Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج
    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے

    مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،

    پولیس کے مطابق مقدمات تحریک انصاف کے ڈی چوک پر لانگ مارچ پر تھانہ کوہسار میں درج ہوئے ہیں دونوں مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد نے سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان و دیگررہنماؤں کی ایما پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایاجناح ایونیو پر میٹرو اسٹیشن کو آگ لگائی گئی، ایکسپریس چوک پر سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا

    درج مقدموں میں لکھا گیا کہ مظاہرین نے پولیس پارٹی پر پتھراؤ کیا، مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کے شیشے توڑے،درختوں کو آگ لگائی، ڈنڈے اٹھا کر آنے والے مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا، دو مقدموں میں کئی نامزد ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے،

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    دوسری جانب فواد چوہدری فراز چوہدری سمیت 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،گزشتہ روز پی ٹی ائی ریلی پولیس پارٹی پر پتھراؤ کار سرکار مداخلت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے پر فواد چودھری فراز چوہدری و دیگر 200 افراد کے خلاف تھانہ منگلا جہلم میں درج کیا گیا ہے ، مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ فواد چودھری میرپور سے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے جہلم آنا چاہتے تھے ، ریلی کے شرکاء کے پتھراؤ سے پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ پولیس وین سمیت دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ۔

  • عمران خان پاکستان کا نجات دہندہ،کل رات اسلام آباد میں کیا ہوا؟

    عمران خان پاکستان کا نجات دہندہ،کل رات اسلام آباد میں کیا ہوا؟

    عمران خان پاکستان کا نجات دہندہ،کل رات اسلام آباد میں کیا ہوا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہر روز نئی خبریں اس ملک میں آتی ہیں، کل جو اسلام آباد میں ہوا ہر ایک نے اپنی اپنی مرضی کی فوٹہج دیکھ لی اگر پی ٹی آئی کے سپورٹر ہیں یا خلاف مرضی کی فوٹیج ہے لیکن پاکستان کی فوٹیج ڈھونڈ رہے ہیں اب کونسی ایسی چیز ہے جس سے پاکستان کو یا آنے والی نسلوں کو فائدہ ہو، کل رات سے سوچ رہا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں ان نعروں پر پھر مجھے جواب مل گیا کیونکہ میں خود ان لوگوں میں سے تھا، میں نے بھی عمران خان پر اندھا اعتماد کیا، کئی سال کیا، ہر خامی، غلطی کو دیکھتے تھے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ستر لاکھ پاکستانی اوورسیز ہیں، پاکستان کے اندر رہنے والے بھی تنگ آچکے، ہر قسم کی حکومت دیکھ لی ، جمہوریت چاہتے ہیں، ہر وقت جمہوریت میں انکو جھٹکے لگے،اب سارے سوا کروڑ یا ڈیڑھ لوگ عشق پاکستان میں انہوں نے سیویر ڈھونڈنا شروع کر دیا، انکو عمران خان جیسا سیویر نظر آیا ، انہوں نے کہا کہ اسکو پیسے عہدے کی ضرورت نہیں، حسن ، پیسہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے، اسکا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ نہ گرا ہے نہ بکا ہے، اسلئے آئیڈیل ہے، اسکے پیچھے طویل برائڈنگ ہے، کچھ نہیں بھی تھا تو اسکو بنا دیا گیا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو کیا ملا؟ پاکستان کو ملا فریب ، جھوٹ، خود فریبی، ہم خود فریبی کا شکار ہو چکے ہیں، اسلام آباد میں 20 لاکھ لوگ نہیں آئے، پرامن لوگ نہیں آئے، جن لوگوں نے اس ملک کو بدلنے یا آزاد کرنے کا تہیہ کیا تھا وہاں انکی زبان، گالم گلوچ دیکھ کر ، خواتین کی حرکتیں دیکھ کر افسوس ہوا کہ یہ کیا ہے، کل جب شیریں مزاری کی ویڈیو دیکھ رہا تھا، پولیس والے کی دیکھ رہا تھا جب خاتون اسکے ساتھ بدتمیزی کررہی تھی تو وہ پولیس والا مجھےپڑھا لکھا نظر آیا، اس نے خاتون سے کوئی بدتمیزی نہیں کی اسکے برعکس پاکستانی ہائی کمیشن یوکے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جہانگیر چیکو نے وہاں پاکستان کے ملٹری اتاشی سے گالم گلوچ کی ہے، ایک اہلکار کو دھکے دے رہے ہیں، برطانیہ میں ان پر مقدمہ ہو جائے گا اور وہ اندر جائیں گے،

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    عمران خان اور بشری بی بی کی کونسی ویڈیوز ہیں جن سے پی ٹی آئی گھبرا رہی ہے:مبشرلقمان کا انکشاف

  • سیاست دان ہیں ،تلخیاں ہوتی ہیں،تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے،وزیراعظم

    سیاست دان ہیں ،تلخیاں ہوتی ہیں،تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے،وزیراعظم

    سیاست دان ہیں ،تلخیاں ہوتی ہیں،تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے،وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی قرارداد آئینی اور قانونی عمل سے کامیاب ہوئی ،
    قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موجود ہ حکومت آئینی عمل سے وجود میں آئی کیا کسی جماعت کو ملک میں بدامنی پھیلانے کی اجازت دی جاسکتی ہے ؟11اپریل کو میں نے حلف اٹھایا تھا، تمام ادارے پارلیمان سے پروان چڑھتے ہیں، ہم محنت کرکے اس معیشت کو بچانا چاہتے ہیں ، 10اپریل تاریخ ساز دن تھا ،کوئی دیوار نہیں پھلانگی گئی پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے تمام اداروں نے پارلیمنٹ کی کوک سے جنم لیا،جب محنت اور قوت سے کام کرتے ہیں تو پھر حالات بدل جاتے ہیں صاف اورشفاف انتخابات ہمارا ہدف ہے شفاف انتخابات کیلئےایوان نےقانون سازی کردی ملک میں ہچکولے کھاتی معیشت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہناتھا کہ اب جب ہم معیشت درست کررہےہیں ،جلاو گھیراو کا پیغام دیا گیا ،سابق حکومت نے معیشت کابیڑہ غرق کردیا کیا دوبارہ دھرنوں اورفتنہ وفساد کی ضرورت ہے؟عدلیہ حق میں فیصلہ دے تو یہ خوش نہ دے تو تنقید کرتے ہیں،ہم نے ماضی کو نہیں دہرانا ،ملک کو معاشی طور پر آگے لے کرجانا ہے ہم سیاست دان ہیں،تلخیاں ہوتی ہیں،تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ روزلاہورسے پی ٹی آئی رکن سے اسلحہ برآمد کیا گیا،وہ کدھر لے جایا جا رہا تھا ،لاہور میں پولیس اہلکار پر گولی چلائی گئی عدلیہ اوراداروں کوکس طرح بدنام کیا جا رہا ہے گزشتہ روز سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہم میں سے کسی نے ایک لفظ نہیں کہا،جومعاہدے ستمبر 2014 میں ہونے تھے وہ دھرنےکی وجہ سے مؤخرہوئے،خوبصورت اسلام آباد میں درختوں کو جلایا گیا،کیا کیا نہیں کیا گیا ،اتحادیوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا یہ ایوان اس طرح کاموں کی اجازت دے سکتی ہے ،اسپیکرپنجاب اسمبلی نے شہید اہلکارکے بارے میں کیا الفاظ استعمال کیے،کل 25 تاریخ کو یہاں پر گھرا وجلاو کی تحریک چل رہی تھی اگر کشمیریوں کا اتنا ہی احساس تھا تو کل اپنا مارچ منسوخ کرتا،ان کو شہیدوں اور ان کے لواحقین کی کوئی پروا نہیں تھا، عمران خان نے پٹرول کی قیمت کم کر کے ہمارے لیے سرنگیں بچھائیں ،ہسپتالوں میں ادویات مفت ملتی تھیں جسے انہوں نے بند کر دیا،انہوں نے غریب عوام کی زندگی تنگ کر دی ہے،اس جتھے کی ڈکٹیشن نہیں چلے گی،بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، میں کمیٹی بنانے کیلئے تیار ہوں،پاکستان کو عظیم ملک بنانے کیلئے اپنا خون بہا نے کیلئے تیار ہیں الیکشن کب ہوں گے اس کا فیصلہ ایوان کرے گا، حکومت کی مدت ایک سال دو مہینے رہتی ہے، اسپتالوں میں ادویات مفت ملتی تھیں جسے انہوں نے بند کر دیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ یاسین ملک عظیم ماں کا ایک عظیم بیٹا ہے ، یاسین ملک کو سزا کی پورا ایوان ایک آواز کے ساتھ بھرپورمذمت کرتا ہے جب تک ہمارے جسموں میں خون دوڑ رہا ہے ہم کشمیریوں کی آزادی کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • جہانگیر چیکو کی پاکستانی ہائی کمیشن میں گھس کر اہلکاروں سے بدتمیزی،گالیاں‌،

    جہانگیر چیکو کی پاکستانی ہائی کمیشن میں گھس کر اہلکاروں سے بدتمیزی،گالیاں‌،

    عمران خان کے قریبی دوست جہانگیر چیکو کی پاکستانی ہائی کمیشن میں گھس کر اہلکاروں سے بدتمیزی،گالیاں‌، کب درج ہو گا مقدمہ؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے اوورسیز انویسٹر جہانگیر چیکو کے نئے کارنامے سامنے آئے ہیں

    عمران خان کی حکومت جا چکی، جہانگیر چیکو دور حکومت میں ایک روپیہ بھی پاکستان نہ لا سکے البتہ اب حکومت جانے کے بعد مختلف مواقع پر وہ دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں، سعودی عرب میں جب وزیراعظم شہباز شریف اور انکا وفد گیا تو وہاں توہین آمیز کے واقعہ کے وقت بھی جہانگیر چیکو موجود تھے، اور کہا جا رہا تھا کہ اس سارے واقعہ کا ماسٹر مائنڈ جہانگیر چیکو ہے، جو واقعہ کے فوری بعد واپس فرار ہو گیا تھا

    اب جہانگیر چیکو کی ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے، باغی ٹی وی کو ملنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان کے قریبی دوست جہانگیر چیکو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن گئے اور وہاں پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار سے بدتمیزی کی، انکو دھمکیاں دیں، دھکے دیئے اور کہا کہ چاچا آپ مجھ سے مار کھاؤ گے، خاموش رہو، اس دوران بدتمیزی کی گئی، جہانگیر چیکو کے ساتھ کچھ اور افراد بھی تھے جو کھڑے ہو کر تماشا دیکھتے رہے ،جہانگیر چیکو نے ملٹری اتاشی کو گالیاں دیں، اس دوران جہانگیر چیکو ایک فون کال بھی کرتے ہیں جس کے بارے میں وہ بعد میں بتاتے ہیں کہ ڈیفنس اتاشی ہیں کرنل آصف، جہانگیر چیکو انکے ساتھ بھی بدتمیزی سے بات کرتے ہیں

    عمران خان کے قریبی دوست جہانگیر چیکو کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام کو دھمکیوں اور دھکے دینے پر انکے خلافد مقدم درج کروانا چاہئے، اور انکو گرفتار کروانا چاہئے،جس شخص کو جہانگیر چیکو نے دھمکیاں دیں وہ حکومت پاکستان کی جانب سے وہاں تعینات ہے، حکومت کو چاہئے کہ جہانگیر چیکو کے خلاف فوری ایکشن لے اور مقدمہ درج کروائے، میٹرو پولیٹن پولیس میں Section 39 Criminal justice act1988 کے تحت مقدمہ درج کروایا چاہئے، مقدمہ درج ہو گا تو پاکستانی ہائی کمیشن میں گھس کر دھمکیاں دینے، گالیاں دینے اور دھکے دینے پر دو سال کی سزا ہو سکتی ہے

    جہانگیر چیکو پر پہلے بھی مقدمات درج ہو چکے ہیں اور وہ جیل جا چکے ہیں ، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشر لقمان یو ٹیوب آفییشل چینل پر ایک ویڈیو میں انکشاف کیا تھا کہ جہانگیرچیکو مسجد نبوی واقعہ کے واقت ویڈیو بھی بنا رہے تھے اور نعرے بھی لگوا رہے تھے، آخر میں کسی نے کہا تھا کہ چیکو بھائی ، چیکو بھائی پھر پتہ چلا،صاحبزادہ جہانگیر کو شرم آنی چاہئے ان کی وجہ شہرت کیا ہے کئی لوگ جانتے ہیں، وہ پچھلے ڈھائی ،تین سال فارن انویسمنٹ لانے کے ایمبسڈر رہے ہیں اور کیا کچھ کیا ہے سب پتہ ہے، صاحبزادہ جہانگیر کو جیل ہو چکی ہے اور ان پر جرم ثابت ہو چکا ہے، میرا نام لے کر پوچھئے گا ان سے،رمضان کے بعد انکی حرکات سے پردہ اٹھاوں گا، صاحبزادہ جہانگیر نے سگی بہن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا فوزیہ قصوری کے،جس طرح انکا حق مارا گیا ،فوزیہ قصوری نےپاکستان کے لئے امریکہ کی نیشنلٹی سرنڈر تھی ، جہانگیر نے بر طانوی نہیں کی، وہ سازش کرنے والے لیکن رہنا وہیں ہے، یہ حال ہے انکا

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

    سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ مریم نواز کا ردعمل

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

  • ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم

    ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی پہنچ گئے وزیر اعظم شریف نے قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا ہے راجہ ریاض کو مبارکباد پیش کرتا ہوں یقین دلاتا ہوں کہ اپوزیشن والے جب بولنا چاہیں گے ان سے تعاون کیا جائے گا

    قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور کرلیا ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم ہو گئیں ،وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو کوئی بھی ووٹ کے حق سے محروم نہیں کرسکتا

    قومی اسمبلی اجلاس میں احتساب بیورو آرڈیننس 1999میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ترامیم کے مطابق نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ میں پیش کرنے پابند ہوگا، کیس دائر ہونے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکے گی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب اب 6ماہ کی حد کے اندر انکوئری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا، اس سے پہلے نیب 4 سال تک انکوائری شروع نہیں کرتا تھا نیب انکوائری کے لیے وقت کی حد کا پابند نہیں تھا تاہم اب نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ میں پیش کرنے پابند ہوگا نیب گرفتاری سے پہلے کافی ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا اور ریمانڈ 90 دن سے کم کرکے 14دن کردیا گیا بل کے مطابق وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے جبکہ چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا
    بل کے مطابق چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے، ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کاچارج ملے گا اور مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے کسی بھی ترقیاتی منصوبے یا اسکیم میں بےقائدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی، کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا اور احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی، احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی بل میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا، نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 40 روز میں مکمل ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائےگا، پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی جبکہ چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا

    قبل ازیں انتخابات سے متعلق ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا،بل وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیا،اسپیکر کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم قانون سازی ہے اس سے متعلق آگاہ کریں ،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں اس قانون میں بہت سی ترمیم کیں،ای وی ایم مشین کے ذریعے انتخابات کرانے کی ترمیم کی گئی،ای وی ایم مشین پر الیکشن کمیشن میں بہت سے اعتراضات اٹھائے بہت کم فرق سے اس بل کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا، یہ بل سینیٹ میں آیا تو اس کو کمیٹی میں بھیجا گیا،ہم نے اس کے اوپر بہت سے اجلاس کیے،قانون میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے الیکشن ریفارمز کی آڑ میں اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لے کرای وی ایم کا کہاگیا ای وی ایم کے حوالے سے الیکشن کمیشن، فافن اور پلڈاٹ کا بھی موقف دیا گیا، اوورسیز پاکستانیوں کو کوئی بھی ووٹ کے حق سے محروم نہیں کرسکتا ہمارے بارے میں افواہ ہے ہم اوورسیز کے ووٹ کے حق میں نہیں، ہم ای وی ایم اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں،و ہم صرف ڈرتے ہیں کہ جب آر ٹی ایس بیٹھ سکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے

    الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کا قاعدہ معطل کرنے کی تحریک منظورکر لی گئی الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 کی آج ہی ایوان سے منظوری لی جائے گی

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ریڈ زون کا دورہ کیا ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان رینجرز، پولیس اور ٹریفک پولیس انتظامیہ کا مشکور ہوں،ہم امن اور ترقی کی طر ف بڑھنے کے خواہاں ہیں، پاکستان انتشار اور بدامنی کا متحمل نہیں ہوسکتا، ملکی ترقی اور امن کے قیام میں سب کو کردارادا کرناہوگا، گزشتہ روز تمام قانون نافذکرنےوالے اداروں نے مثبت کردار اداکیا

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے سلمان صوفی کو پرائم منسٹر سٹریٹجک ریفارمز کا ہیڈ مقرر کر دیا۔ سلمان صوفی رضاکارانہ طور پر یہ ذمہ داری سرانجام دیں گے۔

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

     

  • سپریم کورٹ، کمرہ عدالت میں عمران خان کی ویڈیو چلا دی گئی

    سپریم کورٹ، کمرہ عدالت میں عمران خان کی ویڈیو چلا دی گئی

    سپریم کورٹ میں عمران خان کےخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ نے درخواست پر سماعت کی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے ،کہا گزشتہ روز اسلام آباد بار کی درخواست پر سماعت ہوئی گزشتہ روز 3 رکنی بینچ نے ایک آرڈر جاری کیا تھا،عدالت کی ہدایت پر پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دی گئی اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز کی سماعت کا عدالتی حکمنامہ پڑھ کر سنایا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو سننا چاہ رہے ہیں،کمرہ عدالت میں عمران خان کے آڈیو اور ویڈیو کلپس چلائے گئے وہ ویڈیو کلپ چلائے گئے جس میں عمران خان نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم عدالت میں کسی پر الزام لگانے کے لیے نہیں بیٹھے،سپریم کورٹ آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عدالتی احکامات پرعمل نہیں کیا گیا،آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ لوگ زخمی ہوئے،اسکے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایکشن لیاہم آئین کے محافظ اوربنیادی حقوق کا تحفظ کرنے والے ہیں، آئین کے آرٹیکل 16 اور 17 کے تحت حقوق حاصل ہیں لیکن وہ لامحدود نہیں ہیں گزشتہ روز عدالت نے جو آرڈر جاری کیا تھا وہ بیلنس میں تھا گزشتہ روز عدالت نے متوازن حکم جاری کیا تھا

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم کےبعد عمران خان نے کارکنوں کوپیغام جاری کیا،عمران خان نے کہا سپریم کورٹ نے اجازت دے دی ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے عمران خان کوپیغام درست نہ پہنچا ہو،ڈی چوک پر جو لوگ آئے وہ بغیر قیادت کے تھے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ روز جوکچھ ہوا اس میں پی ٹی آئی کی قیادت موجود نہیں تھی،عدالتی حکم کے مطابق سیاسی لیڈرشپ سے رابطے کا کہا گیا تھا،عدالت نے کہا کہ ہم اس معاملے پر مزید سماعت کرینگے،ساری صورتحال میں اصل معاملہ اختلافات ہیں،ہم اس سارے معاملے پر فیصلہ کرینگے،ہم سماعت کو دوسروں کے لیے مثال بنائیں گے عدالت نے گزشتہ روز کے فیصلے میں فریقین میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی ،عدالتی کارروائی مفروضوں کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی،عدالت نے گزشتہ روز کے فیصلے میں فریقین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی، کل عدالت نے شہریوں کے تحفظ کی کوشش احتجاج سے پہلے کی،عمومی طور پر عدالتی کارروائی واقعہ ہونے کے بعد ہوتی ہے، عدالت نے خود ثالت بننے کی ذمہ داری لی، پی ٹی آئی کو بھی حکومت پر کئی تحفظات ہوں گے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو کرائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ کل ہوا ہے وہ آج ختم ہوچکا ہے، عدالت انتظآمیہ کے اختیارات استعمال نہیں کرسکتی، عوام کے تحفظ کے لیے عدالت ہر وقت دستیاب ہے،عدالت نے عوام کے مفاد کے لیے چھاپے مارنے سےروکا تھا،عدالت چھاپے مارنے کے خلاف اپنا حکم برقرار رکھے گی،یہ عدالت عوام کے قانونی تحفظ کےلیے ہے،اگر قانون اور عوامی حقوق کی کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ عدالت ہروقت موجود ہے،کسی کو بھی بغیر جرم کے گرفتار نہ کیا جائے،یہ عدالتی حکم برقرار رکھتے ہیں، تحریک انصاف کی قیادت پرامن رہنے کے لیے ہدایات جاری کرے، املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے عدالتی احکامات پرعوام خود عمل کرے گی،اس معاملے میں عدالتی احکامات نیک نیتی پرمبنی ہیں،آج صبح ڈی چوک پرکیا ہوا تھا؟ یہ بتائیں،ایسے حالات سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے،تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتیں پارلیمانی جمہوریت کے لیے پرعزم ہیں،اٹآرنی جنرل صاحب حکومت قانون کے مطابق اپنا کام کرے، کل ہماری ٹی وی بند کردیے گئے،عدالتی حکم پر عوام خود عمل کرتی ہے،سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی سپریم کورٹ نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست مسترد کردی

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے گزشتہ روز سیاسی جماعتوں کو مل کر مذاکرات کا حکم دیا تھا ،سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کا اعتبار توڑا ہے،کارکنوں کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا، وہ قیادت کے سر پر چلتے ہیں، عدالت کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے،حکومت اور پی ٹی آئی کو عدالت کی اخلاقی سپورٹ چاہیے تو باہمی اعتماد قائم کریں،سیاسی کشیدگی سے ہمیشہ ملک کا نقصان ہوتا ہے،عدالت ٹھوس وجہ ہونے پر ہی کسی سیاسی نوعیت کے معاملہ میں مداخلت کرے گی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق سماعت آج ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی تھی سپریم کورٹ، پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق کیس کی سماعت سے متعلق جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل سماعت ملتوی کرتے ہیں توہین عدالت کی درخواست مقرر ہوچکی ہے ساڑھے 11 بجے درخواست پر سماعت کریں گے-

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے-

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے باوجود عمران خان نے اپنے کارکنان کو ڈی چوک بھیجا سکیورٹی انتظامات کے رد و بدل کے بعد پی ٹی آئی ورکرز نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، فائر بریگیڈ کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

    ریاست کی رٹ یقینی بنانے کیلئےفتنہ پرور ٹولےکو اسلام آباد سے باہر نکالنے کے احکامات دیئے، وزیر داخلہ

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

    سپرریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پرلارجر بینچ تشکیل دیدیا ہے چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ساڑھے 11 بجے ہو گی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسے کے لیے متبادل جگہ فراہم کی جائے اور راستے سے تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جلسے کے شرکاء ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے اور سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

    پی ٹی آئی لانگ مارچ:کارکنان ریڈ زون میں امریکی سفارتخانے کے قریب پہنچ گئے

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عوام نے فسادی اور فتنہ جتھہ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔سپریم کورٹ سے غلط بیانی کر کے اسلام آباد میں طے شدہ جگہ پر جلسہ کرنے کی اجازت لےکرعمران نیازی شہر میں داخل ہوئے اورڈی چوک جانےکا اعلان کرکے وعدہ خلافی کی عمران خان ساری رات کنٹینر سے توہین عدالت کا اعلان کرتے رہے میٹرو بس اسٹیشن جلائے گئے اور درختوں کو آگ لگائی گئی عوام نے سب دیکھا فسادی جتھہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ میں ساری رات جلاؤ گھیراؤ کرتا رہا املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے-

    الیکشن کا فیصلہ حکومت اور اتحادیوں کا ہے،وہ جب مرضی تاریخ کا اعلان کریں، وفاقی وزیر

  • الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی نے سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہئے، تحریک لبیک الیکشن کے لئے تیار ہے، سیاسی جماعتیں سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے لئے رابطہ کر رہی ہیں، اہل امیدواروں کو ٹکٹ دیں گے، کشمیر کا مقدمہ لڑنے والون کو عمران خان نے جیل میں ڈالااوراسی کے دور حکومت میں حافظ محمد سعید کو سزا ہوئی، یاسین ملک کی سزا پر خاموش نہیں رہ سکتے، عوامی خدمت بھی کرتے رہیں گے، فرانس نے ریاستی سطح پر گستاخی کی اسلئے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، تحریک انصاف کی حکومت نے سفارتخانوں میں جا کر معافیاں مانگیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج میں جس شخصیت کا انٹرویو کرنے جا رہا ہوں وہ اگلے الیکشن میں آپ سب کو حیران کرینگے وہ پاکستانی سیاست میں روشن ستارہ ہیں انہیں کچھ لوگ مذہبی شدت پسند بھی سمجھتے ہیں دو رائے ہیں ۔علامہ خادم رضوی کی وفات کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ جماعت تقسیم ہو جائے گی مگر کچھ نہیں ہوا ۔حافظ سعد رضوی کو جیل ہوئی لانگ مارچ ہوا اور اس میں 38 لوگ شہید ہوئے بے پناہ زخمی ہوئے سب کا نعرہ تھا کہ امیر کو رہا کرو اور کوئی مطالبہ نہیں تھا ۔ تحریک لبیک کا کیا مستقبل ہے ان پر بھارت کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگا انکو بھارت کا ایجنٹ کہنے والی تحریک انصاف کا حال آج دیکھ لیں

    حافظ سعد رضوی نے مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملکی حالات ایسے ہی ہیں مفادات کے لیے نعرے لگائے جاتے ہیں ملکی حالات جمہوریت میں احتجاج میں ٹھیک ہوتے ہیں جن لوگوں نے دور اقتدار میں ظلم کیا انکو اسکا حصہ مل رہا ہے اب ۔آج پولیس والے شہید ہوئے تو تحریک انصاف مذمت نہیں کر رہی ۔ہمارے مارچ میں ہوا تو ہمارے لوگ جنازے میں بھی شریک تھے ۔شہید کا مذاق کیوں ۔ چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی درست نہیں ہمارے گھروں میں بھی ایسا ہوا اور بہت کچھ لے گئے تھے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن جب بھی ہوں ہم تیار ہیں الیکشن اداروں کا کام ہے ۔جیسے حالات بنیں گے تحریک لبیک تیار ہے۔ ہمارے قائد نے ایک نظریہ بتایا تھا کہ ہمارے لوگ پیچھے رہیں گے اہل لوگوں کو ٹکٹ دیں گے فواد چودھری کو ٹکٹ دینے کے سوال پر کہا کہ اگر فواد چودھری بھی نظریاتی ہو گا تو ٹکٹ دیں گے نہیں تو نہیں ۔ تحریک انصاف کا مستقبل تاریک ہے ۔ سیٹ پر بیٹھ کر للکارا جاتا ہے،عمران خان وزیراعظم تھے تو کچھ نہ کیا اسکے باوجود انکی حکومت ایمبیسی میں تین بار جا کر معافی مانگی کہ غلطی ہو گئی ۔ ہمارے تک یہی اطلاع ہے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہناتھا کہ ملک میں جو بھی ہوتا ہے اسی وقت کے لیے ہوتا ہے .پاکستان کا مطلب جو منہ میں آئے بولے جا یہ مقصد آج لوگوں نے بنا لیا ہے .یہی حالت تحریک انصاف کی حکومت اور انکے وزیروں کی تھی ۔

    علماء کرام کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ دیندار کو مولوی کہا جاتا ہے اس سے نرم شخص کوئی نہیں ہوتا کہتے ہیں عورتوں پر تشدد مولوی کرتے ہیں کوئی ثابت تو کرے۔ مولوی پر امن ہیں حقوق کی بات کرتے ہیں جبکہ دیگر کو دیکھ لیں وہ خواتین کے ساتھ کیا کرتے ہیں، عافیہ صدیقی کو کیا مولویوں نے بیچا ہے یہ اپنی خواتین کی عزت نہیں کرتے مولوی بننا کوئی جرم نہیں ۔اصلاح کس کی پراثر ہو کچھ نہیں کہہ سکتے ۔جو آقا کے ناموس کی عزت نہیں کرے گا ہم اس کی عزت نہیں کریں گے ۔فرانس والا معاملہ ریاستی سطح پر ہوئی ہم اس ریاست کے خلاف اتنا بڑا اقدام اٹھایا ہے ۔بعض ملکوں میں حکومتیں ساتھ نہیں دیتی انفرادی فعل اور چیز ہے۔ہم ریاستی بائیکاٹ چاہتے تھے

    حافظ سعد رضوی کامزید کہنا تھا کہ لوگ ہم پر اعتبار اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ ناموس پر پہرہ دیا اسکے علاوہ ہم کوئی محبت کے لائق نہیں ۔ شادی کے بعد خوش ہوں جیل میں بھی خوش تھا ہر حال میں خوش ہوں ۔

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ نتیجہ نظر آتا ہے جب قائد نہیں ہو گا تو پھر لوگ شیل چلنے پر بھاگ جاتے ہیں جب آپ ہوا میں ہوں اور لوگ دھوپ پر ہوں ۔ جہاد کی کئی اصلطلاحین ہیں مذہبی کارڈ کھیلنے کا ہمیں کہتے تھے تو یہ کیا ہے ریاست مدینہ کا نام لے کر اگر عمران خان سیاست کر سکتا ہے تو ہم ناموس رسالت کا نام لے کر کیوں سیاست نہیں کر سکتے ۔دوہرا معیار کیوں ہے ہر جگہ دوہرا معیار ہے ہماری مرتبہ رویہ بدل جاتا ہے۔ ہم متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وسائل کم ہیں لیکن لوگ ساتھ ہیں الیکشن وقت پر ہونے چاہئے الیکشن ہونے کے بعد بھی عمران خان روئے گا تو پھر کیا کریں گے ۔جمہوریت مضبوط ہونی چاہئے ۔ لبیک نظریاتی جماعت ہے ہم کسی کے ساتھ الحاق کرنے کا بھی نہیں سوچا اور نہ کریں گے۔ جو نظریات سے متفق ہو اشرافیہ سے نہ ہو ۔ ہمارے ساتھ مشکل حالات میں بھی ایسا ہی کھڑا ہو جب الیکشن میں تھا ایسے بندے کو ٹکٹ دیں گے

    حافظ سعد رضوی نے تحریک لبیک کو حکومت ملنے کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ الیکشن جیت کر سود ختم کریں گے آئیں اسلامی ہے شقوں کو نافذ کریں گے ۔ نماز کے پڑھنے پر کسی کو اختلاف نہیں سود پر کسی کو اختلاف نہیں پاکستان ایک مسجد ہے ہر مسلمان کے لیے ۔ہم نے آج تک کسی کے بارے میں کافر کافر نہیں کہا ۔ معیشت دس دنوں میں خراب نہیں ہوئی بنیادی چیزیں صحیح کرنی ہوں گی ۔عالمی دباو کہ وجہ سے میڈیا پر ہماری وجہ سے پابندیاں ہیں فیس بک پر بھی تصویر نہیں ڈال سکتے پٹیشن اس پر دائر کی ہے ۔ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں بارود نہین ہم کشمیر کی بات کرتے ہیں ۔کشمیر کے نام پر قوم کو کھایا عملی بات نہیں کی ۔ کشمیر ویسے کہا جا رہا ہے کہ آپ ہار چکے۔ کشمیر جہاد کے بغیر نہیں ملے گا آخری حل یہی ہے۔پاکستانی کو عزت سے جینے کا حق ملنا چاہیے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کا خیال جن کو آیا تھا وہ آدھا گھنٹہ سڑک پر کھڑے رہے جنہوں نے کشمیر پر آواز اٹھائی انہیں عمران خان نے جیلوں میں ڈالا، حافظ محمد سعید کو یہاں عمران خان کی حکومت نے سزا دی کیا جرم ہے ۔کشمیر پر آواز اٹھانا اور سزا عمران خان کی حکومت میں ہوئی۔ یہاں غلامی کا دم بھرا اور کہتے ہیں آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں میں عمران خان کو منافق اعظم کہتا ہوں ۔

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ سیالکوٹ کا سانحہ ہوا تھا اس پر سب سے پہلے مذمتی بیان دیا تھا اگر کوئی بری ہو جائے یا مقدمہ کمزور ہو اسکا ذمہ دار تحریک لبیک تو نہیں ۔بہت سی سیاسی جماعتوں نے الحاق کے رابطے کئے ہیں پی ٹی آئی ۔ن لیگ سمیت سب نے رابطے کیے ۔جب وہ گولی ہمیں مارتے تھے تب بات کی تھی اب تو وہ خود شیل کھا رہے ہیں عمران خان کا مستقبل تاریک ہے اگر یہ درست ہو جائیں تو ساتھ ہوں گے ۔ سازش تھی تو وہان بیٹھ کر وضاحت دیتے بیانیہ مل گیا اپنی موت مر رہا تھا لیکن عدم اعتماد کے لیے زندہ کر دیا جب تک اللہ و رسول سے جنگ ہو گی معیشت صحیح نہیں گی ۔جب تک سود ختم نہیں ہوگا معیشت درست نہیں گی

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ سفارتخانوں سے رابطوں کے لیے ہم نے ایک پینل تشکیل دیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کو اہل اور میرٹ والے کو ہی ہر جگہ متعین کیا جائے ۔پہلے خدشات دور ہوں گے ۔فرانس والی بات پر درگزر نہیں کر سکتے ۔ ایک لمحے کے لیے بھی ہم نہیں بھول سکتے ہمارا ایک ہی بیانیہ ہے من سب نبیا فاقتلوہ ۔ اقلیتی ونگ بھی ہم نے بنایا ہے مسجد میں لوگ آ کر ملتے ہیں 2018 کے الیکشن میں ایک مسیحی خاتون کو ٹکٹ دیا وہ ہماری تبلیغ سے نہیں کردار سے مسلمان ہو گئیں ۔

    چولستان میں امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ چولستان کے لوگ بھی ناراض ہیں جہاں سگنل نہیں آتے ٹی وی نہیں وہاں مخالف بیانیہ کس نے دیا ۔ایک ایک پانی بوند کو ترسنے والے لوگ خلاف ہی بولیں گے چولستان کے حالات برے ہیں حکومتی سطح پر کچھ نہیں کیا گیا ۔چولستان ڈیزرٹ ریلی میں لاکھوں خرچ کیے جاتے شامیں منائی جاتی ہیں لیکن غریب کی مدد نہیں کی گئی ۔ کھانے پینے کے لیے کوئی اصول نہیں لیکن وہاں پاس ملتے ہیں کیوں ۔اشرافیہ کو ہی صرف پانی ملتا ہے۔

  • عمران خان اپنے محسن کو ڈسے بغیر نہیں رہ سکتا،مریم نواز

    عمران خان اپنے محسن کو ڈسے بغیر نہیں رہ سکتا،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ حریت رہنما یسین ملک کو سنائی جانے والی سزا کی مذمت کرتی ہوں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عمران خان ایک زندہ لاش ہے، میں نے وزیر اعظم سے درخواست کی تھی کہ عمران خان کو نہ روکیں اس کو آنے دیں۔ مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں نے آج عمران خان کو جو زناٹے دار تھپڑ مارا ہے اس کی گونج ہر جگہ سنائی گئی ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ آج قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلام پیش کرتی ہوں جنھوں نے فتنے کو بند باندھا،جنھوں نے کسی کی کرسی کی ہوس کی خاطر جانیں کھوئی ان کے لئے خصوصی دعا کی ہے،عمران خان زندہ لاش ہے میں وزیراعظم کو گذارش کی تھی ان کو آنے دیں، آج پاکستان کی قوم نے بیٹوں نے بزرگوں نے زناٹے دار تھپڑ عمران خان کے منہ پر رسید کیا ہے ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں، قوم نے اس احتجاج میں شامل نہ ہو کر ثابت کیا کہ فتنے کا ساتھ نہیں دینا، قوم کو پتہ ہے پاکستان کو ایک مضبوط معیشت کی ضرورت ہے
    لاہور: پاکستان کو وہ حکومت مل گئی ہے جس کے سربراہ نواز شریف ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف ہیں

    مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی عوام نے جو بدلہ عمران خان سے لیا ہے عثمان بزدار کو تین سال اس صوبے پر مسلط رکھا،پنجاب میں تبادلے ہوتے رہے فرح گوگی وہ پیسہ بنی گالہ لے کرجاتے رہی،عثمان بزدار ایک ڈمی وزیراعلی کو بٹھا صوبے کو تباہ کردیا گیا،رانا ثناء اللہ نے صحیح کہا کہ عمران خان کو تو مایوسی ہوئی ہمیں بھی مایوسی ہوئی ہے کہ یہ دو سو لوگ جمع نہیں کرسکے،کے پی کے کی عوام کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں کہ وہاں کے لوگوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا،انقلاب کے پی کے اور پنجاب کے درمیان کافی دیر معلق رہا تمام صوبوں کی عوام کا شکریہ ادا کرتی ہوں.

    مریم نواز نے کہا کہ اسد قیصر اور پرویز کھٹک نے ایاز صادق سے رابطہ کیا اور کہا کہ کچھ دیر بعد الیکشن کی تاریخ دے دیں ،ایاز صادق نے نواز شریف سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ میں دھونس میں نہیں آؤں گا،آج پھر انھوں نے ملاقات کا کہا اور شاہ محمود ، اسد عمر اور پرویز خٹک تھے ،انھوں نے کہا کہ سیف ایگزٹ دیا جائے کہ کوئی جلسہ کرنے دیں ہمیں ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ جلسہ کرلیں،ان کے بندے نے کہا کہ سپریم کورٹ ہمیں وہ گراؤنڈ دے دیں تاکہ دس ہزار لوگ آجائیں، ہمارے وکیل نے کہا کہ پریڈ گراؤنڈ میں آجائے لیکن انھوں نے کہا کہ وہی گراؤنڈ دے دیں، ابھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی سیاسی بھی نہیں سوجھی تھی کہ انھوں نے گرین بیلٹس اور گاڑیوں کو آگ لگادی.

    مریم نواز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی دیکھا کہ کس طرح ان کا فیصلہ پیروں تلے روندا گیا، آج دو معصوم بچے کنٹینر ہٹاتے نیچے گر کر جاں بحق ہوگئے،ان کے اپنے بچے لندن میں ہیں، اگر اتنا ہی جہاد کا شوق ہے تو اپنے بیوی بچوں اور بہنوں کو لے کر آؤ،آپ کیا سمجھے تھے کہ گوگی بچاؤ تحریک میں کیا لوگ باہر نکلے گے، اس تاریخی ناکامی شرمندگی کے بعد عمران خان کو مشؤرہ ہے کہ اس لاش کو بنی گالا لے جائیں اور اس ملک کو ترقی کرنے دیں، عمران خان کبھی بھی اپنے محسن کو ڈسے بغیر نہیں رہ سکتا، اس اسٹیبلشمنٹ نے ان کو وزیراعظم بنایا انھوں کو ڈس رہا ہے،ماجد خان سے علیم خان تک سب کو ڈسا،یہ شخص فساد چاہتا ہے جاؤ بنی گالہ جاؤ اللہ اللہ کرو .میں اداروں کو بہت دنوں سے ادب سے گزارش کررہی ہوں اس فتنے کا ہاتھ مضبوط نہیں کریں ،اسٹیبلشمنٹ اگر نیوٹرل ہوگئی ہے تو بہت اچھی بات ہے، تمام نمبرز چینج ہوگئے ہیں ،اس حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے ہر حکومت کو پانچ سال پورے کرنے چاہیے،سعودی عرب سے اچھی خوشخبری آئی ہے ، آئی ایم ایف سے بھی معاملات بہتری کی طرف جارہے ہیں،اگر یہ میڈیا پر حملہ کریں گے تو ہم سب دیکھ رہے ہیں اس کا بھرپور جواب دیں گے،ہمیں نظر آرہا تھا کہ عوام مہنگائی سے تنگ ہیں،تو میں نے شہباز صاحب سے کہا کہ ہمیں فریش مینڈیٹ چاہیئے جب ہمیں دوہزار تیرہ میں حکومت ملی تو بائیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی

    مریم نواز نے کہا کہ اب جب انھوں نے کہا کہ جھتے لے کر آرہے ہیں تو فیصلہ کیا کہ پاکستان کو ان جھتوں کے حوالے نہیں کرنا،عوام کو ن لیگ پسند ہے ہم اس حکومت کو جھتوں کے حوالے نہیں کریں گے،عمران خان نے فوج کے ادارے میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے،عمران خان ریٹائرڈ افسران کو جب جلسے میں دعوت دیتا ہے تو کہتا ہے تمھارے سپاہ سالار کو برا کہوں گا وہ سنو،آج جو بات تحریک انصاف کی قیادت سے ہم نے کرنی تھی اس کا جواب قوم نے دے دیا ہے،یہ بہت جذباتی ہوکر پارلیمینٹ سے نکلے تھے لیکن تنخواہیں دیکھ ان کی رالیں ٹپکتی رہتی ہے،عمران خان اب جائیں اللہ اللہ کریں بے گناہ لوگوں کو ان کی خواتین کو تکلیفیں دی، نواز شریف بہت جلد اپنے ملک میں واپس آئیں گے تیاری ہورہی ہے، یہ حکومت اتحادیوں کے ساتھ مل کر بنائی گئی ہے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تمام فیصلے ہورہے ہیں.

  • اسلام آباد وفاقی حکومت کے کنٹرول سے باہر:فوج طلب کرلی

    اسلام آباد وفاقی حکومت کے کنٹرول سے باہر:فوج طلب کرلی

    اسلام آباد:اسلام آباد وفاقی حکومت کے کنٹرول سے باہر:فوج سے مدد کی درخواست کردی،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت صورت حال وفاقی حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہی اور سارا دن اور ساری رات پولیس اور رینجرز کی مدد سے مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ ، ربڑ کی گولیوں کی بوچھاڑیں بھی پی ٹی آئی ورکرز کا جزبہ کم نہ کرسکیں اور حالات اس وقت یہ صورت حال اختیار کرگئے ہیں کہ ڈی چوک پر پی ٹی آئی ورکز نے ڈیرے ڈال دیئے

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزارت داخلہ نے بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظرفوج طلب کرلی ہے اور فوج کو حکما کہا ہے کہ وہ حکومت کے احکامات کی روشنی میں اہم مقامات کی حفاظت کرے

    گوجرانوالہ:پولیس حراست میں لیے گئے سابق وفاقی ویر حماد اظہر سے پولیس کے اعلی حکام کے مبینہ مذاکرات ہوچکے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پولیس نے اسلام آباد پیش قدمی نہ کرنے کی شرط پر حماد اظہر اور کارکنوں کو چھوڑ دیا

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حماد اظہر کو قافلے سمیت واپس لاہور کی طرف روانہ کردیا گیا،حماد اظہر اپنا قافلہ موٹروے سے اسلام آباد لے جانے کی کوشش کریں گے

    وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے مظاہرین سپریم کورٹ کے فیصلے کو ڈھال بنا کراسلام آباد شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور ان کی ٹیم نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ پی ٹی آئی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر حکومتی ٹیم نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنے تھے مگر اس سے پہلے ہی پی ٹی آئی نے ڈی چوک آنے کا اعلان کر دیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان ’حقیقی آزادی‘ لانگ مارچ کیلئے صوابی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچ گئے۔

    عمران خان نے حسن ابدال میں کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ عوام کا سمندر لے کر ڈی چوک آرہے ہیں، میرے ساتھ عوام کا سمندر ڈی چوک آ رہا ہے ، حکومت جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں دےگی وہاں سےنہیں جائیں گے۔

    اسلام آباد:عمران خان سب رکاوٹیں روندتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوگیاہے:سپریم کورٹ نوٹس لے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیرمریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ عمران خان تمام وعدوں اور معاہدوں کو پامال کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ چکا ہے ، عدالت عظمی اس بات کا نوٹس لے ،

    مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے موثر انتظامی فیصلوں کے ذریعے آج تمام دن فتنہ اعظم عمران صاحب کی قیادت میں جس فسادی، مسلح جتھے کو قابو کئے رکھا، عوام کے جان واملاک کی حفاظت کی، وہ معزز سپریم کورٹ کے فیصلے کو ڈھال بناتے اور واضح عدالتی احکامات کو کھلم کھلا روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں

     

    مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری وسائل،مشینری، پولیس کے ساتھ وفاق پر حملہ آور ہے۔ عدالت عظمی اس توہین عدالت کا نوٹس لے کر اپنے حکم پر عمل درآمد کرائے تاکہ عوام کا جان ومال محفوظ یقینی ہوسکے۔ پُر امن فسادی جتھا پاکستان کو آزادی دلانے کیلئے چائینہ چوک پہ میٹرو بس کو آگ لگاتے ہوئے
    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کو وزیرآباد بائی پاس سے حراست میں لے لیا گیا، اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس نے وزیرآباد بائی پاس پرپاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو گرفتار کرلیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گوجرانوالہ سے قافلے میں شامل 50افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا،پ

    پولیس کا کہنا ہے کہ ان تمام افراد کو تھانہ صدر وزیرآباد منتقل کر دیا گیا

    لبرٹی چوک پر پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان پر شیلنگ شروع کردی،لاہور کے علاقے لبرٹی چوک پر پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے دوبارہ شیلنگ شروع کردی۔لاہور کے علاقے لبرٹی چوک پر پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی جارہی ہے۔

     

     

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان کا پر امن احتجاج جاری تھا کہ اچانک پولیس نے شیلنگ شروع کی، لبرٹی چوک پر عوام کا جم غفیر موجود ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو شیلنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے لبرٹی چوک پر لوگوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت میں حکومت مخالف لانگ مارچ پنجاب کے شہر حسن ابدال پہنچ چکا ہے جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔

    حسن ابدال پہنچنے پر عمران خان نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قافلہ ڈی چوک پہنچ رہا ہے، پولیس نےپُرامن احتجاج پر ظالمانہ شیلنگ کی ہے، عوام کا سمندر دیکھیں ہم ڈی چوک آ رہے ہیں۔
    عمران خان نے کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ عوام کا سمندر ڈی چوک پہنچ رہا ہے، عوام کا سمندر دیکھ لیں، جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوگا تحریک جاری رہے گی۔
    وزیراعظم شہباز شریف نے لانگ مارچ ڈی چوک نہ آنے کی ہدایت کر دی،وزیراعظم شہباز شریف کو عمران خان کے لانگ مارچ سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ہے۔پیش کردہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کے لانگ مارچ میں کے پی اور جی بی پولیس بھی شامل ہے۔رپورٹ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسلام آباد میں بھی سیکیورٹی مسلح ہے۔

    وزیر اعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کو آپس میں قریب نہ ہونے دیا جائے، لانگ مارچ میں شامل پولیس فورس اور سیکیورٹی اہلکاروں میں فاصلہ یقینی بنایا جائے۔
    وزیر اعظم نے وزارت داخلہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کسی صورت ریڈ زون میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ میں شرکت کے لئے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد پارٹی قیادت کے ہمراہ قافلے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔

    تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لیے مختلف شہروں میں سڑکوں پر کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر دیے گئے ہیں جب کہ جی ٹی روڈ اور موٹر ویز پر رکاوٹیں لگا کر لاہور اور پشاور سے اسلام آباد جانے وا لے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت سے منسلک راولپنڈی میں میٹرو بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ، بس اڈے سمیت تعیلمی اداروں کو بند کر دیا گیا ہے اور جڑواں شہروں میں آج ہونے والے پرچے بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

    حکومت نے اسلام آباد میں ریڈ زون کی سیکیورٹی کے لیے پولیس، رینجرز اور ایف سی طلب کر لی ہے، ریڈ زون جانے والے تمام علاقے سیل ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے بعد عمران خان اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہے ہیں ۔ڈی چوک پر کارکنان پہنچ چکے ہیں سارا دن علاقوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس میں آنکھ مچولی جاری رہی ۔کارکںاں گرفتار ہوئے تو عدالتی حکم پر رہائی ہوئی۔ عمران خان پشاور سے صوابی آیے اور مارچ کی قیادت کرتے ہویے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں

    عمران خان کی نجی ٹی وی سے گفتگو کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ مجھے جیسے ہی وہاں سے حکم ملا ۔مین وہاں سے رابطے میں ہوں ۔اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان کچھ کھا بھی رہے ہیں

    عمران خان کو کون حکم دے رہا ہے عمران خان کس کے ساتھ رابطے میں ہیں ؟ اس پر چہ میگوئیاں جاری ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی نے دھرنے کے لیے محفوظ راستہ مانگا حکومت کی جانب سے انکار کر دیا گیا اور اسکے بعد پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کیا ہے ۔ بحرحال عمران خان کو کس کے حکم کا انتظار ہے وہ لانگ مارچ کس کے حکم پر کر رہے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا
    پی ٹی آئی کا پہلا قافلہ ڈی چوک پہنچ گیا،اطلاعات کے مطابق آزادی مارچ کے سلسلے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اعلان کردہ منزل ڈی چوک پر پی ٹی آئی کا پہلا قافلہ پہنچ گیا۔

     

     

    پولیس سے جھڑپوں، آنسوگیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور تمام رکاوٹیں عبور کر کے پی ٹی آئی کے کارکنان ڈی چوک پہنچ گئے۔ تحریک انصاف کی خواتین کارکنان کی بڑی تعداد بھی ڈی چوک پر عمران خان کے استقبال کے لیے موجود ہیں۔

    راولپنڈی، اسلام آباد، آزادکشمیر اور ملک کے دیگر شہروں سے کپتان کی کال پر کارکنان کی ڈی چوک آمد کا سلسلہ جاری ہے جب کہ عمران خان کی زیر قیادت پی ٹی آئی کا بڑا قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔

    آئی جی اسلام آباد اکبرناصرخان کا کہنا ہے کہ ریڈزون میں کسی کو آنےکی ہر گز اجازت نہیں کسی نے ریڈزون کےقریب آنےکی کوشش کی توسختی سے نمٹا جائےگا افسران کوہدایات کی گئی ہےکہ قوت کا استعمال نہ کریں مظاہرین سےبھی اپیل ہےکہ وہ پرامن رہیں۔

    کراچی ایئرپورٹ کی حدود میں تاحال بھاری پولیس نفری تعینات ہے۔تفصیلات کے مطابق مرد پولیس اہلکاروں کے ساتھ خواتین پولیس اہلکاروں کی بھی بھاری نفری تاحال اسٹار گیٹ کے مقام پر موجود ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں یا کارکنان کو دیکھتے ہی فوری حراست کے پولیس کو احکامات ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بھی پولیس تعینات کردی گئی ہے، پولیس کے سادہ لباس اہلکار بھی تعینات ہیں، راجہ اظہر کو بھی پولیس کے سادہ لباس اہلکاروں نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے حراست میں لیا۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لیے مختلف شہروں میں سڑکوں پر کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر دیئے گئے ہیں جبکہ جی ٹی روڈ اور موٹر ویز پر رکاوٹیں لگا کر لاہور اور پشاور سے اسلام آباد جانے وا لے راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت سے منسلک راولپنڈی میں میٹرو بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ، بس اڈے سمیت تعیلمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے اور جڑواں شہروں میں آج ہونے والے پرچے بھی ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔

    کراچی میں ماں اپنے ایک ماہ کے بچے کو لے کر پی ٹی آئی کے احتجاج میں پہنچ گئی۔خاتون کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے نکلے ہیں آج گھر میں میں نہیں بیٹھ سکتے۔

    واضح رہے کہ نمائش چورنگی پر پی ٹی آئی کے کارکنان نے دھرنا دے دیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں متعدد کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔

     

    https://twitter.com/abdulqa23811767/status/1529490560565772289

    سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہمارے کارکنان پر پولیس نے براہ راست فائرنگ کررہی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پولیس وردی میں پی پی کے جرائم پیشہ افراد نےاحتجاج پر حملہ کیا ہے ہمارے پرامن احتجاجی مظاہرے پر پولیس گردی جاری ہے۔

    عمران اسماعیل نے کہا کہ سندھ کو فلسطین، کشمیرسمجھ کرپولیس حملہ آورہوئی ہے سندھ پولیس نے مغل بادشاہوں کےغلاموں کومات دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو جواب دیں آپ کے صوبے میں انسانی حقوق ہیں ہمارا ایک ایک کارکن اس فسطائیت حکومت کا مقابلہ کرے گا۔
    لانگ مارچ میں پولیس کی دھکم پیل میں پاکستان تحریک انصاف کا کارکن جان کی بازی ہار گیا۔تفصیلات کے مطابق فیصل نامی کارکن کی موت مبینہ طور پر پولیس سے دھکم پیل میں راوی پل سے نیچے گرنے کے باعث ہوئی ہے۔

    پارٹی ذرائع کے مطابق کارکن کی شناخت فیصل کے نام سے ہوئی جو اقبال ٹاؤن کا رہائشیرہنما تحریک انصاف شفقت محمود کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیصل عباسی سابق کونسلر بھی تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ میں شرکت کے لئے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد پارٹی قیادت کے ہمراہ قافلے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔

    ہم پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں:بڑی تیزی سے منزل کی طرف بڑھ رہےہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سماجی راطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ہم پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں اور انشاءاللہ اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے۔

    اپنے پیغام میں سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس امپورٹڈ سرکار کی جانب سے جبر و فسطائیت کا کوئی بھی حربہ ہمیں ڈرا سکتا ہے اور نہ ہی ہمارے مارچ کا رستہ روک سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اٹک کے مقام پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جتنی بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں انکو ہٹا کر اپنی منزل پر پہنچیں گے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کا دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہو جاتا، نئے انتخابات کے اعلان تک ہم ڈی چوک پر بیٹھیں رہیں گے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت کسی

  • یاسین ملک کو عمر قید  کی سزا

    یاسین ملک کو عمر قید کی سزا

    جو سزا دینی ہے دے دیں،کوئی بھیک نہیں مانگوں گا، یاسین ملک کا عدالت سے مکالمہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی عدالت نے کشمیری حریت پسند رہنما اور جے کے ایل ایف کے چیئرمین یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، یاسین ملک کو سخت سیکورٹی میں عدالت پیش کیا گیا تھا، دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے یاسین ملک کے کیس کی سماعت آج بدھ کو بھی کی، سماعت کے دوران بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے یاسین ملک کو سزائے موت سنانے کی استدعا کی

    یاسین ملک نے عدالت میں جج سے مکالمہ کیا یسین ملک نے جواب دیتے ہوئے عدالت سے کہا ’میں یہاں کوئی بھیک نہیں مانگوں گا۔ آپ نے جو سزا دینی ہے دے دیجیے۔ لیکن میرے کچھ سوالات کا جواب دیجیے اگر میں دہشت گرد تھا تو انڈیا کے سات وزیراعظم مجھ سے ملنے کشمیر کیوں آتے رہے؟ اگر میں دہشت گرد تھا تو اس پورے کیس کے دوران میرے خلاف چارج شیٹ کیوں نہ فائل کی گئی؟ اگر میں دہشت گرد تھا تو وزیراعظم واجپائی کے دور میں مجھے پاسپورٹ کیوں جاری ہوا؟ ’اگر میں دہشت گرد تھا تو مجھے انڈیا سمیت دیگر ملکوں میں اہم جگہوں ہر لیکچر دینے کا موقع کیوں دیا گیا؟ عدالت نے یسین ملک کے سوالات کو نظر انداز کیا اور کہا کہ ان باتوں کا وقت گزر گیا، اب یہ بتائیں کہ آپ کو جو سزا تجویز کی گئی ہے اس پر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو بولیے یسین ملک نے کہا کہ میں عدالت سے بھیک نہیں مانگوں گا۔ جو عدالت کو ٹھیک لگتا وہ کرے۔

    جموں وکشمیر لبریشن فرنٹکے سربراہ یاسین کو گزشتہ سماعت میں عدالت نے قصور وار قرار دیا تھا ،یاسین ملک پر دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کا الزام ہے، ایسا پہلی با ر ہوا کہ یاسین ملک کو عدالت نے مجرم ٹھہرایا ہے، یاسین ملک پر غداری کا الزام بھی لگایا گیا ہے،

    دوسری جانب حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت یاسین ملک کو میڈیا کے سامنے پیش کرے یاسین ملک کا بھارتی عدالت میں کسی بھی قسم کا اعترافی بیان نا قابلِ یقین ہے یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حق خود ارادیت کی جدوجہد چلا رہا ہوں

    مشعال ملک کا کہنا ہے کہ یہ کیساانصاف ہےکہ یاسین ملک صاحب کوعدالت میں بولنے کاحق تک نہیں دیا جارہا اور نہ ہی انہیں وہ بنیادی حقوق حاصل ہیں جو ایک قیدی ،حتیٰ کہ انسان کو حاصل ہیں۔ بھارت کی جانب سے کسی خیر کی امید نہیں ہے

    سابق وزیراعظم ، ن لیگ کے رہنما نواز شریف نے کہا ہے کہ یاسین ملک کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں افسوسناک عمل ہے،کشمیری عوام کو ان کے حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا،عالمی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو یاسین ملک پر آواز بلند کرنی چاہیے،

    پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنانے کی سامنے آنے والی خبریں باعث تشویش ہیں، یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنانے کا بھارت کی عدالت کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں،بھارتی عدالتی فیصلہ بدنیتی پر مبنی اور سوچی سمجھی سازش ہے،یاسین ملک حریت رہنماء اور کشمیریوں کے حقوق کے لئے پرامن جدوجہد کرنے والے نڈر رہنماء ہیں، یاسین ملک کو سزا سنانا کشمیر کےحقوق کی پرامن جدوجہد کی تحریک کو کمزور کرنے کی سازش ہے، بھارت نے یاسین ملک کے کیس میں قانونی اور بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑائی ہیں، یاسین ملک کو وکیل نہ اپنےدفاع میں کچھ کہنے کا موقعہ دیا گیا اور نہ ہی وکیل فراہم کیا گیا اقوام متحدہ اور عالمی برادری حریت رہنماء کے خلاف یکطرفہ فیصلے کا نوٹس لے، پیپلزپارٹی ہر فورم پر کشمیر کے حقوق کی جنگ لڑتی رہے گی،

    آسیہ اندرابی کو علاج کی سہولیات نہ ملنے پر مشعال ملک کا بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    یاسین ملک کوجعلی مقدمے میں ملوث کرنے کے اقدام کی وزیراعظم نے کی مذمت