منتخب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نےعہدے کا حلف اٹھا لیا

    اسلام آباد: نو منتخب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم لاہور میں جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹرز میں حلف اٹھا لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :حافظ نعیم الرحمان نےنئےامیرکا حلف لے لیا, حافط نعیم الرحمان جماعت اسلامی کے چھٹے امیر بن گئے جبکہ وہ اپریل 2029 تک امیررہیں گے۔

    جماعت اسلامی کا نئے امیر کا چناؤ ہر پانچ سال بعد ہوتا ہے۔ اس سے قبل سراج الحق مسلسل دو دفعہ دس سال امیر جماعت اسلامی رہے،تقریب جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ لاہور میں منعقد ہوئی،جبکہ مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس 19تا21 اپریل منصورہ میں منعقد ہوگا۔

    حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جمہوری طریقے اور جمہور کی طاقت سے انقلاب لانا چاہتے ہیں، جماعت اسلامی پوری قوم کی قیادت کرے گی جماعت اسلامی سیاست کو عبادت سمجھ کرکرتی ہے، جماعت اسلامی کا ہر کارکن پاکستان کی حفاظت کرے گا پاکستان کے پاس خوبصورت آئین ہے جو سب کو حقوق فراہم کرتا ہے، جو لوگ 76 سال سے نظام چلارہے ہیں ان کو اعلان کرنا چاہیے وہ ناکام ہوگئے ہیں، فارم 47 والے پاکستان کی قیادت کے اہل نہیں ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہماری کسی ادارے،کسی شخص اور کسی پارٹی سے کوئی لڑائی نہیں ہے، ہم سب سے بات کریں گے، ہمیں انتخابات کی سیٹیں لینےکی جلدی نہیں،کارکن تیاری کریں ہم ملک گیر تحریک چلائیں گے ہم پاکستان کے25 کروڑ لوگوں کے ساتھ اتحاد کریں گے، جماعت اسلامی کے سوا اس ملک کے پاس کوئی چوائس نہیں، نظام جمہوری ہے تو جمہوریت کی پامالی نہیں ہونی چاہیے، ہم ہر اس شخص کےساتھ کھڑے ہوں گے جسےفارم47 کے ذریعے ہرایا گیا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ سب کو اپنی اپنی آئینی پوزیشن پر واپس جانا پڑے گا، سب بند گلی میں پھنس گئے ہیں، ہم پاکستان کے تحفظ کے لیے سب کچھ کریں گے، پاکستان ہمارا ہے پاکستان ایران گیس پائپ لائن کہاں ہے؟ کون نہیں بننے دے رہا؟ آئی ایم ایف جاگیرداروں پر ٹیکس لگانےکا نہیں کہتا؟ہم بھارت کو خطے کا پولیس مین نہیں بننےدیں گے۔

  • آرمی چیف کی ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات

    آرمی چیف کی ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل متین گیوراک نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی، دفاعی، تربیت اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے سے متعلق بات چیت ہوئی، ملاقات میں دونوں اطراف نے اپنے ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو تسلیم کیا، ملاقات میں دونوں اطراف سے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا، آرمی چیف نے دونوں مسلح افواج کے درمیان موجودہ فوجی تعاون آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، جنرل متین گیوراک نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے میں پاک فوج کے کردار کو بھی سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس سے قبل سربراہ ترک فوج کو جی ایچ کیو آمد پر پاک فوج کےچاق وچوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جنرل متین گیوراک نے جی ایچ کیو میں یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدر مملکت کا خطاب، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدر مملکت کا خطاب، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    پارلیمنٹ کا مشرکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے بھر پور احتجاج کیا گیا،پارلیمنٹ کے اجلاس میں صدر آصف زرداری کے خطاب کے دوران اراکین نے عمران خان کی تصاویر لہرا دیں وہیں ’وزیراعظم عمران خان‘‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کا ایوان نعروں سے گونج اٹھا،رکان سینیٹ اور قومی اسمبلی، وزیراعظم شہباز شریف ، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور نومنتخب رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری بھی پارلیمنٹ ہاؤس موجود تھے، اجلاس کے دوران سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی موجود تھے، مختلف ممالک کے سفیر بھی گیلریز میں موجود تھے،

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت آصف زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پارلیمانی سال کے آغاز پر تمام معزز ممبران کو انتخاب پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، وزیر اعظم ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو انتخابی کامیابیوں ، ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتا ہوں،اعتماد کرنے ، دوسری بار صدر منتخب کرنے پر اراکین ِپارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کا تہہِ دل سے مشکور ہوں،آج پارلیمانی سال کے آغاز پر مستقبل کیلئے وژن کو مختصراً بیان کروں گا،ماضی میں بطور صدر میرے اہم فیصلوں نے تاریخ رقم کی ،بطور صدرِمملکت میں نے پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات دینے کا انتخاب کیا،آج ہمارے ملک کو دانشمندی اور پختگی کی ضرورت ہے ، امیدہے اراکین ِپارلیمنٹ اختیارات کا دانشمندی سے استعمال کریں گے ، صدر کا کردار ایک متفقہ اور مضبوط وفاق کے اتحاد کی علامت ہے ، تمام لوگوں اور صوبوں کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک ہونا چاہیے ،میری رائے میں آج ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا وقت ہے،آج کے دن کو ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھیں ، اپنےلوگوں پر سرمایہ کاری کرنے ، عوامی ضروریات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جامع ترقی کی راہیں کھولنا ہوں گی، ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے، پولرائزیشن سے ہٹ کر عصرِ حاضر کی سیاست کی طرف بڑھنا ملکی ضرورت ہے، اس ایوان کو پارلیمانی عمل پر عوامی اعتماد بحال کرنے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، اس ایوان کے ذریعے قوم کی پائیدار اور بلاتعطل ترقی کی بنیاد رکھی جانی چاہیے ،تعمیری اختلاف ، پھلتی پھولتی جمہوریت کے مفید شور کو نفع -نقصان کی سوچ کے ساتھ نہیں الجھانا چاہیے ،سوچنا ہوگا کہ اپنے مقاصد، بیانیے اور ایجنڈے میں کس چیز کو ترجیح دے رہے ہیں ،سمجھتا ہوں کہ سیاسی ماحول کی از سرِ نو ترتیب کی جا سکتی ہے ،ہم حقیقی طور پر کوشش کریں تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی لا سکتے ہیں، ہم سب کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کیلئے سب سے زیادہ اہم چیز کیاہے، مشکلات کو مواقع میں بدلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ، مضبوط قومیں مشکلات کو مواقع میں بدلتی ہیں ، قائدِ اعظم، شہیدذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر جمہوریت ، رواداری اور سماجی انصاف کےعلمبردار تھے ، قائدین کے وژن کو اپنا کر ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے ، قائدین کے وژن کے مطابق باہمی احترام ، سیاسی مفاہمت کی فضا کو فروغ دیا جا سکتا ہے ،ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانا نا ممکن نہیں ،ملکی مسائل کے حل کیلئے بامعنی مذاکرات ، پارلیمانی اتفاق رائے درکارہے ،بنیادی مسائل کے حل کیلئے کڑی اصلاحات پر بروقت عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا، ملک کو 21ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ، شہریوں کے سماجی حقوق ، گڈ گورننس کیلئے اصلاحات کو فروغ دینا ہوگا، سیاسی قیادت کو پسماندہ علاقوں کی خاص ضروریات کو ترجیح دینا ہوگی،حکومت نوکریاں پیدا کرنے ، مہنگائی کم کرنے ، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کیلئے معاشی اصلاحات کرے گی،آئینی فریم ورک کے تحت وفاق اور صوبوں کے مابین مثبت تعاون اور مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے ، جامع قومی ترقی ، پالیسیوں پر عمل درآمد کیلئے صوبوں اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے، عوامی فلاح کیلئے وفاقی نظام کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے ، معیشت کی بحالی کیلئے سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا،غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ہمارا بنیادی مقصد ہونا چاہیے، حکومت کاروباری ماحول سازگار بنانے کیلئے جامع اصلاحات کے عمل کو تیز کرے ، مقامی ، غیرملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے پیچیدہ قوانین آسان بنانا ہوں گے، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام خوش آئند ہے،برآمدات متنوع بنانے، عالمی منڈیوں میں مصنوعات کی قدر بڑھانا ہوگی، ہمیں نئی منڈیوں کی تلاش کیلئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی ، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، آبی و سمندری حیات، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں موجود بے پناہ صلاحیت کو بروئے کار لایا جانا چاہیے، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بالخصوص 2022 کے سیلاب سے تباہی کا سامنا کرنا پڑا ، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کم کرنے کیلئے ماحول دوست اور موسمیاتی طور پر پائیدار انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی،ماحول دوست اور صاف توانائی کو نیشنل انرجی مکس کا بنیادی حصہ بنانے کی ضرورت ہے،ماحول دوست توانائی سے اقتصادی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے توانائی سستی ہوگی ، پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کی فراہمی ایک بنیادی حق ہے ،شعبہ تعلیم کی موجودہ صورتحال پر تمام حکومتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد اسکولوں سے باہر ہے،ہماری بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش ِنظراسکول نہ جاپانے والے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ،تمام صوبائی حکومتیں تعلیمی شعبے میں تبدیلی لانے کیلئے اصلاحات پر توجہ اور توانائی مرکوز کریں، پرائمری اور سیکنڈری تعلیم تک رسائی بہتر بنانے کے ساتھ معیار ِ تعلیم بھی یقینی بنانا ہوگا، شعبہ صحت کی از سر ِنو تعمیر ، بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت ہے،پرائمری اور سیکنڈری صحت کے بنیادی ڈھانچے ، انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، تمام شہریوں کی صحت کی معیاری خدمات تک رسائی یقینی بنانا ہوگی ،آمدن کے بحران اور غذائی عدم تحفظ کی کئی وجوہات ہیں ،ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت میں جارہا ہے ، ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے عوام کی آمدن اور اثاثوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ،ضروریات ِزندگی کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے خاندانوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا، لوگوں کیلئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے ، عوام کو زراعت، مویشیوں اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار میں سرمایہ کاری کیلئے وسائل تک رسائی دینا ہوگی ،معاشرے کے نچلے طبقات کے تحفظ ، خودمختاری کیلئے کام کرنے والے سیاسی پس منظر سے تعلق ہونے پر فخر ہے ، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں ، شہید بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی اور سماجی طور پر کمزور طبقات کے حقوق کیلئے کام کیا ، مجھے فخر ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک بھر میں لاکھوں خواتین کی امداد کر رہا ہے،بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مدد سے خواتین کو مالی امداد ، سماجی تحفظ اور چھوٹے کاروبار کیلئے سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے ، خوشی ہے کہ غربت کے خاتمے کے پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ چکی ہے ،بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے نیٹ ورک کو مزید پسماندہ خواتین تک پھیلانے کی ضرورت ہے، امید ہے کہ نئی حکومت سماجی اور معاشی تحفظ کیلئے فعال طور پر کام کرے گی ، لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ ، صحت ، ماں اور بچے کی غذائیت ، شرح اموات کم کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا،

    پڑوسی ممالک سے دہشت گرد گروہوں کا سختی سے نوٹس لینے کی توقع رکھتےہیں،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کا عفریت ایک بار پھر اپنا گھناؤنا سر اٹھا رہا ہے ، دہشت گردی سے ہماری قومی سلامتی ، علاقائی امن و خوشحالی کو خطرہ ہے، پاکستان دہشت گردی کو ایک مشترکہ خطرہ سمجھتا ہے دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، پڑوسی ممالک سے دہشت گرد گروہوں کا سختی سے نوٹس لینے کی توقع رکھتےہیں، دہشت گرد گروہ ہماری سیکورٹی فورسز اور عوام کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں،دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے قوم کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں، میری اہلیہ اور دو بار منتخب وزیر ِاعظم بے نظیر بھٹو شہید نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دی، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اتحاد اور تحریک پیدا کرنے میں کبھی بھی پیچھے نہیں رہوں گا، ہمیں اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فخر ہے ، مسلح افواج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، قومی سرحدوں کے دفاع میں بے پناہ قربانیاں دی ،

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ترکی اور قطر کا شکریہ،صدر مملکت
    مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے پر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ ہمارےتجارتی پارٹنر رہے ہیں،امید ہے کہ امریکہ ، یورپی یونین اور برطانیہ کےساتھ تعاون میں مزید اضافہ ہوگا ، مختلف شعبوں میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر چین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، پاک-چین پائیدار تزویراتی اور سدابہار دوستی خطے میں استحکام کی بنیاد ہے،ہم علاقائی امن ، روابط اور خوشحالی کے فروغ اور استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل سمیت مشترکہ اہداف کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ کام کرتےرہیں گے، ہم دشمن عناصر کو اہم منصوبے کو خطرے میں ڈالنے ، دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، چینی بھائیوں اور بہنوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کریں گے،

    پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے جاری جدوجہد میں کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی طرف دلانا چاہتا ہوں ، آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں بدلنے کی بھارتی حکمت ِعملی کا حصہ ہے، پاکستان بھارت کے یک طرفہ اقدامات کو مسترد کرتا ہے بھارت سےمطالبہ کرتے ہیں کہ 5 اگست 2019 اور اس کے بعد لیے گئے تمام غیر قانونی اقدامات واپس لے ، حق ِخودارادیت کے حصول تک پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کلید ہے ،پاکستان کو بے گناہ فلسطینیوں کے قتل ، اسرائیلی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر نسل کشی پر گہری تشویش ہے، پاکستان قابض اسرائیلی افواج کی کھلے عام بربریت کی شدید مذمت کرتا ہے ،

    خوشحال پاکستان کیلئے تعاون اور اتفاق رائے کے سیاسی اصولوں کاعملی مظاہرہ کریں،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ مجھے سیاسی قیادت، اداروں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے، آپ ہماری قوم کو درپیش متعدد چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نمٹ سکتے ہیں،اپنے عوام کی استقامت پر میرا یقین غیر متزلزل ہے،جب بھی ہم مشترکہ مقصد کیلئے متحد ہوئے ، ہم نے اپنے وعدوں کو پورا کیا، جانتا ہوں کہ ملک کو پیچیدہ سماجی ، ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے ہمارے مسائل پیچیدہ ضرور ہیں مگر ان کا حل ممکن ہے یقین ہے کہ اخلاقی اور سیاسی سرمایے کی بدولت ملک کو مسائل سے نکال سکتے ہیں، آئیے ، ایک مزید خوشحال پاکستان کیلئے تعاون اور اتفاق رائے کے سیاسی اصولوں کاعملی مظاہرہ کریں،یقین ہے کہ ایک نئے آغاز کے طور پر ہم ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی منزل جانب گامزن ہو سکتے ہیں،

    جمشید دستی نے آصف زرداری کے سامنے جاکر عمران خان کی تصویر رکھ دی،صدر زرداری کی تقریر کے دوران ڈائس پر عمران خان کی تصویر لٹکانے پر عمر ایوب، جمشید دستی، عبدالقادر پٹیل، آغا رفیع اللہ کے درمیان ہاتھا پائی، شدید تلخی ہوئی،

    پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس کی کوریج کرنے والے اسلام آباد کے صحافی محمد اویس کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نےا احتجاج کا ،صدر پاکستان آصف علی زرداری کی تقریر کے دوران اپوزیشن اور پیپلز پارٹی کے اراکین کے درمیان ہاتھا پائی ہوتے ہوئے رہ گئی ،ایوان کو مچھلی منڈی بنا دیا گیا سٹیاں باجے بجتے رہے اور صدر اپنی تقریر کرتے رہے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا اور ساتھ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی بھی بیٹھے رہے، مشترکہ اجلاس میں 4بج کر 16منٹ پر صدر اور سپیکر اور چیئرمین ایوان میں آئے،اپوزیشن نے شدید نعرے بازی شروع کی تو خلاف معمول قومی ترانہ شروع کردیا گیا جس پر سب کھڑے ہوگئے اور اپوزیشن خاموش ہوگئی ۔اپوزیشن پلے کارڈ اور تحریک انصاف کے جھنڈے والے مفلر پہن کرآئے ۔اجلاس میں کچے کا ڈاکو پکے کا ڈاکو کے نعرے لگائے جاتے رہے،مشترکہ اجلاس میں تینوں سروس چیف اور جوائنٹ چیف آف سٹاف نے شرکت نہیں کی ۔پہلی بار مشترکہ اجلاس کی کاروائی باقاعدہ تلاوت قرآن سے شروع نہیں ہوئی ۔بلکہ اپوزیشن کا احتجاج کنٹرول کرنے کے لیے ترانہ شروع کردیا گیا ۔آصف علی زرداری کی تقریر شروع ہوتے ہیں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا،مسٹر پرسنٹ 10 پرسنٹ کے نعرے لگائے گئے، عمران کو رہا کرو رہا کرو کون بچائے گا پاکستان عمران عمران خان ،بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں،گو زرداری گو کے نعرے لگائے ۔جمشید دستی کی طرف سے صدر کے ڈائس کے سامنے عمران خان کا پینافکس رکھنے پر عبدالقادر پٹیل اور پیپلزپارٹی کے ارکان بھی سامنے آگئےسارجنٹس نے فورا جاکر پینا فلیکس ہٹا دیا جبکہ سیٹیاں بھی ایوان میں بجتی رہیں ،

    مسلم لیگ ن کے ارکان شہبازشریف کے گرد جمع ہوگئے ۔جمشید دستی ایوان میں باجا بجاتے رہے. صدر نے 4بج کر 21 منٹ پر خطاب شروع کیا اور45منٹ پر ختم کر دیا کل 24 منٹ میں صدر نے اپنا خطاب مکمل کیا۔تو اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا

    پارلیمنٹ کا مشرکہ اجلاس، بلاول ،آصفہ خصوصی توجہ کا مرکز ،صدر کا 23 منٹ کا خطاب
    مشترکہ اجلاس میں بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو توجہ کا مرکز رہے حکومتی ارکان باربار ان کی نشست پر جاکر ان سے ملتے رہے ،بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرادری پہلی نشست پر بیٹھے رہے. 4بج کر 14منٹ پر وزیراعظم شہبازشریف ایوان میں آئے خلاف معمول ڈیسک بجاکر استقبال نہیں کیا گیا۔4بج کر 15 منٹ پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے داخل ہوئے ،4بج کر 16منٹ پر صدر اور سپیکر اور چیئرمین ایوان میں آئے ۔4 بج کر 21منٹ پر صدر نے خطاب شروع کیا ،4 بج کر 45 منٹ پر خطاب مکمل ہوا ،صدر نے 23 منٹ ایوان سے خطاب کیا.
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • ججز کے خط کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    ججز کے خط کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت ہائی کورٹ کے ججز کے خط کی روشنی میں شفاف تحقیقات کرائے،شفاف تحقیقات کے بعد عدلیہ کو نیچا دکھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے،معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل سے متعلق ہو تو عدالت کونسل کو جائزے کے لیے سفارشات بھیجے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججزنے خط میں سنگین نوعیت کے واقعات بیان کیے ہیں،آزاد عدلیہ آئین کی بنیاد اور فراہمیٔ انصاف کا واحد ذریعہ ہے، عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتا کسی صورت قبول نہیں ہو گا.

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • اڈیالہ جیل میں عمران خان سمیت پنڈی میں اہم شخصیات دہشتگردوں کا ٹارگٹ

    اڈیالہ جیل میں عمران خان سمیت پنڈی میں اہم شخصیات دہشتگردوں کا ٹارگٹ

    سندھ ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی سیکورٹی یقینی بنانے کاحکم دے دیا

    چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت جیل کی سیکورٹی کا مسلسل جائزہ لیتی رہے ،عدالت نے عمران خان کی سیکورٹی فراہم کرنے سےمتعلق درخواست نمٹا دی ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے دھمکیوں کا معاملہ ہے اسے سنجیدہ لیا جائے ،

    اڈیالہ جیل میں عمران خان کو سکیورٹی فراہمی کے کیس میں وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع کروایا گیا ہے،وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل پر دہشتگردوں کے حملے کی اطلاعات ہیں، انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں کا پہلا ٹارگٹ راولپنڈی ہے،راولپنڈی میں اہم شخصیات اور فوجی تنصیبات دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں، یہ دہشتگردی دشمن ممالک کی ایجنسیاں اور کالعدم گروپس کا منصوبہ ہے، پاکستان دشمن عناصر ملک میں سیاسی افراتفری اور انارکی پھیلانا چاہتے ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شہریوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، سیکیورٹی، حفاظت اور امن و امان صوبائی معاملہ ہے، اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں، صرف عمران خان کی حفاظت کے لئے درخواست مسترد کی جائے۔

    واضح رہے کہ عمران خان گرفتار ہیں اور اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت کا نقشہ تبدیل کر دیا گیا کمرہ عدالت میں تین شیشے اور لکڑی کی دیواریں کی اونچائی 9 فٹ کر دی گئی میڈیاباکس میں کوریج کے لئے نئے ایس او پیز کا حکم نامہ چسپاں کر دیا گیا،

    عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

     اڈیالہ جیل راولپنڈی، میانوالی،اٹک اور ڈی آئی خان کی جیلوں میں حفاظتی انتظامات مزید مؤثر 

  • نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عید سے قبل میں نے آپکو بتایا تھا کہ میرا ایک حادثہ ہوا ہے،جس میں بچہ میری گاڑی کو آ کر لگا تھا پھر اسکو میں خود اپنی کار اور پھر ایمبولینس میں لے کر ہسپتال گیا تھا،پہلے ایک اور دوسرے ہسپتال گیا تھا لوگوں نے سوال کئے کہ ڈی ایچ اے میں ہی کیوں نہیں علاج کروایا تو اسکا جواب یہ ہے کہ جب حادثہ ہوتا ہے تو اسکی میڈیکو لیگل رپورٹ بنتی ہے جو سرکاری ہسپتال بنتی ہے،ڈی ایچ اے سے ایل جی ایچ تک آنے کے لئے مجھے 50 یا 55 منٹ لگے تھے اور ایمبولینس کو فالو کر رہا تھا ایمبولینس کا سائرن بج رہا تھا یہ نہیں لوگ ہٹ نہیں رہے تھے لیکن ٹریفک بہت زیادہ تھی اس دن میں سوچ رہا تھا کہ ہم انڈر پاسز، پلوں پر پیسے لگا رہے، صحت پر لگانے چاہیے، ایئر ایمبولینس ہوتی تو میں پیسے دے کو بچے کو لے کر چلا جاتا، مجھے کوئی خوف تو نہ ہوتا، مجھے ڈر لگا ہوا تھا کہ کہیں انٹرنل بلیڈنگ نہ ہو رہی ہو، جب ڈاکٹر نے کہا کہ نارمل فریکچر ہے اور کوئی زخم نہیں ہے تو میں نے نوافل پڑھے، اس دن سے میں ریسرچ کر رہا تھا، اب بچہ ڈسچارج ہو گیا ہے لیکن ہماری ریسرچ چل رہی ہے،

    مبشر لقمان کا مزیدکہنا تھا کہ ہر روز وزیراعلیٰ پنجاب کی خبر نظروں کے سامنے آ جاتی ہے کبھی تندور پر پہنچ جاتی ہیں، کبھی کسی مظلوم کے گھر ،کبھی کسی پولیس سٹیشن،مریم کی اتنی موومنٹ ہے عملی طور پر بھی کوئی قدم اٹھایا جا رہا یا نہیں، میں یہ سوچ رہا تھا، ن لیگ نے وزیراعلیٰ بنانا تھا اچھا کیا، میری ذاتی رائے میں جن لوگوں نے عثمان بزدارکو سہہ لیا، ان لوگوں کو بالکل توفیق ہمت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ دنیا میں کسی اور وزیراعلیٰ ،پرنسپل سیکرٹری کے اوپر بات کریں کیونکہ وہی ضمیر کے سوئے ہونے کی کافی گواہی دے رہے ہیں، بحرحال ،مریم نواز کی طرف سے ایک ایئر ایمبولینس کی ویڈیو میرے سامنے آئی، میرا اس میں انٹرسٹ ہے، مجھے ایوی ایشن انڈسٹری سے عشق ہے میں پائلٹ بھی ہوں جہاز اڑاتا بھی ہوں، ایک سے زائد قسم کے اڑائے ہیں، بلکہ میں نے تو جہاز رکھا ہوا بھی ہے مجھے اس بات کا بھی اعزاز حاصل ہے، سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا، یہ موڑ ستر سال سے ختم نہیں ہو رہا اسکے پیچھے وہ رویہ ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اچھا کام ہم لوگ کریں اسکے علاوہ کوئی کرے تو ہم اتنی برائیاں کریں کہ اسکی اچھائی کو بھی برائی میں تبدیل کر دیں، میٹر و شہباز شریف نے بنائی، اسکو جنگلہ بس کہا گیا پھر کے پی کے میں بننا شروع ہو گئی، اللہ معاف کر دے، میں نے لوگوں سے معافی مانگ لی ہے، وہاں جو میٹرو تھی اور یہاں کی اسکی قیمت،کوالٹی،ٹائم لائن کا کوئی مقابلہ نہیں تھا ، ہماری عادت ہے کہ اچھے کام میں کیڑے نکالنے ہیں، کھوکھلے نعروں سے لوگوں کو پاگل بنایا جا تا رہا اب حالات یہ ہیں کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں، ہمیں اچھا کام کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرنی پڑے گی خواہ وہ کسی جماعت سے ہوں، تا کہ انکو حوصلہ ہو اور مزید اچھا کام کریں ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ایئر ایمبولینس کو دیکھا، مریض کو لیٹے دیکھا تو تشویش ہوئی ، پتہ چلا کہ یہ ایئر ایمبولنس ہے ایک فلائٹ چیک کرنے کے لئےکی، ڈاکٹر رضوان نصیر کی تصویر دیکھی میں انکو اچھی طرح جانتا ہوںَ،رضوان نصیر کو دیکھ کر جب میں نے ایئر ایمبولینس بارے پڑھا تو بہت دلچسپی ہوئی، انہوں نے ریسکیو 1122 کے لئے بہت کام کیا، پرویز الہیٰ کے زمانے میں یہ شروع ہوئی تھی، بڑی محنت سے ریسکیو والے کام کر رہے تھے، پھر پچھلے دور حکومت میں توریسکیو 1122 والوں کا کباڑہ ہو گیا،انکوپیسے نہیں ملتے تھے اب پھر اسی ٹیم کو دوبارہ سے اٹھایا گیا ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ لوگ کب لگائے گئے تھے بلکہ انہی سے کام لیا جا رہا ہے، ایک ٹیکنیکل ایڈوائز ایئر ایمبولینس بارے ضرور دوں گا، مریم نواز پہلی پنجاب کی خاتون وزیراعلیٰ کا اعزاز، یہ منفرد کاموں سے یاد رہے گا ، ایئر ایمبولینس منفرد کام ہے، مریم نے مشکل وقت میں پارٹی کو سنبھالا، ہر آدمی اس کی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکتا، پچھلے الیکشن میں کراؤڈ پلر یا تو نواز شریف ہیں یا پھر مریم نواز، کیا مشکل وقت میں صوبے کو سنبھال لیں گی؟ عمران خان نے بطور وزیراعظم پارٹی کے بیانیے پر نظر رکھی اور ملک کو تباہ کیا، کیا مریم صوبے کو تاریخی ترقی کا تحفہ دینے میں کامیاب ہوں گی، یہ سوال ہے، مریم نے وزارت اعلیٰ کے منصب سنبھالا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ مریم کے لئے اعزاز کی بات تھی کہ ایک خاتون وزیراعلیٰ کو چنا گیا، مریم منفرد کام کر رہی ہیں، ایک ایسی وزیراعلیٰ ہیں جو بزدار کی طرح کٹھ پتلی نہیں بلکہ خود مختار ہیں، جو سوچا ہے اس پر عمل کرنا ہے، صحت کا شعبہ انتہائی اہم ہے، سب سے بڑے صوبے میں ایئر ایمبولینس سروس کاآغاز انتہائی اچھا قدم ہے لیکن افسوس انتشا ر پسند عناصر اس پر بھی سیاست کرنی ہے،خواہ مخواہ اس پر تنقید کی جا رہی ہے، پاکستان میں ٹریفک کا نظام تو اتنا مؤثر نہیں آئے روز سنتے ہیں کہ مریض ٹریفک جام کی وجہ سے وفات پا گیا، یہ ایئر ایمبولینس ایک شخص، ایک فرد کی جان بچا لے تو یہ انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے اب ایک جہاز پھر دو ہوں گے، ہر ضلع کے لئے الگ ہو گا پھر مریض کو ٹریفک مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،مریض کو جلد از جلد ایمرجنسی امداد کو یقینی بنایا جائے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں بہاولپور، ڈی جی خان، اٹک یا دیگر شہروں کے جو ہسپتال ہیں،جب تک انکو ٹھیک کریں گے تو پتہ نہیں کتنے ارب روپے چاہئے، جب تک ڈی ایچ کیوز،ٹی ایچ کیوز صحیح نہیں ہوتے تولوڈ لاہور پر آئے گا ،یا تو اتنے ڈالر پاکستان آ جائیں کہ سب ہسپتال صحیح ہو جائیں،ایئر ایمبولینس ایک فرق ہو گا جو پیارے کو گھر والوں کو ساتھ رہنے دے سکتا ہے، ان سے پوچھیں جن کو امید ہے کہ اگر ضرورت پڑ جائے تو انکےلئے یہ سہولت موجود ہے، ایک ایڈوائز ضرور کروں گا جو جہاز لے رہے ہیں ، سنگل انجن جہاز سستا مل جائے گا ، وہ فٹبال گراؤنڈ سے بھی ٹیک آف کر سکے گا، وہ ہاکی گراؤنڈ میں بھی لینڈ کر سکتا ہے، اسکی قیمت آدھی ہو جائےگی، کیونکہ سنگل انجن ہے، میں ایئر ایمبولینس سے بہت متاثر ہوا ہوں، اس سے نہ صرف جانیں بچیں گی بلکہ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا، ایک جان بھی بچ جاتی ہے تو اللہ اجر دے گا،

    شہر یار آفریدی پی ٹی آئی قیادت پر پھٹ پڑے

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

  • نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز

    نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز

    فوج نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر فیض حمید کیخلاف انکوائری کمیٹی بنا دی۔

    ذرائع کے مطابق کمیٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کرے گی۔ انکوائری کمیٹی اعلی عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں قائم کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی الزامات ثابت ہونے پر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔واضح رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر ہاؤ سنگ سوسائٹی کے حوالے سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے، ہاؤ سنگ سوسائٹی کے معاملات کی اعلی عدلیہ سماعت کرچکی ہے۔

    ٹاپ سٹی سکینڈل کیس میں جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری کا حکم
    8 نومبر 2023 کو ٹاپ سٹی کے مالک معیز احمد خان نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس میں انہوں نے آرٹیکل 184/3 کے تحت فائل کی گئی پیٹیشن میں یہ الزام لگایا کہ سابقہ DG ISI لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی اتھارٹی کو ان کے اور ان کی فیملی کے خلاف غیر قانونی طور پر استعمال کیا،معیز احمد خان کی طرف سے جو پٹیشن سپریم کورٹ میں فائل کی گئی اس میں یہ کہا گیا کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے کہنے پر آئی ایس آئی کے افیشلز نے ٹاپ سٹی آفس اور معیز احمد کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے دوران اُن کے گھر سے قیمتی اشیاء جس میں گولڈ، ڈائمنڈ اور پیسے شامل ہیں، ریڈ کے دوران آئی ایس آئی آفیشلز اٹھا کر لے گئے – پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ سابقہ DG ISI لیفٹیننٹ جنرل حمید فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے اس مسئلے کو بعد میں حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ بھی کیا – اس پٹیشن میں یہ کلیم بھی کیا گیا کہ جنرل فیض نے بعد میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان سے خود ملاقات بھی کی جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی دلائی کہ ان میں سے کچھ چیزیں جو کہ ریڈ کے دوران آئی ایس آئی کے آفیشلز ساتھ لے گئے تھے وہ ان کو واپس کر دی جائیں گی البتہ 400 تولہ سونا اور کیش ان کو واپس نہیں کیا جائے گا – پٹیشن میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ آئی ایس آئی آفیشلز نے ان سے زبردستی چار کروڑ روپیہ کیش بھی لیا – پٹیشن میں مختلف آئی ایس آئی آفیشلز اور سابقہ DG ISI جنرل فیض حمید کے بھائی سردار نجف پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ٹاپ سٹی کو غیر قانونی طور پر ٹیک اوور کرنا چاہتے تھے

    معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اور ان سنگین الزامات کی پاداش میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ جس میں چیف جسٹس اف پاکستان جسٹس قاضی فائض عیسی، جسٹس عطر من اللہ اور جسٹس امین الدین شامل تھے اس کیس کو سنا اور فیصلہ دیا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے اور اس معاملے کی سنگین نوعیت ہونے کی وجہ سے ادارے کی عزت اور توقیر میں حرف ا سکتا ہے، اس لیے اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – معاملے کی مزید انویسٹیگیشن کے لیے سپریم کورٹ نے ا پٹیشنر کو یہ کہا کہ وہ اس مسئلے کو وزارت دفاع کے ساتھ اٹھائے – اٹارنی جنرل اف پاکستان نے اعلی عدلیہ کو یہ یقین دہانی دلائی کہ اس معاملے پر مکمل تعاون کیا جائے گا اور قانون کے مطابق اس کے اوپر ایکشن لیا جائے گا ،اعلی عدلیہ کے احکامات کے مطابق اور وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں، پاکستان فوج نے اپنے احتساب کے عمل کو اگے بڑھاتے ہوئے تمام معاملات کو ایک ہائی لیول ادارتی انکوائری کے ذریعے انویسٹیگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان سنگین الزامات کی تحقیق کرنے کے لیے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی ایک میجر جنرل کے نیچے بنا دی گئی ہے جو اس معاملے سے جڑے ہر پہلو کو تفصیل سے دیکھے گی،پاک فوج میں خود احتسابی کا ایک کڑا اور انتہائی شفاف نظام موجود ہے اور اسی نظام کو اگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام الزامات کی بڑی سنجیدگی کے ساتھ تفتیش کی جاتی ہے اور ذمہ داران کو کڑی سزائیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ پاک فوج کے خود احتسابی کے شفاف عمل پر کوئی انچ نہ آ سکے

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی،عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے، درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

  • سعودی وفد پاکستانی وزراء اور حکام کی تیاری سے متاثر ہوا ،وزیراعظم

    سعودی وفد پاکستانی وزراء اور حکام کی تیاری سے متاثر ہوا ،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اپنی عوام سے کئے گئے عہد کے مطابق پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات محنت کریں گے-

    باغی ٹی وی: محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مشکور ہیں کہ میرے حالیہ دورے کے بعد ان کی خصوصی دلچسپی کے تحت سعودی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا سعودی وفد پاکستانی وزراء اور حکام کی تیاری سے متاثر ہوا اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود نے اس کا برملا اظہار کیا، سعودی وفد کے دورے کے نتیجے میں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں اسی طرح محنت اور لگن سے اس سرمایہ کاری کی پاکستان میں آمد اور منصوبوں کی تکمیل یقینی بنانا ہے، اس حوالے سے نہ تو پرانے طریقہ کار پر چلنے کی گنجائش ہے اور نہ میں اسکی اجازت دوں گا، اپنی عوام سے کئے گئے عہد کے مطابق پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات محنت کریں گے، مجھے پورا یقین ہے کہ اگر ہم اسی طرح محنت کرتے رہے تو پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور معاشی استحکام کے اہدف جلد حاصل کر لیں گے، بہت جلد ایرانی صدر بھی پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    تعیناتیوں کےلیے65 سال تک عمرکی شرط ختم کرنے کی سمری تیار

    واضح رہے کہ دوسری جانب پاکستان میں سرکاری ملازمت کے درخواستگزاروں کی عمر سے متعلق وزیر اعظم کا نئی سمری کی منظوری دینے کا امکان ہے، سرکاری ملازمت کے لیے درخواست گزار کی عمر 65 سال تک ہونا ہونی چاہیے۔

    تاہم اب وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے سرکاری ملازمت کی عمر کی حد سے متعلق سمری منظور ی کا امکان ہے، منظوری کی صورت میں وفاقی وزارتوں، اداروں اور ڈویژنز میں ملازمت کے خواہاں افراد فائدہ مند ہو سکتے ہیں اس سمری کے مطابق 65 سالہ سے زائد عمر کے افراد بھی اپوائنٹ ہو سکتے ہیں، اس حوالے سے وزیر اعظم کی جانب سے کمیٹی بنائی گئی تھی، جس کی صدارت وزیر فنانس محمد اورنگزیب کر رہے تھے جبکہ ضروری ایڈجسٹمنٹس کے تحت وفاقی اداروں میں بہتری لانے کا ارازہ ہے۔

    سعودی معاون وزیر دفاع اسلام آباد پہنچ گئے،آرمی چیف سے ملاقات شیڈول

    یاد رہے کہ عمر کی حد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے دور حکومت میں عائد کی گئی تھی، تاہم اس سمری کی منظوری بہت جلد ملنے والی ہے،نئی پالیسی کے تحت ٹیلنٹڈ پروفینشلز، ٹیکینیل ماہرین کو ہائیر کیا جائے گا، جبکہ اس منظوری کے بعد درخواستگزاروں پر عمر کی بندش ختم ہو جائے گی۔

  • بھارت میں بے روزگاری، گھروں میں فاقے، شہری اسرائیل نوکری کیلیے مجبور

    بھارت میں بے روزگاری، گھروں میں فاقے، شہری اسرائیل نوکری کیلیے مجبور

    اسرائیل اور حماس میں سات اکتوبر سے ہونے والی جنگ جاری ہے ،اسرائیل میں جنگ کی وجہ سے اسرائیلی شہری کام کرنے کو تیار نہیں،وہیں اسرائیل میں کام کرنے والے فلسطینی شہریوں کے پرمٹ بھی معطل کئے گئے ہیں جس کے بعد مودی سرکارنے اپنے شہریوں کو جنگی حالت میں روزگار کے لئے اسرائیل بھیج دیا

    روزگار کے لئے ہزاروں شہری اسرائیل جانے کو تیار ہیں ، کئی بھارتی شہری اسرائیل پہنچ چکے ہیں،اسرائیل نے تعمیرات کے شعبے میں بھارتی شہریوں کو روزگار دیا ہے، اسرائیل میں روزگار کی آفر آئی تو بھارتی شہریوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں، بھارت میں غربت اور فاقوں کی وجہ سے ہر بھارتی شہری کی خواہش تھی کہ اسرائیل جائیں ملازمت کریں اور گھر والوں کو کچھ بھیجیں،اسرائیل میں اس سے قبل بھی بھارتی شہری ملازمت کر رہے تھے تا ہم انہیں سیکورٹی گارڈیا دیکھ بھال کی ملازمت دی جاتی تھی تا ہم اس بار اسرائیل نے بھارتیوں کو تعمیرات کے شعبے میں ملازمت دی

    اسرائیل حماس جنگ کے بعد اسرائیلی تعمیراتی کمپنیوں نے مبینہ طور پر تل ابیب میں اپنی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں فلسطینیوں کی جگہ ایک لاکھ بھارتی مزدوروں کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دے، جس کے بعد بھارت میں ہریانہ کی حکومت نے ں اسرائیل میں تعمیراتی کارکنوں کے لیے 10,000 آسامیوں کا اشتہار لگایا جن میں بڑھئی اور لوہے کے کام کرنے والوں کے لیے 3,000، فرش پر ٹائل لگانے والوں اور پلستر کرنے والوں کے لیے 2,000 آسامیاں شامل تھیں،بھارت کی جانب سے جاری اشتہار میں بتایا گیا کہ انہیں تقریبا ایک لاکھ 50 ہزار بھارتی ماہانہ تنخواہ دی جائے گی، ہریانہ میں ان بھارتی شہریوں کو 25 ہزار ماہانہ تنخواہ مل رہی ہے، لاکھ سے زائد تنخواہ کا سن کر بھارتی شہری بڑی تعداد میں سن کر اسرائیل جانے کے لئے تیار ہوئے،

    بھارتی ریاست لکھنو میں بھی اسی طرح کا اشتہار جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بھارتی شہری اسرائیل جانے کے لئے درخواستیں جمع کروائیں،ایک شہری کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں بھارتی شہری میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ” حکومت اسرائیل بھیج رہی ہے، یہان‌روزگار نہیں ہے، اسلئے لڑکے وہاں بھاگ رہے ہیں، ڈیڑھ لاکھ سیلری بتائی گئی ہے، یہاں روزگارہ نہیں ہےہم یہاں‌کاغذات بنانے کے لئے آئے ہیں، اس سوال پر کہ وہاں ڈر نہیں لگے گا کے جواب میں شہری کا کہنا تھا کہ ڈر کر کیا کریں گے پیسہ وہاں مل رہا ہے،یہاں‌تو روزگار نہیں ہے، میری شادی ہو گئی ہے، ایک بچی ہے، بیوی سے پوچھ کر یہ کام نہیں کرین گے، بیوی کےشوق کے لئے یہ کام کرنے پڑ رہے ہیں، ہر جگہ مندر بن رہے ہیں لیکن اگر کوئی کمپنی بن جاتی تو اچھا رہتا لوگوں کو نوکریاں ملتیں، ہمیں ڈیڑھ سال کہا گیا تھا لیکن یہاں آ کر پتہ چلا کہ پانچ سال کے لئے جا رہے ہیں”.

    اسرائیل جانے والے بھارتی شہریوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار صرف دعوے کر رہی ہے لوگوں کو ملازمت نہیں مل رہی، اس وجہ سے ہم اسرائیل جانے پر مجبور ہیں کم از کم گھر میں تو خوشحالی آئے گی،کرونا میں ہماری ملازمت ختم ہوئی تھی اس کے بعد سے نوکری نہیں ملی، ان کی حفاظت کو لاحق خطرات گھر میں بھوک سے زیادہ بہتر ہیں، ان کے گھر میں فاقے ہورہے ہیں، وہ کیا کریں، اگر مودی سرکار بھارت میں ہی ملازمت دیتی تو وہ کبھی بھی اسرائیل جنگی حالت میں روزگار کے لئے نہ جاتے

    بھارتی شہریوں کے اسرائیل ملازمت کے لئے جانے سے مودی سرکار کی بھارت کی ترقی و خوشحالی کے دعوؤں کی بھی قلعی کھل گئی ہے، بھارت میں انتخابات کے دن چل رہے ہیں، ایسے میں بھارت میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے،بھارتی شہریوں کو مجبوری میں اسرائیل جانا پڑ رہا ہے

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بھارتی شہریوں کے اسرائیل ملازمت کے لئے جانے پر کہا کہ بھارتی شہری اسرائیلی حکومت سے معاہدے کے بات اسرائیل گئے، ہم انکی حفاظت کے لئے محتاط ہیں،ہم نے اسرائیل کو کہا کہ ہے بھارتی شہریوں کی دیکھ بھال کے لئے اپنی پوری کوشش کریں

    بھارت کی جانب سے شہریوں کو ملازمت کے لئے اسرائیل بھجوانے پر بھارت کی ٹریڈ یونینز بھی سراپا احتجاج رہیں، کئی ٹریڈ یونینز نے مودی سرکاری سے مطالبہ کیاکہ مزدوروں کو اسرائیل نہ بھیجا جائے، بلکہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ختم کیا جائے جنگ کے دنوں‌میں شہریوں کو اسرائیل بھیجنا یہ کونسا طریقہ ہے، ٹریڈ یونین کے سیکرٹری جنرل تپن سین نے بھارتی مزدوروں سے بھی اپیل کی کہ وہ مودی سرکار کے جال میں پھنس کر موت کے منہ میں نہ جائیں،اسرائیل گئے تو زندہ بھی نہیں رہو گے ،لاش بھی گھر نہیں آ سکے گی

  • سعودی معاون وزیر دفاع اسلام آباد پہنچ گئے،آرمی چیف سے ملاقات شیڈول

    سعودی معاون وزیر دفاع اسلام آباد پہنچ گئے،آرمی چیف سے ملاقات شیڈول

    اسلام آباد: سعودی عرب کے معاون وزیر دفاع میجر جنرل (انجینئر) طلال بن عبداللہ العتیبی پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان پہنچنے پر سعودی معاون وزیر دفاع میجر جنرل (انجینئر) طلال بن عبداللہ العتیبی کا پرتپاک استقبال کیا گیا،اپنے دور ے کے دوران سعودی عرب کے معاون وزیر دفاع میجر جنرل (انجینئر) طلال بن عبداللہ العتیبی کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات بھی شیڈول ہے، ملاقات میں پاک سعودیہ دفاعی تربیت سمیت دفاعی امور زیرِ بحث آئیں گے۔

    سعودی معاون وزیر دفاع میجر جنرل (انجینئر) طلال بن عبداللہ العتیبی کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات میں دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    قبل ازیں سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی تھی، آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑہانے کے لئے پالیسیوں پر بات کی گئی، معزز مہمان نے دونوں اقوام کے تعلقات کی تزویراتی نوعیت پر زور دیا،ملاقات میں سعودی وزیرخارجہ کے وفد کے اراکین بھی شامل تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے جاری دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے بہت سے شعبوں میں تعاون کو سراہا ، جبکہ آرمی چیف نے بھی پاکستان اورسعودی عرب کے مثالی تعلقات کوسراہا،آرمی چیف کی سعودی وفدکوہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی جبکہ آ رمی چیف کی دونوں ملکوں کےعوام میں بھائی چارے کی تعریف بھی کی ۔