Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان سرزمین سے پنپتی دہشتگردی عالمی سطح پر تشویش کا باعث

    افغان سرزمین سے پنپتی دہشتگردی عالمی سطح پر تشویش کا باعث

    افغان سرزمین سے پنپتی دہشتگردی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گئی

    افغانستان دہشتگرد گروہوں اور پراکسیز کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جس سے پورا خطہ متاثر ہورہا ہے،افغان طالبان کی زیر سرپرستی افغانستان سے سرحد پار دہشتگردوں کے حملے اور دراندازی معمول بن گئی ہے ،ساوتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل اور افغان جریدہ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق یورپی یونین نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے بننے سے روکیں،افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کیخلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، یورپی یونین نے طالبان سے افغانستان میں سرگرم تمام دہشتگرد گروہوں کیخلاف موثر کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے،امریکا اور چین نے پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں پر مکمل حمایت اور اعتماد کااظہار کیا ،

    ماہرین کے مطابق؛افغان طالبان رجیم نےاپنے ناجائز تسلط کو سہارا دینے کے لئے دنیا بھر کے دہشتگرد گروپوں کو سرپرستی فراہم کررکھی ہے، افغان سرزمین مضبوط اور مؤثر حکومت کے قائم نہ ہونے تک دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی رہے گی،

  • وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حملوں کی شدید مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حملوں کی شدید مذمت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شام کے وقت سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزیر اعظم نے آج اسرائیل کے ایران پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین علاقائی کشیدگی اور بعد ازاں بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی،وزیراعظم نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں انہوں نے سعودی قیادت کو پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر حال میں، ہر وقت اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی ثابت قدم حمایت جاری رکھے گا،وزیراعظم نے اس نازک مرحلے پر پاکستان کی تعمیری اور مثبت کردار ادا کرنے کی آمادگی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ ماہ مقدس رمضان المبارک کی برکتوں سے خطے میں جلد امن، استحکام اور ہم آہنگی قائم ہو۔

    سعودی عرب کا ایرانی میزائل کو ریاض کی فضاؤں میں تباہ کرنے کا دعویٰ

    مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی :8 ممالک کی فضائی حدود بند

    امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

  • مودی، ہیبت اللہ اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، تل ابیب میں خفیہ بیٹھک کا بھانڈا پھوٹ گیا

    مودی، ہیبت اللہ اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، تل ابیب میں خفیہ بیٹھک کا بھانڈا پھوٹ گیا

    مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر خطے میں خفیہ سفارتی صف بندیوں سے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے سے متعلق سنگین اور خطرناک دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

    ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت، اسرائیل اور افغان عبوری قیادت کے درمیان ایک ایسی غیر اعلانیہ منصوبہ بندی ہوئی ہے جس کا مقصد خطے کو افراتفری اور کشیدگی کی جانب دھکیلنا اورمسلم ممالک کو آپس میں لڑانا تھا ۔

    واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، افغانستان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مبینہ طور پر تل ابیب میں ایک خفیہ مشاورت ہوئی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مشاورت میں پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے ذریعے مصروف رکھنے اور اسی دوران ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے امکانات پر گفتگو کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ جارحانہ عزائم رکھنے والے ان 3 ممالک کی حکمت عملی کھل سامنے آ چکی ہے جس کے اثرات نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک اہم ملک ہے جو ایران اور افغانستان دونوں کے ساتھ سرحد رکھتا ہے، ایسے میں کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر پورے خطے سے زیادہ پاکستان پر پڑ سکتا ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعاون پر بحث ہوتی رہی ہے، جبکہ بھارت اور ایران کے درمیان توانائی، بندرگاہی اور تجارتی منصوبے بھی عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔حالیہ سرحدی کشیدگی، خصوصاً 26 اور 27 فروری کو پاکستانی سرحدی علاقوں میں ہونے والے حملوں کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں بڑی تعداد میں شدت پسند مارے گئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی پوزیشن مستحکم رکھی۔ بعض حلقے ان واقعات کو ایک وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

    افغان طالبان کی حالیہ سرگرمیوں کو بھی بعض مبصرین عالمی طاقتوں کے مفادات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی اور دفاعی دونوں سطحوں پر اقدامات جاری رہیں گے۔ ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان خطے میں توازن اور امن کا خواہاں ہے۔عالمی سطح پر اب یہ سوال ضرور زیر بحث ہے کہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کس سمت جا رہی ہے، اور کیا واقعی کوئی نئی صف بندی تشکیل پا رہی ہےم آیا بھارت اسرائیل اور افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کوئی کھیل تو نہیں کھیل رہا ہے، ان سوالات کا جواب آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

  • ایران کی جوابی کاروائی،فتح خیبر، اسرائیل پر میزائل داغ دیئے

    ایران کی جوابی کاروائی،فتح خیبر، اسرائیل پر میزائل داغ دیئے

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے گے، اسرائیلی فوج نے تصدیق کردی، اسرائیل کے مختلف شہروں میں دھماکے سنے گئے ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی کے شمالی علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، اسرائیلی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مصروف ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران نے جوابی کارروائی کو "فتح خیبر” کا نام دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے مزید میزائیل داغ دیے گئے ہیں۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے شہریوں کو ایرانی میزائل حملوں کی ویڈیو بنانے سے منع کردیا، نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ہی تل ابیب میں سائرن بج اٹھے۔دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے حملوں کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں بھی دفاعی نظام کو فعال کردیا گیا۔

    ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف میزائل ڈرون حملوں کی پہلی لہرلانچ کردی ہے جبکہ غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگی طیارے اور میزائل عراق کی فضائی حدود میں دیکھے گئے۔ایرانی ٹی وی کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر تقریباً 75 میزائلوں سے حملہ کیاگیا۔

    ایران بھر میں یونیورسٹی کی کلاسز آج منسوخ کر دی گئی ہیں، اور کل سے شروع ہونے والی کلاسیں عملی طور پر ہوں گی۔ ایران نے بحرین میں امریکی بحریہ کی لاجسٹک تنصیب پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ قطر نے ایک ایرانی میزائل مار گرایا ہے، الجزیرہ نے ایک قطری اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے۔ بحرین کے شہر منامہ میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔خلیج فارس کے ساحل پر واقع ایرانی شہر چابہار پر اسرائیل نے حملہ کیا ہے۔ ایران تقریباً کل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سامنا کر رہا ہے، کنیکٹیویٹی معمول کی سطح کے تقریباً 4 فیصد تک کم ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کیخلاف امریکا اسرائیل مشترکہ کارروائی کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری طاقت حاصل کرنے نہیں دی جائے گی۔نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران سے لاحق خطرات ختم کرنے کیلئے آپریشن شروع کردیا، ایران کو جوہری طاقت حاصل کرنے نہیں دی جائے گی۔صہیونی وزیراعظم نے کہا کہ یہ آپریشن ایرانی عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا موقع دے گا۔

  • آپریشن غضب للحق جاری،افغان طالبان کے  کانڈکسی بیس  چترال کو شدید نقصان

    آپریشن غضب للحق جاری،افغان طالبان کے کانڈکسی بیس چترال کو شدید نقصان

    آپریشن غضب للحق جاری ہے،پاکستان سیکیورٹی فورسز کی افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی جاری ہے۔

    افواج پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے کانڈکسی بیس چترال کو شدید نقصان پہنچایا۔ پاکستان کی مسلح افواج بلا اشتعال جارحیت کیخلاف ہر لمحہ چوکس اور بھرپور جواب دینےمیں مصروف ہیں۔

    پاک فوج نے زئوبا سیکٹر میں افغان طالبان کی ڈیلٹا پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا۔ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی کررہی ہیں۔ آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

    پاک فوج کی مؤثر کاروائی کے دوران افغان طالبان کی پوسٹوں اور کیمپس کو شدید نقصان کا سامنا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی، افغان طالبان کی خیبر پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ پاک فوج کی مؤثر کاروائی سے دشمن کے ٹھکانوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ ننگرھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو تباہ کردیا۔ پاک فضائیہ نے ننگرھار میں افغان طالبان کے بٹالین ہیڈکوارٹرز کوبھی نشانہ بنایا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے صرف افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنارہی ہیں۔ آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

  • اسرائیل کا ایران پر حملہ،تہران میں  دھماکے

    اسرائیل کا ایران پر حملہ،تہران میں دھماکے

    اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملے شروع کر دیے

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں تاہم دھماکوں کی وجوہات نامعلوم ہیں،ادھر اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی ایران پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے تہران پر حملہ کیا ہے، ایران پر پیشگی حملےشروع کیے ہیں،

    ایرانی میڈیا کا بتانا ہے کہ متعددمیزائل تہران میں یونی ورسٹی روڈ اور جمہوری ایریا پرگرے، تہران میں دھویں کے بادل بھی اٹھتے دیکھے گئے۔

    اسرائیلی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اسرائیل بھر میں اسکول بند کردیے گئے ہیں، عوام کو گھروں سے ہی کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے ہیں۔

  • پاک فوج کا مؤثر جواب،297 طالبان ہلاک،89 پوسٹیں تباہ،18 پر قبضہ

    پاک فوج کا مؤثر جواب،297 طالبان ہلاک،89 پوسٹیں تباہ،18 پر قبضہ

    آپریشن غضب للحق اور اس کے نتیجے میں افغان طالبان کی حکومت کے نقصانات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

    وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی کے مطابق افغانستان سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں آج دن بھر جاری رہیں۔مجموعی طور پر 297 افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کے ہلاک اور 450 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔افغان طالبان کی 89 پوسٹیں تباہ اور اٹھارہ (18) پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔افغان طالبان کی حکومت کے 135 ٹینک تباہ ہو چکے ہیں۔پورے افغانستان میں انتیس (29) مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔الحمدللہ، پاکستان کی جارحیت کا فوری اور موثر جواب جاری ہے۔

  • آپریشن غضب للحق جاری ، ننگرھار میں فضائی حملے، افغان طالبان کا بریگیڈ ہیڈکوارٹرز  تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری ، ننگرھار میں فضائی حملے، افغان طالبان کا بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری ، ننگرھار میں فضائی حملے،پاک فوج کی افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ ننگرھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو تباہ کردیا ،پاک فضائیہ نے ننگرھار میں افغان طالبان کے بٹالین ہیڈکوارٹرز کوبھی نشانہ بنایا ،پاکستانی سیکیورٹی فورسز عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے صرف افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنارہی ہیں ،آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا

    پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں صوبہ لغمان میں اسلحہ ڈپو،اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ مکمل طورپر تباہ ہو گیا ہے،

  • پاکستان کے ساتھ ہوں،افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا،مداخلت نہیں کروں گا،ٹرمپ

    پاکستان کے ساتھ ہوں،افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا،مداخلت نہیں کروں گا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کررہا ہے ، مداخلت نہیں کروں گا۔

    پاک افغان جنگ سے متعلق سوال پر امریکی صدر ٹرمپ سے سوال ہوا جس پرانہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی عزت کرتا ہوں، پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کررہا ہے ، مداخلت نہیں کروں گا، میں پاکستان کے ساتھ ہوں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، بہت اچھی طرح سے۔ بہت، بہت اچھا۔ جی ہاں، ان کے پاس ایک عظیم وزیر اعظم ہے، وہاں ایک عظیم جنرل ہے، وہاں آپ کا ایک عظیم لیڈر ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ دو لوگوں کا میں واقعی بہت احترام کرتا ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستان بہت اچھا کام کر رہا ہے، ہاں

    اس کے علاوہ امریکی صدر نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران سے خوش نہیں ہوں مگر جمعے تک مزید مذاکرات متوقع ہیں، ایران کے ساتھ ڈیل بنانا چاہتا ہوں ۔

  • 53 مقامات پر حملوں کا جواب دیا،274 افغان اہلکار ہلاک،12سپوت شہید،ترجمان پاک فوج

    53 مقامات پر حملوں کا جواب دیا،274 افغان اہلکار ہلاک،12سپوت شہید،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لیا لیکن افغان طالبان ایک ماسٹر پروکسی ہے جس نے ان کا ساتھ دیا ،آپریشن غضب للحق پر وزیر اعظم کو بریف کردیا گیا ہے، ٹی ٹی پی بین الاقوامی سطح پر دہشتگرد قرار دی گئی تنظیم ہے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ طالبان نے پختونخوا کے پندرہ سیکٹرز میں 53 مقامات پر حملے کیے،پاک فوج نے تمام 53 مقامات پر بروقت کارروائی کی اور ان دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، اب تک افغان رجیم کے 274 افغان اہلکار ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ 400 سے زائد زخمی ہیں۔ 73 سے زائد پوسٹیں تباہ، 115 ٹینک، آرٹلری گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں،افغان طالبان اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھی فرار ہو چکے ہیں، افغان طالبان اور خوارج ہرجگہ جان بچا کر بھاگتے رہے،لاشیں بھی اٹھا نہیں سکے،یہ کواڈ کاپٹر ، چھوٹے اور بڑے ہتھیار لیکر آئے، انکے کواڈ کاپٹر اور ہتھیاروں کو خاموش کروایا، جہاں جہاں سے یہ حملہ آیا، پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا، 12 پاکستانی فوجی شہید ہوئے 27 زخمی ہیں جبکہ ایک مسنگ ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں کسی سویلین ٹارگٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا ،حالیہ حملوں اور سرحد پار سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک "ماسٹر پراکسی” ہے جس کا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا ہے، ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے، بنیان المرصوص کی طرح گزشتہ رات بھی پوری قوم پاک افواج کیساتھ کھڑی تھی۔افغان طالبان اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے شرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، افغان طالبان کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشتگردی کی صورت میں جواب دیں گے،افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، ایبٹ آباد، نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنادیا گیا، ہمارا گزشتہ روز آپریشن اپنے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ میں تھا، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے، پاکستان میں اگر کسی جگہ دہشت گردی، خودکش حملہ ہوا تو جواب ناصرف دہشتگردوں بلکہ ان کاتحفظ کرنےوالوں کو بھی دیا جائے گا، افغانستان کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں یا پاکستان میں سے کسی ایک کو چننا ہے، ہماری چوائس واضح ہے، ہم اپنی چوائس کیلئے قربانی دینے سے کبھی نہیں جھجکیں گے، پاکستان کی افواج مشرقی اور مغربی بارڈر پر ہر دم تیار ہیں، کسی کو شوق پورا کرنے ہے تو آزمالے، پاکستان کے مفادات کا تحفط ہر قیمت پر کیا جارہا ہے،افغان طالبان رجیم نے ہی دوحہ معاہدہ کیا تھا، افغان طالبان نے کہا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیا افغان طالبان نے اپنے معاہدے کی پاسداری کی؟کل رات جو ہم نے آپریشن کیا وہ اپنے حق کے تحفظ کیلئے تھا، تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو کوئی جگہ نہیں دی جاسکتی، نیشنل ایکشن پلان 2014 میں بنا تھا جسے ہم وژن عزم استحکام کہتے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کے ہر واقعے میں بھارت ملوث ہے، افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن غضب للحق جاری ہے، دنیا سمجھتی ہے پاکستان کا آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ کیلئے ہے، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ خیبر پختونخوا کی پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے،