Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 5 جولائی: جب بھٹو حکومت پر شب خون مارا گیا

    5 جولائی: جب بھٹو حکومت پر شب خون مارا گیا

    آج پانچ جولائی ہے اور یہ دن تاریخ کا وہ سیاح دن ہے جب ذولفقار علی بھٹو کی پہلی جمہوری حکومت پر رات کی تاریکی میں جنرل ضیاء الحق اور ان کے ہمنواؤں نے شب خوب مار کر مارشل لاء نافذ کردیا تھا.

    5 جولائی کی مناسبت سے پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہےکہ: 5 جولائی 1977 تاریک کا وہ دن ہے جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی جمہوری حکومت پر شب خون مار کر ملک کو بدترین آمریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔

    مزید کہا گیا کہ:پاکستان کی تاریخ میں 5 جولائی ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر منایا جائے گا۔

    وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کی رہنماء شیری رحمان کہتی ہے کہ: شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آئینی حکومت پر اگر شب خون نا مارا جاتا تو آج پاکستان کا دنیا میں ایک الگ مقام ہوتا، عوامی حکومت کا غیر آئینی طور پر خاتمہ نا ہوتا تو آج عوام کی تقدیر بدل چکی ہوتی۔۔ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام آئین اور جمہوریت میں ہے۔

    جنرل ضیاء الحق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو جھک کر ہاتھ ملاتے ہوئے

    انہوں نے مزید کہا کہ: ‏آمریت کے وہ 11 سال ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ملک میں تقسیم، نفرت اور انتہاپسندی کی ایسی بنیادیں رکھیں گئی جن سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکا۔ 45 سال پہلے ہونے والے اس آئینی اور جمہوری سانحہ کے اثرات ہمارہ آج تک پیچھا کر رہے ہیں۔

    ‏شیری رحمان کے مطابق: 45 سال پہلے آج کے دن جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی پہلی جمہوری حکومت اور آئین پر شب خون مارا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو، کارکنان اور تمام جمہوریت پسند عوام کو خراج پیش کرتی ہوں جنہوں نے آمریت کا ڈٹ کر مقابلا کیا، ضیاء الحق نے 11 سال آئین معطل کر کے ملک میں مارشل لا نافذ کیا۔

    سیاسیات کے پروفیسر طاہر نعیم ملک جنرل ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: "موروثیت پر تنقید کے نشتر برسانے والے مسلم لیگ (ضیا) کے صدر اعجاز الحق نے آج پانچ جولائی جو تاریخ کا سیاح دن ہے کو ایک مضمون میں اپنے والد جنرل ضیاء الحق کے نفاذ آمریت کو جائز، آئینی اور قانونی قرار دیا.

    سابق گورنر پنجاب اور پیلزپارٹی کے رہنماء سلمان تاثیر کی بییٹی سارہ تاثیر نے اپنے والد کی جنرل ضیاء مارشل لاء کے خلاف مزحمت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہاکہ: میں نے ضیاء دور کی خوفناک دہائی میں زندگی گزاری ہے لیکن اب مجھے خوشی ہے کہ ہم نے جمہوریت اور آزادی اظہار کے لیے فوجی حکمرانی کے خلاف جنگ لڑی تھی۔

    وہ مزید لکھتی ہیں: ضیاء نے میرے والد کو لاہور کے ایک قلعہ میں قید کر دیا تھا اور ہمیں معلوم تک نہ تھا کہ وہ مر چکے ہیں یا زندہ ہیں وہ مہینوں تک قید رہے لیکن ہم اس آمریت کے خلاف لڑے.


    جبکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایک بیان میں کہا کہ: ضیاء الحق کی آمریت پاکستان میں انتہاپسندی اور کلاشنکوف کلچر کی ماں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ: 5 جولائی قومی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے.

    بلاول کے مطابق: معاشرتی بیماریوں کے تانے بانے آمریت کے دور سے ملتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی منظر سے ہٹانے کے لیے عدالتی قتل کا اسٹیج تیار کیا گیا تھا.

    بلاول بھٹو زردری کہتے ہیں کہ: پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان جیلوں میں بند رہے اورعوام نے آمر کی غاصبانہ حکومت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

  • نیشنل سکیورٹی کا اہم اجلاس، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے،اعلامیہ

    پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں قومی پارلیمانی وسیاسی قیادت، چئیرمین سینٹ، پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی ، دفاع سے متعلق قومی اسمبلی وسینٹ کی مجالس قائمہ کے اراکین، وفاقی وزرا، صوبائی وزرا اعلی کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزیراعلی ، وزیراعظم آزاد ریاست جموں وکشمیر اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

    اجلاس کو قومی سلامتی کے امور اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی حالیہ بات چیت سے متعلق آگاہ کیاگیا۔ شرکاءنے اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کے خلاف پاکستان نے غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کا عالمی سطح پر اعتراف کیاگیا ہے۔ اجلاس نے قوم اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی وجہ سے ملک کے تمام حصوں میں ریاستی عمل داری یقینی ہوئی۔

    اجلاس نے اعادہ کیا کہ دستور پاکستان کے تحت طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے۔ اجلاس نے سانحہ ’اے۔ پی۔ ایس‘ سمیت دہشت گردی کا نشانہ بننے اور اِس کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہونے والوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست پاکستان اپنے شہداءکی قربانیوں اور متاثرہ خاندانوں کی امین ومحافظ تھی، ہے اور رہے گی۔

    اجلاس نے بہادر قبائلی عوام کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اُن کی قربانیوں اورکلیدی حمایت سے شدید مشکلات اور مصائب کے بعد امن واستحکام کی منزل حاصل ہوئی ۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ سکیورٹی فورسز کی موثراور عملی کارروائیاں کلیر ،ھولڈ، تعمیر اور اختیارات کی سول انتظامیہ کو منتقلی*‘ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اجلاس نے زور دے کر کہاکہ پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق ریاست ان علاقوں کو بااختیار بنانے اور اِن کی خوش حالی کے لئے پختہ عزم پر کاربند ہے۔

    افغان حکومت کی معاونت اور سول و فوجی حکام کی قیادت میں حکومت پاکستان کی کمیٹی کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کررہی ہے تاکہ علاقائی اور داخلی امن کو استحکام مل سکے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ حتمی نتائج پر عمل درآمددستور پاکستان کی حدود قیود کے اندر ضابطے کی کارروائی کی تکمیل اور حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد ہوگا۔ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے بات چیت کے اس عمل کو آگے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دے دی جبکہ ایک ’پارلیمانی اوورسائیٹ کمیٹی‘ تشکیل دینے کی بھی منظوری دی جوآئینی حدود میں اس عمل کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔اجلاس نے ’نیشنل ۔گرینڈ ۔ری کنسی لی۔ ایشن۔ ڈائیلاگ‘ کی اہمیت کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا کہ آج کی نشست اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کی بجلی مفت،حمزہ شہباز کا بڑا اعلان

     

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ دونوں ایوانوں کے 140 اراکین کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی گذشتہ ماہ ایک قرارداد کے ذریعے قومی اسمبلی ہال کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے سلسلہ میں استعمال کرنے کی منظوری دے چکی ہے۔

  • نواز شریف نے سی پیک اور عمران نےجی پیک بنایا،مریم نواز

    نواز شریف نے سی پیک اور عمران نےجی پیک بنایا،مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو پٹرول ڈیزل کی قیمتیں دل پر پتھر رکھ کر بڑھانی پڑی وہ معاہدہ کس نے کیا تھا،کس کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر ہمیں قیمتیں بڑھانی پڑی مجھے بتائیں؟،اگر قیمتیں نہ بڑھاتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، نواز شریف نے کہا عوام میں جاؤ اور ان کو بتاؤ مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں،مگر اپ جانتے ہیں کہ ئی قیمتیں کس کی وجہ سے برھی ہیں.آج حمزہ شہباز نے اعلان کیا ہے کہ جو 100 پونٹ سے کم بجلی کے یونٹ استعمال کرے گا اس کو بل نہیں آئے گا، مسلم لیگ ن نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ضزانہ خالی ہے مگر ہم عوام کو ریلیف دیں گے مریم نواز نے کہا کہ 75 سال میں کھبی ایسا ہوا کہ آپ بجلی استعمال کریں اور بل نہ ائے،انہوں نے کہا کہ میرا بس چلے تو سب کچھ آپ کیلئے لے آون،مشکل حالات میں بھی شہباز شریف نے یوٹیلیٹی سٹور پر قیمیتں نہیں بڑھائیں .ابھی ہمیں آئے ہوئے ڈھائی مہینے ہوئے ہیں انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب غریب پیٹ بھر کر روٹی کہائے گ، پاکستان کا پالا ایک ایسے شخص سے پڑ گیا ہے جو سب سے بڑا فتنہ سب سے بڑا بہروپیا ہے.

    مریم نواز نے پی پی 170 کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں وزکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہیمین تاریخ کے سب سے بڑے بہروپئے کا سامنا ہے،عون چوہدری ،علیم خان اور عظمی کارردار بنی گالہ سے طوبہ طوبہ کر کے نکلے،انہوں نے کہا کزشتہ 4 سالوں میں عمران خان نے دوستون کو بوازا،مریم نواز نے کہا فتنا خان پیجاب کے حق پر پھر داکہ ڈالنے کیلئے تیار ہے مگر پنجاب کے عوام جانے ہیں کہ تم کون ہو، فتنہ خان کی سیاست کا اب خاتمہ ہونے والا ہے .

    رہنما مسلم لیگ ن مریم نواز نے کہا کہ لوگوں کو کہتا تھا یہ امریکہ کے غلام ہیں ،لوگوں کو سازش اور خط کے پیچھے لگادیا، چار سال پاکستان آزاد تھا اور جب کرسی گئی تو سازش ہوگئی،کہتا تھا ڈونلڈ لو نے مجھے دھمکی دی تھی دو دن پہلے اپنا ایک بندہ ڈونلڈ لو کے پاس بھیجا ہمیں معاف کردو،لوگوں کو غدار کہتا رہا اللہ کا شکر ہے میرے حوالے سے کچھ ثابت نہ کرسکا ،اپنی پنکی پیرنی ثابت آگئی کہ مجھ پر یا فرح گوگی پر الزام لگائے تو غداری کا ٹرینڈ چلاؤ،مذہب کو دکھاوے، سیاست کے لئے استعمال کرنا اس سے بڑا جرم کوئی نہیں، فتنہ خان وہ شخص ہے مذہب کی آڑ میں گولیاں لگوائی، اپنی باری آئی تو پیچھے شخص نے کہا خان صاحب اسلامی ٹچ تو دیں، لوگوں کو چور اور ڈاکو کہنے والا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا وارداتیہ نکلا.

    مریم نواز نے کہا کہ علیم خان صاحب ہوں ، جہانگیر ترین ، عون چوہدری یہ پارٹی سے توبہ توبہ کرکے نکلے کہ اتنا کرپٹ آدمی ہے.نواز شریف پر الزامات لگے ایک بھی ثابت نہ ہوسکا، نواز شریف کو کوئی کبھی کوئی چھوڑ کر نہیں گیا اگر گیا تو اس نے کہا میں نے نواز شریف کو کرپٹ نہیں دیکھا،جو بھی نواز شریف کو چھوڑ کر گیا باہر جا کر نواز شریف کی شرافت کی ضمانت دی،انہون نے کہا کہ ایک فتنہ جس کی نظر پھر پنجاب پر ہے وہ پنجاب پر پھر ڈاکہ ڈالنا چاہتا ہے،پنجاب اور لاہور شیر کو ووٹ دیتا ہے،پنجاب کے دشمن کا نام عمران خان ہے، پنجاب اور پورے پاکستان سے تمھاری سیاست کا صفایا ہونے جارہا ہے،بارہ کروڑ کے صوبے پر ایک گینگ حکومت کررہا تھا یہ بنی گالہ گینگ تھا.

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس گینگ میں پنکی پیرنی، فرح گوگی، پنکی پیرنے کے بچے شامل تھے،شیر واپس آگیا ہے پنجاب دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گا،بتاؤ سی پیک کس نے بنایا تھا، نواز شریف نے سی پیک بنایا اور پاکستان میں سڑکوں کے جال بنائے،مگرعمران خان نے گوگی پنکی اکنامک کوری ڈور بنایا ،عوام کا مال سیدھا بنی گالہ جاتا تھا، وعدہ کرو چوہدری امین کو الیکشن جتواؤ گے، یہ بازو آپ کے آزمائے ہوئے ہیں آپ کو مایوس نہیں کریں گے ، وعدہ کرو ن لیگ کا ساتھ دو گے، نواز شریف، شہباز شریف اپنی ترقی کا ساتھ دو گے،سترہ جولائی کو کوئی بھی گھر نہ بیٹھنا یہ پنجاب کی ترقی کی جنگ ہے..انہوں نے کہا کہ ہمارے دل پر بوجھ ہے ،ہمیں راتوں کو نیند نہیں اتی.

  • سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیسے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا مودی اور بی جے پی کے حیران کن کارناموں کی نقل کرتے ہوئے، اپنی مقاصد میں کامیاب ہو رہا ہے، بی جے پی نے کیسے بھارت کے انتہا پسندوں کی کمزوریوں سے کھیل کر اپنے اقتدار کو طول دیا اور جو ماڈل انہوں نے دنیا بھر کے آئی ٹی ایکسپرٹس اکھٹے کر کے اپنے لیے تیار کیا وہ تحریک انصاف نے پاکستان میں استعمال کرتے ہوئے ، سب کو حیران کر دیا۔ اصل کہانی کیا ہے۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جون دو ہزار تیرہ میں ایک شخص نے کچھ ہوشربا حقائق سے پردہ اٹھایا۔ اس ملازم نے جب یہ حقائق سامنے رکھے تو امریکی خفیہ اداروں سمیت پوری دنیا میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس شخص نے بتایا کہ امریکی خفیہ اداروں کے پاس اپنے شہریوں کی ساری معلومات ہیں اور وہ ہر وقت ان پہ نظر رکھے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ اداروں کو شہریوں کے تمام موبائل فون تک رسائی حاصل ہے اور وہ فون کے کیمرہ سے انھیں دیکھ بھی سکتے ہیں ۔ نہ صرف اپنےشہری بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے بڑے بڑے رہنماوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے بعد اس شخص پر امریکی عدالتوں میں کئی کیس چلے، غداری کے الزامات لگے لیکن امریکی خفیہ اداروں سے کسی نے سوال نہ کیا۔سی آئی اے اور دوسرے خفیہ ادارے اس شخص کے پیچھے پڑ گئے اور پھر یہ شخص روس میں روپوش ہو گیا۔ یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ امریکی خفیہ ادارے National Security Agency میں کام کرنے والا ایک کمپیوٹر انجینئیر تھا۔ جس نے پہلے امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے میں بھی کام کیا۔کچھ ہی عرصے بعد لوگ سب کچھ بھول گئے۔وہ بھول گئے کہ کیسے سوتے جاگتے، چلتے پھرتے ہر وقت ان پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ امریکہ وہ واحد ملک نہیں ہے جہاں لوگوں پر ان کی مرضی کے بغیر ان پر نظر رکھی جا تی ہو۔ دنیا کی بہت سی بڑی بڑی Intelligence Agenciesاپنے شہریوں پر نظر رکھتی آئی ہیں۔اور مختلف طریقوں سے ان کی نجی زندگی میں دخل اندازی کی جاتی رہی ہے۔لیکن جو معلومات میں آج آپ کو بتانے جا رہا ہوں وہ آپ نے پہلے کبھی نہیں سنی ہونگی۔ میں آپ کو بتاوں گا کہ کس طرح ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان کی حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کی معلومات کے ساتھ کھیل رہی تھی، کس طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے صحافیوں ، سیاستدانوں اور سماجی کارکنان کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلائیں اور منفی پروپیگنڈا کیا ۔ کس طرح بڑے بڑے ITکے ماہرین کو بی جے پی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتی رہی ، او ر پھر یہ بھی بتاٴوں گا کہ پاکستان میں کونسی جماعت بی جے پی کے اس خطرناک ماڈل پر کام کر رہی ہے۔

    بھارت میں کام کرنے والی ایک نیوز ایجینسی The Wireنے دو سال کی تحقیق کے بعد بی جے پی کے کالے کارناموں کی ایک لمبی فہرست لوگوں کے سامنے رکھی جنھیں سن کر لوگوں کے ہوش اڑ گئے۔ بی جے پی بھارت کی حکمران جماعت ہے جو پچھلے آٹھ برسوں سے بھارت میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔بی جے پی انڈیا کی وہ جماعت ہے جس کی سیاست کی شروعات ہی مذہبی انتشار، جھوٹ اور سازش سے ہوتی ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے جہاں بھی قدم رکھے ، ہر طرف قتل و غارت کے نشانات چھوڑے ۔بابری مسجد گرانے کا واقعہ ہو یا پھر گجرات میں سینکڑوں مسلمانوں کا قتل۔ اتر پردیش میں مسیح برادری پر حملے ہوں یا پھر صحافیوں کی کردادکشی۔ ان کی ساری سیاست ہی تنازعات اور لوگوں پر سنگین قسم کے مظالم میں گھری ہوئی ہے۔ بی جے پی نے پہلے بھارت میں مختلف جگہ کام کرنے والے ITکے ماہرین کو بلایا اور پھر ان تمام لوگوں سے ایک ایسا سافٹ وئیر بنوایا جس کے بارے ‏میں آج تک کسی نے نہیں سنا تھا اور نہ ہی کوئی اسے بنانے کے بارے میں سوچ سکتا تھا۔اس سافٹ وئیر کا نام Tek fogتھا۔ جس کو حکمران جماعت اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر تی رہی۔ اس سافٹ وئیر کا مقصد مختلف طریقوں کے ذریعے غلط معلومات پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کرنا تھا۔ وہ تمام طریقے کیا تھے، اس پہ بات کرتے ہیں۔اس کے ذریعے مودی جماعت نے پہلے اپنے تمام شہریوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔ اس میں انڈیا کے شہریوں کی وہ تمام ضروری معلومات تھیں جن سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ وہ کیا کرتے ہیں، کہاں رہتے ہیں، ان کا تعلق کس مذہب سے ہے، حتی کہ وہ کس رنگ کے ہیں اور وہ مذہبی انتہا پسندی سمیت دیگر متنازعہ ایشوز میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں سمیت تمام معلومات بی جے پی کے اس سافٹ وئیر میں محفوظ تھیں۔ اس کو استعمال کرتے ہوئے جو بھی مودی کی جماعت کے خلاف کوئی بات کرتا یا آواز اٹھاتا، اس کے خلاف ایک پوری مہم شروع کروا دی جاتی۔ یہ بات پہلی بار اس وقت سامنے آئی جب انڈیا کی دوسری بڑی جماعت کانگریس کے خلاف ٹوئیٹر ٹرینڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیاتحقیق کے بعد پتہ چلا کہ وہ تما م ٹرینڈز اس سافٹ وئیر کے ذریعے سے بنائے گئے تھے جو بی جے پی جماعت نے بنایا تھا۔اسی سافٹ وئیر سے بڑی ہوشیاری کے ساتھ سوشل میڈیا پر چلنے والے مختلف ٹرینڈز کوHijack کیا جاتا تھا اور پھر بڑی ہوشیاری کے ساتھ بی جے پی اپنیfavorمیں بڑے بڑے سوشل میڈیا کے ٹرینڈز کھڑے کرتی تھی۔ بات صرف یہیں تک نہیں رکی بلکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ بی جے پی نے شہریوں کے موبائل فون تکhackکیے ہوئے تھے جن سے اپنے ہی ملک کے شہریوں پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ لوگوں کے وٹس ایپhackکیے جاتے اور پھر ان سے اپنی مرضی کی معلومات ان کے جاننے والوں تک بھیجی جاتیں۔

    یہ لوگ پہلے اس بات کا پتہ چلاتے کہ کون سے صحافی ان کے خلاف ہیں اور پھر ا نھی کے نام سے Fake articles کی لمبی فہرست بنائی جاتی، حقیقی نظر آنے والی Fake Websitesبنائی جاتی رہیں ، اور پھر ان کی مد د سے جھوٹی معلومات کو لوگوں تک پہنچایا جاتا۔ معصوم لوگ ان معلومات کو verifyکرنے کی بجائے ان پر ایمان لے آتے۔ مودی کی کرپشن، بد عنوانی اور ملک میں مذہبی انتشار پھیلانے کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں کے خلاف اسی سوفٹ وئیر کی مدد سے سوشل میڈیا پر جعلی اور خود ساختہ ٹرینڈز چلائے جاتے رہے۔ یہاں تک کہ ملک کے تمام بڑے بڑے صحافی بھی اس سے نہیں بچ سکے۔ لوگوں کی کردار کشی کی جاتی رہی، غداری کے الزامات لگائے جاتے رہے، اور انھیں سازش کے تحط ملک دشمن ثابت کیا جاتا رہا۔ان کا کوئی کام اتنا سادہ نہیں تھا بلکہ یہ لوگ بڑے Well Organizedطریقے سے لوگوں کو گمراہ کرتے رہے، ان کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھیلتے رہے اور پھر اپنی لگائی گئی اس آگ کو ذاتی سیاست کےلیے استعمال کرتے رہے۔ اگر کوئی خاتون صحافی ان کے جھوٹ کے خلاف کھڑی ہوتی تو اس کی کردار کشی کی ایک بڑی مہم شروع کی جاتی۔ ان کے کام کرنےکا طریقہ اتنا شاطرانہ تھا کہ جس کے خلاف بھی یہ لوگ مہم کا آغاز کرتے، کچھ ہی گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک وہ بات پہنچ جاتی جب نئی سازشی مہم کا آغاز کرنا ہوتا تو پھر پرانا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا جاتا۔ اس کام پہ بھاری سرمایہ اور ریاستی مشینری استعمال ہوتی رہی۔ اس کام میں یہ لوگ اکیلے شامل نہیں تھے بلکہ انڈیا کے بڑے بڑے IT Tycoonبھی شامل تھے۔Share Chatسوشل میڈیا کی ایک بہت بڑی ویب سائٹ ہے جو انڈیا میں کام کر رہی ہے ۔ یہ لوگ بھی ان کی اس مہم میں شریک تھے۔ ایک سروے کے بعد پتہ چلا کہ وہاں آنے والی سیاسی پوسٹس میں سے نوے فیصد ایسی تھیں جو صرف پروپیگنڈا اور دوسروں کے بارے میں نفرت پر مبنی تھیں۔اور اس طرح کے کئی سافٹ وئیر مزید تھے جو لوگوں میں غلط معلومات پھیلا رہے تھے۔ اور صرف اس کام کےلیے بی جے پی نے بڑے بڑے IT Cellsقائم کیے ہوئے تھے۔

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    لیکن ذرا اپنے ملک کی طرف آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہمارے ملک میں بھی وہی کچھ تو نہیں ہو رہا جس کا رونا ہم ہمسایہ ملک کی حالت زار پر رو رہے ہیں۔کچھ دن پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے ایک ٹویٹ کی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے آسٹریلیا کی ایک کمپنی کے ذریعے، سیاسی مخالفین اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف ٹرینڈز چلائے ، اور اس آسٹریلوی کمپنی کو اس کام کے عوض لاکھوں روپوں سے نوازا گیا۔اس سے کچھ ہی دن پہلے ہمارے اداروں نے بھی پاکستان سے بہت سے ایسے لوگوں کو گرفتار کیا جو جعلی ٹرینڈز چلا رہے تھے۔ اور ان تمام افراد کا تعلق بھی پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد ایسے بہت سے لوگوں کو صرف اس کام پہ رکھا جو عمران کان کے مخالف صحافیوں اور سیاستدانوں کو گالیاں دیں۔ہم نے دیکھا کہ عمران خان نے ایک ایسی فورس تیار کی جس کا مقصد کچھ اور نہیں صرف مخالفین کی آبرو ریزی کرنا تھا۔ سوشل میڈیا کے یہ جوان جو آج تحریک انصاف کے ٹائیگرز کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا کام لوگوں کی تضحیک اور نفرت کا بازار گرم رکھنا تھا۔ اور وہ اپنے اس مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔خواتین صحافیوں کے خلاف جو ٹرینڈز چلائے گئے، اور ان میں جو غلیظ زبان استعمال کی جاتی رہی اس کے بارے میں کس کو نہیں پتہ۔ان الفاظ کا ذکر تک نہیں کیا جا سکتاعمران خان نے نفرت پھیلانے والی جس نسل کی کچھ سال پہلے پرورش کی تھی، وہ آج جوان ہو چکی ہے۔ اور لوگوں کو گالیاں دینے کا کام بڑے اچھے انداز میں کر رہی ہے۔اس سب پر غور کیا جائے تو اس کے تانے بانے بھی وہیں جا کر ملتے ہیں جن کاموں پر BJPعمل پیرا تھی۔لیکن کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی بلکہ ابھی اور بہت سے حقائق ہیں جن سے پردہ اٹھانا باقی ہے۔

  • زمینوں پر قبضے،بشریٰ بی بی کا بھائی طلب

    زمینوں پر قبضے،بشریٰ بی بی کا بھائی طلب

    زمینوں پر قبضے،بشریٰ بی بی کا بھائی طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے

    عمران خان اور انکی اہلیہ کی کرپشن کی داستانیں سامنے آنے پر تھقیقاتی ادارے متحرک ہو گئے ہیں،
    سرکاری اراضی پر قبضہ کا الزام اینٹی کرپشن نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے بھائی کو تحقیقات کیلئے طلب کر لیا ، بشریٰ کے بھائی احمد مجبتیٰ پر دیپالپور میں سرکاری اراضی پر قبضے کا الزام ہے

    ملزمان کو 6 جولائی کو اینٹی کرپشن ساہیوال ریجن میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی گئی،بشریٰ بی بی کے بھائی نے سرکاری زمین پر قبضہ کروایا سرکاری مارکیٹ کی جگہ پر قبضہ کروا کر دکانیں تعمیر کی گئیں ، ملزمان کی جانب سے سرکاری خزانے کو20 کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے اپنی تاریخی کرپشن چھپانے کے لیے بیرونی سازش اورغداری کا بیانیہ گھڑا، فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے تسلیم کر لیا کہ آڈیو بشریٰ بی بی کی ہے دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں نے تصدیق کردی کہ بشریٰ بی بی، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور جھوٹے بیانیےکی سربراہ ہیں اور غداری کے سرٹیفکیٹ اور اداروں کے خلاف مہم کی ماسٹر مائنڈ ہیں اداروں کے خلاف مہم بشریٰ بی بی چلا رہی ہیں، بشریٰ بی بی نے اپنی تاریخی کرپشن چھپانے کے لیے بیرونی سازش اور غداری کا بیانیہ گھڑا، بیرون ملک سازش کے جھوٹے بیانیے کے چیمپئن امریکا سے معافیاں مانگتے اور منتیں ترلےکرتے پکڑے گئے ہیں

    اداروں کے خلاف مہم بشریٰ بی بی چلا رہی ہیں،مریم اورنگزیب

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • 100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کی بجلی مفت،حمزہ شہباز کا بڑا اعلان

    100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کی بجلی مفت،حمزہ شہباز کا بڑا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے صوبے میں 100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کو مفت بجلی دینےکا اعلان کردیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ آج ہمیں اس ملک کو بچانا ہے، ہمیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے، مجبوری کے تحت سخت فیصلے کیے گئے۔

    حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستانی قوم سے اور صوبے کی عوام سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں،سیاسی کارکن کسی اور نظر سے زندگی کو دیکھتا ہے،اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے رہتے ہیں، آج جو بات بھی ہونی چاہیے وہ صحیح ہونی چاہیے،چوہتر سال بعد قوم ایک دہرائے پر کھڑی ہے،سیاست نہیں ریاست کو بچانا ہے معیشت کو بچانا ہے، قوم دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے دو ہزار اٹھارہ میں ن لیگ حکومت مکمل کرکے گھر جارہی تھی، کیا گروتھ ریٹ پانچ اعشاریہ اٹھارہ نہیں تھا.

    عمران مجرموں کا سرغنہ ہے لہذا انکے خلاف مقدمہ بنایا جائے گا. وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کیا لوڈشیڈنگ زیرو پر نہیں تھی، ان چار سالوں میں ایسا کیا ہوگیا لوڈشیڈنگ کو یہ واپس لے آئے،میں کبھی عمران نیازی کی طرح نہیں کہوں گا نوے دن میں سب مسئلے حل ہوجائے گے، میں کبھی یہ نہیں کہوں گا آئی ایم ایف کے پاس چلا گیا تو خودکشی کرلوں گا، میں جب تک وزیر اعلی رہوں گا سچی بات کروں گا، چور ڈاکو کے نعرے نہیں لگاؤں گا ، ان نعروں سے عوام کے کان پک گئے ہیں، پچھلے تین مہینوں میں میرا سفر آئین اور قانون کے بحران سے بھرا پڑا ہے،کبھی وزیر اعلی کے الیکشن کے دوران ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کردیا جاتا ہے،میں آج تین مہینوں کا حساب دینے آیا ہوں،آج مجھے خوشی ہے کہ آج انٹرنیشنل مارکیٹ ساڑھے پانچ ہزار من گندم ریٹ پر جاچکی ہے، ہم نے پچاس لاکھ ٹن گندم کسانوں سے خریدی.

    گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت

     

    حمزہ شہباز نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ دو سو ارب کی سبسڈی بغیر کابینہ کے دے رہے ہیں کل نیب والے پوچھیں گے، ہم نے دس کلو آٹے کے تھیلے پر ایک سو ساٹھ روپے کم کیئے، آج شہروں میں غریب آدمی صحت کارڈ لے کر جاتا ہے تو ڈاکٹر نسخہ تھما دیتے ہیں،تمام اضلاع میں عام آدمی کو ٹی ایچ کیو اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں دوائیاں مفت مل رہی ہیں، ہم نے لوکل باڈیز کا بل اسمبلی سے پاس کروایا،میں نے کبھی یہ سنا نہیں کہ کہیں شخص یہ کہے کہ مجھے نکال دیا تو ایٹمی سسٹم ، فوج ، ادارے تباہ ہوجائیں گے، ڈونلڈ لو وہ شخص نہیں ہے جو کل تک غدار تھا آج تعلقات بنانے کی کوشش کررہے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ کہاں ہیں وہ گھڑیاں جو آپ نے پیسے بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لئے، میں صوبے میں بیٹھا ہوں کیوں فرح گوگی کا نام نہ لو، پچاس کروڑ کا پلاٹ آپ کی بیوی کی دوست نے اپنی والدہ کے نام کروالیا ،ایک کروڑ نوکریوں کی بات کرکے لاکھوں لوگوں کی نوکریاں کھا گئے عمران نیازی، فارن فنڈنگ کا فیصلہ بھی آنے والا ہے. اس سے بڑا کھلواڑ کیا ہوسکتا ہے کہ آپ کی کابینہ کو نہیں پتہ اور آئی ایم ایف سے خود فیصلے کئے، اس وقت کے وزیر خزانہ نے کہا کہ میں پٹرول سستا نہیں کروں گا ،دکھی اور بھاری دل سے پٹرول مہنگے کرنے کے فیصلے کیئے، یہ سخت فیصلے ضرور ہیں دن رات محنت کریں گے.

     

    تحریک انصاف نے امریکن سفیر ڈونلڈ لو سے معافی مانگ لی. خواجہ آصف

     

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ کہاں پر چار سال کی تباہی اور کہاں تین مہینے آئینی بحران کے ساتھ آئینی بحران،انھوں نے سی پیک کو بھی نشانہ بنایا ان پر کرپشن کے الزامات لگائے، آج ہم نے اس ملک کو بچانا ہے ، بجلی کا بل آتا ہے تو قیامت ڈھاتا ہے،صوبے کی عوام کا سب سے غریب ترین طبقے کو اس جولائی میں جنھوں نے سو یونٹ بجلی استعمال کی ہے ان کو مفت بجلی دیں گے،گھروں کو ہم ایک منصوبے کے تحت سولر پینلز دیں گے،کہتی ہیں فرح گوگی میری بیٹی ہے اس کو معاف کردو ،سترہ جولائی کو عوام فیصلہ کرے گ، ہم مفت بجلی دینے جارہے ہیں اس کے لئے سو ارب روپے رکھے ہیں، نوے لاکھ خاندان اس سے مستفید ہوگا، ہم خاندانوں کو سولر پینلز دیں گے ، لوگ خود اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، ہم غریب آدمی کو سولر پینلز دیں گے تاکہ آنے والے سالوں وہ خود کفیل ہو

  • عمران مجرموں کا سرغنہ ہے لہذا انکے خلاف مقدمہ بنایا جائے گا. وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ

    عمران مجرموں کا سرغنہ ہے لہذا انکے خلاف مقدمہ بنایا جائے گا. وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ

    مسلم لیگ ن کے رہنماء اور وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرح گوگی نامی خاتون سابق وزیراعظم عمران خان کے فرنٹ کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ: فرح گوگی کے ہر جگہ سے پلاٹ نکل رہے ہیں لہذا کیا ان سے نہیں پوچھنا جاناچاہئے کہ یہ سب کہاں سے آپ نے لیئے ہیں؟ اور یہ عمران خان کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں، افسران کی تعیناتی اور تبادلے تک میں انہوں نے بے پناہ پیسہ اکٹھا کیا ہے اور اسکی شہادتیں موجود ہیں۔

    وزیر داخلہ کے مطابق: فرح گوگی نے مختلف جگہوں سے بڑے بڑے کمیشن لیئے ہیں، اور پورے ملک میں سے انہوں نے عربوں روپے کمائے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ فرح گوگی کا باقاعدہ تعلق اور پشت پناہی بنگلہ سے ثابت ہوچکی ہے۔ کیونکہ یہ بنگلہ میں ایک فیملی ممبر کی طرح رہتی تھی۔

    رانا ثناءاللہ کہتے ہیں: ایسے مجرموں اور ان کے سرغنہ عمران خان پر ہاتھ نہیں ڈالنا ہے تو پھر یہ لوگ ایسے ہی کی گئی چوری چکاری ہڑپ کرکے لوگوں کو گالیاں دیتے رہیں گے۔

     وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ: عمران خان نے تاحال فرح گوگی کے باہر جانے پر کوئی جواب دیا ہے اور نہ ہی ان کے نام جو پلاٹ اور زمینیں نکلی ہیں اس پر کوئی جواب دیا لیکن وہ ہر روز مخالفین پر دن رات چوری کے الزامات لگاتے رہتے ہیں اور خود کو صادق و آمین کہتے ہیں حالانکہ خود چوروں اور مجرموں کے سرغنہ ہیں۔

    رانا ثناءاللہ نے بتایا: جب عمران خان نے اسلام آباد پر چڑھائی کی تھی تو اس وقت میں نے کابینہ سے تحریری طور پر اجازت لی تھی کہ ان کے خلاف مقدمہ بنایا جائے جس کے بعد کابینہ نے ایک سب کمیٹی بنائی اور اسے حکم دیا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے اور اب اس کا ایک اجلاس ہوچکا لیکن ابھی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ: قانون اپنا راستہ نکالے گا اور چونکہ یہ حکومت تحریک انصاف کے علاوہ تمام جماعتوں کے اتحاد سے مل کر بنائی گئی ہے اور کابینہ میں تمام جماعتوں کے لوگ موجودہ ہیں جس میں سب کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے تو ہمیں سب کی رائے کا احترام کرنا ہے .

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا: عمران خان بارے بہت سارے معاملات زیر غور ہیں جیسے آج کل یہ اداروں کیخلاف نفرت پھیلا رہے ہیں اس پر بھی مشاورت جاری  ہے اور کابینہ کی بنائی گئی سب کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے و تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مقدمہ بنایا جائے گا۔

  • گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت

    گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت

    گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون انڈسڑیل اور ایکسپورٹ سیکٹر کے مسائل کے حل کے لئے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انرجی ڈویژن انجینئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ چوہدری سالک حسین، وفاقی وزیر برائے کامرس سید نوید قمر، وفاقی وزیر برائے انڈسٹریز سید مرتضی محمود، وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک، ممبر قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی، صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان, متعلقہ وزارتوں کے اعلی حکام اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے نامور بزنس مین نے شرکت کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے انڈسٹریل اور بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کے انرجی سپلائی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے بزنس مین کے نمائندہ گروپ کو متعلقہ وزرا سے فوری طور پر ملاقات میں تفصیلا مسائل پر تبادلہ خیال کی ہدایت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے انڈسٹریل اور برآمدی سیکٹر کے مسائل کے موافق اور موضوع اقدامات کے ذریعے فوری حل میں ہی پاکستان کی معاشی بقاء پوشیدہ ہے۔۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاشی طور پر غیر معمولی صورتحال میں انڈسٹریل اور برآمدی سیکٹر کی ہرممکن مدد سے ہی پاکستان کی برآمدی مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں بہتر طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

    مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے صرف گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت کی تاکہ برآمدات کی پیداواری ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    رانا ثنا اللہ اور وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ کے انٹرویوز کا ٹرانسکرپٹ درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا گیا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی جانب سے رپورٹ فائل کی ہے ابھی ساڑھے دس بجے کابینہ کی میٹنگ ہے،اٹارنی جنرل اسپتال میں ہیں، انکی استدعا ہے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کورٹ کیا کرے کیا چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے ؟دو فورمز نے ڈکلیئر کردیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے پھر کیا ہوا ؟ جے آئی ٹی جس میں آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے ،یہ بڑا واضح ہے کہ موجودہ یا سابقہ حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، سب سے بہترین اینٹلی جنس ایجنسی نے یہ کیس جبری گمشدگی کا ڈکلیئر کیا ہے ، ارشد کیانی نے کہا کہ سابقہ حکومت کا تو پتہ نہیں اس حکومت نے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صرف آئین کے مطابق جائے گی بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، یہ معاملہ تو قومی سلامتی سے متعلقہ ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کے سینئر اور متعلقہ لوگوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2013 کا فیصلہ موجود ہے. یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے، یا تو کوئی شخص ذمہ داری لے کر ان تمام لوگوں کو بازیاب کرائے، ریاست کا جبری گمشدگی کے کیسز پر جو ردعمل ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرحت اللہ بابر صاحب نے منتخب حکومت اور پارلیمنٹ نے کیا کیا ہے، یہ تو آپ تسلیم کر رہے ہیں سویلین کنٹرول اور نگرانی نہیں ہے ، آئی ایس آئی صرف حکومت کا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے، آئی ایس آئی وزیراعظم کے براہ راست کنٹرول میں ہے، عدالت پبلک آفس ہولڈرز کو اپنی ذمہ داری شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گی،اگر وزیراعظم کسی بات سے منع کرے تو وہ اسے مانیں گے،جو آئین میں لکھا ہے یہ عدالت صرف اس کو تسلیم کریگی،آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومت بے بس ہیں؟ جس پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جی بالکل میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر وزیراعظم سے کہیں کہ عدالت کے سامنے آ کر یہ بیان دیں،یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، آئین کی کسی کو پرواہ نہیں تو لوگ متاثر ہو رہے ہیں،

    وزارت داخلہ کا نمائندہ عدالت کے سامنے پیش، وقت دینے کی استدعا کر دی، عدالت نے استفسار کیا کہ کون کون سے قانون نافذ کرنے والے ادارے آپکے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے اور رینجرز ہمارے ماتحت ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ انٹیلی جنس بیورو کس کے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے زیر کنٹرول ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری کس کے زیر کنٹرول ہے؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو کیا آپ ان سے پوچھتے نہیں ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ ہم پوچھتے ہیں ان سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے، عدالت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں،جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت کے سامنے رسمی باتیں مت کریں،اگر حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں، آخری موقع دے رہے ہیں اگر کچھ نہ ہوا تو چیف ایگزیکٹو کو طلب کرینگے،

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • نیب میں تبادلے، ڈی جی نیب لاہور کو بھی ہٹا دیا گیا

    نیب میں تبادلے، ڈی جی نیب لاہور کو بھی ہٹا دیا گیا

    قومی احتساب بیورو (نیب)میں تقرری و تبادلے منسوخ کرنے کی ہدایات جاری

    لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں ڈی جی نیب کی تقرری و تبادلوں پر الیکشن کمیشن نے کارروائی کی اور تبادلے منسوخ کروا دیئے

    پی پی 125جھنگ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر معاون برائے سیاسی امور وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا،ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران کی طرف سےتقرری و تبادلے کے اعلامیہ کو فوری منسوخ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر لاہور نے امیدوار رانا احسن کو 45ہزار جرمانہ کر دیا۔امیدوار رانا احسن نے پی پی 158لاہور میں ضابطہ اخلاق کی متعدد بار خلاف ورزی کی۔ ضابطہ اخلا ق کی خلاف ورزی پر معاون برائے سیاسی امور وزیر اعلیٰ پنجاب رابعہ فاروقی کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا، رابعہ فاروقی نے پی پی 125جھنگ میں حلقہ کا دورہ کیااور سرکاری وسائل کا استعمال کیا۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے رابعہ فاروقی کو وضاحت کیلئے 5جولائی کو طلب کر لیا۔

    قومی احتساب بیورو میں بڑے پیمانے پر تبادلے کر دیئے گئے ہیں ،ڈي جي نيب راولپنڈي عرفان منگی کو ہٹا دیا گیا ،عرفان منگی کو ٹریننگ اینڈ ریسرچ ڈویژن میں تعینات کر دیا گیا ،ڈی جی نیب بلوچستان فرمان اللہ کا تبادلہ راولپنڈی کر دیا گیا ،ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کو ہٹا دیا گیا ،مرزا سلطان محمد سلیم نئے ڈی جی نیب لاہور تعینات کر دیئے گئے، مرزا سلطان محمد سلیم پہلے ڈی جی نیب سکھر تعینات تھے ،مسعود عالم خان نئے ڈی جی نیب سکھر ہوں گے ،نعمان اسلم کو ڈی جی نیب بلوچستان لگا دیا گیا ،فیاض احمد قریشی نئے ڈی جی نیب ملتان تعینات کر دیئے گئے ہیں

    شہزاد سلیم اپریل 2017 سے دسمبر 2021 اور اپریل 2022 سے آج تک ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور کے اپنے دونوں دور میں شریف خاندان کے خلاف سرگرم رہے۔ لاہور ہائیکورٹ بھی شہزاد سلیم پر متعدد بار برہم ہو چکی تھی، شہزاد سلیم کے بطور ڈی جی نیب نامور سیاستدانوں اور بیوروکریٹس سمیت سرکاری افسران کی گرفتاریاں عمل میں آئیں تھی ہزاد سلیم کے ہی دور میں ن لیگی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا بعد میں ن لیگی رہنماؤں کو عدالتوں نے ضمانتوں پر رہا کیا ہے

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ