Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کر کے ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کر کے ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    پبلک اکاونٹس کمیٹی اجلاس نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین نورعالم خان نے نیب کے قائم مقام چیئرمین ظاہر شاہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ بی آر ٹی، بینک آف خیبر، بلین ٹری سونامی اور مالم جبہ کیس دوبارہ کھول کر پی اے سی کو رپورٹ دی جائے۔ اجلاس کے دوران قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ نے میٹنگ سے جانے کی اجازت طلب کی جس پر چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ آپ کا اجلاس میں بیٹھنا ضروری ہے آپ کے ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھے ہیں، آپ کمیٹی سے نہیں جا سکتے

    انہوں نے قائم مقام چیئرمین نیب سے استفسار کیا کہ بی آر ٹی کرپشن ریفرنس کہاں گیا ؟ بینک آف خیبر کا کیا کیا؟ بلین ٹری سونامی کا کیا ہوا؟ مالم جبہ کا کیا کیا؟ جس پر ظاہر شاہ نے کمیٹی کو بتایا کہ مالم جبہ کیس بند ہو چکا ہے جس پر چیئرمین پی اے سی نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہدایات دیتے ہیں کہ اس کیس کو ری اوپن کریں اور ہمیں رپورٹ دیں .چیئرمین پی اے سی نے پوچھا کہ انہیں کتنے وقت میں رپورٹ پیش کی جائے گی؟ جس پر ظاہر شاہ نے جواب دیا کہ 6 ماہ میں رپورٹ دیں گے نور عالم خان نے کہا کہ آپ کے پاس فائلیں تیار ہیں، سالوں سے یہ کیس پڑے ہوئے ہیں، بلین ٹری کیس کا کیا ہوا؟ اب تو لوگوں نے درخت جلانا شروع کردیے ہیں انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ان چاروں کیسز پر فوری تحقیقات کا حکم دیتی ہے

    سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کے خلاف درخواست گزار طیبہ گل پی اے سی میں پیش ہوئیں، طیبہ گل نے کہا کہ انیس جنوری 2019 کو مجھے نیب نے گرفتار کیا،مجھے نہیں پتہ تھا مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے،اس سے پہلے میرے خاوند کو گرفتار کیا گیا، میری ایک مرتبہ لاپتہ افراد کمیشن میں ایک لاپتہ فرد کے معاملے پرملاقات ہوئی، میرے خاوند کی چچی لاپتہ تھی مجھے جسٹس جاوید اقبال بار بار بلاتے تھے، مجھے جاوید اقبال کہتا تھا کہ آپ ہر بار خود آیا کریں،میں آپکی وجہ سے جلدی پیشی ڈالتا ہوں،مجھے بار بار بلاتا رہا اور پھر کہا کہ کسی اور مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیں گے، مجھے بلیک میلر کہا جاتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈز کیوں کیں،میرے پاس پورا ریکارڈ فون کالز اور ویڈیوز موجود ہیں،

    درخواست گزار طیبہ گل کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری مرد اہلکاروں نے کی میرے کپڑے پھاڑے گئے،میرے جسم پر زخموں کے نشان تھے،میرے ساتھ وہ ہوا جو بت ابھی نہیں سکتی میرا میڈیکل نہیں کروایا جاتا، مجھے جج نے جوڈیشل کردیا،مجھ سے جیل میں سادہ کاغذ پر دستخط کرواکر لکھا گیا کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتی،میرے خاوند کو پچاس دن جیل رکھ کر میری ویڈیوز دکھا کر اسے ہراساں کیا گیا،مجھ پر چالیس مقدمات درج کئے گئے مجھ پر کوئلہ ٹرک چوری کرنے، بچوں سے میری زیادتی کے مقدمات بنائے گئے، میں چاہتی ہوں کہ جاوید اقبال اور شہزاد سلیم میرے سامنے بیٹھے ہوں،انہوں نے دو کروڑ کا ریفرنس فائل کردیا،

    درخواست گزار طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مزید انکشاف کیا کہ نیب کے ایک ڈی جی نے مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی،مجھے سمجھ نہیں آئی میری ویڈیوز ایک چینل پر کیسے چل گئی،ترجمان نیب کی آڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں ترجمان نیب نے مجھے کہا کہ چیئرمین آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں،مجھے ترجمان نیب نے بتایا کہ ویڈیوز کی وجہ چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں،میں نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی ،مجھ سے نیوز ون کے مالک ملے جنہوں نے اپنے دفتر میں مجھ سے ویڈیوز آڈیوز لیکر چینل پرچلا دیں،پھر پی ٹی آئی کے تمام مالم جبہ طرز کے کیس ختم ہوگئے،

    چیئرمین پی اے سی نورعالم خان نے کہا کہ پی اے سی میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بلاکر ان کا موقف سنا جائے گا، برجیس طاہر نے کہا کہ سابق چیئرمین نیب کیوں نہیں آرہے،میں ایک سب کمیٹی پی اے سی کا کنوینئر تھا، ہیلی کاپٹر کیس میں بے نظیر بھٹو فاروق لغاری کو بلایا وہ آئے، اگر سابق صدر، ووزیر اعظم آسکتے ہیں تو سابق چیئرمین نیب کیوں نہیں آسکتے، چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ میں تو سابق چیئرمین نیب کے وارنٹ جاری کرنا چاہتا تھا،ارکان پی اے سی نے کہا کہ جاوید اقبال اگر عید کے بعد آنا چاہتے ہیں تو ایک موقع دے دیں،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا، طیبہ گل کے معاملے پر قائم مقام چیئرمین نیب کو تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا گیا، اور کہا گیا کہ جلد تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں، رپورٹ وزیراعظم اور چیف جسٹس کو بھجوائی جائے گی، کاس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

  • اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی  پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    وزیراعظم شہبازشریف سے ترکیہ کے نئے سفیر مہمت پاچاجی کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں ترکی کے نئے سفیر Mehmet Pacaci نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی. وزیراعظم نے سفیر کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی اور پاکستان میں کامیاب مدت کے لیے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات باہمی اعتماد، افہام و تفہیم پر مبنی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفیر کے دور میں دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مزید مضبوط ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جموں و کشمیر کے تنازع پر ترکی کی مستقل حمایت پر اظہار تشکر کیا.

    جون 2022 میں ترکی کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ ستمبر 2022 میں پاکستان میں اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل (HLSCC) کے 7ویں اجلاس کے لیے صدر رجب طیب ایردوان کا خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان اور ترکی کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور دونوں ممالک میں یادگاری تقریبات کے ذریعے اس سنگ میل کو احسن طریقے سے منانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پر عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے لیے وزیراعظم نے اسپیکرقومی اسمبلی کو خط لکھ دیا ،جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی وی پارلیمنٹ کے آغاز کی صورت میں انقلابی قدم اٹھایا گیا تھا،پارلیمان کا نہایت کلیدی حصہ مجالس قائمہ کے اجلاسوں کی کارروائی بھی براہ راست نشر کی جائے،اس ضمن میں مطلوبہ حدود اور مناسب طریقہ کار وضع کرلیاجائے، سیاسی کارکن اور آئین کی تخلیق کا کارنامہ انجام دینے والی جماعت پارلیمنٹ کی اہمیت سے آگاہ ہیں، مریم اورنگزیب کی ر ہنمائی میں اس مرحلے کو تیزی سے مکمل کرلیا جائے،امید ہے کہ ہم سب کی یہ کاوش پارلیمان کی توقیر بڑھائے گی،نوجوان آئین، حقوق، جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی اہمیت اور کارکردگی سے آگاہ ہوں گے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

    علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کا نوٹس لے لیا ،صدر مملکت نے وزیراعظم کے نام خط میں صحافیوں اور میڈیا پرسن کی ہراسیت اور تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات عدم برداشت کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں ، ایسے واقعات سے جمہوریت کے مستقبل اور آزادی ِاظہار ِرائے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، آئین کا آرٹیکل 19 اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے ،پاکستان میں خوف پیدا کرنے کے علاوہ ایسے واقعات بین الاقوامی توجہ میں آتے ہیں اور ملک کا تاثر داغدار کرتے ہیں ،مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے اپنی رپورٹوں میں صحافیوں کو ہراساں کرنے ، دھمکیاں دینے اور جسمانی تشدد کو پاکستان کی مایوس کن پوزیشن کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے،صدر مملکت نے خط میں صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1992 سے 2022 تک 96 صحافیوں کو قتل کیا گیا ،عزیز میمن اور ناظم جوکھیو کو قتل کیا گیا، مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے ایک مصروف علاقے سے دن دیہاڑے اغوا کیا گیااسد علی طور اور ابصار عالم کو نامعلوم افراد نے حملہ کر کے زخمی کر دیا،ایسا لگتا ہے کہ آزاد رائے رکھنے والے میڈیا پرسنز کو دہشت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،پچھلی حکومتوں کے اقدامات یا بے عملی کو ایسی خلاف ورزیوں کو دہرانے کے لیے وجہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ،یہ موازنہ ملک کو ترقی اور مثبت سمت میں لے جانے کے بجائے صحافیوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرنے کا جواز بن جائے گا، آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق صدر کو تمام شہریوں کے لیے آزادی اظہار اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو ممکن بنانا چاہیے،پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں دانشوروں اور صحافیوں پر ظلم و ستم نہیں ہونا چاہیے، وزیر اعظم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے صحافیوں اور میڈیا پرسن کے تحفظ کو یقینی بنائیں ،سیاست دان بھی صحافیوں کو نامعلوم اور دیگر عناصر کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں،آئین کے آرٹیکل 46 کے تحت وزیر اعظم اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات سے صدر کو آگاہ رکھیں ،

  • نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا

    نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا

    شہروزکاشف، فضل علی کو پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر میں بیس کیمپ سے گلگت پہنچا دیا گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نانگا پربت میں خراب موسم کے باعث پھنس جانے والے کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور فضل علی کو پاک آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر میں بیس کیمپ سے گلگت پہنچا دیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا، دونوں کوہ پیماوں کو پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کیا گیا، پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گلگت کے قریب جگلوٹ لینڈ کرگیا،

    ڈپٹی کمشنر دیامر کا کہنا ہے کہ نانگا پربت میں پھنسے 2 پاکستانی کوہ پیماوں کو آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کر لیا گیا کوہ پیما شیروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر پھنسے تھے،دونوں کوہ پیماوں کو کیمپ 1 سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر پر گلگت پہنچا دیاگیا ہے،

    پاک فوج بدھ کے روز سے نانگا پربت میں پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور فضل علی کو نکالنے کے لیے ہائی رسک ریسکیو آپریشن کو مربوط کر رہی تھی۔کوہ پیماوں کوریسکیوکرنے کے لیے آرمی ہیلی کاپٹر اور ایک گراونڈ سرچ ٹیم کام کررہی تھی ،آرمی ایوی ایشن پائلٹ نے جرات کے ساتھ خراب موسمی حالات کے باوجود گزشتہ روز ہیلی کاپٹر اڑائے گہرے بادلوں اور اونچائی زیادہ ہونے کی وجہ سے کوہ پیماوں کو نکالا نہیں جاسکا تھا تاہم اب انکو نکال لیا گیا ہے

    قبل ازیں گزشتہ روزنانگا پربت سے لاپتہ کوہ پیما شہروز کاشف کے والد نے آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی تھی، شہروز کاشف کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے گزشتہ روز نانگا پرپت سر کی تھی اب اس کو ریسکیو آپریشن کرکے تلاش کیا جائے بیٹے سے ٹریکر کے ذریعے 7350 فٹ کی بلندی تک رابطہ تھا شہروز 20 سال کی عمر میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے کر پاکستان کا نام روشن کرچکا ہے اس نے کنچن جنگا چوٹی سر کرکے فوجی شہداء کے نام کی تھی آپ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جلد آپرشن کرکے میرے بیٹے کو تلاش کیا جائے

    کوہ پیما شہروز کاشف نے منگل کی صبح نانگا پربت چوٹی سر کی تھی جبکہ موسم کی خرابی کے دوران وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ واپس آرہے تھے دوسری جانب براؤٹ پیک سر کرنیوالے شریف سدپارہ بھی انتہائی بلندی سے گر کر لاپتہ ہوگئے ہیں، ان کے اہل خانہ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرچ آپریشن کا مطالبہ کیا ہے

    محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا

    دنیا کے سب سے خوبصورت سٹیڈیم میں پہلا کرکٹ میچ علی سدپاہ کے نام

    پاکستانی کوہ پیماؤں نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی

    یوم پاکستان پریڈ،کوہ پیما سدپارہ کو خراج تحسین،پاک فضائیہ، بحریہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ

    پاکستانی نوجوان نے کم عمر ترین کوہ پیما کا اعزاز حاصل کر لیا

    کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیں‌مانی ؟تہلکہ خیز انکشافات

    محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

  • سیاستدان ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں یہ دیکھنا عدالت کا کام نہیں ہے،عدالت

    سیاستدان ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں یہ دیکھنا عدالت کا کام نہیں ہے،عدالت

    ارکان پارلیمنٹ کے صادق اورامین ہونے کے آئین آرٹیکل کی وضاحت کیلئے درخواست مسترد کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی درخواست گزار ملک مشتاق حسین ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتائیں کس رکن پارلیمنٹ کا کردار اچھا نہیں ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو کہا جاتا رہا کہ وہ سلیکٹڈ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام نمائندوں پر اعتماد کر کے ووٹ دیتے ہیں لاکھوں لوگوں کے ووٹ سے منتخب رکن پر کیچڑ مت اچھالیں،سابق وزیراعظم آج بھی پارلیمنٹ کے رکن ہیں، عدالت کو ارکان پارلیمنٹ کے کردار پر ذرا برابر بھی شک نہیں ہے،یہ عدالت سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی، سیاستدان ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں یہ دیکھنا عدالت کا کام نہیں ہے،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیف سٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے آئی جی اسلام آباد،سیکریٹری داخلہ ،چیف کمشنر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا،ڈی جی سیف سٹی کو بھی توہین عدالت کے نوٹسز جاری کر دیئے گئے،عدالت نے حکم دیا کہ فریقین تین ہفتے میں توہین عدالت کا جواب دیں،دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ملازمین کو کیو ں مستقل نہیں کیا گیا،

    حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

  • عمران کے محافظوں کی شہری پر فائرنگ: علی امین اور انچارج ٹائیگر فورس کیخلاف مقدمہ درج

    عمران کے محافظوں کی شہری پر فائرنگ: علی امین اور انچارج ٹائیگر فورس کیخلاف مقدمہ درج

    گزشتہ روز چیئرمین عمران خان کے گھر بنگلہ کے قریب فائرنگ کا ایک واقع پیش آیا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے، اس میں ایک شخص نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے محافظوں نے فائرنگ کرکے مجھے زخمی کردیا جبکہ ملزمان فائرنگ کے بعد گاڑی سمیت سابق وزیر اعظم عمران خان کے گھر بنی گالہ میں داخل ہوگئے.
    https://twitter.com/muhammadzareef_/status/1544689836413652992
    واقع کے بعد زخمی نوجوان کے ماموں زاد بھائی کی مدعیت میں تحریک انصاف کے رہنماء علی آمین گنڈہ پوراور انچارج ٹائگرفورس کرنل (ر) عاصم سمیت چھ افراد کے خلاف تھانہ بنی گالہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے.

    ملزمان کیخلاف درج مقدمہ کی گئی
    ایف آئی آر کی نقل

    ایف آئی آر کے مطابق: ‏متاثرہ نوجوان کے کزن کا کہنا ہے کہ  گاڑی کو ٹائیگر فورس کے 4 لوگوں نے روک رکھا تھا، اور ‏ملزمان نے کہا کہ ہم ٹائیگر فورس ہیں لہذا آپ گاڑی پیچھے کرو ورنہ جان سے مار دیں گے.

    ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ: گفتگو کے دوران ‏اچانک ملزمان نے ہم پر فائرنگ شروع کردی اور جس میں ایک نوجوان کو ٹانگ پر گولنے لگنے سے وہ زخمی ہوگیا. انہوں مزید کہا کہ ‏فائرنگ ٹائیگر فورس کے انچارج عاصم کی ایما پر  کی گئی تھی.

    جبکہ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ملزمان کے سامنے آنے پر وہ ان کو شناخت کر سکتے ہیں.

    علاوہ ازیں: کلاشنکوف سے فائرنگ کرنے والے شخص کا نام مثل خان جبکہ پستول سے فائر کرنے والے شخص کا نام عارف مروت ہے.

    انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ: ٹائیگر فورس نے آئے روز مقامی لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور بدمعاشی کرنا ایک معمول بنا رکھا ہے.

  • اب باتوں کا نہیں، عمل کا وقت ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    اب باتوں کا نہیں، عمل کا وقت ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اب باتوں کا نہیں، عمل کا وقت ہے، گوادر کی تعمیر و ترقی پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضامن ہے.

    نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے تمام تر حکومتی ادائیگیاں آن لائن ہو سکیں،سلمان صوفی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی ملک سے غربت و افلاس کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ انہوں نےکہا کہ گوادرسمیت پورے بلوچستان کو ترقی کے سفر میں دیگر علاقوں کے ہم پلہ کرنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہاربلوچستان اور گوادر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

    بجلی کے نرخوں میں اضافے کی سفارش کابینہ نے مسترد کی،وفاقی وزیر

     

    وزیراعظم نے کہا کہ گوادر بندرگاہ اپنے محل وقوع کے علاوہ دفاعی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے عالمی تجارت کے لیے انتہائی موزوں اور اہم ہے۔ ہمیں اس بندرگاہ کےراستے ملک کے بالائی اور شمالی علاقہ جات سے درآمدی سامان کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے گوادر سے ملک کے بالائی علاقوں تک سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا بہترین اور فعال نیٹ ورک کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمیں شبانہ روز محنت سے اس ضمن میں ہونے والی مجرمانہ کوتاہیوں کا ازالہ کرنا ہے، اور آگے بڑھنا ہے.

    وزیر اعظم نے برآمدی شعبے کی ترقی اور عوام، خصوصا گوادر کے لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے گوادر میں چینی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری بلوچستان اورسیکرٹری منصوبہ بندی کو چینی کمپنیوں کے وفد سے مشاورت کے ساتھ خوراک، زراعت اور پیٹروکیمیکلز میں سرمایہ کاری کے لیے قابل عمل پلان بنانے کی ہدایت کی۔

     

    عمران خان 73 کے آئین کو ختم کرکے آمرانہ حکومت کا منصوبہ بنا رہے تھے،خواجہ سعد رفیق

     

    وزیر اعظم کو چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری وزارت بحری امور، سیکرٹری ریلوے، چئیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور چئیرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی پاکستان (COPHC) نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    چئیرمین نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (NHA) نے وزیر اعظم کو CPEC کے مشرقی اور مغربی روٹس کے زریعے گوادر کی ملک کے بالائی اور شمالی علاقوں تک رسائی سے متعلق وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔وزیر اعظم نے تجارتی سامان کی ترسیل کو یقینی بنانے لے لیے NHA، وزارت بحری امور اور وزارت منصوبہ بندی کو عید کے فورا بعدمشترکہ جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    سیکرٹری وزارت بحری امور نے وزیر اعظم کو بتایا کہ گوادر پورٹ پر بریک واٹر پراجیکٹ (Concession Agreements) کے تحت تعمیر ہونا تھا۔ اس کے لیے 445 ملین ڈالر کی گرانٹ اور 484 ملین ڈالر کا قرض چینی حکومت نے فراہم کر رکھا ہے، لیکن یہ منصوبہ تعطل کا شکار رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس مجرمانہ غفلت پر برہمی کا اظہار کیا اور چئیرمین وزیر اعظم معائنہ کمیشن کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس پیشہ وارانہ غفلت کی تحقیق کر کے ایک ہفتے میں جامع رپورٹ پیش کریں۔

    چئیرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی پاکستان (COPHC) نے وزیر اعظم کو بتایا کہ 1.2 ملین گیلن روزانہ کی استعداد والا پلانٹ پاکستان جلد پہنچ جاۓ گا اور اس سال کے آخر تک پیداوار شروع کر دے گا۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان نے گوادر کے لیے شمسی توانائی کے منصوبے پر وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ گوادر شہر کے 35,500 گھرانوں میں سے 31,000 آن گرڈ جبکہ 4500 گھرانے آف گرڈ ہیں۔ آن گرڈ گھرانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئٹہ الیکٹریک سپلائی کمپنی (QESCO) اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) بنیادوں پر منی سولر پارک لگایا جا رہا ہے، جس کے لیے NEPRA پاور پر چیز ایگریمنٹ (Power Purchase Agreement) جاری کرے گا۔ تاہم آف گرڈ گھرانوں کے لیے 1.8 ارب روپے کی لاگت سے 3KW والے سولر ہوم سٹیشنز لگاۓ جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کوسارا عمل شفاف ٹینڈرنگ کے ذریعے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نےہدایت کی کہ عوام کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیےکم از کم تین سال کے لیے آفٹر سیل سروس (After Sale Service) مہیا کرنا سولرسسٹم مہیا کرنے والی کمپنی کی ذمہ داریوں میں شامل کیا جاۓ۔ انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری بحری امور اور سیکرٹری منصوبہ بندی کو اس حوالے سے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے عملے کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے صوبے میں جاری تمام ترقیاتی کاموں کی میپنگ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزیر داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی، کیونکہ معاشی ترقی کا خواب پر امن ماحول پیدا کیے بغیر شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

    سیکرٹری ریلوے نے وزیر اعظم کو گوادر اور ملک کے دیگر شہروں کے درمیان رابطے سے متعلق آگاہ کیا، اور اس سلسلے میں غیر موجود ریلوے ٹریک بچھانے سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے اسے موثر بنانے کےلیے تمام ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔

    اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیربحری امور سید فیصل سبزواری، وزیر توانائی انجینئیرخرم دستگیر، وزیر ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق،وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی۔

    علاوہ ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے مشیر وزیرِاعظم، انجنیئر امیر مقام ،وفاقی وزیر ریاض حسین پیرذادہ،شاہ غلام قادر،مشتاق منہاس،اور چوہدری طاعق فاروق نے ملاقاتیں کی ہیں. ملاقات میں ملک کی سیاسی صورت حال پر بات چیت کی گئی . ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخواہ کے عوام کے لیے سستے آٹے کی فراہمی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے.

  • عمران ریاض کی گرفتاری اور مبشر لقمان کا کھڑاک

    عمران ریاض کی گرفتاری اور مبشر لقمان کا کھڑاک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،عمران ریاض خان کی اینکر کے طور پر کام کرنے کی سفارش میں نے کی تھی، عمران ریاض خان اس بات کو خود تسلیم کرتا ہے

    مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کیس اتنا سادہ نہیں جتنا ہم لوگ سمجھ رہے ہیں، یہ ایک لائن ہے جو متعدد بار کراس ہوئی ہے، ہم سارے صحافی ہیں اور کبھی نہ کبھی ایک ریڈ لائن کراس کرتے ہیں لیکن اس کو کراس کر کے نہیں رکھتے اور ایسے سٹیج پر نہیں جاتے جہاں ذاتی لڑائی کو سٹیٹ کی لڑائی میں کنورٹ کر دیں، اس کا حق ہمیں نہیں، عمران ریاض سے میرے بڑے اچھے تعلقات ہیں جب وہ ایکسپریس میں کرائم رپورٹر تھے تو میں نے لاکھانی صاحب کو کہا تھا کہ اسکو اینکر بنائیں یہ اچھا اینکر بنے گا، عمران خود بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف لڑائی ہے، ایک طرف جدوجہد ہے، ایک طرف ملکی سلامتی ہے تین باتیں ہیں، ابھی جو صحافی کہہ رہے ہیں کہ صحافت پر حملہ ہوا، جب ڈاکٹر شاہد مسعود جیل میں تھے،حامد میر کو گولیاں لگیں، ابصار عالم کو گولیاں لگیں اسوقت وہ خوش تھے، اور اسکو پرسنل بنا دیا، غلط الزام بھی لگائے اور شرم نہیں آئی، سب چپ رہے، کوئی نہیں بولا، جب عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی کے خلاف مہم چلائی گئی بہت بری تھی، میں اپنے کیسز کا حوالہ نہیں دوں گا، آج میں پھر ایک کیس جاتا ہوں اسلام آباد ہائیکورٹ میں، عمران خان نے جاتے جاتے میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا، آج میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے وہ کیس جیتا ہوں، ہم ساروں کو مشکلیں برداشت کرنی پڑتی ہیں لیکن ہم اپنی ریڈ لائن کو نہیں کراس کرتے، پرسنل نہیں جاتے،آج میں چیف جسٹس کے نام سے وی لاگ کرنا شروع کر دوں اور انہیں تھریٹ کروں ،یا کسی سروس چیف یا کسی اور کو تو پھر تعزیرات پاکستان اور آئین پاکستان کے تحت انکی پوزیشن پروٹیکٹڈ ہے، اگر کچھ اعتراض ہے تو لابنگ کریں اور پارلیمنٹ میں ترمیم کر لیں، جب قانون ہے تو اسکا مطلب ہے قانون توڑ رہے ہیں، جب گرفتاری ہوئی تو خبریں آئیں کہ اسلام آباد ٹول پلازہ سے گرفتار کیا گیا، حالانکہ وہ کافی دور تھے، وہاں کیمرے تھے ، فوٹیج آئی، دوسری بات یہ ہے کہ جب مختلف مقدمات میں ہوتے ہیں تو نان بیل ایبل وارنٹ نکلتے ہیں، جب پیشیوں پر نہین جاتے تو ایسا ہوتا ہے، قانون کچھ نہ کچھ تو لحاظ کر جاتا ہے، نون اور ان نون آدمی کے لئے قانون میں فرق ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہتری یہ ہے کہ ثالثی کر کے اسکو افہام و تفہیم سے ختم کیا جائے، کچھ ایسے صحافی جو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں اور باقاعدہ جھوٹ بول رہے ہیں، پرائیویٹ نمبر فیڈ کر کے بندہ خود ہی کال کر سکتا ہے، آپ کوئی کھڑپینچ ہیں ؟ اگر ہوتے تو کر لیتے، ملکی اداروں کے سربراہوں بارے جو آپکے دل میں آتا ہے بول دیتے ہیں، ایسے نہیں ہوتا، عمران خان ایک پاپولر لیڈر ہے، اسکی رپورٹ کرنے سے نہیں روکا جا رہا، کونسا چینل ہے جو عمران خان کی خبر نہیں چلاتا، اسکی پریس کانفرنس نہیں چلاتا، جو اسکے جلسے کورنہیں کرتا، شہباز گل جو زبان استعمال کر رہے ہیں، وہ ٹی وی پر نہیں چلنی چاہئے،روکنی چاہئے، پروپیگنڈہ کرنا غلط ہے، مین سٹریم میڈیا پر پی ٹی آئی کو کوریج مل رہی ہے، جھوٹ بولنے کا حق نہین اور جب بولیں گے تو پھر تیار رہیں، اگر آپکو کوئی سمجھاتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ اگلا کمزور ہو گیا ہے تو ایسا نہیں ہوتا،

  • قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی منانے بارے اجلاس،ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھی شرکت

    قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی منانے بارے اجلاس،ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھی شرکت

    قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی بارے اجلاس،ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھی شرکت
    وزارت اطلاعات و نشریات اور آئی ایس پی آر نے ملک بھر میں قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات شایان شان طریقے سے منانے کے لئے پلان کا جائزہ لیا،

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں قیام پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کے حوالے سے مجوزہ تقریبات اور تیاریوں کے انعقاد کا جائزہ لیا گیا ،اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات اور آئی ایس پی آر کی طرف سے 75 سالہ تقریبات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ،جشن آزادی کے موقعے پر ملی نغموں کے مقابلے اور اس میں حصہ لینے والوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا گیا

    اجلاس کو بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملی نغمے کے مقابلوں میں حصہ لینے کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی تھی یکم سے 9 جولائی تک مقابلوں میں شریک ہونے والوں کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا شارٹ لسٹ کئے جانے والوں کو اسلام آباد بلایا جائے گا مقابلہ جیتنے والے امیدوار کا ملی نغمہ 11 سے 14 اگست تک قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہو گا دنیا بھر میں تمام پاکستانی سفارت خانوں میں بھی 75 ویں سالگرہ کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جائیں گی

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ملک گیر تقریبات کے انتظامات پر اطمینان کا اظہارکیا اور وزیر اطلاعات نے قومی تقریبات کی تیاریاں کرنے والی ٹیموں اور ڈیپارٹمنٹس کے جذبے کی تعریف کی

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈائمنڈ جوبلی کے جشن کو قومی یک جہتی، اتحاد اور یگانگت کے فروغ کا یادگار موقع بنایا جائے گا تقریبات میں ملک بھر کی تمام ثقافتوں اور وفاق پاکستان کے تمام رنگوں کو شامل کیا جائے گا نوجوانوں کی جشن آزادی تقریبات اور مقابلوں میں بھرپور شرکت یقینی بنائی جائے گی

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اینکر عمران ریاض خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ پاک فوج اور اداروں پر تنقید پر کتنی سزا کا حکومت نے بل پاس کیا ہے

    صحافی عمر چیمہ نے عمران ریاض خان کی ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ عمران ریاض خان کہتے ہیں کہ مسلح افواج اور ان کے اداروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کی بل کی منظوی دے دی گئی ہے ،یہ بل منظور کر لیا گیا ہے، کچھ سوالات پیدا ہوئے تھے کچھ چیزیں کلیئر ہو گئی ہیں، یہ کلیئر ہو گیا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت افواج پاکستان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ تنقید کی جا رہی ہے،نواز شریف نے شروع کیا، ہر جلسے جلوس میں فوج کو گالی دی،نعرے بازی کی، جرنیلوں کے نام لے کر گھٹیا قسم کے الزامات لگائے گئے، یہ سلسلہ انہوں نے شروع کیا،

    عمران ریاض خان کا مزید کہنا تھا کہ اس پروپیگنڈہ سے افواج پاکستان میں بے چینی پیدا ہوئی، پروپیگنڈہ اس لیول پر چلا گیا ہے کہ گلی محلوں میں چلا گیا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں نے آگ لگائی ہوئی ہے، پیڈ کیمپئن چل رہی ہے، یہ جو بے چینی ہے یہ ثابت ہوتی ہے کہ اسلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے

    عمران ریاض خان کا مزید کہنا تھا کہ جو فوج پر تنقید کرتے ہیں،گالی دیتے ہیں، فوج سے پیار کرنے والے انکو مؤثر جواب نہیں دیتے، تگڑا جواب ملنا چاہئے تھا، پروپیگنڈے کو روکنا چاہئے تھا

     

    واضح رہے کہ عمران ریاض خان کی یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب تحریک انصاف کی حکومت تھی، تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران ریاض خان نے پاک فوج پر کڑی تنقید شروع کر دی تھی،جس کے بعد عمران ریاض خان کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں مقدمات درج کر لئے گئے تھے،گزشتہ شب عمران ریاض خان کو گرفتار کیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر کہا ہے کہ عمران ریاض خان لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں کیونکہ گرفتاری پنجاب سے ہوئی

    دوسری جانب صحافیوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران ریاض خان صحافی نہیں رہے، صحافی نیوٹرل ہوتا ہے اور وہ صرف خبر دیتا ہے، عمران ریاض خان خبر دینے کی بجائے یوٹیوب اور ٹویٹر پر نہ صرف پی ٹی آئی کے ترجمان بنے ہوئے تھے بلکہ وہ پاک فوج کے خلاف بھی مسلسل تنقید کر رہے تھے

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • عمران خان نے 258 کنال اہلیہ جبکہ 240 فرح کے نام الاٹ کرائی۔ رانا  ثناءاللہ

    عمران خان نے 258 کنال اہلیہ جبکہ 240 فرح کے نام الاٹ کرائی۔ رانا ثناءاللہ

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ: عمران خان بنی گالہ میں بیٹھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ میں یہ بتا دوں گا میں ان سے پوچھتا ہوں انہوں نے دھرنا کیوں دیا تھا ؟

    ان کا کہنا تھا کہ: عمران خان کو ڈی چوک پر بیٹھنے نہیں دیا گیا تو کیا یہ ہراساں کرنا ہوگیا۔

    رانا ثناء نے واضح کیا کہ: عمران خان کی ان دھمکیوں سے کوئی بھی خوف زدہ نہیں ہوگا اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا.

    وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ: عدلیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے کیس پر سوموٹو لے اور اگر میرے خلاف منشیات کا کیس ثابت ہوجائے تو میں ہر قسم کی سزا کیلئے تیار ہوں۔

    رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ: عمران خان مجھے بتائیں کہ وہ پندرہ کلو ہیروئن کس کی تھی؟ اور عمران یہ بھی بتائیں کہ اراضی اسکینڈل میں 5 ارب روپے کا غبن کیسے کیا گیا؟
    انہوں نے دعوی کیا کہ: اراضی اسکینڈل میں اقرار نامہ، رجسٹری سمیت سب کچھ موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب سے اکٹھی ہونے والی رقم وزیراعلیٰ ہاؤس جاتی تھی یا بنی گالہ۔

    رانا نے کہا: ابھی تو صرف سوالات پوچھے جا رہے ہیں اور تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    ان کے مطابق: توشہ خانہ میں جو انہوں نے گھڑیاں لیں اور بیچی ہیں اسکے ثبوت موجود ہیں اوروہ دوکان بھی موجود ہے جہاں یہ گھڑیاں بیچی گئی تھیں،