Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز نے 4 سے زائد دہشتگردوں کو ٹھکانے لگا دیا

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز نے 4 سے زائد دہشتگردوں کو ٹھکانے لگا دیا

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں.

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والی مجرمانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک شدت پسند چوری، تاوان کے لیے اغوا اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد مسافروں کو روک کر ان کا سامان لوٹتے ہیں اور افراد کو اغوا کر کے ان کے اہلِ خانہ سے تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں شدت پسند مبینہ طور پر بھتہ مانگ رہے ہیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ان واقعات کے ردِعمل میں گشت اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حساس علاقوں میں پولیس اور حساس اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ ملوث عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب بی ایل اے مسلسل بیانات جاری کر رہی ہے جن میں وہ صوبے میں حقوق کی جدوجہد کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایسی مجرمانہ کارروائیاں عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور امن و ترقی کی کوششوں کو سبوتاژ کرتی ہیں۔ حکام نے زور دیا کہ اغوا، بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور استحکام کی بحالی تک سیکیورٹی آپریشن جاری رہیں گے۔

    بلوچستان کے بعض علاقوں میں مقامی باشندوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے تشدد کے واقعات کے بعد مسلح شدت پسند گروہوں کے خلاف ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے شدت پسندوں کو بلوچ شہریوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ شدت پسند شہریوں کو لوٹ رہے ہیں اور مبینہ طور پر ایک بینک سے رقم چھیننے کے بعد فرار ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور لوگوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے شدت پسند تشدد کے خلاف مزاحمت کا اظہار کیا۔
    مقامی باشندوں نے کہا کہ قتل، لوٹ مار اور دھمکیوں جیسے اقدامات نے عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور علاقے کا امن درہم برہم ہو گیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی کے افراد نے مزید شدت پسند سرگرمیوں کو روکنے کے لیے متحرک ہونے کی اطلاعات ہیں اور واضح پیغام دیا گیا کہ مسلح اور دہشت گرد تنظیموں کو عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ویڈیو کی تصدیق اور واقعے کے حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور امن و امان کے قیام اور شدت پسند خطرات کے تدارک کے لیے عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔

    حکام کے مطابق کوئٹہ کے علاقے داغری میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے کم از کم دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت سجاد زہری عرف سارنگ اور اسمت اللہ ستکزئی عرف سراج کے نام سے ہوئی۔آپریشن کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا تاکہ کسی مزید دہشت گرد کی موجودگی کو خارج از امکان قرار دیا جا سکے۔ ہلاک شدہ شدت پسندوں کی لاشیں قانونی اور انٹیلی جنس کارروائی کے لیے تحویل میں لے لی گئیں۔ادھر کچھی ضلع کے علاقے سنی میں کیے گئے ایک علیحدہ آپریشن میں بی ایل اے کے مزید دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان میں سے ایک کی شناخت اسماعیل عرف صوفی کے نام سے ہوئی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر کے سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں کوئٹہ اور کچھی اضلاع میں کم از کم تین بی ایل اے دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور صوبے میں کسی بھی مزید دہشت گرد سرگرمی کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری ہیں۔

    گھاگھی پاس کے علاقے میں مقامی وِنگ کمانڈر اور بَازہ گاؤں کے عمائدین کے درمیان ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں علاقے میں امن برقرار رکھنے اور دہشت گرد عناصر کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم نہ کرنے پر زور دیا گیا۔جرگے کے دوران گاؤں کے عمائدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ شدت پسندوں یا جرائم پیشہ عناصر کو کسی قسم کی مدد، پناہ یا سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔حکام کے مطابق عمائدین نے استحکام اور باہمی رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ جرگے کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ مقامی آبادی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام نے عمائدین کی یقین دہانیوں کو سراہا اور کہا کہ ایسے روابط امن و امان کے قیام اور عوام و اداروں کے درمیان اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے چکدرہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع بدوان جنگل کے علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد سہولت کار کو ہلاک کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق فورسز نے کالعدم تنظیم سے منسلک سہولت کار کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔فائرنگ کے نتیجے میں سہولت کار، فرمان ولد ٹوٹی، موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ واقعے کے بعد لاش کو قانونی اور تفتیشی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ حکام کے مطابق علاقے میں مزید شدت پسندوں کی موجودگی کے خدشے کے پیشِ نظر سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔حکام نے کہا کہ شدت پسند سرگرمیوں کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    حکام کے مطابق میر علی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، ذرائع کے مطابق یہ مقابلہ اس وقت شروع ہوا جب دہشت گردوں نے حیسور روڈ پر ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن کے ذریعے مسلح عناصر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جانی نقصان یا گرفتاریوں سے متعلق مزید تفصیلات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔حکام نے اس بات پر زور دیا کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    پولیس کے مطابق اغوا اور قتل کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والی سنگین سیکیورٹی صورتحال کے باعث پاراچنار اور ضلع کرم کے دیگر علاقے گزشتہ پانچ روز سے منقطع ہیں۔ ان واقعات کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور خوراک، ایندھن اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق اپر کرم میں مالی خیل قبیلے کے رہنما حاجی کاکے اور بوشیرہ گاؤں کے رہائشی ریاض خان کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا، بعد ازاں دونوں کی لاشیں ویران علاقوں سے برآمد ہوئیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا۔صورتحال کے پیشِ نظر حکام نے مرکزی شاہراہ اور تمام اہم رابطہ سڑکیں احتیاطاً بند کر دیں، جس کے باعث لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت رک گئی۔ ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سڑکوں کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ چوکس رہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں جبکہ سیکیورٹی آپریشنز کے ذریعے ضلع میں استحکام پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب

    معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب

    معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب بن گئی

    بھارت میں کئی سیاسی و سماجی رہنما بشمول عسکری قیادت اپنی عبرتناک شکست کا اعتراف کر چکی ہے،گودی میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا اور من گھڑت کہانیوں کے باوجود مودی اپنی ہزیمت کا نہ چھپا سکا ، کانگریس لیڈر پرتھوی راج چوہان نے اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ جنگ کے پہلے ہی دن ہمیں پاکستان کے ہاتھوں مکمل پسپائی کا سامنا کرنا پڑا،7مئی کو صرف آدھے گھنٹے کی فضائی لڑائی میں ہم پاکستان سے مکمل طور پر شکست کھا گئے، یہ حقیقت ہے کہ بھارتی طیاروں کو مار گرایا گیا اور پوری بھارتی فضائیہ کو گراؤنڈ کر دیا گیا ، پاکستان کے ہاتھوں مار گرائے جانے کے خوف سے مزید بھارتی طیاروں نے اڑان ہی نہیں بھری ،بھٹنڈہ یا کہیں سے بھی بھارتی طیارہ ٹیک آف کرتا تو پاکستان سے مار گرائے جانے کا خطرہ ہوتا،

    بھارتی فوجی قیادت آپریشن سندور میں متعدد بار بھارتی طیاروں کی تباہی اور بھاری نقصان کا اعتراف کر چکی ہے،اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی بھی آپریشن سندور میں بھارتی شکست اور ناکامی کا پردہ چاک کر چکے ہیں ،11 مئی کو ائیر مارشل اے کے بھارتی ڈائریکٹر جنرل ائیر آپریشنز نے اعتراف کیا کہ "جنگ میں نقصان ہوتے ہیں”31 مئی کو بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے کہا کہ” یہ اہم نہیں کہ کتنے طیارے گرے یہ اہم ہے کہ کیوں گرے”

    عالمی میڈیا اور رہنما بھی بنیان المرصوص میں بھارت کی بدترین ہزیمت اور بھارتی خود ساختہ بیانیہ کاپردہ چاک کر چکے ہیں،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ بارہا پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرانے کا اعتراف کر چکےہیں ،شکست خوردہ مودی کو بھی آخر کارپاکستان کے ہاتھوں تاریخی ناکامی اور مکمل پسپائی کوتسلیم کرنا ہو گا

  • ارشد شریف قتل کیس، تفصیلی رپورٹ عدالت جمع،سماعت ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس، تفصیلی رپورٹ عدالت جمع،سماعت ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس کی تفصیلی رپورٹ آئینی عدالت میں جمع کروا دی گئی۔

    آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت ہوئی،کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ارشد شریف قتل کیس میں تفصیلی رپورٹ جمع کروادی ۔ رپورٹ میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں جے آئی ٹی کی تحقیقات سے متعلق تفصیلات بھی شامل ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ رپورٹ میں مزید آئندہ اقدامات کے بارے میں بھی بتا دیا گیا ہے، جے آئی ٹی نے صرف کینیا جاکر شواہد اکٹھے کرنا ہیں، جے آئی ٹی کے موقع کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقات فائنل ہو جائیں گی ، بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی،گزشتہ سماعت پر عدالت نے پیشرفت رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی تھی.

  • آپریشن سندور، بھارت پہلے ہی دن جنگ ہار چکا تھا، بھارتی سابق وزیراعلیٰ کا اعتراف

    آپریشن سندور، بھارت پہلے ہی دن جنگ ہار چکا تھا، بھارتی سابق وزیراعلیٰ کا اعتراف

    ممبئی: بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما پرتھوی راج چوہان نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ بھارت مبینہ طور پر آپریشن سندور کے پہلے ہی دن جنگ ہار گیا تھا۔ ان کے اس بیان نے بھارتی سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔

    پرتھوی راج چوہان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 مئی کو ہونے والی تقریباً آدھے گھنٹے کی فضائی جھڑپ کے دوران بھارتی فضائیہ کے طیارے مار گرائے گئے، جس کے نتیجے میں بھارت عملی طور پر جنگ ہار چکا تھا۔ اس ابتدائی نقصان کے بعد صورتحال بھارت کے حق میں نہیں رہی۔ پہلے دن کی لڑائی کے بعد بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا گیا کیونکہ اگر انہیں دوبارہ جنگ میں بھیجا جاتا تو پاکستان ائیر فورس کی جانب سے مزید طیارے گرائے جانے کا شدید خدشہ موجود تھا۔ ان کے مطابق یہی وجہ تھی کہ فضائی محاذ پر بھارتی سرگرمیاں محدود رہیں۔

    کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ حالیہ آپریشن کے دوران زمینی سطح پر فوج نے ایک کلومیٹر بھی پیش قدمی نہیں کی۔ ان کے مطابق دو سے تین دن تک جو کچھ ہوا وہ محض فضائی جھڑپوں اور میزائل حملوں تک محدود تھا۔ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں بھی اسی نوعیت کی ہوں گی، جہاں روایتی زمینی لڑائی کے بجائے ٹیکنالوجی، فضائی طاقت اور میزائل سسٹمز مرکزی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے اس تناظر میں ایک اہم سوال بھی اٹھایا اور کہا کہ اگر جنگوں کی نوعیت یہی رہنی ہے تو کیا واقعی بھارت کو 12 لاکھ فوجیوں پر مشتمل ایک بڑی بری فوج کی ضرورت ہے، یا پھر ان فوجیوں سے کسی اور نوعیت کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔

    پرتھوی راج چوہان نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور انہوں نے کوئی غلط یا گمراہ کن بات نہیں کی۔ ان کے مطابق یہ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

    دوسری جانب ان کے اس بیان نے بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، خصوصاً حکومتی حلقوں کی جانب سے پرتھوی راج چوہان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے قومی سلامتی اور فوج کے حوصلے پر منفی اثر پڑتا ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان آنے والے دنوں میں بھارتی سیاست میں دفاعی پالیسی، فوجی اخراجات اور قومی سلامتی کے معاملات پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،متعدد دہشتگردانجام کو پہنچے

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،متعدد دہشتگردانجام کو پہنچے

    خیبر پختونخوا،بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں،

    پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ضلع ڈیرہ بگٹی کے سوئی ایریا میں ٹاؤن چیئرمین کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دستی بم دفتر کی جانب پھینکا گیا تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا تاکہ ملوث عناصر کی نشاندہی اور حملے کے محرکات معلوم کیے جا سکیں۔ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ایک الگ واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے قلات مڈوے روڈ پر معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، مقامی ذرائع کے مطابق یہ گاڑیاں ریکوڈک منصوبے سے منسلک تھیں۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر حملے کے بعد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد علاقے میں حملہ آوروں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محفوظ بنا کر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ تاحال کسی کالعدم تنظیم، بشمول بی ایل اے یا بی ایل ایف، نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    مسلح افراد کی جانب سے حملے کے دوران پنجگور شہر میں محکمہ انسداد دہشت گردی کا ایک افسر شہید جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔ حملہ چتکان بازار میں ہوا جو ضلع کا مرکزی تجارتی علاقہ ہے، جہاں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشن، سرکاری دفاتر اور بینکوں پر فائرنگ کی۔ پولیس نے مزاحمت کی اور علاقے کو محفوظ بنایا، شہید اور زخمی اہلکاروں کو ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    حکام کے مطابق بلوچستان میں ریلوے سروس ایک دن کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس، کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل اور کوئٹہ–چمن مسافر ٹرین نہیں چلیں گی، جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس بھی تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ ریلوے حکام نے تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ذرائع کے مطابق سکیورٹی خدشات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ حالیہ مہینوں میں بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی ریلوے سروسز بار بار متاثر ہوئی ہیں جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک علاقے میں شدت پسندوں نے مبینہ طور پر مقامی لوگوں کے جانور چرا لیے اور بعد میں ایک ویڈیو جاری کر کے جھوٹا دعویٰ کیا کہ یہ جانور سکیورٹی فورسز کے تھے۔ ایک مقامی صحافی کے مطابق یہ جانور علاقے کے رہائشیوں کی ذاتی ملکیت تھے۔ حقائق چھپانے کی کوشش میں شدت پسندوں نے انہیں فوج سے منسوب کیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پشاور میں محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) نے ایک ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا جبکہ دو فرار ہو گئے۔ حکام کو زنگلی کینال کے قریب شمشو کی جانب، تھانہ بدھ بیر کی حدود میں شدت پسندوں کی موجودگی اور بڑی تخریبی کارروائی کی منصوبہ بندی کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اطلاع پر CTD کی ٹیموں نے آپریشن کیا۔ موقع پر پہنچتے ہی شدت پسندوں نے پولیس پر فائرنگ کی جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں تین شدت پسند مارے گئے جبکہ دو فرار ہو گئے۔ بعد ازاں سرچ آپریشن میں تین کلاشنکوف اور نو میگزین برآمد ہوئے۔

    پولیس کے مطابق حیات خیل کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار اور اس کا بھائی شہید ہو گئے۔ کانسٹیبل عامر نواز اپنے بھائی خان گل کے ساتھ موٹر سائیکل پر گاؤں جا رہا تھا کہ حملے کا نشانہ بنے۔ دونوں موقع پر ہی جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    حکام کے مطابق ٹپی سکیورٹی پوسٹ پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ شدت پسندوں نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم الرٹ اہلکاروں نے اینٹی ڈرون سسٹم فعال کر کے ڈیوائس کو محفوظ فاصلے پر ناکارہ بنا دیا۔ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ واقعہ بنوں کے جنیکھیل میں حالیہ ڈرون حملے کے بعد پیش آیا تھا جس میں بچوں سمیت پانچ شہری زخمی ہوئے تھے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند اب ڈرونز کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ پولیس نے جدید آلات، نئے تھانے اور ایڈوانسڈ ڈرون ٹیکنالوجی یونٹ قائم کر کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

    حکام کے مطابق لوئی ماموند میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مارا جانے والا دہشت گرد افغان شہری تھا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد کا نام سعید ملا تاج الدین عرف احمدی تھا، جو افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی اور کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ تھا۔

    سکیورٹی فورسز نے تحصیل پروآ کے علاقے کوئی بہارہ میں آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت کمانڈر منصور ستوریانی کے طور پر کی ہے، جو کالعدم ٹی ٹی پی کے گھنداپور گروپ سے وابستہ تھا۔ خفیہ اطلاع پر کیے گئے آپریشن میں مطلوب دہشت گرد مارا گیا، جو کئی سنگین حملوں میں ملوث اور اس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔

    حکام کے مطابق اعظم ورسک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ دہشت گرد احسان عرف خالد مہاجر مارا گیا۔ وہ متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں مطلوب تھا۔

    حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں منڈل پوسٹ پر دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا۔ شدت پسندوں نے پوسٹ پر حملہ کیا تاہم مؤثر جوابی کارروائی کے بعد فرار ہو گئے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  • سڈنی حملہ، بھارت کا مشکوک ،خطرناک سیکورٹی کردار،عالمی سوالات

    سڈنی حملہ، بھارت کا مشکوک ،خطرناک سیکورٹی کردار،عالمی سوالات

    سڈنی میں ہونے والی ماس کِلنگ نے ایک بار پھر بھارت کے مشکوک اور خطرناک سکیورٹی کردار پر عالمی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    حملے سے قبل ملزم کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں مبینہ عسکری تربیت حاصل کرنا، اور پھر بھارتی پاسپورٹ پر بین الاقوامی سفر کے انکشاف نے اس واقعے کو ایک منظم اور ٹرانس نیشنل سازش کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اسی سنگینی کے پیش نظر آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے باقاعدہ رپورٹ طلب کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شک کی سوئی اب براہِ راست نئی دہلی کی طرف جا رہی ہے۔ بھارت کا ریکارڈ اس حوالے سے پہلے ہی متنازع ہے چاہے وہ اپنے ملک میں فالس فلیگ آپریشنز ہوں یا کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ .. یہ سب ایک ایسے پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

    سڈنی حملہ محض ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ بھارت سے جڑے ایک خطرناک ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔ حملہ آور کا واردات سے پہلے فلپائن جانا، وہاں عسکری نوعیت کی تربیت لینا، اور بھارتی پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کسی منظم رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے وضاحت طلب کی۔ عالمی سطح پر بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور ٹرانس نیشنل کلنگز کے الزامات کی زد میں ہے، خاص طور پر کینیڈا میں سکھوں کے قتل کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے۔ سڈنی واقعہ انہی شبہات کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ بھارت بیرونِ ملک بیٹھ کر پرتشدد کارروائیوں کے لیے افراد کو تیار کرنے کی صلاحیت اور نیت رکھتا ہے۔

    سڈنی میں ہونے والی اجتماعی ہلاکتیں بھارت کے اس خفیہ سکیورٹی کھیل کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں جس میں تشدد کو سرحدوں سے باہر ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حملہ آور کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں مبینہ عسکری تربیت حاصل کرنا، اور پھر بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں تھا۔ اسی تناظر میں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے رپورٹ طلب کرنا ایک غیر معمولی سفارتی قدم ہے۔ بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، اور سڈنی حملہ اس پورے پیٹرن کو مزید واضح کر رہا ہے کہ تشدد کی تربیت اور رہنمائی کہاں سے آ رہی ہے۔

    سڈنی ماس کِلنگ نے بھارت کے سکیورٹی بیانیے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ حملے سے پہلے ملزم کا فلپائن جانا، مبینہ عسکری تربیت لینا، اور بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا ایسے حقائق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے براہِ راست رپورٹ طلب کی۔ بھارت کا ماضی اس حوالے سے پہلے ہی سوالیہ نشان ہے’ چاہے وہ اپنے ملک میں فالس فلیگ ڈرامے ہوں یا کینیڈا میں سکھوں کی ہلاکتیں۔ یہ تمام واقعات ایک ہی پیغام دیتے ہیں: بھارت نہ صرف اندرونِ ملک بیانیہ گھڑتا ہے بلکہ بیرونِ ملک تشدد کے نیٹ ورکس کو بھی خاموشی سے پروان چڑھاتا ہے۔

    سڈنی میں ہونے والا خونریز واقعہ بھارت کے ٹرانس نیشنل تشدد کے ماڈل کی ایک اور کڑی بن کر سامنے آیا ہے۔ حملہ آور کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں عسکری تربیت حاصل کرنا، اور بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کسی منظم سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے آسٹریلوی حکومت نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے وضاحت طلب کی۔ بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل جیسے الزامات کی زد میں ہے، اور سڈنی واقعہ ان خدشات کو عالمی سچائی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے کہ نئی دہلی بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد کے طریقے سکھانے اور استعمال کروانے میں ملوث رہی ہے۔

  • پاکستان مخالف پروپیگنڈا ، پیج 3 نیوز تھائی ، ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف

    پاکستان مخالف پروپیگنڈا ، پیج 3 نیوز تھائی ، ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کی بلوچستان میں شرانگیزی اور منظم سازش کا ایک مرتبہ پھر پردہ چاک ہو گیا

    انسانیت سے عاری مودی کی ایک اور گھناؤنی سازش، بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور فتنہ الہندوستان متحرک ہے،پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں ملوث پیج 3 نیوز تھائی کے نام سے چلنے والا ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے،جعلی شناخت کے ذریعے بھارتی اکاؤنٹ غدارِ وطن میر یار بلوچ کے نام پر بارہا پیغام رسانی میں ملوث پایا گیا ،بھارتی اکاؤنٹ سے مسلسل میر یار بلوچ کے نام پر من گھڑت دعوؤں، تاریخی تحریف اور بھارتی ایجنڈا کی تشہیر جاری ہے،جعلی اکاؤنٹ منظم سازش کے تحت بلوچ شناخت کو دہشتگردی کے فروغ کیلئے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے

    حال ہی میں بین الاقوامی سامعین کیلئے اس جعلی اکاؤنٹ سے بھارتی پروپیگنڈا پر مبنی ایک طویل پیغام سامنے آیا ،بھارتی اکاؤنٹ سے جاری کردہ پیغام دراصل RAW کے تیار کردہ بلوچستان مخالف پراپیگنڈا پر مبنی تھا ،تھائی سماجی ایپ ایکس کے مطابق اکاؤنٹ بھارت سے تھائی لینڈ VPN کے ذریعے آپریٹ کیا جا رہا ہے ،پاکستان مخالف پراپیگنڈا مہم اور شر پسند عناصر کی سرپرستی نے بھارتی مذموم عزائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا،بھارتی ایما پر بلوچستان میں جاری بدامنی اور دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد دنیا بھر کے سامنے عیاں ہو چکے ہیں

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،کوئٹہ سے 4خودکش گرفتار

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،کوئٹہ سے 4خودکش گرفتار

    بلوچستان و خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز نےدہشتگردوں کیخلاف آپریشن کیا ہے

    پولیس ذرائع کے مطابق گلبہار نمبر 2 پشاور میں ایک گھر میں گیس لیک ہونے کے باعث دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک کمسن بچی زخمی ہو گئیں۔ دھماکے سے گھر کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ رہائش گاہ پی ٹی آئی رہنما رضوان بنگش کی ہے۔ ریسکیو اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے دھماکے کی اصل وجہ جاننے اور علاقے میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ملک خیل قبیلے کے قبائلی بزرگ حاجی کاکے کو نامعلوم افراد نے بشرا علاقے کے قریب تشدد کا نشانہ بنا کر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ حکام کے مطابق مقتول گزشتہ دو دنوں سے لاپتہ تھے اور ان کی لاش دریائے کرم کے کنارے سے برآمد ہوئی۔ لاش کو تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ مقامی قبائلی عمائدین نے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور علاقے میں امن و امان بحال کرنے کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ ذمہ داروں کی نشاندہی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے ایپی گاؤں میں قائم سرکاری گرلز پرائمری اسکول کو بارودی مواد نصب کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ لال سلام کوٹ (لولی کوٹ) اسکول، جو دور دراز علاقے میں سیکڑوں بچیوں کو بنیادی تعلیم فراہم کر رہا تھا، رات کی تاریکی میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اسکول کی تباہی سے طالبات کی تعلیم اور مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ حکام اور مقامی افراد نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا خواندگی، صنفی مساوات اور مجموعی ترقی کے خلاف ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نقصان کا جائزہ لے رہی ہے اور متاثرہ طالبات کے لیے تعلیمی تسلسل یقینی بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ سول سوسائٹی اور حکام نے خصوصاً بچیوں کے اسکولوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور بچوں کے تعلیم کے حق کے تحفظ کے لیے مشترکہ ردعمل پر زور دیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کلاچی کے عمومی علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید ہو گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 15 دسمبر کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جن میں بھارتی پراکسی گروہ فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں سات دہشت گرد مارے گئے۔ اس دوران 34 سالہ نائیک یاسر خان، سکنہ ضلع مردان، بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا جو علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن بھی شروع کیا گیا۔

    پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیم گل بہادر گروپ کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اس کے چار اہم کمانڈروں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت دانش عرف انصاف عرف سباون، ضیاء اللہ ولد سلامت خان، عطاالرحمان (دٹہ خیل) اور مولانا کوثر کے نام سے ہوئی۔ حکام کے مطابق یہ دہشت گرد شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر پر حالیہ حملے کی منصوبہ بندی میں براہِ راست ملوث تھے اور علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، دہشت گرد نیٹ ورکس کی تنظیم، نئی بھرتیاں، پولیس چیک پوسٹوں پر حملے اور اغوا برائے تاوان جیسی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ ذرائع کے مطابق خود کالعدم تنظیم نے بھی اپنے کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اپنے ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ حکام نے کہا کہ یہ کارروائی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اعلیٰ سطح کے تعاون کا مظہر ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    بنوں کے نیم قبائلی جنیکھیل علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم پانچ شہری زخمی ہو گئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بنوں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے اسپتال کا دورہ کر کے زخمیوں کی عیادت اور اقدامات کا جائزہ لیا۔ پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرون کی نوعیت اور دھماکہ خیز مواد کے ماخذ کے تعین کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ فوری طور پر کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ بنوں اور ملحقہ اضلاع میں ڈرون اور کواڈ کاپٹر حملوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جن میں ماضی میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے ایسے حملوں کو کالعدم تنظیموں، بشمول ٹی ٹی پی کے دھڑوں (خوارج)، سے جوڑا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں منڈل پوسٹ پر دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے فائرنگ کی لیکن تعینات دستوں کے بروقت اور مؤثر جواب پر پسپا ہو گئے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق خضدار کی تحصیل وڈھ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر پر دستی بم پھینک دیا جس کے نتیجے میں 8 سالہ بچہ جاں بحق اور خواتین و بچوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔ حملہ سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کے گھر پر ہوا جو وڈھ میں مزدوری کرتے تھے۔ دھماکے میں بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی شواہد دہشت گرد عناصر کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ مقامی افراد نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان نے ضلع قلات کے خران علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزمان زین مرزا، عامر شاہ اور رحمت اللہ ہیں، جو خران میں ایس ایچ او محمد قاسم بلوچ کی شہادت سمیت متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران سرکاری اسلحہ، سب مشین گنز اور ایک گاڑی برآمد کی گئی۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چار خودکش بمباروں کو گرفتار کر لیا جو افغانستان سے نوشکی روٹ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے سخت سیکیورٹی میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اس کارروائی سے ایک بڑے دہشت گرد حملے کو ناکام بنایا گیا۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے سامی میں ناکہ بندی کے دوران بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پک اپ گاڑی (رجسٹریشن نمبر SPC-077) کو تلاشی کے لیے روکا گیا، جس سے 100 پستول، دو ایم فور رائفلیں، پستول کے 100 اضافی میگزین اور ایم فور کے دو اضافی میگزین برآمد ہوئے۔ کارروائی کے دوران گاڑی کا ڈرائیور اور اس کا ساتھی گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کی شناخت عارف اللہ ولد محمد خیراللہ خان اور عنایت اللہ ولد محمود علی خان (ساکنان ضلع بنوں) کے طور پر ہوئی ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • وزیراعظم  کی بجلی کی ترسیل کار اور پیداواری کمپنیوں   کی نجکاری تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی بجلی کی ترسیل کار اور پیداواری کمپنیوں کی نجکاری تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم کو پاور سیکٹر روڈمیپ پر پیشرفت کی بریفنگ دی گئی،وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں (DISCOs) اور پیداواری کمپنیوں (GENCOs) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ بجلی کے نظام کی نجکاری کے ذریعے ملک میں مسابقت پر مبنی بجلی کی مارکیٹ کی تشکیل ہی ملک میں توانائی کے مسائل کا پائیدار حل ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی ترسیل کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعلقہ ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ بجلی کے نظام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بیٹری اینرجی سٹوریج سسٹم پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی شعبے کی شمولیت سے کام شروع کیا جائے،

    اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار، ترسیل، ڈسکوز اور جینکوز کی نجکاری اور پاور سیکٹر میں دیگر اصلاحات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ تین ترسیل کار کمپنیوںIESCO، FESCO اور GEPCOکی نجکاری کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں اور اس حوالے سے ایکسپریشن آف انٹرسٹ (EoIs) جلد شائع ہوں گے، بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری کے لیے 500 کے وی کے غازی بروتھا – فیصل آباد ٹرانسمشن لائن کا پی سی ون منظوری کے مراحل میں ہے، درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو تھر کول پر منتقل کرنے کے لیے ٹیکنیکل فیزیبیلیٹی مکمل ہو چکی، تھر کول کی پلانٹس تک منتقلی کے لیے ریلوے لائن پر کام جاری ہے، براجلاس میں مسابقت پر مبنی بجلی کی مارکیٹ کی آپریشنلائزیشن پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں لائن لاسز میں کمی ہوئی ہے،بیٹری اینرجی سٹوریج سسٹم کے منصوبے کی کنسییپٹ کلیئرنس پروپوزل کی منظوری ہو چکی ہے اور فیزیبیلیٹی سٹڈی جاری ہے، اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، سردار اویس احمد لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • سڈنی حملہ،اسرائیل، بھارت،افغانستان کا پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

    سڈنی حملہ،اسرائیل، بھارت،افغانستان کا پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

    آسڑیلوی شہر سڈنی میں دہشتگردی، اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا،

    آسڑیلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ایک دہشتگردانہ کاروائی کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے،حسب روایت اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی اور بھارتی میڈیا اور ان سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس واقعے کو پاکستان کے ساتھ نتھی کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اسرائیلی اخبار یروشلم کی جانب سے حقائق جانے بغیر منظم ایجنڈے کے تحت حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دیا گیا،اسرائیلی اخبار یروشلم کی طرز پر ”را“ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی پاکستان کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کردیا،یہ منظم پروپیگنڈا بھارت کے پہلگام فالس فلیگ کی طرز پر کیاگیا جس میں شواہد کا انتظار کئے بغیر الزام پاکستان پر دھرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی،اس پروپیگنڈے کے برعکس اکٹھے کیے جانے والے اصل حقائق کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

    پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق ساجد اکرم اور نوید اکرم نامی شخص کا پاکستانی ہونے کا ابھی تک کوئی ثبوت موجود نہیں۔ اگر یہ باپ بیٹا پاکستانی ہوتے تو اتنا وقت گزرنے کے بعد پاکستان میں موجود انکے بقیہ خاندان کے بارے میں تفصیلات کا موجود نہ ہونا بھی انکی پاکستانی شناخت پر سوال اٹھاتا ہے۔ آسٹریلیا میں موجود پاکستانی حُکّام کے مطابق تاحال پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے انکے پاکستانی ہونے کے بارے میں کوئی اطلاعات موجود نہیں ہیں۔

    ہندوستانی میڈیا اور اس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی طرف سے کیا جانے والا یہ پروپیگنڈہ کہ ساجد اکرم ٹورسٹ ویزا پر آسٹریلیا گیا تھا انتہائی لغو اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ در حقیقت ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ پر آسٹریلیا پہنچا اور یہ ویزا 2001 میں وارینا نامی آسٹریلین خاتون سے شادی کہ بعد پارٹنر ویزا میں تبدیل ہوا۔ اس سلسلے میں آسٹریلین ہوم منسٹر ٹونی بیورک کا بیان ان حقائق کی توثیق کرتا ہے۔ ساجد اکرم پچھلے دس سال سے آسٹریلیا کے ایک گن کلب کا ممبر ہے جسکی وجہ سے اس سے 6 لائسنس شدہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ اسرائیلی، ہندوستانی اور PTI کے بیرون ملک بیٹھے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کل سے ایک ایسے پاکستانی نوید اکرم کی کہانی گڑھ رہے ہیں جس نے خود سوشل میڈیا پر اس جھوٹے پروپیگنڈا کو بےنقاب کر دیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ ساجد اکرم کا بنیادی تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ہے۔ پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور افغانستان اس کا گڑھ بن چکا ہے،واقعے کے دوران کی جانے والی فائرنگ افغان طالبان کی اس طرح کے واقعات میں طریقہ واردات سے مماثلت رکھتی ہے.