Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    راولپنڈی: ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں سندھ ہاؤس میں موجود زیادہ پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رنگ روڈ لندن کی ایم 25 کی طرح ہے، نالہ لئی کا پراجیکٹ اگلے تین ہفتے میں لانچ کریں گے، راولپنڈی شہر پھیل گیا پلاننگ نہیں ہوئی، راولپنڈی کوماڈرن سٹی بنائیں گے، نالہ لئی کے ساتھ ہم نے ایک نیا پنڈی بنانا ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، شہرپھیلتے جا رہے ہیں، پچھلے سال چاربڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کوپہلی دفعہ پوری قیمت ملی اور ان کی پیداواربڑھی، ہم نے اپنی زرعی زمینوں کوبھی بچانا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خریدوفروخت کی سیاست پر کسی کو شرم نہیں آرہی، اس کوجمہوریت نہیں کہتے، سب کچھ کھلے عام ہورہا ہے، برطانیہ میں کوئی سیاست دان تصوربھی نہیں کرسکتا پیسے لیکر پارٹی بدل لے، اگر کوئی برطانیہ میں پیسے لے بھی لے تو اسے معاشرہ برداشت نہیں کرے گا، عوام کے خوف کی وجہ سے برطانیہ کا سیاست دان سندھ ہاؤس والی حرکت نہیں کرسکتا، ہمارے کارکن جذبات میں آکرایسا کیا، کارکنوں سے کہتا ہوں پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ضمیر خریدنے کے لیے چوری کے پیسوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، سندھ کی عوام کا چوری کے پیسے کو استعمال کیا جا رہا ہے، سندھ ہاؤس میں کونسا ایسا کام ہو رہا تھا اس وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا، اگرہمارے لوگ تنگ ہیں تو ان کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟ خریدوفروخت پوری قوم کے سامنے ہو رہی ہے، پاکستان کے لوگوں نے اس طرح کی سیاست کودیکھ لیا، خریدوفروخت کی سیاست کی وجہ سے پاکستان پیچھے چلا گیا۔

  • حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    لندن:لاہور::حکومت کے کسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت،پاکستان کے ایک بڑے نام معروف صحافی جن کی خبرکوہرکوئی مصدقہ اور معتبر جانتا ہے کا کہنا ہےکہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے والی سب سے بڑی جماعت ن لیگ لندن کے سربراہ نوازشریف نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اس کے بعد ضمیرفروشوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے

    سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے والی سب سے بڑی جماعت کو اپنے ساتھیوں‌ پر اعتماد نہیں ، خصوصا ان پر جواپنی عزت ، شہرت اور اپنی نسلوں کا مستقبل نوازشریف کی خاطرقربان کرچکے ہیں

    عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ نوازشریف نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دینے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو کسی قسم کا عہدہ نہ دیا جائے کیوں کہ وہ قابل اعتبار نہیں ہیں جو عمران خان کو دھوکہ دے سکتے ہیں وہ ہمیں بھینقصان پہنچا سکتے ہیں‌

     

     

    عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہےکہ نوازشریف کی طرف سے یہ رویہ پہلی مرتبہ نہیں اپنایا بلکہ نوازشریف اپنے ساتھیوں پر بھی اعتبار نہیں کرتے ،

    عدم اعتماد میں کامیابی کی صورت میں نئی بننے والی حکومت میں عمران خان کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کوعہدے نہ دینے کے نوازشریف کے حکم کے بعد سوشل میڈیا پرضمیرفروش ارکان اسمبلی کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا ہے ،اہل پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے بے ضمیر ہونے کی قدرنوازشریف کے بیان سے تلاش کریں‌ کہ جس نے ایک ٹشوکی طرح استعمال کرکے پھراسے پھینکنے کا حکم دیا ہے

    یاد رہے کہ نوازشریف کی طرف سے یہ بھی حکم دیاگیا ہے کہ چوہدری برادران پربھی اعتبار نہ کرنا یہ بھی کسی سے وفا نہیں‌ کرتے اور یہ اپنے مفاد کی خاطر ن لیگ کو پھرسبق سکھا سکتے ہیں

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ پارٹی رہنماوں‌ نے ان سے درخواست کی ہے کہ منحرف ہونے والے پی ٹی آئی ممبران سے درگزر کریں وہ اپوزیش کے ہاتھوں ڈی ٹریک ہوگئے ہیں اور اگر وہ اپنے گھرکو لوٹ آتے ہیں تو ان کو باور نہ کرانا یہی ایک بہادر انسان کی خوبی ہے

  • پی ڈی ایم قیادت کاصدر مملکت کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ

    پی ڈی ایم قیادت کاصدر مملکت کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فورا” بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: باخبر ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے، جو وفاقی دارالحکومت کے سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے یقینی نظر آرہا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    اطلاعات کے مطابق مواخذے کی تحریک دائر کی جائے گی کیونکہ ڈاکٹر علوی کے خلاف مواخذے کے لیے کافی مواد موجود ہے اس سلسلہ میں تیاری کے لئے پی ڈی ایم کی لیگل کمیٹی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    تحریک انصاف کی ناراض اراکین کو منانے کے لیے کوششیں تیز

    برٹانیکا کے مطابق، عام قانون میں مواخذہ ایک قانون ساز ادارے کی طرف سے ایک عوامی اہلکار کی طرف سے سنگین بدانتظامی کو دور کرنے کے لیے قائم کی جانے والی کارروائی ہے۔ پاکستان کے سیاسی پس منظر کو دیکھتے ہوئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کی آڑ میں صدر کو ان کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہٹایا جا سکتا ہے۔

    ارکان قومی اسمبلی پر حملےعمران نیازی کی ملک کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کی سازش ہے،شہباز شریف

    باخبر ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کی قانونی کمیٹی کو مواخذے کی تحریک کی تیاری شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ پی ڈی ایم کی قیادت نے دو دن پہلے لیا تھا۔

    مواخذہ کیسے ہوتا ہے؟
    مواخذہ ایک قانونی طریقہ کار ہے جس کا مقصد سینئر عہدیداروں کو سنگین غلط کاموں کے لئے جوابدہ ٹھہرانا ہے اس کا آغاز صدر ، وزراء ، گورنرز ، ججوں اور حکومت کے ایگزیکٹو برانچ کے دیگر سرکاری ملازمین کے خلاف کیا جاسکتا ہے حتمی فیصلہ ایوان بالا یا ریاست کی اعلی ترین عدالت کرتی ہے جہاں بحث اور رائے دہی ہوتی ہے کہ آیا صدر کے خلاف مواخذے کی منظوری یا "مواخذے کے متن’ کی منظوری دی جائے؟سادہ اکثریت کی رائے دہی پر مواخذے کی منظوری ہوتی ہے ایسی صورت میں جب کوئی اہلکار قصوروار ثابت ہوتا ہے تو ، اسے اپنے عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

    ‏کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا،ترجمان سپریم کورٹ کی تردید

  • کے پی کے میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کااعلان

    کے پی کے میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کااعلان

    سندھ ہاؤس حملہ افٹرشاکس ، پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا نے بھرپور جوابی وارکر دیا-

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق مرکزکےبعد صوبہ خیبر پختو نخوا میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کااعلان کر دیا گیا-

    تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے کااعلان کردیا گیا ہے یہ اعلان پی پی پی کے صوبائی صدر نجم الدین خان نے لواری ہاؤس دیر میں نیوزکانفرنس کے دوران کیا-

    اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری شجاع خان اور سیکرٹری اطلاعات امجد آفریدی بھی موجود تھے نجم الدین نے پی ٹی آئی کے 45 ایم پی ایز کی حمایت حاصل کرنے کادعوی کیا ہے-

    نجم الدین خان کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن ایک پیج پر ہے-

    دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فورا” بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے، جو وفاقی دارالحکومت کے سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے یقینی نظر آرہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مواخذے کی تحریک دائر کی جائے گی کیونکہ ڈاکٹر علوی کے خلاف مواخذے کے لیے کافی مواد موجود ہے اس سلسلہ میں تیاری کے لئے پی ڈی ایم کی لیگل کمیٹی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

  • PTIممبران کی خریداری :ن لیگ میں انتشار،نوازشریف کی سوچ پراظہارافسوس:شدیداختلافات:اجلاس ملتوی کرنا پڑگیا

    PTIممبران کی خریداری :ن لیگ میں انتشار،نوازشریف کی سوچ پراظہارافسوس:شدیداختلافات:اجلاس ملتوی کرنا پڑگیا

    اسلام آباد:پی ٹی آئی ممبران کی خریداری پر ن لیگ میں انتشار،نوجوان اورپڑھا لکھا طبقہ ن لیگ سے نفرت کرنے لگا ہے:شدیداختلافات اجلاس ملتوی ،اطلاعات کے مطابق ہارس ٹریڈنگ معاملے پر خود ن لیگ میں انتشار پیدا ہوگیا ، کارکنوں کے ردعمل بچنے کیلیے آج ہونیوالا مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ملتوی کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ضمیر فروشوں کو خریدنے کے معاملے پر مسلم لیگ ن اندرونی انتشار کا شکار ہوگئی ہے اورکئی سوالات اٹھنے لگے ہیں جسکے باعث ن لیگ کی مرکزی قیادت نے آج ہونیوالا پارٹی کا جنرل کونسل کا اجلاس ملتوی کردیا ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اجلاس میں یہ انکشاف ہوا ہےکہ ن لیگ قائدین کی اس گھٹیا حرکت کی وجہ سے نوجوانوں اور پڑھے لکھے طبقے میں شدید نفرت پائی جاتی ہے اور اس اجلاس میں یہ برملا کیا گیا ہےکہ اگراب عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے ارکان کی خریدوفروخت وقتی طور پر کام آسکتی ہے لیکن عمران خان کا بیانیہ اس قدر مضبوط اور کامیاب ہوگا کہ اگلے الیکشن میں ن لیگ کو تباہ کرکے رکھ دے گا ،

    ذرائع نے بتایا مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے وفاداروں کی جگہ ضمیر فروشوں کو سے ٹکٹ دینے کے وعدے پر ن لیگی اراکین میں تشویش پھیل گئی ہے اور لوگ اپنے ہم خیال لوگوں سے اس کا کھل کر اظہار کررہے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس جو کہ آج ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے فارم ہاؤس پر ہونا تھی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے ان ہی سوالوں اور کارکنوں کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلیے اجلاس کو ملتوی کردیا ہے اور اس کی اطلاع متعلقہ رہنماؤں کو بھی دے دی گئی ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کو یہ خوف ہے کہ اجلاس میں اس حوالے سے جو سوالات کیے جائیں گے ان کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں ہوں گے، کیونکہ اس سے قبل بھی سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ساتھیوں کو پارٹی میں لینے پر ن لیگ کے دیرینہ کارکنوں نے سوالات اٹھائے تھے تو اب کیسے ممکن تھا کہ اس پر کارکنوں کا کوئی ردعمل نہ آئے۔

    اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی نے جنرل کونسل اجلاس وکنونشن منسوخ کیاہے، جس کی اگلی تاریخ کااعلان بعدمیں کیاجائیگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ پی ٹی آئی ایم این اے ملک نواب شیر وسیر کو نواز شریف نے خود آئندہ الیکشن میں ٹکٹ کی گارنٹی دی۔

  • منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری

    لاہور: منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے منحرف 13 ارکان قومی اسمبلی کے شو کاز نوٹسز پر دستخط کر دیے۔

    ذرائع کے مطابق شوکاز نوٹس میں منحرف ارکان سے وضاحت طلب کی گئی ہے، ارکان کو 7 روز کے اندر معافی مانگ کر غیر مشروط طور پر پارٹی میں واپس آنے کی مہلت دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق 7 روز تک جواب نہ دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ منحرف ارکان کو آج شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔

    یہ واضح نہیں کہ شوکاز کن 13 ارکارن کو جاری کیے جائیں گے۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں 24 کے قریب پی ٹی آئی ارکان موجود ہیں۔

    ادھر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور دونوں جانب سے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے، اسی تناظر میں ترین گروپ میں بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں

    ذرائع کے مطابق لاہور میں ترین گروپ کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں جہانگیرترین نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، ترین گروپ نے جہانگیرترین کو موجودہ سیاسی صورتحال پر بریفنگ بھی دی جبکہ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    مشاورتی اجلاس میں حمزہ شہباز اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کے بعد تمام تر معاملات کا جائزہ لیا گیا جبکہ ترین گروپ کی اکثریت نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی حمایت کی۔

    ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ ترین گروپ نے اجلاس میں کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے، مائنس بزدار اعلان پر قائم ہیں۔اجلاس میں ترین گروپ نے حتمی فیصلے کا اختیار جہانگیرترین کو دے دیا ہے۔

  • کپتان OIC کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبر ملے گی:ان شااللہ کپتان ہی جیتے گا:شاہ محمود قریشی

    کپتان OIC کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبر ملے گی:ان شااللہ کپتان ہی جیتے گا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :کپتان اوآئی سی کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبردےگا:شاہ محمود قریشی کا اعلان سن کراپوزیشن حیران ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی،وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد حسین چوہدری اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس نے ایک بارپھرحکومت کوسنبھلتے ہوئے دکھایا ہے

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،اس اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہم عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کریں گے اور انہیں انشاء اللہ شکست دیں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں اس ابہام کو دور کرنا چاہتا ہوں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، کسی طرح کی رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے،یہ بھی واضح کر دوں کہ سندھ میں گورنر راج کا نہ کوئی ارادہ تھا نہ ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعید غنی صاحب اور بلاول بیٹا بے جا پریشان نہ ہوں، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے اتحادیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں تسلسل سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے اتحادی ہمیں نہیں چھوڑیں گے،میں چوہدری صاحبان کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ جذباتی نہیں سیاسی فیصلے کرتے ہیں، انہیں علم ہے کہ نون لیگ ان کیلئے کتنی گنجائش رکھتی ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2018 میں ان کے راستے میں روڑے نون لیگ نے اٹکائے،

    وزیرخارجہ نے کہا کہ پنجاب میں اکثریت نون لیگ کی ہے وہ جب چاہیں کرسی کھینچ سکتے ہیں، سیاسی سوچ رکھنے والے جانتے ہیں کہ چوھدری صاحبان وضع دار لوگ ہیں کوئی غیر سیاسی فیصلہ نہیں کریں گے،کراچی میں پیپلز پارٹی نے جو ایم کیو ایم کے ساتھ سلوک کیا وہ سب کے علم میں ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم والے سیاسی لوگ ہیں وہ پچھلے چار سال میں ایم کیو ایم کےساتھ، پیپلز پارٹی کے سلوک کو نہیں بھولیں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو سندھ ہاؤس میں ہیں سیاسی لوگ ہیں انہیں علم ہے کہ آئین اور قانون کا تقاضا کیا ہے، وہ بلے کے نشان پر جیت کر آئے ہیں وہ کسی مخالف کی گود میں نہیں بیٹھیں گے، نون لیگ نے ماضی میں کئی لوگوں سے ٹکٹوں کے وعدے کیے جو ایفا نہ ہوئے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ ہمارے کولیگ ہیں ہم ان سے کہیں گے کہ وہ سیاسی حریفوں کی گود میں نہ بیٹھیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ میں ان سے کہوں گا کہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں، آج پولیٹیکل کمیٹی نے وزیر اعظم کی صدارت میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر کوئی اس اپیل کے باوجود منحرف ہوتا ہے تو اسے شو کاز نوٹس جاری کیا جائے گا،میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف میں مائینس ون کی کوئی گنجائش نہیں ہے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں جب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے ادوار میں مائنس ون کی بات کی گئی تو کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اس پر اتفاق کیا، آج شہباز شریف، نواز شریف کی جگہ نہیں لے سکتا،عمران خان بانی ہیں انہوں نے تحریک انصاف کا پودا لگایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آج الحمد للہ چار حکومتیں انہوں نے قائم کی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سندھ میں بھی تبدیلی کی ہوا دیکھ کر آ رہا ہوں، اپوزیشن کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ افغانستان کی صورتحال کیا ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان ابھی تک حادثاتی طور پر چلائے گئے میزائل کی کوئی توجیع نہیں دے سکا،ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی صورتحال کے باعث معیشتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کیا اس صورت حال میں ملک عدم استحکام کا متحمل ہو سکتا ہے؟ میں آج اپنے دوستوں کو بھی کہوں گا کہ اپنی گفتگو میں پارلیمانی لہجہ استعمال کریں اور الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں، آج پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں سب کی متفقہ رائے تھی کہ نہ ہمیں گورنر راج کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ارادہ ہے، شاہ جی کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک ان کا آئینی حق ہے ہم مقابلہ کریں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا تصادم کا نہ ارادہ تھا نہ ہے نہ ہو گا،ابھی پیپلز پارٹی والے سرکاری وسائل پر مارچ لیکر اسلام آباد آئے ہم نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی،

  • اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے

    اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے

    اسلام آباد :اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا۔ ریڈزون کے باہر ایک کلومیٹر تک کے رقبے کو بھی ریڈزون میں شامل کردیا گیا ضلعی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈزون میں ایمبیسی روڈ، ساؤتھ یونیورسٹی روڈ، خیابان اقبال،شاہراہ سہروردی، سیرینا چوک، ڈھوکری چوک، شامل ہیں۔ دیگر علاقوں میں مری روڈتھرڈ ایونیو، خیابان اقبال کا ساؤتھ ایریا، چائنہ ایمبیسی کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو ریڈزون میں ہمہ وقت ریڈالرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ریڈزون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، دفعہ 144 کو مزید دوماہ کیلئے لاگو کردیا گیا۔

    ادھر وزیرداخلہ شیخ رشید نے پی ٹی آئی کارکنوں کی سندھ ہاؤس میں داخلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی افسوس ناک بات ہے، یہ پولیس کی کوتاہی ہے اور آئی جی سے کہا ہے کہ ان سب کوگرفتار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کوتاہی اور غیرذمہ داری کی ہے، ان کے خلاف نوٹس لیں، ابھی تو 20 سے 25 دن ہیں، اگر ملک اسی طرح آگے چلتا رہا تو کل پرسوں او آئی سی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا، یہ تو ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایک ہزار رینجرز اور طلب کیے اور ملک میں حالات اور زیادہ خراب ہوئے تو 10 سے 15 دن بعد 245 کے تحت فوج بھی طلب کرسکتے ہیں کیونکہ ملک کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔

  • چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    بیجنگ :چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری،اطلاعات کے مطابق چین میں کورونا بے قابو ہوگیا جس کے باعث دنیا بھر میں پھر نئی لہر کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کی شرح 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اسرائیل میں بھی کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جس کے بعد امریکا اور یورپ پر بھی کورونا کی نئی لہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    چین میں کورونا کی صورت حال بے قابو ہو گئی ہےاور کورونا پابندیوں سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہیں۔چین کو فروری 2020 کے بعد سے اب تک کورونا کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے، یہاں چند دنوں سے روزانہ 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    چین کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا سمیت افریقی اور یورپی ممالک میں بھی کورونا کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی پورٹ کے مطابق چین اور جنوبی کوریا میں کورونا کے کیسز میں 25 فیصد اور اموات میں 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ افریقا میں بھی نئے کیسز میں 12 فیصد اور اموات میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ میں نئے کیسز میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے تاہم وہاں ہلاکتوں کی تعداد مستحکم ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور برطانیہ میں کیسز بڑھنے لگے ہیں جس کے باعث یورپ میں کورونا کی ایک اور لہر کا امکان بڑھ گیا ہے۔

  • اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توزرداری،نوازاورفضل الرحمن    سب سےپہلےکیاکریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنےلگیں

    اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توزرداری،نوازاورفضل الرحمن سب سےپہلےکیاکریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنےلگیں

    لاہور:اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی تونوازشریف،زرداری اورفضل الرحمن سب سے پہلے کیا کریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنے لگیں،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں حکومت اور حکومت کے مخالفین کے درمیان سخت مقابلہ ہے اوروزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں

    دوسری طرف اہم ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں اپوزیشن اتحاد حکومت میں‌آکرسب سے پہلے کیا فیصلے اور اقدامات کریں گے اس حوالے سے نوازشریف ، آصف علی زراری اور فضل الرحمن کے درمیان معاملات طئے ہوگئے ہیں‌

    اس حوالے سے یہ مصدقہ خبریں اپوزیشن اتحاد کے ذرائع سے ہی آنا شروع ہوگئی ہیں کہ نوازشریف ،آصف علی زرداری اور فضل الرحمن کے درمیان یہ طئے ہوا ہے کہ سب سے پہلے وزارت داخلہ میں‌ آپریشن کیا جائے گا اور اہم پوسٹوں پر موجود ایسے افراد کو ہٹایا جائے گا جوسیکورٹی ادارے کے بڑے قریب جانے جاتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ یہ ٹرائیکا اس حوالے سے بھی ہوم ورک مکمل کرچکا ہے اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دوران جو افسران نوازشریف،آصف علی زرداری اور دیگراتحادیوں‌ کے بہت قریب جانے جاتے تھے اور یہ افراد اس دوران اہم راز کی باتیں بھی ان رہنماوں‌ تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں ان کو اہم ذمہ داریاں دی جائیں گی

    اس کے ساتھ ساتھ ، ایف آئی اے ، آئی بی ، آئی جیز،ریونیوبورڈ ، ایف بی آر، ایل ڈی اے ،سی ڈی اے ،سٹیٹ بینک ، پی ٹی وی ، سیکورٹی ایکسچینج سمیت اہم سویلین اداروں کے سربراہان سمیت دیگرافسران کو ہٹا کران کی جگہ اپنے بندے لائیں جائیں گے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم موقع پر سدا بہارافسران نے رابطے بھی شروع کردہئے ہیں‌

    ادھر ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے وزارت داخلہ کے بعد وزارت خارجہ میں افسران کو دربدرکرکے ان کی جگہ اپنے بندے لائے جائیں گے جو نوازشریف کے بہت قریب جانے جاتے ہیں اور اس حوالے سے خطے کے ہمسائیہ ممالک خصوصا بھارت اور ایران کے ساتھ بہترین تعلقات کے ماہر مانے جاتے ہیں‌،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے اس کے بعد جب بڑے بڑے اداروں کے سربراہان تبدیل کئے جائیں گےتوپھرقومی سلامتی کے مقتدر اداروں کے اندر موبلائزیشن شروع کی جائے گی اور ایسے افسران کی کی تلاش کی جائے گی جو اپنا مستقبل بہتر کرنے کی خواہش رکھتے ہوں اور پھران کوکسی مناسب حکمت عملی سے دیگر اعلیٰ افسران کی جگہ ری پلیس کیا جائے گا ، اس حوالے سے ن لیگی حلقوں‌ کے اندر کچھ ایسی باتیں ہورہی ہیں کہ انہیں اندر سے کچھ مہربانوں کی شفقت حاصل ہے ، اس گفتگو کے تناظرمیں یہ چیز سامنے آرہی ہے کہ اگلی آنے والی حکومت سب سے پہلے اپنے راستے میں حائل قانونی اور آئینی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بہت کچھ سوچ چکی ہے

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو پھرالیکشن کمیشن کے چیف کی مدد سے آنے والے انتحابات میں بہت زیادہ اپنے مفادات کے تحت اقدامات کیے جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والی حکومت پچھلی حکومت کی الیکشن کے حوالے سے کی گئی قانونی ترجٰیحات کو تبدیل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے بڑوں کی مدد سے ترمیم کریں‌

    ادھر اس حوالے سے اہم خبریہ بھی ہے کہ شہبازشریف ، نوازشریف ، حمزہ شہباز سمیت دیگرن لیگی رہنماوں کومعصوم عن الخطا قرار دیئے کے لیے احتساب عدالتوں پراثراندازہونے کی کامیاب کارروائی کی جائے گی جس کے لیے اہم ہوم ورک مکمل کرلیا ہے

    اس کےساتھ ساتھ آنے والی حکومت میڈیا کے ذریعے عوام الناس کے ردعمل کو کنٹرول کرنے کے لیے مریم نواز کی مشاورت سے ایک فریم ورک تیار کررہی ہے جس میں عمران خان کے خلاف عوامی ردعمل کوبرقرار رکھنے اور آنے والی حکومت سے توجہ ہٹانے کے لیے سوشل میڈیا ٹیموں کی سرپرستی بھی کی جائے گی

    گورنرز بھی تبدیل کیے جانے کا امکان ہے اور سب سے خطرناک تبدیلی یہ ہےکہ یہ ترائیکا پاکستان کی سلامتی کے اداروں میں ہونے والے تقرروتبادلے میں بھی خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اثرانداز ہونے کی کوشش کرے گا اور یہ بات خفیہ نہیں رہی بلکہ اس حوالے سے ان رہنماوں کے اجلاسوں میں کھلے عام بات ہونا شروع ہوگئی ہے