Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اور ایم کیو ایم نے کپتان کو چھوڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا

    اور ایم کیو ایم نے کپتان کو چھوڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا

    اور ایم کیو ایم نے کپتان کو چھوڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا
    متحدہ اپوزیشن اور ایم کیوایم کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی

    بلاول بھٹو،شہبازشریف،مولانا فضل الرحمان اور خالد مقبول صدیقی پریس کانفرنس میں موجود تھے، خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آج تاریخی موقع پر جمع ہوئے ہیں، آج کا دن دعاوں کا دن ہے،امید کرتاہوں اب دعووں اور وعدوں سے آگے کام کریں،ہمارے معاہدے کی ایک ایک شق پاکستان کے عوام کیلئے ہے، ہمارا ذاتی اور جماعتی کوئی بھی مفاد شامل نہیں،اپنے تمام سیاسی مفادات پر پاکستان کے مفادات کو ترجیح دی ہے،چاہتے ہیں کہ ایسے دور کا آغاز ہو جہاں سیاسی اختلاف ، ذاتی دشمنی نہ سمجھی جائے، چاہتےہیں سیاسی اختلافات ختم کرکے آگے بڑھیں،چاہتےہیں سیاسی اختلافات ختم کرکے آگے بڑھیں ،تبدیلی کے اس سفر میں اب متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں،

    پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا فیصلہ پورے پاکستان کیلئے ایک سیاسی یکجہتی کا اظہار ہے،ایم کیوایم کا متحدہ اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا فیصلہ بہت اچھااقدام ہے ایم کیوایم کا فیصلہ کراچی اور سندھ کےمفادات میں ہے،عوام کا شکر گزارہیں جنہوں نے سلیکٹڈ کو نکالنے کےلیے قربانیاں دیں، پاکستان میں صحت مند سیاست کی بنیاد ڈالنا چاہتےہیں،پونے 4سال سے ہونے والے ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا جن دوستوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا انہیں چاہیے کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوں اب بھی وقت ہے جو دوست فیصلہ نہیں کرسکے جلدی کرلیں، پاکستان میں معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے،اب سب کچھ حکومت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، سناہے وہ قوم سے خطاب کرے گا،عالمی سازش اس وقت ہوئی تھی جب عمران خان کو لایا جارہا تھا،متحدہ اپوزیشن اپنے موقف پر آخری دم تک قائم ہے،کوئی سازش نہیں ہورہی یہ سب ڈرامہ ہے آپ کی کوئی حیثیت نہیں کہ آپ کے خلاف سازش ہو،م

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کو اپنے ساتھ شریک سفر ہونے پر خوش آمدید کہتاہوں آج پاکستان کی تاریخ میں بہت اہم دن ہے ایم کیو ایم کے ساتھ 20منٹ میں معاملات طے ہوئے،امید کرتا ہوں کہ معاہدے پر عملدرآمد ہوگا، وزیراعظم عمران خان آج اکثریت کھو چکے ہیں۔ انہیں چاھئے کہ استعفیٰ دے کر ایک روایت قائم کریں۔

    سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ حکومت کو پہلے ہی دن کہاتھا کیچ اور رن آوٹ نہیں ہوں گے،آپ کی صرف وکٹ اڑائیں گے ،بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے، ہمیں نیا اور پرانا پاکستان نہیں چاہیے وہ پاکستان چاہیے جس میں ہمیں جینے کا حق ہو،ہمیں وہ پاکستان چاہیے جس میں ہر صوبے کو اپنے وسائل پر حق ہو، آپ کا جتنا کھیل کا تجربہ ہے اس سے زیادہ ہمارا سیاست کا تجربہ ہے،حکومت نے ہماری کوئی بات نہیں سنی،حکومت سے درخواست ہے اب مستعفی ہونے کا وقت آچکاہے،بین الاقوامی سازشوں کا چورن بہت پراناہے خان صاحب کا تجربہ کھیل میں زیادہ ہے اور ہمارا سیاست میں ،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے کراچی کے مفاد اور مسائل کو دیکھتے ہوئے حکومت سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا، ایم کیوایم پاکستان نے کراچی کے مفادات میں اچھا فیصلہ کیاہے،ایم کیوایم کا متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ تاریخی فیصلہ ہے،پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے ہر حال ہر صورت میں مل کر کام کرنا ہے،پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم تعلق عدم اعتماد سے نہیں ہے،2018میں الیکشن کے نام پر جو الیکشن ہوئے وہ سلیکشن تھی، اس سلیکشن کا نقصان کراچی اور پورے ملک کی قوم اٹھا رہی ہے ،وزیراعظم عمران خان اپنی اکثریت کھوچکے ہیں،وزیراعظم کو چاہیے کہ اب وہ استعفیٰ دیں،اب عمران خان وزیراعظم نہیں رہے،کل ہی قومی اسمبلی کا اجلاس ہے، کل ہی ووٹنگ رکھتے ہیں،ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کے تعلقات خراب کرنے کی سازش کی گئی،کراچی کو اس سازش سے بہت نقصان ہوا،کراچی کی ترقی کے لیے دونوں جماعتیں مل کر بھرپور اقدامات کرے گی،شہبازشریف جلد ہی ملک کے وزیراعظم منتخب ہوں گے،متحدہ اپوزیشن مل کر پاکستان کی خدمت کرے گی پاکستانی عوام پر ایک سلیکٹیڈ کو مسلط کیاگیا،متحدہ اپوزیشن نے ملکر سلیکٹڈ کے خاتمے کا فیصلہ کیا،

    خالد مگسی کا کہنا تھا کہ نیا یا پرانا پاکستان نہیں عوامی پاکستان چاہتے ہیں ،پیپلزپارٹی نے ایم کیوایم کے ساتھ معاہدہ کیا اس پر خوشی ہوئی،

    ایم کیو ایم اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ حقیقی معاہدہ ہے جعلی خط نہیں ہے،معاہدہ پر شہبازشریف،بلاول بھٹو اور خالد مقبول صدیقی نے دستخط کیے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان ،خالدمگسی اور سرداراخترمینگل نے بھی دستخط کیے، امین الحق کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ متحدہ اپوزیشن اور دوسرا معاہدہ پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا گیا ہے،

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

    خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ

  • ایم کیو ایم نے میلہ لوٹ لیا، الوداع وزیراعظم عمران خان

    ایم کیو ایم نے میلہ لوٹ لیا، الوداع وزیراعظم عمران خان

    ایم کیو ایم نے میلہ لوٹ لیا، الوداع وزیراعظم عمران خان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے خطاب کے دوران ایک بار پھر سازش کا ذکر کیا میں کئی دن سے کہہ رہا تھا کہ ایم کیو ایم کا اصولی فیصلہ ہے اور طے کر لیا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے گی، سب سے بڑی جماعت سیاسی بن کر ابھری ، سیاسی سوچ و بصیرت کے اعتباد سے تو وہ ایم کیو ایم پاکستان ہے، ایم کیو ایم پر ہمیشہ الزامات لگائے کہ ذاتی مفادات اور عہدوں کے لئے ہر چیز کرتے ہیں لیکن اس بار متحدہ نے دکھایا کہ انکو ہر چیز آفر ہوئی، عہدے، سندھ کی گورننس آفر ہوئی، تا ہم انہوں نے قبول نہیں کی،ایم کیو ایم کے دونوں وزراء نے استعفیٰ بھجوا دیا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کو تمام اختیارات دے کر ایم کیو ایم کو منانے کی کوشش کی گئی،فیصل واوڈا جھوٹ بولنے کی وجہ سے نااہل ہوئے، جھوٹے مکار آدمی کو اپنی مذاکراتی ٹیم کا ہیڈ بنایا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کتنے سیریس ہیں، ایم کیو ایم نے لوکل باڈیز پر بات کی، انکو احساس ہے کہ اگر ووٹر کو ڈلیور نہ کیا تو پھر مشکل کا سامنا ہو گا، ایم کیو ایم نے ذاتی مفاد کی جگہ ووٹر کے مفاد کو ترجیح دی ،یہ قابل تحسین ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے اچھا فیصلہ کیا ہے، متحدہ نے ذاتی مفاد کی جگہ ووٹر کے مفاد کو سامنے رکھا ، شاید انکا ووٹر بھی یہی چاہتاتھا، حکومت بجٹ اناؤنس کرتی رہی لیکن دیا کچھ نہیں،کوئی پیکج نہیں گیا، کراچی کو جو حال ہو گیا، سب کے سامنے ہے، ایم کیو ایم اگلے الیکشن کو دیکھ رہی ہے، وہ افورٹ نہیں کر سکتے تھے کہ اس حکومت کے ساتھ کھڑے ہو کر لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں،وزیراعظم نے من پسند دوست صحافیوں کو بلایا ہے اور انکو خط دکھایا جائے گا،میں وزیراعظم کو مشورہ دوں گا کہ ایسا نہ کریں اگر کیا تو آپ پر سنگین الزام لگ سکتے ہیں،پارلیمنٹ میں دکھا دیں،ڈیفنس کمیٹی میں دکھا دیں، پالیسی والوں کو دکھائیں ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کردار کشی کی گئی، جن لوگوں کو انہوں نے ساتھ ملایا انکو باضمیر کہہ رہے ہیں اور جو انکے گئے وہ لوٹے بن گئے، کیوں، وزیراعظم نے ملک کا بہت نقصان کر دیا ،نوجوانوں نے امیدیں لگائی تھیں وزیراعظم نے مایوس کیا ،عمران خان کے لئے مشکلات شروع، یہ اختتام نہیں ہے، کئی سیاستدانوں کا مستقبل اب تاریک ہو چکا ہے،کئی سیاستدان نیب کے شکنجے میں آئیں گے

  • کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا صدر اسمبلی کارروائی کے بارے میں رائے لے سکتے ہیں؟ کیا عدالتی رائے کی اسمبلی پابند ہے؟ کیا اسپیکر کی ایڈوائس پر صدر نے ریفرنس بھیجا ہے؟ اسمبلی کارروائی کے کسٹوڈین تو اسپیکر ہوتے ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ انکے سوالات کے جواب اٹارنی جنرل ہی دے سکتے ہیں،صدر نے عدالت سے پوچھا ہے ہارس ٹریڈنگ کیسے روکی جاسکتی ہے ہارس ٹریڈنگ روکنے کے سوال کا جواب رائے نہیں بلکہ آئین سازی کے مترادف ہو گا، صدر نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے کسی طریقہ کار پر رائے نہیں مانگی،ریفرنس میں سینیٹ الیکشن میں خریدو فروخت کا حوالہ دیا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63اے میں واضح ہے کہ پارٹی سے انحراف غیر آئینی ہو گا،آپکی گفتگو سے لگ رہا ہے پارٹی سے انحراف غلط کام نہیں، مخدوم علی خان نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں سکا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک نقطہ نظر تو یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف جمہوریت کا حصہ ہے، دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف جان بوجھ کر دیا گیا دھوکہ ہے، آرٹیکل 63 اے پارٹی سے انحراف کو غلط کہتا ہے، سوال یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف کیا اتنا غلط ہے کہ تاحیات نااہلی ہو؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ صدر کے بقول سینیٹ الیکشن میں غلط کام ہوا اور شواہد بھی ہیں، صدر اور وزیراعظم کو ہارس ٹریڈنگ کا علم تھا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسے کے لین دین کا ذکر تھا، پیسوں کے معاملے میں ثابت کرنا لازمی ہے، آرٹیکل 63اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مفروضہ پر بات کررہا ہوں اگر ایک ممبر اپنے ضمیر پر ووٹ دیتا ہے تو وہ ڈی سیٹ ہو گا،صرف 4 شرائط پر عمل کرنے کے بعد ہی آرٹیکل 63اے لگے گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں ممبر نے ووٹر کے طور پر ووٹ ڈالتا ہے،اگرچہ سینیٹ الیکشن میں بھی پیسے لے کر ووٹ ڈالنا جرم ہے ، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کے مطابق پارٹی سربراہ انحراف کا ڈکلیئریشن دیتا ہے، کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی موقع نہیں دیا جائے گا،، مخدوم علی خان نے کہا کہ میرا کہنا ہے آرٹیکل 63اے کہ نتائج آئین میں دیئے گئے ہیں جسٹس اعجاز الاحسن کی آبزرویشن سے متفق ہوں کہ انحراف کا کوئی مثبت منفی کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ صرف اس دفعہ ہارس ٹریڈنگ تو نہیں ہورہی پہلے بھی ہوتی رہی ہے،کیا کیا گیا؟ انحراف کرنے والے واپس اپنی پارٹیوں میں لیے جاتے رہے ہیں ممکن ہے پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے والے کو پارٹی معاف کردے،عدالت آئین پر عمل کے لیے ہے،آئین کے آرٹیکل کو موثر ہونا ہے،سسٹم کمزور ہو تو آئین بچانے کے لیے سپریم کورٹ کو آنا پڑتا ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ پارٹی سے انحراف لازمی نہیں غیر اخلاقی یا کرپشن کی بنیاد پر ہو، پارٹی سے انحراف اچھے مقصد کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے،تاریخ نے سیا ست کو اک برا لفظ بنا دیا ہے، شوکاز کے جواب میں منحرف رکن پارٹی سربراہ کو جواب دے گا، پارٹی سربراہ مطمئن ہو ں تو شوکاز نوٹس واپس ہو جائے گا، عدالتی جواب شاید سیاسی معاملات کو مطمئن نہ کر سکے،برطانیہ میں اپوزیشن کو بھی خصوصی معاملات میں شامل کیا جاتا ہے،اپوزیشن کو آن بورڈ رکھنے کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں، صدارتی ریفرنس کی ٹائمنگ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے،صدر نے تحریک عدم اعتماد آنے پر ہی ریفرنس کیوں دائر کیا،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ او آئی سی کی وجہ سے اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب کیا تھا 20مارچ کو اسپیکر نے بذریعہ نوٹیفکیشن 25 مارچ کا اجلاس بلایا ، مخدوم علی خان نے کہا کہ آئینی طور پر 8 مارچ کے بعد 14 دن میں اجلاس بلانا ضروری تھا ،عدالت کو صرف حقائق بتا رہا ہوں سیاسی بات نہیں کرونگا ، ججز کو عدالت کے باہر ہونے والے معاملات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے،عدالت سے سوال خلا میں نہیں پوچھے جاتے عدالت نے سوالات پوچھتے وقت اور حالات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکے مطابق سماعت کا سیاسی معاملے پر اثر پڑ سکتا ہے؟ آپ کہنا چاہتے ہیں ان حالات میں ایڈوائزری اختیار استعمال نہ کیا جائے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت آئینی سوال کے جواب سے پہلے حالات دیکھا کرے، آپکو سمجھا چاہیے عدالت آئین کی تشریح حالات دیکھ کر نہیں کرتی،عدالتی تشریح کے اثرات حال کیساتھ مستقبل کیلئے بھی ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا سینیٹ الیکشن کو ایک سال گزرنے کے بعد صدر سوال نہیں کر سکتے، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آرٹیکل 63اے پر عمل ووٹ ڈالنے سے شروع ہو گا،صدر کو کیسے معلوم ہو کہ حکومتی جماعت کے لوگ منحرف ہورہے ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب پی ٹی آئی کے وکیل دے سکتے ہیں، ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات مفروضوں اور افواہوں پر مبنی ہیں، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ پارٹی سربراہ کس قسم کی ہدایات دے سسکتا ہے؟ ایک پارٹی سربراہ کی ہدایت کی کاپی میرے پاس ہے، جسٹس مظہر عالم نے عمران خان کی پارٹی اراکین کو دی گئی ہدایات کی کاپی مخدوم علی خان کو فراہم کر دی

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس مظہر عالم نے مخدوم علی خان کو ایک دستاویز دی تھی،جاننا چاہتا ہوں کہ یہ دستاویز کیا تھی؟ کیا یہ کوئی پبلک دستاویز تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستاویز چھوڑیں ہم واپس لیتے ہیں،وقت کم ہے اس معاملے کو چھوڑ دیں، جسٹس جمال خان نے کہا کہ یقینی بنائیں عدالتی کارروائی کی بنیاد پر کچھ ایسا ویسا نہ ہو،

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

  • دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 27 مارچ کے جلسے میں لہرایا گیا خط وزیراعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو دکھانے کی پیشکش کے بعد سینئر صحافیوں کو بھی دکھانے کا اعلان کر دیا،

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ایک جائز جمہوری حق ہے تحریک عدم اعتماد ایک غیر ملکی سارش ہےیہ ان لوگوں کی سازش ہے کہ جو نہیں چاہتے کہ پاکستان کی خود مختار پالیسی ہو خط کے حوالے سے بہت باتیں ہو رہی ہیں، آج میں یہ خط سینئر صحافیوں کو دکھاؤں گا پاکستان کے خلاف باہر سے سازش ہو رہی ہے انجانے میں لوگ سازش کا حصہ ہیں انہیں نہیں پتہ کہ وہ کتنی بڑی سازش کا حصہ ہیں خط کے اندر واضح ہے کہ یہ کتنی بڑی سازش ہے،لوگوں نے جو فیصلہ کرنا ہے کرلیں،خط بین الاقوامی میڈیا سے بھی شییر کیا جائے گا عوام کو نہیں بتا سکتے کہ حکومت کے خلاف بین الاقوامی سازش میں کون کون ملوث ہے لیکن فیصلہ کرلیا کہ آج ٹاپ صحافیوں اور ہر اتحادی جماعت کے ایک نمائندے کو خط دکھا دوں گا۔ جس کو جو فیصلہ کرنا ہے کرلے مجھے ایسے اقتدار کی ضرورت نہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف یہ سازش تب سے ہو رہی جب قومی مفاد کے خلاف ایک فون پر حکمرانوں کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا عالمی طاقتوں کو یہ برداشت نہیں کہ پاکستان میں ایسی لیڈرشپ ہو جو اہنے ملک کے مفاد میں فیصلہ کرے دہشت گردی کی جنگ میں صرف نقصان ہی نقصان ہوا تھا

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پریڈ گراونڈ کے جلسے میں ایک خط لہرایا تھا جس کےبارے میں تفصیلات نہیں بتائی تھیں اور کہا تھا کہ یہ دھمکی آمیز خط ہے، آف دی ریکارڈ دکھا سکتا ہوں، ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال لیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شک کر رہا ہے، اسے آف دی ریکارڈ خط دکھا سکتا ہوں، بیرونی سازش کی بہت سی باتیں مناسب وقت پر جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تھاکہ خط چیف جسٹس کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں، مقصد خط کی حقیقت آشکار کرنا ہے دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں سات مارچ کو جیسے ہی خط ملا، مراسلے میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی اور عمران خان وزیراعظم برقرار رہے تو خوفناک نتائج آسکتے ہیں

     باسط بخاری نے وزیراعظم عمران خان کے خط کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے

    تیاررہیں، عمران خان کو جو خط آیا وہ میں بتاؤں گی،مریم نواز کا بڑا اعلان

    غریدہ فاروقی وزیراعظم کو بھجوایا گیا خط سامنے لے آئیں

    بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالہی نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط 7 مارچ کو موصول ہوا تھا مالہی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کو ملنے والے دھمکی آمیز خط میں تحریک عدم اعتماد کا بھی ذکر ہے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کا ملک کی عسکری قیادت اور وزارت خارجہ کو علم ہے مختلف ممالک سے نازک قسم کے معاملات ہیں اس لیے نام نہیں لے سکتے ہیں۔

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    تحریک انصاف کے جلسے کی تیاریاں مکمل،جلد اچھی خبر آئے گی،وفاقی وزیر کا دعویٰ

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

  • خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کس تاریخ کو یہ آرڈینس جاری ہوا ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ آرڈینس 18 فروری کو جاری ہوا آفیشل گزٹ میں 19 فروری کو آیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے کسی ہاؤس کے سامنے پیش کیا گیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈیننس ابھی تک پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسز کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو ایگزیکٹو کا اختیار نہیں ہے کہ آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے سامنے نہ رکھے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی ایک ٹائم لائن ہے اس دوران ہی رکھا جانا ہے، جب تک رولز موجود ہیں تو ایگزیکٹو نے انہیں کو اختیار کرنا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے سے یہ تاثر مل رہا ہے ایگزیکٹو کی بدنیتی شامل ہے،قومی اسمبلی یا سینیٹ کسی بھی وقت آرڈیننس کو مسترد کر سکتے ہیں،آئین پابند بناتا ہے کہ آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا،اگر آج آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوتا تو کیوں نہ عدالت ایگزیکٹو کی بدنیتی قرار دے،آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے، ایگزیکٹو یہ نہیں کر سکتی کہ جس ایوان میں اکثریت ہو وہاں پیش کر دیں ،اگر ایگزیکٹو نے اپنے فرض کی خلاف ورزی کی ہے تو اسکے نتائج کیا ہونگے، کیا ایگزیکٹو پارلیمنٹ کو آرڈیننس منظور یا مسترد کرنے کے اختیار سے روک سکتا ہے؟ آئین کہتا ہے آرڈیننس جاری ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش ہو گا، پارلیمنٹ سپریم ہے وہ آرڈیننس کو مسترد کر سکتی ہے، اگر ایگزیکٹو جان بوجھ کر اپنے فرض کو پورا نہیں کر رہی تو اسکے نتائج کیا ہونگے،ایگزیکٹو کے پاس آئین کی خلاف ورزی کا کوئی اختیار نہیں ہے، اگر پارلیمنٹ کا کوئی بھی ایوان آرڈیننس کو مسترد نہیں کرتا تو پھر وہ بل کے طور پر پیش کیا جائے گا،ایگزیکٹو پارلیمنٹ کو آرڈیننس کا جائزہ لینے کے حق سے محروم رکھ رہی ہے،اگر پارلیمنٹ کا ایک ایوان آرڈیننس کو مسترد کر دیتا ہے تو وہ ختم ہو جائے گا،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیکا آرڈیننس کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت تو اس کیس کو پس پشت نہیں ڈال سکتی نا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ہی واپس لے لے، کسی درخواست میں بھی پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 کو چیلنج نہیں کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی درخواست موجود ہے جس میں پیکا ایکٹ کی دفعات کو بھی چیلنج کیا گیا، سیکشن 20 میں گرفتاری کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے، کیوں نہ عدالت پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 کو کالعدم قرار دے، اس عدالت نے کبھی نہیں کہا کہ کوئی تہمت لگائے لیکن اسکا الگ قانون موجود ہے، ایک صحافی نے کتاب کا حوالہ دیا جو پبلش ہو چکی، وہ غلط کیسے ہو گیا جو ایف آئی اے نے نوٹس بھیجا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے کہا کہ پیکا کا سیکشن 20 قابل ضمانت ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قابل ضمانت ہے تو پھر محسن بیگ کو کس طرح گرفتار کر رہے تھے، ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہا کہ محسن بیگ کو اس مقدمہ میں گرفتار نہیں کیا گیا،عدالت نے کہاکہ محسن بیگ کو گرفتار کرنے گئے تھے اسی لئے وہ وقوعہ بنا، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ایف آئی آر میں مزید ناقابل ضمانت دفعات بھی موجود تھیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیگر جو دفعات لگائی گئی تھیں وہ بالکل درست نہیں تھیں،خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،کیا شکایت کنندہ (مراد سعید) کی شکایت لاہور میں موصول ہوئی تھی؟ اگر درخواست موصول ہوئی تو کس سورس کے ذریعے ہوئی، کیا ٹی سی ایس سے ہوئی، کیا ایف آئی اے صرف حکومت کی خدمت کیلئے ہے؟ ایف آئی اے عوام کی خدمت کیلئے موجود ہے، جن درخواستوں پر ایف آئی اے نے کارروائی کی ان میں سے زیادہ تر پبلک آفس ہولڈرز کی ہیں،ایف آئی اے نے درخواستوں پر کارروئی صحافیوں، اختلاف رائے اور تنقیدی آوازیں دبانے کیلئے کی، ایف آئی اے نے اپنے اختیارات کا بہت غلط استعمال کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی اقدار بہت خراب ہو چکی ہیں، کیا سب کو جیل بھیج دیں معاشرے کی ان اقدار کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں، اگر کوئی سچی گواہی نہیں دیتا تو پراسیکیوٹر کو کسی کو بھی سزا دینے کی اجازت دے دی جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سال بعد کوئی اور حکومت آ جائے گی تو ایف آئی اے پھر بھی یہی کریگی؟ حکومت نے آرڈیننس میں سیکشن 20 ناقابل ضمانت بنا دیا ہے؟ ناقابل ضمانت بنایا گیا تاکہ اسکے مزید خطرناک نتائج سامنے آ سکیں؟ کیا نیچرل پرسن کی تعریف بھی تبدیل کر دی گئی ہے؟ آپ نے اداروں اور کمپنیوں کو بھی اس میں شامل کر دیا ہے، کل پی ٹی سی ایل پر کوئی تنقید کرتا ہے تو ایف آئی اے اس پر بھی کارروائی کریگی،کل کوئی ڈیفالٹر کمپنی شکایت کرتی ہے تو ایف آئی اے کارروائی کریگی،دنیا کی ایک مثال دے دیں جہاں اداروں کی ساکھ کا اس طرح تحفظ کیا جاتا ہو،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیکا آرڈیننس کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے،ہو سکتا ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ہی واپس لے لے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ایف آئی اے پر تنقید کرے تو ایف آئی اے خود ہی اسے گرفتار کر لے گا؟آئندہ سماعت پر حتمی دلائل دیں، کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

  • وزیراعظم  کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ  پہنچ گیا

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے سپریم کورٹ سے تحقیقات کیلئے درخواست دائر کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وزیراعظم کی جانب سے دکھائے گئے خط کی تحقیقات کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ عوام کو ذہنی تنائو سے نکالنے کیلئے فوری مداخلت کی ضرورت ہے، دھمکی آمیز خط متعلقہ سول اور فوجی قیادت کو بھجوا کر تحقیقات کروائی جائیں،دھمکی آمیز خط اتنہائی حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے،

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پریڈ گراونڈ کے جلسے میں ایک خط لہرایا تھا جس کےبارے میں تفصیلات نہیں بتائی تھیں اور کہا تھا کہ یہ دھمکی آمیز خط ہے، آف دی ریکارڈ دکھا سکتا ہوں، ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال لیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شک کر رہا ہے، اسے آف دی ریکارڈ خط دکھا سکتا ہوں، بیرونی سازش کی بہت سی باتیں مناسب وقت پر جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تھاکہ خط چیف جسٹس کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں، مقصد خط کی حقیقت آشکار کرنا ہے دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں سات مارچ کو جیسے ہی خط ملا، مراسلے میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی اور عمران خان وزیراعظم برقرار رہے تو خوفناک نتائج آسکتے ہیں

     باسط بخاری نے وزیراعظم عمران خان کے خط کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے

    تیاررہیں، عمران خان کو جو خط آیا وہ میں بتاؤں گی،مریم نواز کا بڑا اعلان

    غریدہ فاروقی وزیراعظم کو بھجوایا گیا خط سامنے لے آئیں

    بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالہی نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط 7 مارچ کو موصول ہوا تھا مالہی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کو ملنے والے دھمکی آمیز خط میں تحریک عدم اعتماد کا بھی ذکر ہے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کا ملک کی عسکری قیادت اور وزارت خارجہ کو علم ہے مختلف ممالک سے نازک قسم کے معاملات ہیں اس لیے نام نہیں لے سکتے ہیں۔

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    تحریک انصاف کے جلسے کی تیاریاں مکمل،جلد اچھی خبر آئے گی،وفاقی وزیر کا دعویٰ

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

  • ایم کیو ایم کو منانے کیلئے گورنر شپ چھوڑ سکتا ہوں،گورنر سندھ کا اعلان

    ایم کیو ایم کو منانے کیلئے گورنر شپ چھوڑ سکتا ہوں،گورنر سندھ کا اعلان

    ایم کیو ایم کو منانے کیلئے گورنر شپ چھوڑ سکتا ہوں،گورنر سندھ کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو منانے کی حکومت بھر پور کوشش کر رہی ہیں لیکن لگتا ہے کہ ایم کیو ایم اب اپوزیشن اتحاد کے ساتھ ہی بیٹھے گی

    گزشتہ شب اپوزیشن کے ساتھ معاہدہ ہونے کی خبریں چلیں تو رات تین بجے حکومتی وفد ایم کیو ایم کے پاس پہنچ گیا اور بات چیت کی تا ہم ایم کیو ایم نہ فوری کوئی جواب نہ دیا، ایم کیو ایم وفد سے ملاقات اور ایم کیو ایم کے اپوزیشن کے ساتھ معاہدے کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات کے حوالے سے مجھے علم نہیں ہے میں نے معاہدے کے بارے میں ٹی وی پر دیکھا اور فیصل سبزواری کی ٹوئٹ دیکھی ہماری خالد مقبول صدیقی اور ان کے لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے، ہم نے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی ہے، ہم نے ان کو ایک وزارت آفر کی تھی اس سے آگے کچھ چاہیں گے تو دے دیں گے ہمارے دروازے ایم کیو ایم کے لیے کھلے ہیں، جس طرح چاہیں گے ایڈجسٹ کر لیں گے

    عمران اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں کے پاس وزیراعظم کا پیغام لے کر آیا تھا ابھی ملاقات میں آفر سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی ایم کیو ایم وزیراعظم کے پیغام کا آج ہمیں جواب دے گی ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ رابطہ کمیٹی سے بات کرکے آگاہ کریں گے امید ہے ایم کیو ایم سوچ سمجھ کر اور انصاف پر مبنی فیصلہ کرے گی اپوزیشن اس وقت کھلونوں کی ریڑھی لے کر پھررہی ہے یہ بھی لے لو وہ بھی لے لو اپوزیشن وہ چیزیں آفر کر رہی ہے جو ان کے پاس ہے نہیں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے اتحاد کرنا چاہتی ہے تو وہ ان کی مرضی ہے لیکن دونوں کا اتحاد غیر فطری ہے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ایم کیو ایم کو دھوکا دیا ہے

    نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے اپنے استعفے سے متعلق سوال پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے لیے کچھ بھی حاضر ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا ملنے والا ہے حکومتی اتحادی جماعت وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونے والی ہے، ایم کیو ایم نے کابینہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے، رات گئے اپوزیشن اتحاد اور ایم کیو ایم میں معاہدہ طے پایا اسکے بعد حکومت کے وفد نے بھی ایم کیو ایم سے ملاقات کی تا ہم کامیابی نہ مل سکی،

    وزیراعظم کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے ، قومی اسمبلی میں گنتی کے عمل کے دوران حکومت اور اپوزیشن نے نعرے بازی کی ،منحرف اراکین اجلاس میں نہیں آئے ،سپیکر کی جانب سے گنتی کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کے حق میں 161ممبران نے ووٹ دیا۔ اسپیکر کم ازکم 3 اور زیادہ سے زیادہ 7 دن میں ووٹنگ کروانے کے پابند ہیں ،قومی اسمبلی کااجلاس 31مارچ تک اجلاس ملتوی کر دیا گیا تحریک عدم اعتماد پربحث 31مارچ سے شروع ہوگی قومی اسمبلی کا اجلاس 31 مارچ 2022 بروز جمعرات شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

    عمران خان ملک کے تیسرے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی ہے، اس سے قبل سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد پیش کی گئی تھیں

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    استعفیٰ دینے کے بعد بزدار خاموش نہ رہ سکے،بڑا اعلان کر دیا

    پرویز الہی نے خاندانی اقدار اور سیاست دونوں کو داو پر لگا دیا،اہم شخصیت کا دعویٰ

    جب حکمرانوں کی نیت صاف ہو….عمران خان نے بڑا دعویٰ کر دیا

    تمہارے ہاتھ میں اقتداربندرکے ہاتھ میں استرا،سبز ہلالی پرچم پر 35 ٹانکے مت لگاو ،مریم

    https://login.baaghitv.com/mqm-wifaqi-kabina-say-day-gi-aaj-astefa/

  • اپوزیشن کا بڑا سرپرائز ۔ متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس طے

    اپوزیشن کا بڑا سرپرائز ۔ متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس طے

    اسلام آباد:متحدہ اپوزیشن اورایم کیوایم کےدرمیان معاملات طےپاگئے،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن اور ایم کیوایم پاکستان کے درمیان معاملات طئے پاگئے ہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس سلسلے میں بہت جلد جلدبڑی خبرملےگی،

    ایم کیو ایم اور اپوزیشن میں معاملات طے پا جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے قائدین مولانا فضل الرحمان ۔ آصف زرداری ۔شہباز شریف ۔بلاول بھٹو پارلیمنٹ لاجز پہنچے اور ایم کیو ایم اراکین سے ملاقات کی ۔بعد ازان طے پایا کہ ایم کیو ایم اور متحدہ اپوزیشن کی مشترکہ پریس کانفرنس آج شام چار بجے ہو گی جس میں ایم کیو ایم اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کرے گی

    ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ مرتضی وہاب نے لکھا جبکہ مولانا فضل الرحمان شہباز شریف اختر مینگل گواہ ہوں گے

    حکومتی رہنماؤں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم فیصلہ کرتے وقت پاکستان کا سوچے سینیٹر فیصل جاوید نے ایم کیو ایم سے اپیل کی ٹویٹ تھی جسے بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا

    ایم کیو ایم کی جانب سے اپوزیشن کی حمایت پر عمران خان نے اکثریت کھو دی ہے، حکومت کے قومی اسمبلی میں نمبر 164 رہ گئے جبکہ متحدہ اپوزیشن کے نمبر 177 تک پہنچ گئے۔منحرف حکومتی ارکان کے بغیر ہی متحدہ اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں اکثریت مل گئی ہے۔

    قبل ازیں متحدہ اپوزیشن کی ایم کیو ایم پاکستان کی اعلیٰ سطحی قیادت سے ملاقات ہوئی ۔ ملاقات پارلیمنٹ لاجز میں ہوئی

    متحدہ اپوزیشن کے رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ لاجز آئے ہیں۔پارلیمنٹ لاجز آنے والے رہنماؤں میں خواجہ آصف، مولانا عبدالغفور حیدری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزیر سعید غنی، سید نوید قمرالزماں شاہ، شیریں رحمان، خواجہ سعد رفیق، سردار اختر مینگل، سردارایاز صادق، اور دیگر شامل ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن سے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عامر خان، وفاقی وزیر سید امین الحق، کنور نوید جمیل، وسیم اختر، خواجہ اظہار الحسن، سینیٹر فیصل سبزواری، اور کشور زہرہ نے مذاکرات کیے جو کامیاب ہو گئے

    متحدہ اپوزیشن کی ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے ہونے والی ملاقات میں تحریک عدم اعتماد سمیت دیگر متعلقہ امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ایم کیو ایم پاکستان سے ہونے والے متوقع معاہدے کے لیے ٹی او آرز بھی تیار کیے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے کسی بھی مطالبے سے انکار نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کریں گے۔

    اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے نامزد کیے گئے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے فیصلے کے بعد وزارت اعلیٰ پر حلف برداری ہو گی۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتما دناکام ہوجائے گی۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ وزیراعظم سے آج ملاقات میں کچھ چیزوں پر بات چیت ہوئی، بزدار صاحب ہی پی ٹی آئی کی طرف سے مجھے پرپوز کررہے ہیں۔ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد حلف برداری کا مرحلہ شروع ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ گورنر صاحب عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کریں گے پھر معاملہ اسمبلی جائے گا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے وقت ڈپٹی اسپیکر اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جب سپیکرکے لیے انتخاب لڑا تو سیکرٹ بیلٹ تھا، سپیکرانتخابات کیلئے 21 ووٹ پیپلزپارٹی اورنون لیگ سے حاصل کیے۔ اپنے تعلق کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے ووٹ حاصل کیے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ زرداری صاحب کے ساتھ بہت اچھا رشتہ ہے جو قائم رہے گا، شہبازشریف ہمارے گھرآئے تو ان کی کہی گئی باتوں کی مخالفت ہوئی، مریم نواز کےکیمپ میں شہبازشریف کی کہی گئی باتوں کی مخالفت ہوئی۔ لیگی نائب صدر کا کیمپ سابق وزیراعظم نواز شریف کا ڈائریکٹ کیمپ ہے۔ شریف برادران کو جو کہتے ہیں وہ کروا لیتے ہیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قلیل مدت کیلئے حکومت رکھنے کا اشارہ بدل گیا اسی لیے ہم سےبات کی گئی، ہمیں کہا گیا کہ حکومت کی مدت پوری ہوگی، زرداری صاحب سندھ میں اپنی حکومت کی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کا جھکاؤ تحریک انصاف کی طرف تھا۔ وزیراعظم نے وزارت اعلیٰ کی کنفرم آفردی، بنی گالہ گئے اوراعلان کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ ن لیگ فوری انتخابات کرانا چاہتی ہے، پی ٹی آئی کا خیال ہے حکومت کو مدت پوری کرنی چاہیے، حکومت کا مدت پوری کرنا پی ٹی آئی، زرداری صاحب اورہمیں سوٹ کرتاہے، ایم کیوایم کی کمی آج شام تک پوری ہوگئی ہے، ایم کیوایم کے مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں۔ عمران خان سےملاقات میں کہا کہ ایم کیوایم جومانگتی ہےانہیں دے دیں۔ ایم کیوایم سے معاملہ طے ہوگیا ہے، فیصلہ بھی ہوگیا ہے۔

    نامزد وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی۔ طارق بشیرچیمہ عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے۔ طارق بشیرچیمہ میری کامیابی کیلئےپوری کوشش کریں گے۔ طارق بشیرچیمہ نےاسلم بھوتانی کوحکومت کوووٹ نہ دینے کا کہا۔ اسلم بھوتانی کوروکنے کی کوشش کی مگروہ نہیں رکے۔

  • روس اوریوکرین کےدرمیان صرف عمران خان ہی صلح کرواسکتا ہے:یوکرینی صدرکاعمران خان کوفون

    روس اوریوکرین کےدرمیان صرف عمران خان ہی صلح کرواسکتا ہے:یوکرینی صدرکاعمران خان کوفون

    اسلام آباد:دنیا میں روس اوریوکرین کےدرمیان صرف عمران خان ہی صلح کرواسکتا ہے:اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے دنیا کوباورکرادیا ہے کہ اگردنیا میں کوئی روس اور یوکرین کے درمیان صلح کروا سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف عمران خان ہیں،

    اسی مقصد کے لیے وزیراعظم کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ٹیلی فون کیا۔ ٹیلیفونک رابطے کے دوران عمران خان نے یوکرین کی صورتحال اور جنگ جاری رہنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

    وزیر اعظم عمران خان نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی حمایت میں پاکستانی اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے حل کی حمایت میں پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم نے یوکرائنی حکام کی پاکستانی طلبہ، شہریوں اور سفارتی عملے کے انخلاء میں مدد پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے دیگر ممالک کی جانب سے سفارتی حل کی سہولت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔

    عمران خان نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک پر تنازعات کے باعث منفی معاشی اثرات کو مسلسل اجاگر کر رہے ہیں، معیشت پر اثرات تیل اور اشیاء خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ظاہر ہورہے ہیں، پاکستان نے یوکرین میں لوگوں کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے سامان کے دو طیارے روانہ کیے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے یوکرین کے تنازعے سے پیدا ہونے والی بگڑتی سلامتی اور انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے فوری طور پر دشمنی کے خاتمے پر زور دیا، رکن ممالک نے مذاکراتی عمل کی حمایت اور سہولت کاری فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ پاکستان جیسے غیرجانبدار ممالک سفارتی حل کے لیے کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  • عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے گی:ان شااللہ تعالیٰ:: چودھری پرویز الٰہی

    عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے گی:ان شااللہ تعالیٰ:: چودھری پرویز الٰہی

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کی طرف سے نامزد کیے گئے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے فیصلے کے بعد وزارت اعلیٰ پر حلف برداری ہو گی۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتما دناکام ہوجائے گی۔

    ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الٰہی نے دنیا نیوز کے پروگرام ’دنیا کامران خان کے ساتھ‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ وزیراعظم سے آج ملاقات میں کچھ چیزوں پر بات چیت ہوئی، بزدار صاحب ہی پی ٹی آئی کی طرف سے مجھے پرپوز کررہے ہیں۔ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد حلف برداری کا مرحلہ شروع ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ گورنر صاحب عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کریں گے پھر معاملہ اسمبلی جائے گا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے وقت ڈپٹی اسپیکر اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جب سپیکرکے لیے انتخاب لڑا تو سیکرٹ بیلٹ تھا، سپیکرانتخابات کیلئے 21 ووٹ پیپلزپارٹی اورنون لیگ سے حاصل کیے۔ اپنے تعلق کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے ووٹ حاصل کیے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ زرداری صاحب کے ساتھ بہت اچھا رشتہ ہے جو قائم رہے گا، شہبازشریف ہمارے گھرآئے تو ان کی کہی گئی باتوں کی مخالفت ہوئی، مریم نواز کےکیمپ میں شہبازشریف کی کہی گئی باتوں کی مخالفت ہوئی۔ لیگی نائب صدر کا کیمپ سابق وزیراعظم نواز شریف کا ڈائریکٹ کیمپ ہے۔ شریف برادران کو جو کہتے ہیں وہ کروا لیتے ہیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قلیل مدت کیلئے حکومت رکھنے کا اشارہ بدل گیا اسی لیے ہم سےبات کی گئی، ہمیں کہا گیا کہ حکومت کی مدت پوری ہوگی، زرداری صاحب سندھ میں اپنی حکومت کی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کا جھکاؤ تحریک انصاف کی طرف تھا۔ وزیراعظم نے وزارت اعلیٰ کی کنفرم آفردی، بنی گالہ گئے اوراعلان کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ ن لیگ فوری انتخابات کرانا چاہتی ہے، پی ٹی آئی کا خیال ہے حکومت کو مدت پوری کرنی چاہیے، حکومت کا مدت پوری کرنا پی ٹی آئی، زرداری صاحب اورہمیں سوٹ کرتاہے، ایم کیوایم کی کمی آج شام تک پوری ہوگئی ہے، ایم کیوایم کے مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں۔ عمران خان سےملاقات میں کہا کہ ایم کیوایم جومانگتی ہےانہیں دے دیں۔ ایم کیوایم سے معاملہ طے ہوگیا ہے، فیصلہ بھی ہوگیا ہے۔

    نامزد وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی۔ طارق بشیرچیمہ عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے۔ طارق بشیرچیمہ میری کامیابی کیلئےپوری کوشش کریں گے۔ طارق بشیرچیمہ نےاسلم بھوتانی کوحکومت کوووٹ نہ دینے کا کہا۔ اسلم بھوتانی کوروکنے کی کوشش کی مگروہ نہیں رکے۔