Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم کا 27 مارچ کےجلسے سے متعلق قوم کے نام  اہم پیغام

    وزیراعظم کا 27 مارچ کےجلسے سے متعلق قوم کے نام اہم پیغام

    وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کےجلسے سے متعلق قوم کے نام پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اہنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکوؤں کاٹولہ 30سال سےملک کولوٹ رہااورپیسےباہربھیج رہا ہے کرپٹ ٹولے نے عوامی نمائندوں کےضمیرکی قیمتیں لگائیں عوامی نمائندوں کو کھلےعام خریداجارہاہےاللہ مسلمانوں کوحکم دیتاہےکہ اچھائی کیساتھ کھڑےہوں-

    ،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکم ہےکہ برائی اوربدی کیخلاف کھڑےہوں عوام حکومت کا ساتھ دے کر جمہوریت کےساتھ کھڑے ہوں
    27مارچ کو لوگ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ہمارے ساتھ نکلیں –

    دوسری جانب شیخ رشید نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی ملاقات کے نعد شیخ رشید نے کمیڈیا سے گتفگو کرتے ہوئے کہا کہ جےیوآئی کوان کی ڈیمانڈکےمطابق جلسےکی اجازت دےدی ن لیگ کی ابھی تک جلسےکی کوئی درخواست نہیں آئی کل کوئی واقعہ ہو جائے تووزارت داخلہ ذمہ دارنہیں ہوگی عمران خان تاریخی جلسہ 27 مارچ کوپریڈ گراؤنڈمیں کریں گے اب ان کوفوج کاخیال آگیاہے،بہت اچھی بات ہے-

    وزیرداخلہ شیخ رشیدنے کہا کہ کوئی شک نہیں پاک فوج عظیم فوج اورعدلیہ دوراندیش ہے جوفوج یاعدلیہ مخالف مہم چلائےگااسےسختی سےکچل دوں گا جو نسلی اور اصلی ہے وہ پاکستان کے ساتھ ہے ایمرجنسی قانون کا حصہ ہے لیکن عدلیہ کے فیصلےکا احترام کرتے ہیں ان کے پاس ہمارے کچھ بندے ہیں توہمارے پاس بھی اپوزیشن کےکچھ بندےہیں چاہتےہیں جمہوریت اورملک آگےبڑھے پارٹیاں بدلنے سے کوئی عزت نہیں ملتی-

    شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات جلدی بھی ہوسکتےہیں اتحادی ہمیشہ دیرسےفیصلہ کرتےہیں،ایم کیوایم کیساتھ اچھےتعلقات ہیں آج کےبعدخبریں دوں گا، سب کو کہہ رہا ہوں باخبرآدمی ہوں، تحریک عدم اعتماد کے روز اپوزیشن کوبڑا سرپرائز ملے گا،کوئی کہیں نہیں جارہا تحریک عدم اعتماد کے روز اپوزیشن کوبڑا سرپرائز ملے گا عثمان بزدار سے مل کرآرہا ہوں وہ بھی چٹان کی طرح کھڑا ہے گورنرراج کی تجویز وزیراعظم نے مسترد کردی تھی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے ساتھ ہے اتنا جوش و جذبہ قوم میں اس سے پہلے نہیں دیکھا-

  • روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    ماسکو:روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا،اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی رہائش گاہ مولوٹوو کاک ٹیل (پیٹرول بم) سے حملے کی اطلاعات ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کریملن بھی اب حملے کی زد میں ہے۔

    ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ماسکو میں قلعہ بند سرکاری عمارت کی دیواروں پر ایک شخص کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ایک ٹک ٹاک صارف نے چلتی گاڑی کے اندر سے بنائی گئی ایک شخص کی ویڈیو کلپ کو اپ لوڈ کیا، جس میں ایک نامعلوم حملہ آور کو روسی صدر کی رہائش گاہ پر مولوٹوو کاک ٹیل مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ ولادی میر پیوٹن اس عمارت میں رہتے اور دیگر سرکاری امور انجام دیتے ہیں۔حملے کے بعد کریملن کی دیواروں کی بنیاد پر کم درجے کی آگ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔اس حملے کو مقامی خبر رساں اداروں بشمول بیلاروسی میڈیا چینل نیکٹا لائیو نے بھی شیئر کیا۔

    دوسری جانب یوکرین میں ایک ٹک ٹاکر کو روسی فوج کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاری ٹک ٹاکر کی جانب سے ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد عمل میں آئی جس میں کیف میں ایک شاپنگ مال کے پاس کھڑی یوکرینی فوجی گاڑیوں کے بیڑے کو دکھایا گیا تھا۔

    جس کے فوراً بعد عمارت کو روسی فضائی حملے سے نشانہ بنایا گیا۔اتوار کو ہونے والی اس فضائی کارروائی میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے بتایا کہ یوکرینی شاپنگ مال کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    مذکورہ ٹک ٹاکر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے یوکرینی فوج کا مقام دکھا کر “دشمن کے لیے سہولت کار کے طور پر کام کیا”۔

    یوکرینی سیکیورٹی سروس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “ایک ٹک ٹاکر نے حال ہی میں کیف میں یوکرینی فوج کے مقام کے بارے میں انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا۔“بعد میں، شاپنگ سینٹر، جہاں ہمارے محافظ تھے، روسی قابضین کی طرف سے ایک طاقتور میزائل حملے کا نشانہ بنے۔

    “جانے انجانے میں اس شخص نے دشمن کے لیے سہولت کار کا کام کیا، اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔”

    بعد ازاں، ایک ویڈیو میں اس شخص نے معافی مانگتے ہوئے دوسرے یوکرین کے باشندوں کو متنبہ کیا کہ وہ ایسی ٹک ٹاک ویڈیوز پوسٹ نہ کریں جو روسی افواج کو اسٹریٹجک معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکو نے بھی اس حوالے سے کہا کہ یوکرینی باشندوں کو “فوجی سازوسامان، چوکیوں، اسٹریٹجک اشیاء کی نقل و حرکت” سے متعلق کسی بھی چیز کی فلم بندی یا تصویر کھینچنے سے گریز کرنا چاہیے۔

  • پاک فوج زندہ باد :پاکستان درست سمت آگےبڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سےگفتگو

    پاک فوج زندہ باد :پاکستان درست سمت آگےبڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سےگفتگو

    راولپنڈی :چین پاک فوج کی صلاحیتوں کا معترف ہے:پاکستان درست سمت آگے بڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سے گفتگو،اطلاعات کے مطبق چین کے وزیرخارجہ کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق چین کے وزیرخارجہ کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور علاقائی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران چین کے وزیرخارجہ نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

    اس موقع پر چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ پاک چین تعلقات خیالات کی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، دنیا کو علاقائی استحکام کے لئے پاکستان کی کوششوں تسلیم کرنا چاہیے۔

  • اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا:اسد قیصرکااعلان:آئینی ذمہ داریوں کاسُن کراپوزیشن پریشان

    اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا:اسد قیصرکااعلان:آئینی ذمہ داریوں کاسُن کراپوزیشن پریشان

    لاہور: اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا: اسد قیصرنے اعلان کیا تو دوسری طرف اپوزیشن والے گھبرا گئے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے سے رابطے بھی کررہےہیں ، متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ میں ملکی قومی اسمبلی کا نگراں ہونے کے ناطے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا اور آئین کے آرٹیکل95 اور قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس 2007 کے رول 37 کے تحت کارروائی ہو گی۔

    خیال رہے کہ ان دنوں ملکی سیاسی صورتحال میں گہما گہمی ہے کیونکہ اپوزیشن ارکان نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔

     

     

    تحریکِ عدم اعتماد پر ن لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی سمیت 86 اراکین کے دستخط ہیں۔ تحریکِ عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے سٹاف نے وصول کی۔

    اس حوالے سے جہاں وزیراعظم عمران خان کے مخالفین سامنے آرہے ہیں تو وہیں اُن کے حمایتی خوب اُن کا ساتھ دیتے نظر آرہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کیا وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوسکے گی یا نہیں۔

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

    حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

  • نئی نسل پڑھےلکھےطبقےکوآگے لائے:سندھ بلوچستان کوایسے لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے:آرمی چیف

    نئی نسل پڑھےلکھےطبقےکوآگے لائے:سندھ بلوچستان کوایسے لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے:آرمی چیف

    نئی نسل پڑھ لکھےطبقےکوآگے لائے:سندھ بلوچستان کوایسے لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے:آرمی چیف کی پریڈ کے اختتام پرپاکستان کے بیٹوں سے گفتگو،اطلاعات کے مطابق آج جہاں قوم تئیس مارچ کے حوالے سے اس دن کومبارک دن کے طور پرمنارہے ہیں وہاں افواج پاکستان نے بھی قوم سے وعدہ کیا ہے کہ پاک فوج اپنے وطن پاک اوراپنی قوم حفاطت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پاکستان ڈے پریڈ کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میڈٰیا اور پاکستان کے بیٹوں سے غیر رسمی گفتگوکی اور اپنے نوجوانوں کوگائیڈ لائن دی

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر اپنے نوجوانون کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کو آپس میں طے کرنے دیں، فوج مداخلت نہیں کرے گی، فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرے تب بھی گالیاں، نہ کرے تب بھی گالیاں پڑتی ہیں،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سیاستدان صبح لڑتے ہیں شام میں اکٹھے بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، آرمی چیف نے مزید کہا کہ عوام صیح لوگوں کو ووٹ دیں گے تو پاکستان بدلے گا،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے حوالے سے کہاکہ بلوچستان کے لوگ باہر بیٹھے لوگوں کے بہکاوے میں نہ آئیں، بلوچستان کی خوشحالی کے لیے کام کر رہے ہیں، سرحد پار بیٹھے دشمنوں کو جلد ٹھونک دیں گے،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کےبیٹوں سےگفتگو کرتے ہوئےکہا کہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں، سندھ اور بلوچستان کے لوگ ان لوگوں کو ووٹ دیں جو ترقی چاہتے ہیں،

    آرمی چیف نے اس موقع پر نسل نوکی ذہن سازی کرتے ہوئے کہا کہ بار بار ایک ہی طرح کے لوگوں کو ووٹ دیں گے تو مسائل کیسے حل ہوں گے،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کا حصہ بنیں اگلا آرمی چیف فاٹا یا بلوچستان سے بھی ہو سکتا ہے، آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان کا مسئلہ ہم ہیں تو میڈیا بھی ہے، میڈیا کے لوگ انسان بن جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےکہا کہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے والی قومیں ترقی کر تی ہیں، ایک موقع پر جب پاکستان کے بیٹے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی گفتگو سُن کراس قدر خوش ہوئے کہ آرمی چیف ک نعرے لگانے لگے تو آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج، آرمی چیف نہیں بلکہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیں،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، امریکہ اور بھارت شکست نہیں دے سکے، ان کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان کے اندرونی دشمنوں کو کٹہرے میں لانا ہوگا اور اس کے لیے بہت جلد سب دیکھ لیں گے

  • چوہدری نثاراکیلے نہیں آئے ساتھ بہت کچھ لےکرآئےہیں:   فضل الرحمن12ویں کھلاڑی:اللہ خیرکریں گے:عمران خان

    چوہدری نثاراکیلے نہیں آئے ساتھ بہت کچھ لےکرآئےہیں: فضل الرحمن12ویں کھلاڑی:اللہ خیرکریں گے:عمران خان

    اسلام آباد :چوہدری نثاراکیلے نہیں آئے کچھ ساتھ لے کرآئےہیں:فضل الرحمن 12 کھلاڑی ہیں:اللہ خیرکریں گے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی صورت استعفی نہ دینے کے عزم کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ کسی کو غلط فہمی ہو سکتی ہے میں گھر بیٹھ جاؤں گا، ووٹنگ سے ایک دن پہلے اپوزیشن کو سرپرائز ملے گا، چودھری نثار سے ملاقات ہوچکی۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔

    صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ نیوٹرل والی بات کا غلط مطلب لیا گیا، نیوٹرل والی بات اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے تناظر میں کی، فضل الرحمان سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے، فضل الرحمان کے اب ٹیم سے باہر ہونے کا وقت ہو گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے صحافیوں کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا،چوہدری نثار سے ملاقات ہوچکی ہے، ووٹنگ سے ایک دن پہلے اپوزیشن کو سرپرائز ملے گا اور ووٹنگ سے ایک دن پہلے میرا کارڈ سامنے آئے گا۔

    اپوزیشن کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پہلے ہی اپنے سارے کارڈز شو کرچکی ہے اور ان کی سیاست ختم ہونے والی ہے، یہ لکھ لیں کہ تحریک عدم اعتمادناکام ہوگی۔

    اتحادیوں سے متعلق انھوں نے کہا اتحادی 27 تاریخ کے جلسے کے بعد حکومت کیساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے ، تحریک انصاف کی مقبولیت میں حالیہ دنوں بےپناہ اضافہ دیکھنے کو آیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج بچا ہوا ہے تو پاک فوج کی وجہ سے بچا ہوا ہے، فوج کیساتھ آج بھی اچھے تعلقات ہیں، فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے ، فوج پر مسلسل حملے کئے جارہے ہیں ، پاکستان کو فوج کی سخت ضرورت ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ن لیگ کی سیاست چوری بچانے کے لئے ہے، کسی بھی صورت این آر او نہیں ملے گا، ابھی تو لڑائی شروع ہوئی ہے میں ہار ماننے والا نہیں، جب تک زندہ ہوں ان چوروں کیساتھ نہیں بیٹھوں گا۔

    شہباز شریف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کیساتھ بیٹھ کر کام کرنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا، یہ لوگ اپنی کرپشن بچانے کیلئے میرے خلاف کٹھے ہوئے ہیں۔

    صدارتی ریفرنس پر عمران خان نے کہا سپریم کورٹ ریفرنس اس لئےبھیجا تاکہ ووٹوں کی خریدوفروخت پررکاوٹ آئے ، یہاں پرعرا ق کی طرح حملے کی ضرورت نہیں صرف 20ممبران پارلیمنٹ کو خریدیں۔

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی ہونے دیں پتہ چلے گا کون استعفیٰ دیتاہے، 27مارچ کوعوام کو سمندراسلام آباد میں ہوگا، اتنا بڑا جلسہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا، پاکستان میں سب سے بڑےجلسے میں نے کیے ہیں، مینارپاکستان کو بھرنے کا کریڈٹ بھی مجھے جاتا ہے۔

    نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز کو نوازشریف نے خرید اہوا ہے، پاکستان میں لفافہ کلچرنوازشریف لیکر آیا ہے۔

    عمران خان نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ میں ریفرنس کا مقصدتحریک عدم اعتمادکی تاخیری ہرگزنہیں، یہ تومیں عدالت میں کہہ چکا ریفرنس اور پارلیمانی پروسیجرالگ الگ چلے گا، ہمارامقصد ملک میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، شفاف الیکشن کیلئےہی سینیٹ الیکشن کےوقت ریفرنس دائرکیاتھا، یوسف گیلانی کے بیٹھے کی ویڈیوز منظرعام پرآئیں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

    صحافیوں نے سوال کیا کہ کامران خان نےوی لاگ میں4مطالبےہیں، کامران خان کہتے ہیں جنرل فیض اور بزدار پر فیصلے کریں ؟وزیراعظم عمران خان نے جنرل فیض اور بزدار سےمتعلق سوال پر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کامران خان کو کون بتاتا ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف مجرم ہے،اس کے ساتھ کیوں بیٹھوں گا، شہباز شریف جیسے چور کے ساتھ بیٹھ کر اپنی توہین نہیں کروں گا۔ چوروں کا جتنا بھی دباؤ ہو آخری بال تک لڑنے والا ہوں، ابھی تو لڑائی شروع ہی نہیں ہوئی تو استعفیٰ کہاں سے آگیا ، مجھے توسمجھ نہیں آتی استعفے کی بات کیوں کی جارہی ہے۔

    انھوں نے واضح کیا کہ حکومت چھوڑنے کیلئے تیار ہوں مگرانہیں استعفیٰ نہیں دوں گا، حکومت گر گئی تو چپ نہیں بیٹھوں گا۔

    نیوٹرل کی خبروں کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ نیوٹرل والی بات کا غلط مطلب لیا گیا، کسی سے کوئی دوریاں نہیں ، آرمی چیف سے دوریوں کی بات غلط ہے، کیا لڑائی سے پہلے ہاتھ کھڑے کردوں ؟ مولانا فضل الرحمان سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہیں، عدم اعتماد والا میچ ہم جیتیں گے۔

  • تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید

    تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید

    اسلام آباد : تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید کا ایمان ،اطلاعات کےمطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اللہ کے فضل وکرم سے کامیاب ہوں گ ، شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں وزیراعظم کے پاس بھی بہت کارڈز ہیں ،27مارچ کوپتہ چل جائے گا عوام کس کے ساتھ ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان پاکستان ہی نہین بلکہ عالم اسلام کی بھی ضرورت ہےتفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27مارچ کوپتہ چل جائے گا عوام کس کے ساتھ ہیں۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ انشااللہ 25 تاریخ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا اور 30 یا 31 مارچ یا یکم اپریل ، اسپیکر جس دن چاہیں ووٹنگ کراسکتے ہیں، اللہ سے پوری امید ہے کہ عمران خان جیتے گا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ 27تاریخ کی رات کو فائنل ہوجائے گا، عوام کس کےساتھ ہیں ، یہ جلسہ ہی ہمارے اعتماد اور ریفرنڈم کا دن ہے ، اپوزیشن اگر پراعتماد ہے تو ہم بھی پراعتماد ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کےلئے پرامید ہیں، وزیراعظم کے پاس بھی بہت کارڈز ہیں، امید ہے اتحادی عمران خان کے ساتھ ہوں گے، اتحادیوں کو وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہیے۔

  • صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط
    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کا معاملہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کردیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، اتنے اہم کیس کیلئے بینچ کی تشکیل سے پہلے کسی سینئر جج سے مشاورت نہیں کی گئی،لارجر بینچ میں سینئر ججوں کو شامل نہیں کیا گیابینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالو نہیں کیا گیا، بینچ میں سینیارٹی پرچوتھے،8ویں اور 13ویں نمبر پر شامل ججوں کو شامل کیا گیا،جہاں اہم قانونی اور آئینی سوالات ہوں وہاں سینئر ججوں کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سول سرونٹ کی بطور رجسٹرار تقرری پر بھی اعتراض کیا، اور کہا کہ میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری خلاف آئین ہے،یہ خط لکھنے سے پہلے 2بار سوچا ،سپریم کورٹ نے بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا سپریم کورٹ بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ نہیں سنا جا سکتا،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ جس پر پوری قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے، جج کا حلف کہتا ہے وہ اپنے فرائض منصبی میں ذاتی مفاد کو ملحوظ نہیں رکھے گا، کہاوت ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا نظربھی آئے، کہاوت کا ذکر ججز کے ضابطہ اخلاق میں پانچویں نمبر میں بھی درج ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق بینچ کی تشکیل کا اختیار شفاف مبنی بر انصاف اور قانون کے مطابق استعمال کرنا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ جناب چیف جسٹس کئی مرتبہ آپ کو تحریری طور پر مطلع کر چکا ہوں، ایک بیوروکریٹ کو وزیراعظم ہاؤس سے درآمد کرکے رجسٹرار تعینات کیا گیا عام تاثرہے کہ وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہو میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری عدلیہ کے انتظامیہ سے الگ ہونے کے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ، سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا ،سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سماعت اہم ہے اور وقت کی بھی تنگی ہے،تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرائیں،تحریری دلائل جمع ہونے سے زبانی دلائل جلد مکمل ہو سکیں گے،عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے،اٹارنی جنرل نے سیاسی جماعتوں کو ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی تجویز دی ہے، انتظامیہ سے ملکر جلسوں کی مناسب جگہ کے تعین کی تجویز خوش آئند ہے، عدالت نے اٹارنی جنرل کو سیاسی جماعتوں کے وکلاکی ضلعی انتظامیہ کیساتھ ملاقات کرانے کی ہدایت کی

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں مزید کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ ہاوس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا،عدالت کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ریڈ زون کی سخت سیکیورٹی سے آگاہ کیا گیا،صدارتی ریفرنس پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے گئے،حکومت کی اتحادی جماعتیں فریق بننا چاہیں تو بن سکتی ہیں،بہتر ہوگا پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل کیے جائیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گاریڈ زون سے باہر جلسے کرنے کیلئے اٹارنی جنرل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں،کیس جلد نمٹانے کیلئے تمام فریقین تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں،سپریم کورٹ بار کی جلسے روکنے سے متعلق درخواست اور صدارتی ریفرنس کی سماعت 24 مارچ کو ہوگی

    صدارتی ریفرنس پر سماعت کے لئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے،چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس منیب اختر،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہییں،24 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر سماعت ہو گی

     

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

  • ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ جاری

    ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ جاری

    ملک بھر میں آج یوم پاکستان ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے،یوم پاکستان کے موقع پر آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے-

    باغی ٹی وی :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب منعقد کی گئی، جس میں صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ شریک ہوئے-

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ندیم رضا، نیول چیف ایڈمرل اجمل خان نیازی،وزیرِ دفاع پرویز خٹک اور ایئر مارشل ظہیر احمد بابر بھی یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب میں شامل ہوئے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کو بھی یومِ پاکستان پریڈ میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی آمد پر خصوصی بگل بجایا گیا، اس کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا جس کے احترام میں تقریب کے تمام شرکاء کھڑے ہو گئے۔
    https://twitter.com/AyeshaMalickPTI/status/1506496852606259203?s=20&t=qUUkcFzKkJjsp1qAp19uPQ
    قومی ترانے کے بعد تلاوتِ قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ کی فضاؤں میں گونجنے لگی صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خصوصی جیپ میں سوار ہو کر مسلح افواج کا معائنہ کیا۔


    ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے سلامی پیش کی جدید ترین جے 10 سی جنگی طیاروں نے فلائی پاسٹ کیا، شاندار فضائی مظاہرے میں جے ایف 17 تھنڈر، ایف 16 اور دیگر جنگی طیارے شامل رہے۔

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہمی اتحاد اور تعاون سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا پاکستان تمام ممالک کے ساتھ امن چاہتا ہے، ہم نے آزادی کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ہم نے اندرونی اور بیرونی سازشوں پر کامیابی حاصل کی اور کرتے رہیں گے ہم نے علمائے کرام کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی وباء کا مقابلہ کیا ہمارے سب ادارے جمہوریت کے استحکام اور قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں۔

    اس سال یومِ پاکستان کی مرکزی پریڈ کی تھیم ’شاد رہے پاکستان‘ رکھی گئی، یہ دعائیہ تھیم قومی ترانے کے حصے ’مرکزِ یقین شاد باد‘ سے لی گئی پریڈ میں تینوں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستوں نے حصہ لیا۔

    پریڈ میں آرمرڈ کور، آرٹلری اور ایئر ڈیفنس انجینئرز کے دستے دشمن پر ہیبت طاری کرنے والے سامانِ حرب کے ساتھ حصہ لیا، ایس ایس جی کے کمانڈوزنے فری فال کا مظاہرہ کیا-

    میزائل، یو اے وی پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کی علامت کے طور پر پریڈ کا حصہ بنے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی فلوٹس نے بھی تقریب کو چار چاند لگایا او آئی سی کے فلوٹ کو یومِ پاکستان کی پریڈ میں خصوصی طور پر شامل کیا گیا –

    یومِ پاکستان کے موقع پر پر سربراہِ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنا پیغام جاری کیا ہے۔

    اپنے پیغام میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہے کہ 23 مارچ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے23 مارچ کو مسلمانانِ برصغیر نے پہلی بار باضابطہ علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا یومِ پاکستان آباؤ اجداد کی آزادی کے لیے قربانی اور طویل جدوجہد کی علامت ہے اس سال یومِ پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے، قوم پریڈ کے موقع پر جے 10 سی جہاز کا مظاہرہ دیکھے گی۔

    سربراہِ پاک فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ جے 10 سی طیارے حال ہی میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے ہیں، جو ہماری جدت پر مبنی پالیسی کا شاہکار ہیں۔

    آج دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ نماز فجر کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی یوم پاکستان بھرپورطریقے سے منا رہی ہیں، گرجا گھروں، مندروں اورگوردواروں میں بھی ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔

    تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے ہیں، پاک فوج کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں 31جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21توپوں کی سلامی دی گئی۔

    یومِ پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈ کی اہم تقریب آج اسلام آباد میں ہوئی،جس میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر اہم سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات اور غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی پریڈ میں تینوں مسلح افواج کے دستوں نے حصہ لیا پریڈ میں آرمرڈ کور، آرٹلری اور ایئر ڈیفنس انجینیرز کے دستے دشمن پر ہیبت طاری کرنے والے سامانِ حرب کے ساتھ حصہ لیں گے اور ایس ایس جی کے کمانڈوز فری فال کا مظاہرہ کیا۔

    کراچی میں قائد اعظم جبکہ لاہورمیں مزاراقبال پرگارڈزکی تبدیلی کی پروقارتقریب منعقد ہوئی، جہاں پر پر ستلج رینجرز کی جگہ پاک فضائیہ کا چاک و چوبند دستہ اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے جس میں مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل زبیر حسن خان ایئر آفیسر کمانڈنگ پی اے ایف ایئرمین اکیڈمی کورنگی کریک نے شرکت کی، مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل زبیر حسن خان نے مزار اقبال پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

    واضح رہے کہ 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی جلاس کے دوران شیر بنگال مولوی فضل الحق نے قرارداد پیش کی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا یہ قرارداد لاہور منٹو پارک میں میں پیش کی گئی جہاں اس کی یادگار کے طور پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا منٹوپارک کے مقام پرآج گریٹراقبال پارک موجود ہے۔

    قرارداد کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ اس کی تائید میں خان اورنگ زیب خان، حاجی عبداللہ ہارون، یگم مولانا محمد علی جوہر، آئی آئی چندریگر، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دوسرے مسلم اکابرین نے تقاریر کیں تقاریر کے بعد مسلمانوں کےلیےعلیحدہ وطن کی قرارداد منظور کرلی گئی جسے قرارداد لاہور کا نام دیا گیا۔ بیگم محمد علی جوہر نے تقریر میں قرارداد کوپہلی بارقرارداد پاکستان کہا۔

    قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کےوہ علاقے جو مسلم اکثریتی اورجغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہیں ان کی حد بندی ایسے کی جائے کہ وہ خود مختارآزادمسلم ریاستوں کی شکل اختیار کرلیں۔

    قرارداد کے مطابق جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں انہیں آئین کے تحت مذہبی، قافتی، سیاسی، اقتصادی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی جائے کیونکہ ہندوستان کا موجودہ آئین مسلمانوں کے حقوق پورے نہیں کرتا قرارداد پاکستان کے 7 برس بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کرہ ارض پر وجود میں آیا اور پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔

    وزیراعظم عمران خان نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ 23 مارچ تخلیق پاکستان کے حقیقی مقاصد انصاف اور مساوات پر کاربند رہنے کے ہمارے عزم کی تجدید کا دن ہے، آج ہم بابائے قوم اور تحریک آزادی کے ان تمام رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بے مثال قربانیوں کے ذریعے قوم کو متحد کرنے کی جدوجہد کی۔

    عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان ایک طویل جمہوری جدوجہد سے معرض وجود میں آیا اور اب اس کے استحکام اور ترقی کی کلید سخت محنت ، دیانتداری اور اخلاقیات میں مضمر ہے، یہ دن مناتے ہوئے ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے دیئے ہوئے سنہری اصولوں ایمان ، اتحاد اورتنظیم پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے، ہمیں خود کو ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے وقف کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام پاکستانیوں کو ملک کے عظیم بانیان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ یوم ِ پاکستان برصغیر کی تاریخ میں کئی حوالوں سے اہم دن ہے، 1940ء میں اس دن مسلمانوں نے ’’جداگانہ انتخاب‘‘ کی بجائے ’’علیحدہ ریاست‘‘ کا مطالبہ کیا۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ’اس دن مسلمانوں نے انگریزوں پر واضح کر دیا کہ کانگریس مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت نہیں، اس دن مسلمانوں نے واضح کیا کہ برصغیر کی تقسیم میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی، ہمارا فرض ہے کہ ہم قوم کیلئے بروقت اور دانشمندانہ سیاسی فیصلے لینے والے بانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں۔

    صدر مملکت نے کہا کہ ’وقت نے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو سیاسی طور پر درست ثابت کیا ہے، جموں و کشمیر، بھارت میں مسلمانوں کی صورت حال واضح ثبوت ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر مسلمانوں کا کیا حشر ہوتا، ہمیں مختلف قومیتوں اور اقلیتوں کو ایک قوم میں یکجا کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز پر اجتماعی کوششوں سے قابو پایا جا سکتا ہے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک معاشی طور پر مضبوط اور خوش حال ملک بن جائے گا، ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے مل کر قومی اتحاد اور سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  • امر بالمعروف اور عمران خان کے کرتوت، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    امر بالمعروف اور عمران خان کے کرتوت، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    لاہور:عمران خان ہی تمام چور ڈاکووں کو تحفظ دینے والے ہیں:سینیئر صحافی عمران خان کے رویے سے سخت نالاں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال پرتجزیہ کرتے ہوئے سینیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ موجودہ پریشانی کی صورت حال کے آپ ذمہ دار ہیں

    انہوں نے کہاکہ عمران خان کی شخصیت ہی اس سارے کھیل کا مرکزی کردار ہے ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی وجہ سے میڈیا پر 70 سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ دن آئے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان ہی نے کرکٹ کے میدان سے لیکر سیاست کے ایوان تک اپنی مرضی کی اور پھردوسروں کو لڑا لڑا کراپنا مقصد حاصل کیا

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہانگیر ترین ، شاہ محمود قریشی علیم خان اور عثمان بزدار سمیت دیگرپارٹی قائدین کو لڑا کراپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے تو کہا جارہاہے کہ میں چوروں اور لٹیروں کو سپورٹ کررہا ہوں

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی موقع پرست سیاست اور اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھنے کا تصور لیکرآگے بڑھنا کپتان کا مشن ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مسائل حل نہیں کرپارہے اور الزام موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کو قرار دیا جارہا ہے

    ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے پرانے کھلاڑیوں‌کو لڑایا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماجد خان کو ٹیم سے باہر نکالا اور پھر وسیم اکرم کو جاوید میاں داد سے لڑوایا اوراپنے راستے صاف کیئے

    ان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک اور اعظم خان کے درمیان فاصلے بڑھائے ، ان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے لوگوں کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ دیئے گئے ، انہوں نے کہا کہ 15 سال میں نے جہاد کیا اور میری طرح باقی ساتھیوں نے جہاد کیا ہمارا خیال نہیں کیا

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے 22 سال جدوجہد کی اور پھر اب مزید وقت مانگ رہےہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ناکام خود ہوئے ہیں اور الزام دوسروں کو دے رہے ہو، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے