Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • تحریک انصاف کا اسمبلیوں سےاستعفوں کا اعلان: ڈٹ کرکھڑا ہے قوم کےلیےکپتان:فواد چوہدری

    تحریک انصاف کا اسمبلیوں سےاستعفوں کا اعلان: ڈٹ کرکھڑا ہے قوم کےلیےکپتان:فواد چوہدری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے لیے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد نہ ہونے پر ان کی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی سے استعفے دے دیں گے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں ہم نے ایک بڑی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان غیر ملکی سازش کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے، تحریک انصاف کی ای سی سی نے عوام سے بھرپور احتجاج کی اپیل کی ہے.

    فواد چوہدری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو قائد ایوان کا امیدوار نامزد کیا ہے، ایسا اس لئے کیا گیا ہے تاکہ شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا جاسکے۔

    رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جس دن شہباز شریف پر فرد جرم عائد ہونی ہے اسی دن وہ وزیر اعظم کے لیے الیکشن لڑرہے ہوں گے۔ ہم چور اور ڈاکووں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ پارٹی کی کور کمیٹی نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، پہلے مرحلے پر قومی اسمبلی سے استعفے دیں گے۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے زیادہ تر ارکان نے پہلے ہی استعفے عمران خان کو دے چکے ہیں۔

    رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد نہ ہوئے تو کل تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں گے۔

    امپورٹڈ حکومت ماننے کیلئے کسی صورت تیار نہیں

    اس موقع پر سابق وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ عوام امپورٹڈ حکومت کو ماننے کے لئے کسی صورت تیار نہیں، عمران خان آئندہ چند روز میں پشاور سے عوامی رابطہ مہم چلائیں گے۔

    عمران خان کے قد کا کوئی لیڈر نہیں

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ پورے پاکستان میں عمران خان کے قد کا کوئی لیڈر نہیں، کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے۔

  • پاکستان میں صورتحال کو مانیٹر کررہےہیں،اپنےمفادات کا تحفظ کریں گے:امریکا کا پاکستانیوں کےمنہ پرطمانچہ

    پاکستان میں صورتحال کو مانیٹر کررہےہیں،اپنےمفادات کا تحفظ کریں گے:امریکا کا پاکستانیوں کےمنہ پرطمانچہ

    واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں جاری صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں، پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں قانون کی عملداری کریں۔

    امریکا کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں آئین کی پاسداری یقینی بنائیں، امید ہے کہ تمام پارٹیاں گڈ گورننس اور جمہوری اقدار پر قائم رہیں گی۔امریکا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا پاکستان میں اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کی برطرفی کی وجہ امریکی سازش قرار دیتے ہیں۔ ثبوت کے طورپر انہوں نے گذشتہ ماہ اسلام آباد میں منعقدہ جلسے میں ایک خط لہرایا تھا جس میں مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی دھمکی دی گئی تھی۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران اس خفیہ خط کی مندرجات بھی شیئر کی تھیں۔ مندرجات کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا مقصد وزیراعظم کو ہٹانا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی آزاد ہے، پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کو پسند نہیں کیا جا رہا، آنے والے دنوں میں آپ کے لیے حالات مزید مشکل ہوں گے۔

    مندرجات میں بتایاگیا کہ اگر عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو ریاستِ پاکستان کے ساتھ معاملات بہتر کر سکتے ہیں، آنے والے دنوں میں آپ کے لیے حالات مشکل ہو سکتے ہیں، اگر عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو مشکلات کیلئے تیار رہنا چاہیے۔

  • برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر

    برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر

    آئی ایس پی آر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رات کے واقعات پر خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کا کہنا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی آج شائع ہونے والی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ عام پروپیگنڈہ کہانی میں کوئی معتبر، مستند اور متعلقہ ذریعہ نہیں ہے اور یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق بی بی سی کی 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پر گمراہ کن جعلی کہانی میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور جو بھی واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پرایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔

    سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا تھا-

    عمران خان کی نشانی جو علی محمد قومی اسمبلی سے جاتے وقت ساتھ لے گئے

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کیا تھا کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

    بی بی سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔اس ملاقات میں کیا بات ہوئی باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت…

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

    بی بی سی نے رپورٹ میں کہا تھا کہ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی-

    تاہم آئی ایس پی آرنےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رات کے واقعات پر مبنی مذکورہ خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا ہے-

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

  • ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    اسمبلی اجلاس،پھر اچانک عدالتیں کھل گئیں،ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟

    عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تا ہم کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سمیت اسلام آباد میں ایسی ہلچل مچی کہ سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے تالے کھل گئے، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنا دفتر رات کو کھول لیا، ایئر پورٹس پر الرٹ کر دیا گیا، ہر طرف سیکورٹی کے دستے اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی پولیس کی قیدیوں والی گاڑیاں پہنچا دی گئیں

    ان حالات کے حوالہ سے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔

    سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا۔وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیاکابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے۔ اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

    اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔

    ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔

    بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کی باہر قیدیوں والی گاڑیاں پہنچ گئیں، گرفتاریوں کا امکان

    سپیکر ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مستعفی

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

  • شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو چکی ہے

    عمران خان اب سابق وزیراعظم ہو گئے ہیں، سیاسی رہنماؤن نے جہاں عمران خان کی حکومت جانے پر ردعمل دیا ہے وہیں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانے والے گیرٹ ولڈرز نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے

    گیرٹ ولڈرز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انتہا پسند عمران خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، اچھا ہوا ہے، وہ دہشت گردی کا حامی تھا اور بھارت کا دشمن تھا

    واضح رہے کہ بدنام زمانہ گستاخ گیرٹ ولڈرز نے ہالینڈ کی پارلیمنٹ سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا اعلان کیا تھا۔ ہالینڈ کے اس ملعون سیاست دان پراس کی نفرت انگیز سیاست اور اسلام مخالف کارروائیوں کی وجہ سے برطانیہ اور امریکا سمیت کئی ممالک میں داخلہ کی پابندی عائد کی جاچکی ہے۔ خود ہالینڈ میں بھی اس کی نقل و حرکت کوسیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر محدود رکھا گیا ہے۔ کیوں کہ اس کی شر انگیزی اور گستاخیوں کی وجہ سے حکومت کو خدشہ ہے کہ یہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکتا ہے۔

    گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے ردعمل دیا ہے

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حق اور سچ پر ہونے کی اس سے بڑی دلیل کوئی نہیں ہو سکتی۔ گیرٹ ولڈرز وہ شخص ہے جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کا مقابلہ منعقد کروا رہا تھا۔ اور وزیراعظم عمران خان کے احتجاج پر اسے یہ مقابلہ روکنا پڑا تھا۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ مبارک ہو اپوزیشن والوں کو گیرٹ ولڈرز ہے جو فرانس میں گستاخانہ کارٹونز کا مقابلہ کروا رھا وہ بھی آج تمہارا ساتھ خوشیاں منا رہا ہے
    ” شدت پسند مسلمان عمران خان کو آج وزیراعظم ہاؤس سے نکال دیا گیا میں بہت خوش ہوں

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ وہ بیغیرت گیرٹ ولڈرز ہے جو فرانس میں گستاخانہ کارٹونز کا مقابلہ کروا رھا تھا. آج عاشق رسول عمران خان کی حکومت کے خاتمہ پر اسکا ٹویٹ بتارہا ہے کہ اسلامو فوبیا والے ان بیغرتوں کو کتنی خوشی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کی ہے،

    پارلیمنٹ ہاؤس کی باہر قیدیوں والی گاڑیاں پہنچ گئیں، گرفتاریوں کا امکان

    سپیکر ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مستعفی

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

  • وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس چھوڑا اور بنی گالہ روانہ ہوئے

    عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی، عمران خان کا اب اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا ؟ اس حوالہ سے سینٹر فیصل جاوید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آج پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس بلا لیا – عمران خان آیندہ کے لاحہ عمل کا اعلان کریں گے – انشاء اللہ

    عمران خان نے بنی گالہ پہنچنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد آج اتوار کو کور کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے، عمران خان آج مشاورت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، عمران خان نے آج اتوار کو عشا کے بعد ملک گیر احتجاج کا بھی اعلان کر رکھا ہے، عمران خان کی کال پر ملک بھر میں تحریک انصاف کے کارکنان احتجاج کریں گے، گزشتہ روز قوم سے خطاب کے دوران عمران خان نے غیر ملکی مداخلت کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی،

    عمران خان کور کمیٹی اجلاس میں ملک گیر احتجاج کے علاوہ الیکشن کی تیاری کے حوالہ سے بھی اہم فیصلہ کریں گے، اجلاس میں پنجاب حکومت بچانے کے حوالہ سے بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا،پارٹی اجلاس میں مستقبل میں کیسز سے بچنے کے حوالہ سے بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا

    پارلیمنٹ ہاؤس کی باہر قیدیوں والی گاڑیاں پہنچ گئیں، گرفتاریوں کا امکان

    سپیکر ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مستعفی

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

  • تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب
    قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت ایاز صادق نے کی،

    تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی کرسی سے ہٹانے کے لئے 174 ووٹ پڑے ہیں ، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے 172 ووٹ درکار تھے، تا ہم اپوزیشن اتحاد نے 174 ووٹ حاصل کئے اور عمران خان کو سابق وزیراعظم بنا دیا، ایاز صادق جو اپوزیشن کے رکن ہیں اور سپیکر کا کردار ادا کر رہے تھے انہون نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا،سپیکر نے بتایا کہ 174 ووٹ کاسٹ ہوئےہیں، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ عمران خان اکثریت قومی اسمبلی میں کھو چکے ہیں،

    قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خان کی وزارت اعظمیٰ کا دور ختم ہوگیا ہے تحریک انصاف کے نے 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 149 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی عمران خان نے اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق) ، متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر آزاد ارکان کو شامل کرکے حکومت بنائی تھی عمران خان نے 18 اگست 2018ء کو وزارت عظمیٰ عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور آج 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا ہفتہ 18 اگست 2018ء کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022ء کو تمام ہوا عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دور 3 سال 7 ماہ اور 24 دن بنتا ہے

    ایاز صادق کی جانب سے اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے جشن منایا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے تمام قائدین یہاں بیٹھے ہیں اور نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے

    عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تمام قائدین، ممبران قومی اسمبلی، متحدہ اپوزیشن کے تمام ساتھی اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہیں، آج ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے، ایک نیا دن آنے والا ہے،پاکستان کے کروڑوں عوام کی دعائیں قبول ہوئی ہیں، متحدہ اپوزیشن کے قایدین سابق صدر آصف زرداری،مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو، خالد صدیقی،اختر مینگل ،نوابزادہ بگٹی، امیر حیدر ہوتی سمیت ،سردار خالد مگسی،اسلم بھوتانی، علی نواز شاہ اور دبنگ طارق چیمہ ،محسن داوڑ، علی وزیر ،اور سب پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انکی جدوجہد رنگ لائی ہے اور دوبارہ آئین اور قانون کا پاکستان بنا چاہتا ہے،یہ اتحاد پاکستان کو دوبارہ تعمیر کرے گا، اپنے قائد نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تمام ساتھیوں نے جیلیں کاٹیں،پہلا موقع ہے کہ ہماری بہنوں ،بیٹیوں نے جیلیں کاٹیں، نواز شریف تین بار وزیراعظم رہے انکو جیل میں بھجوایا گیا، ہم ماضی کی تلخی مین نہیں جانا چاہتے اسکو بھلا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں ،ہم اس قوم کے دکھوں اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں، ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے،ہم کسی کے ساتھ ناانصافی،زیادتی نہیں کریں گے،ہم بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا، اس میں بلاول بھٹو ،مولانا فضل الرحمان سمیت کوئی مداخلت نہیں کرے گا، عدلیہ کا احترام، اداروں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ ملکر پاکستان کو چلائیں گے

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا کہ ہم نے سیلکٹڈ حکومت کا خاتمہ کیا آج 10 اپریل 2020 کو وہ گیا، اور ہم پرانے پاکستان میں آ گئے ،جمہوریت بہترین انتقام ہے، ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے پاکستان میں پہلی بار عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے محترمہ 10 اپریل 1986 کو ضیا الحق کے خلاف جدوجہد کیلئے لاہور آئی تھیں، آج 10 اپریل 2022 ہے، ویلکم بیک پرانا پاکستان،میں 3 سال سے اس ہاؤس کا ممبر ہوں،اس عرصہ میں جتنا سیکھا شاید زندگی بھر نہیں سیکھا نوجوانوں سے اتنا کہنا چاہوں گا کہ کچھ بھی ناممکن نہیں،

    مولانا اسعد محمود نے کہا کہ قوم کو مبارک پیش کرتا ہوں، ہم غیر آئینی حکمرانی کا خاتمہ کر کے آئینی حکمرانی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں، پاکستان سب کا ہے، ہم سب نے اس کیلئے جدوجہد کرنی ہے،

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سیاسی قائدین اور کارکنان کو مبارکباد دیتا ہوں،یہ لمحہ جشن کا نہیں بلکہ مقام شکر کا ہے، یہ لمحمہ انعام سے زیادہ امتحان ہے،عام پاکستانی کے نصیب اور مقدر کی تبدیلی ہونی چاہئے، عدم اعتماد کی اس کامیابی سے جو آپکو جمہوریت کو اعتماد ملا ہے اب اعتماد کی ذمہ داری ہے کہ قوم کو بھی اعتماد دیں اور جو تقاضے جو ہم دور میں رکھتے ہیں کہ ہم آپکے ساتھ ہیں، آئیے جاگیردارانہ نطام کی جگہ جمہوریت حقیقی جمہوریت کی طرف بڑھیے،ہمیں پاکستان کو سیکورٹی سٹیٹ کی بجائے ویلفیئر سٹیٹ بنانا ہے، نیا اور پرانا پاکستان نہیں بہتر پاکستان چاہئے جس میں بچوں کو محفوظ سمجھ سکیں، ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، آپ قوم کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کریں

    خالد مگسی نے کہا کہ آج ہم ایک جمہوری عمل کا حصہ بنے،ہم نے اپنا باپ ہونے کا حق ادا کردیا،12سے 13گھنٹے ایوان کی کارروائی جاری رہی،

    سردار اختر مینگل نے کہا کہ آئین کو ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالا جاسکتا،اگر آئین کی پاسداری ایوان میں نہیں ہوگی تو پھر کون کرے گا،آئین توڑ دیا گیا مگر کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی،آئین کو توڑ کر جشن منایا گیا،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ یہاں بیٹھی لیڈرشپ اور ممبران کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں،

    علی محمد خان نے کہا کہ مجھے اس بات پر خوشی ہے عمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی آج میری پارلیمانی امور کی ڈیوٹی تمام ہوئی،مولانا جس عمران خان کو ایجنٹ کہتے تھے وہ کیسا ایجنٹ تھا جسے ہٹانے کیلئے امریکہ نے پورا زور لگایا،کسی کے ہنسنے سے میرے حوصلے کم نہیں ہوں گے،وقت ثابت کرے گا کہ کون اصلی شیر ہے،عمران خان کا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے آزاد خارجہ پالیسی کی بات کی،روس صرف بہانہ ہے ،عمران خان نشانہ ہے، عمران خان کا یہ گناہ ہے کہ اس نے سامراج کے سامنے کھڑے ہو کر ایبسلوٹلی ناٹ کہا ،کہا گیا کہ اگر عمران خان کی حکومت گر گئی تو پاکستان کو معاف کردیں گے،مجھے فخر ہے کہ میرا لیڈر کھڑا رہا، جھکا نہیں، ڈرا نہیں ،جلد عمران خان انشااللہ عوام کی طاقت سے دوبارہ واپس آئے گا، آج بھی پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جو سامراج کیخلاف کھڑے ہیں،

    قبل ازیں اسد قیصر کے استعفیٰ کے بعد ایاز صادق نے اسپیکر کی نشست سنبھال لی حکومتی اراکین نے اپنی اپنی نشستیں چھوڑ دی حکومتی ارکان ایوان سے چلے گئے ایاز صادق نے کہا کہ اسد قیصر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،اسد قیصر نے اپنی جماعت سے وابستگی رکھتے ہوئے استعفیٰ دیا، قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر کارروائی شروع ہو ئی ،اجلاس میں ایاز صادق نے کہا کہ ووٹنگ نمبر چار پر اب بات ہو گی،جو شہباز شریف نے جمع کروائی، ووٹنگ عدم اعتماد کی وزیراعظم عمران خان کے بارے میں ہو گی، سپیکر نے پانچ منٹ کے لئے گھنٹیاں بجانے کو کہا تا کہ اراکین جو باہر آئیں وہ آ جائیں

    سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ جو عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے وہ سائیڈ پر ہو جائیں ،ایاز صادق نے اس دوران اجلاس کو ایک منٹ کے لئے روکا اور کہا کہ نیا دن شروع ہونے والا ہے، دو منٹ کے لئے اجلاس ملتوی کیا گیا، کیونکہ دن بدل رہا ہے،

    دوبارہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو تلاوت کی گئ، اسکے بعد نعت اور قومی ترانہ پڑھا گیا، جس کے بعد ووٹنگ کا مرحلہ ہوا،پہلا ووٹ سابق صدر آصف زرداری نے کاسٹ کیا طارق بشیر چیمہ نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف ووٹ کاسٹ کیا، ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں 176 ووٹ پڑے ہیں ، عدم اعتماد کی تحریک میں آخری ووٹ پیپلزپارٹی کی شازیہ مری نے کاسٹ کیا

    پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں حصہ نہین لیا، اس وجہ سے اب ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی

    عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پارلیمانی لیڈر پنجاب سید حسن مرتضی جیالوں کے ساتھ قومی اسمبلی کے فلور پہ تاریخی کامیابی پر جشن منا رہے ہیں

    قبل ازیں سپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکرقاسم خان سوری نے استعفی دے دیا ہے،سپیکر اسد قیصر نے اجلاس میں کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر گفتگو کی گئی، بیرون ملک سے کی گئی سازش پر تحفظات کا اطہار کیا گیا، مجھے خفیہ دستاویزات بھجوائی گئی ہیں اس سے حکومتی موقف کو تقویت ملتی ہے، میں آئین کا پابند ہوں، ریاست کی خود مختاری کا تحفظ کروں یہ میرا فرض ہے، زمینی حقائق کے پیش نظر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس دستاویزات جو میرے پاس ہے ، اسد قیصر نے لیٹر دکھا دیا اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر بھی دیکھ سکتے ہیں، چیف جسٹس کو بھی دکھا دوں گا، ملک کی خؤد مختاری کی ضرورت کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا، میں اسلئے آج یہ فیصلہ کرتا ہون کہ میں سپیکر کے عہدے پر مزید نہیں رہ سکتا، میں استعفیٰ دیتا ہوں، بہت لمبا عرصہ عمران خان کے ساتھ گزار، چھبیس سال سے اس کے ساتھ تھا، سٹوڈنٹ تھا اس وقت سے عمران خان کے ساتھ تھا، قومی فریضہ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے پینل آف چیئرمین کو آگے اجلاس چلانے کا کہتا ہوں، میں یہ بات واضح کرتا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے ملک ہے ،پاکستان کا سوچنا ہے اور یہاں اسوقت خان صاحب نے جو سٹینڈ لیا ہوا ہے وہ ملک کی خود مختاری ہے،تا کہ قوم کو آزاد ی کے لئے کھڑا کر سکیں، مین ایاز صادق سے کہوں گا کہ وہ اجلاس چلائیں

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسد قیصر کا اہم شخصیت سے رابطہ

    اجلاس ملتوی ہونے کے بعد فواد چودھری کی سعد رفیق کے ساتھ گپ شپ

    عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    عمران خان اب کس منہ سے یہ کام کرے گا؟ ریحام خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو

    قومی اسمبلی ، اپوزیشن اتحاد کے کتنے اراکین اجلاس میں موجود؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ق لیگ دھوکہ دے گئی

    آخری بال تک کھیلنے والا بنی گالہ کے کمرے میں چھپ گیا ہے،ن لیگی رہنما کا دعویٰ

    بریکنگ،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی؟

    قومی اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع،اسد قیصر صدارت نہیں کر رہے

    قومی اسمبلی میں آخری گیند عمران خان کی منتظر

    عمران پہلے بھی سیلیکٹڈ فیض یاب ہوا تھا اب ایک مرتبہ پھر فیض یاب ہونا چاہتا ہے بلاول

    بلاول کو عورت مرد کی پہچان ہونی چاہئے، شیریں مزاری

    سپریم کورٹ نے ہی سب طے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں،اسد عمر

    ان کے پاس ہمارے کافی اسٹوڈنٹس بیٹھے ہیں، وہ بھی واپس آئیں گے،آصف زرداری

    وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب

    منخرف ارکان کے خلاف ریفرنس جمع

    عمران خان نے ملک کی اہم شخصیت کو برطرف کر دیا،کامران خان کا دعویٰ

    عدم اعتماد،ووٹنگ نہ کرانے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت درخواست جمع

    پارلیمنٹ ہاؤس کی باہر قیدیوں والی گاڑیاں پہنچ گئیں، گرفتاریوں کا امکان

    سپیکر ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مستعفی

  • عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ روانہ، ویڈیو وائرل

    عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ روانہ، ویڈیو وائرل

    عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ روانہ، ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ روانہ ہو گئے ہیں

    وزیراعظم عمران خان اسوقت روانہ ہوئے جب سپیکر اسد قیصر نے استعفیٰ دیا اور عدم اعتماد کے حوالہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت ایاز صادق نے کی ،عمران خان نے اپنا سامان پہلے ہی بنی گالہ منتقل کر دیا تھا،کئی وفاقی وزرا نے بھی اپنا سامان منتقل کر دیا تھا،و زرا بھی گھروں کی طرف روانہ ہو چکے ہیں،

    دوسری جانب عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی وزیر اعظم ہاؤس سے روانہ ہوگئے ہیں وزیراعظم کے سیکریٹری اعظم خان کا تبادلہ کردیا گیا اعظم خان کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں مراسلے کی تحقیقات اورعمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ 11 اپریل کو سماعت کریں گے شہری مولوی اقبال حیدر کی جانب سےدرخواست دائر کی گئی تھی،درخواست میں فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، قاسم سوری اور اسد مجید کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا کی گئی تھی،درخواست میں کہا گیا تھا کہ سیکریٹری داخلہ کو وزیراعظم اور وزرا کیخلاف مبینہ خط سے متعلق انکوائری کا حکم دیا جائے درخواست پر فیصلہ ہونے تک وزیراعظم، وزرا اور اسد مجید نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،

    عمران خان کے بنی گالہ جانے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آیا ہے،شہباز گل کا کہنا ہے کہ آخری شخص میں تھا جو وزیراعظم آفس سے وزیراعظم کو رخصت کر کے نکلا ہوں،بس ایک ہی چیز ہے جو میرے پاس ہے وہ وفاداری ہے ایسے بہادر انسان کے ساتھ کبھی بے وفائی نہیں کر سکتا،

    فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان کیلئے آج افسوسناک دن ہے،پاکستان ایک بار پھر لٹیروں کے پاس چلا گیا،مراد سعید کا کہنا تھا کہ تاریخ لکھے گی کہ امریکہ کی غلامی کے لیے سب تیار تھے،بس ایک عمران خان تھا جس نے نعرہ حق بلند کیا،عمران خان آخری دم تک قوم کی خود داری کے لیے کھڑارہا عمران خان سرخرو اور یہ مہرے ساری زندگی شرمندگی اٹھائیں گے

    شہریار آفریدی کا کہناتھا کہ میرے قائد نے ثابت کردیا کہ پاکستان پر سب کچھ قربان۔ مجھے فخر ہے کہ میرا قائد اتنا دلیر اور اتنا ویژنری ہے۔ میرے قائد پر میرا تن من دھن سب قربان۔ سلام _عمران_خان

    فرح حبیب کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں عمران خان نے خودداری اور قومی غیرت پر سودے بازی نہ کرکے اپنا حق ادا کردیا ہے۔ اب عوام کی باری ہے آپ بھی اپنا حق ادا کرے۔

    ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کے زوال کی وجہ اسکا تکبر بنا جو صرف اور صرف اللہ کی ذات کے لۓ مختص ھے.. اللہ ھمیں عاجزی اور انکساری عطا فرماۓ آمین

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسد قیصر کا اہم شخصیت سے رابطہ

    اجلاس ملتوی ہونے کے بعد فواد چودھری کی سعد رفیق کے ساتھ گپ شپ

    عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    عمران خان اب کس منہ سے یہ کام کرے گا؟ ریحام خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو

    قومی اسمبلی ، اپوزیشن اتحاد کے کتنے اراکین اجلاس میں موجود؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ق لیگ دھوکہ دے گئی

    آخری بال تک کھیلنے والا بنی گالہ کے کمرے میں چھپ گیا ہے،ن لیگی رہنما کا دعویٰ

    بریکنگ،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی؟

    قومی اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع،اسد قیصر صدارت نہیں کر رہے

    قومی اسمبلی میں آخری گیند عمران خان کی منتظر

    عمران پہلے بھی سیلیکٹڈ فیض یاب ہوا تھا اب ایک مرتبہ پھر فیض یاب ہونا چاہتا ہے بلاول

    بلاول کو عورت مرد کی پہچان ہونی چاہئے، شیریں مزاری

    سپریم کورٹ نے ہی سب طے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں،اسد عمر

    ان کے پاس ہمارے کافی اسٹوڈنٹس بیٹھے ہیں، وہ بھی واپس آئیں گے،آصف زرداری

    وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب

    منخرف ارکان کے خلاف ریفرنس جمع

    عمران خان نے ملک کی اہم شخصیت کو برطرف کر دیا،کامران خان کا دعویٰ

    عدم اعتماد،ووٹنگ نہ کرانے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت درخواست جمع

    پارلیمنٹ ہاؤس کی باہر قیدیوں والی گاڑیاں پہنچ گئیں، گرفتاریوں کا امکان

    سپیکر ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مستعفی

  • عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست سماعت  کیلئے مقرر

    عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مراسلے کی تحقیقات اورعمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ 11 اپریل کو سماعت کریں گے شہری مولوی اقبال حیدر کی جانب سےدرخواست دائر کی گئی تھی،درخواست میں فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، قاسم سوری اور اسد مجید کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا کی گئی تھی،درخواست میں کہا گیا تھا کہ سیکریٹری داخلہ کو وزیراعظم اور وزرا کیخلاف مبینہ خط سے متعلق انکوائری کا حکم دیا جائے درخواست پر فیصلہ ہونے تک وزیراعظم، وزرا اور اسد مجید نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،

    اپوزیشن جماعتوں نے 8 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی تھی جس پر قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 25 مارچ اور دوسرا 28 مارچ کو طلب کیا گیا اور 3 اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ کا فیصلہ کیا گیا جس کا ایجنڈا بھی جاری کیا گیا۔

    اسی دوران 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ایک خط لہرایا اور کہا کہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ہے جو اس بات کا ثبوت ہے۔

    پھر 31 مارچ کو قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے ’امریکا‘ کا نام لیا اور پھر غلطی کا احساس ہونے پر رکے اور کہا کہ نہیں باہر سے ملک کا نام مطلب کسی اور ملک سے باہر سے، البتہ بعد میں انہوں نے کھل کر کہا کہ خط امریکا میں تعینات ان کے سفیر نے بھیجا لیکن اس میں امریکا کا پیغام تھا۔

    عد ازاں اسی خط کو جواز بناکر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے 3 اپریل کو وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرائی اور عدم اعتماد کی قرارداد کو ملک دشمنوں کی سازش قرار دے کر مسترد کردیا۔

    3 اپریل کو ہی عمران خان کے خطاب کے بعد صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کردی تاہم اپوزیشن نے اس سارے عمل کو غیر آئینی قرار دیا اور اسمبلی کے اندر ہی دھرنا دے دیا۔

    قومی اسمبلی کی کارروائی پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا جس کی پانچ روز تک سماعت جاری رہی جس کے بعد 7 اپریل کو سپریم کورٹ نے 3 اپریل کے ڈپٹی اسپیکر اور صدر اور وزیراعظم کے تمام احکامات کالعدم قرار دے کر اسمبلی بحال کردی اور 9 اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم دیا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اس اہم ترین کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی شامل تھے

  • سپیکر ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مستعفی

    سپیکر ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مستعفی

    سپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکرقاسم خان سوری نے استعفی دے دیا ہے

    سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر گفتگو کی گئی، بیرون ملک سے کی گئی سازش پر تحفظات کا اطہار کیا گیا، مجھے خفیہ دستاویزات بھجوائی گئی ہیں اس سے حکومتی موقف کو تقویت ملتی ہے، میں آئین کا پابند ہوں، ریاست کی خود مختاری کا تحفظ کروں یہ میرا فرض ہے، زمینی حقائق کے پیش نظر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس دستاویزات جو میرے پاس ہے ، اسد قیصر نے لیٹر دکھا دیا اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر بھی دیکھ سکتے ہیں، چیف جسٹس کو بھی دکھا دوں گا، ملک کی خؤد مختاری کی ضرورت کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا، میں اسلئے آج یہ فیصلہ کرتا ہون کہ میں سپیکر کے عہدے پر مزید نہیں رہ سکتا، میں استعفیٰ دیتا ہوں، بہت لمبا عرصہ عمران خان کے ساتھ گزار، چھبیس سال سے اس کے ساتھ تھا، سٹوڈنٹ تھا اس وقت سے عمران خان کے ساتھ تھا، قومی فریضہ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے پینل آف چیئرمین کو آگے اجلاس چلانے کا کہتا ہوں، میں یہ بات واضح کرتا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے ملک ہے ،پاکستان کا سوچنا ہے اور یہاں اسوقت خان صاحب نے جو سٹینڈ لیا ہوا ہے وہ ملک کی خود مختاری ہے،تا کہ قوم کو آزاد ی کے لئے کھڑا کر سکیں، مین ایاز صادق سے کہوں گا کہ وہ اجلاس چلائیں

    سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد وہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے، نجی ٹی وی کے مطابق سپیکر پر پریشر ہے کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ڈیلے کریں لیکن انکے پاس کوئی آپشن نہیں، سپیکر اپنی پارٹی کے خلاف نہیں جانا چاہ رہے تھے اسلئے استعفی دے دیا،وہ ووٹنگ نہیں کروانا چاہتے

    قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی وزیراعطم سے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو صحافی نے سوال کیا جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گالیاں دیں،صحافی نے سپیکر قومی اسمبلی سے سوال کے ووٹنگ ہوگی تو جواب میں اسپیکر قومی اسمبلی نے صحافی کو گالی دی

    دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزرا پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں سپریم کورٹ کی طرف سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج ہورہا ہے تاہم اب تک تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مرحلہ نہیں آسکا

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسد قیصر کا اہم شخصیت سے رابطہ

    اجلاس ملتوی ہونے کے بعد فواد چودھری کی سعد رفیق کے ساتھ گپ شپ

    عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    عمران خان اب کس منہ سے یہ کام کرے گا؟ ریحام خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو

    قومی اسمبلی ، اپوزیشن اتحاد کے کتنے اراکین اجلاس میں موجود؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ق لیگ دھوکہ دے گئی

    آخری بال تک کھیلنے والا بنی گالہ کے کمرے میں چھپ گیا ہے،ن لیگی رہنما کا دعویٰ

    بریکنگ،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی؟

    قومی اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع،اسد قیصر صدارت نہیں کر رہے

    قومی اسمبلی میں آخری گیند عمران خان کی منتظر

    عمران پہلے بھی سیلیکٹڈ فیض یاب ہوا تھا اب ایک مرتبہ پھر فیض یاب ہونا چاہتا ہے بلاول

    بلاول کو عورت مرد کی پہچان ہونی چاہئے، شیریں مزاری

    سپریم کورٹ نے ہی سب طے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں،اسد عمر

    ان کے پاس ہمارے کافی اسٹوڈنٹس بیٹھے ہیں، وہ بھی واپس آئیں گے،آصف زرداری

    وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب

    منخرف ارکان کے خلاف ریفرنس جمع

    عمران خان نے ملک کی اہم شخصیت کو برطرف کر دیا،کامران خان کا دعویٰ

    عدم اعتماد،ووٹنگ نہ کرانے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت درخواست جمع

    پارلیمنٹ ہاؤس کی باہر قیدیوں والی گاڑیاں پہنچ گئیں، گرفتاریوں کا امکان