Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • راجا پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری، اہم فیصلے متوقع

    راجا پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری، اہم فیصلے متوقع

    راجا پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری، اہم فیصلے متوقع

    اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس جاری ہے۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی قومی سلامتی امور کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اور قائم مقام وزیراعظم آزاد کشمیر، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ جبکہ آرمی چیف قومی سلامتی کے امور پر خصوصی اجلاس کو بریفنگ دیں گے۔

    اجلاس میں دفاع، خزانہ، داخلہ، خارجہ اور اطلاعات کے سیکرٹریز ،چاروں صوبوں، جی بی اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کو بھی دعوت دی گئی۔ جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں اسی ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں،ہمارے شہدا کی عظیم قربانیوں سے امن بحال ہوا، یہ محنت چار سال میں ضائع کر دی گئی۔ ملک میں دہشت گردی واپس کیوں آئی اور کون لایا ؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عامر شہزاد کی موت کو جے آئی ٹی نے طبعی قرار دے دیا
    عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ سے متعلق قانون سازی و دیگراہم امورپربڑے فیصلوں کی منظوری دی جائے گی۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ سے منظورکردہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے،جس پرسماعت کرتے ہوئے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرعملدرآمد روک دیا ہے۔

  • چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس/شکایت دائر کر دی گئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکر دیا گیا ہے، معروف قانون دان میاں دائود ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 209 اور ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعات تین تا چھ اور نو کی خلاف ورزی کو بنیاد بنایا گیا ہے

    سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں چیف جسٹس بندیال کے علاوہ 8ججز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک ، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے۔ ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کیلئے مقرر کرکے اختیارات سے تجاوز کیاہے، چیف جسٹس نے پارلیمنٹ کے بل کی سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں غیرآئینی طور پر8 رکنی بنچ تشکیل دیا ، چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کیلئے بنچ کی خود سربراہی کر کےمس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے جبکہ باقی سات ججز بھی پارلیمنٹ کے بل پر سماعت اور اسے معطل کر کے آئین ، قانون اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ریفرنس کے متن میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں 17رکنی فل کورٹ اور اعتزاز احسن کیس میں 12 رکنی بنچ بل کیخلاف حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا اصول طے کرچکا ہےلیکن اس کے باوجود کم تعداد کے حامل 8 ججز نے پارلیمنٹ کے بل کیخلاف حکم امتناعی جاری کرکے ڈاکٹر مبشر حسن اور اعتزاز احسن کیس کی بطور اکثریتی ججز کے فیصلے کی پابندی نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی۔ ریفرنس میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نےاپنے ذاتی، سیاسی اور مفادات کا تحفظ کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ مستقبل کے ممکنہ چیف جسٹس صاحبان جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس شاہد وحید نے آٹھ رکنی بنچ میں شامل ہو کر کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق جہاں ججز کا مفاد سامنے آجائے، وہاں لازمی پابندی عائد کی گئی ہے کہ ججز اس کیس سے خود کو الگ کر لیں گے لیکن چیف جسٹس بندیال سمیت مستقبل کے مذکورہ بالا تینوں جج صاحبان نے اس لازمی آئینی پابندی کو نظرانداز کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان بندیال نے کرپشن الزامات کا سامنا کرنیوالے جسٹس مظاہر نقوی کو تحفظ فراہم کے آئین اور مس کنڈکٹ کیا اور اوپن کورٹ میں بیان دیا کہ جسٹس مظاہر نقوی کو ساتھ بٹھا کر کسی کو پیغام دیا گیا کہ وہ اپنے جج کے ساتھ کھڑے ہیں، ٹیکس تنازع پر جج کیخلاف ٹرائل نہیں کر سکتے، چیف جسٹس بندیال کا یہ بیان عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف صرف ٹیکس تنازع کا نہیں بلکہ باقی سنگین بدعنوانیوں کے الزامات بھی ثبوتوں کے ساتھ ریفرنس میں شامل تھے۔میاں دائود ایڈووکیٹ نے اپنے ریفرنس میں مزید الزام عائد کیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس مظاہر نقوی نے غیرقانونی طور پر خود کو غلام محمود ڈوگر کیس میں اسمبلیوں کے الیکشن تنازع میں بھی ملوث کیا اورچیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے الیکشن ازخود نوٹس کیس کا اکثریتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا جو مس کنڈکٹ کےزمرے میں آتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال انتظامی اختیارات کے بدترین ناجائز استعمال کےمرتکب ہوئے ہیں جبکہ تمام متنازع بنچوں کی تشکیل کے مرکزی ذمہ دار چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہی ہیں۔ چیف جسٹس بندیال جونیئر ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کرکے الجہاد ٹرسٹ اور ملک اسد کیس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججز اعلی معیار پر مبنی ایماندار کردار برقرار رکھنے میں ناکام رہے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزمفادات کے ٹکرائو کے اصول پر عملدرآمد میں بھی ناکام رہے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزذاتی سیاسی دلچسپی کے مقدمات کی سماعت کے مرتکب ہوئے ، سپریم کورٹ کے 8ججز خود کو مقدمات پر اثرورسوخ استعمال کرنے کیلئے اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزباقی ججز کے ساتھ باہمی تعلقات بہتررکھنے میں ناکام ہوئے اور اس طرح چیف جسٹس بندیال سمیت 8ججز سپریم کورٹ کی عوام میں بدنامی کا باعث بنے ہیں۔

    ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال سمیت 8ججز کو انکوائری کے بعد برطرف کرنے کا حکم دے اور ریفرنس کے حتمی فیصلے تک انہیں فوری کام سے روکا جائے۔آٹھ ججز کیخلاف ریفرنس کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ کو بھجوائی گئی ہے۔ چیف جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کیخلاف ریفرنس آنے کے بعدان کی جگہ ممکنہ اگلے ممبر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس منصور علی شاہ ہونگے۔ ریفرنس کی کاپی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • یو اے ای حکام کی آئی ایم ایف کو پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر کی دو طرفہ امداد کی تصدیق

    یو اے ای حکام کی آئی ایم ایف کو پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر کی دو طرفہ امداد کی تصدیق

    وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یواے ای کے حکام نے آئی ایم ایف کو پاکستان کیلئے ایک ارب ڈالر کی دوطرفہ مالی معاونت کی تصدیق کردی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان یو اے ای سے مذکورہ ڈیپازٹس کے حصول کیلئے ضروری دستاویزات کی تیاری میں مصروف ہے

    ایک اور ٹویٹ میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کو چین کی طرف سے 30 کروڑ ڈالر موصول ہوجائیں گے آج آنے والی رقم چین کی طرف سے منظورکردہ 1 ارب 30 ڈالر قرض کا حصہ ہے چین قرض کی مد میں ایک ارب ڈالر پاکستان کو پہلے ہی دے چکا ہے یہ رقم چین کے آئی سی بی سی بینک کی طرف سے 1.3 ارب قرض کی تیسری قسط ہے یہ فنڈز پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو بڑھائیں گے

    واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی تصدیق ہوچکی ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جلد سٹاف سطح کا معاہدہ ہوجائے گا ، گذشتہ روز اہم ورچوئل اجلاس میں اسحاق ڈار شریک ہوئے اور وزارت خزانہ، اقتصادی امورکے سیکرٹریز، گورنر سٹیٹ بینک واشنگٹن میں اجلاس میں شریک تھے ،اس میں پاکستان کی معاشی صورتحال اوراصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط کی یقین دہائی کرائی گئی

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف سےاسٹاف لیول معاہدہ ہونے میں صرف سعودی عرب کی تصدیق باقی ہے ،ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب سے 2 ارب ڈالرکی فنانسگ اگلے ہفتے متوقع ہے سعودی عرب سے تصدیق کے بعد بیرونی فنانسگ کی شرائط پوری ہوجائیں گی

    پرویز الہیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کی نئی ویڈیو،تہلکہ خیز انکشافات

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کی آڈیو لیک

  • مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری

    مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری

    افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی چوتھی بین الوزارتی کانفرنس افغانستان کے پڑوسی ممالک کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کیلئے طے شدہ لائحہ عمل کا تسلسل ہے۔ 2021 میں افغانستان کے استحکام کیلئے پاکستان نے جامع پلان ترتیب دیا تھا اور حالیہ اجلاس پاکستان کی انہی کاوشوں کے مرہون منت ہے۔

    ازبکستان کے دارلحکومت ثمرقند میں13 اپریل کو اہم کانفرنس ہوئی، افغانستان کے پڑوسی ممالک کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کیلئے طے شدہ لائحہ عمل کا تسلسل ہے ، 2021 میں افغانستان کے استحکام کیلئے پاکستان نے جامع پلان ترتیب دیا تھا حالیہ اجلاس پاکستان کی ان کاوشوں کے مرہون منت ہے افغان عبوری حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری ہے افغان عبوری حکومت کو کچھ لازمی نکات پر عمل درآمد کرنا ہوگا تاکہ خطہ استحکام اور امن کے ثمرات سے مستفید ہو ،افغان انتظامیہ یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو ،افغانستان کو جامع اور تمام گروہوں کی نمائندہ سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو معتدل داخلی اور خارجی پالیسیاں بنائیں ،افغان قیادت کو تمام نسلی، لسانی گروہوں بالخصوص خواتین اور بچوں سمیت تمام افغانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا ،افغان حکام ٹھوس اقدامات کریں تاکہ افغانستان دوبارہ کبھی بھی دہشت گردی کی افزائش، محفوظ پناہ گاہ یا سہولت کاری کے طور پر استعمال نہ ہو ،افغان حکام کو ہر حال میں پاکستان مخالف عناصر کو نکیل ڈالنی ہوگی ،افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے سے متعلق افغان طالبان کے اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط ہوں گے ،پاکستان ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم، خود مختار، خوشحال اور متحد افغانستان کا خواہاں ہے ،افغانستان میں امن و استحکام کیلئے پاکستان تمام کوششوں کی حمایت بدستور جاری رکھے گا

    ازبکستان کے شہر سمرقند میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کے چوتھے اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان سب کے مفاد میں ہے، مسلسل تنازعات اور عدم استحکام سے نہ صرف افغانستان اور اس کے عوام کو خطرہ ہے بلکہ اس کے خطے اور اس سے باہر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں امن اور استحکام کے خواہشمند ہیں ہ افغانستان کےپڑوسیوں کا فارمیٹ اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ ہمارا خطہ نہ صرف مشترکہ ماضی بلکہ ایک مشترکہ مستقبل کا بھی پابند ہے ہے، ہماری قسمت آپس میں جڑی ہوئی ہے، ان گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی رہنمائی میں یہ فطری بات ہے کہ ہم افغانستان کی صورتحال کے لیے علاقائی نقطہ نظر کو فروغ دینے کے لیے اس قدر اعلیٰ ترجیح دیتے ہیں۔ اسلام آباد سے تہران اور تونسی سے سمرقند تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ہمارا ایک پرامن، مستحکم اور باہم مربوط افغانستان کے لیے کام کرنے کا مشترکہ عزم ہے، ہم ایک نازک موڑ پر مل رہے ہیں، افغانستان کو اس وقت متعدد اور باہمی طور پر تقویت دینے والے چیلنجز کا سامنا ہے، ملک میں انسانی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، 28 ملین افراد میں سے آبادی کے دو تہائی حصہ کو زندہ رہنے کے لیے فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • سپریم کورٹ کااسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کااسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے فنڈز سے متعلق پیر تک رپورٹ مانگ لی سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک وزارت خزانہ کو 21 ارب روپے دے وزارت خزانہ الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم کرے اسٹیٹ بینک حکام نے سپریم کورٹ سے حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

    سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنک کو الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز دینے معذوری ظاہر کرنے پر احکامات دیے گئے،اسٹیٹ بنک کو فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز سے 21 ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے،وزارت خزانہ حکام نے خراب معاشی حلات سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ، وزارت خزانہ حکام نے کہا کہ قرضے زیادہ ہیں فنڈز فراہمی میں مشکلات آسکتی ہیں

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی ان چیمبر سماعت میں جمع کروایا گیا تحریر ی مؤقف سامنے آیا ہے،وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل کر دیا، وفاقی حکومت کا جواب فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے پیسے جاری کرنے کیلئے ایکٹ آف پارلیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے لیے بل پارلیمان نے مسترد کر دیا بل مسترد ہونے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس فنڈ جاری کرنے کا اختیار نہیں ،وفاقی حکومت سٹیٹ بینک کو فنڈ جاری کرنے کا حکم نہیں دے سکتی ،وفاقی حکومت نے عدالتی حکم کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری پوری کر دی

    قبل ازیں پنجاب انتخابات کیس، فنڈز کی عدم فراہمی پران چیمبر سماعت ہوئی ، اٹارنی جنرل، وزارت خزانہ کے حکام چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ان چیمبر سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی سماعت میں موجود تھے ، اویس منظور سمرا (خصوصی سیکرٹری خزانہ) ، جناب عامر محمود (ایڈیشنل سیکرٹری فنانس) ،جناب تنویر بٹ (ایڈیشنل سیکرٹری فنانس) ، سیما کامل (قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان) ، عنایت حسین چوہدری (ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک )، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان، ڈی جی/قانون الیکشن کمیشن آف پاکستان، قدیر بخش (ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک ) ،جہانگیر شاہ (پروٹوکول آفیسر اسٹیٹ بینک ) ،محسن افضل (پروٹوکول آفیسر اسٹیٹ بینک آف پاکستان) سپریم کورٹ مین پیش ہوئے ،سیکرٹری خزانہ یعقوب حامد امریکہ دورے پر ہیں۔رجسٹرار کے مراسلے میں تمام افسران کو انتخابات اور فنڈز سے متعلق ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے احکامات دئیے گئے تھے ،تمام فریقین نے اپنی اپنی رپورٹس چیف جسٹس چیمبر میں پیش کردیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں سماعت ختم ہوئی، اٹارنی جنرل واپس روانہ ہوئے تو صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ سر کیا فیصلہ ہوا،؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جو بھی فیصلہ ہوا تحریری آرڈر آ جائے گا،

    نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا، دوران سماعت ججز نے الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ عدالتی حکم پرعمل کرنا پڑے گا سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو حکومتی مؤقف پیش کرنے پرسخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا

    صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے کیس کی سماعت کے بعد سوال کیا کہ کیا حکومت توہین عدالت کا سامنا کرے گی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ کس چیز کی توہین عدالت،وفاقی حکومت نے کابینہ سے قانون پاس کروایا ہے،فنڈز کے معاملے پر حکومتی موقف سے عدالت کو آگاہ کیا،پارلیمنٹ نے فنڈز دینےکی اجازت نہیں دی ،دیگر اداروں نے تمام صورتحال سے آگاہ کیا، فیڈرل کونسولیڈیٹڈ فنڈز قومی اسمبلی کی منظوری سے ہی پیسہ جاری ہوتا ہے ،حکومت کو بھی ہدایات جاری کرنے کیلٸے قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوتی ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ، پنجاب انتخابات کا معاملہ، چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت اوپن کورٹ میں کردی تھی تا ہم اوپن کورٹ میں سماعت نہیں ہوئی،دوسری جانب وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو مشاورت کے لیے طلب کیا تھا،اٹارنی جنرل سپریم کورٹ سے وزیراعظم آفس کے لیے روانہ ہوئے تھے،اٹارنی جنرل نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے آج ان چیمبر سماعت کے حوالے سے ملاقات کرنے جا رہا ہوں، پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے سے روک دیا ہے،وفاقی حکومت کے پاس الیکشن کے لیے فنڈز جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں حکومتی مؤقف ان چیمبر سماعت کے دوران پیش کریں گے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • حکمران اتحاد نے عدالتی اصلاحات بل پر تاحکم ثانی عمل روکنے کا حکم مسترد کردیا

    حکمران اتحاد نے عدالتی اصلاحات بل پر تاحکم ثانی عمل روکنے کا حکم مسترد کردیا

    حکمران اتحاد نے عدالتی اصلاحات بل پر تاحکم ثانی عمل روکنے کا حکم مسترد کردیا

    حکمران اتحاد نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ‘سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل 2023′ پر تاحکم ثانی عمل روکنے کا حکم مسترد کر دیا ہے۔ جبکہ حکمران جماعتوں نے مشترکہ بیان میں سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کے فیصلے پر اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ قانون ابھی بنا بھی نہیں، نافذ بھی نہیں ہوا لیکن ایک متنازع اور یک طرفہ بینچ بنا کر اس کو جنم لینے سے ہی روک دیا گیا۔

    مشترکہ بیان کے مطابق محض ایک اندازے اور تصور کی بنیاد پر یہ کام کیا گیا جو نہ صرف مروجہ قانونی طریقہ کار ہی نہیں منطق کے بھی خلاف ہے، یہ مفادات کے ٹکراؤ کی کھلی اور سنگین ترین مثال ہے، یہ عدل وانصاف اور سپریم کورٹ کی ساکھ کا قتل ہے۔ حکمران جماعتوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہیں “ون میں شو” کا شاخسانہ ہے جسے عدالتی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر جگہ ملے گی، یہ اقدام خلاف آئین اور پارلیمنٹ کا اختیار سلب کرنا ہے، یہ وفاق پاکستان پر حملہ اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججوں پر بھی عدم اعتماد ہے جن کو ازخود کارروائی کے عدالتی اختیار اور منصفانہ وشفاف طریقے سے بینچوں کی تشکیل کی خاطر تین رکنی کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا جو نہایت افسوسناک ہے۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ حکمران جماعتیں اس عدالتی ناانصافی کو نامنظور کرتے ہوئے اس کی بھرپور مزاحمت کریں گی، پاکستان بارکونسل اور صوبائی بارکونسلوں کے تحفظات بھی درست ثابت ہوئے، امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی وکلا برادری آئین ، قانون اور عدل کے ساتھ ہونے والے اس سنگین مذاق کا نوٹس لے گی اور عدل و انصاف کے زریں اصولوں کی پاسداری وپاسبانی کے لئے آواز بلند کرے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گوگل کی مدد سے 75 غیرقانونی ایپس میں سے 40 بند کروا دیں
    بیان میں کہاگیا کہ حکمران جماعتیں نظام عدل میں عدل لانے کے لئے حکمت عملی تیار کریں گی اور مشاورت سے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کریں گی تاکہ ملک و قوم کو بحران سے نجات دلائی جائے اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی ہو جن میں اولین معاشی بحالی ہے، یہ عہد کرتے ہیں کہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ اور اس کے آئینی اختیار کا تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

  • سپریم کورٹ؛ آٹھ رکنی فل بینچ نے عدالتی اصلاحاتی بل روکنے کا حکم جاری کردیا

    سپریم کورٹ؛ آٹھ رکنی فل بینچ نے عدالتی اصلاحاتی بل روکنے کا حکم جاری کردیا

    سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر عملدرآمد روک دیا

    سپریم کورٹ نےعدالتی اصلاحاتی بل عملدرآمد سے پہلے روک دیا، آٹھ رکنی فل بینچ نے عدالتی اصلاحاتی بل روکنے کا حکم جاری کردیا۔ عدال عظمیٰ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی جس کے بعد حکم نامہ جاری کیا گیا۔ عدالتی اصلاحاتی بل کے خلاف درخواستوں کی آج کی سماعت کا حکم نامہ 8 صفحات پر مشتمل ہے جسے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے تحریر کیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے جاری فیصلے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، مسلم لیگ (ق) سمیت دیگراتحادی جماعتوں کو نوٹسز جاری کردئے۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف 3 درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کی گئیں، ایکٹ بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، بل قانون کا حصہ بنتے ہی عدلیہ کی آزادی میں مداخلت شروع ہوجائے گی، بل پر عبوری حکم کے ذریعے عملدرآمد روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس دوران عبوری حکم نامہ جاری کرنا ضروری ہے۔

    سپریم کورٹ کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ صدر دستخط کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا۔ جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کسی قانون کو معطل نہیں کر سکتی، بادی النظر میں بل کے ذریعے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت دو مئی کو ہوگی۔ حکم امتناعی کا اجرا ناقابل تلافی خطرے سے بچنے کیلئے ضروری ہے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت عدلیہ اور خصوصی طور پر سپریم کورٹ کی ادارہ جاتی آزادی کیلئے متفکر ہے، اس ضمن میں مفاد عامہ اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے عدالت کی مداخلت درکار ہے، سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکلاء کے ذریعے فریق بن سکتی ہیں۔
    13 اپریل بروز جمعرات سپریم کورٹ آف پاکستان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جائزہ لینا ہوگا اس معاملے میں آئینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل، سیاسی جماعتوں اور فریقین سمیت پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو بھی قانونی معاونت کے لئے نوٹس جاری کرنے کے ہدایت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف 4 درخواستیں ایڈووکیٹ خواجہ طارق رحیم اور دیگر نے دائر کی ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر سماعت کے موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف کے حامی وکلاء عدالتِ عظمیٰ کے باہر جمع ہوئے۔

    اس موقع پر وکلاء کی جانب سے حکومت مخالف اور عدلیہ کے حق میں نعرے بلند کئے گئے، پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی بھی وکلاء کے ساتھ موجود تھے۔ درخواست گزار راجا عامر کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ موجودہ حالات میں یہ مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ قاسم سوری کیس کے بعد سیاسی تفریق میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی بحالی کے بعد سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔ وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابات کروانے پر آمادہ نہیں۔

    امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت کو انتخابات نہ کروانے پر از خود نوٹس لینا پڑا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانے کا حکم دیا۔ تین اپریل کو عدالت نے دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا۔ آئین پر عمل کرنے کے عدالتی حکم کے بعد مسائل زیادہ پیدا کیے گئے۔ عدالت اور ججز پر ذاتی تنقید کی گئی۔ حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ اس کے ذمے دار ہیں۔ جبکہ وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ مجوزہ قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل صدر کو بھجوایا گیا۔ صدر مملکت نے اعتراضات عائد کر کے بل اسمبلی کو واپس بھیجا۔ سیاسی اختلاف پر صدر کے اعتراضات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد 10 دن میں بل قانون بن جائے گا ۔ آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ اپنے رولز خود بناتی ہے۔

    امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ بل کے تحت از خود نوٹس اور بینچز کی تشکیل کا فیصلہ 3 رکنی کمیٹی کرے گی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ بل قانون بننے کے لائق ہے؟ کابینہ کی جانب سے بل کی توثیق کرنا غیر قانونی ہے۔ بل کابینہ میں پیش کرنا اور منظوری دونوں انتظامی امور ہیں۔ بل کو اسمبلی میں پیش کرنا اور منظوری لینا بھی غیر آئینی ہے۔بل زیر التوا نہیں بلکہ مجوزہ ایکٹ ہے۔ وکیل نے کہا کہ صدر منظوری دیں یا نہ دیں ایکٹ قانون کا حصہ بن جائے گا۔ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس کے بغیر سپریم کورٹ کا کوئی وجود نہیں۔ چیف جسٹس کی تعیناتی ہی سے سپریم کورٹ مکمل ہو کر کام شروع کرتی ہے۔ چیف جسٹس کے بغیر دیگر ججز موجود ہوں بھی تو عدالت مکمل نہیں ہوتی۔

    امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ چیف جسٹس اور ججز کے اختیارات کم نہیں کیے جاسکتے۔ چیف جسٹس کا آفس کوئی اور جج استعمال نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس کا دفتر 2 سینئر ججز کے ساتھ کیسے شیئر کیا جاسکتا ہے۔ عدلیہ کی آزادی پر سپریم کورٹ کئی فیصلے دے چکی ہے۔ ریاست کے ہر ادارے کے اقدامات کا سپریم کورٹ جائزہ لے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ قاسم سوری کیس میں قرار دے چکی ہے کہ پارلیمنٹ کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ماضی میں عدالت قرار دے چکی ہے کہ بل کو پاس ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔ بل پاس ہوجائے تو عدالت اسکا جائزہ لے سکتی ۔ عدالتی فیصلے کے مطابق صدر کی منظوری سے پہلے بھی مجوزہ ایکٹ کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ عدالت آئین کی محافظ اور انصاف کرنے لیے بااختیار اور تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات ماننے کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ کے رولز موجود ہیں جن میں پارلیمنٹ ترمیم نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے جس کو آئین کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔ آپ کے مطابق پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کی طرح عدلیہ کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔

    امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ صدر ریاست پاکستان کی وحدانیت کی علامت ہے۔ صدر کا عہدہ صرف رسمی نوعیت کا نہیں ہے۔ صدر نے بل کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ اسمبلی منظوری کے بعد بل میں ترمیم نہیں ہوسکتی۔ بل کی منظوری کے بعد قانون سازی کا عمل مکمل تصور ہوتا ہے۔ عدالت کا موجودہ کیس میں حکم زیر التوا قانون سازی میں مداخلت نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ اپنا کام مکمل کرچکی، اس لیے یہ مداخلت تصور نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حسبہ بل کے کیس میں بھی سپریم کورٹ نے منطور شدہ بل کا جائزہ لیا۔ حسبہ بل کیس ناقابل سماعت ہونے کے اعتراضات سپریم کورٹ نے مسترد کیے۔ سپریم کورٹ نے حسبہ بل کو غیر آئینی قرار دیا۔حسبہ بل صدارتی ریفرنس کی صورت میں سپریم کورٹ آیا تھا۔ موجودہ کیس آرٹیکل 184/3 کا ہے جس میں عدالت زیادہ بااختیار ہے۔

    وکیل نے دلائل م یں کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں سپریم کورٹ شادی ہال تک گرانے کا حکم دے چکی ہے۔ عدالت کے تمام احکامات بنیادی حقوق کے پیرائے میں تھے۔ کیا عدلیہ کی آزادی عوام کا بنیادی حق نہیں ہے؟۔ مجوزہ قانون کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ آئین 184/3 میں اپیل نہیں نظرثانی کا حق دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کا ایک جج دوسرے جج کے خلاف اپیل نہیں سن سکتا۔ کئی مرتبہ ہم وکلا بھی 184/3 کا شکار ہوئے ہیں۔ عام مقدمات میں نظرثانی کیس 5 منٹ بھی نہیں چلتا ۔ کچھ مقدمات میں نظر ثانی مقدمات کئی ماہ چلتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ عدلیہ کے اندرونی معاملے کو ریگولیٹ کرسکتی ہے؟۔ امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت فیصلے تک مجوزہ ایکٹ کو قانون بننے سے روکے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ حسبہ بل ریفرنس کی صورت میں آیا تھا۔ حسبہ بل میں گورنر کو بل پر دستخط سے روکا گیا تھا ۔ وکیل نے استدعا کی کہ وزارت قانون کو فیصلے تک مجوزہ ایکٹ بطور قانون نوٹیفائی کرنے سے روکا جائے۔

    وکیل نے کہا کہ کوئی مقدمہ 10 رکنی بینچ سنے تو اپیل کیسے دائر ہوسکتی ہے؟ کیا سینئر ججز کے فیصلے کے خلاف جونیئر ججز اپیل سن سکتے ہیں؟ تمام ججز برابر ہوتے ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں تھا۔ سینئر ترین ججز ریفرنس پر سماعت کررہے تھے۔ موجودہ کیس میں بل کی منظوری سے پہلے کے مراحل کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ موجودہ کیس میں عدالت سے کیا چاہتے ہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت ملتوی کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جلد حکم جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے وفاقی حکومت ،اٹارنی جنرل ،سیاسی جماعتوں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کیا آزادی اہم معاملہ ہے ۔ پارلیمنٹ کا بہت احترام ہے ۔ کیس کو جلد دوبارہ مقرر کیا جائے گا ۔ جائزہ لینا ہے کہ اس معاملے میں آئینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ ججز کی دستیابی کو مد نظر رکھ کر جلد سماعت کے لیے مقرر کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گوگل کی مدد سے 75 غیرقانونی ایپس میں سے 40 بند کروا دیں
    واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ میں 8 رکنی لارجر بینچ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کررہا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ میں شامل ہیں جب کہ حالیہ دنوں میں اختلافی نوٹ لکھنے والے جج صاحبان لارجر بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ میں مجوزہ قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف کیخلاف 2 آئینی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جو چوہدری غلام حسین اور راجا عامر خان نامی شہریوں نے ایڈووکیٹ طارق رحیم اور اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کیں اور جن میں وفاق، وزارت قانون، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور صدر عارف علوی کے پرنسپل سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجوزہ سپریم کورٹ پریکٹس پروسیجر بل بد نیتی پر مبنی ہے، مجوزہ بل آئین کے ساتھ فراڈ ہے۔ درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ مجوزہ بل کو غیر آئینی غیر قانونی قرا دے کر کالعدم کیا جائے، آئینی درخواست پر فیصلہ ہونے تک مجوزہ قانون کو معطل کیا جائے،صدر مملکت کو مجوزہ بل پر دستخط کرنے سے روکا جائے۔

  • اسلام آباد بارکونسل نے جسٹس مظاہرعلی نقوی کی شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دی

    اسلام آباد بارکونسل نے جسٹس مظاہرعلی نقوی کی شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دی

    اسلام آباد بارکونسل کی جسٹس مظاہر کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت درج

    اسلام آباد بارکونسل نے جسٹس مظاہرعلی نقوی کی شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دی ہے جبکہ واضح رہے کہ اسلام آباد بارکونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کی شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دی، شکایت کے ہمراہ ویڈیوز اور آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ بھی لگائے گئے ہیں۔

    جسٹس مظاہرنقوی کےخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الزام ہے۔ شکایت میں جسٹس مظاہر پر ٹیکس چھپانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں شکایت میں کہا گیا کہ جسٹس مظاہر کے حوالے سے مختلف آڈیوز اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایت پر کارروائی کی استدعا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گوگل کی مدد سے 75 غیرقانونی ایپس میں سے 40 بند کروا دیں
    خیال رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ (نواز) کے لائرز فورم نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت درج کروائی تھی جبکہ وکلاء کی جانب سے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایت آڈیو لیک کی بنیاد پر دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی کے ساتھ مبینہ گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی شامل ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔

  • سیکورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشتگرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    سیکورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشتگرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    سیکورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشتگرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیہ میں بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشتگرد ہلاک کردیئے گئے ہیں. جاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) شروع کیا گیا جس میں علاقے گشکور ہوشاب روڈ پر دیسی ساختہ بم نصب کرنے کے علاوہ سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر فائرنگ کے واقعات سے منسلک دہشت گردوں کے ٹھکانے کو صاف کیا جا سکے۔

    آئی ایس پی آر کا مزید بتانا تھا کہ علاقے کی مسلسل انٹیلی جنس نگرانی اور جاسوسی کے نتیجے میں، دہشت گردوں کے مقام کی نشاندہی کی گئی اور سیکورٹی فورسز کا ہیلی داخل کیا گیا۔ فرار ہونے والے راستوں کو کاٹنے کے لیے ناکہ بندیوں کا قیام جاری تھا تاہم اس دوران دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجہ میں تین دہشتگرد جہم واصل ہوگئے.

    جاری اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کاروئی میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات سمیت اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ مزید کہا گیا سیکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز ملک دشمن قوتوں کے خلاف پاک فوج کی کارروایوں کے تحت بنوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔ جبکہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں کے علاقے میں آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشتگرد مارے گئے تھے۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا تھا ۔فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔مارے گئے دہشتگردوں کے قبضہ سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف،اسحاق ڈار،مریم نواز کیخلاف توہین عدالت  درخواست دائر

    وزیراعظم شہباز شریف،اسحاق ڈار،مریم نواز کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف،اور ن لیگی رہنما مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی

    توہین عدالت کی درخواست مولودی اقبال حیدر کی جانب سے دائر کی گئی ، توہین عدالت کی درخواست وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف بھی دائر کی گئی، درخواست میں سیکرٹری خزانہ کو بھی فریق بنایا گیا ہے، مولوی اقبال حیدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور دیگر فریقین نے عدالت کے چار اپریل کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ شہباز شریف اور باقی فریقین کینلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ عدالتی فیصلہ پر عمل نہ کرنے تمام فریقین کو قابل سزا ڈکلئرڈ کیا جائے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    دوسری جانب ن لیگی رہنما ، وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پارلیمان سپریم اور آئین کا خالق ادارہ ہے، قانون سازی پارلیمان کی صوابدید ہے، تقسیم شدہ سپریم کورٹ میں گروپ بندیاں ہیں، اگر عدالت ایک پارٹی کا مؤقف لیکر چلے تو یہ توہین پارلیمان ہے۔ اگر توہین عدالت ہوسکتی ہے تو توہین پارلیمان کیوں نہیں ہوسکتی ؟

    پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ یہ بنچ بنا کر پارلیمان کے اختیارات کو روکنے کی جو سعی کی جارہی ہے وہ بلکل قابل قبول نہیں ہے ہمارے اوپر جو بھی عذاب گرے اس کو ہم قبول نہیں کرسکتے ہمیں توہین عدالت کے قانون سے ڈرایا جارہا ہے لیکن اس سے ڈریں گے نہیں،

    تحریک انصاف کے رہنما عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت فنڈ اور سیکورٹی نہ دیکر انتخابات ملتوی کروانا چاہتی ہے توہین عدالت اور آئین شکن حکمرانوں کا اقتدار میں رہنا ملک وقوم کے لئے شدید نقصان کا باعث ہے پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے عوام کو نمائندگی سے محروم رکھنا غیر جمہوری اور آئین کی خلاف ورزی ہے

    قبل ازیں پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ،چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دائر کی پی ٹی آئی کی جانب سے یہ درخواست چیف الیکشن کمشنر کےخلاف 22 بیورو کریٹس کوعہدوں سے نہ ہٹانے پر دائر کی گئی۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو 22 بیوروکریٹس کے خلاف 7 یوم میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا، عدالتی حکم کے باوجود پرنسپل سیکرٹری، کمشنر،سی سی پی اولاہورعہدوں پر برقرار ہیں، الیکشن کمیشن نے آج تک تحریک انصاف کی اس درخواست کا فیصلہ نہیں کیا-درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام واضع طور پر توہین عدالت ہے، وزیراعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری و دیگرسیاسی وابستگی رکھتے ہیں درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سیاسی وابستگی رکھنے والے بیورو کریٹس کو ہٹانے کا حکم دے، عدالتی حکم نظرانداز کرنے پر چیف الیکشن کمشنرکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔