Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب

    نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب کر لیا،سپریم کورٹ نے جمعہ تک نیب ریفرنسز میں ہونے والے سزاوں کا ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ عوامی عہدے دار عوامی اعتماد کا حامل اور جوابدہ ہوتا ہے، توہین عدالت کا قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر قانون سازوں کی نااہلیت پر اڑایا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف بنایا گیا قانون پارلیمنٹیرینز کی نااہلیت پر اڑایا جاسکتا ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نااہلیت پر نہیں توہین عدالت قانون جانبدار ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ پارلیمنٹ کی قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے قانون کالعدم ہوا؟ عدالت نے بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی مسترد کی کبھی نہیں کہا کہ پارلیمان کی قابلیت نہیں،عدالت نے کبھی پارلیمان کی اہلیت یا قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہیں لکھا نہیں بلکہ سمجھ کی بات ہے،جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں بنیادی انسانی حقوق کا تعلق عوامی اعتماد سے جوڑا گیا،نیب کیس مختلف ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ اب بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دینا ہے یا نہیں عدالت دیکھے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • توہین عدالت کیس،عدالت کارروائی ختم کرے،عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

    توہین عدالت کیس،عدالت کارروائی ختم کرے،عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا،جواب میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت توہین عدالت کیس کی کارروائی ختم کرے، رپورٹس سے ثابت نہیں ہوتا کہ جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی،یہ بات بھی ثابت نہیں ہوتی کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بنتی ہے،قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی رپورٹس زیادہ تر مفروضوں پر مبنی ہیں، یہ رپورٹس توہین عدالت کی کارروائی کو برقرار رکھنے کی بنیاد فراہم نہیں کرتیں، عمران خان کی جانب سے 16 صفحات پر مشتمل جواب میں اخبارکے تراشے بھی شامل کئے گئے ہیں،جواب میں مزید کہا گیا کہ اسد عمر نے رابطہ پر زبانی ہدایات دی، اسد عمر کی زبانی ہدایات پر سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی، جانتے ہوئے عدالت کے حکم عدولی نہیں کی، یقین دہانی کراتا ہوں مجھے 25مئی کی شام عدالتی حکم سے آگاہ نہیں کیا گیا،احتجاج کے دوران جیمرز کی وجہ سے فون پر رابطہ نا ممکن تھا،ویڈیو پیغام سیاسی معلومات پرجاری کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں بابر اعوان کی مجھ سے ملاقات کرانے کا بھی کہا عدالتی حکم کے باوجود انتظامیہ نے بابراعوان کی مجھ سے ملاقات میں کوئی سہولت نہیں دی

    عمران خان نے جواب میں سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ 25 مئی کو ڈی چوک جانے کی کال حکومتی رویے کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے تھی میری یا تحریک انصاف کی جانب سے کسی وکیل کو سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس میں شامل ہونے کو نہیں کہا گیا مجھے اب بتایا گیا ہے کہ اسدعمر نے جی نائن گرؤانڈ کے حوالے سے ہدایات دیں عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرانے کے ساتھ توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا بھی کر دی

    رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی توہین عدالت کی کاروائی سے اپنا نام نکالنے کی استدعا کردی ڈاکٹر بابر اعوان نے توہین عدالت کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، جس میں کہا گیا کہ 25 مئی کو ایڈووکیٹ فیصل فرید نے مجھے عدالتی نوٹس کا بتایا بطور وکیل 40 سال عدلیہ کی معاونت میں گزارے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

     

  • لانگ مارچ کو کونسا ملک فنڈنگ کر رہا ؟ مولانا فضل الرحمان کا اہم انکشاف

    لانگ مارچ کو کونسا ملک فنڈنگ کر رہا ؟ مولانا فضل الرحمان کا اہم انکشاف

    لانگ مارچ کو وہ ملک فنڈنگ کر رہا جو محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان نہیں چاہتا،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ، جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے پیچھے چھپی سازش سے پردہ چاک کرنا ملکی مفاد کا تقاضا ہے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے طور پر تحقیقات کیں کہ لانگ مارچ کو ایک ملک فنڈنگ کر رہا ہے، سعودی ولی عہد کے دورہ کو سبوتاژ کرنے کے لے لانگ مارچ کا ڈرامہ رچایا گیا،سعودی ولی عہد کے دورے کی تاریخ نہیں طے ہونے تک لانگ مارچ کااعلان نہیں کر رہے تھے،عمران خان کو جیسے ہی پتہ چلا کہ دورہ نومبر میں ہوگا تو انہوں نے مارچ شروع کیا ایک ملک نہیں چاہتا تھا کہ محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کریں،اس لیے وہ ملک لانگ مارچ کی فنڈنگ کر رہا ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران نے 2014 میں بھی چینی صدر کے دورہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے دھرنا دیا تھا،عمران خان نے ہر وہ قدم اٹھایا جو ریاست پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے، عمران خان کا لانگ مارچ اب فرلانگ مارچ بن چکا ہے جیسے امریکا کا مستقبل نہیں رہا ایسے ہی عمران خان کا بھی کوئی سیاسی مستقبل نہیں ،مصلحت کی خاطر عمران خان کے خلاف فی الحال کارروائی کی ضرورت نہیں ہے،امریکی سازشی بیانیے اور سائفر سے پیچھے ہٹنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان حکومت کے خلاف لانگ مارچ کر رہے ہیں، لانگ مارچ کا لاہور سے آغاز ہوا تھا، وزیر آباد میں مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد لانگ مارچ ملتوی کیا گیا تھا ، بعد ازاں لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ہوا تو عمران خان زمان پارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہیں ، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا شعیب شیخ کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا شعیب شیخ کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ،ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شعیب شیخ و دیگر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    ایف آئی اے کی جانب سے شعیب شیخ سمیت دیگر کی سزا معطلی واپس لینے کی استدعا کی گئی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ دو سماعتوں پر نہیں آتے پھر وارنٹ نکلتے ہیں تو آتے ہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرمنل معاملہ ہے ،چار پانچ سال سے اپیل چل رہی ہے اور یہ چھپن چھپائی کر رہے ہیں ، ضمانت واپس لے لیتے ہیں ان کو جیل بھیج دیتے ہیں پھر 2031 کے لیے کیس مقرر کر دیتے ہیں ،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر آرڈر ہوا تھا کہ شعیب شیخ حاضر ہو ،شعیب شیخ کو عدالت حاضری سے استثنیٰ دے ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے پراسیکیوٹرسے سوال کیا کہ چار سال سے یہ اپیلیں کیوں زیر التوا ہیں ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ پانچ جولائی 2018 کو سزا ہوئی تو یہ کورٹ سے بھاگ گئے ،ان کی ضمانت خارج ہوئی تو کورٹ سے بھاگ گئے ، عدالت نے شعیب شیخ کے وکیل کو ہدایت کی کہ فیصلہ کر لیں کہ کس نے بحث کرنی ہے مریم نواز کیس میں بھی لکھا ہے کہ کیسز زیر التوا ہونا سسٹم پر دھبہ ہے ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے شعیب شیخ کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے بار بار بات کرنے کی کوشش پر عدالت نے اظہار برہمی کیا

    شعیب شیخ کی مستقل استثنیٰ کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دئیے گئے ، عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ،ایگز یکٹ ا سكینڈل 2018 سے زیر التوا تھا ،شعیب شیخ نے کیس سے بچنے کیلئے کثیر رقم خرچ کی شعیب شیخ نے بارہا مشکوک میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کرائیں اور سماعت میں التوا لیا

    واضح رہے کہ ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد چودھری ممتاز حسین نے شعیب شیخ اور دیگر کو 5 جولائی کو سزا سنائی تھی،اسلام ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ میں شعیب شیخ کے خلاف فیصلے کو 2018 کو معطل کیا تھا،ماتحت عدالت نے شعیب شیخ سمیت 23 ملزمان کو مجموعی طور پر 20,20 سال قید اور 13,13 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی گئی تھیں،

    خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے قانون سازی، خواجہ سرا کمیونٹی نے اجلاس بلا کر اہم فیصلے کر لئے

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گی

    شعیب شیخ اور دیگر ملزمان پر دفعہ 471 کے تحت 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ دفعہ 468 کے تحت 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جب کہ دفعہ 420 کے تحت 3 سال قید و 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گی ہے اور ملزمان پر دفعہ 419 کے تحت 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا.عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ تمام سزاؤں کا اطلاق ایک ساتھ ہو گا جب کہ ملزمان کو منی لانڈرنگ اور الیکٹرانک کرائم کے الزامات سے بری قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے 2015 میں ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کا انکشاف کیا تھا جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کا از خود نوٹس لے رکھا ہے۔

  • جنگل کے قانون میں خوشحالی نہیں آ سکتی،عمران خان

    جنگل کے قانون میں خوشحالی نہیں آ سکتی،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لانگ مارچ کے شرکاء سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرائے عالمگیر کے لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں، مارچ میں شرکت کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں،

    عمران خان کا کہنا تھاکہ ہمارے دور میں بینکوں سے قرض واپس کرنے کا رسک 5 فیصد تھا، موجودہ دور میں بینکوں سے قرض واپس کرنے کا رسک 64.5 فیصد ہو چکا ہے .دنیا سمجھ رہی ہے پاکستان اپنے قرض واپس نہیں کرسکے گا،غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ڈریں گے، 2 خاندانوں نے سارے قرضے 10 سال میں بڑھائے، روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے، چوروں کو مسلط کرنے والے بتائیں کہ اب کون ذمہ دار ہے؟ 7 ماہ میں مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےہمارے دور میں مہنگائی 16 فیصد اور آج دگنا ہوچکی ہے، ہمارے دور میں معیشت بڑھ رہی تھی اور ملک ترقی کر رہا تھا،اسحاق ڈار نے کہا موڈیز کو ٹھیک کروں گا اب غائب ہو گیا ہے، نواز شریف نے لندن کے مہنگے علاقے میں 4 فلیٹ خریدے، کہا تھا سازش کامیاب ہوئی تو ملک کو سنبھالا نہیں جا سکے گا،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے میرے خلاف مقدمات بنائے، جو قرض دے گا وہ ہم سے قیمت بھی وصول کرے گا، نواز شریف 23 بار سرکاری دوروں پر لندن گیا، مجھے بھی 2 بار لندن کے دوروں کی آفر ہوئی، میں نہیں گیا، برطانیہ بیٹھ کر ڈیل کرتے ہیں، گرین سگنل ملے تو واپس آجاتے ہیں، ہم نے کورونا کے دوران ملکی معیشت کو بچایا، دنیا نے ہماری کورونا کی پالیسی کو سراہا، ہمارے دور میں 32 ارب ڈالر کی تاریخی برآمدات ہوئیں، ہم نے اوور سیز پاکستانیوں کیلئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ شروع کیا، ہم نے راوی ریور سٹی منصوبہ لاہور میں شروع کیا،پیپلز پارٹی حکومت نے بنڈل آئی لینڈ منصوبہ شروع نہیں کرنے دیا، ہم ملک کے قرض واپس نہیں کر سکیں گے، لوگوں نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں دیکھی، جنگل کے قانون میں خوشحالی نہیں آ سکتی، چیف جسٹس پاکستان کے پاس 3 لینڈ مارک کیسز ہیں،ارشد شریف کو دھمکیاں دی گئیں، ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہوں، مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا، اب تک میری درخواست پر مقدمہ درج نہیں ہوا، سابق وزیراعظم ہوں چیف جسٹس صاحب یہ لمحہ فکریہ ہے، مقدمہ درج کرانا میرا بنیادی حق ہے، ہو سکتا ہے تحقیقات میں یہ نام غلط ثابت ہو جائیں،پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کرا سکا،

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے محنت اور نظریے سے اپنی جگہ بنائی، عمران خان نے دیگر جماعتوں کی سیاسی دکانداری بند کردی، ہمارا مطالبہ ہے انتخابات جلد کرائے جائیں،

    مارچ کی سیکورٹی کے بھر پور انتظامات کئے گئے ہیں لانگ مارچ انتظامیہ کو سکیورٹی ایس او پیز پر ہر صورت عملدر آمد کرنے کی درخواست کی گئی ہیں کنٹینر کے ارد گرد سکیورٹی کا خصوصی حصار بنایا جائے گا۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص یا گاڑی کو کنٹینر کے قریب نہیں آنے دیا جائے گا۔ لانگ مارچ کے روٹس کی عمارتوں پر کمانڈوز تعینات ہونگے۔ لانگ مارچ کی سی سی ٹی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق لانگ مارچ میں آنے والے شرکاء کے اسلحہ بردار پرائیویٹ گارڈز کا داخلہ ممنوع، ہوائی فائرنگ پر پابندی ہوگی۔سنٹرل پولیس آفس میں قائم کنٹرول روم سے بھی مانیٹرنگ کا عمل جاری رہے گا اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کو لانگ مارچ کے روٹس پر سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز روانہ کی بنیادوں پر کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں، شہریوں کے لیے ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے متبادل روٹس اور اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئرمین نیب کو بریفنگ کے لے طلب کر لیا گیا

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئرمین نیب کو بریفنگ کے لے طلب کر لیا گیا

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئرمین نیب کو بریفنگ کے لے طلب کر لیا گیا

    نور عالم کی زیر صدرات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا

    پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے کل چیئرمین نیب کو طلب کر لیا، کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سیکریٹری کمیٹی چیئرمین نیب کواجلاس میں شرکت کے لیے خط لکھیں،اربوں کھربوں کے کیسز پر چیئرمین نیب بریفنگ دیں، خیبرپختونخوا سمیت دیگر اہم کیسوں پر چیئرمین نیب بریفنگ دیں، میڈیا کے ذریعے بھی چیئرمین نیب کو بریفنگ کے لیے آگاہ کر رہے ہیں،کل دن ڈیڑھ بجے پبلک اکاونٹ کمیٹی میں چیئرمین آکر بریفنگ دیں، کل کمیٹی اجلاس کا پہلا ایجنڈا نیب کی بریفنگ ہو گا،قوم کا ایک پیسہ لگا ہو اس کا حساب دینا ہوتا ہے، ایک ہاوسنگ ا سکیم میں گیس کیوں فراہم نہیں کی گئی؟ لوگ تیس تیس سال سے گیس سے محروم ہیں، گیس کی فراہمی سے متعلق ذمہ داران کا تعین کر کے رپورٹ طلب کرلی گئی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    پی اے سی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے تزئین و آرائش کے کام پر سوالات اٹھا دیئے ،جب سے کمیٹی روم میں مواصلاتی نظام میں مسائل کا سامنا، کمیٹی نےنوٹس لے لیا کمیٹی نے مواصلاتی نظام کی خرابی کی تحقیق کر کے رپورٹ طلب کر لی ،کمیٹی نے وقت پر ڈی اے سی کا اجلاس نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر سیکریٹری کام نہیں کرے گا تو متعلقہ وزیر کو بھی طلب کیا جائے گا،

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ذیلی کمیٹی کی کنوینئر شپ سے معذرت کر لی پی اے سی نے نواب وسان کو ذیلی کمیٹی کا کنوینئر بنا دیا

  • وزیراعظم شہباز شریف کو کرونا ہو گیا

    وزیراعظم شہباز شریف کو کرونا ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کرونا کا شکار ہو گئے ہیں

    وفاقی وزیر اطلاعات، ن لیگ کی رہنما مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کورونا پازیٹو ہوگئے ہیں۔ دو روز سے طبیعت ناساز تھی۔ ڈاکٹر کے مشورے سے آج کرونا ٹیسٹ کروایا گیا عوام اور کارکنان سے وزیراعظم کی جلد صحت یابی کی دعا کی اپیل ہے۔

    شہباز شریف کو بھی پہلے بھی کرونا ہو چکا ہے، انہوں نے کرونا کی ویکسی نیشن بھی کروائی ہوئی ہے، تا ہم اب دوسری بار انہیں کرونا ہوا ہے، شہباز شریف ابھی کل لندن سے واپس پہنچے ہیں، لندن میں انکی نواز شریف، مریم نواز سے ملاقاتیں ہوئی تھیں، شہباز شریف کی طبیعت لندن میں ہی خراب ہو گئی تھی، طبیعت کی خرابی کی وجہ سے شہباز شریف نے ایک روز لیٹ سفر کیا تھا،

    دوسری جانب ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 4191 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ، مثبت شرح 0.76 فیصد رہی. نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ) کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 191 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 32 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔اس طرح اس مدت میں مثبت کورونا ٹیسٹ کی شرح 0.76 فیصد رہی ہے۔ مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 48 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    فردجرم عائد کرنی تھی توکرونا ہو گیا،عدالت نے شہباز شریف کو پھر طلب کر لیا

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

  • توہین الیکشن کمشنر کیس،عمران خان سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

    توہین الیکشن کمشنر کیس،عمران خان سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

    سپریم کورٹ نے توہین الیکشن کمیشن اور توہین الیکشن کمشنر کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماﺅں کو نوٹسز جاری کر دیئے

    توہین الیکشن کمیشن اور توہین الیکشن کمشنر کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،عدالت نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر عمران خان ،فوادچودھری اور اسدعمر کو نوٹسز جاری کر دیئے

    عدالت نے الیکشن کمیشن کی حکم امتناع کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مختلف ہائی کورٹس میں زیرالتوا کیسز کو کسی ایک ہائیکورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی الیکشن کمیشن کاموقف ہے کہ بلدیاتی اور عام انتخابات کی تیاری کریں یا کیسز لڑیں عدالت نے کیس کی سماعت 15 دن کیلئے ملتوی کر دی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن کو عمران خان کا جواب مقررہ وقت پر موصول نہیں ہوا تھا، الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اسد عمر کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف دو، دو اور اسد عمر کے خلاف ایک کیس ہے۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے جواب میں کہا تھا کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جواب میں کہا گیا تھا نوٹس نا قابل سماعت اور آئین سے متصادم ہے۔  تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

  • برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے،وزیر خارجہ

    برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے،وزیر خارجہ

    برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس خوشخبری کا اعلان چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا ہے انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک کی فہرست سے ہٹا دیا ہے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ایکشن پلانز پر جلد عمل کے نتیجے میں برطانیہ نے یہ اقدام کیا ہے برطانیہ نے یہ اقدام 21 اکتوبر کےفیٹف کے فیصلے کے نتیجےمیں کیا ہے۔


    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ منی لانڈرنگ، دہشتگردی کی فنانسنگ روکنےکی پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(فیٹف) نے 21 اکتوبر 2022 کو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا تھا فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے سے پاکستان کیلئے غیرملکی فنڈنگ کا حصول آسان ہو جائے گا۔

    اس وقت جاری فیٹف اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان فیٹف کی مانیٹرنگ میں رہے گا، پاکستان کو اینٹی منی لانڈرنگ اورٹیررفنانسنگ قانون پرمزید عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا اس ادارے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے اور یہ تنظیم اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کرتی ہے۔

    اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے پاکستان 2012 سے 2015 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کا حصہ رہ چکا ہے اور پھر سنہ 2018 میں اسے دوبارہ اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

    عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے-

  • نیب ترامیم سے ٹرائل اتنا مشکل بنا دیا گیا کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی: سپریم کورٹ

    نیب ترامیم سے ٹرائل اتنا مشکل بنا دیا گیا کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی: سپریم کورٹ

    اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا ہے کہ نیب ترامیم سے ٹرائل اتنا مشکل بنا دیا گیا کہ کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے نیب ترامیم کے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تمام نیب کیسز احتساب عدالتوں کو بھیجے تو کئی افراد تمام الزامات سے بری ہوئے، کرپٹ افراد کے بری ہونے سے عوام کے بنیادی حقوق براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ اسی پر چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ لگتا ہے آپ ہر ویک اینڈ کے بعد کیس میں ایک نیا نکتہ نکال لیتے ہیں۔

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے براہِ راست بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کیسے ہو رہی ہے؟ کیا بجٹ پیش ہونے پر ہر دوسرا شخص عدالت آ سکتا ہے کہ یہ غلط بنایا گیا؟ ایف بی آر کسی کو ٹیکس چھوٹ دے تو کیا یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آئے گا؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کا ایک بینچ مارک ہے جس سے نیچے لاقانونیت ہوتی ہے، اس بات پر ہم سب آمادہ ہیں کہ احتساب کا قانون ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کا انسداد کرپشن کنونشن بہت واضح ہے، کیا ہم اقوام متحدہ کنونشنز کو اپنے قوانین میں منتقل کر سکتے ہیں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا معذور افراد پر کنونشن آئین پاکستان کا حصہ نہیں ہے، کیا عدالت پارلیمنٹ کو عالمی کنونشنز پر قانون سازی کا حکم دینا شروع کر دے؟ اس طرح تو عالمی کنونشن ہی آئین پاکستان کہلانے لگیں گے، عدالت ایگزیکٹیو کے بنائے قوانین میں تب مداخلت کر سکتی ہے جب وہ آئین سے متصادم ہوں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عوامی پیسے پر کرپشن ہونے سے عوام کے ہی حقوق متاثر ہوں گے، وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ ایف آئی اے کے کئی کیسز بغیر کسی قانونی طریقہ کار نیب کو منتقل ہو گئے۔ قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہی ہونا ہوتا ہے، دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جو کرپشن کا حامی ہو، مجھے پرانے نیب قانون میں ترامیم کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ملی، قانون کا معیار مقرر کرنا عدالت کا کام ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک اضافی بھینس رکھنے پر بھی احتساب ہوتا تھا، جس ملک میں کرپشن ہوگی اس کا بیڑہ غرق ہوگا، کرپشن کو اتنا دردناک جرم بنانا چاہیے کوئی اسے کرنے کی ہمت نہ کرے، ہو سکتا ہے یہی ثابت ہو نیب ترامیم بدنیتی اور مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ عدالت قانونی معیار مقرر کرتی ہے، قانونی معیار عدالت نہیں آئین طے کرتا ہے، اگر کرپشن پر قوانین موجود ہی نہ ہوں تو عدالت کہہ سکتی ہے کہ بنائیں، آخر میں قانون پارلیمنٹ نے ہی بنانا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نیب ترامیم کالعدم ہونے سے پرانا قانون ازخود نافذ ہو جائے؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ موجودہ نیب ترامیم سے کرپٹ ملزمان بری ہو کر مزے سے گھروں میں بیٹھے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہاں تو لوگ آئین کو سبوتاژ کر کے بھی گھروں میں بیٹھے ہیں، کیا نیب ترامیم سے کوئی ثابت شدہ کرپٹ مجرم بری ہوا ہے؟

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ نیب ترامیم سے اب پیسے معاف کر کے کرپشن چارجز ختم کیے جا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ جب ٹرائل کے بعد ثابت ہوا ہی نہیں کہ ایک شخص کرپٹ ہے یا نہیں توبنیادی حقوق کیسے متاثر ہوگئے؟ جسٹس اعجازالاحسن نیب ترامیم کے بعد ٹرائل اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ کرپشن ثابت ہو ہی نہیں سکتی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے عمران خان کے وکیل کو 17 نومبر تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس