Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

    اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

    اسلام آباد:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت ‏اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری، آئی جی اور ڈی آئی جی پولیس کو دھمکیاں دینے کے الزام میں اندراج مقدمہ کی درخواست جمع کرائی گئی ہے

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”532564″ /]

    ‏سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف دہشتگردی گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا, عمران خان کے خلاف مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا ،یہ مقدمہ 7اے ٹی اے کے تحت درج کیا گیا ہے جو ناقابلِ ضمانت ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق مجسٹریٹ علی جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گذشتہ روز عمران خان کی ریلی میں چند پولیس اہلکاروں کے ہمراہ موجود تھے جب عمران خان نے پولیس کے اعلیٰ افسران اور ایک ایڈیشنل سیشن جج صاحبہ کو ڈرانا، دھمکانا شروع کر دیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ’عمران خان کا مقصد پولیس اور عدلیہ میں دہشت پیدا کرنا تھا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکیں۔

    ’عمران خان کی جانب سے اس انداز اور ڈیزائن میں کی گئی تقریر سے عوام میں خوف و حراس پھیل گیا ہے اور عوام الناس میں بدامنی، بے چینی اور دہشت پھیلی ہے۔ اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی دارالحکومت اسلام آباد میں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان پر اداروں کیخلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ کیلئے درخواست جمع کروادی گئی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق درخواست جی الیون ٹو کے رہائشی ضیاء الرحمن ایڈووکیٹ نے تھانہ رمنا میں دی، جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ملزم عمران احمد خان نیازی فوج، عدلیہ اور پولیس افسران کیخلاف عوام کو بغاوت پر اکسا رہا ہے جبکہ پبلک پریشر کرکے اپنی پارٹی اور پارٹی کارکن کے حق میں فیصلے کروانا چاہتا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئی جی ، ڈی آئی جی اور ملزم شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ صاحبہ کو دھمکی دی کہ آپکے خلاف کیس کروں گا، کسی بھی معزز جج کو دھمکی دینا یا کام سے روکنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

    متن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران نیازی کی تقریر سے عدلیہ اور بار دونوں کے وقار و جذبات کوٹھیس پہنچ رہی ہے، اس لیے ملزم عمران نیازی کو گرفتار کیا جائے۔ایس ایچ او رمنا شاہد زمان کا کہنا ہے کہ درخواست پر فی الحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تقریر ایف نائن پارک میں ہوئی وقوعہ تھانہ مارگلہ کا بنتا۔

  • بول ٹی وی کے بعد یوٹیوب کوبھی بند کردیا گیا

    بول ٹی وی کے بعد یوٹیوب کوبھی بند کردیا گیا

    اسلام آباد:یوٹیوب کوبھی بند کردیا گیا ،اطلاعات کےمطابق ایسی خبریں گردش کررہی ہیں کہ پیمرا نے یوٹیوب کو بھی بلاک کردیا ہے اور اس کے بلاک کرنے کی وجہ فقط عمران خان کی تقریر کو نشرکرنا بتایا جارہا ہے

    اس سلسلے میں سوشل میڈیا پراس وقت مختلف علاقوں سے صارفین کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے نے یوٹیوب کو بلاک کردیا ہےاوراب کوئی یوٹیوب چینل عمران خان کوقوم کے ساتھ براہ راست ہم کلام نہیں کرسکے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں مزید احکامات کی آمد کی انتظآر ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پیمرا نے بول ٹی وی کی نشریات معطل کردی ہیں اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ پیمرا نے عمران خانکو لائیو نشرکرنے پر پابندی لگائی تھی لیکن بول ٹی وی نے ان احکامات پر عمل نہیں کیا

    یہ بھی یار ہے کہ شاید اوور لوڈنگ یا جزوی اسکریننگ کی وجہ سے ہم پی ٹی اے کی وضاحت کا انتظار کر رہے تھے اور آج اتوار ہونے کی وجہ سے وہ دستیاب نہیں ہیں۔

  • بول ٹی وی کی نشریات معطل کردی گئیں

    بول ٹی وی کی نشریات معطل کردی گئیں

    اسلام آباد:پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل بول نیوز کی نشریات روک دیں۔

    نیوز چینل سے وابستہ ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ بول کی نشریات بند کردی گئی ہیں۔ انہوں نے ٹی وی سکرین کی تصویر بھی شیئر کی گئی ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ چینل کو پیمرا کے حکم پر معطل کردیا گیا ہے۔

    عمران خان کی تقریر لائیو دکھانے پر بول ٹی وی کی نشریات معطل کر دی گئیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیمرا کی جانب سے یہ قدم پابندی کے باوجود بول نیوز کی طرف سے پیمرا کی پالیسی کونہ اپنانے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔

  • وزیراعظم کا آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور چئیرمین این ڈی ایم اے سے ٹیلی فونک رابطہ

    وزیراعظم کا آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور چئیرمین این ڈی ایم اے سے ٹیلی فونک رابطہ

    وزیراعظم شہبازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اخترنوازسے ٹیلی فون پر گفتگو کی.

    وزیراعظم اور آرمی چیف نے ملک میں سیلاب متاثرین خاص طور پرصوبہ سندھ میں امداد اور بحالی کی کارروائیوں سے متعلق گفتگو کی ،آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے صوبہ سندھ میں امدادی کارروائیوں میں بھرپور تعاون سے متعلق آگاہ کیا

    وزیراعظم نے صوبہ سندھ میں رابطہ سڑکوں اور پلوں کی تباہی کے باعث ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کی ہدایت کی.وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹرز کے استعمال سے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں زمینی رابطہ کٹنے کی وجہ سے ریسکیو اور یلیف کی فراہمی میں آنے والی مشکلات کو دور کرنے میں مدد ملے گی.

    وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے لئے پاک فوج کے تعاون اور جذبے کو سراہا ،آرمی چیف نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کمانڈر سدرن کمانڈ کو بلوچستان میںامدادی کارروائیوں کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں

    وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کو نقد رقوم کی فوری ادائیگی کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ کو ہدایت جاری کردی ، چئیرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو صوبہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ،چئیرمین این ڈی ایم اے نے حکومت سندھ اور بلوچستان میں امدادی کارروائیوں میں بھرپور تعاون سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا ،چئیرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو ریسکیو اور ریلیف سے متعلق اقدامات پر بریف کیا

    وزیراعظم کی ہدایت کی کہ سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف اوربحالی کی کوششوں کو مزید تیز کیاجائے.

  • عمران خان کے خلاف مقدمہ،وزارت داخلہ میں اہم اجلاس،ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے رائے طلب

    عمران خان کے خلاف مقدمہ،وزارت داخلہ میں اہم اجلاس،ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے رائے طلب

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں وزارت قانون اور پولیس کے افسران بھی شریک ہیں اور اجلاس میں عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک واقعے کی 2 ایف آئی آر نہیں ہو سکتیں، شہبازگل کے حق میں نکالی گئی ریلی دفعہ 144 کی خلاف ورزی بھی تھی۔ ذرائع کے مطابق کہ وزارت داخلہ نے عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے 2 آپشنز پر رائے مانگ لی ہے۔

    ذرائع کے مطابق رائے مانگی گئی کہ عمران خان پر الگ سے مقدمہ درج ہو یا شہباز گل کیس کا حصہ بنایا جائے۔ عمران خان پر مقدمے کا فیصلہ ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون کی رائے کے بعد کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو گرفتار ہونا چاہیے، دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان پر نیا مقدمہ درج کیا جائے یا پھر شہباز گل والے مقدمے میں ہی انہیں نامزد کیا جائے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا،رانا ثناءاللہ

    شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہدا کے خلاف پی ٹی آئی نے کمپین کی، شہدا کے لواحقین کے تقدس کو پامال کیا گیا،شہباز گل نے جو کہا وہ دراصل عمران خان او رپی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے،بہت سارے سیاستدانوں نے سیاست میں مداخلت پر کہا،کسی سیاستدان نے فوج کو اپنی قیادت کےخلاف نہیں اکسایا،9اگست کو شہبازگل کیخلاف مقدمہ درج کر کے24گھنٹے میں انہیں گرفتار کیاگیا،گرفتاری کے بعد شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈکیلئے پیش کیا گیا ،جب انہیں پیش کیا گیا وہ مسکراتے ہوئے عدالت پیش ہوئے،شہباز گل نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے تشدد کی کوئی بات نہیں کی.

    انہوں نے کہا کہ 11اگست کو طبی معائنہ کیا جس میں کسی تشدد کا ذکر ہے نہ شہباز گل نے کہا،میں نے سب سے تسلی کی ہے کہ اپنے طور پر بھی معلومات لیں،بطور وزیر کہتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس کسٹڈی کے دوران کوئی تشدد نہیں ہوا،17تاریخ کو جب ان کا دوبارہ ریمانڈ دیا گیاتو حالت خراب ہوئی،اس میں تشدد کی بنیاد پر صحت کی خرابی سامنے نہیں آئی،6 دن اڈیالہ جیل ،3دن پولیس کسٹڈی میں رہے،6دن اڈیالہ جیل ،3دن پولیس کسٹڈی میں رہے،ن لیگ بطور جماعت کسی قسم کے تشدد کے خلاف ہے.عمران خان کے خلاف مقدمہ کیلئے وزارت قانون سے رائے لے رہے ہیں.

    ان کا مزید کہنا ہے کہ پچھلے 10 روز سے شہباز گل پر تشدد اور ظلم کے حوالے سے باتیں چل رہی ہیں، ان پرتشدد کی باتیں وہ شخص کر رہا ہے جس کو اپنا کیا یاد نہیں ہے، عمران نیازی کا بیانیہ غیرملکی ایجنڈا ہے، شہباز گل کی نجی ٹی وی سے گفتگو طے شدہ تھی، شہباز گل کا نجی ٹی وی کےساتھ سب کچھ طے تھا کب فون آئے گا، کتنی دیر گفتگو کرنی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ شہباز گل کی حالت خراب ہونے میں تشدد کی وجہ سامنے نہیں آئی، ڈرامے کو مزید تقویت دینے کے لیے عمران خان جنسی تشدد کا الزام لگا رہے ہیں، پی ٹی آئی شہباز گل کے بیان کا دفاع نہیں کرسکی، فوج کے خلاف مہم سے دھیان ہٹانے کے لیے شہباز گل پر تشدد کا بیانیہ گھڑا گیا۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ آئی جی، ڈی آئی جی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو قانون کے مطابق ذمہ داری نبھانے پر دھمکیاں دی جارہی ہیں، عمران خان، آپ نے اپنے تمام مخالفین کے خلاف جھوٹے کیس بنوائے، تب شرم نہیں آئی، جب آپ بشیرمیمن کو بلاکر نواز، شہباز، حمزہ اور مریم نواز کے خلاف مقدمہ بنانے کا کہہ رہے تھے اس دن شرم نہیں آئی۔

    رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خاتون جج کو نام لے کر دھمکی دی، طیبہ گل کو ڈیرھ ماہ وزیر اعظم ہاؤس میں حبس بےجا میں رکھ کر کیسز ختم کراتے ہوئے شرم نہیں آئی، آپ بتائیں کہ کہاں ٹارچر ہوا ہے؟ سر میں چوٹ لگی یا پاؤں میں چوٹ لگی ہے، دمہ کی بیماری کا ٹارچر سے کیا تعلق ہے۔عمران کان نے کل جو مارچ کیا ان کو سمجھ آگئی ہو گی کہ ان کی طاقت کیا ہے

  • کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پورڈوبنے کاخطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔
    بین الصوبائی شاہراہیں بند، 72 گھنٹے کی مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ N-70 راکھی گاج کے مقام پر مکمل بند،سینکڑوں گاڑیاں مسافر پھنس گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔راجن پور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف اعلانات کئے جارہے ہیں کہ رودکوہی درہ چھاچھڑاورکاہاسلطان کاسیلابی ریلاکسی بھی وقت راجن پورشہرمیں مغربی طرف سے کسی بھی وقت داخل ہوسکتاہے ،جس کی وجہ راجن پورشہرکوشدیدخطرہ ہے اس لئے شہری فوراََمحفوظ مقامات پرمنتقل ہوجائیں،راجن پور مساجد میں اعلانات شروع، شہر خالی کرنے کا حکم شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ،
    <
    ڈیری غازی خان جام پور، فاضل پور اور راجنپور سمیت ملک بھر میں بارشیں اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری،متاثرین بے یارومددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور،ڈیرہ غازی خان کوہ سلیمان فورٹ منرو میں 72 گھنٹے کی مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ N-70 راکھی گاج کے مقام پر مکمل بند،سینکڑوں گاڑیاں مسافر پھنس گئے۔اس وقت کوہ سلیمان کی تقریبا تمام رودکوہیوں میں پانی کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے باٹھی رود کوہی کا پانی اس وقت جھوک بودو کراس کر رہا ہے اور لتڑا رودکوہی کا پانی لعلانی کراس کر رہا ہے ،شمتالہ سے بھی پانی آ رہا ہے جو باٹھی رودکوہی میں شامل ہو گامٹھوان لہڑ کا پانی بھی پہلے سے زیادہ بتایا جا رہا ہے اور کنوہاں رودکوہی اس وقت کوہر کراس کر رہی ہے،درہ وڈور سے بہت بڑا سیلابی ریلا اس وقت موضع بیلہ سے گزر رہا ہے

    گدپور، لوہار والا، پائگاہ، معموری،چوٹی سیفن کے نزدیکی آبادیاں اور ٹریکٹر فیکٹری ایریا کے نشیبی علاقے سیلاب کی زدمیں آسکتے ہیں،سخی سرور کوہ سلمان کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ تا حال جاری ہے سخی سرور ندی سے سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، تھانہ سخی سرور پولیس اور بارڈر ملٹری پولیس تھانہ سخی سرور کی طرف سے سیلابی ریلے ندی میں نہانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ایس ایچ اوز کی جانب سے اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں جبکہ کچھ پوائنٹ پر خار دار تاریں بھی لگا دی گئی ہیں۔

  • عمران خان کے پولیس اور جج سے متعلق بیانات، مقدمہ کی درخواست دائر

    عمران خان کے پولیس اور جج سے متعلق بیانات، مقدمہ کی درخواست دائر

    ‏عمران خان کے پولیس اور جج سے متعلق بیانات پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے

    عمران خان کے خلاف دائر درخواست ایک وکیل کی جانب سے دی گئی ہے جس مین کہا گیا ہے کہ عمران خان نے غداری کے ملزم شہباز گل کی رہائی کے لیے ریلی نکالی عمران خان نے اپنی تقریر میں اسلام آباد پولیس کے افسران کو دھمکیاں دیں عمران خان نے شہباز گل کیس سننے والی جوڈیشیل مجسٹریٹ کو بھی دھمکی دی عمران خان نے ملکی سلامتی کے اداروں پر بھی تنقید کی عمران خان نے عوام کو بغاوت پر اکسایا عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے

    واضح رہے کہ غداری کے مقدمہ میں گرفتار ملزم پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی کو عوام نے مسترد کر دیا.پی ٹی ائی کا ملک سے غداری کے مقدمہ میں پکڑے جانے والے ملزم کے حق میں کیا جانے والا شو فلاپ ہو گیا، عمران خان حسب معمول ایوزیشن اور انتظامی افسروں کو دھمکیاں دینے کے بعد گھر کو لوٹ گئے.

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے غداری کے مقدمہ میں گرفتار اپنے ساتھی ،ملزم شہباز گل سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی کی کال دے کر ثابت کر دیا کہ وہ ملک سے غداری کے مقدمہ میں گرفتار ہونے والے کے حمایتی ہیں.

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت پاکستان میں لوگوں میں دہشت پھیلائی جا رہی ہے، لوگوں کو غلام بنانے کیلئے ڈرایا جاتا ہے، باکل عمران خان صاحب قوم کو یہ بھی بتایئے کہ ملک میں دہشت کون پھیلا رہا ہے ؟،آپ کا خطاب سن کر ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ملک میں آپ کے علاوہ دہشت پھیلانے کا کوئی اور محب وطن سوچ بھی نہیں سکتا، اور وہ آپ ہی ہیں جو ملک اور قوم کے محب وطن پاکستانیوں اور خاص طور پر نوجوانون کو ڈرا رہے ہیں ،خان صاحب وہ آپ ہی ہیں جو ملک کے عوام کو بار بار غلامی کے بھاشن دیتے ہیں اور خود غلام بن کر قیمتی تحائف وصول کرتے ہیں.

    عمران خان نے اپنے خطاب میں آج کھلے عام انتظامی افسروں کو دھمکیاں دیں ،انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو نہیں چھوڑیں گے،آئی جی اور ڈی آئی جی پر کیس کریں گے،مجسٹریٹ صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں آپ کیخلاف بھی ایکشن لیا جائے گا، پی ٹی آئی چیئرمین کی کھلے عام انتظامی افسروں کو دھمکیوں کا نوٹس کون لے گا؟.کیا عمران خان کو فری ہینڈ دیا گیا ہے کہ وہ جب چاہیں اور جس کو چاہیں دھمکیاں دیں ؟

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ قانون اور آئین پر عمل کروائے ،بالکل ملک کی قابل احترام عدلیہ نے ہمیشہ قانون اور آئین پر عملدرآمد کرایا ہے. کیا ملک کے خلاف اور ملک کے اداروں کے خلاف باتیں کرنے والے پر غداری کا مقدمہ قانون کے خلاف ہے؟ کیا غداری کے مقدمی مین گرفتار شخص کے حق میں ریلی نکالنا قانوں کے مطابق ہے ؟کیا ایک خاتون مجسٹریٹ کو سر عام دھمکیاں دینا قانون کے مطابق ہے؟.

    عمران خان اپنی ہی بات پر بضد ہیں کہ غداری کے مقدمہ میں گرفتار شہباز گل پر تشدد کیا گیا ہے جبکہ میڈیکل رپورت میں کہا گیا ہے کہ شہباز گل پر تشدد نہیں کیا گیا ،عمران خان کا اپنا وزیر قانون اس بات کی شہباز گل سے ملاقات کے بعد وضاحت کر چکا ہے کہ شہباز گل پر تشدد نہیں کیا گیا مگر عمران خان کو صرف اپنی منوانے کی عادت ہے اور ایک ضدی بچے کی طرح اپنی ہی غلط بات پر اڑے ہوئے ہیں.

  • پیمرا نے عمران خان کی لائیو تقریر نشر کرنے پر پابندی لگادی

    پیمرا نے عمران خان کی لائیو تقریر نشر کرنے پر پابندی لگادی

    اسلام آباد:پیمرا نے عمران خان کی لائیوتقریر نشر کرنے پر پابندی لگادی ہے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے سابق وزیراعظم عمران خان کی تقاریرنشر کرنے پرپابندی لگا دی ہے اور اس حوالے سے پمرا نے نوٹس جاری کردیا ہے ،

    پیمرا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عمران خان چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اپنی تقریروں/بیانات میں ریاستی اداروں پر مسلسل الزامات لگا رہے ہیں‌،پیمرا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بے بنیاد الزامات لگانا اور اپنے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر پھیلاناریاستی اداروں اور افسران کے خلاف جو کہ امن و امان کی بحالی کے لیے مضر ہے۔اور عوامی امن و سکون کو درہم برہم کرنے کا خدشہ ہے۔ ان کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ بنایا گیا۔اسلام آباد نفرت انگیز تقریر کرنے والا حوالہ تیار حوالہ کے لیے ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

    جس میں عمران خان کہتے ہیں‌کہ شرم کرو۔ آئی جی۔ اسلام آباد آئی جی تم اور ڈی آئی جی آپ کو ہم نے نہیں چھوڑنا
    اوپر کیس کرنا ہم نے دیا ہے اور مجسنے صاحبہ زیبا بھی تیار ہو جائیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو کہتا ہوں کہ ساری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے، آئین و قانون کی حکمرانی آپ کی ذمہ داری ہے، لوگوں کو غلام بنانے کیلئے دہشت پھیلائی جارہی ہے، چیلنج کرتا ہوں جو مرضی کرلیں آزادی چاہنے والے عوام کے سمندر کو نہیں روک سکتے۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”532307″ /]

    نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے تاہم، اظہار رائے کا یہ حق دین اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، سلامتی، ملک یا اس کے کسی حصے کے دفاع، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، شائستگی و اخلاقیات، توہین عدالت یا کسی جرم پر اکسانے کے سلسلے میں قانون کی جانب سے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع ہے۔

    اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 200، پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کے مطابق آرڈیننس کے تحت لائسنس یافتہ شخص اتھارٹی کے منظور کردہ پروگراموں اور اشتہارات کے ضابطوں کی تعمیل کرے گا اور اتھارٹی کو اطلاع دیتے ہوئے ادارے کے اندر ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے گا تاکہ اس آرڈیننس کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    نوٹس میں مزید کہا گیا ہےکہ پیمرا رولز (1) 15 کے تحت براڈکاسٹ میڈیا یا ڈسٹری بیوشن سروس آپریٹر کے ذریعے نشر یا تقسیم کیے جانے والے پروگراموں اور اشتہارات کا مواد آرڈیننس کے سیکشن 20کے قواعد، ضابطہ اخلاق کے شیڈول اے اور لائسنس کی شرائط و ضوابط کے مطابق ہوں گے۔

    الیکٹرانک میڈیا (پروگرام اور اشتہارات) ضابطہ اخلاق 2015 کی دفعات کے مطابق لائسنس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جس میں عدلیہ یا افواج پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی ہو۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ رولز کے مطابق لائسنس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خبروں، حالات حاضرہ اور ذیلی عدالتی معاملات پر پروگرام معلوماتی انداز میں نشر کیے جاسکتے ہیں، انہیں معروضی طور پر ہینڈل کیا جائے گا اور کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جو عدالت، ٹربیونل یا کسی دوسرے عدالتی یا نیم عدالتی فورم کے فیصلے کو متاثر کرتا ہو۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو مزید ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نشریات آن ایئر کرنے کے لیے ایک موثر تاخیری نظام وضع کیا جائے اور الیکٹرانک میڈیا (پروگرام اور اشتہارات) کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی شق 17 کے تحت ایک غیر جانبدار اور آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دیا جائے۔

    پیمرا کا کہنا ہے کہ لائسنس دہندگان اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پلیٹ فارم کو کوئی بھی ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی طرح سے توہین آمیز ریمارکس کے لیے استعمال نہ کرے۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27، 29، 30 اور 33 کے تحت پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • سیلاب سے تباہی: آرمی چیف کی کمانڈر بلوچستان کور کو صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کی ہدایت

    سیلاب سے تباہی: آرمی چیف کی کمانڈر بلوچستان کور کو صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کی ہدایت

    راولپنڈی : آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کمانڈر بلوچستان کور سے رابطہ کرکے بلوچستان حکومت سے مکمل تعاون کی ہدایت کردی۔

    تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کمانڈر بلوچستان کور سے رابطہ کیا اور سیلاب کی صورتحال سے متعلق آگاہی حاصل کی۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف نے کمانڈر بلوچستان کور کو امدادی کاموں میں بلوچستان حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے متاثرین کی جلد بحالی اورریلیف کے لیے اقدامات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ سول انتظامیہ سے ہرممکن تعاون کیا جائے۔

    آرمی چیف کا کہنا تھا کہ کہ بلوچستان میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے مواصلاتی نظام کو بہت نقصان پہنچا ہے، فوج تمام ممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متاثرہ آبادی کی مدد کرے۔

    جنرل قمرجاوید باجوہ نے مزید کہا کہ فوج ہنگامی بنیادوں پر انفرااسٹرکچراورمواصلاتی نظام کی بحالی پرفوری کام کرے۔

    خیال رہے بارش اور سیلاب کے باعث بلوچستان ملک بھر سے کٹ کے رہ گیا ہے ، صوبے کے تمام زمینی رابطے منقطع ہوگئے جبکہ مختلف علاقوں میں اٹھارہ پل ٹوٹ گئے۔

    صوبے میں اموات کی مجموعی تعداد دو سو سے زائد ہوگئی جبکہ ایک لاکھ سات ہزار سے زائد مویشی ہلاک ہوئے اور تقریبا دو لاکھ ایکڑ زمین پر پھیلی فصلوں کو نقصان پہنچا۔