Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس

    ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس

    ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل تھے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کا حصہ تھے ، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں عمران خان کے وکیل عدالت میں درست ریسپانڈ کرینگے، سپریم کورٹ اپنا یہ دائرہ اختیار خیال سے استعمال کرتی ہے،ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے

    سرکاری وکیل نے کہا کہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو عدالت میں پیش نہیں کی جاسکیں عدالت نے ایک کمیٹی بنائی ،اراکین کے نام عدالت میں پیش کیے گئے، جسٹس اعجا ز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس وقت فریقین کو اس گراونڈ میں جلسہ کرنے کے لیے نام مانگے تھے، پہلا جو احتجاج تھا اس پر وقت ملنے کے بعد عدالت میں نام دیئے گئے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جیمرز موجود تھے کی بات کی گئی تھی،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ ہم اس بارے میں عدالت میں سی ڈی آر پیش کرسکتے ہیں،اس وقت سوشل میڈیا پر تمام تر معلومات آگئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو آرڈر دیا تھا وہ آدھے گھنٹے میں سامنے آگیا تھا اس وقت عمران خان کے وکیل کو سنتے ہیں اخباروں میں جو آرٹیکلز لکھے گئے اس پر ہم نہیں جاتے،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا کنٹینر پر موبائل کام کرہے تھے یا نہیں، میرا جواب یہ ہے کہ اس وقت کنٹینرز کے پاس موبائل ٹاورز کام کررہے تھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ہمیں سوچ سمجھ کر آگے کارروائی لے کر جانی ہوگی،درخواست گزار نے درخواست جمع کرائی جس میں کمیونی کیشن کی تفصیل دی گئی گزشتہ رات جواب جمع کرائی گئی جس پرمخالف فریق کو جواب دینے کے لیے وقت درکار ہے، فریق مخالف وکیل اپنا جواب جمع کرائیں، جو یو ایس بی پیش کی گئی وہ بھی فریق مخالف کو فراہم کی جائے،کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کریں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریلی والوں کو تو پابند کریں کہ وہ قوائد وضوابط کی پابندی کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت قانون میں دائرہ اختیارمیں کوئی ایسا حکم جاری نہیں کرسکتے جو انتظامی ہو،اس معاملے میں عمران خان کے وکیل کا جواب آنے دیا جائے، سپریم کورٹ اپنے اختیار کو محتاط ہوکر استعمال کرتی ہے، اگر ہمارے احکامات کی توہین ہو تو پھر کارروائی کرتے ہیں، عمران خان نے تفصیلی جواب جمع کرایا ہے، امید ہے عمران خان نے درست اور حقائق پر مبنی جواب جمع کرایا ہوگا،ہم فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کر رہے، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عمران خان کے جواب پر وزارت داخلہ نے جواب داخل کیا ہے

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اگر یو ایس بی کی دوسری سائیڈ نے تردید کر دی توکیا ہوگا؟ عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ پلیز شواہد سے متعلق قانون کو پڑھیں،اگر وہ یہ کہہ دیں کہ موبائل ان کے پاس نہیں تھا تو پھر ؟ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ بے شک تردید کر دیں، ان کے اکاؤنٹ سے ٹویٹس ہوتی رہی ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متفرق درخواست کی نقل دوسری سائیڈ کو فراہم کریں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کے کچھ حقائق ہیں، جیمر سے متعلق آپ نے وضاحت کی ہے،آپ کہہ رہے ہیں جیمرز نہیں تھے، عمران خان اور دیگر نے جواب جمع کروایا ہے،عدالت، توہین عدالت کے اختیار کے استعمال میں محتاط ہے،سپریم کورٹ بھی محتاط ہے کہ ہمارے احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو، آپ کی دلیل ہے کہ عدالتی حکم نامہ میڈیا کے ذریعے ملک بھر پھیل چکا تھا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئی جی کو طلب کیاتھا، انہوں نے کہا ہم سیکیورٹی فراہمی کی یقین دہانی نہیں کرواسکتے،

    سپریم کورٹ ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی، حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے شواہد پر پی ٹی آئی وکیل کی جواب جمع کرانے کی مہلت مل گئی،عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون آفس میں ہو تو سی ڈی آر سے کیا ثابت ہوگا ؟ وکیل نے کہا کہ سی ڈی آر سے پتہ چل جائے گا کہ موبائل کس جگہ سے آپریٹ ہوا عدالت مناسب سمجھے تو سی ڈی آر منگوا لے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں مقدمہ کی اچھی تیاری کی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر جلسے کی اجازت ملتی ہے توپی ٹی آئی کو قانون پر عملدرآمد کا پابند کیا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 25 مئی کا حکم موجود ہے،امید ہے تحریک انصاف قانون پر عملدرآمد کرے گی

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو قانون پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ متفرق درخوست اور حکومت کے جواب کی کاپی عمران خان کے وکیل اور دیگر فریقین کو فراہم کی جائے،عدالت نے وزرات داخلہ کا متفرق جواب عمران خان، بابر اعوان اور فیصل چودھری کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یو ایس بی کی کاپی بھی فراہم کی جائے، عدالت نے وزرات داخلہ کو یو ایس بی کی کاپی بھی عمران خان اور دیگر فریقین کو دینے کا حکم دے دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے ہمارا پچھلا آرڈر پڑھا؟ ہمارے ایک جج نے گزشتہ آرڈر سے اختلاف کیا ہے، وکیل نے کہا کہ جمع شواہد میں عمران خان کے ہاتھ میں پکڑا موبائل فون دکھائی دے رہا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو جذباتی ہو کر نہیں پرسکون ہو کر سننا چاہتے ہیں،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

  • مر گئے،لٹ گئے،برباد ہو گئے،چورمچائےشور:قوم کو پاگل سمجھا ہوا،اب واویلا نہیں چلےگا۔:مبشرلقمان

    مر گئے،لٹ گئے،برباد ہو گئے،چورمچائےشور:قوم کو پاگل سمجھا ہوا،اب واویلا نہیں چلےگا۔:مبشرلقمان

    لاہور:تحریک انصاف کی مکاریاں ہرروز گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آرہی ہیں، میں توخود اس بات پرپریشان ہوں کہ جس شخص کی دوستی پر ہمیں فخرہوا کرتا تھا وہ اس قدر یہ حرکتیں کرے گا ، میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم سے کہتا ہوں کہ دیکھواپنے لیڈر کا حال

    اس حوالےسے بات کرتے ہوئے سنیئرصحافی مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ ہر روز صبح نئی سے نئی کہانی سامنے آجاتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اس سے سرشرم سے جھک جاتے ہیں ، ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے جیو نیوز اور کچھ اداروں پر سنگین الزامات عائد کردیئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا

    ان کا کہنا جس طرح‌ لانگ مارچ میں‌ لوگوں کو لایا جارہا ہے سب جانتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیم سے سوال ہے کہ جو جو صادق امین ہونے پرشک کررہا ہے ، جو بھی آئینہ دکھا رہا ہے آپ وہ تاجر دکھا دیں‌، آپ ایف بی آر کی رسیدیں‌دکھا دیں‌، ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کبھی یہ نہیں کرے گا ، عمران خان نے منی لانڈرنگ کی تھی

    ان کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن کو جواب تک نہیں دیا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ چھوڑیں ممنوعہ فنڈنگ کا کیا جواب دیا ، ان کا کہنا تھا کہ کہا جارہا ہے کہ ایک گھڑی ہی تو تھی ،ان کا کہنا تھا کہ کل کو عمران خان کو ملکہ برطانیہ ہیرا تحفہ میں دے دے تو وہ یہ ہیرا د و لاکھ میں بیچ دے تواس کے ماننے والے تو یہی کہیں گے کہ ہیرا ہی تو تھا

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کبھی کچھ کہتا ہے تو کبھی کچھ ، کبھی کہتا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری میرا مسئلہ ہی نہیں ، جو میرٹ پر آئے اس کو لگا دیا جائے لیکن پھر ڈھانگ مارچ میں کچھ دیر بعد موقف میں تبدیلی لے آیااور کہا کہ یہ سب چور ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اب ان کو ارمی چیف کی تقرری پر اعتراض‌ہے

    ان کا کہنا تھا کہ وہ وقت بھی یاد کریں وہ کون تھا جو نوازشریف کو حقیقی جمہوریت کی جدوجہد کرنے والا کہتا تھا ، وہ کون تھا جو تعریفوں کے پل باندھتا تھا ، وہ کون تھا جو نوازشریف کو بڑا منظم سمجھتا تھا ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جو کچھ آج بیان جمع کروایا ہے اس سے اس کی قلعی کھل گئی ہے کہ ، ایک طرف گھر کو بم پروف بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف جلسوں میں کچھ اور ہی کہتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اب ان کا حال یہ ہوگیا ہے کہ یوٹیوب کوسننے والے دوسو تک رہ گئے ہیں اور فرلانگ مارچ میں اب بندوں کی جگہ پولیس والے لے رہے ہیں ،

    ان کا کہنا تھاکہ حالات تو اس حد تک آگئے ہیں پولیس والے ڈھول بجا کر لوگوں کو اپنی طرف کال کررہے ہیں، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کو بھی لایا جارہا ہے، جہلم سے بھی قافلہ نکل پڑا ہے ، ادھر کے پی سےبھی کچھ لوگ آرہے ہیں اس دوران آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ بھی ابھی سمری پردستخط ہونےوالے ہیں

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی پتہ نہیں کہ خان کوئی نوا چن ہی نہ چڑھا دیوے ، خان جو ہویا ، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے اگلے کچھ دن بہت اہم ہیں‌

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بہاولپور اور اوکاڑہ کا دورہ، فائر پاور مشقوں کا مشاہدہ

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بہاولپور اور اوکاڑہ کا دورہ، فائر پاور مشقوں کا مشاہدہ

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بہاولپور اور اوکاڑہ کا دورہ کیا اور فائر پاور مشقوں کا مشاہدہ کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بہاولپور میں یادگار شہداء پر حاضری دی اس دوران پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی بھی کی۔

    بیان کے مطابق سپہ سالار نے بہاولپور میں خیرپور ٹامیوالی میں فائر پاور مشقوں کا مشاہدہ بھی کیا، مشق میں جے ایف 17 تھنڈر، گن شپ ہیلی کاپٹرز اور مشینوں نے شرکت کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مشقوں میں شریک فوجی جوانوں کے بلند جذبے، اعلیٰ تربیتی معیار کو سراہا جبکہ جوانوں کو ہر طرح کے حالات میں قوم کی خدمت کی ہدایت کی۔

  • جنوبی افریقی نیشنل ڈیفنس فورس کے سربراہ کی جنرل ندیم رضا سے ملاقات

    جنوبی افریقی نیشنل ڈیفنس فورس کے سربراہ کی جنرل ندیم رضا سے ملاقات

    لاہور:جنوبی افریقہ کی نیشنل ڈیفنس فورس کے سربراہ جنرل روڈزانی مافوانیا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے دلچسپی کے مختلف شعبوں، دوطرفہ تعاون سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور موجودہ علاقائی ماحول پر تبادلہ خیال کیا۔

     

    معززین نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی مصروفیات کی سطح اور دائرہ کار کو بڑھانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور گہرے تعلقات کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

    چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے کہا کہ پاکستان جنوبی افریقہ کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔معزز مہمان نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا۔

    قبل ازیں، جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر تینوں افواج کے ایک چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

  • کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے، چیف جسٹس

    کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے کرپشن ایک بیماری ہے،کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے کرپشن سے معیشت بھی متاثر ہوتی ہے، عدالت کے سامنے سوال ہے کہ ہم کہاں لائن کھینچیں کہ بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے،کرپشن سے سختی سے نمٹنا چاہیے عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے تو ہمارے پاس اس کا بینچ مارک کیا ہو گا؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت روزانہ کی بنیاد پر بنیادی حقوق سے متصادم معاملات پر فیصلے کرتی ہے،کل کو ہمارے پاس ایک شہری کہے پاکستان میں کرپشن کا قانون نہیں ہم پارلیمنٹ کو کہہ دیں کہ ایک قانون بنا دیں،

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا،عدالت

    یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا،عدالت

    یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا،عدالت

    پی ٹی آئی دھرنے کے باعث راستوں کی بندش کے خلاف تاجروں کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اپیل کو پی ٹی آئی کی دھرنے اور جلسے کے این او سی حصول کی درخواست کے ساتھ یکجا کر دیا گیا ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دُگل نے عدالت میں کہا کہ قانونی رائے کے لیے وزارت قانون کو لکھا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فارو ق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی چیزوں میں فوری ایکشن لینا ہوتا ہے،وکیل نے کہا کہ ہائی ویز اور موٹرویز پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی ویز اور موٹرویز کو بند کر دیں گے تو ٹریڈ بھی متاثر ہو گی، یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا اور وہاں کھڑا ہو جائے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنا کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ تمام جلسے پریڈ گراؤنڈ میں ہوں گے،

    بیرسٹر جہانگیر جدون ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ وہ فیصلہ ہماری درخواست پر آیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ اس سائیڈ پر آ گئے ہیں،اسلام آباد میں غیرملکی بھی ہیں، ڈپلومیٹک موومنٹ بھی متاثر ہوتی ہے جو جلسہ کرنا چاہ رہے ہیں ان کا حق ہے مگر عام شہریوں کے حقوق بھی متاثر نہیں ہونے چاہئیں، ہائی ویز اور موٹرویز پر کنٹرول فیڈریشن کا ہے، یہ بات واضح ہے کہ فیڈریشن اس متعلق ڈائریکشن دے سکتی ہے، اس درخواست کو پی ٹی آئی درخواست کے ساتھ یکجا کر دیتے ہیں

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    واضح رہے کہ عمران خان حکومت کے خلاف لانگ مارچ کر رہے ہیں، لانگ مارچ کا لاہور سے آغاز ہوا تھا، وزیر آباد میں مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد لانگ مارچ ملتوی کیا گیا تھا ، بعد ازاں لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ہوا تو عمران خان زمان پارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہیں ، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں

  • انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ سپریم کورٹ

    انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کیلئے سینیٹر کامران مرتضی ٰکی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے لانگ مارچ کے لیے جگہ کا تعین کیا گیا ہے؟ انتظامیہ سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کیا جائے،سپریم کورٹ نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو آدھے گھنٹے میں انتظامیہ سے پوچھ کر بتانے کا حکم دے دیا، درخواست گزار سینیٹر کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہا کہ دو ہفتے سے عمران خان کا لانگ مارچ شروع ہے،فواد چودھری کے مطابق جمعہ یا ہفتے کو لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا،لانگ مارچ سے معاملات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں، مارچ پی ٹی آئی کا حق ہے لیکن عام آدمی کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں،

    جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے احتجاج کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار بنایا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ یہ ایگزیکٹیو کا معاملہ ہے ان سے ہی رجوع کریں، غیر معمولی حالات میں ہی عدلیہ مداخلت کر سکتی ہے،جب انتظامیہ صورتحال کنٹرول کرسکتی ہے تو عدالت مداخلت کیوں کرے؟ درخواست گزار سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بات اب بہت آگے جا چکی ہے، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں فائرنگ سے ایک شخص کی جان گئی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تو کافی دنوں سے چل رہا ہے، کیا آپ نے انتظامیہ سے رجوع کیا ہے؟لانگ مارچ کے معاملے میں جلدی کیا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کیا ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں ماضی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے، لانگ مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے، اس قسم کے مسائل میں مداخلت سے عدالت کیلئے عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، آپ نے اپنی درخواست میں ایک آڈیو کا ذکر کیا ہے، جس میں ہتھیار لانے کا ذکر ہے،آڈیو سچ ہے یا غلط لیکن اس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے، کیا 25 مئی کے لانگ مارچ میں لوگوں کے پاس اسلحہ تھا؟احتجاج کا حق لامحدود نہیں آئینی حدود سے مشروط ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں لانگ مارچ ابھی پنجاب کی حدود میں ہے،کیا آپ نے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا ہے؟اگر صوبے اور وفاق کا رابطہ منقطع ہو جائے تو کیا عدالت مداخلت کر سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے سینیٹر کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک سینیٹر ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط کریں، درخواست گزار نے کہا کہ میں ذاتی حیثیت میں عدالت آیا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسے مان لیں کہ آپ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور ذاتی حیثیت میں آئے ہیں،درخواست گزار نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ انتظامیہ صورتحال کو کنٹرول نہیں کر سکتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر لانگ مارچ کے معاملے میں عدالت کی مداخلت قبل از وقت ہوگی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ ڈپٹی کمشنر کا کردار ادا کرے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا معاملہ لارجر بینچ میں زیر التوا ہے، فریقین نے یقین دہانی کی خلاف ورزی پر جواب دینا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ بینچ الگ سے لانگ مارچ کے معاملے میں مداخلت کرے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کا معاملہ تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے 25 مئی کے جلسے کیلئے ایچ نائن گراونڈ کی درخواست دی گئی تھی، انتظامیہ نے ایچ نائن گراونڈ دینے سے انکار کیا تو سپریم کورٹ نے مداخلت کی، ایچ نائن کا گراونڈ مختص ہونے کے باوجود ہجوم ڈی چوک چلا آیا،کیا آپ اس بات سے خائف ہیں کہ 25 مئی والا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے؟

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کیلئے سینیٹر کامران مرتضٰی کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ حالات خراب ہوتے ہیں تو عدالت سے دوبارہ رجوع کیا جاسکتا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں لانگ مارچ سے متعلق کیس زیر التوا ہے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے موقف کے بعدحکم جاری کرنے کی کوئی وجہ نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایگزیکٹیو کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں،کیا عدلیہ کی مداخلت سے انتظامیہ اور پارلیمنٹ کمزور نہیں ہو گی؟ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو متحرک کریں کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، آئے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ سمیت کئی جگہوں پر احتجاج ہوتے ہیں،کیا کبھی باقی احتجاج کے خلاف آپ عدالتوں میں گئے ہیں؟ ایک مخصوص جماعت کے لانگ مارچ میں ہی عدالت کی مداخلت کیوں درکار ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ لانگ مارچ کی وجہ سے ایک پورا صوبہ مفلوج رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق تو ایگزیکٹیو کے اختیارات تو 27 کلومیٹر تک محدود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مفروضے کی بنیاد پر ہمارے پاس آئے ہیں، کیا انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے جگہ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو روات میں جلسے کا کہا تھا،انتظامیہ نے پی ٹی آئی سے بیان حلفی مانگا جو اب تک پر نہیں ہوا،اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی یہ معاملہ چل رہا ہے، آدھا گھنٹہ دیں تو انتظامیہ سے معلومات لے لیتا ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو عدلیہ مداخلت کرے گی، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں ماضی کی آئینی خلاف ورزیوں کا حوالہ بھی موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے خلاف ورزیوں پر دوسرے فریق کا اپنا موقف ہو، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر عدالت کے لیے معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، عدالتی حکم عملدرآمد کے لیے ہوتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تو موجودہ درخواست غیر موثر ہو گئی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے عدالتی مداخلت چاہتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ صورتحال ایگزیکٹیو کے بس سے باہر ہو چکی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق نے 5 نومبر کو بھی پنجاب کو آرٹیکل 149 کے تحت خط لکھا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا وفاق کو نہیں معلوم کہ اپنی ذمہ داری کیسے پوری کرنی ہے؟ سپریم کورٹ انتظامی معاملات میں کیا کر سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست طاقت ور بااختیار ہے، سمجھ سکتے ہیں کہ آپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں، سمجھ سکتے ہیں کہ آپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کی ہیڈلائن باجوڑ اور لکی مروت میں حملے کی تھی جس سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے، ملک میں ہنگامہ نہیں امن و امان چاہتے ہیں،ایسا حکم دینا نہیں چاہتے جو قبل از وقت ہو اور اس پر پھر عمل درآمد نا ہو،آرٹیکل 149 کے تحت وفاق کا صوبوں کو خط بہت سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے،

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • شہزاد اکبر نے 1ارب مانگا، فواد کو کتنا دیا؟ عمر فاروق ظہورکا دھماکے دارانٹر ویو

    شہزاد اکبر نے 1ارب مانگا، فواد کو کتنا دیا؟ عمر فاروق ظہورکا دھماکے دارانٹر ویو

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کا دعویٰ کرنے والے عمر فاروق کا انٹرویو

    باغی ٹی وی : توشہ خانہ سے ویسے تو بہت زیادہ چیزیں غائب ہوئی ہیں تاہم گزشتہ روز سےایک گھڑی پر زو رو شور سے بحث جاری ہے جو غالباً عمران خان کی فرنٹ پرسن گوگی نے دبئی جا کر بیچی اور جس شخص عمر فاروق نے خریدی ان کے کل کے ایک انٹر ویو نے تہلکہ مچا دیا ہے-

    سردیوں کی آمد سے قبل ہی کراچی میں سوئی گیس کا شدید بحران،شہری مشکلات کا شکار


    بعد ازاں عمران خان کی جانب سے نجی خبررساں ادارے جیو ،اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ اور عمرا فاروق کو دھمکیاں دی گئیں کہ ان پر لندن ،دبئی اور پاکستان میں مقدمے درج کروائیں گے-

    معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کے مطابق اس طرح کرنے سے انہیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس طرح ان کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ گھڑی گئی کسی کے ہاتھ گئی تھی کہاں پر کس کو بیچی کہاں بیچی اس کی رسید کہاں پر ہے اس کی تشخیص کیسے ہوئی تھی اور تھرڈ پارٹی کی تشخیص ہوئی تھی یا کہ نہیں ہوئی تھی اور توشہ خانہ میں اس کی بیچنے کی رسید جمع کرائی گئی یا نہیں اور توشہ خانہ میں وہ رسید ضرور جمع ہے جو جتنے پیسوں میں وہ گھڑی وہاں سے عمران خان نے خریدی لیکن بیچی کتنے کی وہ نہیں پھر وہ پیسے پاکستان کیسے آئے آئی بھی یا نہیں آئے ان کے اوپر ٹیکس دیا گیا یا نہیں کیا؟ وہ بل کلئیر کئے یا نہیں اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ہیں لیکن جب عمر فاروق سے واٹس ایپ پر بات ہوئی تو بہت سے اور سوالوں کے جواب بھی کھل گئے-

    نجی ٹی وی کے پروگرم کھرا سچ میں اینکر پرسن مبشر لقمان کے ساتھ انٹرویو میں عمر فاروق نے بتایا کہ اس گھڑی کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ دنیا میں واحد پیس ہے اس طرح کی دو گھڑیاں نہیں ہیں اور جس بندے کے پاس یہ گھڑی ہو گی وہی اس کا مالک ہے اور حال ہی میں میں نے وہ گھڑی خریدی ہے اور ایسی کوئی بات نہیں جو یہ کہہ سکیں کہ یہ وہ گھڑی نہیں کوئی دوسری گھڑی ہے اور گھڑی کےتمام ڈاکومنٹس سرٹیفیکیٹس میرے پاس ہیں-

    حکومت پنجاب صحت کے تمام شعبہ جات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے – عثمان جیلس

    عمر فاروق نے اپنے نام کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹوئٹر پر گردش کئے جانے والے اپنے ٹوئٹس کے حوالے سے کہا کہ ان کا کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں جن پر ٹوئٹس کی جا رہی ہیں وہ تما م فیک ہیں اور جن لوگوں نے ان کے (عمر فاروق) نام کے فیک اکاؤنٹس بنائے ہیں آپ سمجھتے ہیں-

    https://www.youtube.com/watch?v=r4oadoLZUDM

    انہوں نے بتایا کہ شہزاد اکبر کی وجہ سے صوفیہ مرزا ان کے پیچھے پڑی ہوئیں تھیں اورتوشہ خانہ کی گھڑی کی ٹرانزیکشن کے بعد کا ایک کافی بڑا گراپ ان کے پیچھے پڑا ہوا تھا جو کہ یقیناً میں محسوس بھی کر رہا ہوں-

    عمر فاروق نے بتایا کہ فرح گوگی ان کے دفتر آئیں تھیں اور وہ خود ان کے پاس گھڑی لے کر آئیں تھیں عمرفاروق کے مطابق فرح گوگی ان کے دفتر دو مرتبہ آئیں اور ان کا سٹاف بھی اس بارے جانتا ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ ان کے آفس کے سی سی ٹی فوٹیج کا ریکارڈ وہ 6 ماہ رکھتے ہیں اور یہ لین دین کا معاملہ 2019 میں ہوا تھا اورانہیں یہ علم نہیں تھا کہ اس طرح سے یہ معاملات سامنے آئیں گے ورنہ وہ فوٹیج اپنے پاس محفوظ کر لیتے-

    عمر فاروق نے بتایا کہ فرح گوگی کی ان تک رسائی شہزاد اکبر کے ذریعے ہوئی کیونکہ ان کے وہ شہزاد اکبر کے ساتھ اچھے ریلیشنز تھے اور شہزاد اکبر نے انہیں کہا کہ ہمارے پاس توشہ خانہ میں گفٹس جو ہمیں اکثر ملتے ہیں جو ہم نہ رکھنا چاہیں بیچ دیتے ہیں اگر آپ کو کوئی گفٹ خریدنے میں کوئی دلچسپی ہو تو آپ دیکھ سکتے ہیں جس کے بعد شہزاد اکبر نے انہیں فرح گوگی کا نمبر دیا اور وہ ان کے پاس دبئی آئیں جہاں اس نے وہ گھڑی انہیں بیچی اگر فرح اب مُکر رہیں ہیں تو میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا-

    سندھ کابینہ نے سیلاب سے تباہ مکانات کی تعمیر کیلئے 50 ارب روپے کی منظوری دے دی

    عمر فاروق نے کہا کہ گھڑی کی ٹرانزیکشن کیش میں ہوئی کیونکہ انہوں نے کیش ہی مانگا تھا میں نے جس دن گھڑی دیکھی اس کی ویلیوایشن کی اس سے اگلے دن انہیں میں نے رقم دی اور انہیں ساڑھے سات ملین درہم کیش دیا تھا جو کہ اتنی بڑی رقم نہیں ہے وہ دو چھوٹے بیگوں میں ان کو ڈال کر دی انہیں یہ نہیں پتہ کہ وہ رقم انہوں نے دبئی میں رکھی یا پاکستان لے کر گئیں-

    فواد چوہدری کے کچھ واٹس ایپ چیٹ بھی سامنے آئی جس میں فواد چوہدری نے کمیشن مانگا تھا عمر فاروق نے کہا کہ یہ میسجز تمام صحیح ہیں اور ابھی بھی میرے پاس ہیں فواد نے مجھے کہا کہ تم اپنے تمام بیانات واپس لے لو اور کہو کہ یہ وہ گھڑی نہیں ہے اور گھڑی ہے ہم سنبھال لیں گے بات کو جس پر میں نے انہیں انکار کیا اور بعد ازاں پریس کانفرنس میں انہوں نے میرے خلاف باتیں کیں-

    عمرفاروق نے کہا کہ ان پر کیسز بنانے والے بھی یہی ہیں اور اس کو بڑھاوا دینے والے بھی اگر میں ان کی نظر میں کرمنلز ہوں تو یہ ایک کرمنلز کے پاس آئے کیوں اور کرمنل کو گھڑی بیچی کیوں؟-

    فواد چوہدری عمر فاروق سے دبئی میں ملتے بھی رہے، عمر فاروق اور فواد چوہدری تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ویکسین، ای اسپورٹس اور آئی ٹی سیکٹر سے متعلق کاروباری منصوبہ بندی کیلئے پیغامات کا تبادلہ بھی کرتے نظر آئے ہیں اور ویکیسن کو پاکستان میں اپروو کروانے کیلئے کمیشن بھی مانگی، جس پر شہزاد اکبر نے ان سے ایک ارب روپے کمیشن مانگی اور مجھے پریشرائز کیا انہوں نے میرے پرانے کیسز کی کہانی بنائی جب وہاں پر یہ کامیاب نہیں ہوئے تو پھر بچوں کے حوالے سے کیسز بنائے اور منی لانڈرنگ کے مقدمات بنائے-

    تونسہ شریف:سابق وزیر اعلی پنجاب بزدار سردار عثمان بزدار کا بارتھی کوہ سلیمان کا…

  • باجوڑ ،سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے مابین فائرنگ،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    باجوڑ ،سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے مابین فائرنگ،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    باجوڑ ،سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے مابین فائرنگ،ایک دہشتگرد جہنم واصل
    باجوڑ کے علاقے ہلال خیل میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشتگرد ہلاک ہو گیا ہے، ہلاک دہشتگرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں ملوث تھا، اس دوران پاک فوج کے دو جوان بھی شہید ہو گئے ہیں،، شہید نائیک تاج محمد کاتعلق کوہاٹ سے ہے،شہید لانس نائیک امتیاز خان کا تعلق مالاکنڈ سے ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ 15 اور 16 نومبر کی درمیانی شب کو ہوا،علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے،

    واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز پاکستان کے امن کے لئے جانوں کے نذرانے دے رہی ہیں، قیام امن کے لئے سیکورٹی اداروں کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، پاکستانی قوم وطن کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت ہیش کرتی ہے،وطن عزیز سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، ہے اور رہے گی،

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

  • توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی تھی،عمران خان کا اعتراف

    توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی تھی،عمران خان کا اعتراف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ 60 فیصد سے زیادہ کابینہ ارکان ضمانت پر ہیں،انہوں نے حکومت میں آتے ہی خود کو این آر او دیا،

    لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم قانون کی حکمرانی کیلئے جنگ لڑرہے ہیں وہ معاشرے تباہ ہوجاتےہیں جہاں انصاف نہیں ہوتا،امیر ممالک اس لیے خوشحال ہیں کیونکہ وہاں کرپشن نہیں ہے ان کے پاس ملک چلانے کاکوئی ویژن نہیں ان 2خاندانوں کے اقتدارمیں آنے کے بعد ملک نیچے گیا،75فیصد چانس ہے کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے گا،انہوں نے صاف نیت سے ملک میں کوئی کام نہیں کیا،یہ ہروقت میرے خلاف کوئی نہ کوئی پروپیگنڈہ مہم شروع کردیتے ہیں،انصاف کےنظام سےمجھےکوئی امید نہیں،جیوگروپ کیخلاف لندن میں کیس کروں گا،

    قبل ازیں لاہور میں زمان پارک میں عمران خان سے صحافیوں نے ملاقات کی، اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی تھی جس کا ثبوت موجود ہے ہمیں مذاکرات کا پیغام بھیجا جا رہا ہے مگر ہم نے کہا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دیں صاف شفاف الیکشن میں تمام بحران کا حل ہے فوری صاف شفاف انتخابات کا انعقاد تیزی سے مسلط ہوتی تباہی کے قدم روکنے کیلئے ناگزیر ہے امریکا کے معاملے پر بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا میں نے کہا تھا اپنے مفاد پر ملکی مفاد کو ترجیح دوں گا امریکا نے میری حکومت گرائی تھی مگر ملکی مفاد کی وجہ سے ان سے اچھے تعلقات رہیں گے

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میرے قتل کی کوشش اور حقیقی آزادی مارچ کو خون میں نہلا کر راستہ صاف کرنے کی کوششیں خاک میں ملیں کرپشن، منی لانڈرنگ، ملک کو بدعنوانی کی لعنت کا شکار کرنے والوں کو مسلط کرکے قوم کو ان کی اطاعت پر مجبور کیا جا رہا ہے سازش و جبر کا ہر سطح پر مقابلہ کیا آئندہ بھی پوری قوت سے سامنا کریں گے راولپنڈی میں تاریخ کا سب سے بڑا انسانوں کا سمندر امڈ رہا ہے ، پر امن جمہوری جدوجہد کے ذریعے نظام پر مسلط بے مہار گروہ سے قوم کو آزاد کریں گے