Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان ،سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز ، ناقص گورننس بے نقاب

    وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان ،سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز ، ناقص گورننس بے نقاب

    وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان ،سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز نے ناقص گورننس کو بے نقاب کردیا

    وادی تیراہ میں ابتر صورتحال ، صوبائی حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے،آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا نارتھ کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج عدم استحکام کو فروغ اور منشیات کی اسمگلنگ سے پیسہ وصول کرتےہیں،خیبرپختونخوا کا افغانستان کیساتھ 1224 کلومیٹر کی طویل سرحد موجود ہے، فرنٹیئر کور کے پاس تقریباََ 717 کلومیٹرکی سرحد موجود ہے جس میں برف پوش اور سنگلاخ پہاڑ بھی ہیں ،خیبرپختونخوا کے افغانستان کے ساتھ سرحد میں بلند چوٹیاں اور تنگ گھاٹیاں بھی موجود ہیں ،ایف سی نے دراندازی کرنے والوں کیخلاف کیمرے بھی لگائے ہیں ،سرحد اس وقت مکمل بند(سیل) ہو سکتی ہے جب دونوں اطراف سے سرحد کا احترام کیا جائے،
    پہلی بار افغانستان اور پاکستان میں باڑ لگائی گئی ہے ، اب اس کو بین الاقوامی سرحد کہہ سکتے ہیں ،باڑ لگا کرآزادانہ نقل و حرکت اور دراندازی کیخلاف رکاؤٹ کھڑی کی گئی ہے ، پچھلے سال "باغ میدان” میں ایف سی کے 64 جوان شہید اور 198 زخمی ہوئے ،اتنے شہدا ء اور زخمی یہاں پر کسی اور ادارے کے نہیں ہیں ،دواتوئی میں ایک تنگ راستہ ہے مگر وہاں پر کوئی چیکنگ نہیں کی جا سکتی کیوں کہ ہمارے پاس اختیار نہیں ، آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری آبادی کی نگرانی کیلئے صرف 3پولیس اہلکار موجود ہیں

    ونگ کمانڈر کرنل وقاص نے بتایا کہ وادی تیراہ میں 60 کلومیٹر تک ضلعی انتظامیہ ، پولیس یا اسپتال موجود نہیں ہے،وادی تیراہ کے علاقے میں کوئی سرکاری اسکول نہیں اور نہ اساتذہ ہیں ،جب بچے اسکول نہیں جائیں گے ، پڑھیں گے نہیں تو ان میں شعور کیسے آئے گا،اگر بچے نہیں پڑھیں تو وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف جاتے ہیں ، ایف سی کے زیر اہتمام 16اسکول ہیں جن میں ایف سی نے خود اساتذہ کو بھرتی کیا ہے، وادی تیراہ میں کوئی اسپتال نہیں ، لوگ کسی ایک انجکشن کیلئے بھی ایف سی کے پاس آتے ہیں فرنٹیئر کور مقامی افراد کیلئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کرتی ہے ،وادی تیرہ میں منشیات فروشی کا مسئلہ بہت بڑا ہے جن میں فتنہ الخوارج ملوث ہے ، فتنہ الخوارج منشیات اور بھتہ سے اکٹھی کی گئی رقم سیکیورٹی فورسز اور عوام کیخلاف استعمال کرتےہیں،

    وادی تیراہ میں بدانتظامی اور مقامی حکومت کی نااہلی کا فائدہ شدت پسند اور جرائم پیشہ گروہ اٹھا رہے ہیں

  • پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے  کیلئے پوری طرح تیار ہے،فیلڈمارشل عاصم منیر

    پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے،فیلڈمارشل عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے،

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ گیریژن کا دورہ کیا،فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں کی مضبوطی کیلئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے فارمیشن کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور مجموعی تیاری کی تعریف کی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےافسران اور جوانوں کے بلند حوصلے اور قومی سلامتی کیلئے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی،جدید جنگ میں ٹیکنالوجی، تیز فیصلہ سازی، درستگی اور صورتحال سے آگاہی کی اہمیت پر زور دیا،قومی سلامتی کے لیے افسران اور جوانوں کے غیر متزلزل عزم کو سراہا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ دشمن کی ہائبرڈ مہم، انتہاپسند نظریات ، قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں .جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی و قت کا تقاضا ہے ،پاک فوج تقسیم پیدا کرنے والے عناصر کی طرف متوجہ اور نمٹنے کیلئے تیار ہے،جدید جنگ تقاضا کرتی ہے فورسز میں چستی، درستگی اور حالات سے باخبر رہنے کی صلاحیت ہو،جدید جنگ یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ فورسز میں بروقت فیصلے کرنے کی اہلیت ہو،

  • بلوچستان، خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف بھرپور کاروائیاں جاری

    بلوچستان، خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف بھرپور کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا و بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    حکام کے مطابق کرم کے علاقے مندان میں شدت پسندوں نے ایک شہری پک اپ گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک قبائلی مزدور جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے گاڑی پر فائرنگ کی، جس سے احمد خان چمکنی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک اور مسافر زخمی ہو گیا۔ حملے کے بعد شدت پسندوں نے گاڑی کو آگ لگا دی، جس سے وہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئی۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی، تاہم حکام نے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے بنوں ضلع کے مامش خیل علاقے میں مشترکہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران ایک اہم شدت پسند کو ہلاک جبکہ چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، اور اسلحہ، گولہ بارود اور شدت پسند سرگرمیوں سے متعلق مواد برآمد کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن 12 دسمبر کو آدھی رات کے بعد شروع ہو کر صبح 10 بجے تک جاری رہا۔ یہ کارروائی 8 دسمبر کو انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے تھریٹ الرٹ کے بعد کی گئی، جس میں بنوں اور گردونواح میں 15 سے 16 رکنی شدت پسند سیل کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی۔ مبینہ طور پر اس سیل کی قیادت برکت اللہ کر رہا تھا، جس کی نقل و حرکت کو تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا تھا۔چھاپے کے دوران برکت اللہ فرار ہونے کی کوشش میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے ایک ایم فور رائفل برآمد ہوئی۔ آپریشن کے دوران چار دیگر مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ برآمد ہونے والے سامان میں ایک ایم فور رائفل، تین سب مشین گنز، ایک شاٹ گن، ایک پستول، چار دستی بم، متعدد نمبر پلیٹس لگی ٹویوٹا پریئس گاڑی، کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کی تفصیلات، شناختی کارڈز، میگزین پاؤچز، 11 میگزین، 300 سے زائد مختلف اقسام کی گولیاں، موبائل والٹ سم، ایک رجسٹر اور 93,150 روپے نقد شامل ہیں۔آپریشن کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر مزید کارروائیاں شروع کیں، جن میں گرفتار ملزم امین اللہ سے منسلک اسلحہ کی دکان کو سیل کرنا بھی شامل ہے۔ گروہ کے لاجسٹک نیٹ ورک اور مالی ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ مشتبہ شدت پسند کو ہلاک جبکہ چار دیگر کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ چھاپہ علاقے میں ایک ٹھکانے پر مشتبہ شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر مارا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ شخص مارا گیا جبکہ چار کو حراست میں لے لیا گیا۔موقع سے ایک لاکھ روپے سے زائد نقد رقم، ہونڈا سٹی گاڑی، اسلحہ، دستی بم اور دیگر مواد برآمد کیا گیا۔ گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بنوں جنوبی خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہے۔

    ایک علیحدہ واقعے میں منگل کی رات شدت پسندوں نے ضلع میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے حملہ پسپا کر دیا، جس کے نتیجے میں کئی حملہ آور ہلاک اور زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق پانچ پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ جنوبی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، بشمول بنوں اور لکی مروت، میں مقامی آبادی نے شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ واقعات میں تختی خیل کے علاقے میں مسلح شہریوں نے کئی شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا اور دیگر کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں شدت پسندوں نے جوابی کارروائی میں کواد کاپٹر کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا، جس سے آٹھ بچے زخمی ہو گئے۔

    حکام کے مطابق شدت پسندوں نے بنوں میں شیخ لندک پولیس چیک پوسٹ پر کواڈکاپٹر کے ذریعے حملہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق کواڈکاپٹر سے گرایا گیا دھماکہ خیز مواد چیک پوسٹ کے قریب پھٹ گیا، جس سے زور دار دھماکہ ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی چیک پوسٹ کو گزشتہ رات بھی نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ تازہ حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    حکام اور قبائلی عمائدین نے وادی تیراہ میں جاری بدامنی سے متاثرہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے 27 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس معاہدے میں بے گھر خاندانوں کی محفوظ واپسی، تباہ شدہ گھروں اور زمینوں کا معاوضہ، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر، بنیادی سہولیات کی فراہمی، آمدورفت کی سہولت اور واپسی کے عمل کی نگرانی کے لیے مشترکہ جرگہ شامل ہے۔ ایجنڈے کی توثیق کے بعد قبائلی عمائدین نے مجوزہ احتجاجی مظاہرے منسوخ کر دیے ہیں۔برقمبر خیل، ملک دین خیل، شلوبار، آدم خیل، اکاخیل اور زاخاخیل سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں خاندان، جو بارات اور پشاور منتقل ہو گئے تھے، سیکیورٹی انتظامات مکمل ہونے کے بعد واپس لوٹنے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ کالعدم مسلح گروہوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان برسوں سے جاری جھڑپوں کے بعد علاقے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جن کے باعث تعلیم، مقامی بازار اور روزمرہ زندگی متاثر ہوئی تھی۔ حکام کے مطابق ایجنڈے پر عمل درآمد اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق برکھان میں فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں دو نوجوان جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔ مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔حکام کے مطابق صنعتی شہر حب میں نامعلوم شخص نے پاکستان کوسٹ گارڈز کے کیمپ پر دستی بم پھینکا، تاہم بم پھٹ نہ سکا اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دستی بم کیمپ کے باہر سے برآمد کر لیا گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی فوری طور پر طلب کیا گیا، جس نے بم کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔

    بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن (BGTOA) کی ہڑتال جمعرات کو پانچویں روز میں داخل ہو گئی، جس کے باعث صوبے بھر میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئیں۔ ترجمان روزی خان مندوخیل کے مطابق ہڑتال مکمل رہی اور سامان کی لوڈنگ و ان لوڈنگ مکمل طور پر بند رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کے اشتراک سے ملک گیر سطح پر جاری رہے گی جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔یہ ہڑتال پنجاب حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر عائد بھاری جرمانوں کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ ٹرک مالکان نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں بشمول ہزار گنجی ٹرک اسٹینڈ میں گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں، جس سے تجارت اور ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ مندوخیل نے جرمانوں کو ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کے بغیر عائد کیے جانے کو ناانصافی قرار دیا

    حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خضدار میں آپریشن تیز کرتے ہوئے سات افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مشتبہ افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے گرفتار شدگان کی شناخت یا آپریشن کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تحقیقات جاری ہیں

  • افغانستان  اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرائے ،وزیراعظم

    افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرائے ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات کو دنیا کےلئے بڑے چیلنجز قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی تک سب کےلئے منصفانہ اور بلا امتیاز رسائی ناگزیر ہے،سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پاکستان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے،موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے ترقی پذیر ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے، تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیےبھرپور کردار ادا کر رہا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کےلئے پرعزم ہیں،عالمی برادری افغان طالبان رجیم پر زور دے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرائے ،پاکستان فلسطینی عوام اور بہادرکشمیریوں کے بنیادی حق حق خوارادیت کےلئے کی جانےوالی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

    ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد ، عالمی دن برائے غیر جانبداری اور ترکمانستان کی تیس سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اشک آباد جیسے خوبصورت شہر میں موجودگی میرے لیے باعث مسرت ہے، سفید سنگ مرمر کی خوبصورتی اور ترکمان عوام کی گرمجوشی قابل تعریف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ترکمانستان کا میرا پہلا دورہ ہے لیکن میں اپنے آپ کو یہاں قطعاً اجنبی محسوس نہیں کررہا،ترکمانستان کی مہمان نوازی اپنی مثال آپ ہے،مہمان کو اہل خانہ سے بڑھ کر احترام دینا ترکمانستان کی روایت ہے، ترکمانستان کے قومی رہنما قربان گلی بردی محمدوف اور ترکمانستان کے صدرسردار بردی محمدوف میرے لئے بھائیوں جیسے ہیں اور پاکستان اور ترکمانستان کی دوستی کو مضبوط بنانے میں ان کا اہم کردار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ترکمانستان کی قیادت کو مستقل غیر جانبداری کے 30 سال مکمل ہونے اور 2025کو اقوام متحدہ کی طرف سے امن و اعتمادکا سال قرار دینے کی کامیاب کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال سلامتی کونسل میں غیرمستقل رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کےلئے پرعزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ی کا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، اس خطرے سے نمٹنے کےلئے کوششیں کی جارہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی چاہئے کہ وہ افغان طالبان رجیم پر زور دے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں اور وعدے پورے کرے او ر اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو روکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مستقل جنگ بندی کےلئے قطر، ترکیہ ، سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور ایران کی پرخلوص کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے، تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا جس کی بعد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کی ، رواں سال کے اوائل میں اقوام متحدہ کی قرارداد 2788کی منظوری تنازعات کے پرامن حل کےلئے پاکستان کے عزم کی بھرپور عکاسی کرتی ہے،8 عرب اسلامی ممالک کے گروپ کے رکن کی حیثیت سے ہمیں امید ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری امن کی کوششوں سے بے گناہ فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اورمستقل اور پائیدار جنگ بندی،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے گا اور غزہ کی تعمیر نو میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ضروری ہے، پاکستان فلسطینی عوام اور بہادرکشمیریوں کے بنیادی حق، حق خوارادیت کےلئے تمام کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا،پائیدار امن کی خواہش پائیدار ترقی سے جڑی ہوئی ہے، اس سلسلے میں 2030کا پائیدارترقی کا ایجنڈا ایک بہتر اور پرامن دنیا کےلئے بہت اہم ہے،سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پاکستان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مالیاتی شمولیت کے شعبے میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ خواتین اور کمزور طبقات کو اقتصادی دھارے میں لانے کے لئےموثر اقدامات کئے ہیں ۔

    گلوبل وارمنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صاف اور سرسبزماحول کےلئے حل پیش کئے ہیں اور اس حوالے سے ہمارے اقدامات عالمی مثال ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے ترقی پذیر ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے، ہمیں سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات دنیا کےلئے بڑے چیلنجز ہیں، یہ ایک عالمی خطرہ ہیں جو مشترکہ ذمہ داری کے تحت عملی اقدامات کے متقاضی ہیں ، جدید ٹیکنالوجی بالخصوص ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک منصفانہ اور بلا امتیاز رسائی ناگزیر ہے۔

  • وزیراعظم شہبازشریف کی ترکمانستان کے صدرسے ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف کی ترکمانستان کے صدرسے ملاقات

    اشک آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے رابطوں کو بڑھایا جائے گا،دونوں ممالک نے اقتصادی، تجارتی، توانائی اورعلاقائی تعاون کے فروغ کے لیے مستقبل میں مزید اقدامات پر بات چیت کی، جس سے خطے میں مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

    وزیراعظم نے ترکمانستان کے عوام اوران کے قومی رہنما کے لئے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا اور ترکمانستان کے صدر کو آئندہ برس پاکستان کے دورے کی دعوت دی،اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی وفد کو شاندار مہمان نوازی فراہم کرنے پر ترکمانستان کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    صدر بردی محمدوف نے وزیراعظم کے حالیہ دورے اور عالمی امن کے فورم میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔

    ملاقات میں وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر بجلی اویس لغاری اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی موجود تھے-

  • امریکا کی جانب سے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کیلئے 686 ملین ڈالر کا پیکیج منظور

    امریکا کی جانب سے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کیلئے 686 ملین ڈالر کا پیکیج منظور

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن کیلئے 686 ملین ڈالر کا پیکیج منظور کرلیا۔

    عرب نیوز کے مطابق منظوری کا ذکر امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کو آپریشن ایجنسی کے اُس خط میں کیا گیا ہے جو امریکی کانگریس کو ارسال کیا گیا۔ کانگریس کو لکھے گئے خط کے مطابق نئے معاہدے میں 16 ڈیٹا لنک سسٹم، کرپٹوگرافک آلات، ایویانکس اپ گریڈ، تربیتی ماڈیولز اور جامع پائیداری سپورٹ شامل ہیں، جن کا مقصد پاکستان کے ایف 16 بیڑے کو جدید بنانا ہے۔ اس اقدام سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان جاری انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے ایف 16 لڑاکا جہازوں کے اپ گریڈیشن پیکیج کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے اور دونوں ممالک کے معمول کے دفاعی تعاون کا حصہ قرار دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے پہلی بار 80ء کی دہائی میں امریکا سے ایف 16 جنگی طیارے خریدے تھے۔

  • سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی پر وزیراعظم کی ایف بی آر کی پذیرائی

    سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی پر وزیراعظم کی ایف بی آر کی پذیرائی

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کے 11 فیصد کے ہدف کے حصول کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے ٹیکس محصولات کے اہداف کے حصول کے لیے ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے کی ہدایت کی ،کسٹمز کلیئرنس میں جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے استعمال سے کلیئرنس کے دورانیے میں خاطر خواہ کمی پر وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کی پزیرائی کی اور ہدایت کی کہ درآمدات اور برآمدات کی کسٹمز کلیئرنس کے دورانیے کو مزید کم کیا جائے، حکومتی محصولات بڑھانے کے لیے وزیراعظم نے معیشت کے تمام شعبوں میں ٹیکس انفورسمنٹ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم نے سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پزیرائی کی ،وزیراعظم نے ایف بی ار کے ٹیکس چوروں اور غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومتوں کو ایف بی آر کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی،

    اجلاس میں وزیراعظم کو ٹیکس محصولات کے اہداف کے حصول کی پیشرفت، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس چوری کے خلاف اقدامات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہملک بھر میں تمباکو کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے متعدد فوکل پرسن تعینات کیے گئے ہیں، حالیہ دنوں میں مؤثر کاروباری کے نتیجے میں غیر قانونی سگریٹس کی بڑی تعداد قبضے میں لی گئی ہے، وزیراعظم کو ٹربیونلز اور مختلف اداروں میں ٹیکس کے زیر التواء مقدمات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی ،اجلاس میں وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل اف پاکستان، چئیرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 برس قید کی سزا

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 برس قید کی سزا

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے فیض حمید کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی،سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈجنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا یہ عمل 15 ماہ تک جاری رہا ، ملزم کے خلاف 4 الزامات پر کارروائی کی گئی، الزامات میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور متعلقہ افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہیں،طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم تمام الزامات میں قصور وار قرار پایا گیا ہے، عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے شروع ہوگا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور ملزم کو دفاع کےلیے وکیلوں کی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیےگئے،ملزم کے سیاسی عناصرکے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جارہے ہیں۔

  • افغان علماکا  اپنی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہ کرنے پرزور

    افغان علماکا اپنی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہ کرنے پرزور

    افغانستان سے پاکستان میں جاری دراندازی روکنے کے سلسلے میں مثبت پیشرفت سامنے آگئی، کابل میں علما اور مذہبی رہنماؤں کے اہم اجلاس میں عسکریت پسندی کے لیے سرحد عبور نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    ذرائع نے طلوع نیوز کو تصدیق کی ہے کہ کابل میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں علما اور مشائخ کا کہنا تھا کہ اپنے حقوق، اقدار اور شرعی نظام کا دفاع ہر فرد پر فرض ہے۔اجلاس میں اسلامی امارت سے مطالبہ کیا گیا کہ امارتِ اسلامی افغانستان کے رہبر کے حکم کی روشنی میں کسی کو بھی بیرونِ ملک عسکری سرگرمیوں کے لیے جانے کی اجازت نہ دی جائے۔اجلاس میں اس فیصلے پر بھی زور دیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اور اگر کوئی اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے تو اسلامی امارت کو اس کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہے،

    افغان عمائدین اور علما کے بیان سےپاکستان کےدیرینہ مطالبےکی توثیق ہوگئی ہے،پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان سے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم افغان طالبان جارحیت پر قائم ہیں اور سرحد پار سے پاکستان میں دراندازی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

  • خیبرپختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیاں جاری

    خیبرپختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا و بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    دو بیست و پنجہ کے علاقے میں سرکاری سپلائی گاڑی پر دیسی ساختہ بم حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ دھماکے سے گاڑی کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ایک کالعدم تنظیم نے ذمہ داری کا دعویٰ کیا مگر حکام نے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

    کلاتھک میں ایک مواصلاتی ٹاور دھماکے کا نشانہ بنا، جس سے ٹاور کو نقصان پہنچا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔بلوچستان کانسٹیبلری کا اہلکار غریب نواز فائرنگ کے ایک واقعے میں شہید ہو گیا۔ نامعلوم حملہ آور فرار ہو گئے۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے گریشہ میں انسداد دہشت گردی کے تحت سرچ اور کلیئرنس آپریشن کیا۔ متعدد مشتبہ افراد کو مجموعی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔جھاو اور کوہرو سمیت قریبی علاقوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں۔ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

    قبائلی اضلاع میں شدت پسندوں کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تراہ کے عوام نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ وہ مزید تشدد برداشت نہیں کریں گے۔ اس سے قبل لکی مروت میں گرینڈ جرگہ نے اجتماعی مزاحمت کا اعلان کیا تھا۔

    مہمند،الینگار میں سکیورٹی فورسز نے ایک آئی بی او کے دوران آٹھ سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہے۔ چار سے زائد دہشت گرد زخمی ہوئے۔ٹانک،ہورس پولیس اسٹیشن لقمان شہید پر کواد کاپٹر کے ذریعے حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ گرینیڈ اسٹیشن کے اندر گرایا گیا لیکن وہ پھٹ نہ سکا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    میر علی، شمالی وزیرستان،عیسوری میں پرانے بارودی مواد کے پھٹنے سے دس بچے زخمی ہو گئے۔ بچے ایک غیر پھٹا بم کھیلتے ہوئے چھیڑ بیٹھے تھے۔کالایا، اورکزئی زیریں،ڈی پی او کی زیر صدارت ایک جرگے میں فیروز خیل کے علاقوں میں شدت پسندوں کی ممکنہ موجودگی پر غور کیا گیا۔ پسکی میں چیک پوسٹ کے قیام کی فوری منظوری دے دی گئی۔تورغر پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں چھ حملہ آور مارے گئے جبکہ دیگر فرار ہو گئے۔باجوڑ (سلارزئی)،گزشتہ روز اغوا کیے گئے دو نوجوانوں کی لاشیں جنگل سے مل گئیں۔ پولیس نے واقعے کو دہشت گردی قرار دے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ڈی ایچ کیو اسپتال بٹگرام کے مرکزی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل نیاز علی شملائی کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔