Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارتی بحریہ لاوارث کشتی سے خوفزدہ، سائرن بج گئے

    بھارتی بحریہ لاوارث کشتی سے خوفزدہ، سائرن بج گئے

    بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ممبئی کے قریب رائے گڑھ کوسٹل ایریا کی حدود میں ایک لاوارث کشتی کی موجودگی سے بھارتی بحریہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اورمتوقع دہشت گردی سے بچاو کے لئے ہنگامی سائرن بجنے شروع ہوگئے۔ کشتی میں تین اے کے 47 رائفلز اور گولیوں کی بڑی مقدار بھی موجود تھی جس کی وجہ سے ممبئی میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا اور انسداد دہشت گردی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا۔

    ابتدائی طور پر بھارتی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بوکھلاہٹ میں کشتی پاکستانی سمندری حدود کی طرف سے بھارتی سمندری حدود میں آنے کے امکانات ظاہر کئے تاہم بعد میں بھارتی حکام نے اس امکان پر زیادہ زور نہیں دیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے بعد مہاراشٹر کے نائب وزیراعلی دیوندرا فرنانڈس نےبتایا کہ16 میٹر لمبی یہ لاوارث کشتی ایک آسٹریلین خاتون کی ملکیت ہے جس کا شوہر نیوی کپتان ہے۔ یہ کشتی دبئی کی ایک سیکیورٹی ایجنسی میں رجسٹرڈ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ابھی تک اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ کشتی دہشت گردی کرنے کے لئے استعمال کی جانی تھی تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشتی میں سوار میاں بیوی اور دو دیگر مسافر جون میں مسقط سے یورپ جارہے تھے کہ راستے میں خراب موسم کے باعث انہوں نے کشتی کو وہیں بے یارومددگار چھوڑ دیاجب کہ چاروں افراد کو اومان کے بحری حکام نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔جس کے بعد یہ لاوارث کشتی سمندری لہروں میں بہتی ہوئی ممبئی سے دوسو کلومیٹر دور رائے گڑھ کے ساحل پر پہنچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کہ کشتی میں جدید اسلحہ کہاں سے آیااس کی تحقیقات جاری ہیں۔ 

  • امریکی کمانڈرسینٹ کام کاجی ایچ کیوکادورہ،آرمی چیف سےملاقات،سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگرامورپرتبادلہ خیال

    امریکی کمانڈرسینٹ کام کاجی ایچ کیوکادورہ،آرمی چیف سےملاقات،سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگرامورپرتبادلہ خیال

    راولپنڈی:امریکی کمانڈر سینٹ کام کا جی ایچ کیو کا دورہ، آرمی چیف سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے وفد نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک امریکا عسکری حکام کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں پاک فوج کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں اورعلاقائی امن واستحکام کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق مذاکرات میں پاکستان امریکا فوجی تربیتی تبادلہ پروگرام بھی زیر بحث آیا۔

    ترجمان کے مطابق سربراہ امریکی سنٹرل کمانڈ نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا جبکہ انسداد دہشتگردی کے تجربات اور علاقائی امن و استحکام کیلئے کاوشوں کا بھی اعتراف کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور سربراہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں علاقائی سلامتی صورتحال اور دفاعی وسیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان کے مطابق بعد ازاں معزز مہمان نے آرمی میوزیم کا بھی دورہ کیا اور مختلف تاریخی دیواروں میں گہری دلچسپی لی۔

  • ایف آئی اے کو عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیئے،مریم اورنگزیب

    ایف آئی اے کو عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیئے،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیرا اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان جھوٹ بولنےسےبازنہیں آرہے،عمران خان قوم کوگمراہ کررہاہے،عمران خان کاکام فتنہ پھیلانااورالزام تراشی کرناہے،عمران خان کہتےہیں مجھےآزادمیڈیاسےخوف نہیں،جب میڈیا کی آزادی کا قتل کیا جا رہا تھا اس وقت عمران خان کہاں تھے؟عمران خان کےدورمیں صحافیوں پرحملےہوئے،پابندیاں لگیں،جب راناثنااللہ پر20کلوہیروئین کاکیس ڈال کرگرفتارکیااس وقت آپ وزیراعظم تھے.

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب کلثوم نواز انتقال کرگئیں تو عمران خان نےنمازجنازہ میں رکاوٹیں ڈالیں،کلثوم نواز لندن کے اسپتال میں داخل تھیں تو کہا گیا وہ ہوٹل میں ہیں، عمران خان نےطیبہ گل کی ویڈیوز چیئرمین نیب کو دکھا کر انہیں بلیک میل کیا، جب توشہ خانہ لوٹا جا رہا تھا اس وقت وزیراعظم عمران خان تھے،اگرشہبازشریف یاسلیمان شہبازنےچوری کی توآپ اپنےدورمیں ثابت کرتے،جب ہیرےلوٹےجارہےتھےتواس وقت وزیراعظم آپ تھے.

    انہوں نے کہا کہ یہ جوآج پمزاسپتال میں لیٹاہواہے، یہ مکافات عمل ہے،وقت بدلنےمیں دیرنہیں لگتی،جنہوں نےبھارت ،اسرائیل اورامریکاسےپیسہ لیاوہ ملک کوآزادی دلائےگا؟میڈیاسمیت پوراملک آزادہوچکاہےاب آپ کےاندرجانےکاوقت ہے،پنجاب کو4سال تک لوٹاگیا،ایف سی اوررینجرز والےاڈیالہ گئے تو طبیعت صاف ہو گئی.

    انہوں نے مزید کہا کہ توشہ خان اور فارن فنڈنگ میں ان کا کوئی بندہ پیش نہیں ہورہا ہے، بہتری اسی میں ہے ریکارڈ دے دیں ورنہ ریکارڈ لینا آتا ہے، اگر خان صاحب پیش نہیں ہوئے تو سن لیں، وزیرداخلہ راناثناء اللہ ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بہت بڑا اکاؤنٹ پکڑا گیا ہے کل پریس کانفرنس میں بتاؤں گی، جو ایف آئی اے میں پیش نہیں ہوتا اس کو گرفتار کرناچاہیے۔

  • شہبازگل  پر بالکل تشدد نہیں ہوا. آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    شہبازگل پر بالکل تشدد نہیں ہوا. آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    کیا دوران حراست شہباز گل پر تشدد کیا گیا، آئی جی سے عدالت کا استفساراس پر انہوں نے جواب دیا سابق معاون خصوصی شہبازگل پر بالکل تشدد نہیں ہوا ہے آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    آئی جی صاحب، شہباز گل کو ٹارچر کیا گیا ہے؟ جسٹس عامر فاروق کا استفسار آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا ہے،

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد، ایس ایس پی انوسٹی گیشن اورایس ایچ او تھانہ کوہسار کو بھی طلب کیا تھا ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کے لیے نوٹسز جاری کر دیے تھے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر آج بروز جمعرات 18 اگست کو سماعت کی۔ اس موقع پر شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمہ میں شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر کو متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ آج ہی دن تین بجے طلب کر لیا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فزیکل ریمانڈ آرڈر چیلنج کیا ہے ؟ جس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے قانون کے اندر دی گئی ہدایات کو فالو نہیں کیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو نوٹس جاری کرکے تین بجے تک جواب طلب کر لیا، جب کہ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کیلئے طلب کرلیا گیا ہے۔
    یاد رہے کہ شہباز گل نے سیشن کورٹ کے 48 گھنٹے کا جسمانی ریمانڈ دینے کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جیل سپرٹنڈنٹ، آئی جی اسلام اور میڈیکل افسر کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، شہباز گل کی میڈیکل رپورٹ بھی ابھی تک جمع نہیں کرائی گئی، اس سے لگتا وہ ٹھیک نہیں ہیں لیکن ان کی صحت مند کی رپوٹ بنانے کا دباؤ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ شہباز گل پر تشدد ہوا ہے یہ سب کو معلوم ہے، ہمیں ملنے بھی نہیں دیا جا رہا۔

    دوسری جانب شہباز گل کو مزید ٹیسٹوں کے لیے امراض قلب کے شعبے سے دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ میڈیکل بورڈ میں بھی دو ڈاکٹرز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کو پمز میں امراض قلب کے شعبے سے ٹیسٹوں کےلیے دوسرے وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں ان کے سی ٹی سکین کے بعد انہیں واپس کارڈیولوجی وارڈ شفٹ کر دیا گیا۔۔شہباز گل کے گزشتہ رات ہونے والے ٹیسٹ آج دوبار ہ کیے جا رہے ہیں۔
    شہباز گل کے لیے بنائے گئے میڈیکل بورڈ میں مزید دو ڈاکٹرز کو شامل کر لیا گیا۔میڈیکل بورڈ نیورو آرتھو سرجری ،کارڈیالوجی، پمونالوجی سمیت 6 ڈاکٹر ز پر مشتمل ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول میڈیکل رپورٹ کے مطابق چار سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے شہبازگل کا طبی معائنہ کیاجس میں کہا گیا ہےکہ شہباز گل کو بچپن سے سانس کا مسئلہ ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ برونکڈیلٹر استعمال کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ شہبازگل کو سانس لینے میں مسئلہ ہے اور وہ جسم میں درد محسوس کررہے ہیں، وہ کندھے،گردن اورچھاتی کے بائیں جانب درد محسوس کررہے ہیں، ان کا فوری ای سی جی کیا گیا تھا۔

    میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ شہبازگل کا ایکسرے، یورک، خون اور دل کا ٹیسٹ کرنا ضروری ہے، ان کاکارڈیالوجسٹ اور پلمانولوجسٹ کی جانب سے طبی معائنہ درکارہے جب کہ شہبازگل کے مزید طبی معائنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ رات اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے عدالتی حکم پر پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا تھا جس کے بعد طبیعت ناساز ہونے پر انہیں پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔

    قبل ازیں بغاوت پر اکسانے کے کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما شہباز گل کو پمز اسپتال کے کارڈیک سینٹر میں داخل کرلیا گیا، جہاں ان کے طبی معائنے کیلئے 3 رکنی میڈیکل بورڈ قائم کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر شجیع صدیقی 3رکنی میڈیکل میڈیکل بورڈ کے سربراہ تھے، جب کہ نیورو سرجن ڈاکٹر لال رحمان اور آرتھوپیڈیک سرجن ڈاکٹر رضوان بھی بورڈ کے اراکین میں شامل تھے۔ بورڈ کی جانب سے شہباز گل کا طبی معائنہ کیا گیا۔

    اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شہباز گل کو دمہ کی بیماری کی بنیاد پر پمز اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں شہباز گل کا سانس کی تکلیف کا ابتدائی علاج شروع کیا گیا، پمز میڈیکل بورڈ کی ہدایت پر آج صبح 18 اگست بروز جمعرات پلمونالوجی کی ٹیم ان کا طبی معائنہ کرے گی، پلمونالوجسٹ ڈاکٹر ضیاء طبی معائنہ اور علاج تجویز کریں گے۔ شہباز گل نے ڈاکٹروں کو کمر اور جسم میں درد کی شکایت کی تھی۔

    پمز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کے سینے اور کمر کے ایکسریز کروائے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کہ شہباز گل کے سینے کے ایکسریز رات کو ہوئے، تاہم کمر کے ایکسریز دن کے وقت کرائے جائیں گے۔ پمز کے کارڈلوجسٹ ڈاکٹر شفیق نے بھی طبی معائنہ مکمل کرکے رپورٹ میڈیکل بورڈ کو دیدی ہے۔ ابتدائی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں شہباز گل کو صحت مند قرار دیا گیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے ملزم شہباز گل کو اچھی جسمانی صحت کے ساتھ جیل حکام کے حوالے کیا تھا، تجس کی گزشتہ روز وزیر داخلہ پنجاب نے بھی تصدیق کی تھی کہ وہ صحت مند ہیں، تاہم بعد ازاں انہیں 1122 کی ایمبولینس میں پمز لایا گیا۔

    شہباز گل کو اسپتال میں رکھا جائے یا پولیس کے حوالے کیا جائے، اس سلسلے میں میڈیکل بورڈ اور پولیس افسران نے میٹنگ بھی کی۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کے تمام ٹیسٹ رپورٹس موصول ہونے کے بعد اگلا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ جس کے بعد میڈیکل بورڈ پولیس افسران کو آگاہ کرے گا۔ پمز کے ڈاکٹروں نے ڈاکٹر شہباز گل کے ضروری بلڈ ٹیسٹ بھی تجویز کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ کی نظرثانی اپیل پر 17 اگست بروز بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے مزید 48 گھنٹے کیلئے انہیں پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

    جج زیبا چوہدری نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ میں نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تفصیلی جائزہ لیا ہے، پولیس کی نامکمل تفتیش کی دلیل سے متفق ہوں، جس پر عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کو مزید 48 گھنٹے کیلئے پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
    دوسری جانب تحریک انصاف نے شہباز گل کو تفتیش سے بچانے کیلئے ہرحربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ قانون کی پاسداری کرنے والے وزیراعلیٰ پنجاب بھی صورتحال میں بے بس دکھائے دے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل کو اپنے شو میں رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا۔ مذکورہ گفتگو میں ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت، فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے۔

    انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا اسٹریٹجک میڈیا سیل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیف آف اسٹاف اور جارحانہ رہنما شہباز گل کو رواں ماہ 9 اگست کو بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا تھا ، جب وہ سفید رنگ کی گاڑی میں ڈرائیور کے ہمراہ دفتر سے روانہ ہو رہے تھے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کرکے تھانہ بنی گالہ منتقل کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر بغاوت پر اکسانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔

  • لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کررہے. مفتاح اسماعیل

    لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کررہے. مفتاح اسماعیل

    وفاقی حکومت نے لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ تاجروں پر لگایا گیا فکس سیلز ٹیکس بھی واپس لے لیا۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی تقاضے پورے کرنے کے لیے امپورٹ سے پابندی ہٹانا ضروری ہے اور آئی ایم ایف بھی چاہتا ہے کہ ہم امپورٹ پر جلدی پابندی ہٹا لیں، ہم نے امپورٹ پر پابندی عائد کی تھی لیکن اب امپورٹ بھی ہمارے کنٹرول میں ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی جتنی کنڈیشنز تھیں ہم نے پوری کر دی ہیں جبکہ چین اور دیگر دوست ممالک نے بہت تعاون کیا۔
    وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگی گاڑیوں کی درآمد پر بھاری ڈیوٹی لگا رہے ہیں اور بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹیز لگائیں گے، پہلے آٹے چینی دال کو ترجیح دیں گے جبکہ بہت ساری اشیاء پر ٹیکس موخر کر دیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اگست میں برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اگست میں درآمدات میں 19 فیصد تک کمی آئی ہے۔ اگست میں تجارتی خسارے میں 30 فیصد کمی ہوئی جب کہ روپے پردباؤ میں کمی آرہی ہے۔ بینکنگ سسٹم میں بھی 650 ملین ڈالر زیادہ آئے ہیں۔

    آئی ایم ایف سے متعلق مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) کی تمام پیشگی شرائط پوری کردی ہیں اورہماری معاشی پالیسیوں کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 29 اگست کوطلب کرلیا ہے۔
    وزیرخزانہ نے بتایا کہ 4 ارب ڈالر کا فنڈنگ گیپ تھا اور آئی ایم ایف چاہتا تھا کہ 4 ارب ڈالر آجائیں،3 دوست ممالک سے4 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل ہوئی ہےاور چین بھی 2 ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کردے گا۔

    تجارت سے متعلق مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 2 ماہ سے درآمدات کنٹرول میں ہیں، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم درآمدات پر سے پابندی ہٹادیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرچکا ہے اور خوردنی تیل، گھی سمیت دیگر اجناس بھی ہم درآمد کرتے ہیں۔ پاکستان کی اولین ترجیح 23 کروڑ لوگوں کو روٹی دینا ہے۔
    وزیرخزانہ نے بتایا کہ ہماری چوائس ہے کہ ہم گاڑیاں اور موبائل درآمد کریں یا خوراک،اس لئے ہم تمام چیزوں کی درآمد پر پابندی ہٹا رہے ہیں تاہم درآمد پر 3 گنا یا 400 سے 600 فیصد تک ڈیوٹی لگائیں گے۔

    انھوں نے مزید واضح کیا کہ مرسڈیزسمیت بڑی گاڑیوں پرزیادہ ڈیوٹی لگائیں گے اور کسٹمزڈیوٹی،ریگولیٹری ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس عائد کریں گے۔
    انھوں نے کہا کہ مکمل تیار اور درآمدی گاڑیوں،موبائل فونز پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی جب کہ پرس، جوتوں سمیت دیگرلگژری اشیاء کی درآمد پر بھی اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
    بجلی کے نرخ سے متعلق مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجلی کے نرخوں کے مسائل بھی حل کرلیئے ہیں،153 ارب روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس پر قائم ہیں اور بجلی پر نان فنڈیڈ سبسڈی نہیں دی جائے گی۔

    ٹیکس سے متعلق انھوں نے یہ بھی کہا کہ تاجروں پرفکسڈ ٹیکس واپس لے لیا ہے اور 42 ارب روپے کے بجائے اب 27 ارب روپے کا ہدف ہے،آرڈیننس کے زریعے ٹیکس کا بتادیا جائے گا اور اس کی جگہ ٹیکس میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
    تمباکو پر ٹیکس کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 15 ارب روپے کا گیپ پورا کرنے کیلئے تمباکو اور سگریٹ پر 36 ارب روپے ٹیکس لگا رہے ہیں، تمباکو پر ٹیکس 10 روپے سے بڑھا کر 380 روپے فی کلو کررہے ہیں۔

    اس کےعلاوہ ٹیئرون کے 1000 سگریٹس پر ٹیکس 5900 روپے سے بڑھا کر6500 روپے کررہےہیں۔
    ٹیئرٹو کے 1000 سگریٹس پر ٹیکس 1850 روپے سے بڑھا کر 2050 روپے کر رہے ہیں۔

  • عمران خان کس منہ سے میڈیا سیمینار کروا رہا؟ مریم اورنگزیب

    عمران خان کس منہ سے میڈیا سیمینار کروا رہا؟ مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں کی پسلیاں توڑیں، انہیں اغوا کیا، میڈیا کی آزادی کو کچلا، اور پارلیمان کو تالے لگوائے ہیں.

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے میڈیا کا معاشی قتل کیا اور عمران خان نے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ کر میڈیا دشمنی کی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا دور میڈیا کے لیے سیاہ دور تھا جبکہ عمران خان کرپٹ، غیر ملکی ایجنٹ، میڈیا دشمن اور دہرہ معیار رکھتے ہیں۔ میڈیا فیصلہ کرے کہ ان کے خلاف نیب کو استعمال کرنے والے کے سیمینار میں جانا ہے یا نہیں۔
    مریم اورنگزیب نے کہا کہ میڈیا کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ اُن کی آزادی اور نوکری چھیننے والے کے سیمینار کے تماشے کو ماننا ہے کہ نہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا واچ نے عمران خان کو فاشسٹ قرار دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے صحافیوں کی پسلیاں توڑیں اور انہیں اغوا کیا۔ میڈیا کی آزادی کو کچلا، پارلیمان کو تالے لگوائے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ چار پانچ دن سے ایک شو لگا ہوا ہے۔ کیا یہ صرف ایک شخص پر تشدد ہوا وہ ایشو ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ اگر کسی پر تشدد ہوا ہے تو حمایت نہیں کرسکتے، مگر بات کچھ اور ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ عمران خان شہباز گل کی طرف بار بار کیوں دیکھتے ہیں؟ اس طوطے میں نہ صرف عمران خان بلکہ کچھ اور لوگوں کی بھی جان ہے۔ اب جو رونا دھونا ہوا وہ طوطے کےلیے نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ثابت ہوا کہ بھارت اور اسرائیل کی فنڈنگ ہوئی۔ بات یہاں تک نہیں رہی طوطے نے بہت کچھ بتایا ہے۔ سہولت کار اس کو تحفظ دے رہے تاکہ ڈوریں ہلانے والے کا نام نہ لے لیں۔ اصل وجہ طوطے کی زبان بند رکھنا ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ چار سال وزیر اعظم ہاؤس اور بنی گالہ میں اخلاقیات سے لیکر پیسہ بنانے اور قومی راز اگلنے تک اس طوطے کو سب پتا ہے۔ اس طوطے کی زبان بندی عمران خان کی مجبوری ہے، وعدہ معاف گواہ بنانے کا تو سوال نہیں۔ طوطے سے یہ باتیں اگلوانی چاہییں کہ چار سال میں وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالہ تک عوام کے متعلق کیا منصوبہ بندی ہوئی۔

    انہوں نے کہا ہے کہ رات قومی ادارے انوالومنٹ نہ کرتے تو پنجاب اور وفاق کے ادارے ٹکراتے۔ کس حیثیت میں پنجاب انتظامیہ کو حکم دیتے ہو؟ آپ اخلاقی قدروں سے بالکل نا آشنا ہو، آپ مدینہ کی ریاست کی بات کرتے تھے، آپ نے بھارتی ریاست کے مسلمانوں سے بھی زیادہ برا حشر کیا۔
    ان کا کہنا ہے کہ فواد چودھری نے یہ بات نہیں کہی تھی کی بند کمروں میں فیصلے جج اور جنرل کرتے ہیں۔ اگر ان باتوں کا نوٹس نہ لیا گیا، بات تو پھر بڑی ہے، جو طوطے کو کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فوج کے خلاف پی ٹی آئی قیادت کی مرضی کے بغیر سٹیج سے نعرے کیسے لگ گئے؟ اب سابق آفیسر سے مدد مانگنا اور باسٹھ لاکھ ماہانہ ادا کرنا کہاں سے آتا ہے؟ اپنی لابنگ کیلئے پیسہ لگانا چندے سے تو نہیں آتا ہے اس کے پیچھے تو کوئی ہوگا۔

    انہوں نے کہا ہے کہ میرے لواحقین نے ہائی کورٹ میں درخواست دی ہمارا بیٹا کدھر ہے کوئی معلوم نہیں۔ جب میں چھ بائے چار کے کمرے میں بند تھا اس میں ہزار واٹ کے چالیس بلب لگے تھے۔میں تو باہر آکر نہیں رویا۔
    ان کا کہنا ہے کہ اگر میرا چودہ دن کا ریمانڈ ہوسکتا ہے اس کا بارہ دن تو کرلیں،میں تشدد کی حمایت نہیں کرسکتا کیونکہ میں خود متاثرہ ہوں۔ ہمیں چھوڑ دیں، ہم کیسے پکڑے جاتے تھے، کیسے سزائیں ہوتی تھی، کوئی سروکار نہیں طوطے سے پوچھا جائے اس کے پیچھے کون ہے، اسکا نام پبلک ہونا چاہیے، تاکہ یہ سازش رک جائے، پاکستانی قوم مزید تقسیم نہ کی جائے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دور میڈیا کے حوالے سے کافی متنازع رہا تھا۔ کبھی سوشل میڈیا پر نا پسندیدہ صحافیوں کی فہرستیں سامنے آئیں تھی، تو کبھی صحافیوں کے خلاف آن لائن ٹرولنگ کے الزامات لگے تھے آزادی اظہار رائے پر پابندی کی کوششوں سمیت تحریک انصاف دور میں ایسے قوانین متعارف کروانے کی بھی کوشش کی گئی جن پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر صحافتی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا اور اس کے علاوہ عمران خان کے دور میں سینئر صحافیوں کے انٹرویو بھی آف ائیر کیئے گئے تھے.

  • الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن قومی اسمبلی ہیں

    الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن قومی اسمبلی ہیں

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن اسمبلی ہیں۔

    الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ سے حاصل کئے گئے تحائف ظاہرنہ کرنے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی نااہلی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔
    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن استعفے منظور نہیں کررہا۔ دکھا دیں اگر سابق ڈپٹی اسپیکر نے کوئی استعفیٰ بھیجا ہو۔ الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن اسمبلی ہیں۔

    بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ عمران خان رکن اسمبلی نہیں ہیں اس لئے انہیں نوٹس جاری نہیں ہوسکتا۔کوئی رکن اسمبلی استعفے کا اعلان کرکے ایوان میں نہ جائے تو استعفیٰ منظور تصور ہوتا ہے۔اسپیکر کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس 24 اگست کو مقرر ہے۔
    چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر گوہر خان سے کہا کہ کمیشن میں قانونی بات کریں باقی گفتگو ٹی وی پر کیا کریں۔ استعفیٰ منظورکرنے کے حوالے سے بیانات بھی نہ دیا کریں۔

    الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے قائدین کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ یہ ریفرنس رواں ماہ الیکشن کمیشن پہنچا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسے آج سماعت کے لیے مختص کیا تھا۔

    توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں تحائف خریدنے کے بعد انھیں بیچ دیا تھا۔
    یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اور انھیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم بعض حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اخلاقی طور پر تحفہ بیچنا غلط ہے۔ البتہ عمران خان اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’میرا تحفہ، میری مرضی۔

    ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا ہے کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور ڈیپینڈینٹس کے تمام تر اثاثے، چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کراتے۔
    دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ عمران خان نے ‘جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے ‘قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔‘

    دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 باکسز تحائف کی صورت میں ملے جن میں مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعدازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔
    ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد قیمت کے تحفوں کی قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے وہ گفٹس لیے گئے۔

  • واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    افغانستان سے براستہ پاکستان بھارت جانے والے ایک کارگو ٹرک میں مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی اطلاع نے بھارتی سرحد پر تعینات سیکیورٹی حکام کی دوڑیں لگوادیں۔

    تفصیلات کے مطابق افغانستان سے ڈرائی فروٹ لے کر ٹرک واہگہ کے راستے بھارتی سرحد کے اندر اٹاری چیک پوسٹ پہنچا تو ٹرک کی چیکنگ کے دوران ڈیٹکٹر نے دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کا الارم بجانا شروع کر دیا جس کے بعد اٹاری چیک پوسٹ پر ایمرجنسی نافذ کر کے وہاں کا کنٹرول انسداد دہشت گردی کے حکام نے سنبھال لیا اور ٹرک کی تلاشی شروع کردی۔

    اس دوران ٹرک کی باڈی کے اندر لوہے کا نو سو گرام وزنی ایک ڈبہ برآمد کیا گیا جسے کھولا گیا تو اس کے اندر تین سو گرام پاوڈر نما چیز نکلی جس کا تجزیہ کرنے کے بعد حکام نے بتایا کہ اس میں دھماکہ خیز مواد نہیں جس کے بعد انٹی نارکوٹکس حکام کو طلب کیا گیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ مواد منشیات کی کوئی بھی قسم نہیں۔

    مذکورہ پراسرار مواد کو تجزیہ کے لئے لیبارٹری میں بھجوادیا گیا ہے۔ پولیس اور کسٹم حکام نے چیک پوسٹ پر موجود تمام ٹرکوں اور سامان کی دوبارہ تلاشی لینے کے احکامات دئے۔ یہ تلاشی رات گئے تک جاری تھی۔ اٹاری حکام نے افغان ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لے کر اس سے تفتیش شروع کردی ہے۔ 

  • عمران خان ملک میں قانون شکنی کو فروغ دینے لگے

    عمران خان ملک میں قانون شکنی کو فروغ دینے لگے

    پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے جھوٹوں اور یو ٹرن کے بعد اب ان کے اندر چھپی قانون شکنی بھی باہر آنے لگی.

    سابق وزیراعظم نے جب سے اقتدار کھویا ہے تب سے کبھی وہ عوام کو آپس میں لڑانے کی باتیں کرتے ہین تو کبھی ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی. عمران خان اپنے جھوٹوں اور یوٹرز کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں،مگر ریاستی ادارے کے خلاف زبان درازی کے مقدمہ میں گرفتار شہباز گل کو بچانے کیلئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے قانون شکنی کا” رحجان "بھی متعارف کرا دیا ہے.

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے عزائم شہباز گل کی گرفتاری اور دو دن مذید ریمانڈ دینے پر سامنے آئے،عمران خان نے اپنے چیف آف سٹاف شہبازگل کو جسمانی ریمانڈ پر دینے سے روکنے کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس جیل خانہ جات کو احکامات جاری کردیے۔عمران خان نے حکم دیا کہ ایمرجنسی پیدا کرکے شہباز گل کو فوری راولپنڈی کے کسی سرکاری ہسپتال بھیج دیں۔

    عمران خان کو بتایا گیا کہ یہ غیرقانونی ہے اور ایسا نہیں کیا جاسکتا جس پر عمران خان نے اصرار کیا کہ نتائج کچھ بھی ہو ایسا ہی کیا جائے۔مگر عمران خان تو پہلے ہی آئین شکنی کے مرتکب ہو چکے ہیں جب ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لایا جارہا تھا تو ان کے ڈپٹی سپیکر نے آئین کے خلاف رولنگ دی اور عمران خان وزیراعظم ہاوسں خالی نہیں کر رہے تھے، تو بھلا موصوف قانون کا احترام کیسے کریں گے.؟

    عمران خان اپنی غلط بات پر ہی مصر ہیں کہ جو میں کہتا ہوں ویسا ہی کیا جائے ،چاہے وہ قانون کے خلاف ہی کیوں نا ہو، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا قانون شکن رویہ ملک کیلئے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے.

  • شہباز گل اسلام آباد پولیس کے حوالے،پمز ہسپتال منتقل،میڈیکل بورڈ تشکیل

    شہباز گل اسلام آباد پولیس کے حوالے،پمز ہسپتال منتقل،میڈیکل بورڈ تشکیل

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.شہباز گل کے میڈیکل کے لئے بورڈ تشکیل دے دیا گیا،میڈیکل بورڈ میں 5 پروفیسر ڈاکٹرز شامل ہیں، پانچ شعبات سے پروفیسرز شہباز گل کا میڈیکل کریں گے،بورڈ میں پروفیسر آف سرجری ،پروفیسر آف میڈیسن،پروفیسر آف کارڈیک ،نیورو میڈیسن اور ارتھوپولک پروفیسرز شامل ہیں،،جو شہباز گل کا معائینہ کرے گی،ڈاکٹرز پمزاسپتال کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو پہلے سے سانس کی تکلیف ہے.

    پی ٹی آئی کے کارکن اور رہنما بھی پمز ہسپتال پہنچ گئے ہیں جہاں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماوں کی جانب سے حکومت کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں.

    اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کوہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر پنجاب پولیس اور وفاقی پولیس میں ٹھن گئی تھی .تاہم پنجاب پولیس کی جانب سے رینجرز اور ایف سی کے اڈیالہ جیل پہنچنے کی اطلاعات پر شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا تھا .شہباز گل کو ایمبولینس کے ذریعے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.

    اس سے پہلے وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرانے کیلئے ایف سی اوررینجرز کو طلب کیا گیا تھا.پنجاب پولیس کی مزید نفری کو سینڑل جیل اڈیالہ راولپنڈی پہنچایا گیا تھا،سنٹرل جیل اڈیالہ کے گیٹ نمبر پانچ کا داخلی راستہ بھی بند کر دیا گیا تھا،قبل ازین ڈی ایچ کیو ہسپتال میں سیکورٹی سخت کر دی گئی تھی.ہسپتال میں موجود مریضوں اور انکے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کو تیار نہیں تھی، تحریک انصاف امن و امان خراب کرنے کی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا، اسلام آباد پولیس شہباز گل کو لینے اڈیالہ جیل پہنچی مگر پنجاب پولیس نے حوالے نہیں کیا جبکہ پمز اسپتال کی میڈیکل ٹیم بھی جیل کے باہر موجود تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کا آئی جی جیل خانہ جات، ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور سیکریٹری ہیلتھ پر شدید دباؤ تھا، عمران خان نے شہباز گل کی جعلی میڈیکل ایمرجنسی اور راولپنڈی کے اسپتال میں منتقلی کے لیے دباؤ ڈالا۔سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے چیف آف اسٹاف شہبازگل کو جسمانی ریمانڈ پر دینے سے روکنے کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس جیل خانہ جات کو احکامات جاری کئے تھے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے حکم دیا تھا کہ ایمرجنسی پیدا کرکے شہباز گل کو فوری راولپنڈی کے کسی سرکاری اسپتال بھیج دیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو بتایا گیا تھا کہ یہ غیرقانونی ہے اور ایسا نہیں کیا جاسکتا،عمران خان نے اصرار کیا تھا کہ نتائج کچھ بھی ہو ایسا کیا جائے۔

    یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے آج شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔