Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وسائل محدود،مگرگھبرانے کی بات نہیں،ملکر ملک کو مشکلات سے نکالیں گے،وزیراعظم

    وسائل محدود،مگرگھبرانے کی بات نہیں،ملکر ملک کو مشکلات سے نکالیں گے،وزیراعظم

    وسائل محدود،مگرگھبرانے کی بات نہیں،ملکر ملک کو مشکلات سے نکالیں گے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبے سے شہر یوں کوسہولت ملے گی،بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ عوامی ہے

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کو 4 ماہ میں مکمل کرنے کا معاہدہ ہوا ہے ،بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پر متعلقہ حکام سے گزارش ہے 3ماہ میں مکمل کریں،بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پر اخراجات میں کفایت شعاری پرحکام کے مشکور ہوں گے،بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پرساڑھے 6ارب روپے خرچ ہوں گے بھارہ کہو بائی پاس مکمل ہوگا تو مریض،شہری اورمسافروں کے لیے فائدہ مندہوگا،نوازشریف دورمیں جو منصوبے شروع ہوئے تھے کسی کو مکمل کرنےکا خیال ہی نہیں آیا،ابھی ہمارا عز م ہے ہم عوام کے لیے سفری سہولیات سے متعلق ہر ممکن اقدام کریں گے،گزشتہ حکومت کو عوام کی تکالیف سے کوئی سروکارنہیں تھا،عوامی منصوبے تب مکمل ہوتےہیں جب دل میں درد اور احساس ہوگا بدقسمتی سے گزشتہ حکومت نے عوامی منصوبوں پر کام کرنے کے بجائے غلط بیانی کی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی دن رات غلط بیانی سے کام لیتے ہیں،میں نے 40سال بڑے بھائی کی قیادت میں حالات میں اتارچڑھاو دیکھا،ہم نے 40سال میں آمریت کا دور دیکھا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان کو اللہ نے عزت دی میں اپنی زندگی میں غلط بیانی کرنے والےعمران خان جیسے شخص کو کبھی نہیں دیکھا،گزشتہ روز آڈیو لیکس سے عمران خان کا ارادہ ظاہر ہوا ہماری اتحادی حکومت آئی ،عمران خان نے سب کو غدار کہہ دیا ،عمران خان نے شوکت خانم اسپتال تعمیر کروائی ،کس کو پتہ تھا یہ ایسے انسان نکلیں گے ،عمران خان سازشی ذہن کے مالک ہیں ،قوم کو تقسیم کیا،لوگوں کو گمراہ کیا،پاکستانیوں کو بدنام کیا،دنیا نے دیکھ لیا ایک منتخب وزیراعظم کس انداز میں کیابات کرتے ہیں عمران خان نے قوم کے وقار کو داؤ پر لگایا،زور لگایا کہ ہماری حکومت امپورٹڈ ہے عمران خان نے اداروں کو تقسیم کرنے کی ایک بدترین سازش کی،بدقسمتی سے عمران خان نے ہمارے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کیا میں امریکہ گیا عالمی رہنماوں سے ملاقاتیں کیں گھناونی سازش اور اپوزیشن کو بدنام کرنے پر مجھے تکلیف ہوتی ہے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کواللہ نے وزیراعظم بنوا دیا تھا،عمران خان جعلی ووٹوں سے وزیراعظم بن گئے تھے،ان کو عوام کی خدمت کرنی چاہیے تھی، میں نے سیاست کو داو پر لگایا اور ریاست کو بچانے کا عزم کیا مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہو ئی عمران خان کے دل میں خواہش تھی پاکستان سری لنکا کی طرزپر جائے عمران خان جلسوں اور تقاریر میں کہتے تھے کہ پاکستان سری لنکا طرز پرجا رہا ہے،ہمارے وسائل محدود ہیں مگر گھبرانے کی بات نہیں،ملکر ملک کو مشکلات سے نکالیں گے،عمران خان کی نا اہلی کے باعث ہمیں یہ بوجھ اٹھانا پڑا، ہم نے اپنی سیاست داؤ پر لگائی،آئی ایم ایف ہماری ناک سے لکیریں نکلوا رہا تھا، ہمیں اسکی شرطیں ماننی پڑیں،عمران خان کہتے تھے میں ہوں تو سب کچھ ہے ورنہ کچھ بھی نہیں ہے، ہمارے پاس تیل ہے نہ گیس ہمیں امپورٹ کرنا پڑتا ہے،عمران خان میرے بارے میں کہتے ہیں شہبازشریف مانگنے جاتے ہیں عمران خان سے کہتا ہوں جب آپ بیرون ملک جاتے تھے تو کیا یہاں سے پیسے لیکر جاتے تھے،باشعور لوگ غلط اور صحیح میں فرق کریں،سیلابی صورتحال ہے ، عمران خان پتہ نہیں کہاں سے پیسے لیکر جلسے کرتے رہے ہیں عمران خان جلسوں کے پیسے اگر سیلاب تاثرین پر لگاتے تو بہتر ہوتا،

  • عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیرتنویر الیاس کی کرسی خطرے میں

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیرتنویر الیاس کی کرسی خطرے میں

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مظفر آباد میں عمران خان کا جلسہ ناکام ہونے پر وزیراعظم آزاد کشمیر کی مشکلات بڑھ گئیں

    تحریک انصاف آزاد کشمیر کے اندر بھی وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف آوازیں اٹھنے لگ گئیں، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے بھی وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی تو کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تنویر الیاس آزاد کشمیر کے "امپورٹڈ وزیراعظم” ہیں. جب سے انکو وزیراعظم بنایا گیا یہ تحریک انصاف کو مقامی سطح پر کمزور کرنے کے درپے ہیں، اللہ پیسے کے ساتھ ساتھ انسان کو شعور بھی دیتا ہے لیکن وزیراعظم آزاد کشمیر صرف پیسے کے بل بوتے پر وزیراعظم بنے

    مظفر آباد میں عمران خان کے جلسے کے لئے کئی دنوں سے تیاریاں جاری تھیں تا ہم توقع کے برعکس جلسے میں کم لوگ آئے، جس کا عمران خان نے بھی نوٹس لیا ہے، جلسے کے روز تعلیمی اداروں میں تعطیل کی گئی تھی اور عملے کو جلسے میں حاضر ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، سرکاری دفاتر کے تمام ملازمین کو جلسے میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی تا ہم پھر بھی یونیورسٹی گراؤنڈ نہ بھر سکا اور عمران خان خود جلسہ کے شرکاء کو دیکھ کر پریشان نظر آئے، جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے خیبر پختونخواہ سے بھی دیہاڑی دار منگوائے گئے تھے تا ہم خیبر پختونخواہ سے آئے دیہاڑی دار جلسے میں جانے کی بجائے مظفر آباد میں سیرو تفریح کرتے رہے ،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف نے جلسہ گاہ میں پانچ ہزار کرسیاں لگانے کا دعوی کیا جبکہ جلسے میں دو ہزار نو سو کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ بڑے سٹیج کے سامنے تیس چالیس فٹ سے زیادہ جگہ خالی رکھی گئی اور لوگوں کو اس سے پیچھے رکھنے کے لئے ناقابل عبور خار دار تاروں کی باڑ نصب کی گئی تھی صحافیوں نے عمران خان کی تقریر کے دوران ڈرون کیمرے سے دکھایا کہ گراؤنڈ آدھا سے زیادہ خالی تھا جبکہ کرسیوں کے درمیان بھی کافی جگہ خالی رکھی گئی تھی۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کے اہلکاروں نے سٹیج سے جو تصاویر بنا کر شیئر کیں اس میں ایسا زاویہ رکھا گیا کہ جلسہ گاہ لوگوں سے بھری ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ صحافیوں اور ایجنسیوں کے اہلکاران کے مطابق جلسے میں تقریبا پانچ ہزار افراد شریک تھے۔ جلسے کے بعد صحافیوں نے جلسے میں لوگوں کی بہت کم تعداد بیان کی اور بتایا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے جلسوں میں یہ میدان لوگوں سے بھرا ہوتا تھا اور میدان سے باہر اور ارد گرد کی عمارتوں پہ بھی بڑی تعداد میں لوگ موجود ہوتے تھے یوں آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی وزیر اعظم تنویر الیاس حکومت کی بھر پور تیاریوں، بڑی رقومات خرچ کئے جانے کے باوجود جلسے میں لوگوں کی بہت کم تعداد اور جلسے کی تقاریر کے حوالے سے بھی اس جلسے کو ناکام قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اہلیان مظفر آباد نے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو مسترد کر دیا ہے۔

    عمران خان کے مظفر آباد میں جلسے کے بعد آزاد کشمیر قانون سازاسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری لطیف اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے جلسے کے لئے جن ممبران نے پچیس پچیس تیس تیس لاکھ روپے لئے ہیں اس کا حساب اسمبلی میں پیش کیا جائے۔چودھری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ حکومت کا تحریک آزاد ی سے کوئی تعلق نہیں،پہلی حکومت ہے جس کو اپنی ہی پارٹی نے عدم اعتماد کر کے تبدیل کیا ،

    سابق وزیراعظم و ممبر اسمبلی آزاد ریاست جموں و کشمیر عبدالقیوم نیازی بھی تنویر الیاس کے خلاف میدان میں آ گئے، انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم تنویر الیاس گھر جا کر قائد حزب اختلاف لطیف اکبر سے معافی مانگیں بلکہ پوری اپوزیشن سے معذرت کریں اپوزیشن کو نظر انداز کرنے سے تنویر الیاس حکومت نہیں چل سکتی آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کمزور ہو رہی ہے عمران خان کے مظفر آباد جلسے سے تحریک آزادی کو کوئی مدد نہیں مل سکتی گزشتہ چھ ماہ سے حکومت کے اندر جو معاملات دیکھنے کو ملے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں جس سے آزاد کشمیر کے اندر پاکستان تحریک انصاف کمزور ہوتی نظر آرہی ہے

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • ویڈیو:عمران خان عدالت پیش، درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    ویڈیو:عمران خان عدالت پیش، درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    عمران خان عدالت پیش، درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا
    دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا کیس ،عمران خان کی اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیشی کا معاملہ ،عدالت کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی،،اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی نفری کمرہ عدالت کے باہر پہنچ گئی ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت کے اطراف قناعتیں لگائی گئی تھیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین مقامی عدالت پہنچ گئے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے وکیل بابراعوان کے بروقت پر آنے پر تعریف کی، جج نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اچھا لگا وقت پر آئے، نوجوانوں کو بھی یہی پیغام دینا چاہیے،پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری بھی سیشن کورٹ میں موجود تھے ، جج ظفر اقبال نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا عمران خان پر الزام صرف ایما کا ہے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ایما بھی صرف لفظ کی حد تک ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں،جج نے کہا کہ پراسیکیوشن نے ایما کی حد تک شواہد پیش کرنے ہیں،کیا ایما کی حد تک آپ کے پاس کوئی شواہد ہیں؟ سیشن کورٹ اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کرلی

    بعد ازاں عمران خان جج زیباچوہدری کی عدالت میں پہنچ گئے ،ایڈیشنل سیشن جج زیبا چودھر ی کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھیں جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری کی عدالت کا کمرہ پولیس نے بند کردیا

    قبل ازیں عمران خان کیخلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا کیس ،ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کیس کی سماعت کی ،عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے بابر اعوان کی جانب سے سماعت 11 بجے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، سیشن عدالت نے سماعت 11 بجے تک ملتوی کر دی

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

    عدلیہ کو دھمکیاں، ممنوعہ فنڈنگ، توشہ خانہ،عمران خان نااہلی سے بچ پائیں گے؟

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    یہ ہے نیا پاکستان، سابق وزراء اعظم پر توشہ خانہ کیس، عمران خان کا تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

  • وزیراعظم عدالت میں پیش،کہا  سفارش بھی آئی مگر میں نے سمری  مسترد کی

    وزیراعظم عدالت میں پیش،کہا سفارش بھی آئی مگر میں نے سمری مسترد کی

    اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورمیں ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی

    وزیراعظم شہباز شریف اسپیشل سینٹرل کورٹ لا ہور میں پیش ہوئے شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے عدالت میں دلائل دیئے گئے امجد پرویز نے کہا کہ 2ارب 80 کروڑروپے کے ایک اکاونٹ کو بعد میں نکال دیا گیا،اکاونٹ کا شریف فیملی سے کوئی تعلق نہیں ، چالان میں یہ اکاونٹ لکھا ہی نہیں،تفتیش میں تسلیم کیاگیا کہ یہ اکاونٹ مشتاق چینی کا بے نامی اکاونٹ ہے،اگر یہ الزام سلمان شہباز پر ہو تو قانون اور سرکار حرکت میں آجاتی ہے، مشتاق چینی والے اکاونٹ پر بھی وہی کارروائی ہونی چاہیے تھی، الگ کیس بننا چاہیے تھا،حیرت یہ ہے کہ مشتاق چینی کے اکاونٹ پر سرکار نے کوئی ایکشن نہیں لیا،

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں عدالتی حکم پر پیش ہوا ہوں میری اسلام آباد میں مصروفیات ہیں میں جانا چاہتا ہوں عدالت جانے کی اجازت دے،میرے خلاف جھوٹا منی لانڈرنگ کا کیس بنایا گیا ،بطور وزیر اعلیٰ ایسے فیصلے کیے جس سے خاندان کے کاروبار کو نقصان پہنچا ،میں نے شوگر ملز کو سبسڈی دینے کی سمری مسترد کی ،میں نے انکار کیا اور کہا کہ یہ پنجاب کی غریب عوام کا پیسہ ہے ،مجھے سفارش بھی آئی مگر میں نے سمری مسترد کی وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت نے سے جانے کی اجازت طلب کی اسپیشل سینٹرل کورٹ لا ور نے وزیراعظم شہبازشریف کی جانے کی استدعامنظور کرلی

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگلے مہینے جب چینی کا سیزن شروع ہو گا تب ہم دیکھیں گے کہ ایکسپورٹ کا کیا کرنا ہے.زر مبادلہ آنا کسے اچھا نہیں لگتالیکن عوام پر چینی مہنگی کرنے کا بوجھ نہیں ڈال سکتا،اگلے ماہ چینی کا سیزن ہو گا تب ہم دیکھیں گے کہ ایکسپورٹ کا کیا کرنا ہے،اب مشکل ترین حالات میں مجھے اہم زمہ داری سونپی گئی ہے.پارٹی قائد نے سیاست کو داؤ پر لگا کر ریاست کو بچانے کی زمہ داری دی. پٹرول کی قیمت اوپر جا رہی ہے. ملک میں سیلاب ہے. ہمارے لیے اب ایک ایک ڈالر قیمتی ہے.

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہوئی تب شہباز شریف جیل میں تھے مقدمہ متن میں کم اجرت والے ملازمین نے نہیں کہا کہ یہ اکاؤنٹس شہباز شریف کے کہنے پر کھلے ہیں استغاثہ کہتا ہے کہ 4 ارب روپے کی چینی کی فروخت کو چھپایا گیا دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایف آئی اے کو کارروائی کرنے کا اختیار ہے،

  • سیلاب نے کچھ نہیں چھوڑا:اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور مدد کرے:شہبازشریف

    سیلاب نے کچھ نہیں چھوڑا:اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور مدد کرے:شہبازشریف

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، باہمی اعتماد، احترام اور ہم آہنگی کی بنیاد پر دوستانہ روابط کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، امریکہ نے مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے، پاک۔امریکہ تعلقات کو چین اور افغانستان کے تناظر سے نہیں دیکھنا چاہئے، ملک میں حالیہ سیلاب سے تباہی دستیاب وسائل سے بہت زیادہ ہے، سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور مدد کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاک۔امریکہ تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات کی تقریب میں شرکت پر خوشی ہوئی ہے، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات 75 سال پر محیط ہیں، دونوں ممالک کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، امریکہ پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے ممالک میں شامل ہے، دونوں اطراف سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کیا جاتا رہا ہے، امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، پاک۔امریکہ تعلقات کو چین اور افغانستان کے تناظر سے نہیں دیکھنا چاہئے،

    امریکہ نے مختلف پروگراموں اور منصوبوں کے ذریعے مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں بجلی کی شدید قلت تھی تو سابق وزیراعظم نواز شریف نے انتہائی مشکل معاشی حالات میں 5 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کا فیصلہ کیا، عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے سی پیک متاثر ہوا، سی پیک منصوبے متاثر ہونے پر عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، امریکی کمپنی نے ان حالات میں 3500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کی اور تیز رفتاری اور شفافیت کے ساتھ بجلی کی پیداوار کے منصوبے لگائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، ماضی کو بھلا کر سنجیدہ بات چیت کے ذریعے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیویارک میں امریکی صدر جوبائیڈن اور وزیر خارجہ بلنکن کے ساتھ مفید ملاقات ہوئی اور سیلاب متاثرین کیلئے 53 ملین ڈالر امداد اور اظہار ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا، امریکی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ملاقات میں بھی سیلاب متاثرین کی مدد کا عزم ظاہر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی بہت زیادہ ہے، پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، حالیہ تباہ کن سیلاب کی موجب موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے،کاربن گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، قدرتی آفت کا ہم کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، ماضی میں امریکہ نے پاکستان میں 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اگر منصوبہ بندی اور مناسب نگرانی میں سرمایہ کاری کو استعمال کیا جاتا تو آج ہم کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے، پاکستانی ایک مضبوط قوم ہے، یہاں کے لوگ پڑھے لکھے اور محنتی ہیں، ہم معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان میں 4 ملین ایکڑ پر کھڑی کپاس، چاول، گنے اور کھجور کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، 400 بچوں سمیت 1600 افراد جاں بحق ہوئے، 10 لاکھ سے زائد گھر تباہ اور لاکھوں مویشی ہلاک ہوئے ہیں، سیلاب متاثرین خیموں اور کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور وہ امداد کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنا حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے، سیلاب متاثرین کیلئے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں تاہم تباہی دستیاب وسائل سے بہت زیادہ ہے، سیلاب متاثرین کی طلب و رسد میں واضح طور پر فرق موجود ہے، ابھی سیلاب متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کا مرحلہ باقی ہے، چاہتے ہیں عالمی برادری اس مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر میں مدد کرے، زراعت، انڈسٹری اور دیگر شعبوں کی بحالی میں معاونت کی جائے، ہم رقم نہیں عوام کی بحالی کیلئے اقدامات چاہتے ہیں۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • وزیرِ اعظم نے پبلک سیکٹر میں 2000 میگاواٹ شمسی  بجلی کے منصوبے لگانے کی اصولی منظوری دے دی

    وزیرِ اعظم نے پبلک سیکٹر میں 2000 میگاواٹ شمسی بجلی کے منصوبے لگانے کی اصولی منظوری دے دی

    اسلام آباد:وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج ملک میں 10 ہزار میگاواٹ سولرائیزیشن منصوبے کے حوالے سے اعلی سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی. اجلاس میں ملک میں ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے 14 ستمبر 2022 کو ایک انویسٹرز کانفرنس منعقد کی گئی جس میں مقامی و بین الاقوامی ممالک بشمول سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، چین اور قطر سےسرمایہ کار کمپنیز کے نمائندوں نے شرکت کی اور پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں شمسی توانائی سے چلنے والے نیۓ پاور پلانٹس کے لیے جگہ کے انتخاب کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے. اس سلسلے میں مظفر گڑھ کے قریب ایک جگہ کی شناخت بھی کر لی گئی ہے جہاں 600 میگا واٹ کے شمسی توانائی سے چلنے والے پاور پلانٹ کی تعمیر کی جاےگی.

    علاوہ ازیں شمسی توانائی سے چلنے والے 11 کے وی کے فیڈرز کے حوالے سے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوالے سے فریم ورک اور ٹیرف کے حوالے سے کام کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں پاور ڈویژن , آلٹرنیٹ انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ ، سینٹرل پاور پرچیزنگ کمپنی، نیپرا اور دیگر ادارے کے مابین مشاورت جاری ہے. وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ٹائم لائنز کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی تا کہ جلد سے جلد شمسی توانائی سے بننے والی بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کیا جا سکے.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سرکاری عمارات کی شمسی توانائی پر منتقلی کے حوالے سے بھی کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے.

    وزیر اعظم نے ملک بھر میں ٹیوب ویلز کی کے حوالے سے کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی کی جس میں وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ، سیکرٹری پاور ڈویژن اور آبی وسائل کی وفاقی وزارت کا ایک نمائندہ شامل ہوگا.

    اجلاس میں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر، وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ، مشیر وزیر اعظم احد چیمہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی جہانزیب خان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی.

  • پاک -امریکہ تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب:وزیراعظم شہبازشریف بھی شریک

    پاک -امریکہ تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب:وزیراعظم شہبازشریف بھی شریک

    اسلام آباد:پاک امریکہ تعلقات کی 75 ویں سالگرہ میں شرکت کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف امریکی سفارتخانے پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا استقبال سفارتخانے کے عملے نے کیا ، اس موقع پر شہبازشریف نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات مٰن گرمجوشی کو بھی سراہا

     

    اطلاعات ہیں کہ آج شام اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہازشریف نے شرکت کی اور امریکی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ سے دوستی کا متمنی ہے ،

     

     

    اطلاعات کے مطابق سالگرہ کی اس تقریب کا آغاز پاکستان کے سیلاب ذدگان سے یکجہتی کے طور پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرکے کیا گیا.

     

    تقریب میں اعلان کیا گیا کہ "تقریب میں ابھی ہم پاکستان میں سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں اور جن افراد کا روزگار تباہ ہوا انکے احترام میں ایک لمحہ خاموشی اختیار کریں گے”

    تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم، وفاقی وزراء کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت.

  • تونسہ سیلاب ، ہلاکتوں ،سینکڑوں گھروں کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار کون؟ کیا اس انسانی المیہ پرسپریم کورٹ کا سوموٹو ایکشن ہوگا؟

    تونسہ سیلاب ، ہلاکتوں ،سینکڑوں گھروں کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار کون؟ کیا اس انسانی المیہ پرسپریم کورٹ کا سوموٹو ایکشن ہوگا؟

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان (سپیشل رپورٹ) رودکوہی سیلاب کو آئے ہوئے تقریباََ دو ماہ ہوچکے ہیں اس سیلاب نے تونسہ کے علاقہ بستی چھتانی ،گیدڑوالا سمیت کئی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ،کئی انسان سیلابی ریلے میں بہہ کر لقمہ اجل بن گئے ،جن کی لاشیں کئی دنوں بعد ملیں،ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر تھے جو اب تک موجود ہیں ۔یہ سیلاب اب تقریباَ َ ختم ہوچکا ہے لیکن اپنے پیچھے کئی کہانیاں اور سوالات چھوڑ گیا ہے ۔سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ یہ سیلاب قدرتی تھا یا کسی انسانی غلطی یا خود غرضی اس کی وجہ بنی،اس کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں،آئیے آپ کو لیے چلتے ہیں تونسہ کے علاقہ گٹا کُھردک یا مہوئی والا گٹا (بند)۔تاریخ میں پہلی باراس علاقے سیلاب آیا اوربند ٹوٹا جس نے بہت بڑے سانحے کو جنم دیا ۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کے بااثر افراد سیف اللہ ولد حاجی صدیق ،حیدر ولد شاہل کھردکی جنہیں پی ٹی آئی کے مقامی ایم پی اے اور ایم این کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ان لوگوں نے گٹا کھردک کے ساتھ واقع سرکاری رقبہ اور شاملات پر قبضہ کیاہوا ہے ۔ان لوگوں نے بند کے قدرتی راستے کے درمیان دو پشتے بنواکر قبضہ کیا گیا سرکاری رقبہ کو سیراب کرنے کیلئے اپنی مرضی سے تبدیل کیا اور غیر قانونی کھالا بنایا ۔آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان بننے کے بعد اس وقت ایک آفیسر ملک عبدالعزیز کوریہ نے بیلوںکے ذریعے یہ بند بنوایا ،1987-88میں سردار امجد فاروق کھوسہ نے 20لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کرائی اورپھر ہر دوسال بعداس کی مرمت کی جاتی رہی لیکن گذشتہ تین سال سے اس بند کی مرمت نہ ہوسکی ۔دو سال قبل اس بندکی مرمت کیلئے سرکار نے ایک بلڈوزر بھیجا ،مقامی لوگوں کے مطابق اس بلڈوزر کو بااثر لینڈ مافیا نے کا م نہ کرنے دیا رودکوہی دروغہ آیا لیکن اس کی بھی ایک نہ چلی، پھر رودکوہی تحصیلدار سرور ملغانی آیا جس نے لینڈ مافیا سے بکرے کی دعوت کھائی اور دس ہزار روپے نقد نذرانہ وصول کیا پھر انہیں سرکاری بلڈوزر کے ذریعے بند کاڈیزائن تبدیل کرنے کی کھلی اجازت دے دی ،جس سے بااثر افراد قبضہ شدہ رقبہ پر پانی لے جانے میں کامیاب ہوگئے اورفصلات کاشت کرنے لگے۔
    دوسرا ظلم اس مافیا نے یہ کیا کہ اس بند پر ہزاروں کی تعداد میں درخت لگے ہوئے تھے،اس مافیاء نے سرکاری عملے کی ملی بھگت سے درخت لاکھوں روپے میں فروخت کردیے،رودکوہی کے راستے پر چھوٹے بند بنا کر ان میں فصلیں کاشت کرلی گئیں، اس سال بارشیں کچھ زیادہ ہوگئیں اور یہ منی ڈیم بھی پانی سے بھر گیا ،مسلسل چھیڑ چھاڑ ،فزیکل تبدیلی ،درختوں کی کٹائی اور بروقت بند کی مرمت نہ ہونے سے یہ بند پانی کا دباؤ برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا ۔
    ٭۔اب سوال یہ ہے کہ کئی قیمتی انسانی جانیں اس سیلاب کی نذر ہوگئی ان ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے ؟
    ٭۔سینکڑوں خاندان سیلا ب سے متاثر ہوئے ان کے گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ان کے ذمہ داروں کا تعین کون کرے گا ؟
    ٭۔ ڈپٹی کمشنر یا کمشنر ڈیرہ غازیخان سیاسی دباؤ سے نکل کر آزادانہ تحقیقات اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کر سکیں گے ؟
    ٭۔کیا سپریم کورٹ آف پاکستان کے محترم چیف جسٹس صاحب اس انسانی المیہ پر سوموٹو ایکشن لیں گے ؟
    جوکہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ؟؟؟؟؟؟

  • سابقہ حکومت نے بروقت گیس نہ خرید کر بہت بڑا ظلم کیا. وزیرِ اعظم

    سابقہ حکومت نے بروقت گیس نہ خرید کر بہت بڑا ظلم کیا. وزیرِ اعظم

    سابقہ حکومت نے بروقت گیس نہ خرید کر بہت بڑا ظلم کیا. وزیرِ اعظم
    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے موسم سرما میں گیس کی متوقع طلب کے پیشِ نظر فوری لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایات جاری کردیں

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے موسمِ سرما میں گیس کی صورتحال پر پیشگی لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے طلب کئے گئے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی. اجلاس کو موسمِ سرما میں متوقع طلب اور رسد پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی اور آئندہ مہینوں میں گیس کی فراہمی کیلئے مرتب کئے پلان پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو پیش کردہ پلان کو مزید بہتر کرنے اور قلیل و وسط مدتی لائحہ عمل کو ترجیح دینے کی ہدایات جاری کیں. اجلاس میں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، وزیرِ مملکت پیٹرولیم مصدق ملک، مشیر احد چیمہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران حکومت نے کرونا کے دنوں میں عالمی منڈی میں سستی گیس کا فائدہ نہیں اٹھایا، بروقت گیس نہ خرید کر اس قوم کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا. گزشتہ حکومت کے بروقت فیصلے نہ کرنے کا خمیازہ آج پورا ملک اور غریب آدمی بھگت رہا ہے. میں گزشتہ حکومت کی طرح کسی بھی قسم کی بد انتظامی اور مجرمانہ غفلت قبول نہیں کرونگا. معیشت میں بارودی سرنگیں بچھانے والوں نے ملک کے ہر شعبے پر خود کُش حملے کرکے غریب کی کمر توڑ دی.گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی بلاتعطل فراہمی یقنی بنائی جائے. موجودہ حکومت اعدادو شمار اور خالی باتوں کی بجائے عملی و سنجیدہ اقدامات پر یقین رکھتی ہے.

  • بریکنگ،ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    بریکنگ،ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اورکیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چار سال کے بعد مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں منظور کر لیں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی سزائیں کالعدم قراردے دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پراسیکیوشن ٹیم کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی

    احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو مریم نواز کو 7 اورکیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی جج محمد بشیر نے نواز شریف پر ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا جج محمد بشیر نے مریم نواز پر 30 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا

    قبل ازیں ن لیگی نائب صدر مریم نواز اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں ،کیپٹن (ر) صفدر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ،دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ نیب پراسیکیوٹر عثمان راشد طبیعت ناسازی کی وجہ سے آج پیش نہیں ہو ئے،ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ عثمان راشد کی طبیعت ناساز ہے عدالت اجازت دے تو دلائل کا آغاز کروں ، امجد پرویز نے ڈپٹی پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایون فیلڈ ریفرنس کا ٹرائل کیا آپ سے بہتر دلائل کون دے سکتا ہے،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف وہ حصہ پڑھیں جس میں مریم اور نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق واضح ہو،تفتیشی افسر نے جے آئی ٹی کی ساری رپورٹ لکھ دی، خود کیا تفتیش کی؟ یہ دستاویزات پراسیکیوشن کا کیس کیسے ثابت کرتے ہیں؟ ان دستاویزات سے الزام کیسے ثابت ہوتا ہے؟ دیکھنا یہ ہے کہ کیا تفتیشی افسر نے دستاویزات پر کوئی تفتیش بھی کی؟ کوئی ایسی چیز ابھی سامنے نہیں آئی جو نواز شریف یا مریم نواز کا پراپرٹیز سے تعلق جوڑے،کیا پراپرٹیز کی مالیت کا تعین کرنے والا کوئی دستاویز سامنے آیا؟ آپ نے دستاویزات پڑھے لیکن ان میں کہیں وہ مریم نواز اور نواز شریف کا لنک واضح نہیں ہو رہا ،کیا آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جس سے پراپرٹیز کی مالیت یا ایک اپارٹمنٹ کی مالیت پتہ چلے

    سردار مظفر عباسی نے کہا کہ حسن اور حسین نواز نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دی، 26 جنوری 2017 کو یہ درخواست دی گئی تھی،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ طارق شفیع کا بیان حلفی ریکارڈ پر رکھا گیا تھا، سردار مظفر عباسی نے کہا کہ بیان حلفی میں گلف اسٹیل ملز کی فروخت کا بتایا گیا،ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح سوال اٹھایا تھا گلف اسٹیل مل بنی کیسے؟ طارق شفیع یہ دکھانے میں ناکام رہے تھے کہ وہ بزنس پارٹنر تھے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی رائے کو شواہد کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، جے آئی ٹی نے کوئی حقائق بیان نہیں کیے، صرف اکٹھا کی گئی معلومات دیں، سردار مظفر عباسی نے کہا کہ واجد ضیا نے یہ ڈاکومنٹس خود دیکھے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، میں ڈاکومنٹس سے دکھاؤں گا کہ یہ پراپرٹیز 1999 میں خریدی گئیں، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ان پراپرٹیز کی خریداری کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی؟ آپ اس متعلق ڈاکومنٹ دکھائیں، زبانی بات نہ کریں،کل کو یہ ساری چیزیں ججمنٹ میں آنی ہیں، آف شور کمپنیوں نے اپارٹمنٹ کتنی قیمت میں خریدا؟ اپیل میں کام آسان ہوتا ہے کہ جو چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں انہی کو دیکھنا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پراسیکیوشن زبانی بیانات کے علاوہ کیا دستاویزات سامنے لائی ہے؟ نواز شریف کا اس کیس کے حوالے سے موقف کیا ہے؟ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نواز شریف کا موقف تھا کہ ان کا اس پراپرٹی سے تعلق نہیں،

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا 342 کے بیان میں مانا گیا کہ پراپرٹی کتنی میں خریدی گئی؟ وکیل مریم نواز نے کہا کہ 342 کے بیان میں کہیں پر کوئی ذکر نہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ واحد اور بہترین دستاویز ہے جو کیس پیش کی گئی؟ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پر عثمانی چیمہ نے کہا کہ مریم نواز کا کردار 2006 سے شروع ہوتا ہے، ابھی آپ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز کا کردار 1993 سے شروع ہوتا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز پراپرٹیز کی مالک ہیں یہ دستاویزات سے عدالت کو بتا دیں ، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے خود کو تو واضح کر لیں پھر عدالت کو بتائیں، سردار مظفر نے کہا کہ میں تین جملوں میں نیب کا سارا کیس عدالت کو بتا دیتا ہوں،نواز شریف نے پبلک آفس ہولڈر ہوتے ہوئے مریم نواز کے نام پر لندن پراپرٹیز خریدیں،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو چار جملے آپ نے بتائے ہیں یہی شواہد سے ثابت کر دیں، بات ختم،جو متفرق درخواستیں دائر ہوئیں اس کے علاوہ نیب کے پاس کوئی کیس نہیں،واجد ضیاء کو پتہ چل گیا تھا کہ پراپرٹیز کی مالیت 5 ملین ڈالر تھی تو تفصیل لی جا سکتی تھی، پراپرٹیز کی تفصیلات لینا بالکل بھی مشکل نہیں تھا، پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے کہا کہ پراپرٹیز کی مالیت کا تعین متعلقہ نہیں تھا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ آپ بالکل غلط کہہ ریے ہیں کہ مالیت کا تعین غیرمتعلقہ تھا، آپ نے تحقیقات کے بعد شوائد سے کیس بنانا تھا ،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ شریف فیملی کا موقف ہے کہ دادا نے پوتے کو پراپرٹیز دیں، واجد ضیاء نے انہی کی متفرق درخواست کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنا دیا، تفتیشی نے انکے اس موقف کو غلط ثابت کرنا تھا، پراسیکیوشن نے یہ ثابت کرنا تھا کہ اصل ملکیت نواز شریف کی ہے یا نہیں تفتیشی ایجنسی نے تفتیش کر کے حقائق سامنے لانے تھے، وہ دستاویزات دکھا دیں کہ جن سے پراپرٹی ٹریل "یہ ہیں وہ ذرائع” غلط ثابت ہوں ،جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نواز شریف نے اگر اپنی پوتے کیلئے پراپرٹیز بنائیں تو اس میں نواز شریف کا تعلق کہاں ہے؟ دادا نے سارا کچھ پوتا پوتی کیلئے بنائے تو پھر بھی نواز شریف کہیں موجود نہیں، یہ تو کہیں ثابت نہیں ہو رہا کہ باپ نے بیٹے نواز شریف کو پراپرٹیز دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے عدالت کو وہ ٹائٹل ڈاکیومنٹ دکھانا ہے، وہ دکھا دیں، کیس تقریباً مکمل ہو چکا ہے، نیب نے بس وہ چھپا ہوا دستاویز دکھانا ہے،

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    نیب پراسیکیوٹر نے پراپرٹیز کی رجسٹری کے دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کردیں ،نیب پراسیکیوٹر نے نیلسن اور نیسکول کمپنیز کی رجسٹریشن کی دستاویزات دکھا دیں، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ تصدیق شدہ دستاویزات ہیں؟ وکیل مریم نواز امجد پرویز نے کہا کہ یہ تصدیق شدہ سرٹیفکٹ کی کاپی ہے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پراپرٹیز کمپنیز کی ملکیت ہیں، پراسیکیوٹر نے کہا کہ دستاویز میں care off لکھا ہو ا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملکیت کمپنی کی ہے اب اس کمپنی کو لنک کریں

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پر ملکیت نیلسن نیسکول کی ہے اور بینیفیشل اونر مریم نواز ہیں لافرم بھی بینیفیشل اونر شپ کی بات کررہی ہے کمپنی کی ملکیت ہونا الگ بات ہے اس میں ڈائریکٹر ہونا الگ بات ہے اور اس کے شئیر ہولڈر ہونا الگ ،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 2006 سے 2012 کے درمیان پراپرٹیز ان کمپنیز ملکیت تھیں یا نہیں، یہ کیسے پتہ چلے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا آج کی تاریخ میں اس خط کی بنیاد پر مریم نواز ان پراپرٹیز کی بینیفشل اونر ہیں؟ پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے کہا کہ جی، آج بھی ہیں، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیسے مالک ہیں کوئی دستاویز دکھا دیں ،یہ بھی بینفشل اونر کی بات ہو رہی ہے قانونی مالک کی نہیں ،سردار مظفر نے کہا کہ 2017 میں بی وی آئی ایف آئی اے کی دستاویز کے مطابق وہ اب بھی بینفشل اونر ہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیس ثابت کرنے میں فیل ہوئے ہیں، نیب کے سارے کیس میں نواز شریف کا کہیں نام نہیں آ رہابیٹی کے نام پر ہونے کا مطلب لازم نہیں کہ وہ باپ کی ہی ملکیت ہو، سردار مظفر نے کہا کہ شریف فیملی نے خود بھی اپنے دفاع میں کوئی دستاویز پیش نہیں کی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ کیوں دستاویزات پیش کرتے، انکا تو کام ہی نہیں تھا، نیب نے ثابت کرنا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ انہیں تو خاموشی سے کھڑے رہنا چاہیے تھا بالکل کچھ بولنا ہی نہیں چاہیے تھا،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اگر روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہیں کہ پراپرٹیز ہماری ہیں پھر بھی پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر سزا دی گئی کیا اصل ٹرسٹ ڈیڈ موجود ہے؟ کیا نواز شریف، مریم نواز یا کیپٹن (ر) صفدر کبھی گرفتار ہوئے؟ نیب نے کہا کہ نہیں ،نواز شریف، مریم نواز یا کیپٹن (ر) صفدر میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوئے،