Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ‏سابق حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی،ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار

    ‏سابق حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی،ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار

    لاہور: ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی صحت خراب ہے، آرمی لیڈرشپ کا مؤقف ہے انہیں واپس آجانا چاہیے۔

    ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کا چین کا دورہ بہت اہم تھا، جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے آرمی چیف تھے جو صدر شی جن پنگ سے ملے، پاکستان کے چین کے ساتھ سٹرٹیجک اور تعلقات انتہائی اہم ہیں، چین نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، اس دورے کا مقصد دفاعی سمیت دیگر تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔ چین کے ساتھ تعلقات خطے میں امن کے لیے بہت اہم ہیں۔ چین نے پاکستان کی دفاعی قوت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی سکیورٹی فوج کودی گئی ہے۔ سی پیک سکیورٹی سے متعلق کسی قسم کی کمی نہیں آئی، حکومتی سطح پر سی پیک پر کام ہو رہا ہے، اس کی سکیورٹی پر خصوصی طور پر کام کیا جا رہا ہے، اس پر کوئی کمی نہیں آنے دی، پاکستان اور چین کی گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ رابطوں میں پیشرفت ہو رہی ہے، سپہ سالار کے دورہ چین کے دوران متعدد میمورنڈم پر دستخط ہوئے۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بجٹ میں ہمیشہ ڈیفنس بجٹ پر بحث شروع ہو جاتی ہے، بجٹ میں محدود وسائل کو مدنظر رکھا جاتا ہے، محدود وسائل کے اندر رہ کر تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں، بھارت نے ہمیشہ دفاعی بجٹ کو بڑھایا۔ 2020ء سے پاکستانی افواج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، مہنگائی کے تناسب سے کم ہوا ہے، دفاعی بجٹ جی ڈی پی پرسنٹ ایج میں نیچے جارہا ہے۔ آرمی چیف نے ہدایت دی ہے مشقوں کو بڑے پیمانوں کے بجائے چھوٹے پیمانے پر کر لیا جائے، چھوٹی مشقوں سے بچت ہو گی، افواج میں یوٹیلٹی بلز، ڈیزل، پٹرول کی مد میں بچت کی جا رہی ہے۔ پچھلے سال کورونا کی مد میں جو رقم ملی اس میں سے 6 ارب واپس کیا تھا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ حقائق کومسخ کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں، پچھلے کچھ عرصے سے افواج، لیڈر شپ کو پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اپنی رائے کا سب کوحق ہے لیکن جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پہلے بھی واضح کر چکا ہوں، سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا قومی سلامتی میٹنگ میں کسی نے نہیں کہا سازش نہیں ہوئی، ایسا بالکل بھی نہیں ہے، اجلاس کے دوران تینوں سروسزچیفس میٹنگ میں موجود تھے، میٹنگ میں شرکا کو ایجنسیزکی طرف سے آگاہ کیا گیا، کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ہیں، ایسا کچھ نہیں، میٹنگ میں کلیئر بتا دیا گیا تھا کہ کانسپرنسی کے شواہد نہیں ملے۔

    سابق صدر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) پرویزمشرف کی صحت بہت خراب ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے، لیڈرشپ کا مؤقف ہے کہ پرویز مشرف کو واپس آجانا چاہیے، سابق آرمی چیف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی نے کرنا ہے۔ فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔ ان کو واپس لانے کیلئے ان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا۔

  • عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل کے حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی بن گئی جو مذکورہ ڈیل اور آے آر یو کی کارروائی کے حوالے سے حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    گزشتہ دور حکومت میں برطانیہ سے آنے والے 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ ،وفاقی کابینہ نے این سی اے اور ملک ریاض خاندان کی خفیہ ڈیل کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے کابینہ نے ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی،3،12،19 کو یہ سیٹلمنٹ سیل کی گئی تھی جسے آج ڈی سیل کیا گیا ہے

    ملک ریاض نے کونسے وکیل کی خدمات حاصل کر لیں؟

    کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر نام نہاد مشیراحتساب تھے،شہزاد اکبر عمران خان دورحکومت میں معاملات مینج کرتے تھے ایک ڈاکومنٹ ترتیب دیاگیا جسے مصدق ملک شیئر کریں گے، گزشتہ دورحکومت میں کرپشن کے نئے طریقے دریافت کیے گئے پلان بنایا گیا کہ کس طرح 50 ارب روپے بچانا ہے اور حصہ نکالنا ہے،ڈاکومنٹ منظور کروا لیا گیا تو شہزاد اکبر وہاں گئے اور پورا عمل مکمل کروایا،وفاقی کابینہ نے ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ،کمیٹی ڈیل سے متعلق حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ بحریہ ٹاؤن کے 50 ارب روپے کو تحفظ فراہم کیا گیا، بحریہ ٹاؤن نے یہ زمین القادر ٹرسٹ کے نام ٹرانسفر کی،ڈونر بحریہ ٹاؤن اور دوسری جانب بشریٰ بی بی کے دستخط ہیں،خاتون اول خود اس کا حصہ تھیں اورخود سائن کیا،ٹرسٹی سابقہ خاتون اول اورعمران خان ہیں،بحریہ ٹاون کو پچاس ارب معاف کرنے پر بحریہ ٹاون کی طرف سے ساڑھے چار سو کنال زمین القادر ٹرسٹ کو دی گئی کاغذات میں مالیت 53 کروڑ روپے لکھی، اصل قیمت 10 گنا زیادہ ہے۔ روحانیت کے نام پر کوئی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی، صرف پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس کے نام کو القادر یونیورسٹی کا نام دے دیا۔ اور جب جب عمران خان وہاں گیا تو بحریہ ٹاؤن نے ہی فنکشنز کا انتظام کیا، اس کے علاوہ بھی تمام تعمیراتی اخراجات بحریہ ٹاؤن نے ہی کیے۔

    ملک ریاض ان دنوں خبروں میں ہیں، ملک ریاض کی آڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں، ایک آڈیو مبینہ طور پر ملک ریاض اور انکی بیٹی کی بات چیت ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو ہیروں کا ہار دینے اورکام کے بارے میں ہے، دوسری آڈیو عمران خان کا آصف زرداری کو پیغام پہنچانے کی ہے،دونوں آڈیو کی اگرچہ ملک ریاض تردید کر چکے ہیں تا ہم دوسری جانب یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک ریاض نے بنی گالہ کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح خان عرف فرح گوگی کے نام زمین بھی کروائی جس کی وجہ سے بھی وہ خبروں میں آئے


    شہزاد اکبر جو عمران خان کے دور حکومت میں وزیراعظم کے معاون خصوصی رہ چکے ہیں، انہوں نے اسوقت ایک ٹویٹ کی تھی جس میں کہا تھا کہ برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ ملک ریاض کے تصفیے کے بعد 19 کروڑ ملین پاؤنڈ (پاکستانی روپوں میں تقریباً 38 ارب) سپریم کورٹ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ میں جائیں گے 19 کروڑ میں سے 14 کروڑ پاؤنڈ (ساڑھے 28 ارب روپے) سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں سپریم کورٹ کو پیسے ملنے کے بعد حکومت کورٹ سے درخواست کرے گی کہ پیسے حکومت پاکستان کو دے دیے جائیں تا کہ عوام کی فلاح پر خرچ کیے جا سکیں

    شہزاد اکبر نے ٹویٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے کو صیغۂ راز میں رکھنے کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں حکومت نے برطانیہ سمیت دوسرے ملکوں سے بھی اسی طرح کے معاہدے کر رکھے ہیں اور ہمیں کروڑوں ڈالر آنے کی امید ہے اس لیے ہم صیغۂ راز میں رکھنے کے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • شہباز شریف کی کاوشیں رنگ لانے لگیں،انڈونیشیا پام آئل کی  فوری فراہمی پر رضامند

    شہباز شریف کی کاوشیں رنگ لانے لگیں،انڈونیشیا پام آئل کی فوری فراہمی پر رضامند

    وزیراعظم شہباز شریف کی عوام کو خوردنی تیل کی فراہمی کے لئے بڑی پیش رفت، برادر ملک انڈونیشیا پاکستان کو پام آئل فوری فراہم کرے گا.وزیراعظم شہباز شریف کی 10 جون کو انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی

    وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد کا انڈونیشیا کا دورہ اور انڈونیشیا کی وزارت تجارت سے مذاکرات کامیاب ہو گئے.خوردنی تیل سے بھرے 10 بحری جہاز آئندہ دو ہفتے میں انڈونیشیا اور ملائشیا سے پاکستان پہنچیں گے

    انڈونیشیا سے کل اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن خوردنی تیل پاکستان کو فراہم کیا جا رہا ہے . وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر صنعت و پیداوار سید مرتضی محمود نے انڈونیشیا کے ہم منصب سے معاملات طے کئے

    پاکستانی وفد کی درخواست پر انڈونیشیا کی وزارت تجارت نے تمام متعلقہ امور کو تیزی سے نمٹایا. 30 ہزار میٹرک ٹن خوردنی تیل سے بھرا پہلا بحری جہاز آج پاکستان روانہ ہو گا . انڈونیشیا کا دورہ کرنے والے وفد میں پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چئیرمن طارق اللہ صوفی اور تنظیم کے رکن رشید جان محمد بھی شامل تھے.

  • ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    دو سال سے پاکستان کو لافیئر کا سامنا رہا، بھارتی لابی نے مشکلات پیدا کیں ،گرے لسٹ میں ڈالا گیا

    بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے مگرپاک فوج نے سازش ناکام بنا دی فیٹف کے 27 میں سے 26 پوائنٹ پ عمل یقینی بناتے ہوئے وائٹ لسٹ کی طرف گامزن کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے احکامات پر جی ایچ کیو میں میجر جنرل کی سربراہی میں اسپیشل سیل قائم کیا گیا سیل نے مختلف محکموں، وزارتوں اور ایجنسیزکے درمیان کوآرڈی نیشن میکنزم بنایا سیل نے ہر پوائنٹ پر مکمل ایکشن پلان بنایا اورمحکموں، وزارتوں اور ایجنسیزسے عمل کروایا، سیل نے منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ ، بھتہ خوری، اغوا برائےتاوان اورٹارگٹ کلنگ پ مؤثرلائحہ عمل سے قابو پایا ، دہشتگردوں کی مالی معاونت سے متعلق تحقیقات اور تمام متعلقہ تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی

    اس ضمن میں FATFکے ایکشن پلان میں کافی پیش رفت ہوئی اور درج ذیل نکات پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

    دہشتگردوں کی مالی معاونت .اس ضمن میں 27میں سے26 پوائنٹ پر عمل درآمد مکمل ہو چکا ہے۔

    منی لانڈرنگ کے سدِ باب کیلئے 7میں سے 4پوائنٹس پر عمل درآمد ہوا جو کہ ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں بے مثال پیش رفت ہے۔ دہشتگردی کی روک تھا م کے لئے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی مالی معاونت، تحقیقات اور تمام متعلقہ تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی،

    پاکستان کی ترقی کو پائیدار اور مستحکم بنانے کیلء درج ذیل قوانین کے نفاذ کے ذریعے مختلف قانونی، مالی اور دہشتگردی سے متعلق پہلوؤ ں کو حل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل قوانین بنائے گئے۔

    اینٹی منی لاندرنگ ایکٹ میں ترامیم
    پاکستان کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے اینٹی منی لانڈرنگ(AML) اور کاؤنٹرفائننسنگ آف ٹیرا رزم(CFT) کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

    فارن ایکسچینج ریگولیٹری ایکٹ میں ترامیم
    حوالہٰ اور ہنڈی نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    باہمی قانونی معاونت کا ایکٹ
    اینٹی منی لانڈرنگ(AML) اور کاؤنٹر فائننسنگ آف ٹیرا رزم(CFT)کےخلاف بین الاقوامی سطح پر باہمی حمایت کی گئی۔

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

    واضح رہے کہ جرمنی میں آج سے 17جون کے دوران ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس ہوگا اجلاس میں پاکستان کو دیئے گئے دو ایکشن پلان کے 34 نکات پر عملدرآ مد کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا اور ان نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کےلیے پاکستان کے آن سائٹ وزٹ کا فیصلہ کیا جائے گا

    رپورٹس کے مطابق اس کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے رواں برس اکتوبر میں ہونے والے پلینری اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوگا ایف اے ٹی ایف کا جوائنٹ اسسمنٹ گروپ جولائی یا اگست میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 34 نکات پر مکمل عملدرآمد کرلیا ہے اور پاکستان نے کامیابی کیلئے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں

  • ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ تحقیقاتی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت سے متعلق ازخود نوٹس ،ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    سربمہر لفافوں میں تمام شواہد اور ریکارڈ پر مبنی ڈیجیٹل ریکارڈ یو ایس بی میں جمع کروایا گیا ،رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت ایف آئی اے کے 14 ہائی پروفائل ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے،اعجاز ہارون نام ای سی ایل سے نکلنے کے بعد بیرون ملک گئے تاحال واپس نہیں آئے،

    کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس محمد علی مظہر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کابینہ کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس کہاں ہیں؟ ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کمیٹی کا گزشتہ روز اجلاس ہوا منٹس ایک دو روز میں مل جائیں گے کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا کہا ہے اٹارنی جنرل آفس نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے متعلق ایس او پیز بنا کر اداروں کو بھجوا دی ہیں ای سی ایل سے نکالے گئے تمام ناموں کا الگ الگ کر کے دوبارہ سے جائزہ لیا جائے گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ جو ترمیم ہوچکی ہے یا جو نام ای سی ایل سے نکل گئے انکا کیا ہوگا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے سے مشاورت کے بعد رولز بنائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خود مستفید ہوئے ہیں وہ رولز میں ترمیم کیسے کر سکتے ہیں؟

    سپریم کورٹ نے ای سی ایل میں شامل افراد کو بیرون ملک سفر کیلئے وزارت داخلہ سے اجازت لینے کا حکم دے دیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ بیرون ملک جانے سے پہلے متعلقہ شخص وزارت داخلہ سے اجازت لے گا، جب تک حکومت قانون سازی نہیں کر لیتی یہ عبوری طریقہ کار رائج رہے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی حاکمیت چاہتے ہیں،سوال اہم ہے کہ مقتدر لوگوں نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے فائدہ اٹھایا، جن لوگوں کے مقدمات زیر التوا ہیں ان کیلئے مروجہ طریقہ کارپرسمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے موجودہ حالات منفرد نوعیت کے ہیں،پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت پارلیمنٹ سے باہر جاچکی ہے، ملک معاشی بحران کا شکار ہے،ایگزیکٹو کو اپنے اختیارات آئین و قانون کی روشنی میں استعمال کرنا ہونگے،کسی بھی تحقیقاتی ادارے،ایجنسی اور ریاستی عضو کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیں گے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل کے حوالے سے کوئی قانونی وجہ ہے تو بیان کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ ایسی کیا جلدی تھی کہ دو دن میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی منظوری دی گئی؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کیا حکومت کا یہ جواب ہے کہ ماضی میں ہوتا رہا تو اب بھی ہوگا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بااختیار افراد نے ترمیم کرکے اسے سے فائدہ اٹھایا،کسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی ضمانت حاصل کرنے کے اقدام کی تعریف کی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اچھا لگا کہ وزیراعظم اور وزیراعلی ٰنے خود پیش ہوکر ضمانت کرائی، ضمانت کے حکم نامے کا بھی جائزہ لینگے ،کابینہ ارکان نے تو بظاہر ای سی ایل کو ختم ہی کر دیا،

    واضح رہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنے تھے تو اسکے بعد ای سی ایل سے کئی لوگوں کے نام نکالے گئے تھے اور مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہونے والے افسران کا بھی تبادلہ کیا گیا تھا جس پر سپرہم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا،اس کیس میں کئی سماعتیں ہو چکی ہیں، آخری سماعت پر سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے تفصیلی جواب طلب کیا تھا جو آج ایف آئی اے نے جمع کروا دیا ہے

    گزشتہ سماعت پرچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی انفرادیت کے مطابق تفصیلات نہیں چاہتے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد ریویو کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا،ممبران کا نام ای سی ایل میں ہونا اور رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہے، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے، ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی، عرفان قادر نے کہا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں مجھے سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر ہمیں دلائل دیں ایسے نہیں سن سکتے،عرفان قادر نے کہا کہ اہم کیس ہے،دو جماعتوں میں کشیدگی ہے عدالت بھی بیچ میں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی نے فیصلہ روکنے کی درخواست کی دائر

    فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی نے فیصلہ روکنے کی درخواست کی دائر

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی مبینہ ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے درخواست گزار اکبر ایس بابر قانونی ٹیم کے ہمراہ الیکشن کمیشن پیش ہوئے ،انور منصور نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی یہ کیس زیر سماعت ہے پی ٹی آئی وکیل نے کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کردی، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست پر آج فیصلہ کر دیں گے،اکبر ایس بابر کے وکیل نے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کر دی،چیف الیکشن کمشنر نے اکبر ایس بابر کے وکیل کو بات کرنے سے روک دیا ، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو آپ کو سن لیں گے،

    الیکشن کمیشن،پی ٹی آئی مبینہ ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ،وکیل انور منصور نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے کہا کہ فنڈز کا فارنزک تجزیہ کیا،کیس کو فارن فنڈنگ کہنا ہی غلط تھا،کہا گیا پی ٹی آئی فارن فنڈڈ پارٹی ہے پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی بنیاد پر کیس بنایا گیا،جب تک یہ جماعت کے اندر تھے تب تک سب ٹھیک تھا،

    الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد اکبر ایس بابر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی وکلا نے کہا کہ کل دلائل مکمل کرلیں گے ،آٹھ سال بعد پی ٹی آئی نے گزارشات ختم کرنے کی بات کی ہمیں موقع دیا جائے گا کہ ان کے جوابات دے سکیں ،پی ٹی آئی کو ہائی جیک کیا گیا اور کپتان ہائی جیکرز کیساتھ مل گیا ،کیس اس لیے دائر کیا کہ کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جائے عمران خان کو پارٹی بچانی ہے تو پیچھے ہونا پڑے گا ، پارٹی کی تشکیل نو میں ہی بقا ہے

    قبل ازیں الیکشن کمیشن میں اسد عمر اور عمران خان کو ڈی ایم او کی جانب سے جرمانے کیس کی سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور اسد عمر کے معاون وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ،معاون وکیل نے کہا کہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، الیکشن کمیشن کیس ملتوی کرے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کوئی سخت فیصلہ کرنے سے روکا ہوا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیس کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے کیس سے کیا تعلق ہے؟ڈی ایم او کے جرمانے کے خلاف الیکشن کمیشن میں اپیل پر سماعت ہورہی ہے،لا افسر الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا گزشتہ سماعت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن میں زیر سماعت کیسز مختلف ہیں، الیکشن کمیشن آپ کو سزا تو نہیں دے رہا جو اسلام آباد ہائیکورٹ کا حوالہ دے رہے ہیں،الیکشن کمیشن جرمانے کے خلاف اپیل منظور یا مسترد کرے گا،آج اپیل واپس لے لیں تو الیکشن کمیشن معاملہ ختم کر دیتا ہے، آرڈر میں لکھیں گے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا معاملہ الگ ہے،الیکشن کمیشن کئی بار کہہ چکا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کے باعث معاملہ لٹکا نہیں سکتے،آئندہ سماعت پر دلائل نہ دیئے گئے تو الیکشن کمیشن فیصلہ سنا دے گا،الیکشن کمیشن نے دن رات حلقہ بندیوں کے کیس سننے ہیں، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کردی

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • چیف الیکشن کمشنر کا ڈسکہ انکوائری رپورٹ 2 روز میں  پبلک کرنے کا فیصلہ

    چیف الیکشن کمشنر کا ڈسکہ انکوائری رپورٹ 2 روز میں پبلک کرنے کا فیصلہ

    چیف الیکشن کمشنر نے ڈسکہ انکوائری رپورٹ 2 روز میں پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق این اے 75 ضمنی الیکشن دھاندلی،انکوائری کمیٹی نے رپورٹ چیف الیکشن کمشنر کو پیش کر دی، چیف الیکشن کمشنر نےڈسکہ نے انکوائری رپورٹ 2 روز میں پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    ایف اے ٹی ایف کا اجلاس آج سے شروع،پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان

    ذرائع کے مطابق کمیٹی نے جدید خطوط پر انکوائری کی،رپورٹ کے ساتھ شواہد بھی لف کر دیئے، شواہد سے ڈسکہ ضمنی الیکشن میں منظم دھاندلی ثابت ہوئی ،کس کس نے دھاندلی کے لیے احکامات جاری کیے، سب کچھ ثابت ہو گیا-

    کراچی میں نجی ٹی وی چینل کے صحافی اغوا ہو گئے

    ذرائع کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں جن پر الزامات تھے ان سے تحقیقات کی گئی،انکوائری کمیٹی نے نامزد لوگوں کا فون ریکارڈ بھی حاصل کیا، انکوائری کمیٹی نے نامزد لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کی-

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو دو روزہ دورے پر ایران روانہ

    ذرائع کے مطابق کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن منظور اختر، ہارون شنواری، ڈائریکٹر انجم بشیر، ڈپٹی ڈائریکٹر قانون صائمہ شامل تھیں-

    این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی نوشین افتخار کامیاب قرار پائیں تھی۔ انہوں نے 360 پولنگ اسٹیشنز سے تقریبا ایک لاکھ 10 ہزار 75 ووٹ حاصل کیے تھے۔

    آج کا دن افسوسناک ہے،عمران خان اوراسپیکرذمہ دارہیں ،حمزہ شہباز

    واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے این اے 75 ڈسکہ میں انتخابی عملے کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ طلب کی تھی وفاقی کابینہ نے چیف سیکرٹری پنجاب،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو افسران کے خلاف کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیاتھااس کے علاوہ این اے 75 ڈسکہ ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن انکوائری پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی مانگی تھی وفاقی کابینہ نے ضلعی انتظامیہ،پولیس افسران اور پریذائڈنگ افسران کے خلاف کاروائی پر رپورٹ طلب کی تھی وفاقی کابینہ کا کہنا تھا کہ سیکرٹری کابینہ آئندہ اجلاس میں این اے 75 ڈسکہ پر رپورٹ پیش کریں۔

    ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا؟

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن میں خلاف ورزیوں پر افسران کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا تھا۔

  • دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یہ بچی دعا زہرہ اس کا کیس عجیب نوعیت کا کیس ہے، کافی روز سے چپ ہوں اور کام کر رہا ہوں، میرا تعلق لاہور سے ہے اور یہ سب کراچی میں ہو رہا ہے

    مبشر لقمان یو ٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں کیا ہو رہا ہے، مختلف چیزیں ہیں اور ایک چیز لنک ہے جس کے بارے میں لوگوں کو بہت خدشہ ہے، جب اتنے لوگوں کو خدشہ ہوتا ہے تو اسکو کہتے ہیں زبان خلق نقارہ خدا ، یعنی کچھ نہ کچھ تو ہو رہا ہے ،کہیں نہ کہیں شعلہ تو ہے اگر دھواں اٹھ رہا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا خیال ہے اس بچی کو اسکی مرضی کے خلاف اغوا کیا گیا اور اسکی زبردستی شادی کروائی گئی، یہ سولہ سال کی ہے یہ سترہ سال کی، یہ عمر کچی ہوتی ہے بچوں کی ، لڑکا ہو یا لڑکی اور انکو بہلانا انتہائی آسان ہے، عدالت کے پاس کیس گیا تو عدالت نے بچی کا بیان دیکھا، بچی نے کہا میں ماں باپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، پاکستان کے اندر ایک پریشر ہے کہ لڑکیوں کو آزادی ہونی چاہئے اور این جی اوز اس حوالہ سے کام کر رہی ہیں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں وومین رائٹس کے تحت پروٹیکشن ہو رہی ہے یا کسی کرمنل کے تحت، بچی کے عمر کے تعین کے لئے میڈیکل بورڈ بنایا گیا ، اس نے کہا کہ بچی کی عمر 17 سال ہے،پاکستان پینل کوڈ 16 سال کی عمر کو اپنی مرضی سے شادی کی اجازت دیتا ہے، عدالت کے پاس یہ معاملہ تھا، میڈیکل رپورٹ کے بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا کہ بچی کی اپنی مرضی ہو گی تب تک کے لئے اسے دارالامان بھیج دیا گیا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ والدین کا کہنا ہے کہ یہ دعا چودہ سال کی ہے ہماری شادی کو ہی پندرہ سولہ سال ہو ئے تو بچی کیسے سترہ سال کی ہو گئی، ہم نے کئی شہروں میں قصور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، کراچی، لاہور مین کیس دیکھے، اگر آپ نے خدانخواستہ پندرہ سولہ سال کی بچی کو اغوا کر لیا اور اسکے بعد اسکو کمپرومائیز کروا لیا، کوئی ویڈیو یا تصویر بنا لی، یا ڈرا دھمکا دیا کہ تمہارے کسی رشتے دار کو گولی مار دیں گے، بچوں کا مائینڈ خوفزدہ ہو جاتا ہے، کراچی میں کافی لوگوں کا خیال ہے کہ آرگنائزڈ کرائم ہو رہا ہے جس میں ایسے بچوں کو ڈھونڈا جاتا ہے جن کا خاندان وکیلوں ، عدالتوں،میڈیکل بورڈ کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے ان بچیوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ، جیسے ہمارے دیہات میں ہوتا ہے کہ کسی بچی کو کسی وڈیرے نے اغوا کر لیا، وہ حاملہ ہو گئی تو پھر پتہ چلتا ہے کہ اسکی شادی ہو گئی، نکاح نامہ سامنے لے آیا جاتا ہے، اس کیس میں اہم چیز ہے کہ ایک کرمنل انویسٹی گیشن ہو، وہ عدالت حکم نہیں دے سکتی، اب اسکے والدین کہیں گے کہ اس فرانزک پر ہمیں اعتبار نہیں ،یہ باہر سے بیرون ملک سے کروائیں، وہاں ایک ڈی این اے ہوتا ہے، پھر عمر کا تعین ہو گا اور پھر فیصلہ ہو گا ، لیکن اگر والدین ایسا نہیں کر سکتے تو پھر صبر شکر کر کے بیٹھنا پڑے گا پھر ڈارک ویب یا اور کوئی کہانیان سامنے آتی ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش، نیپال اور بہار سے ہزاروں بچیوں کو اغوا کیا جاتا ہے سالانہ اور پھر انکی سیل کی جاتی ہے،سب سے آسان کام یہ ہے کہ پہلے نکاح نامہ بنا لیتے ہیں پھر اسکے بعد دو چار لوگوں کو حصہ دار بنانا ہے وہ متعلقہ کسی محکمے سے ہوں ، کیس میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ کیس جائز ہوتے ہوئے بھی حل نہیں ہوتے، عدالت کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں، جو شواہد عدالت کو ملتے ہیں عدالت اسی پر فیصلہ کرتی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامک کورٹ میں اس کی عمر اسے بھی کم ہو سکتی ہے،سولہ سال عمر ثابت ہونے پر نکاح خواں پر بھی کچھ نہیں ہو سکتا، سوچنا یہ ہے کہ کہیں آرگنائزڈ کرائم تو نہیں ہو رہا؟ بچی کی شادی ہو جاتی ہے، رشتہ مل جاتا ہے،میاں کے ساتھ خوش بھی ہے،اس پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ سوسائٹی میں کیا ہو رہا ہے،وقت آ گیا ہے کہ دعا زہرہ کے کیس کے بارے میں سول سوسائٹی کہے کہ اس کا فرانزک باہر سے ہونا چاہئے اور ہم اسکا خرچہ برداشت کرنے کو تیار ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ اسکی عمر سولہ سال سے کم ہے پھراس کی عمر کا سرٹفکیٹ بنانے سے لے کر کیس کے تمام آفیشیل جو کیس پر اثر انداز ہوئے سب کو اندر ہونا چاہئے، اغوا کاروں کو بھی سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے، دعا زہرہ کیس اتنا سادہ کیس نہیں

  • پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    بجٹ تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی .بجٹ تقریر کل 25 صفحات پر مشتمل ہیں مزدور کی تنخواہ بیس سے بڑھا کر پچیس ہزار کرنے کی تجویز ،بجٹ کا حجم 3236 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے ،کل آمدنی کا تخمینہ 2521 ارب سے زائد لگایا گیا ہے

    وفاق سے 2020 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،صوبائی محصولات کی مد میں 24 فیصد اضافے کیساتھ پانچ سو ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،آئندہ مالی سال سیلز ٹیکس آف سروسز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا ،چھوٹے کاروبار کی سہولت کیلئے سیلز آن سروسز میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا ،اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرع ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے .

    پرتعیش گھروں کے اوپر فنانس ایکٹ 2014 میں تبدیلی کرکے نئے ریٹس متعارف کروائے جارہے ہیں ،بجٹ کے مجموعی حجم میں سے 1712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں مختص کئی گئی ہیں ،وزیر اعظم عوامی سہولیت پیکج کیلئے دو سو ارب روپے رکھے جارہے ہیں ،سستا آٹا سکیم میں دس کلو آٹے کا تھیلہ چار سو نوے روپے میں دستیات ہوگا،پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فیصد اضافے کے ساتھ 190 ارب روپے رکھا گیا ، بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44فیصداضافے کے ساتھ 95ارب روپے رکھا گیا

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505259″ /]

    محکمہ ایکسائز سے 2 فیصداضافے کے ساتھ 43ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیاہے۔آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں ، 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد سوشل سیکٹر، 24 فیصد انفراسٹرکچر، 6 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے۔ترقیاتی بجٹ میں دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے 28 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

    ترقیاتی بجٹ میں پہلے سے جاری اسکیموں کیلئے 365 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی اسکیموں کیلئے 234 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں ،41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے جا رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مد میں 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مجموعی بجٹ میںشعبہ صحت پر 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجوےز دی جا رہی ہے،شعبہ صحت پر 10 فےصد زےادہ فنڈز رکھے جا رہے ہیں

    شعبہ تعلیم کے لئے مختص کردہ مجموعی بجٹ میں 428 ارب 56 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہاہے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1,712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویز کئے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔ حکومت نے وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے

    10 کلو آٹے کاتھیلہ جو پہلے 650 روپے میں بیچا جا رہاتھا اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اِس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے جس کے تحت عوام الناس کو اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں کمی، رعایتی نرخوں پر سفری سہولیات کی فراہمی، غریب کاشتکاروں کو کھاد کی رعایتی نرخوں پر دستیابی اور دیگر زرعی ضروریات کی فراہمی شامل ہیں۔

    صحت کارڈ کے لئے 125 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جو گزشتہ ساٹھ ارب روپے تھی ،نان ٹیکس ریونیوکی مد میں24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 51 کروڑ روپے کا تخمنہ لگایا گیا ہے، 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں میں مد رکھے گئے ہیں،312 ارب روپے پنشن کی مد رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے اور نہ کسی سروس پر ٹیکس کی شرح میں کسی قسم کا کوئی اضافہ کیا جا رہا ہے،سیلز ٹیکس آن سروسز میں فراہم کردہ ٹیکس ریلیف کو آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برقی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مد میں 95% رعایت کو جاری رکھا جا رہا ہے۔

    موٹر گاڑیوں کے پر کشش نمبروں کی نیلامی کے لیے نظرثانی شدہ e-Auction پالیسی کا اجراءبھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پراپرٹی ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس کی یکمشت ادائیگی پر بالترتیب 5 فیصد اور 10 فیصد رعایت جاری رکھی جا رہی ہے۔

    مزیدبرآںe-Pay کے ذریعے آن لائن ادائیگی پر صارف کو 5 فیصد مزید رعایت جاری رکھی جائے گی۔مالی سال 2022-23میں 25ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سےPunjab Urban Land System Enhancement کا قیام عمل میں لیا جائے گا.23 ارب90کروڑ روپے کی لاگت سے مواصلاتی نظام میں بہتری کیلئے فیصل آباد سرکلر روڈ(جڑانوالہ ستیانہ سیکشن)، قصور- دیپالپور روڈ ، لاہور- جڑانوالہ روڈ اور ساہیوال سے پاکپتن تک 336 کلومیٹر طویل سڑکوں کی بحالی شامل ہے۔

    پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں 9 ارب روپے سے پنجاب بھر میں سڑکوں کی بحالی کے پروگرام کا بھی آغاز کر رہی ہے۔ دیگر اہم اسکیموں میں 13 ارب50کروڑ کی لاگت سے رنگ روڈ پروجیکٹ مزید دو فیز (ملتان اور سیالکوٹ) اور 3 ارب کی لاگت سے سے سٹی اتھارٹی پروگرام (سیالکوٹ اور مریدکے)کا اجراءبھی شامل ہیں۔ پنجاب حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود اور جیلوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے 6 ارب روپے مختص کر رہی ہے

    مسلم لیگ (ن) کا انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال مےں 1ارب 50کڑوڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رحمتہ اللعالمین پروگرام کے تحت مستحق طلبہ و طالبات کے لےے تعلےمی وظائف کے لے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ ضلعی سطح کے مسائل کے حل کیلئے 90 ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب بھر میں Sustainable Development Programme متعارف کروایا جا رہا ہے۔

    جنوبی پنجاب کے لئے 31 ارب50کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کیلئے 421 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،محکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 59 ارب 7 کروڑ روپے کی تجویز ہے، محکمہ سپیشل ایجوکیشن کیلئے 1 ارب 52 کروڑ اور لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کیلئے 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے.”زیور تعلیم” پروگرام کے تحت 5 ارب 53 کروڑ روپے 6 لاکھ سے زائد طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کیلئے رکھے گئے ہیں۔ اسکولوں میں مفت کُتب کی فراہمی کیلئے 3 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    اسکول کونسلز کے ذریعے تعلیمی سہولیات کی بہتری کیلئے 14 ارب 93 کروڑ روپے اور دانش اسکولز کے جاری تعلیمی اخراجات کیلئے 3 ارب75کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں.آئندہ مالی سال میں نئے دانش اسکولز کی تعمیر کیلئے 1ارب50کروڑ روپے مختص. پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت Punjab Education Foundation (PEF) کیلئے 21 ارب50کروڑ روپے مختص
    Punjab Education Initiatives Management Authority (PEIMA) کیلئے 4 ارب80کروڑ روپے مختص،اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی بحالی کیلئے 1 ارب50کروڑ روپے اور صوبہ بھر کے مختلف سکولوں میں اضافی کمروں کے قیام کیلئے 1ارب روپے مختص کئی گئی. ضلع ملتان میں کیڈٹ کالج کے قیام کیلئے 70 کروڑ روپے مختص، میانوالی اور حسن ابدال کیڈٹ کالجز میں سہولیات کی فراہمی کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئی گئے، بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 59 ارب 7 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے ،ہائیر ایجوکیشن میں 13 ارب50کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ شعبہ خصوصی تعلےم کےلئے 1 ارب 52 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے

    محکمہ لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کیلئے آئندہ سال کے بجٹ میں 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آئندہ مالی سال میں صحت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 470 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں .صحٹ بجٹ پچھلے سال سے 27 فیصد زیادہ ہیں.صحت کے بجٹ میں 296 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات اور 174 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز کے لئے مختص کئے گئے

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ چولستان کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 84 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ میں زراعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 53 ارب 19کروڑz روپے مختص کر ہی ہے.شعبہ زراعت میں 14 ارب 77 کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کےے جائےں گے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا،پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے پروگرام کے لئے 3 ارب 65 کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔زرعی شعبہ میں تحقیق کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 نئے منصوبوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے .لائیو اسٹاک کے شعبہ میں تحقیق اور تدریس کے 2 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے University of Veterinary and Animal Sciences (UVAS) کے Sub-Campus کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے

    آب پاشی کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 53 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آبپاشی کے بجٹ میں 25 ارب 69 کروڑ روپے جاری اخراجات جبکہ 27ارب 63کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کئے گئے .سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے 80 ارب77کروڑ روپے مختص
    صنعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 23 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، 3ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے جدید، ماحول دوست، آرام دہ بسیں چلانے کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے . Sports and Youth Affairs Department کیلئے مجموعی طور پر 8 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے
    گئے ہیں

    اقلیتوں کے تحفظ کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کر رہی ہے جس میں سے 1 ارب 35 کروڑ روپے Minority Development Fund کے لئے مختص کئے جا رہے ہیں۔ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ مےں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا .گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرات 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے

  • عمران خان کے لانگ مارچ کا مقصد افراتفری، سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان کے لانگ مارچ کا مقصد افراتفری، سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان کے لانگ مارچ کا مقصد افراتفری، سپریم کورٹ میں درخواست دائر
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے درخواست دائرکر دی گئی

    درخواست میں سابق وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید، شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد مختلف سیاسی جلسوں میں ملکی اداروں کو دھمکا رہے ہیں شیخ رشید عوام کو ملکی اداروں پر حملے کیلئے اکسا رہے ہیں سابق وزیراعظم عمران خان ٹائیگر فورس کو حالیہ حکومت کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں عمران خان کا لانگ مارچ کرنے کا مقصد ملک میں افراتفری پھیلانا ہے

    درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کا لانگ مارچ رکوانے کے لئے دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ پی ٹی آئی ٹائیگرفورس کو تنخواہ دی جارہی ہے تاکہ وہ ملک کو نقصان پہنچائیں عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنما مختلف ٹی وی چینلز پر کہہ چکے ہیں ہمارا مارچ خونی ہوگا ،درخواست میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حالیہ متنازعہ بیان کا ذکرکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا ملک تین حصوں میں تقسیم ہوگا اور ایٹمی اثاثے خطرے میں ہیں عدالت سے استدعا ہے کہ سپریم کورٹ سابق وزیراعظم سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف جے آئی ٹی تشکیل دے درخواست اصغرعلی شیخ نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی ہے

    واضح رہے کہ عمران خان ے 25 مئی کو لانگ مارچ کیا تھا لیکن اسلام آباد پہنچ کر واپس چلے گئے تھے اور ایک ہفتے بعد دوبارہ آنے کا اعلان کیا تھا،تا ہم اس کے بعد ابھی تک عمران خان واپس نہیں آئے اور لانگ مارچ کا دوبارہ اعلان بھی نہیں کیا، عمران خان اب کہتے ہیں کہ لانگ مارچ کے حوالہ سے سپریم کورٹ فیصلہ دے گی اسکے بعد لانگ مارچ کروں گا،

    قبل ازیں یکم جون کو تحریک انصاف نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی تھی، یہ درخواست پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے علی ظفر ایڈووکیٹ نے جمع کرائی جس میں وزارت داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ہوم سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں عدالت سے یہ استدعا کی گئی کہ وفاقی پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے اجازت دی جائے۔ اور مزید درخواست کی گئی کہ احتجاج کے دوران کسی قسم کا بھی تشدد اوررکاوٹیں نہ ڈالی جایئں۔اس مقصد کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد کرنے اور طاقت کو استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہ دی جائے

    درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے احتجاج ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ اور پاکستان کا آئین بھی پر امن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔پی ٹی آئی نے درخواست میں استدلال کیا آئین کا آرٹیکل 15،16،17، اور 19 پر امن طریقے سے نقل و حرکت، جمع ہونے بولنے کا حق دیتا ہے۔درخواست میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران گرفتاریاں ہونے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔کارکنان کی ریڈزون میں داخلے کے بعد فوج کو بھی طلب کیا گیا تھا۔ یہ سب صرف احتجاج کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔پر امن احتجاج ہمارا حق ہے

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل