Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ
    سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی سپریم کورٹ بار کی درخواست پرسماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت ابھی تک اسمبلی کارروائی میں مداخلت پرقائل نہیں ہوئی، عدالت صرف چاہتی ہے کسی کے ووٹ کاحق متاثرنہ ہو،

    اپوزیشن لیڈرشہبازشریف، بلاول بھٹو اورمولانا فضل الرحمان عدالت میں موجود ہیں خواجہ سعد رفیق سردار اختر مینگل شیریں رحمان مریم اورنگزیب رانا ثناء اللہ یوسف رضا گیلانی فیصل کریم کنڈی حافظ حمد اللہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ،

    عدالت نے ماسک کے بغیر آنے والوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کے باہر گیلری میں کیس سننے کا انتظام کررہے ہیں،کچھ لوگوں کو اوپر گیلری میں بھجوا دیں،عدالت میں جو اس وقت صورتحال ہے،اس میں کام نہیں ہوسکتا،کمرہ عدالت سے رش ختم کیا جائے، عدالت میں موجود سب لوگ صحت کا خیال رکھیں اخبارات میں ہے کہ سیاسی جماعتوں نے 25 مارچ کو احتجاج کرنا ہے، ہم کسی قسم کی مداخلت نہیں کرینگے،

    فاروق ایچ نائیک نے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا نوٹس عدالت میں پیش کیا اور کہا کہ سپیکر نے آئین شکنی کی ہے،سپیکر قومی اسمبلی آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کے مرتکب ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ جن پرآرٹیکل 6 لگا ہے پہلے ان پرعمل کروا لیں چیف جسٹس آرٹیکل 6 سے متعلق فاروق نائیک کی بات پرمسکرا دیئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام نکات اسپیکرکے سامنے اٹھائے جا سکتے ہیں، یہ اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے بہتر ہوگا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندرلڑی جائے عدالت نے دیکھنا ہے کسی کے حقوق متاثرنہ ہوں،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رول 37 کی خلاف ورزی صرف بے ضابطگی نہیں ہوگی، آرٹیکل 17 سیاسی جماعتیں بنانے کے حوالے سے ہے

    وکیل سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اسپیکرنے 25 مارچ کو اجلاس طلب کرنے کا کہا ہے،آرٹیکل 95 کے تحت 14دن میں اجلاس بلانا لازم ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کسی ایونٹ کی وجہ سے کوئی ووٹ ڈالنے سے محروم نہ ہو،ووٹ ڈالنا ارکان کا آئینی حق ہے، بار اگر زیادہ تفصیلات میں گئی تو جسٹس منیب اختر کی آبزرویشن رکاوٹ بنے گی سوال یہی ہے کہ ذاتی چوائس پارٹی موقف سے مختلف ہو سکتی ہے یا نہیں؟

    وکیل سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہیے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی کس شق کے تحت رکن اسمبلی آزادی سے ووٹ ڈال سکتا ہے، وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 91 کے تحت ارکان اسپیکر اور دیگر عہدیداروں کا انتحاب کرتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کا کیس آئین کی کس شق کے تحت ہے یہ تو بتا دیں،سپریم کورٹ میں وکیل بار کی جانب سے آرٹیکل 66 کا حوالہ دیا گیا،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 66 کے تحت ووٹ کا حق کیسے مل گیا؟ آرٹیکل 66 تو پارلیمانی کارروائی کو تحفظ دیتا ہے، آرٹیکل 63 اے کے تحت تو رکن کے ووٹ کا کیس عدالت جاسکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار کے وکیل کا اس عمل سے کیا تعلق ہے ؟ بار ایسوسی ایشن عوامی حقوق کی بات کرے جسٹس منیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہونی چاہیے؟ وکیل سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد بھی عوامی اہمیت کا معاملہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ آئین کے تحت سب سے مرکزی ادارہ ہے،پارلیمنٹ کا کام آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں،آرٹیکل 63 اے پارٹیوں کے حقوق کی بات کرتا ہے کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،عوامی مفاد میں کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،عوام کا کاروبار زندگی بھی کسی وجہ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کا حق سیاسی جماعت کا ہوتا ہے۔ کسی ایم این اے کے ذاتی ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں

    عوام کو اسمبلی اجلاس کے موقع پر ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی ۔اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ کو وفاقی حکومت کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ،اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ کویقین دہانی کروائی اور کہا کہ حلف دے کر کہتا ہوں عدم اعتماد والے دن پارلیمنٹ کے باہر ہجوم نہیں ہوگا کسی کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا۔ آئین کی کوئی شق کسی منحرف رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکتی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی کو بھی ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جا سکتا لیکن جب کوئی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرے گا تو ان پر قانون کا اطلاق ہو گا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار کے وکیل تیاری کیساتھ نہیں آئے،بار کو سندھ ہاؤس پر بات کرتے ہوئے خوف کیوں آرہا ہے؟ بار کو عدم اعتماد کے حوالے سے کیا تحفظات ہیں،بار کے وکیل کو سن چکے ہیں اب آئی جی اسلام آباد کو سنیں گے، چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ کیا دفعہ 144 لگ گئی ہے؟ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد میں پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ ہے،ریڈ زون کے اطراف تک دفعہ 144 کا دائرہ بڑھا دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق 5بجکر 45 منٹ پر 35 سے 40 مظاہرین سندھ ہاوس پہنچے ،آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مظاہرین جھتے کی صورت میں نہیں آئے تھے دو اراکین اسمبلی سمیت 15 افراد کو گرفتار کیا گیا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کوئی رکن اجلاس میں نہ آنا چاہیے تو زبردستی نہیں لایا جائے گا پارٹی سربراہ آرٹیکل 63 اے کے تحت اپنا اختیار استعمال کر سکتا ہے ،عدالت نے کہا کہ کوئی جماعت اجلاس میں مداخلت سے روکے اور اسکا ممبر اسمبلی چلا جائے تو کیا ہو گا ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں کو روکا نہیں جاسکتا،اس نقطے پر حکومت سے ہدایات کی بھی ضرورت نہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے پر آرٹیکل 63 اے کی کارروائی ہو گی،حکمران جماعت پر ہارس ٹریڈنگ کا کوئی الزام نہیں،بطور اٹارنی جنرل کسی اپوزیشن جماعت پر بھی الزام نہیں لگاؤں گا،بینظیر بھٹو نے عدم اعتماد پر اراکین کو زبردستی لانے کا حکم دیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکتا تھا، کوئی بھی سرکاری افسر غیر قانونی حکم ماننے کا پابند نہیں، یقین دہانی کروتا ہوں کہ پارلیمانی کارروائی آئین کے مطابق ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏سندھ ہاؤس میں واقعہ پر اٹارنی جنرل کا موقف خوش آئند ہے،تمام سیاسی جماعتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں، توقع ہے حکومت بھی سندھ ہاؤس واقعے کی مذمت کرے گی ،سیاسی جماعتوں کے وکلا ریفرنس پڑھ کر تیاری کریں، صدارتی ریفرنس کی سماعت لارجر بینچ کرے گا،بعض غیر ذمہ دارسیاست میں آکر ایسی کوئی حرکت کرسکتے ہیں،یہ سیاسی مسئلہ بھی ہے اس میں انا نہیں ہونی چاہیے،اس عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنا ہے،یہ محض قانونی مسئلہ نہیں،اگر لوگوں کو خدشات ہیں کہ تصادم ہو سکتا ہے،جہاں الیکشن ہوتا ہے وہاں ہم رک جاتے ہیں، مواد دیکھا دیں تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوئی تو ضابطہ اخلاق بنا لیں گے،

    سپریم کورٹ کے باہرپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی بات نہیں کریں گے امید ہے فیصلے آئین کے مطابق ہوں گے پارلیمنٹ کو عدالتی دہلیز پر نہیں لائے، ہم سیاسی اور قانونی جدوجہد کررہے ہیں۔

    پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار سپریم کورٹ آیا ہوں، سپریم کورٹ بھی ہمارا ادارہ ہے، میری نظر میں یہ حکومت ناجائز ہے ،قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس پر عدالت عظمی فیصلہ کرے گی،ہمارے وکلا نے بڑی محنت سے درخواست تیار کی ہے۔

    سپریم کورٹ جانے سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منسٹرز انکلیو میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سےملاقات کی تھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر امیر حیدر خان ہوتی اور اختر مینگل سمیت دیگر اپوزیشن قیادت بھی موجود تھی، جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچے

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے،احسن بھون

    اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے،احسن بھون

    اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے،احسن بھون

    سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون کا کہناہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو کسی نے نہیں روکا تھا کہ 14روز انتظار کرے ،

    احسن بھون کا کہنا تھا کہ اسپیکرتحریک عدم اعتماد پر دوسرے یا تیسرے روز اجلاس بلا سکتے تھے اسے مذاق کیا ہو سکتا ہے کہ اجلاس بلانے کیلئے کوئی دوسری عمارت موجود نہیں ،اسپیکر قومی اسمبلی آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوے ہیں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، کہ آئین میں دیئے گئے مقررہ وقت پر اجلاس نہیں بلایا گیا ہو اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے۔حکومت کا آرٹیکل 63 اے کے خلاف ریفرنس ناقابل سماعت ہے اسپیکر قومی اسمبلی کےخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ کرتا ہوں.

    قبل ازیں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر نے آئین سے انحراف کیا آئین کی خلاف ورزی پر درخواست سے متعلق مشاورت جاری ہے آئین میں 14روز سے آگے اجلاس لے جانے کی کوئی گنجائش نہیں

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا چاہیے تھا،25مارچ کو اجلاس بلا کر اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی پارلیمنٹ کی تزئین و آرائش کے باعث اجلاس میں تاخیر غیر آئینی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کے وضاحت ناقابل قبول ہے، ریکوزیشن سے پہلے وزرا اپوزیشن کو عدم اعتماد لانے کا چیلنج دیتے رہے ،ریکوزیشن کے بعد وزیراعظم نے کہا ان کی دعا قبول ہو گئی،وزیراعظم نے اپنے ہی ارکان پر پیسے لینے کا الزام لگایا اور دھمکی دی،وزیراعظم اب ارکان کو واپس آنے کی منت سماجت کر رہے ہیں آئین میں یہ نہیں ہے ارکان پارٹی لیڈر کی مرضی کے بنا ووٹ نہیں دے سکتے،حکومت ارکان پارلیمنٹ سے ووٹ کا حق نہیں چھین سکتی

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر قومی اسمبلی کو خلاف آئین اقدامات پر وارننگ دی ہے مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ 14 دن میں اجلاس کا آئینی تقاضا پورا نہ کرکے عمران صاحب اور سپیکر آرٹیکل 6 کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں 14 دن میں اجلاس نہ بلا کر سپیکر نے اپنے حلف اور آئین کی خلاف ورزی کی ہے ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد 14 دن گزر چکے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانا آئین سے انحراف ہے آئین کی واحد تشریح کے باوجود سپیکر کا 14 دن میں اجلاس نہ بلانا قابل مذمت، افسوسناک اور سراسر غیر آئینی ہے سپیکر کا رویہ تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ وہ آئین پر پارٹی چئیرمن کے مفاد کو ترجیح دے رہے ہیں دستور شکنی غداری اور بغاوت ہے، سزا کے لئے تیار رہیں عمران صاحب کو اقتدار سے اتنی محبت ہے کہ ایک مزید دن بڑھانے کے لئے آئین کو روند دیا ہے

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے، اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس طلب کر لیا ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ، 2022 بروز جمعہ المبارک دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا۔اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کی شق 54 (3) اور شق 254 کے تحت تفویض اختیارات کو بروے کار لاتے ہوئے طلب کیا ہے۔اجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس موجودہ قومی اسمبلی کا 41 واں اجلاس ہو گا قومی اسمبلی کا اجلاس صرف ایک گھنٹہ جاری رہے گا اور پیر تک ملتوی ہو جائے گا۔ 12 بجے جمعہ کا وقفہ ہو گا اور ہفتہ اتوار کو اجلاس نہیں ہوگا

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    پی ٹی آئی منحرف اراکین کو ہم نے زبردستی نہیں رکھا،سعید غنی

  • او آئی سی اجلاس، وزیراعظم عمران خان کے خطاب کا شیڈول جاری

    او آئی سی اجلاس، وزیراعظم عمران خان کے خطاب کا شیڈول جاری

    او آئی سی اجلاس، وزیراعظم عمران خان کے خطاب کا شیڈول جاری
    اسلام آباد میں او آئی سی وزرائےخارجہ کانفرنس، شرکا کی آمد جاری ہے

    چینی وزیرخارجہ او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے وفاقی وزیر سید فخر امام نے چینی وزیر خارجہ کا استقبال کیا ,وزارت خارجہ کے حکام، چینی سفارتکاروں نے چینی وزیرخارجہ کا استقبال کیا چینی وزیرخارجہ پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کریں گے پاکستان چین میں وفود کی سطح پردوطرفہ مذاکرات منعقد ہوں گے

    سیکریٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم کی اسلام آباد آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا انڈونیشیا کے نائب وزیر خارجہ عبدالقادر جیلانی اورصومالیا وزیرخارجہ کی آمد ہوئی ہے نائجیر، گمبیا سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ بھی اسلام آباد پہنچ گئے چین کے وزیر خارجہ آج پاکستان پہنچیں گے مصر کے وزیرِ خارجہ سامع شُکری پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں ، اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 22 اور 23 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں 48 ممبر ممالک کے وزرا شرکت کریں گے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد او آئی سی اجلاس سے قبل پھولوں اور رکن ممالک کے پرچموں سے سج گیا،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں جڑواں شہروں میں عام تعطیل کی گئی ہے

    وزیراعظم عمران خان اجلاس کی افتتاحی نشست سے کلیدی خطاب اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ، اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر سمیت اہم اسلامی رہنما اجلاس میں شرکت کے لئے وفاقی درالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔اوآئی سی کے اجلاس میں تجارتی اور اقتصادی روابط ایجنڈے کا اہم نکتہ ہے،اجلاس میں عالمی صورتحال اور مسلم امہ کو درپیش چیلنجوں، باہمی یکجہتی،علاقائی امن اور ترقی پر غور کیاجائے گا۔

    او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں منظوری کے لئے متعدد اہم قراردادیں پیش کی جائیں گی اجلاس میں وزرائے خارجہ ، نائب وزرائے خارجہ ، مستقل نمائندوں، 15 مبصر ممالک کے نمائندوںسمیت 675 سے زائد مبصریں شرکت کررہے ہیں اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس اور اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا

    اسلام آباد میں کل منگل سے شروع ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کی دو روزہ کانفرنس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں او آئی سی کے وزراء خارجہ کی اڑتالیسویں کانفرنس کا موضوع ”اتحاد، انصاف اور ترقی کے لئے شرکت داری کا قیام” ہے ایک ٹویٹ میں وزارت خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ اجلاس پاکستان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ ادھر او آئی سی ترجمان نے ایک بیان میں کہا اجلاس کئی موضوعات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ فلسطین اور القدس سمیت عالم اسلام کے معاملات پر منظور کی جانے والی قراردادوں پر عملدرآمد کے لئے او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی کارکردگی پر بھی غورکرے گا کانفرنس افغانستان کی صورتحال اور اس کے انسانی مضمرات کے علاوہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورت حال کابھی جائزہ لے گی۔ او آئی سی وزرائے خارجہ یمن، لیبیا، سوڈان، صومالیہ، شام اور دیگر علاقوں میں ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیں گے

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو او آئی سی کے مندوبین کے استقبال کیلئے سجا دیا گیا، او آئی سی میں شامل تمام اسلامی ممالک کے پرچم ایئر پورٹ کے اندر لائونج میں لگا دیئے گئے، ایئر پورٹ انتظامیہ نے تمام مندوبین کو خوش آمدید کرنے کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل کر لیں۔ سکیورٹی انتظامات کے ساتھ ایئر پورٹ کو اندر اور باہر خوب صورت پودوں اور تمام اسلامی ممالک کے پرچموں سے سجا دیا گیا، کانفرنس 22 مارچ سے 24مارچ تک اسلام آباد میں جاری رہے گی

    دوسری جانب اسلام آباد میں او آئی سی کانفرنس کا انعقاداسلام آباد ٹریفک پولیس نے ٹریفک پلان جاری کر دیا 21تا 24 مارچ، ریڈ زون عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو گا، سرینا چوک، اسٹیٹ بینک چوک، ایکسپریس چوک اور ایوب چوک عام ٹریفک کیلئے بند ہوں گےشہری آمدورفت کے لیے متبادل راستے استعمال کریں ، سرینا چوک اور مارگلہ روڈ ہی ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے مخصوص اجازت نامہ کے ساتھ ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت ہو گی، سری نگر ہائی وے، مری روڈ ، اسلام آباد ایکسپریس وے پر مختصر دورانیہ کیلئے غیر اعلانیہ رکاوٹیں لگائی جائیں گی شہری کسی بھی دشواری سے بچنے کیلئے غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں،

    قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ او آئی سی اجلاس کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں چین کے وزیر خارجہ بطورمہمان خصوصی آج آئیں گے دیگر ممالک کے وزیرخارجہ آج آئیں گے، کل او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اڑتالیسواں اجلاس ہو گا، وزیر اعظم عمران خان کل اجلاس سے خطاب کریں گے،اجلاس میں 100سے زائد قراردادیں زیر بحث آئیں گی،وزرائے خارجہ 23 مارچ کو پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے، کل او آئی سی کی چیئرمین شپ ایک سال کیلئے پاکستان کو منتقل ہوجائے گی،اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہمیں دو طرفہ ملاقاتوں کا موقع بھی فراہم ہوگا،او آئی سی کیلئےہر حکومت نے اپنے اپنے دور میں کردار ادا کیا ہے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھاکہ ہماری سیاسی کمیٹی کے اجلاس مسلسل ہو رہے ہیں،آج بھی وزیراعظم کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی کااجلاس ہوگا،ہم تصادم نہیں چاہتے،کسی ممبرکوووٹ کاحق استعمال کرنےسےنہیں روکیں گے،ہم عدم اعتماد کا مقابلہ آئینی طریقےسے کریں گے، نمبرزپورے کرنےکی ذمہ داری اپوزیشن کی ہے،اپوزیشن نمبرز پورے کرنے کیلئےضمیر فروشی پراترچکی ہے،سپریم کورٹ سےہارس ٹریڈنگ ختم کرنے کیلئے رہنمائی چاہتےہیں،یہ بھی رہنمائی لیں گے کہ کیا یہ ممبران تاحیات نااہل ہوں گے؟ اگر وہ تاحیات نہ اہل ہو سکتے ہیں تو انہیں یہ قدم اٹھانے سے پہلے باردگر سوچنا چاہیے بلاول کی بہت سی باتوں پر ہنسی آتی ہے،وقت کےساتھ ساتھ سیکھ جائیں گے

    چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ پاکستان میں او آئی سی کا اجلاس امن کی عکاسی ہے اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) وزراء خارجہ کونسل کے48ویں اجلاس میں اسلامی دنیا کے وزراء خارجہ، مندوبین و دیگر اعلیٰ شخصیات کو پاکستان آمد پر خوش آمدیدکہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ اجلاس کشمیر، فلسطین سمیت مسلم امہ کیلئے باعث فخر ہوگا پاکستان کا اسلامی ملکوں کی بین الاقوامی تنظیم(او آئی سی) کے اجلاس کی میزبانی کرنا باعث سعادت اور باعث فخر ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اجلاس مسلم امہ کودرپیش مسائل کے حل کیلئے معاون ثابت ہو گا اور اس اجلاس کے ذریعے عالمی برادری کو عالم اسلام کی حقیقی صورت حال سے آگاہی اور آواز ثابت ہوگا مرکزی علماء کونسل پاکستان اس اجلاس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے یہ اجلاس بہت ہی اہمیت کا حامل ہے او آئی سی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جس میں 57مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں او آئی سی دنیا بھر کے ڈیڑہ ارب مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک مضبوط پلیٹ فارم ہے اور اس مضبوط پلیٹ فارم کے قیام سے لے کر آج تک مسلم امہ کے مسائل اور مفادات کا تحفظ یقینی بنا ہے ہم دعا گو ہیں کہ اس کانفرنس کے مثبت اثرات مرتب ہوں

    قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود کی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کے موقع پر تیونس ہم منصب سے ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کی صدارت میں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی ، ممبران کشمیر کونسل و سابق ٹکٹ ہولڈر کا اجلاس ہوا اجلاس میں وزراء،ممبران اسمبلی،ممبران کشمیر کونسل اور ٹکٹ ہولڈرز نے شرکت کی پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم پاکستان عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں منظور کی گئی متفقہ قراردادوں میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے.اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی اور کارکن وزیراعظم عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد کی منظوری پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ملت اسلامیہ کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی فورمز کو متحرک کیا اور عالمی سطح پر رائے عامہ کو کامیابی سے ہموار کیا۔ پارلیمانی پارٹی کی طرف سے منظور کردہ قرار دادوں میں اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی گئی اور کہا گیا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کا اجلاس اتحاد و یکجہتی کا پیغام بھی ہے۔ مسلہ کشمیر کو او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے اور کشمیری قیادت کو مدعو کرنے کا بھی زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ او آئی سی سے اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ کہ اسلامی تعاون تنظیم مسئلہ کشمیر پر جاندار موقف اختیار کرے گی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لے گی۔اجلاس کی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نہ صرف کشمیریوں کے سفیر ہیں بلکہ کشمیری قوم کے محسن بھی ہیں عمران خان نے جہاں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلہ پرعالمی سطح پر جاندار آواز بلند کی وہاں انہوں نے آزادجموں وکشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے حکومت آزادکشمیر کو وافر مالی وسائل مہیا کیے اور ہر ممکن سرپرستی کی۔

    او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس،وفود 23 مارچ کی پریڈ میں شریک ہوں گے،طاہر اشرفی

    علامہ طاہر اشرفی کا تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ کے ہمراہ امام بارگاہ کا دورہ

    8 سالہ بچے پر توہین مذہب کا الزام، طاہر اشرفی نے حقیقت بتا دی

    مسیحی برادری کے قائدین پر حملہ، طاہر اشرفی کا بڑا اعلان

    علامہ طاہر اشرفی کتنی تنخواہ لے رہے؟ خود ہی بتا دیا

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    وزیراعظم کی ہدایت پراو آئی سی اجلاس میں کشمیری قیادت کو دعوت، بھارتی اعتراض مسترد ا

    او آئی سی اجلاس، مصری وزیر خارجہ کی 24 برس بعد پاکستان آمد

  • آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ

    آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا

    عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں کو صدارتی ریفرنس میں نوٹس جاری کر دیئے۔ لارجر بنچ کیس کی سماعت 24 مارچ کو کریگا۔

    قبل ازیں حکومت نے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس دائر کر دیا،صدارتی ریفرنس کے مسودے میں منحرف رکن کو تاحیات نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے آرٹیکل 63 اے کی تشریح اور صدارتی ریفرنس کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ضمیر بیچنے والوں پر آرٹیکل 63 کے ساتھ 62 ون ایف لاگو کیا جائے، ماضی کی طرح آج پھر فلور کراسنگ اور ووٹوں کی خریدوفروخت عروج پر ہے مسودے کے متن کے مطابق کئی ارکان نے میڈیا پر فخریہ انداز میں اپنے انحراف کا اعتراف کیا ہے، آئین کے تحت منتخب نمائندے ذاتی مفاد کی تکمیل کیلئے آزاد نہیں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ منحرف رکن کو کسی بھی مرحلے پر ووٹ کا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے، منحرف رکن مستعفی نہ ہوتو اسے تاحیات نااہل اور اپیل کےحق سے محروم کیا جائے

    صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے 4 سوالوں کا جواب مانگا گیا ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی کونسی تشریح قابلِ قبول ہے؟ کیا پارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ دینے سے نہیں روکا جا سکتا؟ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ شمار نہیں ہوگا، کیا ایسا ووٹ ڈالنے والا تاحیات نااہل ہوگا؟ کیا منحرف ارکان کا ووٹ شمار ہوگا یا گنتی میں شمار نہیں ہوگا؟ پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے والا رکن صادق اور امین نہیں رہے گا تو کیا تاحیات نااہل ہوگا؟ فلور کراسنگ یا ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کےلیے مزید کیا اقدامات ہو سکتے ہیں؟ آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا

    قبل ازیں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ صدارتی ریفرنس میں میں صدر کی نمائندگی میں کرونگا ریفرنس میں منحرف ممبران کے بارے میں سوالات کیے گئے ہیں

    صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق ریفرنس کی منظوری دے دی صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی صدر عارف علوی نے وزیر اعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کے اغراض و مقاصد پر رائے مانگی

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474977″ /]

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63اے کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ کو موقع دے رہا ہے ،آرٹیکل 63اے کے تحت ہارس ٹریڈنگ، موقع پرستی اور کرپشن ہمیشہ کیلئے ختم ہو سکیں،پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے اپنی جماعت نہیں ملک کی پیٹھ میں خنجر گھونپا،منحرف ارکان کو سزا دینا اسی طرح اہم ہے جیسے ملک کے غداروں کو دی جاتی ہے،

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

  • اپنے مطلب کیلئے قرآن میں تحریف،عمران خان کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    اپنے مطلب کیلئے قرآن میں تحریف،عمران خان کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    اپنے مطلب کیلئے قرآن میں تحریف،عمران خان کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف قرآن پاک میں تحریف پر مقدمے کی درخواست، پولیس نے لینے سے انکار کر دیاا

    اطلاعات کے مطابق کرائم فری کراچی کے چیئرمین منیب احمد ساحل کی ہدایت پر کرائم فری اینڈ بلڈ اورنگی کے صدر اقبال وارثی کی مقدمہ درج کرنے کےلئے دی گئی درخواست کو پولیس نے ریسیو کرنے سے انکارکر دیا، اقبال وارثی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جو کہ وزیراعظم بھی ہیں انہوں نے ایک جلسے میں قرآن کریم میں تحریف کی اپنے سیاسی فائدے کے لئے قرآن کریم کی آیت گھڑ ڈالی جس سے امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے،پولیس کا درخواست وصول کرنے سے انکار کرنا انتہائی افسوسناک ہے پولیس عمران خان نامی گستاخ قرآن پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 295سی کے تحت مقدمہ درج کرے۔ ہم ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کی حرمت کےلئے کٹ مریں گے مگر آنچ نہیں آنے دینگے

     

    اقبال وارثی کا کہنا ہے کہ اے آئی جی کمپلینٹ سیل میں درخواست دیدی ہے اگر چوبیس گھنٹے میں گستاخ پر مقدمہ درج نہ ہوا تو عدالت میں بائیس اے کی پٹیشن دائر کرینگے کوئی کسی بھی عہدے پر ہو اسے قرآن میں تحریف کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

    یاد رہے کہ عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اللہ نے قرآن میں لکھا ہوا کہ آپ جب دیکھ رہے ہیں کہ لوگ پیسے لے کر اپنے ضمیر بیچ رہے ہیں،،، اور کرپٹ لوگ پیسے لے کے گورنمنٹ گرا رہے ہیں،،، چوری کے پیسے پہ،،، تو عوام کے اوپر اللہ فرض کر دیتا ہے کہ بتاؤ کہ تم کدھر کھڑے ہو؟ ۔۔۔ اور عوام انشاء اللہ 27 تاریخ کو بتائے گی کہ وہ کدھر کھڑی ہے۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    بھارتی فوجی افسر نے کی جونیئر اہلکار کی بیوی سے زیادتی کی کوشش

    گیارہ سالہ لڑکی سے سگا باپ اور بھائی کرتے رہے پانچ برس تک گھناونا کام

    رات بھر زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں نرس کو سڑک پر ملزمان پھینک گئے

  • عدم اعتمادکےبعدعمران خان کی حکومت ختم ہوتےہی نوازشریف کی بیماریاں بھی ختم ہوجائیں گی:بڑا اعلان

    عدم اعتمادکےبعدعمران خان کی حکومت ختم ہوتےہی نوازشریف کی بیماریاں بھی ختم ہوجائیں گی:بڑا اعلان

    لاہور:لندن :عدم اعتماد کےبعد عمران خان کی حکومت ختم ہوتے ہی نوازشریف کی بیماریاں بھی ختم ہوجائیں گی:بڑا اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں سابق وزیراعظم نواز شریف ملک واپس آجائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق علاج کے لیے لندن جانے والے نوازشریف نے عدم اعتماد کامیاب ہونے پر وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے نوازشریف نے تیاری شروع کر دی ہے عدم اعتماد کامیاب ہونے پر نوازشریف اپریل کےآخر میں سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ مدینہ منورہ میں گزاریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے نوازشریف سعودی عرب سے براہ راست پاکستان آسکتے ہیں یا پھر دوبارہ کچھ روز کے لیے لندن قیام کر کے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان واپس آئیں گے۔

    نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی لندن پہنچ چکے ہیں جہاں وہ دیگر معالجین سے مشاورت کریں گے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے فیصلے سے اہلِ خانہ کے قریبی افراد اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

    نوازشریف کے ترجمان و سابق گورونر سندھ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونےکے بعد نوازشریف وطن آئیں گے اور اپنے خلاف عدالتی فیصلوں کا سامنا کریں گے۔

    محمد زبیر نے کہا کہ شہباز شریف وزیر اعظم بننے جارہے ہیں عمران خان اقلیتی حکومت چلارہے ہیں ان کے پاس اکثریت نہیں اخلاقی طورپرعمران خان چلے جائیں۔

    دوسری طرف اہل پاکستان نے ن لیگ کے سزا یافتہ سابق وزیراعظم کے اس اعلان پر کہا ہےکہ عجیب بات ہےکہ جب تک عمران خان کی حکومت تھی تو نوازشریف اس قدر بیمار تھے کہ وہ لندن سے 435 کلومیٹرتک سفرکرتے رہے ہیں اور جب پاکستان واپس آنے کی بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میں سخت بیمار ہوں ، شہریوں کا کہنا تھاکہ عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کی صورت میں ختم ہوتے ہی نوازشریف صحت مند ہوجائیں گے اور پھرپاکستان بھی پہنچ جائیں گے

  • او آئی سی اجلاس:وزیراعظم کا خیرمقدمی پیغام:مہمانوں کا استقبال شروع:پی ڈی ایم کی سیاست شروع

    او آئی سی اجلاس:وزیراعظم کا خیرمقدمی پیغام:مہمانوں کا استقبال شروع:پی ڈی ایم کی سیاست شروع

    اسلام آباد :او آئی سی اجلاس:وزیراعظم کا خیرمقدمی پیغام:مہمانوں کا استقبال شروع:پی ڈی ایم کی سیاست شروع،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے مہمانوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ 48 ویں او آئی سی وزرائےخارجہ کانفرنس کے لیے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، وفود اور مبصرین کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

     

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی عوام کیلئےآپ کی آمدباعث فخرہے وزرائےخارجہ کانفرنس کا موضوع ’’اتحاد، انصاف اور ترقی‘ ہے کانفرنس میں وسیع البنیاد موضوعات پر گفتگو ہو گی۔

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے مہمانان گرامی کے پاکستان آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے مصر کے وزیرخارجہ سامح شکری اسلام آباد پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر علامہ طاہر اشرفی نےمعزز مہمان کا استقبال کیا۔

    اسلام آباد ایئر پورٹ پر مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری اور علامہ طاہر اشرفی نے میڈیا سے گفتگو کی، طاہراشرفی نے کہا کہ معزز مہمان او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئےتشریف لائے ،انہیں خوش آمدید کہتاہوں۔

    رواں سال اجلاس کا موضوع "اتحاد،انصاف اور ترقی کیلئےشراکت داری کی تعمیر کے تحت”منعقد کیاجارہاہے، 57ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے اس سےقبل47اجلاس ہوچکےہیں، پاکستان مسلم امہ کا اہم ترین ملک اور یواین میں مسلمان ممالک کی موثر آواز ہے۔

    ادھر ذرائع کےمطابق وزیراعظم عالم اسلام کے رہنماوں کی استقبال کےلیے تیارہیں اور ان کو پاکستان آمد پرخوش آمدید کہہ رہے ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے خلاف اس اہم موقع پر دھمکیوں میں شدت آگئی ہے

  • کردار پرشک:ضمیرفروش ارکان اسمبلی سےموبائل بھی چھین لئےگئے:ن نہیں پی پی کاٹکٹ:موبلائزیشن شروع

    کردار پرشک:ضمیرفروش ارکان اسمبلی سےموبائل بھی چھین لئےگئے:ن نہیں پی پی کاٹکٹ:موبلائزیشن شروع

    سندھ ہاوس:کردار پرشک:ضمیرفروش ارکان اسمبلی سےموبائل بھی چھین لئےگئے،انتہائی بے بسی کےآثار،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ بے وفائی کرنے والے ارکان اسمبلی جن کوضمیرفروش کا نام بھی دیا جارہا ہے اس وقت اس عورت کی طرح زندگی گزار رہے ہیں جس پرشک کی وجہ سے اس کے گھروالے موبائل بھی چھین لیتے ہیں‌، بالکل ایسی ہی کیفیت اس وقت ان ضمیرفروش ارکان اسمبلی کودرپیش ہے

    معتبرذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان ارکان اسمبلی کے کردار پربھی ان لوگوں‌کو شک ہے جنہوں نے وفاداریاں خریدی ہیں اور وہ ان ارکان اسمبلی کو کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہے سوائے ان کے جو پہلے اجازت لیتے ہیں اور پھرجس سے بات کرنی ہواس کے نمبر کی ویری فکیشن کرتے ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ان ارکان اسمبلی کے موبائل فون سندھ ہاوس میں ایک اہم شخصیت کے پاس ہیں

    ادھر ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہےکہ ان ارکان اسمبلی کو ان کے گھروالوں سے بھی رابطہ کرنے کے لیے پہلے تصدیق کروانا پڑتی ہے ، اس کےساتھ ساتھ اس جگہ ایسی ڈیوائسز کا بھی استعمال کیا جارہا ہے جوہرآنے اور جانے والی کال کوریکارڈ کرتی ہیں اورپھریہ سارا ڈیٹا ذمہ داران تک شیئر کیا جاتا ہے

    ادھر سندھ ہاوس سے انتہائی ذمہ داران ذرئع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آصف علی زرداری پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو ن لیگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام حربے استعمال کررہے ہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری کی طرف سے بڑی بڑی پیشکشیں بھی جاری ہیں اور کہا گیا کہ پی پی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑیں اور الیکشن کے اخراجات بھی پی پی قیادت پیش کرے گی

    اس سلسلے میں جو کوششیں کی جارہی ہیں اس کےلیے وہ لوگ فرنٹ مین پر کام کررہےہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ لینے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا

    ادھر ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سندھ ہاوس میں موجود ارکان اسمبلی میں سےاکثروہ ہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں پی پی سے فائدہ لے کرووٹ پی پی سینیٹرز کو دیا ، ان کے فائدہ لینے کے ثبوت اور ویڈیوز بھی ان کے پاس ہیں اور وہ لوگ ان استمعال شدہ ممبران کو پرانے ثبوتوں کی وجہ سے بلیک میل کرکے اپنے کیمپ میں بٹھا رکھے ہیں

    ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 11 ارکان اسمبلی اگرعمران خان کے خلاف اعتماد کا ووٹ نہیں دیتے تو اگلے الیکشن میں یہ پی پی کی طرف سے انتخابات میں حصہ لیں گے ،

  • بھارت سے ٹرکوں میں افغانستان جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک

    بھارت سے ٹرکوں میں افغانستان جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک

    بھارتی پنجاب کے شہر پنجاب میں امرتسر کے قریب پاکستانی سرحد پر تجارت کے لئے آنے والے ٹرکوں میں منشیات، اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی نشاندہی کرنے والے 32 لاکھ ڈالرز مالیت کےاسکینرز گھٹیا اور غیر معیاری نکلے جب کہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں صلاحیت ہی نہیں کہ وہ ان ممنوعہ اشیاء کو ٹریس اور اسکین کر سکیں اور ان کی نشاندہی کرسکیں۔

    اس کے بعدپاکستان کے راستے افغانستان جانے والےٹرکوں میں لوڈ کیا جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک ہوگیا ہے۔ امرتسر سے پاک بھارت تعلقات اور تجارت کے حوالے سے کام کرنے والے سینیئر صحافی رویندر سنگھ روبن کی ایک رپورٹ کے مطابق اٹاری بارڈر پر فل باڈی ٹرک اسکینرز ستمبر 2021 میں لگائے گئے تھے اور ان کامقصد بھارت کے مختلف شہروں نے پاکستان اور پاکستان کے راستے دوسرے ممالک میں بھیجے جانے والے تجارتی سامان والے ٹرکوں میں منشیات اور ممنوعہ اشیاء کی نشاندہی کرنا تھا۔

    اس وقت کے وزیرمملکت برائے داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں لینڈ پورٹ اتھارٹی آف انڈیا اور سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس اینڈ کسٹمزحکام نے اسکینرز انسٹال کرنے کے جو معاہدے کئے وہ جدید ترین تقاضوں اور معیار کے مطابق نہیں تھے گو کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت بند ہے تاہم بھارت گندم اور ادویات کے نام پر امدادی سامان ٹرکوں کے ذریعےافغانستان بھیج رہا ہے لیکن غیر معیاری چیکنگ نظام کی نشاندہی کے بعد ان ٹرکوں کی چیکنگ کا نظام مشکوک ہو کر رہ گیا ہے۔

    بھارت اب تک آٹھ ہزار ٹن گندم اور دوسرا امدادی سامان پاکستان کے راستے افغانستان بھجوا چکا ہے جب اسی ہفتے مزید دو ہزار ٹن سامان افغانستان بھجوایا جا رہا ہے۔ 2021 میں ان اسکینرز کو لگانے سے پہلے تمام ٹرکوں کی تلاشی کے لئے اسٹاف مقرر کیا گیا تھا جو اب کام نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ بھارت نے یہی اسکینرز اٹاری واھگہ کے علاوہ پیٹراپول، راکساول، پونچھ، چکن دا باغ اور اڑی اسلام آباد میں پاکستان سے ملحقہ بارڈرز پر بھی لگانے کی منظوری دی تھی۔

  • ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اعتزاز احسن

    ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اعتزاز احسن

    لاہور:ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے اور کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور جو کچھ نہیں ہو رہا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا اور آرٹیکل 63 اے صرف اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے تاہم ان کا ووٹ پارلیمنٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن کے نااہل کرنے تک ووٹ ڈالنے والا ممبر رہتا ہے۔

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چند روز قبل ایک بڑا سنگین معاملہ سامنے آیا اور کہا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والا او آئی سی اجلاس کو کو روک دیں گے تاہم پھر حکومت نے بہت اچھا فیصلہ کیا کہ او آئی سی کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالنے سے گریز کیا۔

    پی پی رہنما نے مزید کہا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ چند روز قبل پی ٹی آئی کے رہنما راجہ ریاض کیا کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس 24 بندے موجود ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اتنی ٹکٹس نہیں ہیں جتنے بندے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو سودے بازی ہورہی ہے، آپ پیسے پر بک جاو یا پھر الیکشن ٹکٹ پر ، کہلائی گی تو یہ سودے بازی ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ضمیرفروشی سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے

    واضح رہے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کی حمایت کرنے پر پاکستان تحریک انصاف نے 14 ارکان قومی اسمبلی کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں جب کہ 63 اے کی تشریح کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس فائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔