Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کریں گے عوام میں جائیں گے:وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کریں گے عوام میں جائیں گے:وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی عزت کرتا ہوں، فیصلے سے مایوسی ہوئی، عدلیہ کا فیصلہ قبول کرتے ہیں، میں ایک ہی دفعہ جیل گیا اور آزاد عدلیہ کی تحریک کے لئے میں جیل گیا، امپورٹڈ حکومت کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا۔

    سپریم کورٹ نےغیرمُلکی مداخلت اورضمیرفروشی کوتحفظ دیا:اس کی سزا توملک وقوم کوسہنا پڑے گی:عمران خان نے انصآف کرنے والے اداروں کوجھنجھوڑ کررکھ دیا ، عمران خان نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرعدالتیں اس قسم کے فیصلے کریں گی تو اس سے پھرقوم توترقی نہیں کرسکتی

    قوم سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھاکہ پارٹی شروع کی تو 3 اصولوں پر چلا ہوں، خود داری اور انصاف پر بات کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، عدلیہ کی عزت کرتا ہوں، ایک ہی دفعہ آزاد عدلیہ کی تحریک کے دوران جیل گیا۔

    ان کا کہنا تھاکہ افسوس یہ ہوا کہ سپریم کورٹ مراسلے کو بلا کر دیکھ تو لیتا، جو ہم کہہ رہے ہیں کہ جو رجیم چینج کی سازش ہے دیکھ تو لیتے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ 63 اے کھلے عام ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے بچے بچے کو پتہ ہے، عدالیہ سے امید تھی کہ اس معاملے پر سو موٹو ایکشن لے، یہ مذاق بن گیا ہے ملک کی جمہوریت کا، پنجاب میں لوگ بند ہیں، یہ کوئی جمہوریت نہیں ہے، یہ سب سے تکلیف دہ ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھاکہ عدلیہ کا فیصلہ تسلیم کیا، بہت مایوس ہوں، انصاف کے ادارے اور عوام یہ تماشا دیکھ رہے ہیں، کبھی ایسی چیز مغربی جمہوریت میں نہیں دیکھی۔

    ہم کہہ رہے تھے کہ یہ اتنی بڑی سازش ہے اور حکومت بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، عدالت کو دیکھنا چاہیے تھا کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں یا سچ، سپریم کورٹ کو ہارس ٹریڈنگ پر بھی نوٹس لینا چاہیے تھا، آرٹیکل 63 اے سے متعلق ریفرنس کا فیصلہ ابھی تک التواء کا شکار ہے، ہم عدلیہ سے امید لگائے ہوئے تھے کہ وہ ہارس ٹریڈنگ پر ازخود نوٹس لے گی، سیاستدان کھلے عام بک رہے ہیں، سب کو معلوم ہے۔

    اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ہماری قوم کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم نوجوانوں پر مشتمل ہے، ملک کی لیڈرشپ رشوت ستانی کے ذریعے کیا مثال قائم کر رہی ہے، عدم اعتماد میں بیرونی مداخلت ہوئی تھی، بھیڑ بکریوں کی طرح ایم این ایز کی بولیاں لگائی گئیں، عدلیہ سے توقع تھی ہارس ٹریڈنگ پر موموٹو ایکشن لیتی،

    عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران نے 30 ،32سال پہلے چھانگا مانگا کی سیاست شروع کی تھی، لوگوں سے خدمت کے نام پر ووٹ لیتے ہیں اور پھر ضمیر فروشی کرتے ہیں، مخصوص نشستوں والے اراکین بھی بک رہے ہیں، ملک کو عظیم بنانے کی جدوجہد میں بہت بڑا دھچکا لگتا ہے، مغرب میں کبھی کسی کو بکتا ہوا نہیں دیکھا، امر باالمعروف پر لوگوں کو اسلام آباد یہی بتانے کیلئے بلایا تھا، بیرون ملک پاکستانیوں سے پوچھیں مغرب میں معاشرے کیسے ہیں، 20سال پہلے میں بھی برطانیہ میں عراق جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا۔

    قوم کو کہتا ہوں اگر آپ لوگ کھڑے نہیں ہوںگے تو کسی نے آکر نہیں بچانا۔

    خفیہ خط کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپنے غیر ملکی سفارتخانوں سے موصول ہونیوالے سائفر پیغام ہوتے ہیں، کہا گیا عمران خان کو روس نہیں جانا چاہیے تھا، سیکریٹ ہونے کی وجہ سے وہ مراسلہ عوام کو نہیں دکھا سکتا، امریکہ میں پاکستان کے سفیر کی امریکی آفیشل سے ایک ملاقات ہوئی، امریکی آفیشل نے کہا کہ عمران خان کو روس نہیں جانا چاہیے تھا، ہمارے سفیر نے اسے سمجھایا کہ یہ پلان پہلے سے بنا ہوا تھا، امریکی آفیشل نے کہا اگر عمران خان عدم اعتماد سے بچ گیا تو پاکستان کو خطرناک نتائج بھگتنے پڑیں گے،

    یہ کہا اگر عمران خان عدم اعتماد میں ہار گیا تو پاکستان کو معاف کر دیا جائیگا، امریکی آفیشل کو معلوم تھا کہ کس نے اچکن سلوائی ہوئی ہے، یہ 22 کروڑ لوگوں کی کھلے عام توہین ہے، اگر ایسی ہی زندگی گزارنی ہے تو ہم آزاد ہی کیوں ہوئے تھے، اس کے فوری بعد سندھ ہاؤس میں خریدوفروخت شروع ہو گئی، امریکی سفارتکار ہمارے لوگوں سے ملنا شروع ہو گئے، انہیں چند ماہ پہلے پتہ تھا کہ عدم اعتماد آ رہی ہے، ان کو کیسے پتہ تھا کہ شہبازشریف نے شیروانی سلوائی ہوئی ہے، آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ یہاں تو پورا اسکرپٹ بنا ہوا تھا، ہمیں فیصلہ کرنا ہے آزاد قوم بن کر رہنا ہے یا غلامی کی زندگی گزارنی ہے۔

    ہم ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے والی قوم نہیں

    وزیراعظم نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی وہ ہے کہ سب سے اچھے تعلقات رکھیں، عمران خان اینٹی امریکا نہیں ہے لیکن ہم کوئی ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے والی قوم نہیں ہیں۔

  • پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم نے موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کے فیصلوں پر اعتماد کا اظہارکیا،پی ٹی آئی اراکین نے کہا کہ وزیراعظم آپ جو حکم کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہیں، ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے موجودہ صورتحال میں آپشنز پر سوالات کیے،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میری بات سنیں، شہباز شریف اچکن نہیں پہن سکے گا،

    باخبر ذرائع کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے سخت اپوزیشن کرنے کی تجویز بھی اجلاس میں سامنے آئی،اراکین نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو اپوزیشن لیڈر ہونے کا حق ادا کیا جائے، جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم کہیں نہیں جا رہے، آپ دیکھتے جائیں کسی صورت حکومت گرانے کی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دوں گا،وزیراعظم عمران خان نے اراکین کو ہدایت کی کہ آپ لوگ حلقوں میں جائیں، اپنے لوگوں کو اس سازش سے آگاہ کریں یہ سارے ملکر بھی ہمیں نہیں روک سکتے، قوم ہمارے ساتھ ہے،

    علاؤہ ازیں وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے سیاسی کیمٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔سیاسی کمیٹی نے وزیراعظم کو اجتماعی استعفوں کی تجویز پیش کردی۔وزیراعظم عمران خان کو سیاسی کمیٹی نے وفاق، پنجاب اور کے پی سے مستعفی ہونے کی تجویز دے دی۔اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔اجلاس میں عوامی رابطہ مہم  تیز کرنے اور تمام اضلاع میں جلسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جلسوں میں عوام کو حکومت کے خلاف سازش سے متعلق اعتماد میں لیا جائےگا۔اجلاس  میں مراسلے میں مبینہ سازش کوپبلک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق تجاویزلی گئیں، ارکان نے مراسلےکی سیکریسی اور عدالتی حکم کی روشنی میں تجاویز دیں

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن  کی بیرونی سازش کا آلہ کار بننے کو بے نقاب کرچکے ہیں ۔سیاسی کمیٹی نے اجلاس میں کہا کہ عوام کا دباؤ ہے لہٰذا خط کو پبلک کیا جائے،خط کے معاملے میں ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے،ہماری حکومت کو گرانے کے لیے بیرونی سازش کی گئی،

    قبل ازیں ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ امید ہے عمران نیازی کھلے دل سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کریں گے امید ہے عمران خان بحیثیت قائد حزب اختلاف اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے، توقع ہے حکومت اور اپوزیشن ملکر معیشت کی بحالی کے لیے کام کریں گے

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز از خود نوٹس کا فیصلہ سنا دیا ہے، اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی،فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی .

    وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پریشان ہیں، ایک کے بعد ایک کوشش کرسی بچانے کی کر رہے ہیں مگر اب انہیں ہر طرف مایوسی دکھائی دے رہی ہے، تمام تر کوششیں ناکام ہو رہی ہیں اور اپوزیشن کا پلڑا ہر آئے روز بھاری پڑ رہا ہے، اپوزیشن اراکین کی تعداد بڑھ چکی ہے، عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہے، حکومتی اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، تحریک انصاف کے کئی اراکین منحرف ہو چکے ہیں،یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ممکنہ طور پر استعفیٰ دے دیں تا ہم اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان استعفے دینے والے نہیں انہیں کل خود گھر بھیجنا پڑے گا

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

  • وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود ہی اجلاس طلب کیا

    میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے حیرت انگیز فیصلہ کیا سپریم کورٹ نے کہا منحرف اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں منحرف اراکین کا کیس تو سپریم کورٹ کےپاس تھا ہی نہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی اب نہیں رہی سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اب پارلیمان کی حاکمیت سپریم کورٹ کو منتقل ہو گئی ہے، ہم فیصلے پر نظرثانی کیلئے بھی جائیں گے،سپیکر کی رولنگ غلط کیسے ہو گئی اسکے تو عدالت کے پاس کوئی شواہد ہی نہیں،آپکے پاس دستاویز ہی نہیں تو کیسے پتہ لگا لیا اسپیکر نے غلط کام کیا سپریم کورٹ اپنا کام کرے پارلیمنٹ اپنا کام کرے گی یہ عمومی تحریک عدم اعتماد نہیں ہے، ہوتا تو ہم اسے ویلکم کرتے، تحریک عدم اعتماد بین الاقوامی سازش کے تحت لائی گئی،کل سازش سے متعلق اصل ریکارڈ ممبران اسمبلی کے سامنے رکھا جائیگا،

    حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طارق خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے ،فواد چودھری کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن خود اپنی تحقیقاتی ٹیمیں بنا سکے گا کمیشن تحقیقات کرے گا سازش کہاں سے ہوئی، کابینہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، ہمیں اپنی جدوجہد 23 مارچ 1940 سے شروع کرنی ہو گی ،ہم کہیں نہیں جا رہے عمران خان وزیر اعظم ہیں اور رہیں گے اچکنیں ٹنگی رہ جائیں گی 90 روز میں الیکشن ہونے چاہئیں ہرطرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہیں،

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

  • پیکا ترمیمی آرڈیننس  کالعدم قرار

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو کالعدم قرار دیدیا

    پی بی اے اور دیگر صحافتی تنظیموں نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو غیرآئینی قرار دے دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 بھی کالعدم قرار دیدی پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 ہتک عزت کی حد تک خلاف آئین قرار دے دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ میں ہتک عزت کے تحت سزا بھی خلاف آئین قرار دیدی،عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 19 آزادی رائے کا حق دیتا ہے،

    عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ پیکا آرڈیننس کے تحت ہونے والی تمام کارروائیاں بھی کالعدم قرار دی جاتی ہیں، ایف آئی اے کے افسران نے اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کیا ،عدالت نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے ایف آئی اے افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا اور کہا کہ سیکریٹری داخلہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کے خلاف انکوائری کریں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو انکوائری ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا،عدالت نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کر کے رپورٹ جمع کرائیں،پیکا ترمیمی آرڈی نینس کو آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19 اور 19اے کی خلاف ورزی میں نافذ کیا گیا پیکا ترمیمی آرڈی نینس کا نفاذ غیر آئینی ہے اس لیے کالعدم قرار دیا جاتا ہے،وفاقی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہتک عزت کے قوانین کا جائزہ لے، توقع ہے وفاقی حکومت آرڈیننس موثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو مناسب قانون سازی کی تجویز دے گی

    قبل ازیں ایف آئی اے حکام کی جانب سے رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا دی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی تو جواب دیں ، لوگوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، عدالت کے سامنے ایس او پیز رکھے اور ان کو ہی پامال بھی کیا گیا،ایس او پیز کی پامالی کی اور وہ سیکشن لگائے گئے جو لگتے ہی نہیں ایس او پیز صرف اس لیے لگائے گئے تاکہ عدالت سے بچا جا سکے، بتائیں کہ کیسے اس سب سے بچا جا سکتا ہے؟

    ڈائریکٹر ایف آئی اے بابر بخت قریشی نے عدالت میں کہا کہ قانون بنا ہے، عمل کرنے کیلئے پریشر آتا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ نے کسی عام آدمی کیلئے ایکشن لیا؟ لاہور میں ایف آئی آر درج ہوئی اور اسلام آباد میں چھاپہ مارا گیا، بابر بخت قریشی نے کہا کہ ایف آئی آر سے قبل بھی گرفتاری ڈال دیتے ہیں پھر برآمدگی پر درج کرتے ہیں،،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے گرفتار کر سکتے ہیں? کس قانون کے مطابق گرفتاری ڈال سکتے ہیں، آپ اپنے عمل پر پشیماں تک نہیں اور دلائل دے رہے ہیں،کسی کا تو احتساب ہونا ہے، کون ذمہ دار ہے آج آرڈر کرنا ہے،صحافی کی نگرانی کی جارہی ہے، یہ ایف آئی اے کا کام ہے کیا، صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے، ملک میں کتنی دفعہ مارشل لا لگا ہے یہ تاریخ ہے لوگ باتیں کریں گے،

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

  • بلوچستان میں دو دہشت گرد جہنم واصل،پاک فوج کے دو جوان شہید

    بلوچستان میں دو دہشت گرد جہنم واصل،پاک فوج کے دو جوان شہید

    بلوچستان میں دو دہشت گرد جہنم واصل،پاک فوج کے دو جوان شہید
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے مشکئی میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا ہے جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے علاقے مشکئی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا،دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 2 جوان نائیک تاج ولی اور سپاہی اسامہ شہید ہو گئے ہیں جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے جس کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے، جو دہشت گردوں نے امن و امان کو خراب کرنے کے لیے استعمال کرنا تھا،آپریشن 7 اور 8 اپریل کی درمیانی رات خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بلوچستان کے علاقے مشکئی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے2 اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے شہید اہلکاروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ بہادر سپوتوں نے اپنی جان پر کھیل کر دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ وطن عزیز کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوان قوم کے حقیقی ہیرو ہیں۔وطن عزیز کے امن کیلئے اپنا آج قربان کرنے والے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں۔ قوم شہداء کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی ہے اور غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کا حوصلہ پست نہیں کرسکتے۔

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

  • سیکریٹری الیکشن کمیشن کوعام انتخابات کا ایکشن پلان پیش کرنے کا حکم

    سیکریٹری الیکشن کمیشن کوعام انتخابات کا ایکشن پلان پیش کرنے کا حکم

    سیکریٹری الیکشن کمیشن کوعام انتخابات کا ایکشن پلان پیش کرنے کا حکم

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں سیکریٹری اور اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن کو 13 اپریل کو عام انتخابات کا ایکشن پلان پیش کرنے کا حکم دے دیا گیا،اور ہدایت کی گئی کہ عام انتخابات سے متعلق تمام امور کی مانیٹرنگ اور ایکشن پلان بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے الیکشن کمیشن نے 2017 کی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کردیا الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا کام 4 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا

    اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں نقشہ جات و دیگر ڈیٹا فوری طور پر مہیا کریں الیکشن کمیشن جمہوری عمل کے تسلسل،شفافیت اور قانون کےلیے آئینی کردارادا کرتا رہے گا این اے 33 ہنگو میں 10 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات اب 17 اپریل کو ہوں گے پنجاب لوکل گورنمنٹ انتخابات بروقت کروائے جائینگے ، الیکشن کمیشن نے وفاقی سیکریٹری خزانہ اورچیف سیکریٹری پنجاب کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں حکام کو سننے کے بعد لوکل گورنمنٹ انتخابات کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا

    اجلاس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آئینی وقانون طور پر خود مختار ادارہ ہے وفاقی وصوبائی حکومتیں الیکشن کمیشن کی مالی وانتظامی تعاون کی پابند ہیں الیکشن کمیشن کو انتظامیہ معاملات میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    پرویز الہیٰ کوعمران خان کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے، مریم نواز

    پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    عمران خان کے آخری مایوس کن اقدامات اب اسے بچا نہیں سکتے،بلاول

    عمران خان کی آئین شکنی،مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان

    کیا خود کچھ نہیں اور تنقید ہم پر،الیکشن کمیشن برہم، کھری کھری سنا دیں

    عام انتخابات کا نوے دن میں انعقاد،الیکشن کمیشن نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

  • نواز شریف واپس کب آ رہے ہیں؟ مبشر لقمان نے اندر کی خبر دے دی

    نواز شریف واپس کب آ رہے ہیں؟ مبشر لقمان نے اندر کی خبر دے دی

    نواز شریف واپس کب آ رہے ہیں؟ مبشر لقمان نے اندر کی خبر دے دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے نواز شریف کی پاکستان واپسی کے حوالہ سے اہم خبر دی ہے

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے کافی چیک کیا ہے، ہوا یہ تھا کہ ڈیڑھ سال لندن میں ہر ہسپتال کرونا کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا سوائے کینسر کی تھراپی کے کچھ نہیں ہو رہا تھا اب پچھلے ماہ سے ہسپتال کھلنا شروع ہوئے ہیں، اسحاق ڈار سے میری بات اور ملاقات ہوئی ہے، اگلے مہینے کے آخر میں انکو ڈاکٹر کا ٹائم مل رہا ہے اسی طرح نواز شریف کو بھی ملے گا، علاج کے بعد ہی وہ واپس آئیں گے

    https://www.youtube.com/watch?v=5bZ_HwwEquY

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج جو فیصلہ آیا، پاکستان کی اللہ نے سن لی، آئین کو مذاق سمجھ رہے تھے انکو منہ کی کھانی پڑی ہے، متفقہ فیصلہ ہے، کسی کو اچھا لگا یا برا لگے لیکن جو متحدہ اپوزیشن جس میں مولانا ، ن لیگ، پی پی اور دیگر جماعتیں بھی ہیں انکا احسن کردار ہے، انہوں نے گالم گلوچ کی سیاست نہیں کی، سڑکوں پر لڑائی کی سیاست نہیں کی، جا کر اپنی بات کومنوایا، آپ اور ہم جو جو اس پراسیس سے گزرے ہیں خبریں دیتے ہوئے، تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں ان دنوں کا ضرور لکھا جائے گا، مارشل لا لگوانے کی کوشش کی گئی اور کس طرح اپوزیشن نے ایمرجنسی ڈکلیئر ہونے سے بچایا، یہ اہم دن ہے، اسکو ذاتیات پر نہ لے کر جائیں ، اسکو آئین اور جمہوریت کے لئے لیں یہ پاکستانیوں کے لئے بہت بڑی فتح ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ حکومت نے ایسے بندے کو جو جیل میں ہو اور اجازت دے دی ہو کہ باہر ٹریول کرے، میں نے اسوقت بھی کہا تھا کہ جو بورڈ بنا وہ فراڈ ہے، تحقیقات کروانی چاہئے تھی، یاسمین راشد ہوں، بزدار ہوں یا فیصل سلطان ہوں، سب نے کہا تھا کہ مریض کو یہاں رکھنا خطرناک ہے اسکو باہر نکالیں، اب کسی کو خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا، جب عدم اعتماد کی تحریک آئی تو اس سے ایک دن پہلے تک الیکشن میں جا سکتے تھے، جب ریڈ زون کا جلسہ کیا تھا اسوقت بھی الیکشن میں جا سکتے تھے، اپوزیشن جب آئے گی تو دو چار ماہ انہوں نے الیکٹورل ریفارمز کرنے ہوں گے، مئی میں بجٹ آئے گا اور بجٹ بھی انکو ہی دینا ہو گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف آئے تو پہلے جیل جائیں گے، قانون کی بالادستی ہونی ہے،جس طرح وہ گئے پورے پاکستان کو پتہ ہے،

    نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کیوں نہیں کی؟ راجہ بشارت نے کیا اہم انکشاف

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    نواز شریف کی صحت بارے ڈاکٹر عدنان نے دی صحافیوں کو بریفنگ ،کیا کہا؟

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    اللہ نے یہ اجازت نہیں دی اچھے برے کی جنگ ہوتوآپ کہیں میں نیوٹرل ہوں،،وزیراعظم

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد ہوگی،رانا شمیم کو ملا آخری موقع

    رانا شمیم کے الزامات پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    بیان حلفی پر توہین عدالت کیس،رانا شمیم، انصارعباسی ایکبار پھر طلب

    رانا شمیم مشرف طیارہ کیس میں ن لیگ کا وکیل رہا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

  • صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    ایف آئی اے حکام کی جانب سے رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا دی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی تو جواب دیں ، لوگوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، عدالت کے سامنے ایس او پیز رکھے اور ان کو ہی پامال بھی کیا گیا،ایس او پیز کی پامالی کی اور وہ سیکشن لگائے گئے جو لگتے ہی نہیں ایس او پیزصرف اس لیے لگائے گئے تاکہ عدالت سے بچا جا سکے، بتائیں کہ کیسے اس سب سے بچا جا سکتا ہے؟

    ڈائریکٹر ایف آئی اے بابر بخت قریشی نے عدالت میں کہا کہ قانون بنا ہے، عمل کرنے کیلئے پریشر آتا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ نے کسی عام آدمی کیلئے ایکشن لیا؟ لاہور میں ایف آئی آر درج ہوئی اور اسلام آباد میں چھاپہ مارا گیا، بابر بخت قریشی نے کہا کہ ایف آئی آر سے قبل بھی گرفتاری ڈال دیتے ہیں پھر برآمدگی پر درج کرتے ہیں،،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے گرفتار کر سکتے ہیں? کس قانون کے مطابق گرفتاری ڈال سکتے ہیں، آپ اپنے عمل پر پشیماں تک نہیں اور دلائل دے رہے ہیں،کسی کا تو احتساب ہونا ہے، کون ذمہ دار ہے آج آرڈر کرنا ہے،صحافی کی نگرانی کی جارہی ہے، یہ ایف آئی اے کا کام ہے کیا، صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے، ملک میں کتنی دفعہ مارشل لا لگا ہے یہ تاریخ ہے لوگ باتیں کریں گے،

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    اسلام آباد : اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی، فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔

    عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی ۔ آرٹیکل 63 اے پر اس فیصلے کا اثر نہیں ہو گا پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا عدالت نے نو اپریل کو اجلاس بلانے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جائے ۔چیف جسٹس نے فیصلہ سنایا کہ ہمارا فیصلہ متفقہ رائے سے ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے،

    فیصلے میں کہا گیا کہ رولنگ 3 اپریل کو دی گئی، جن لوگوں نے ریکوزیشن دیا تھا انہیں نوٹس دیئے، جن لوگوں نے ریکوزیشن دی تھی انہیں نوٹس دیئے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین کے منافی ہے، تحریک عدم اعتماد زیرالتوا رہے گی،قومی اسمبلی توڑنا بھی خلاف قانون تھا، قومی اسمبلی پرانی پوزیشن پر بحال ہوگی، وفاقی کابینہ عہدوں پربحال، قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا بھی غیرآئینی قرار دے دیا گیا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ 9اپریل کو دن ساڑھے 10 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے، قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان عدم اعتماد پر ووٹ کا سٹ کرسکیں گے، آرٹیکل 63 کے نفاذپر عدالتی فیصلہ اثر انداز نہ ہوگا۔فیصلہ سنانے کے بعد ججز کمرہ عدالت سے چلے گئے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”481429″ /]

    سپریم کورٹ فیصلے کے اہم نکات

    عدالت عظمٰی کے پانچ ججوں نے اپنے مختصر فیصلے کے 13 پیراز میں کیا لکھا ہے آئیے دیکھتے ہیں پیراوائز فیصلے میں کیا بھی ہے
    1-پیرا نمبر 1 میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دے دی۔
    2-پیرا نمبر 2 میں تحریک عدم اعتماد کو زیر التواء قرار دیا۔
    3-پیرا نمبر 3 میں لکھا ہے کہ جب تحریک عدم اعتماد زیر التواء ہو تو وزیر اعظم صدر جو اسمبلی توڑنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔
    4-پیرا نمبر 4 میں لکھا ہے کہ صدر کا 3 اپریل کو اسمبلی توڑنے کا آرڈر منسوخ کیا جاتا ہے۔
    5-پیرا نمبر 5 میں لکھا ہے کہ چونکہ صدر نے اسمبلی غلط مشورے پہ توڑی اور وہ حکم منسوخ ہو گیا لہذا اسمبلی اپنی پہلی حالت میں موجود ہے ۔
    6-پیرا نمبر 6 میں لکھا ہے کہ صدر کی طرف سے نگران حکومت اور عام انتخابات کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کالعدم کیے جاتے ہیں۔
    7-پیرا نمبر 7 میں لکھا ہے کہ وزیراعظم انکی حکومت اور تمام وزراء کو انکے عہدے پہ 3اپریل کی حالت پہ بحال کیا جاتا ہے۔
    8-پیرا نمبر 8 میں لکھا ہے کہ سپیکر کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پہ کاروائی کے لیے اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی منسوخی یا ملتوی کرنے کے تمام احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ایسے احکامات منسوخ کیے جاتے ہیں ۔
    9-پیرا نمبر 9 میں لکھا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو صبح ساڑھے دس بجے سے بچے سے قبل بلا کر اس پہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کرائی جائے۔
    10-پیرا نمبر 10 میں لکھا ہے کہ سپیکر آئین کے تحت اس وقت تک اجلاس ملتوی نہیں کر سکتے جب تک تحریک عدم اعتماد یا تو ناکام ہو جائے دوسری صورت میں جب وہ کامیاب ہو جائے تو قاید ایوان کے انتخاب کے بعد اجلاس ملتوی کیاجائے گا۔
    11-پیرا نمبر 11 میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کے لیے تمام ممبران کو سہولت فراہم کرے گی اور کوئی ایسا عمل نہیں کرے گی جس سے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دے گی اور اٹارنی جنرل کی طرف سے کرائی گئی یقین دھانی پہ عمل کرے گی۔
    12-پیرا نمبر 12 میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 63-A کے حوالے سے کوئی آرڈر نہیں ہے اور جو بھی اس ضمن میں آئے گا اسکی نااہلی کا معاملہ قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔چاہے وہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ میں حصہ لے یا وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹنگ میں حصہ لے۔
    13-پیرا نمبر 13میں لکھا ہے کہ یہ حکم اس حکم کا تسلسل ہے جس کے تحت صدر اور وزیراعظم کے تمام احکامات کو اس ازخود نوٹس کے فیصلے کے تابع کیا گیا تھا۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نوے دن میں الیکشن کمیشن کروانے کے پابند ہیں تاہم حلقہ بندیوں کی وجہ سے سات ماہ چاہیے عدالت نے کہا کہ ملک بھر میں حلقہ بندیاں کروانی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ملک بھر میں کروانی ہیں

    ‏سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل عدالت کی سیکیورٹی بڑھادی گئی تھی ۔ایف سی اور پولیس کی سیکیورٹی نے عدالت کے اندر اور باہر اطراف کی سڑکوں پر غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگادی۔آئی جی اسلام آباد بھی خود عدالت پہنچ گئے۔مشکوک افراد کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے ادھر رضا ربانی، فواد چودھری، بابر اعواں،فیصل جاوید،شیری رحمان، نیئر بخاری، خرم دستگیر، اعظم نزیر تارڑ سمیت کئی اہم رہنما سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ‏غیر متوقع طور پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ فیصلہ سپریم کورٹ میں فیصلہ سنانے سے پہلے کمرہ عدالت نمبر 1 پہنچ گئے ،
    یاد رہےکہ اس سے پہلے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات نظر آ رہی ہے کہ رولنگ غلط ہے، دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا، قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے، قومی اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ رات کو نجی ہوٹل میں تمام ایم پی ایز نے حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنا دیا، سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے، حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے، آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے، پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں۔

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے، کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے ؟ ن لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں، عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں ؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔ انہوں نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹا دیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں ؟ جس پر وکیل صدر مملکت علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ ہوگا ؟ کیا عدالت آئین کی محافظ نہیں ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی ؟ کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے ؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، پارلیمان ناکام ہو جائے تو معاملہ عوام کے پاس ہی جاتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا ؟ اس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ اگر ججز کے آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے ؟ جیسے پارلیمنٹ مداخلت نہیں کرسکتی ویسے عدلیہ بھی نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت کی تشکیل کا عمل پارلیمان کا اندرونی معاملہ ہے ؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ حکومت کی تشکیل اور اسمبلی کی تحلیل کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے، وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد دونوں کا جائزہ عدالت نہیں لے سکتی۔

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر نے جونیجو کیس فیصلے کا حوالہ دے دیا۔ علی ظفر نے کہا کہ محمد خان جونیجو کی حکومت کو ختم کیا گیا، عدالت نے جونیجو کی حکومت کے خاتمہ کو غیر آینی قرار دیا، عدالت نے اسمبلی کے خاتمہ کے بعد اقدامات کو نہیں چھیڑا۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ہمارے سامنے معاملہ عدم اعتماد کا ہے، عدم اعتماد کے بعد رولنگ آئی، اس ایشو کو ایڈریس کریں۔ علی ظفر نے کہا کہ یہاں بھی اسمبلی تحلیل کر کے الیکشن کا اعلان کر

  • ایلیٹ کلاس اورعوام کیلئےالگ پاکستان بدقسمتی ہے:اس سےاحساس محرومی بڑھےگا: وزیراعظم

    ایلیٹ کلاس اورعوام کیلئےالگ پاکستان بدقسمتی ہے:اس سےاحساس محرومی بڑھےگا: وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرا وژن اسلامی فلاحی ریاست ہے، فلاحی ریاست کے قیام سے اللہ کی برکت آتی ہے، ایلیٹ کلاس اور عوام کیلئے الگ پاکستان بدقسمتی، ہم وہ کام کر رہے ہیں جو ریاست کو کرنا چاہے۔

    ایمرجنسی ہیلپ لائن911 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایمرجینسی ہیلپ لائن بڑا منصوبہ ہے، ایسے منصوبوں پر تمام صوبوں کو ایک ہی پیج پر کھڑا ہونا چاہیے، مجھے ہیلتھ کارڈ پر بڑی خوشی ہے،

     

    بدقسمتی سے ابھی تک سندھ کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ جاری نہیں کیا گیا، ہیلتھ کارڈ کے ذریعے غریب خاندان 10 لاکھ تک اپنا علاج کرا سکتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب پاکستان بھی بڑا زبردست پروگرام ہے، 75 سال بعد یکساں نصاب ہم نے شروع کیا، یکساں نصاب 70 سال پہلے شروع ہونا تھا، ہیلتھ کارڈ غریب لوگوں کے پاس بڑی سہولت ہے، غریب کسی بھی مہنگے ہسپتال سے علاج کرا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کی زندگی بہتر بنانا اور آسانیاں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے، بھارت میں چھوٹا سا طبقہ امیر اور باقی غریبوں کا سمندر ہے، چین نے پہلے 70 کروڑ غریب لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکالا، چین نے ریاست مدینہ کے ماڈل کو فالو کیا، ہم ایلیٹ سسٹم کو توڑیں گے، پاکستان میں سب سہولیات ایلیٹ کلاس کو ملتی ہے۔