Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اچھا ہوتا عمران خان پر آن لائن فرد جرم عائد ہو جاتی،پراسیکیوٹر جنرل

    اچھا ہوتا عمران خان پر آن لائن فرد جرم عائد ہو جاتی،پراسیکیوٹر جنرل

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت کا کیس ،سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی گئی،

    عمران خان کی لیگل ٹیم کے رکن بیرسٹر گوہر نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا گیا ہے، عمران خان کی پیشی کے موقع پر امن و امان کا مسئلہ ہوسکتا ہے ،عدالتی حکم پر ضمانتوں کیلئے عمران خان متعلقہ فورمز سے رجوع کررہے ہیں ،آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی جائے ، عمران خان نے تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کررکھی ہے

    دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر رہنماﺅں کیخلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج مقدمہ پر سماعت ہوئی،جج راجہ جواد عباس نے کیس کی سماعت کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اسد عمر اور دیگر پی ٹی آئی رہنما گرفتار ہیں ،جج اے ٹی سی نے کہا کہ لسٹ بتا دیں جو پی ٹی آئی رہنما گرفتار ہیں ،پراسیکیوٹر جنرل نے کہاکہ ضمانت قبل ازگرفتاری کے بعد بھی ایک ہی طرح کے جرم کررہے ہیں ،جج اے ٹی سی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا کارانہ طور پر کوئی گرفتاری نہیں دیتا،جو گرفتار نہیں ان کیلئے ساڑھے 3 بجے تک فیصلہ کر لیں گے ،وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ لاہور میں موجود پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش نہیں ہو سکتے پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اچھا ہوتا عمران خان پر آن لائن فرد جرم عائد ہو جاتی ،جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اے ٹی سی میں آن لائن کی سہولت موجود ہے ، اے ٹی سی میں ایسی صورتحال آئی تو آن لائن فرد جرد عائد کر دیں گے

    وکیل درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ تمام پی ٹی آئی رہنماﺅں کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی جائے عدالت نے استثنیٰ کی درخواستوں پر دلائل کیلئے ساڑھے 11 بجے کا وقت مقرر کردیا ،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ساڑھے 11 بجے دیکھ لیتے ہیں، کچھ رہنما مقصود ہیں اور کچھ مطلوب،وکیل درخواست گزارنے کہا کہ سب کی ایک ہی صورتحال ہے، فی الحال شہید ہونے سے بچایا جائے ،اے ٹی سی جج راجہ جواد عباس نے سماعت میں وقفہ کر دیا

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل نعیم حیدر کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، ایڈیشنل سیشن جج سکندر خان نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے استفسار کیا کہ نعیم حیدر کہاں ہیں ؟وکیل نے کہا کہ عمران خان کی پیشی پر نعیم حیدر زخمی ہوئے تھے،نعیم حیدر کا سی ٹی سکین کرانا ہے، آج نہیں آ سکتے ،عدالت نے کہا کہ نعیم حیدر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہیں ،عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں

    جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ 19 مئی کوسماعت کرے گا ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں میں موقف اپنایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 21 اکتوبر 2022 کو این اے 95 میانوالی سے نااہل کیا تھا نااہل شخص کا سیاسی جماعت کا سربراہ ہونا خلاف قانون ہے لہٰذا انہیں پارٹی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کیا جائے

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی الیکشن کمیشن نےعمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • فوج کیخلاف گیا نہ ہی کبھی جاؤنگا، پی ٹی آئی رکن اسمبلی محمود مولوی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا

    فوج کیخلاف گیا نہ ہی کبھی جاؤنگا، پی ٹی آئی رکن اسمبلی محمود مولوی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا

    کراچی باغی ٹی وی (ویب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے رکن قومی اسمبلی محمود مولوی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
    کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود مولوی کا کہنا تھاکہ میں اعلان کررہا ہوں کہ میں پارٹی کو چھوڑ رہا ہوں۔
    انہوں نے کہا کہ مجھے ٹکٹ بھی خان صاحب نے دیا، پارٹی نے عزت دی، میں اپنی فوج کے خلاف کبھی گیا نہ ہی جاؤنگا، سیاسی جماعت ہم چھوڑ سکتے ہیں، فوج نہیں بدل سکتے
    ان کا کہنا تھاکہ مجھے 65 اور 71 کی جنگ اچھی طرح یاد ہے، کوئی ایک شخص نا پسند ہوسکتا، جو بھارت کا باپ نہیں کرسکا آج ہم نے وہ کام کیا، کون لوگ تھے مجھے نہیں معلوم، میں اس ٹیم کا حصہ نہیں، جو لوگ بھی تھے اس کی کوئی صفائی نہیں، فوج کو ہٹا کر یہ ملک نہیں چل سکتا۔
    محمود مولوی کا کہنا تھاکہ جب پی ٹی آئی میں آیا تو واضع تھا کہ سلجھی ہوئی پارٹی ہے، جو واقعہ میں نے دیکھا اس پر دکھ ہوا، فوج سے لڑنا کہیں سے جائز نہیں، فوج کے اوپر ایسی سو چیزیں قربان ہیں، وہ جہاز جس پر فخر کرتے تھے آج اس کی بے حرمتی کررہے ہیں، یہ نہیں کہ میں کسی پارٹی میں جارہا ہوں یا کسی نے آفرکی ہے، مجھے پارٹی کی سپورٹ تھی، علاقے کےلوگ عزت کرتے تھے، یا تو میں کوئی ادارہ بناؤنگا یا کوئی نئی پارٹی بناؤں گا اور ایسے لوگ شامل کروں گا جو ملک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ زیادہ تر پارٹیاں حکومت میں فوج کی تعریف کرتی ہیں بعد میں تنقید کرتی ہیں، اسمبلی میں عوام کی بات کریں، مسائل کی بات کریں، وہ کام نہ کریں جو شفاف نہ ہوں، میں اپنا بزنس چھوڑ کر آیا تھا، اللہ نے مجھے جو کچھ دیا ہے وہ اس ملک سے ملا ہے، کوئی ایک آدمی کہہ دے کہ میں نے کسی کا ایک روپیہ کھایا، میں دنیا سے جانے سے پہلے عزت اور وقار سے جانا چاہتا ہوں، کینیڈین شہریت مل رہی تھی، میں نے نہیں لی۔
    ان کا کہنا تھاکہ ہم اقتدار میں آئے تھے تو کیا فوج کے خلاف آئے تھے؟ عمران خان کہتے تھے کہ فوج ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے، فوج سے لڑکر ہم کیا ثابت کریں گے؟ کوئی میرا سوفٹ ویئر تبدیل نہیں کرسکتا۔
    انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ ملوث ہیں انہیں سزائیں ملنی چاہیئیں جو شخص میرے بچوں کوبھڑکارہاہےاس کوبھی سزا ملنی چاہیے۔
    محمود مولوی نے قومی اسمبلی نشست سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔
    خیال رہے کہ محمود مولوی رواں سال فروری میں کراچی سے قومی اسمبلی نشست این اے 245 پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے، وہ سینیئر نائب صدر پی ٹی آئی کراچی بھی رہے ہیں۔

  • پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس؛ قومی احتساب ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا گیا

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس؛ قومی احتساب ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا گیا

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس؛ قومی احتساب ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا گیا.

    پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس میں قومی احتساب ترمیمی بل 2023 منظورکرلیا گیا۔ سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے اجلاس میںوفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے اس حوالہ سے بل ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی، سپیکر کی جانب سے اجازت ملنے پرانہوں نے بل ایوان میں پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک جماعت کہہ رہی ہے کہ یہ این آراو ہے، اگریہ این آراوہے توصرف اسی جماعت کیلئے ہے۔صدر مملکت کاتعلق بھی اسی جماعت سے ہے اور انہوں نے یہ بل بغیر دستخط کے واپس بھیج دیا ہے۔عدالتی احکامات کے مطابق یہ ترامیم کی جا رہی ہیں۔

    وزیر قانون نے کہا کہ قانون سازی پرکوئی فرد یا ادارہ قدغن نہیں لگا سکتا، صدر نے اعتراض اٹھایا ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لئے اس پرقانون سازی نہیں ہو سکتی،صدرمملکت پارلیمان کاحصہ ہے مگرانہیں پارلیمان کے قوانین کا علم نہیں ،جو ترامیم کی جا رہی ہیں وہ ضروری ہیں۔ انہوں نے یہ بل ایوان میں پیش کر دیا، ایوان نے بل کی کثرت رائے سے شق وارمنظوری دیدی۔ اجلاس میں بل کی منظوری کے دوران سینیٹر مشتاق احمد خان کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    دوسری جانب مشترکہ اجلاس نے بچے کی پیدائش پر ماں اور والد کو چھٹی دینے کا بل بھی منظور کر لیا، سینیٹر قرۃ العین مری نے میٹرنٹی اینڈ پیرٹنٹی بل پیش کیا۔ جبکہ بل منظور ہونے کے بعد بچے کی پیدائش پر والد 30 دن کی پیڈ چھٹی لے سکیں گے۔میٹرینٹی بل کی منظوری کے بعد ماں کو پہلی پیدائش پر 6 ماہ، دوسری پر 4 جبکہ تیسری پر 3 ماہ کی چھٹی مل سکے گی۔ والد کو چھٹیاں سروس میں تین دفعہ میسر ہوں گی، قانون کا اطلاق اسلام آباد کی حدود میں نجی و سرکاری اداروں دونوں پر ہوگا۔ اس کے علاوہ نجی و سرکاری سکولوں میں پیرامیڈیکل سٹاف کی سہولت سے متعلق بل بھی منظور کر لیا گیا۔

  • فوجی تنصیبات پر حملہ کرنیوالوں کیخلاف تحمل کا مظاہرہ نہ کرنے کا عزم. کور کمانڈرز کانفرنس

    فوجی تنصیبات پر حملہ کرنیوالوں کیخلاف تحمل کا مظاہرہ نہ کرنے کا عزم. کور کمانڈرز کانفرنس

    فوجی تنصیبات پر حملہ کرنیوالوں کیخلاف تحمل کا مظاہرہ نہ کرنے کا عزم. کور کمانڈرز کانفرنس

    پاک فوج نے فوجی تنصیبات کے حملہ آوروں کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا اعلان کردیا ہے جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں شرکاء نے شہداء کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے دہشت گردی کی لعنت سے لڑتے ہوئے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق فورم نے ملک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، خاص طور پر مسلم باغ حملے میں فوجیوں کی طرف سے دیے گئے دلیرانہ جواب کا اعتراف کیا اور سرزمین کے بہادر بیٹوں کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں فورم کو موجودہ اندرونی اور بیرونی سلامتی کے ماحول کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا جب کہ گزشتہ چند دنوں میں امن و امان کی صورت حال کا جامع جائزہ لیا جسے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہداء کی تصاویر، یادگاروں کی بے حرمتی، تاریخی عمارتوں کو نذر آتش کرنے اور فوجی تنصیبات کی توڑ پھوڑ پر مشتمل ایک مربوط آتش زنی کے منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تاکہ ادارے کو بدنام کیا جا سکے اور اسے ایک زبردست ردعمل کی طرف اکسایا جا سکے۔ کانفرنس کے شرکاء نے فوجی تنصیبات اور سرکاری و نجی املاک کے خلاف سیاسی طور پر محرک اور اکسانے والے واقعات کی سخت ترین ممکنہ الفاظ میں مذمت کی جبکہ کمانڈروں نے ان افسوس ناک اور ناقابل قبول واقعات پر غم اور جذبات کا بھی اظہار کیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اب تک جمع کیے گئے ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر مسلح افواج ان حملوں کے منصوبہ سازوں، اکسانے والوں، ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور مجرموں سے بخوبی واقف ہیں اور اس سلسلے میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوششیں بالکل بے سود ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فوجی تنصیبات اور ذاتی سامان کے خلاف ان گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کو پاکستان کے متعلقہ قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ فوم نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ کسی حالت میں فوجی تنصیبات اور سیٹ اپ پر حملہ کرنے والے مجرموں، بگاڑنے والوں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فورم نے بیرونی طور پر اسپانسر شدہ اور اندرونی طور پر سہولت یافتہ، آرکیسٹریٹڈ پروپیگنڈہ جنگ پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جس کا مقصد فوج کی قیادت کے خلاف شروع کیا گیا، جس کا مقصد مسلح افواج اور پاکستان کے عوام کے درمیان، اور مسلح افواج کے رینک اور فائل کے اندر دراڑ پیدا کرنا ہے۔ فورم کا کہنا تھا کہ ایسی دشمن قوتوں کے مذموم پروپیگنڈے کو پاکستانی عوام کی حمایت سے شکست دی جائے گی جو ہر مشکل میں ہمیشہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے سوشل میڈیا کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے متعلقہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطبابق فورم نے جاری سیاسی عدم استحکام کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا جا سکے۔ فورم نے اس انتہائی ضروری اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرنے کا بھی عزم کیا۔

  • عدالت اور پی ٹی آئی کو دہشت گردانہ واقعات کی مذمت کرنی چاہئے۔ بلاول بھٹو زرداری

    عدالت اور پی ٹی آئی کو دہشت گردانہ واقعات کی مذمت کرنی چاہئے۔ بلاول بھٹو زرداری

    عدالت اور پی ٹی آئی کو دہشت گردانہ واقعات کی مذمت کرنی چاہئے۔ بلاول بھٹو زرداری

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے پاس آخری موقع ہے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرے جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پہلی بار کمانڈر ہاؤس میں توڑ پھوڑ ہوئی، پشاور میں ریڈیو پاکستان اور پبلک ٹرانسپورٹ کو جلایا گیا، عدالت کو دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کو فیصلہ کرنا چاہیے وہ سیاسی جماعت ہے یا دہشت گرد، اگرعمران خان مذمت نہیں کرتے یا لاتعلقی کا اعلان نہیں کرتے تو مطلب سیاسی جماعت نہیں دہشت گرد جماعت ہے، پھر اس کو ایک دہشت گرد جماعت کی طرح ٹریٹ کرنا ہوگا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھ کہ یہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہر ادارے پر حملہ کیا، حکومت میں آکر سلیکٹڈ راج قائم کیا، گزشتہ حکومت میں آئی ایس آئی کو مخالفین کے لیے استعمال کیا گیا، ہم اصولی طور پر کسی الیکشن کے خلاف نہیں ہیں، ہم سمجھتے ہیں اس کا مقابلہ نیب نہیں الیکشن کے ذریعے ہو گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ہم ہمت پکڑتے ہیں تو یہ الیکشن ہار جائے گا، اگر آپ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں تو یہ الیکشن ہار سکتا ہے، ہم نے آمروں کا مقابلہ کیا ہے، ہم پارلیمان کو بچائیں گے اور اس فتنہ کا بندوبست کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ خان نہیں، اس وقت عوام مشکل معاشی حالات سے گزر رہے ہیں، حکومت کبھی اسلام آباد، کبھی لاہور جناح ہاؤس کی آگ بجھا رہی ہوتی ہے، وقت آگیا ہے تحریک انصاف کے پاس آخری موقع ہے، دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک میں عدم استحکام پارلیمان نہیں ہمارے ہمسایہ ادارے کی وجہ سے ہے، اس سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے جو بھی کرنا ہے ہم تیار ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ شرجیل میمن کو سپریم کورٹ، آغا سراج درانی کو سپیکر ہاؤس سے گرفتار کیا گیا، کرپشن کیس میں عمران خان کی گرفتاری تو ہونا تھی، عمران خان کو خصوصی رعایت دی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حراست میں صرف ایک رات گزاری، عمران خان کی گرفتاری پر جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، کیا جناح ہاؤس نذر آتش کرنے پر کسی سے اظہار یکجہتی کیا گیا، عمران خان کی گرفتاری کا مقام غلط لیکن گرفتاری تو ٹھیک تھی۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری پر پی ٹی آئی نے دہشتگرد تنظیم بن کر ردعمل دیا، عمران خان کو عدالتوں نے خصوصی ریلیف دیا ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کا کہنا تھا کہ جی ایچ کیو، جناح ہاؤس پر حملوں کی مذمت کرتا ہوں، کراچی، لاہور، پشاور میں نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، زندگی میں پہلی بار کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ دیکھا ہے، زندگی میں پہلی بار ہوائی جہاز جلتے دیکھا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت پر جیالوں نے لاہور میں احتجاجاً خودسوزی کی، بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر لاکھوں افراد نے استقبال کیا، کوئی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لاہور جیسا اجتماع نہیں کر سکی، بینظیر بھٹو کو معلوم تھا ذوالفقار علی بھٹو، شاہنواز بھٹو کا قاتل اسلام آباد میں بیٹھا ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائی ہیں، پیپلز پارٹی نے سیاسی مخالفین سے انتقام نہیں لیا، پیپلز پارٹی کو ہر دور میں بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، آصف زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاریاں کیا تھیں؟ فریال تالپور کو چاند رات کو زبردستی ہسپتال سے جیل بھجوایا گیا۔

  • عمران‌ خان جیسے فتنہ پھیلانےوالوں کوانجام تک پہنچانا عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری تھی. مریم نواز شریف

    عمران‌ خان جیسے فتنہ پھیلانےوالوں کوانجام تک پہنچانا عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری تھی. مریم نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزرمریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم کےکارکن تپتی دھوپ میں صبح سےموجودہیں،پی ڈی ایم کارکنوں کےجذبےکودل سےسلام پیش کرتی ہوں،چیف جسٹس سےپوچھتی ہوں عوام کاسمندردیکھ کرخوشی ہوئی یانہیں؟آؤاوردیکھویہ ہےحقیقی عوام،چیف جسٹس صاحب آپ نے ڈھٹائی سے عمران خان کی سہولت کاری کی۔ سپریم کورٹ کے باہرپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ہم آئین وقانون بنانےاورقانون کااحترام کرنےوالےلوگ ہیں،اس عمارت کوآپ نےعمران داری سےداغ دارکرنےکی کوشش کی،ہم آج یہاں احتجاج نہیں کرناچاہتے،ملک کی بہتری یہاں سےہوتی ہے،انہی کےفیصلوں سےتباہی ہوتی ہے،آج عمران خان کی سہولت کاری کرنےوالےعمران داروں کی بات ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی قانون بنانہیں اوراس پرعملدرآمدروک دیاگیا،پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے،اس سےٹکرلےکربیٹھ گئے،60ارب کرپشن کےملزم کوکہاگیا ویلکم آپ کوملکربہت خوشی ہوئی۔ مریم نواز نے کہا اس عمارت سےمظلوم کوانصاف ملتاتھا،جمہوریت کومضبوط ہوناتھا،اس عمارت سےپارلیمنٹ کی مضبوطی کی بات ہونی چاہیےتھی،جمہوریت مضبوط کرنےکی ذمہ داری اس عمارت کی تھی،فتنہ پھیلانےوالوں کوانجام تک پہنچانااس عمارت کی ذمہ داری تھی،جس عمارت سےانصاف ہوناتھا،وہاں سےکچھ لوگ انصاف کاقتل کررہےہیں۔

    مسلم لیگ کی چیف آرگنائزر نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے،اس سےٹکرلےکربیٹھ گئے،60ارب کرپشن کےملزم کوکہاگیاویلکم آپ کوملکربہت خوشی ہوئی،ابھی قانون بنانہیں اوراس پرعملدرآمدروک دیاگیا،تمہاراکام آئین کی تشریح کرناہے۔ جبکہ مریم نواز نے کہا ملک کوہمیشہ نظریہ ضرورت سےخطاب کیاگیا،منتخب وزیراعظم کوگھربھیجاجاتاہے،کسی کوپھانسی لگائی جاتی ہے،کسی وزیراعظم کوبیٹےسےتنخواہ نہ لینےپرگھربھیجاجاتاہے۔

    اس سے پہلے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیرنہیں ہے۔ عمران خان کب تک چھپا رہے گا۔ اس کو تو گولیاں بھی مصنوعی لگتی ہیں۔ افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان کو جب پکڑا گیا تو بالکل سیدھا ہو کر چلنا شروع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک آدمی کرپٹ ہے تو عدالت کیسے اس کو ریلیف دے سکتی ہے۔ یہ عدالتیں عمران خان کی عاشق ہو چکی ہیں اس لیے ہم عاشق اور معشوق کو نہیں مانتے۔

    میاں افتخار حسین نے کہا کہ گزشتہ برس پنجاب کی اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ نے آئین کو دوبارہ لکھا۔ اس پر آرٹیکل 6 پر بھی غور ہو سکتا ہے۔ اگر21 ووٹوں کے حوالے سے فیصلہ نہ آتا تو آج ن لیگ کی حکومت ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی اسمبلی چیف جسٹس پاکستان کی خواہش پر توڑی گئی۔ کیا آپ اس لیے چیف جسٹس بنے تھے۔ اس چیف جسٹس نے تو پارلیمنٹ کے خلاف محاذ بنا لیا ہے۔

    میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عمربندیال نے عمران خان کو کہا ہے کہ تم کچھ بھی کرو میں تمہیں تحفظ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرعمران خان کوایسے ہی ریلیف دیا گیا تو نہ عمران رہے گا اور نہ ایسا جج رہے گا۔ یہ احتجاج سب کچھ بہا کرلے جائے گا۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ عمران خان اسٹیبلشمینٹ کی مرضی کے ساتھ اقتدار میں آیا۔ جب اقتدار میں تھا تو کہا کہ جنرل باجوہ سب سے اچھا سپہ سالار ہے اور ہم ایک پیج پر ہیں لیکن جس دن وہ ریٹائر ہوا تو اس دن کے بعد عمران نیازی نے کہا کہ اگر مجھے حکومت سے نکالا گیا تو اس کا ذمہ دار جنرل باجوہ ہے۔

    آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ میں موجودہ چیف جسٹس کو کہتا ہوں کہ اگر آپ اس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کررہے ہیں تو کل جب آپ سیٹ پر نہیں ہوں گے تو اس نے آپ کو بھی نہیں پوچھنا۔ یہ خود غرض شخص ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔ ہمارے صوبے میں پوری فوج کا قلعہ نذرآتش کیا گیا۔ وہاں پرسکاؤٹس کے قلعے کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

    پیپلزپارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا آئین ہی بالا دست ہے اور عوام سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے۔ میرا پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت کے سامنے مطالبہ ہے کہ وہ ترمیم جس نے اس عدلیہ کو بے لگام کیا اس انیسویں ترمیم کو منسوخ کیا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر امیر مقام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک جماعت کے لیے ایک دوسری کے لیے دوسرا قانون یہ رویہ ہمیں قبول نہیں ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ اسلام آباد میں شاہراہ دستور تو موجود ہے لیکن شاہراہ انصاف کی کمی ہے کیوں کہ یہاں پر انصاف صرف منظور نظر لوگوں اور ایلیٹ کلاس کو ہی ملتا ہے۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ وہ ممالک صفحہ ہستی سے مٹ گئے جن میں انصاف مہیا نہیں کیا گیا۔ یہاں پر تو شہزادوں کو ایک گھنٹے میں بازیاب کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس حکم دیتے ہیں کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کو حاضر کیا جائے اور پھر شان و شوکت کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے بغیر کسی جرم کے جیلیں کاٹیں۔ سزائے موت کے پھندے تک پہنچایا گیا مگر انصاف نہیں ملا۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ جس ملک میں انصاف مانگنا جرم ہو اور حق کی آواز اٹھانا جرم ہو اس ملک کی عدالتوں سے آپ کیا امید رکھ سکتے ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے

    سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے

    سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے،

    پی ڈی ایم کی قیادت کی اپیل پر اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج میں پی ڈی ایم کی قیادت پہنچ چکی ہے، ن لیگی رہنما مریم نواز بھی عدالت پہنچ چکی ہیں،مولانا فضل الرحمان بھی پہنچ چکے ہیں، جے یو آئی رہنما مولانا امجد خان بھی پہنچ چکے ہیں،

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں کارکنوں نے ان کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا، بلاول بھٹو کا سپریم کورٹ کے خلاف پی ڈی ایم کے دھرنے میں شرکت کا امکان ہے ،دوسری جانب دھرنے میں پیپل پارٹی کا وفد پہلے ہی شریک ہے ، پی پی سینیٹر نثار کھوڑو، سینیٹر وقار مہدی پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں ، پیپلز پارٹی کی دھرنے میں شرکت سے متعلق سینیئر قیادت کی مشاورت تاحال جاری ہے اور سینیئر رہنماؤں نے بلاول بھٹو کو دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا

    سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم دھرنے کے شرکا کی تعداد میں اضافہ جاری ہے،اسٹیج پر مولانا فضل الرحمٰن ‘ مریم نواز ‘ محمود حان اچکزئی ‘ آفتاب شیرپاؤ موجود تھے،میاں افتخار ‘ نثار کھوڑو ‘ سمیت کئی اہم رہنما بھی اسٹیج پر موجود تھے ، اکرم درانی نے شرکا سے غیر معینہ مدت تک دھرنے کا وعدہ لے لیا

    سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم کا دھرنا ،سپریم کورٹ کے ججز نے متبادل راستے کا استعمال کیا، سپریم کورٹ کے ججز اور عملہ وزیر اعظم آفس کا راستہ استعمال کر رہے ہیں اسلام آباد پولیس نے سیکورٹی کے پیش نطر شاہراہ دستور پر ججز داخلی راستہ کنٹینرز لگا کر بند کر رکھا ہے

    احتجاجی مظاہرے سے انصار الاسلام کی وردی پہنے ایک شخص گرفتارکر لیا گیا، انصار الاسلام کے رضاکارو نے تحویل میں لے کر انتظامیہ کے حوالے کر دیا ،جے یو آئی کی جانب سے کسی قسم کے شرپسند ی کرنے والے کو گرفتار کرکے انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا

    دوسری جانب سپریم کورٹ کے سامنے پی ڈی ایم کے جلسے کے باعث سکیورٹی خدشات سامنے آئے ہیں ،ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو خدشات سے آگاہ کردیا ہے ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ کو بتایا گیا ہےکہ سپریم کورٹ کے باہر عوام کے بڑے مجمعے کے جمع ہونے سے سکیورٹی خدشات ہوں گے، ریڈزون میں اہم سرکاری عمارتیں اور سفارت خانے موجود ہیں، احتجاج کے باعث شرپسند عناصر مجمعے کی آڑ میں ریڈ زون میں داخل ہو سکتے ہیں

    سپریم کورٹ کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور ریڈ زون میں داخلے کے لیے ایک کے سوا تمام راستے بندکر دیے گئے ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    وزیراعظم شہباز شریف کور کمانڈر ہاؤس لاہور پہنچ گئے

  • چیف جسٹس اوردیگرججز کیخلاف ریفرنس لانے کیلئے قومی اسمبلی میں تحریک منظور

    چیف جسٹس اوردیگرججز کیخلاف ریفرنس لانے کیلئے قومی اسمبلی میں تحریک منظور

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور دیگر ججز کے خلاف ریفرنس لانے کیلئے قومی اسمبلی میں تحریک منظور کر لی گئی

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں شازیہ سومرو نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور دیگر ججز کے خلاف ریفرنس لانے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ،تحریک منظور ہونے کے بعد ریفرنس کی تیاری کیلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں جناح ہاﺅس پر حملے ، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کے خلاف مذمتی قرا ر داد بھی منظور کر لی گئی ہے

    چیف جسٹس و دیگر ججز کے خلاف ریفرنس کی تیاری کیلیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، کمیٹی میں محسن شاہ نواز رانجھا ،خورشید جونیجو اور صلاح الدین ایوبی شامل ہیں، ڈاکٹر شہناز بلوچ بھی کمیٹی میں شامل ہیں،

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ اپنی آئینی اختیارات کا استعمال کرے، میں نے جو بتایا ہے یہ ہمارے جج صاحبان تین دو والے مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتے ہیں،پارلیمنٹ کو سپریم جو ڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنا چاہئے،آئین میں جو درج ہے اس پر عمل ہونا چاہئے، آئین اور قانون ہمیں جو اختیارات دیتا ہے ان کا استعمال کیا جائے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    وزیراعظم شہباز شریف کور کمانڈر ہاؤس لاہور پہنچ گئے

  • بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت 23 مئی تک منظور

    بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت 23 مئی تک منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت 23 مئی تک منظور کرلی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی نے بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ،

    عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کہاں ہیں، وکیل نے جواب دیا کہ وہ سیکیورٹی کی وجہ سے نہیں پہنچ سکیں ، ہم معذرت خواہ ہیں ،جسٹس شہباز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو انتظار کروانا اچھی بات نہیں ہے، اس کی پذیرائی نہیں ہونی چاہیے اگر بشریٰ بی بی 2 بج کر 16 منٹ تک عدالت میں پیش نہیں ہوئیں تو حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کردیں گے ، عدالت نے درخواست گزار کے پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا وکیل کے کہنے پر عدالت نے سوا دو بجے تک مہلت فراہم کر دی،

    بعد میں بشریٰ بی بی اپنے شوہر عمران خان کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں، تو عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت 23 مئی تک منظور کر لی، عدالت نے بشریٰ بی بی کو گرفتار کرنے سے روک دیا،

    ،بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ القادرٹرسٹ کیس جھوٹا اور بے بنیاد ہے،جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں القادر ٹرسٹ کیس میں عائد الزامات بے بنیاد ہیں،خدشہ ہے مجھے لاہور سے گرفتار کر لیا جائے گا،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حفاظتی ضمانت منظور کی جائے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی