Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مالی چیلنجوں،مشکلات کےباوجود بجٹ کی تیاری نہایت کٹھن کام تھا:مفتاح اورٹیم مبارکبادکی مستحق:وزیراعظم

    مالی چیلنجوں،مشکلات کےباوجود بجٹ کی تیاری نہایت کٹھن کام تھا:مفتاح اورٹیم مبارکبادکی مستحق:وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کی پوری ٹیم کو ایک متوازن، ترقی پر مرکوز اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی طور پر درپیش چیلنجوں اور بہت سی مشکلات کے باوجود بجٹ کی تیاری نہایت کٹھن کام تھا۔

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    سماجی رابطے کی ویب سائ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے شہباز شریف نے لکھا کہ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا ہے، بے نظیر سکالرشپ پروگرام کا دائرہ کار ایک کروڑ طلباء تک بڑھایا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت معاشرے کے مالی طور پر کمزور طبقات کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کی خواہاں ہے اور میری سوچ یہ ہے کہ مالی لحاظ سے مضبوط لوگوں کو ٹیکسوں کی ادائیگی کے ذریعے قومی خزانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے سولر پینلز کی درآمد اور ترسیل پر ٹیکس زیرو کر دیا ہے، زرعی مشینری و مداخل کی درآمد پر بھی ٹیکس صفر کر دیا گیا ہے، یہ کسانوں اور زراعت کی ترقی کیلئے بہت اہم قدم ہے۔

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی و انتظامی کے حالیہ سالوں کے باعث ہمیں مشکل وقت کا سامنا ہے، اس بجٹ کے ذریعے میری حکومت مشکل فیصلوں کے ذریعے چیلنجوں پر قابو پائے گی اور معاشرے کے کمزور طبقات پر ان مشکل فیصلوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے گا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کو سولر پینلز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، میں نے دسمبر تک جنوبی بلوچستان میں ٹرانسمیشن لائنز کا کام مکمل کرنے اور جامع آف گرڈ سسٹم کا منصوبہ بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

  • وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےمالی سال 22-2023 کا بجٹ پیش کر دیا۔ سپیکرقومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ پیش کیا۔

    وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے 9 ہزار 502 ارب روپے کے بجٹ بجٹ میں خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے، قرض اور سود کی ادائیگی کیلئے 3 ہزار 950 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 255 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، دفاع کیلئے 1523 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

    وفاقی بجٹ 2022-23کے نمایاں خدوخال کے مطابق بجٹ 2022-23 ترقی کا بجٹ ہے جس کی بنیاد پر مستقبل میں ترقی والے بجٹ بنیں گے، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لئے انکم ٹیکس کی کم سے کم حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کردی گئی ہے۔ فلمی صنعت کی بحالی اورفنکاروں کی مدد کے لئے اقدامات کئے ہیں تاکہ فلم اور سنیما ترقی کرے۔ دنیا میں پاکستان کا کلچر اور مثبت تشخص اجاگر اور ملک میں سیاحت فروغ پائے۔ نوجوان ہمارا مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہیں جن کے لئے بڑے اور ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔40 ہزار سالانہ سے کم آمدن والے پاکستانیوں کو نقد رقوم دی جائیں گی۔

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بڑا اضافہ کیاجارہا ہے تاکہ غربت سے نمٹا جاسکے۔ بے نظیر وظائف میں 1 کروڑ مزید طالب علموں کو شامل کیاجارہا ہے تاکہ انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کیاجائے۔ اضافی رقوم فراہم کرکے سی پیک کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔ سی پیک کے تحت سپیشل اکنامک زونز کے جلد آغاز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ آئی ٹی، زراعت، غذائی تحفظ، قابل تجدید توانائی، تعلیم اور نوجوانوں کی آمدن کے لئے ٹیکس استثنٰی دیاجارہا ہے۔ غیرپیداواری اور تعیش کے زمرے میں آنے والی چیزوں سے سرمائے کو پیداواری اثاثوں اور شعبوںکی طرف منتقل کیاجارہا ہے۔

    امیروں سے دولت کا رُخ غریبوں کی طرف موڑا جارہا ہے۔ یہ برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے والا بجٹ ہے ،اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے ’ایچ۔ای۔سی‘ کے بجٹ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 67 فیصد اضافہ کیاجارہا ہے۔ بلوچستان کے طالب علموں کو 5 ہزار تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کواضافی تعلیمی وظائف دیں گے۔ بلوچستان کے تعلیمی شعبے کو بہترین تعلیمی سازوسامان مہیاکیاجائے گا۔

    صنعتیں چلانے والے فیڈرز پر صفر لوڈشیڈنگ ہوگی۔ چھوٹے کاروبار خاص طور پر کاروباری خواتین کے لئے کم ازکم ٹیکس بریکٹ 4 لاکھ سے 6 لاکھ کی جارہی ہے۔سیونگ سرٹیفکیٹ (بچت سکیموں)، پینشن فوائد، شہداءکے اہل خانہ کی فلاح وبہبود کے کھاتوں میں سرمایہ کاری پر منافع پر لاگو ٹیکس کو10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کیاجارہا ہے۔ 3 ہزار سے لے کر 10 ہزار تک کی متعین (فکسڈ) آمدن اور سیلز ٹیکس کے نظام لوگو کر رہے ہیں جس کے بعد ’ایف۔بی۔آر‘ اِن سے کسی مزید ٹیکس کا تقاضا نہیں کرے گا۔

    پہلے سال کے لئے صنعت اور کاروباری قدر (ڈیپریسی ایشن کاسٹ) میں کمی کو 50 فیصد سے تبدیل کرکے 100 فیصد کیاجارہا ہے۔ رئیل اسٹیٹ سمیت غیرپیداواری اثاثے جمع کرنے سے غریبوں کے لئے گھروں کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ امیروں کے غیرپیداواری اثاثوں پر ٹیکس لوگو کررہے ہیں تاکہ توازن آنے سے غریبوں کے لئے جائیداد کی قیمتوں میں کمی ہو۔ اڑھائی کروڑ مالیت کی دوسری جائیدادکی خریداری پر5 فیصد ٹیکس عائد کیاجارہا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

    1600 اور اس سے زائد سی سی کی لگژری گاڑیوں پرٹیکس میں اضافہ کیاجارہا ہے۔ سولرپینل کی درآمد اور ترسیل (ڈسٹری بیوشن) پر ٹیکس صفر کیا جارہا ہے۔ زرعی مشینری، ٹریکٹر، گندم، چاول، بیج سمیت اس شعبے میں استعمال ہونے والی دیگراشیاءاور ان کی ترسیل پر ٹیکس صفر کیاجارہا ہے۔ زرعی مشینری کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنٰی دیاجارہا ہے۔ زرعی شعبے کی مشینری، اس سے منسلکہ اشیائ، گرین ہاﺅس فارمنگ، پراسیسنگ، پودوں کو بچانے کے آلات، ڈرپ اریگیشن، فراہمی آب سمیت ہر طرح کے زرعی آلات کو ٹیکس سے استثنٰی دیاجارہا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ٹیکس صفر کرکے اتنا بڑا قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ ہماری زراعت اور کسان ترقی کرے۔

    ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے بجٹ میں 10 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔
    ویکسین، امراض پرقابو پانے اور صحت سے متعلق اداروں کی استعداد بڑھانے کے لئے 24 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں۔ کسٹم کوڈ کو مناسب بنانے اور ٹیرف میں کمی کی جا رہی ہے۔ ادویات بنانے میں استعمال ہونے والے اجزاءکو کسٹم ڈیوٹی سے مکمل استثنٰی دیاجارہا ہے جس میں ادویات بنانے میں استعمال ہونے والا مختلف اقسام کا بنیادی مواد شامل ہے۔ عدالتوں سے باہر تنازعات اور مقدمات کو طے کرنے کے لئے ’مقدمات کے تصفیہ کا متبادل نظام‘ شروع کیاجارہا ہے تاکہ مقدمہ بازی پر اٹھنے والے اخراجات اوروقت کو بچانے کے علاوہ حائل دقتوں کو دور کیاجائے۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے.

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کابینہ کو بجٹ کے نکات پر بریفنگ دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر 71 ارب 59 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔

    بجٹ تقریر کے اہم نکات سامنے آئے ہیں ،بجٹ تقریر کے نکات کے مطابق دفاع پر 1450 ارب روپے خرچ ہوں گے حکومت کے قرض لینے کی حد جی ڈی پی کا 60 فیصد مقرر کی گئی ریونیو میں صوبوں کا حصہ 35 سو 12 ارب روپے رہا ترقیاتی بجٹ کے لیے 800 ارب روپے مختص ہیں رمضان پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص ہیں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام اب ایک کروڑ افراد کو فنڈز دے گا بجٹ کا حجم 9 ہزار500 ارب روپے ہوگا، صنعت کے لیے رعایتی گیس کی سہولت دی جائے گی صنعتوں کے ٹیکس ریفنڈ فوری دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے گوادر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جلد گیس کے نئے نرخوں کا اعلان کرینگے نیشنل یوتھ کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا، وفاقی حکومت کے اخراجات 530 ارب روپے ہیں گرین یوتھ مومنٹ کا آغاز کیا جائے گا،سابق حکومت نے پونے 4 سال کے عرصے میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا،

    نئے مالی سال کیلئے 9 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 5 سو 23 ارب روپے رکھے جائیں گے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 2 سو 55 ارب روپے مقررکیا گیا ہے، دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 86 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں کسانوں کےلئے ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں مقامی خیراتی اسپتالوں کو امپورٹ پر چھوٹ دینے کی بھی تجویز ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہاز شریف نے حکومتی اتحادیوں کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، حکومتی اتحادیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بجٹ سے متعلق حکمت عملی پر بات ہو گی، اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    آئی جی اسلام آباد نے پی ٹی آئی دھرنے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    رپورٹ مین کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد انتظامیہ کو 23 مئی کو سرینگر ہائی وی پر احتجاج کی درخوست دی،اسلام آباد انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ ہرمن و عمل کیا،تحفظ کے لیے ریڈ زون جانے والے راستے بند کر د یئے گئے، عدالتی حکم کے بعد پولیس،رینجرز اور ایف سی کو مظاہرین کے خلاف ایکشن سے روک دیا گیا ،مظاہرین کے گروپ ڈی چوک کی جانب جانا شروع ہو گئے،مظاہرین کو قیادت کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے اور مزاحمت کی ترغیب دی گئی،مظاہرین مسلح تھے،پولیس اور رینجرز پر پتھراو بھی کیا مظاہرین نے پولیس پر گاڑیاں بھی چڑھائیں مظاہرین کی جانب سے کنٹینرز ہٹانے کے لیے مشینری کا استعمال بھی کیا گیا،مظاہرین کی جانب سے درختوں کو جلایا گیا،منتشرکرنے کےلیےآنسو گیس کا استعمال کیا،

    پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2 ہزارمظاہرین رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں کرتے ریڈ زون میں داخل ہوئے مظاہرین کی قیادت عمران اسماعیل، سیف نیازی،زرتاج گل اور دیگر نے کی ، فواد چودھری،سیف نیازی،زرتاج گل نے کارکنان کو ریڈ زون پہنچنے کے لیے اکسایا،سوشل میڈیا پر کارکنوں کو عمران خان کے استقبال کے لیے ریڈ زون پہنچنے کا کہا گیا،انتظامیہ کی جانب سےاعلانات کیے گئے کہ مظاہرین ریڈ زون سے دور رہیں،ریڈ زون میں داخلے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گئے ،مظاہرین کی جانب سے پتھراو کے باعث 23 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے،پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال سے گریز کیا گیا،خدشات بڑھنے پر آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا،300 مظاہرین کنٹینرز ہٹا کر ریڈ زون میں داخل ہوئے،مظاہرین کو جی نائن اور ایچ نائن کے درمیان جلسہ گاہ پہنچنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ تھی مظاہرین ڈی چوک جانے والی رکاوٹوں کو عبور کر کے ریڈ زون داخل ہوئے،مظاہرین میں سے کوئی بھی مختص کردہ جلسہ گاہ نہ پہنچا پولیس نے 77 لوگوں کو 19 مختلف مقدمات میں گرفتار کیا،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لاہور سے جب لانگ مارچ کے شرکا نکلے تھے تو انکا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا تھا، ان دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، لانگ مارچ کے شرکا اور پولیس میں کئی مقامات پر تصادم ہوا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنماوں و کارکنان کو گرفتار بھی کیا تھا

    لانگ مارچ کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، فواد چودھری پر جہلم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • لانگ مارچ،پی ٹی آئی کے 17 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    لانگ مارچ،پی ٹی آئی کے 17 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    لانگ مارچ،پی ٹی آئی کے 17 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ، تشدد کیس میں عدالت نے تحریک انصاف کے سترہ رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیئے ہیں

    انسداد دہشت گردی عدالت نے جمعہ کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران تشدد کے حوالہ سے کیس کی سماعت کی، عدالت نے لاہور کے علاقے تھانہ شاہدرہ میں درج مقدمے کی بنیاد پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں، عدالت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، شفقت محمود، میاں محمود الرشید، اسلم اقبال، حماد اظہر، یاسر گیلانی، ندیم بارا، عدیل نواز، زبیر نیازی، اعجاز چوہدری، اکرم عثمان، جمشید اقبال چیمہ ، مسرت جمشید چیمہ، مراد راس، عندلیب عباس اور امتیاز شیخ کے وارنٹ جاری کئے ہیں

    دوسری جانب گلبرگ تھانے کی درخواست پر اے ٹی سی کی جانب سے بھی فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے ،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لاہور سے جب لانگ مارچ کے شرکا نکلے تھے تو انکا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا تھا، ان دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، لانگ مارچ کے شرکا اور پولیس میں کئی مقامات پر تصادم ہوا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنماوں و کارکنان کو گرفتار بھی کیا تھا

    لانگ مارچ کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، فواد چودھری پر جہلم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • توہین مذہب کے مقدمات، تحریک انصاف رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    توہین مذہب کے مقدمات، تحریک انصاف رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    توہین مذہب کے مقدمات، تحریک انصاف رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    پی ٹی آئی قیادت پر توہین مذہب کے مقدمات کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 28 جون تک ملتوی کر دی گئی

    فواد چودھری، قاسم سوری و دیگر کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں 28 جون تک توسیع کر دی گئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو مقدمات کی تفصیلات سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ ابھی جو مقدمات درج ہوئے ہیں؟ ان میں کیا ہوا؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ میں پتہ ہی نہیں ہمارے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں، ایف آئی اے حکام نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت دیں سیکریٹری داخلہ کی طرف سے رپورٹ پیش کر دیتا ہوں ،عدالت نے کیس کی سماعت 28 جون تک ملتوی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی

    وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں نازیبا واقعہ پیش آیا، پاکستانی شہریوں کی جانب سے چور چور کے نعرے لگائے گئے، اس پر سعودی حکومت نے بھی ایکشن لیا اور کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید، فواد چودھری، انیل مسرت سمیت کئی رہنماؤں پر فیصل آباد، اٹک میں مقدمہ درج ہو چکا ہے،

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

    توہین مذہب مقدمہ، چھٹی کے روز درخواست پر سماعت، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

  • نئے مالی سال کیلئےوفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

    نئے مالی سال کیلئےوفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

    نئے مالی سال کیلئےوفاقی بجٹ آج ہیش کیا جائے گا. بجٹ کا حجم 9 ہزار ارب روپے سے زائد جبکہ خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے، بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں دس سے پندرہ فیصد اضافے کا امکان ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2022 -23 کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 5 سو 23 ارب روپے رکھے جائیں گے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 2 سو 55 ارب روپے مقرر، دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 86 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس آج صبح گیارہ بجے طلب کیا گیا ہے، بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری لی جائے گی، کابینہ نئے ٹیکسوں سے متعلق فیصلے کرے گی جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری بھی دی جائے گی۔

    قبل ازیں مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراکی تقریب ہوئی اس موقع پر وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، وزیرتوانائی خرم دستگیر، وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال،وزیرمملکت عائشہ غوث پاشا بھی موجود تھے ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ آپے سے باہر ہوگیا ہے درآمدات پچھلے سال کے حساب سے 48 فیصد بڑھی ہے،درآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 48 فیصد اضافہ ہوا ،برآمدات 28 فیصد بڑھی ،ہمیں 60 فیصد قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،5 اعشاریہ6 بلین ڈالرزرمبادلہ کم ہوا، معیشت کی سمت کو سدھارنے کی ضروت ہے،عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے تیل مہنگا کرنا پڑا،مشکل فیصلے لینے پڑے، اب ہم استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے،تجارتی خسارہ 45 بلین ڈالر تک پہنچ گیا،ہمیں زیادہ اس طرف جانا ہے جہاں سے برآمدات میں اضافہ ہو سکے،

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام صنعتوں کو گیس دے رہے ہیں جب غریب کو مراعات دیں گے وہ گروتھ انکلوسیو تو ہوگی لیکن مستحکم نہیں ہوگی چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے، اگر سابق حکومت جھوٹ کا بیانیہ چھوڑ دیتی، تو شاید اس وقت اتنی مہنگائی نہیں ہوتی حکومت کوئی طویل المدتی سودے نہیں کر رہی ،شیخ رشید خود کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب نے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں،بارودی سرنگیں کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے تھیں، برآمدات 28 فیصد بڑھی،

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اکنامک سروے کو اوریجنل بیس پر لے جائیں گے تو منظر بدل جائے گا، سروے کی بڑی ہٹ میرے شعبے نے دی ہے،ہماری معیشت میں پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ سے پرائیویٹ سیکٹر چلتی ہے،پاکستان کا دفاعی اورترقیاتی بجٹ ایک ایک ہزار ارب تھا، ہمارے دور میں دونوں شعبے ملک کو ہم پلہ ہو کر مضبوط کر رہے تھے،2013میں ملک بجلی نہیں تھی ، بد امنی تھی،مسلم لیگ ن نے لوڈ شیڈنگ ختم کردی اور امن و امان کو بحال کیا،کوئی حکومت نہیں چاہتی وہ 60روپے تیل کی قیمت اضافہ کریں ،کوئی حکومت اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی،سابق حکومت عوام کے ساتھ دھوکہ کر کے گئی ہے

  • آصف زرداری کا حکومتی اتحادی سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ

    آصف زرداری کا حکومتی اتحادی سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر اورسابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومتی جماعتوں کے سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ دیا.

    زرداری ہاؤس اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں ہونے والے عشائیے میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، زرائع کے مطابق قومی حکومت کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہارکیا.

    اعشائیہ میں شامل حکومتی سیاسی جماعتوں کے تمام رہنماؤں نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی کاوشوں کو بھی سراہا. عشائیے میں شریک حکومتی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ملک کو ملکر تمام قسم کے بحرانوں سے نکالیں پر اتفاق کیا

    ذرائع کے مطابق عشائیے کے موقع پر بجٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ، اتحادی رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشورے بھی دئیے،جس پر وزیراعظم نے عملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی.

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قرنطینہ میں ہونے کی وجہ سے عشائیے میں شرکت نہیں کی.

    عشائیے میں وزیراعظم شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، چوہدری شجاعت حسین، خالد مقبول صدیقی ، شاہزین بگٹی، خالد مگسی، اسلم بھوتانی، آغا حسن بلوچ، ایمل ولی خان، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور ،غفور حیدری، فیصل سبزواری، چوہدری یاسین، چوہدری سالک حسین، اسرار ترین، سردار ایاز صادق، رانا ثنااللہ ودیگر رہنماوں نے شرکت کی.

  • ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے،وزیر خزانہ

    ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے،وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب بھی شرح نمو بڑھتی ہے،کھاتوں کے جاری خسارے میں پھنس جاتے ہیں،

    مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراکی تقریب ہوئی اس موقع پر وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، وزیرتوانائی خرم دستگیر، وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال،وزیرمملکت عائشہ غوث پاشا بھی موجود تھے ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ آپے سے باہر ہوگیا ہے درآمدات پچھلے سال کے حساب سے 48 فیصد بڑھی ہے،درآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 48 فیصد اضافہ ہوا ،برآمدات 28 فیصد بڑھی ،ہمیں 60 فیصد قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،5 اعشاریہ6 بلین ڈالرزرمبادلہ کم ہوا، معیشت کی سمت کو سدھارنے کی ضروت ہے،عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے تیل مہنگا کرنا پڑا،مشکل فیصلے لینے پڑے، اب ہم استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے،تجارتی خسارہ 45 بلین ڈالر تک پہنچ گیا،ہمیں زیادہ اس طرف جانا ہے جہاں سے برآمدات میں اضافہ ہو سکے،

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام صنعتوں کو گیس دے رہے ہیں جب غریب کو مراعات دیں گے وہ گروتھ انکلوسیو تو ہوگی لیکن مستحکم نہیں ہوگی چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے، اگر سابق حکومت جھوٹ کا بیانیہ چھوڑ دیتی، تو شاید اس وقت اتنی مہنگائی نہیں ہوتی حکومت کوئی طویل المدتی سودے نہیں کر رہی ،شیخ رشید خود کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب نے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں،بارودی سرنگیں کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے تھیں، برآمدات 28 فیصد بڑھی،

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اکنامک سروے کو اوریجنل بیس پر لے جائیں گے تو منظر بدل جائے گا، سروے کی بڑی ہٹ میرے شعبے نے دی ہے،ہماری معیشت میں پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ سے پرائیویٹ سیکٹر چلتی ہے،پاکستان کا دفاعی اورترقیاتی بجٹ ایک ایک ہزار ارب تھا، ہمارے دور میں دونوں شعبے ملک کو ہم پلہ ہو کر مضبوط کر رہے تھے،2013میں ملک بجلی نہیں تھی ، بد امنی تھی،مسلم لیگ ن نے لوڈ شیڈنگ ختم کردی اور امن و امان کو بحال کیا،کوئی حکومت نہیں چاہتی وہ 60روپے تیل کی قیمت اضافہ کریں ،کوئی حکومت اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی،سابق حکومت عوام کے ساتھ دھوکہ کر کے گئی ہے،

    اگلے مالی سال کا بجٹ 10جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

  • ڈاکٹر عامر لیاقت وفات پا گئے، صدر، وزیراعظم،وزیر خارجہ سمیت دیگر کا اظہار افسوس

    ڈاکٹر عامر لیاقت وفات پا گئے، صدر، وزیراعظم،وزیر خارجہ سمیت دیگر کا اظہار افسوس

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ہیں

    چھپا ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے عامر لیاقت کے ڈرائیور نے ریسکیو عملے کو کال کی، ریسکیو عملے کی مدد سے اسپتال منتقل کیا گیا، عامر لیاقت حسین کے کمرے کا دروازہ بند تھا جسے گھر کے ملازمین کئی دیر سے کھٹکھٹا رہے تھے ، بعد ازاں ملازمین نے پولیس اور ریسکیو کو بلایا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملازمین کی اطلاع پر ہی ریسکیو کی ایمبولینس عامر لیاقت کے گھر پہنچی

    پولیس کا کہنا ہے کہ رکن اسمبلی عامر لیاقت کی موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا عامر لیاقت کے گھر سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، عامر لیاقت کے ملازمین سے بھی بیانات لیں گے،ایس پی شرقی کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت کی ڈیڈ باڈی پوسٹ مارٹم کےلئے اسپتال منتقل کی گئی ہے، عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید پوسٹ مارٹم ٹیم کی سربراہی کریں گی کمیٹی میں 2 میل میڈیکولیگل افسران بھی شامل ہوں گے،عامرلیاقت کا پوسٹ مارٹم کراچی کے جناح اسپتال میں کیا جائے گا

    عامر لیاقت رکن قومی اسمبلی تھے اور انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے موقع پر عمران خان کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے، تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیمز کی جانب سے عامر لیاقت کے خلاف ٹویٹر پر طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا تھا،

    عامر لیاقت کی وفات کی خبر آئی تو قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ افسوسناک خبر ہے کہ رکن اسمبلی عامر لیاقت کا انتقال ہوگیا ہے ایوان کی کاروائی فوری روکنی چاہیے عامر لیاقت کے انتقال کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا

    ابتدائی اطلاعات کیمطابق عامر لیاقت کے گھر میں جنریٹر کا دھواں پھیلا ہوا ہے ممکنہ طور پر لوڈ شیڈنگ کے سبب جنریٹر چلایا اور کمرے میں گیس بھرجانے کے سبب عامر لیاقت چل بسے، سوال یہ اٹھتا ہے کہ کمرے میں جنریٹر کون رکھتا ہے، عامر لیاقت کے کمرے میں ہی جہاں وہ سوتے ہیں وہاں جنریٹر کیوں رکھا گیا تھا، اور کیا اتنی لوڈشیڈنگ ہوئی تھی کہ عامر لیاقت کو مسلسل جنریٹر چلانا پڑا تھا

    عامرلیاقت نے ٹی وی پروگرام عالم آن لائن،رمضان ٹرانسمیشن سے شہرت حاصل کی تھی عامرلیاقت جیو،اے آر وائی ،پی ٹی وی ،بول اورایکسپریس سے منسلک رہے ،ایم این اےعامرلیاقت کےسوگواران میں بیٹا اوربیٹی ہیں عامر لیاقت حسین 2002 کے انتخابات میں ایم کیوایم کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے عامر لیاقت حسین سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیرمملکت مذہبی امور رہے مارچ 2018 میں عامر لیاقت حسین نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی 2018کے انتخابات میں کراچی سے پی ٹی آئی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ممبر بنے

    صدر مملکت عارف علوی نے عامر لیاقت حسین کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے صدرمملکت نے عامرلیاقت کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی اور صبر جمیل کی دعا کی ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے عامر لیاقت حسین کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ عامر لیاقت حسین کے درجات بلند کریں،اللہ تعالیٰ عامر لیاقت حسین کے سوگواران کو صبرِ جمیل عطا کریں،

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال پر اظہار افسوس کیا، اور کہا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے صحافت سے لے کر سیاست تک ایک متحرک زندگی گزاری،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عامر لیاقت کےانتقال پر اظہار افسوس کیا ہے سابق صدر آصف علی زرداری نے عامر لیاقت کے انتقال پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ عامر لیاقت کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے آصف علی زردارینے عامر لیاقت کے خاندان سے ہمدردی اور اظہارتعزیت کیا ،سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے عامر لیاقت حسین کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہارکیا،وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا، اور کہا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی وفات کا سن کر دلی افسوس ہوا۔ مرحوم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے مرحوم سنئیر سیاستدان مزہبی سکالر اور معروف ٹی وی اینکر بھی تھے وزیراعلئ نے مرحوم کے خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، اور کہا کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا کرے

    اینکر حامد میر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی دنیا سے چلا جائے تو اسکی اچھی باتوں کو یاد رکھنا چاہئیے اللّٰہ پاک عامر لیاقت صاحب کی مغفرت فرمائے اور انکے سفر آخرت کو آسان بنائے آمین

    رہنما ایم کیوایم خالد مقبول صدیقی نے عامر لیاقت کے انتقال پر افسوس کا اظہارکیا، خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت اور اُنکے والد کی ایم کیو ایم سے دیرینہ وابستگی رہی ہے،

    عامر لیاقت حسین کی وفات پر انکی سابق بیوی کی جانب سے بھی تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے، دانیہ جن کی شادی کے چند ماہ بعد طلاق یو گئی تھی نے عامر لیاقت کی وفات کے بعد انسٹا گرام پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اللّٰہ پاک عامر کی مغرت فرمائے اور اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔