Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    اسلام آباد : اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی، فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔

    عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی ۔ آرٹیکل 63 اے پر اس فیصلے کا اثر نہیں ہو گا پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا عدالت نے نو اپریل کو اجلاس بلانے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جائے ۔چیف جسٹس نے فیصلہ سنایا کہ ہمارا فیصلہ متفقہ رائے سے ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے،

    فیصلے میں کہا گیا کہ رولنگ 3 اپریل کو دی گئی، جن لوگوں نے ریکوزیشن دیا تھا انہیں نوٹس دیئے، جن لوگوں نے ریکوزیشن دی تھی انہیں نوٹس دیئے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین کے منافی ہے، تحریک عدم اعتماد زیرالتوا رہے گی،قومی اسمبلی توڑنا بھی خلاف قانون تھا، قومی اسمبلی پرانی پوزیشن پر بحال ہوگی، وفاقی کابینہ عہدوں پربحال، قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا بھی غیرآئینی قرار دے دیا گیا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ 9اپریل کو دن ساڑھے 10 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے، قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان عدم اعتماد پر ووٹ کا سٹ کرسکیں گے، آرٹیکل 63 کے نفاذپر عدالتی فیصلہ اثر انداز نہ ہوگا۔فیصلہ سنانے کے بعد ججز کمرہ عدالت سے چلے گئے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”481429″ /]

    سپریم کورٹ فیصلے کے اہم نکات

    عدالت عظمٰی کے پانچ ججوں نے اپنے مختصر فیصلے کے 13 پیراز میں کیا لکھا ہے آئیے دیکھتے ہیں پیراوائز فیصلے میں کیا بھی ہے
    1-پیرا نمبر 1 میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دے دی۔
    2-پیرا نمبر 2 میں تحریک عدم اعتماد کو زیر التواء قرار دیا۔
    3-پیرا نمبر 3 میں لکھا ہے کہ جب تحریک عدم اعتماد زیر التواء ہو تو وزیر اعظم صدر جو اسمبلی توڑنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔
    4-پیرا نمبر 4 میں لکھا ہے کہ صدر کا 3 اپریل کو اسمبلی توڑنے کا آرڈر منسوخ کیا جاتا ہے۔
    5-پیرا نمبر 5 میں لکھا ہے کہ چونکہ صدر نے اسمبلی غلط مشورے پہ توڑی اور وہ حکم منسوخ ہو گیا لہذا اسمبلی اپنی پہلی حالت میں موجود ہے ۔
    6-پیرا نمبر 6 میں لکھا ہے کہ صدر کی طرف سے نگران حکومت اور عام انتخابات کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کالعدم کیے جاتے ہیں۔
    7-پیرا نمبر 7 میں لکھا ہے کہ وزیراعظم انکی حکومت اور تمام وزراء کو انکے عہدے پہ 3اپریل کی حالت پہ بحال کیا جاتا ہے۔
    8-پیرا نمبر 8 میں لکھا ہے کہ سپیکر کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پہ کاروائی کے لیے اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی منسوخی یا ملتوی کرنے کے تمام احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ایسے احکامات منسوخ کیے جاتے ہیں ۔
    9-پیرا نمبر 9 میں لکھا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو صبح ساڑھے دس بجے سے بچے سے قبل بلا کر اس پہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کرائی جائے۔
    10-پیرا نمبر 10 میں لکھا ہے کہ سپیکر آئین کے تحت اس وقت تک اجلاس ملتوی نہیں کر سکتے جب تک تحریک عدم اعتماد یا تو ناکام ہو جائے دوسری صورت میں جب وہ کامیاب ہو جائے تو قاید ایوان کے انتخاب کے بعد اجلاس ملتوی کیاجائے گا۔
    11-پیرا نمبر 11 میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کے لیے تمام ممبران کو سہولت فراہم کرے گی اور کوئی ایسا عمل نہیں کرے گی جس سے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دے گی اور اٹارنی جنرل کی طرف سے کرائی گئی یقین دھانی پہ عمل کرے گی۔
    12-پیرا نمبر 12 میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 63-A کے حوالے سے کوئی آرڈر نہیں ہے اور جو بھی اس ضمن میں آئے گا اسکی نااہلی کا معاملہ قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔چاہے وہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ میں حصہ لے یا وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹنگ میں حصہ لے۔
    13-پیرا نمبر 13میں لکھا ہے کہ یہ حکم اس حکم کا تسلسل ہے جس کے تحت صدر اور وزیراعظم کے تمام احکامات کو اس ازخود نوٹس کے فیصلے کے تابع کیا گیا تھا۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نوے دن میں الیکشن کمیشن کروانے کے پابند ہیں تاہم حلقہ بندیوں کی وجہ سے سات ماہ چاہیے عدالت نے کہا کہ ملک بھر میں حلقہ بندیاں کروانی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ملک بھر میں کروانی ہیں

    ‏سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل عدالت کی سیکیورٹی بڑھادی گئی تھی ۔ایف سی اور پولیس کی سیکیورٹی نے عدالت کے اندر اور باہر اطراف کی سڑکوں پر غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگادی۔آئی جی اسلام آباد بھی خود عدالت پہنچ گئے۔مشکوک افراد کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے ادھر رضا ربانی، فواد چودھری، بابر اعواں،فیصل جاوید،شیری رحمان، نیئر بخاری، خرم دستگیر، اعظم نزیر تارڑ سمیت کئی اہم رہنما سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ‏غیر متوقع طور پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ فیصلہ سپریم کورٹ میں فیصلہ سنانے سے پہلے کمرہ عدالت نمبر 1 پہنچ گئے ،
    یاد رہےکہ اس سے پہلے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات نظر آ رہی ہے کہ رولنگ غلط ہے، دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا، قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے، قومی اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ رات کو نجی ہوٹل میں تمام ایم پی ایز نے حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنا دیا، سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے، حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے، آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے، پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں۔

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے، کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے ؟ ن لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں، عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں ؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔ انہوں نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹا دیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں ؟ جس پر وکیل صدر مملکت علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ ہوگا ؟ کیا عدالت آئین کی محافظ نہیں ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی ؟ کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے ؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، پارلیمان ناکام ہو جائے تو معاملہ عوام کے پاس ہی جاتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا ؟ اس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ اگر ججز کے آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے ؟ جیسے پارلیمنٹ مداخلت نہیں کرسکتی ویسے عدلیہ بھی نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت کی تشکیل کا عمل پارلیمان کا اندرونی معاملہ ہے ؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ حکومت کی تشکیل اور اسمبلی کی تحلیل کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے، وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد دونوں کا جائزہ عدالت نہیں لے سکتی۔

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر نے جونیجو کیس فیصلے کا حوالہ دے دیا۔ علی ظفر نے کہا کہ محمد خان جونیجو کی حکومت کو ختم کیا گیا، عدالت نے جونیجو کی حکومت کے خاتمہ کو غیر آینی قرار دیا، عدالت نے اسمبلی کے خاتمہ کے بعد اقدامات کو نہیں چھیڑا۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ہمارے سامنے معاملہ عدم اعتماد کا ہے، عدم اعتماد کے بعد رولنگ آئی، اس ایشو کو ایڈریس کریں۔ علی ظفر نے کہا کہ یہاں بھی اسمبلی تحلیل کر کے الیکشن کا اعلان کر

  • ایلیٹ کلاس اورعوام کیلئےالگ پاکستان بدقسمتی ہے:اس سےاحساس محرومی بڑھےگا: وزیراعظم

    ایلیٹ کلاس اورعوام کیلئےالگ پاکستان بدقسمتی ہے:اس سےاحساس محرومی بڑھےگا: وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرا وژن اسلامی فلاحی ریاست ہے، فلاحی ریاست کے قیام سے اللہ کی برکت آتی ہے، ایلیٹ کلاس اور عوام کیلئے الگ پاکستان بدقسمتی، ہم وہ کام کر رہے ہیں جو ریاست کو کرنا چاہے۔

    ایمرجنسی ہیلپ لائن911 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایمرجینسی ہیلپ لائن بڑا منصوبہ ہے، ایسے منصوبوں پر تمام صوبوں کو ایک ہی پیج پر کھڑا ہونا چاہیے، مجھے ہیلتھ کارڈ پر بڑی خوشی ہے،

     

    بدقسمتی سے ابھی تک سندھ کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ جاری نہیں کیا گیا، ہیلتھ کارڈ کے ذریعے غریب خاندان 10 لاکھ تک اپنا علاج کرا سکتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب پاکستان بھی بڑا زبردست پروگرام ہے، 75 سال بعد یکساں نصاب ہم نے شروع کیا، یکساں نصاب 70 سال پہلے شروع ہونا تھا، ہیلتھ کارڈ غریب لوگوں کے پاس بڑی سہولت ہے، غریب کسی بھی مہنگے ہسپتال سے علاج کرا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کی زندگی بہتر بنانا اور آسانیاں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے، بھارت میں چھوٹا سا طبقہ امیر اور باقی غریبوں کا سمندر ہے، چین نے پہلے 70 کروڑ غریب لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکالا، چین نے ریاست مدینہ کے ماڈل کو فالو کیا، ہم ایلیٹ سسٹم کو توڑیں گے، پاکستان میں سب سہولیات ایلیٹ کلاس کو ملتی ہے۔

     

  • مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    ق لیگ کے سربراہ، سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں جو ہوا اسمبلیوں میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں،ایسے مسائل کو حل کرنے کا طریقہ بھی ہوتا ہے،

    چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے پنجاب اسمبلی میں توڑ پھوڑ کوجارحانہ انداز میں پیش کیا ہے، مولانا قومی اسمبلی فلور پر اپنے والد مفتی محمود کے ساتھ کئے جانے والے بہیمانہ سلوک کو یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا وہ زخمی بھی ہوئے تھے، اس طرح کا کوئی واقعہ پنجاب اسمبلی میں پیش نہیں آیا،ن لیگی ممبران نے اسمبلی میں نیا فرنیچر، مائیک سسٹم، آئی ٹی سسٹم تباہ کر دیا،جب تک ہال کی مرمت نہیں کی جاتی ایوان اجلاس کرنے کے قابل نہیں، پانچ مرتبہ اسمبلی ممبر رہا، بڑے واقعات ہو جاتے ہیں یہ تو معمولی بات ہے، ممبران کو اپنے لیڈروں کی اس حد تک جا کر اطاعت نہیں کرنی چاہیے لیڈر اپنے مقصد کیلئے ان سے دوسرے ممبران کو گالیاں دلواتے ہیں، نوجوان ارکان اسمبلی ایسے ناجائز حکم ماننے کے بجائے اپنی مثبت سوچ اور ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

     

  • انار کلی بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد گرفتار،کئے اہم انکشاف

    انار کلی بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد گرفتار،کئے اہم انکشاف

    انار کلی بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد گرفتار،کئے اہم انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے انار کلی میں ہونیوالے بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    دہشت گرد کو گرفتاری کے بعد سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے،دہشت گرد کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، دہشت گرد لاہور میں ٹرک اڈے پر ملازم تھا اور 20 جنوری کو انار کلی میں بم دھماکے کے بعد سے روپوش تھا، تحقیقاتی ادارے دہشت گرد کی تلاش میں تھیں اور سرچ آپریشن جاری رکھا گیا جس کے بعد دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ، دھماکے میں استعمال ہونے والا بارودی مواد بلوچستان سے ٹرک کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا تھا ۔

    واضح رہے کہ 20 جنوری کو لاہور میں دھماکہ ہوا تھا، انار کلی بازار میں دھماکے سے خوف و ہراس پھیل گیا تھا ، دھماکے کے نیتجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 26 افراد زخمی ہوئے تھے پولیس کا کہنا تھا کہ انار کلی بازار دھماکے کامقدمہ تھانا سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا تھا، مقدمہ ایس ایچ او تھانا سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمےمیں دہشت گردی، ایکسپلوزوایکٹ، 302، 324 ، دیگر دفعات لگائی گئی ہیں دھماکے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کا آغاز کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے دہشتگرد کو ٹریس کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ٹرک اڈے تک فوٹیج ملی تھیں اس کے بعد فوٹیج نہ مل سکیں اور آج سیکیورٹی اداروں نے دہشتگرد کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کیلئے سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا ہے

    لاہور انارکلی دھماکہ، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری کی قبول،الرٹ جاری ہوا تھا مگر جگہ نہیں پتہ تھی،کمشنر لاہور

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    لاہور دھماکہ، جاں بحق اور زخمی افراد کے ناموں کی فہرست جاری

    انار کلی دھماکہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے دہشت گرد کی شناخت ہو گئی

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    انار کلی بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد ہلاک

  • ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،عدالت

    ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا آرڈیننس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سے زیر سماعت تمام کیسز میں رپورٹ طلب کر لی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے تمام کیسز کی رپورٹ کل عدالت میں جمع کرائیں ،کون کون سے کیس میں ایف آئی اے کی رپورٹ جمع ہو گئی ہے، دیگر کیسز میں ایف آئی اے نے جواب جمع کیوں نہیں کرایا،ایف آئی اے کل تمام کیسز میں جواب جمع کرائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 میں ریپوٹیشن کے علاوہ دیگر بھی چیزیں ہیں، اگر کسی کی فیملی کی تصویریں اجازت کے بغیر شیئر کر دی جائیں تو وہ سنجیدہ معاملہ ہے، سوشل میڈیا میں کسی کو بہکایا اور دھمکایا جائے تو وہ بھی اسی میں آتا ہے،عثمان وڑائچ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس کے لئے الگ سے قانون موجود ہے،عدالت نے کہا کہ یہ تمام کیسز بھی اسی سیکشن کے تحت آتے ہیں، اس عدالت کے سامنے جتنے کیسز ہیں وہ صرف پبلک آفس ہولڈرز کے کیوں ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے صرف پبلک آفس ہولڈرز کے کیسز ہونگے، ان کے علاوہ مزید بھی ہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تو پھر پبلک آفس ہولڈرز کے کیسز کو کیوں دیگر پر فوقیت دی گئی، بہکانے اور دھمکانے کی الگ سے سیکشن کیوں نہیں بنا دی گئی، ان کیسز میں تو ایف آئی اے پی ٹی اے سے بھی مدد لے سکتا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو یہ مناسب لگا ہو گا اس لئے یہ قانون سازی کی گئی، میں پیکا ترمیمی آرڈیننس پر دلائل دینا چاہتا ہوں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تو خود آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا بیان دے چکی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 94 ہزار کیسز ہیں، 22 ہزار کیسز کا فیصلہ ہو چکا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر سے خود کو شرمندہ نہ کریں،ایف آئی اے کی اتنی استعداد ہی نہیں ہے وہ اتنے تربیت یافتہ ہی نہیں ہیں،ایف آئی اے نے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے مخصوص کاروائیاں کیں، ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس عدالت کے سامنے 22 ہزار میں سے صرف چار پانچ کیسز ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک پبلک آفس ہولڈر نے 9 بجے اسلام آباد میں شکایت درج کرائی ایف آئی اے نے مقدمہ لاہور میں درج کر کے اسی وقت اسلام آباد میں چھاپے بھی مارے،کیا یہ عدالت اس طرح کے اقدام کی اجازت دے سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا آرڈیننس سے متعلق درخواستیں یکجا کر کے سنی جا رہی ہیں گزشتہ سماعتوں میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ پیکا آرڈیننس لانے کی اتنی کیا جلدی تھی، صرف اسی ایک نکتے پر آرڈیننس کالعدم قرار ہونے کے قابل ہے ، درخواست گزاروں میں پی ایف یو جے ، اے این پی ایس ، سی پی این ای ، ایمنڈ ، لاہور ہائیکورٹ بار کے مقصود بٹر اور سیاستدان فرحت اللہ بابر شامل ہیں

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کل تک موجود پی ٹی آئی حکومت کا جاری کردہ تھا تبدیلی یہ ہے کہ ایک تو آج ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل اس کے دفاع کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے موجود نہیں تھے دوسرا اب اس آرڈیننس کی مدت جیسے ہی مکمل ہو گی خود بخود غیر موثر ہو جائے گا

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • سیاست میں سب کا احترام ہے،عدالت کسی کی تذلیل کرنے نہیں دے گی،چیف جسٹس

    سیاست میں سب کا احترام ہے،عدالت کسی کی تذلیل کرنے نہیں دے گی،چیف جسٹس

    اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کریں،شہباز شریف کی سپریم کورٹ میں استدعا

    سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی پولیس کی مزید نفری سپریم کورٹ کے باہر تعینات کر دی گئی ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف متوقع فیصلے کے پیش نظر سپریم کورٹ میں سیکورٹی بڑھا دی گئی پولیس ، رینجرز کے ساتھ ایف سی کے اہلکار بھی سپریم کورٹ احاطے میں تعینات کر دیئے گئے ہیں

    سپریم کورٹ،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ا ز خود نوٹس پر سماعت جاری سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ا ز خود نوٹس پرسماعت کررہا ہے

    باغی ٹی وی : فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین کو بحال کرنے میں آج پانچ دن لگے ہیں اراکین اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کو پنجاب اسمبلی جانے سے روک دیا گیا-

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ آئین کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے،پنجاب کی بیوروکریسی کو بھی رات کو طلب کیا گیاسابق گورنر پنجاب آج باغ جناح میں حلف لے رہے ہیں-چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں تحریری جواب جمع کرائیں، اس معاملے میں مداخلت نہیں کرتے لاہور ہائیکورٹ پنجاب کا معاملہ دیکھے گی ہم صرف قومی اسمبلی کا معاملہ دیکھ رہے ہیں خود فریقین آپس میں بیٹھ کر معاملہ حل کریں-ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ایک ڈکٹیٹر نے کہا تھا آئین 10 بارہ صفحے کی کتاب ہے کسی بھی وقت پھاڑ سکتا ہوں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تقریر نہ کریں ہم پنجاب کے مسائل میں نہیں پڑنا چاہتے-

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل ٹی وی پر یہ بھی دکھایا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں خاردار تاریں لگا دیں،معاملات کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی کہاں جائیں جب اسمبلی کو تالے لگا دیئے گئے ہیں ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں- جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ہم یہاں آئین کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں-

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گزشتہ رات حمزہ شہباز کو نجی ہوٹل میں وزیراعلی ٰبنا دیا گیا سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے،آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے-

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال خان مندوخیل استفسار کیا کہ کیا یہ تحریک عدم اعتماد کا معاملہ عوام کو متاثر نہیں کر رہا؟ کیا غیر آئینی کام ہوتا رہے اسے تحفظ حاصل ہے؟کیا ہم یہاں بیٹھ کر غیر آئینی کام ہونے دیں؟ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے- چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے،پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے-چیف جسٹس نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹادیا

    صدر مملکت عارف علوی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمینٹرینز پارلیمنٹ کے گارڈین ہیں، جسٹس جمال مندوخیل سوال کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں،-جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے سوال کیا کہ کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی؟ کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے؟ وکیل صدر مملکت علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے سوال کیا کہ اگر ججز کے آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا؟

    وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی نے اپنے دلائل میں کہا کہ اپوزیشن نےقومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرنے پر ڈپٹی سپیکر پر کوئی اعتراض نہیں کیا ، ڈپٹی سپیکر نے اپنے ذہن کے مطابق جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا ، ڈپٹی سپیکر نے ایوان کے اجلاس میں جو فیصلہ دیا وہ عدالت کے سامنے اس کا جواب دہ نہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی، اگرکسی دوسرے کے پاس اکثریت ہے توحکومت الیکشن کرسکتی ہے، الیکشن کرانے پرقوم کے اربوں روپے خرچ ہوتےہیں، ہربارالیکشن سے قوم کااربوں کانقصان ہوگا، یہ قومی مفاد ہے، انتخابات کی کال دےکر 90 دن کیلئے ملک کوبے یارومددگارچھوڑدیا جاتاہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پاکستان تحریک انصاف ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے ، کیا یہ بہتر ہے کہ دیگر چھوٹی جماعتیں غیر فطری اتحاد سے حکومت قائم کریں ، تحریک انصاف کے مقابل کیا یہ ملک کے لئے بہتر ہوگا ؟۔وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ میری رائے میں عدالت کو اس بارے میں توجہ دینے کی ضرورت نہیں، وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد خارج ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے اسمبلی تحلیل کر دی ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی، عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے ۔ وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ عدالت ماضی میں بھی اسمبلی کارروائیوں میں مداخلت سے احتراز برتتی رہی ، چودھری فضل الٰہی کیس میں ووٹ دینے ے روکا گیا اور تشدد کیا گیا، عدالت نے اس صورتحال میں بھی پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کی تھی ، ایوان کی کارروائی میں مداخلت عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، عدالت پارلیمان سے کہے کہ وہ اپنا گند خود صاف کرے ۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں میں دی گئی آبزرویشن کے پابند نہیں ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے کہا گیا لیو گرانٹ ہونے کے بعد رولنگ نہیں آسکتی ، 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد آنے سے قبل رولنگ آسکتی تھی ، اس معاملے پر آپ کیا کہیں گے ؟۔وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ سپیکر کو معلوم ہو بیرونی فنڈنگ ہوئی یا ملکی سالمیت کو خطرہ ہے تو سپیکر قانون سے ہٹ کر بھی ملک بچانے کیلئے اقدام لے سکتاہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر انحصار کیا ، قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی پر فرد واحد اثر انداز نہیں ہو سکتا ۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم نے آرٹیکل 58 کو نظر انداز کیا ، سپیکر کے سامنے کیا مواد موجود تھا کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کو ختم کر دیا؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے پاس ووٹنگ کے دن مواد موجود تھا جس پر رولنگ دی گئی ڈپٹی سپیکر کے سامنے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس کب رکھے گئے ؟۔وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ معاملے پر مجھے نہیں علم، اس سوال کا جواب اٹارنی جنرل دیں گے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو آپ کو معلوم نہیں ا س پر بات نہ کریں ۔

    اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار  کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس کوئی مواد دستیاب تھا جس کی بنیاد پر رولنگ دی کیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ نیک نیتی پر مبنی تھی؟ڈپٹی اسپیکر کو 28مارچ کوووٹنگ پر کوئی مسئلہ نہیں تھا،ووٹنگ کےدن رولنگ آئی تحریک عدم اعتماد کو 28مار چ کو کیوں مسترد نہیں کیاگیا ؟وزیراعظم نے آرٹیکل 58کی حدود کو توڑا ،اس کے کیا نتائج ہوں گے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ایوان ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو ختم کرسکتاتھا،وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اسمبلی تحلیل کی ، نعیم بخاری نے کہا کہ میں علی ظفر کے دلائل اپناتے ہوئے اپنے بھی مزید دلائل دوں گا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہم آپ کے دلائل کا انتظار کررہے ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ سوال ہواتھا کہ پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد میں نہیں لیاجاسکتا،پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد سمیت ہر موقع پر لیا جاسکتاہے،مجھے گزارشات فریز کرنے دیں ،عدالت کےسوالات کے جوابات دوں گا، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ہم بھی آ پ کو سننے کے لیے بےتاب ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ ماضی میں عدالت عالیہ نے کیا کیا یہ سوال ہے، ایک حکومت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہےعدالت نے الیکشن کرانے کی تجویز دی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا پوائنٹ آف آرڈر پر عدم اعتماد کی تحریک کو ختم کیے جانے کی کوئی مثال ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ ایسی مثال تو نہیں لیکن پوائنٹ آف آرڈر پر کوئی بھی قرارداد ختم کی جاسکتی ،

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ کیا اسپیکر کا عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ اگر اسپیکر پوائنٹ آف آرڈر مسترد کر دیتا،کیا عدالت تب بھی مداخلت کرتی؟ سولہ مارچ کو تمام ممبرز کومراسلہ بھیجا گیا جس میں تحریک پیش کرنے کا ذکر ہے، او آئی سی کا وزارتی اجلاس تھا، سینیٹ چیئرمین اور سی ڈی اے سے جگہ دینے کی بات کی گئی،سب نے جگہ نہ ہونے کے بارے میں آگا ہ کیا جس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلایا، میں مزید ایک گھنٹہ اور دلائل دونگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا زیرالتواتحریک عدم اعتماد پوائنٹ آف آرڈر پر مسترد ہو سکتی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے، پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں لیکن اسپیکر کا اختیار ضرور ہے،نئے انتخابات کا اعلان ہوچکا،اب معاملہ عوام کے پاس ہے،سپریم کورٹ کو اب یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیے،

    جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے کہا کہ رولنگ پر اسپیکر اسد قیصر کے دستخط ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ جی اسدقیصر آج بھی اسپیکر قومی اسمبلی ہیں،تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری کا مطلب نہیں کہ مسترد نہیں ہو سکتی،عدالت بھی درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرکے بعد میں خارج کرتی ہے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے نعیم بخاری سے سوال کیا کیا کہ اسپیکر اب بھی عہدے پر ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ جی اسپیکر آج بھی اسپیکر ہیں، 25مارچ کو اجلاس بلایا گیا ، دوسرا 28 مارچ کو بلایا گیا جس میں تحریک پیش کی گئی، جسٹس مندو خیل نے کہا کہ کیا جب تحریک پیش ہوجائے تو اسپیکر اس کو ختم کرسکتا ہے؟پوائنٹ آف آرڈر کیا ہوتا ہے،ہم اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ،نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر کی تشریح نہیں بتا سکتا، لیکن اجلاس میں بات کرنے کے لیے ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رولز کے مطابق ایوان میں اگر تحریک پیش کردی گئی تو پوائنٹ آف آرڈر نہیں اٹھایا جاسکتا،نعیم بخاری نے کہا کہ رولز لے مطابق تحریک پیش ہوجانے کے بعد نکتہ اعتراض لیا جاسکتا ہے،

    جسٹس اعجازالاحسن نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ موشن اور ریزولوشن میں کیا فرق ہے ؟نعیم بخاری نے کہا کہ اسمبلی کارروائی شروع ہوتے ہی فواد چودھری نے پوائنٹ آف آرڈر مانگ لیا، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع ہوجاتی تو پوائنٹ آف آرڈر نہیں لیا جا سکتا تھا، موشن اور تحریک کے الفاظ ایک ہی اصطلاح میں استعمال ہوتے ہیں، موشن اور تحریک دونوں آپس میں رشتہ دار ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ اسپیکر کے آئینی اختیار کو کوئی رول ختم کرسکتا ہے ؟ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اسپیکر کا کوئی عمل غیر آئینی ہے تو پھر کیا کیا جائے، نعیم بخاری نے کہا کہ آئین کئی معاملات میں خاموش ہے لیکن ایسے معاملات میں رولز موجود ہیں ، پارلیمان کے کئی معاملات رولز کے مطابق چلائے جاتے ہیں

    نعیم بخاری نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش کردیئے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کا آئینئ مینڈیٹ ہے، کیا ڈپٹی اسپیکر آئینی مینڈیٹ سے انحراف کر سکتا ہے؟کیا ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد ہونے کا مطلب ووٹنگ کیلئے پیش ہونا نہیں ؟تحریک عدم اعتماد کے علاوہ پارلیمان کی کسی کارروائی کا طریقہ آئین میں درج نہیں،کیا اسمبلی رولز کا سہارا لیکر آئینی عمل کو روکا جا سکتا ہے؟ کیا آئینی عمل سے انحراف پر کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں 11 افراد شریک تھے، نعیم بخاری نے کہا کہ کمیٹی میں شرکت کےلیے 29 لوگوں کو نوٹس دیئے گئے تھے ، جسٹس مندو خیل نے کہا کہ کیا اس کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر خارجہ تھے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ جی وزیرخارجہ موجود تھے، شرکا کی لسٹ میں تیسرا نمبر ہے، نعیم بخاری کی جانب سے وقفہ سوالات کا حوالہ دیا گیا ،نعیم بخاری نے کہا کہ تمام اپوزیشن اراکین نے کہا سوال نہیں پوچھنے صرف ووٹنگ کرائیں،اس شور شرابے میں ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا،پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو خط پر بریفنگ دی گئی،اس دن وزیر خارجہ چین کے دورے پر تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دینے والوں کے نام میٹنگ منٹس میں شامل نہیں،جسٹس مندو خیل نے کہا کہ مجھے وزیر خارجہ کے اس میٹنگ منٹس میں دستخط نظر نہیں آرہے ایک وزیر خارجہ کو پیغام آیا اور وہ اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے،نعیم بخاری نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ نیشنل سیکیورٹی کاونسل کے اجلاس کےمنٹس سر بمہر لفافے پیش کروں ،وزیر خارجہ کو پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں ہونا چاہیے تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معید یوسف کا نام بھی میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہا، نعیم بخاری نے فواد چودھری کا پوائنٹ آف آرڈر بھی عدالت میں پیش کر دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اس پر اپوزیشن پوچھ نہیں سکتی تھی؟ اراکین اسمبلی کے نوٹس میں خط کے مندرجات آ گئے تھے پوائنٹ آف آرڈر پر رولنگ کی بجائے اپوزیشن سے جواب نہیں لینا چاہیے تھا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بحث نہیں ہوتی

    جسٹس منیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین اپریل قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون نے نکتہ اعتراض پرعدم اعتماد کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی قرار دیا،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے رولنگ پڑھی گئی تھی اس پر اسپیکر کے دستخط ہیں کیا بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ وہ رولنگ ان کو پہلے سے لکھ کر دی گئی تھی کہ وہ پڑھیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فوادچوہدری نے آرٹیکل 5 سے متصادم پر رولنگ مانگی، ممکن ہےارکان کہتے یہ آئین کیخلاف ہے، حق میں ووٹ نہیں دیں گے،ہوسکتا ہے کچھ لوگ خط کے تناظر میں تحریک کیخلاف ووٹ دیتے ،ووٹنگ کرانے کے بجائے تحریک ہی مسترد کردی گئی، ڈپٹی اسپیکر کو اس انداز میں تحریک مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا، اسپیکر نے رولنگ کے بعد ووٹنگ کیوں نہیں کرائی ؟رولنگ میں عدم اعتماد مسترد کرنا شائد اسپیکر کا اختیار نہیں تھا،ایسا لگتا ہے رولنگ لکھ کر ڈپٹی اسپیکر کو دی گئی اور انہوں نے پڑھ دی، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ یہ میرے علم میں نہیں ،میں پارلیمنٹ میں نہیں تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا عوامی نمائندوں کی مرضی کیخلاف رولنگ پارلیمانی کارروائی سے باہر نہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو پھر کیا ہوتا کیا دوبارہ عدم اعتماد لائی جاتی،نعیم بخاری نے کہا کہ ایسا کیا جاسکتا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سپیکر کے پاس اپیل ایبل ہے،نعیم بخاری نے کہا کہ جی سپیکر تبدیل کر سکتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے کہہ رہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو ا سپیکر کے سامنے چیلنج کیا جاسکتا ہے، آپ کے مطابق اراکین کو ڈپٹی ا سپیکر کیخلاف ا سپیکر کے پاس جانا چاہیے تھا،آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی ،نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت اسمبلی تحلیل کا جائزہ لے سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جس رولنگ کی بنیاد پر اسمبلی تحلیل ہوئی اسے چھوڑ کر باقی چیزوں کا جائزہ کیسے؟ سپریم کورٹ میں نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہو گئے ،نعیم بخاری نے کہاکہ پارلیمان کے اندر جو بھی ہو اسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا آرٹیکل 95 انڈپینڈنٹ آرٹیکل نہیں ہے؟اس میں عدم اعتماد تحریک کے حوالے سے اسپیکر کے کردار کی وضاحت کی گئی اس صورت میں اگر کوئی غیر آئینی کام ہو جائے تو کیا عدالت اس پر مداخلت نہیں کرسکتی؟ نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت کس حد تک مداخلت کرسکتی وہ عدالت نے طےکرنا ہے،

    سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے دلائل شروع ہو گئے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 28مارچ کو تحریک عدم اعتماد لیو گرانٹ ہوئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے سوال کیا کہ لیو کون گرانٹ کرتا ہے ؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہاوس لیو گرانٹ کرتا ہے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے تحریری معروضات عدالت میں پیش کردیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل کیا یہ آپکا آخری کیس ہے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر آپکی خواہش ہے تو مجھے منظور ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری بات تو سن لیں، ہم چاہتے ہیں آپ اگلے کیس میں بھی دلائل دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی تفصیل کھلی عدالت میں نہیں دے سکوں گا عدالت کسی کی وفاداری پر سوال اٹھائے بغیر بھی فیصلہ کر سکتی ہے،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں انتہائی حساس نوعیت کے معاملات پر بریفنگ دی گئی،قومی سلامتی کمیٹی پر ان کیمر اسماعت میں بریفنگ دینے پر تیار ہوں وزیراعظم سب سے بڑے ا سٹیک ہولڈر ہیں،وزیراعظم کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہے ،اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے وزیراعظم کو وجوہات بتانا ضروری نہیں،صدر سفارش پر فیصلہ نہ کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی،حکومت کی تشکیل ایوان میں کی جاتی ہے،آئین ارکان کی نہیں ایوان کی5 سالہ معیاد کی بات کرتا ہے،برطانیہ میں اسمبلی تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا آپشن ختم کردیا گیا ہے ہمارے آئین میں وزیر اعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن موجود ہے، تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنا کسی رکن کا بنیادی حق نہیں تھا،ووٹ ڈالنے کا حق آئین اور اسمبلی رولز سے مشروط ہے،اسپیکر کسی رکن کو معطل کرے تو وہ بحالی کیلئے عدالت نہیں آ سکتا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رولز سے مشروط ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سمیت تمام کارروائی رولز کے مطابق ہی ہوتی ہے، پارلیمانی کارروائی کا کس حد تک جائزہ لیا جا سکتا ہے عدالت فیصلہ کرے گی، اگر اسپیکر کم ووٹ لینے والے قائد ایوان کی کامیابی کا اعلان کرے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے، پارلیمنٹ میں ہونے والی ہر کاروائی کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اسپیکر ہاوس کا کسٹوڈین ہوتا ہے اسپیکر صرف اپنی ذاتی تسکین کیلئے عہدے پر نہیں بیٹھتا اسپیکر ایسا تو نہیں کر سکتا کہ اپنی رائے دے، باقی ممبران کو گڈ بائے کہہ دے،20فیصد ممبران نے جب تحریک پیش کر دی تو بحث کرانا چاہیے تھی،وزیر اعظم کو سب پتہ ہوتا ہے وہ جاتے ممبران سے پوچھتے وہ کیا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر 68 ارکان تحریک منظور اور اس سے زیادہ مسترد کریں تو کیا ہوگا؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر 172 ارکان تحریک پیش کرنے کی منظوری دیں تو وزیراعظم فارغ ہوجائے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ ایک اسکیم کے تحت ہوتی ہے،وزیر اعظم کو اپنے ممبرز کی شناخت کرنا ضروری ہے،وزیر اعظم کو علم ہو کہ وہ کونسے 172 ممبرز ہیں جو ان کے ساتھ ہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آئینی معاملے پر بات کررہے ہیں اورہمیں علم ہے کہ آئین ایک سیاسی دستاویز ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک پیش کرنے کی منظوری کیلئے 20 فیصد یعنی 68 ارکان کا ہونا ضروری نہیں،اسمبلی میں کورم پورا کرنے کیلئے 86 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے،تحریک پیش کرنے کی منظوری کے وقت اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ تحریک عدم اعتماد پر لیو گرانٹ کرتے ہوئے کوئی بنیاد بتانا ہوتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کی کوئی بنیاد بتانا ضروری نہیں، تحریک پیش کرتے وقت تمام 172 لوگ سامنے آ جائیں گے تحریک پیش کرنے اور ووٹنگ میں 3سے 7 دن کا فرق بغیر وجہ نہیں، 7دن میں وزیراعظم اپنے ناراض ارکان کو منا سکتا ہے ، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ لیو گرانٹ ہوگئی تو پھر ووٹنگ ہونی ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا کیس یہ ہے کہ لیو گرانٹ ہوئی ہی نہیں، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ پھر اسپیکر نے کیسے ووٹنگ کے لیے اجلاس بلالیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر نے لیو گرانٹ کی ہی نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ فواد چوہدری 28 مارچ کو اعتراض کرتے تو کیا تحریک پیش کرنے سے پہلے مسترد ہوسکتی تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک پیش ہونے کے وقت بھی مسترد ہو سکتی تھی،تحریک عدم اعتماد قانونی طور پر پیش کرنے کی منظوری نہیں ہوئی، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ اسپیکر نے قرار دیدیا کہ تحریک منظور ہوگئی آپ کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہوسکتی تو کیس ہی ختم ہو گیا، اگر 68 لوگ تحریک پیش کرنے کی منظوری اور 100 مخالفت کریں تو کیا ہوگا؟ ایوان کی مجموعی رکنیت کی اکثریت ہو تو ہی تحریک پیش کرنے کی منظوری ہوسکتی آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اکثریت مخالفت کرے تو تحریک مسترد ہوگی،تحریک پیش کرنے کی منظوری کا ذکر اسمبلی رولز میں ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 55 کے مطابق اسمبلی میں فیصلے ہاوس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہونگے،ووٹنگ کے لیے 172 ارکان ہونے چاہیے،لیو گرانٹ اسٹیج پر 172 ارکان کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 55 کے تحت ایوان میں فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں، اگر لیو گرانٹ کے وقت 172 ارکان چاہیے تو پھر تو بات ہی ختم ہو گئی اسپیکر کے وکیل نے کہا رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا تو کیس ختم ہوگیا،تین اپریل کو بھی وہی اسپیکر تھا اور اسی کی رولنگ تھی، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی تحلیل اصل مسئلہ ہے اس پر آپکو سننا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد نمٹانے کے بعد ہی اسمبلی تحلیل ہوئی،چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہے اسمبلی تحلیل اور ا سپیکر رولنگ میں کتنے ٹائم کا فرق ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں کیا دنیا میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر وزیر اعظم بنے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آج ہی سماعت مکمل کرکے فیصلہ کریں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا کنسرن نئے انتخابات کا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہے،عدالت نے آئین کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے،کل کو کوئی اسپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا، عدالت نے نہیں دیکھنا کون آئے گا کون نہیں، نتائج میں نہیں جائینگے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کر رہا، کسی رکن اسمبلی کو عدالتی فیصلے کے بغیر غدار نہیں کہا جا سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپیکر نے کہہ دیا میں رولنگ دیتا ہوں کیونکہ میں سب سے اوپر ہوں، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایک بات نظر آرہی ہے کہ رولنگ غلط ہے،آرٹیکل 55 کے مطابق اسمبلی میں فیصلے ہاوس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہونگے، اب یہ بتائیں اگلا قدم کیا ہو گا،قومی مفاد اور عملی ممکنات دیکھ کر ہی آگے چلیں گے ، آج فیصلہ سنائیں گے،اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے، قومی مفاد اور عملی ممکنات کو دیکھ کر ہی آگے چلیں گے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے بہتر بات یہ ہے کہ عوام کے پاس جایا جائے۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت نتائج کو نہیں دیکھ رہی۔ ہم نے قانون کو دیکھنا ہے اور آئینی معاملات کو دیکھانے ہیں۔ یہ سب طے شدہ تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمینٹ کامیاب ہو اور کام کرے

    دس منٹکے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے برطرف ملازمین کی نظرثانی مسترد کرکے بھی بحالی کا راستہ نکالا تھا،عدالت نے سیکڈ ملازمین کیس میں جو فیصلہ دیا وہ ہم نے دیکھاکیس میں عدالت نے نظر ثانی اپیلیں خارج کی تھیں ملازمین کو نوکریوں پر بحال کیا گیا ہم اس ملک کے مینڈیٹ کو کسی اور کی خواہش پر نہیں چھوڑ سکتے،آج عدالت جو حکومت بنائے گی کیا وہ لوگوں کے ساتھ ہوگی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہ بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے،اس وقت ملک میں ڈالر 190 تک پہنچ گیا ،ا سٹاک مارکیٹ نیچے جارہی ہے،سری لنکا کے حالات ہمارے سامنے ہیں

    عدالت نے شہباز شریف کو روسٹرم پر بلالیا ،شہباز شریف نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں قانونی معاملات پر میرے وکیل بات کرینگے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بھی موجود ہے،ان تجاویز بھی لے لیں موجودہ مینڈیٹ 2018 کی اسمبلی کا ہے، آج اگر کوئی حکومت بنائے گا تو کتنی مستحکم ہو گی ،شہباز شریف نے کہا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، پارلیمنٹ خود مختار ہے،اسپیکرکے رولنگ پر عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آئینی ہے یا غیر آئینی ،ہم عدالت کی عزت کرتے ہیں ،ججز پر ہمیں فخر ہے،وقفے سے پہلے جو ریمارکس دیئے ا س پر کہوں گا کہ پارلیمنٹ کو بحال کریں،رولنگ ختم ہونے پر تحریک عدم اعتماد بحال ہو جائے گی اسپیکر کی رولنگ کالعدم ہو تو اسمبلی کی تحلیل ازخود ختم ہوجائے گی،جوغلطیاں ہوئیں انکی توثیق اور سزا نہ دیئے جانے کی وجہ سے یہ حال ہوا، اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کریں،پارلیمنٹ میں عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے،ہماری تاریخ میں آئین کئی مرتبہ پامال ہوا، ہمارا اتحاد ملک کے بہترین جماعتوں پر مشتمل ہے ہم ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،میثاق معیشت کی بات میں نے کی تھی ہمارے پاس ایک ایجنڈا ہے ، یقین کریں ہم آگے بڑھیں گے،اس حکومت کے ایک اتحادی نے اپوزیشن کیمپ کوجوائن کیا،ہمارے پاس 177 ووٹ ہیں ہم اپنے آئین کی حفاظت کرینگے اورقوم کی خدمت کریں گے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ آپ نے 2018 میں کتنی سیٹیں لی تھیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے 2018 میں 115 سیٹیں حاصل کی تھیں بطور اپوزیشن لیڈر چارٹر آف اکنامکس کی پیش کش کی،2018میں ڈالر 125 روپے کا تھا،آج 190 تک پہنچ چکا ہے،پارلیمنٹ ارکان کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے،پی ٹی آئی نے بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی،اپنی پہلی تقریر میں چارٹر آف اکانومی کی بات کی تھی، عوام بھوکی ہو تو ملک کو قائد کا پاکستان کیسے کہیں گے، مطمئن ضمیر کیساتھ قبر میں جاوں گا،سیاسی الزام تراشی نہیں کروں گا، آج بھی کہتا ہوں چارٹر آف اکانومی پر دستخط کریں،

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سیاست پر کوئی تبصرہ نہیں کرینگے ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپوزیشن پہلے دن سے الیکشن کرانا چاہتی تھی،شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ آئین توڑنے کا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کی مرمت ہم کر دینگے،ہم 184/3 کےتحت درخواستوں پر سماعت کررہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شہباز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آپ کا موقف سنا ،سوال یہ ہے کہ آپ آگے کیسے چلیں گے ،آپ کی حکومت پہلے پانچ سال حکومت کامیابی سے چلا چکی ہے، بطور اپوزیشن لیڈر پہلے دن سے الیکشن کی ڈیمانڈ کرتے رہے اب کیوں نہیں کررہے ، شہباز شریف نے کہا کہ اپنی اپوزیشن سے ملکر انتخابی اصلاحات کرینگے تاکہ شفاف الیکشن ہو سکے ،عام آدمی تباہ ہوگیا اس کیلئے ریلیف پیدا کرنے کی کوشش کرینگے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب چاہتے ہیں اراکین اسمبلی کے نہیں عوام کے منتخب وزیراعظم بنیں،جنہوں نے عمران خان کو پلٹا ہے وہ شہباز شریف کو بخشیں گے؟ اپوزیشن کا الیکشن کا مطالبہ پورا ہو رہا ہے تو ہونے دیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عد م عتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو الیکشن میں جانے کے لیے آپ کو کتنا عرصہ لگے گا؟ عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی کا دورانیہ رہے گا؟ شہباز شریف نے کہا کہ ڈیڑھ سال پارلیمنٹ کا ابھی باقی ہے،ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل شروع ہو گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بخشنے اور نہ بخشنے کا بیان عدالت میں دیا یہ ایک سیاسی بیان ہے 2002سے ہم نے دیکھ لیا کسی سنگل پارٹی نے حکومت بنائی ہوحکومت جب بھی بنی اتحاد پر مشتمل تھی اٹارنی جنرل کی آخری باتیں دھمکی آمیز تھیں،کون کس کو نہیں چھوڑے گا، کس کو سرپرائز دے گا یہ نہیں کہنا چاہیے،وزیراعظم نے سرپرائز دینے کا اعلان کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرپرائز پر اپنا فیصلہ واضح کر چکے ہیں، ن لیگی وکیل نے کہا کہ عدالت سیاسی تقاریر پر نہ جائے،منحرف ارکان کے علاوہ اپوزیشن کے پاس 177 ارکان ہے ،چیف جسٹس کے کہنے پر مخدوم علی خان نے اپوزیشن ارکان کی پارٹی وائز تفصیلات بتائیں ، ن لیگی وکیل نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ ملکی اقتصادی صورتحال خراب ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے،اس کی نشاندہی بھی آ پ نے ریمارکس میں بھی کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کی وجہ سے ملکی اقتصادی حالات خراب ہیں،ملکی صورتحال پر ہم کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے،ن لیگی وکیل نے کہا کہ اس وقت عدالت ریمیڈی دینے کی طرف سوچ رہی ہے،اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، ڈالر مہنگا اور روپے کی قدر کم ہو گئی،عدالت نے کہا کہ یہ تمام معاشی مسائل ہیں،ن لیگی وکیل نے کہا کہ یہ معاشی مسائل کس نے پیدا کیے ہیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہم سوالات کے جواب دینے بیٹھے ہیں،آرٹیکل 184/3 میں کیس سن رہے ہیں، عوامی حقوق کا تحفظ کرینگے، ن لیگی وکیل نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا حکومت بلآخر انتخابات کی طرف جائے گی، جانتا تھا کہ اسپیکر کی رولنگ کا دفاع کرنا ممکن نہیں، حاجی سیف اللہ کیس امتیازی کیس ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ رولنگ ختم ہو اسمبلی بحال نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس نکتہ پر لگتا ہے تیاری کرکے آئے ہیں،آئین سے 58ٹو بی جمہوری انداز میں نکالا گیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی مکمل،اب ہم معاملہ پر غور کریں گے ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے دلائل کے لیے سپریم کورٹ سے درخواست کی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو دلائل دینے کی اجازت دے دی ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے کہا کہ میں دس منٹ سے زائد نہیں لوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پر بہت سنجیدہ الزامات عائد ہیں، سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں، عدالت میرٹ پر جائے گی ،الزامات پر فیصلہ نہیں دے گی،

    شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ 199ارکین قومی اسمبلی پر غداری کے الزمات لگائے گئے،میں قران اٹھا کر کہتا ہوں کہ عمران خان اگر کوئی ثبوت لائے تو میں سیاست چھوڑ دونگا جو سزا عدالت دے گی قبول ہوگی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے ریمارکس غداری سے متعلق نہیں تھے وکلا نے وزیر اعظم ،صدر اور دیگر کے بارے میں بات کی اس پر ریمارکس دیئے،سیاسی جماعتوں کا آپس میں تعلق اتنا خراب ہے کہ پتہ نہیں ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں، میاں صاحب وہ آپ سے ناراض رہتے ہیں ہاتھ نہیں ملاتے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میاں صاحب چھوڑ دیں آپ میں سے کسی کو کچھ نہیں کہا گیا، شہباز شریف نے کہا کہ سازش کے ثبوت لے آئیں عدالت کی ہر سزا قبول کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں سب کا احترام ہے،عدالت کسی کی تذلیل کرنے نہیں دے گی ہم ساڑھے 7 بجے فیصلہ سنائیں گے،افطاری کے بعد دوبارہ بیٹھیں گے،

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کرتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بلاول بھٹو کے خاندان کی تیسری پیڑی سیاست میں ہے،سارے معاملے میں اصل اسٹیک ہولڈر ووٹر ہے،بلاول بھٹو کے خاندان نے بہت قربانیاں دی ہیں،سپریم کورٹ نے سماعت ملتوی کردی ،فیصلہ شام ساڑھے 7 بجے سنایا جائے گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

  • پاکستانیو:سیاست سیاست نہ کھیلیں ملکی خود داری اورسلامتی پرتوجہ دیں:چین کا تیسری بارپیغآم آگیا

    پاکستانیو:سیاست سیاست نہ کھیلیں ملکی خود داری اورسلامتی پرتوجہ دیں:چین کا تیسری بارپیغآم آگیا

    بیجنگ: پاکستانیو:سیاست سیاست نہ کھیلیں ملکی خود داری اورسلامتی پرتوجہ دیں:چین کا تیسری بارپیغآم ،اطلاعات کے مطابق برادر ہمسائیہ ملک چین کی طرف سے پچھلے چند دنوں میں تیسری بار پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ خدا را سیاست سیاست نہ کھیلیں پاکستان کی سالمیت اور اس کی خودداری پرتوجہ دیں‌

    پاکستانی سیاسی جماعتوں کے نام یہ تیسرا پیغام جوچین کی حکومت نے پچھلے ڈیڑھ ہفتے میں دیا ہے ، اس حوالے سے آج پھر چین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تمام جماعتیں متحد رہ کر ملکی ترقی اور استحکام کو برقرار رکھیں۔

    ان خیالات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے بیجنگ میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب میں کیا۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین نے ہمیشہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر عمل کیا ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ پاکستان میں مداخلت کررہا ہے اوریہ امریکہ کا وطیرہ رہا ہے ،اگراسی طرح امریکی چالیں کامیاب ہوتی رہیں تو پھرنہ تو جمہوریت پنپ سکے گی اور نہ کی کسی ملک کی سلامتی کی گارنٹی دی جاسکے گی

    اس مشکل وقت میں جب کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان میں مداخلت کے واضح ثبوت آگئے ہیں چین اور پاکستان کو تمام موسمی تذویراتی تعاون پر مبنی شراکت دار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ اٹوٹ اور مضبوط رہیں گے۔

    ژاؤ لیجیان نے امید ظاہر کی کہ چین پاکستان مجموعی تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متاثر نہیں ہوگی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے چین کی حکومت 2 مرتبہ پاکستان میں امریکی مداخلت کی تائید کرچکی ہے جس پرپہلے بھی چین نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکہ کو ایسی گھٹیا حرکات سے اب باز آجانا چاہیے

    اس کے ساتھ ساتھ روسی حکومت نے اپنی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پراس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان کی حکومت کو امریکہ کی طرف سے بہت زیادہ خطرات لاحق تھے اور امریکہ عمران خان کوآزاد خارجہ پالیسی کی وجہ سے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں‌

    روسی حکومت کی طرف سے بھی پاکستانیوں کو یہ پیغآم دیا گیا تھا کہ امریکی مداخلت کو اب ناکام بنا دینا چاہیے

     

  • پارلیمانی کمیٹی تشکیل، سپیکر نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خطوط ارسال کر دیئے

    پارلیمانی کمیٹی تشکیل، سپیکر نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خطوط ارسال کر دیئے

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے نگران وزیراعظم کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل دینے کے لیے وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کو خطوط ارسال کردیے۔

    سپیکر نے یہ خطوط آئین کی شق 224 اے ون کے تحت تفویض اختیارات کے تحت لکھے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف سے چار، چار ممبران کے نام مانگے گئے ہیں۔

    خط کے متن میں تحریر ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن نگران وزیراعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہیں کرسکے۔ کمیٹی سبکدوش ہونے والی قومی اسمبلی کے 8 ارکان پر مشتمل ہوگی۔

    خیال رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سے قبل صدر مملکت نے بھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خطوط لکھے تھے۔ تاہم شہباز شریف نے صدر عارف علوی کو خط لکھ کر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت سے انکار کردیا تھا۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف نے پی ٹی آئی کی طرف سے تجویز کیے گئے نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام مسترد کردیا ہے۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے نگران وزیراعظم کے تقرر پر مشاورت کے لیے لکھے جانے والے خط کا جواب لیگی صد شہباز شریف نے دیدیا۔

    جوابی خط میں شہباز شریف نے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے 2 خط لکھے ہیں جو مجھے 5 اپریل کو رات 9 بجے موصول ہوئے۔ آپ کی جانب سے لکھا گئے خطوط میں نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام دیا گیا ہے تاہم سپریم کورٹ نے اس سارے معاملے پر از خود نوٹس لے رکھا ہے۔ عدم اعتماد کے حوالے سے سپیکر کی رولنگ خلاف آئین ہے۔

  • عمران خان کی آئین شکنی،مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان

    عمران خان کی آئین شکنی،مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان

    عمران خان کی آئین شکنی،مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان نے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کردیا ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ پوری قوم آئین کے تحفظ کیلئے بیدار ہو،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے بحران شروع ہوا اور اسمبلیوں کی تحلیل نے بحران کو سنگین کیا،آنے والاجمعہ یوم تحفظ آئین پاکستان کے نام سے منایا جائے گا،آئین پاکستان کی دھجیاں اڑائی گئیں، عمران خان نے آئین کو پامال کیا،تحریک انصاف کے کارکن جمہوری قوتوں کواشتعال دلا رہے ہیں ،کابینہ ڈویژن نوٹیفکیشن جاری کرچکی ہے کہ عمران خان وزیراعظم نہیں رہے، اس بات کا نوٹس لیا جائے کہ پارلیمنٹ کے 197ارکان کو غدار قرار دیا گیا،ملکی سلامتی کو داؤ پر لگایا جارہاہے، جمعہ کو کارکن نکلیں اور آئین شکنی کے خلاف ریلیاں نکالیں گے علمائے کرام اپنے خطبوں میں عمران خان کی ناجائز حکومت اور مکروہ اقدامات پر روشنی ڈالیں گے.

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ  سپریم کورٹ کاازخود نوٹس لینا درست اقدام ہے،اسپیکرکی رولنگ کالعدم قراردی جائے حکومتی غیرآئینی اقدام سے منصفانہ انتخابات کی توقع نہیں کی جاسکتی ادارے آئین کے تحفظ کے لیے اپنا کردارادا کریں ،صدر نے کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا،بلکہ زبانی کلامی عمران نیازی کو نیا وزیراعظم آنے تک حکومت کرنیکا کہا ہے عمران خان نے قومی خزانے کومال غنیمت سمجھ رکھا ہے کابینہ ڈویژن،عدالتی حکم کےباوجودوزیراعظم سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں ہمیں نظریہ ضرورت نہیں نظریہ جمہوریت چاہئے آج متحدہ اپوزیشن اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل طے گیا جائے گا، سپریم کورٹ کی ازخود کیس کی نارمل پروسیڈنگ سے لوگوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے، ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے،چند دن بعد خط کا جھوٹ عیاں ہو جائیگا۔

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    پرویز الہیٰ کوعمران خان کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے، مریم نواز

    پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    عمران خان کے آخری مایوس کن اقدامات اب اسے بچا نہیں سکتے،بلاول

  • عمران خان آئین کو لپیٹنے کی سازش کر رہا ہے،تحریک لبیک نے بڑا مطالبہ کر دیا

    عمران خان آئین کو لپیٹنے کی سازش کر رہا ہے،تحریک لبیک نے بڑا مطالبہ کر دیا

    عمران خان آئین کو لپیٹنے کی سازش کر رہا ہے،تحریک لبیک نے بڑا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کا سربراہ حافظ سعد رضوی کی زیر صدارت شوریٰ کا اجلاس ہوا

    اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، تحریک لبیک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان آئینِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ،آئین پاکستان لازوال قربانیوں کا نتیجہ ہے آئین پاکستان کو منسوخ کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے،موجودہ صورتحال میں تحریک لبیک خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی،خاص طور پر جب ہم آئین پاکستان کے خالق امام احمد شاہ نورانی اورمولانا عبدالستار خان نیازی کے فکری وارث بھی‌ ہیں، آئین سے اس کھلواڑ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا

    تحریک لبیک کی شوریٰ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں مزید کہا گیا کہ اگر اس روایت کو آج تسلیم کر لیا گیا تو کل کسی بھی غیر مسلم کو آئین سے کھلم کھلا بغاوت کرتے ہوئے صدر مملکت اور وزیراعظم صرف اسپیکر کی ایک رولنگ پر لگایا جا سکے گا،آئین میں موجود مسلمان کی تعریف اور قادیانیت کے عقائد کی روک تھام پرایک بڑا سوالیہ نشان لگ سکتا ہے، کیا ناموس رسالت کو جو ہمارے عقائد کا ریڈ زون ہے، 295 سی پر ہم ممکنہ سمجھوتہ برداشت کر لیں؟

    تحریک لبیک کی شوریٰ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں مزید کہا گیا کہ صدارتی نظام کے شوشے کے پیچھے بھی قادیانی اور اسلام دشمن لابی سرگرم عمل ہے،جو ہمارے آئین سے اسلام کو نکال پھینکنا چاہتے ہیں، ہمارا آئین ہمارے دینی اقدار کا محافظ ہے تحریک لبیک پاکستان آئین پاکستان کے ساتھ چھیڑچھاڑ پر ایسا ہی رد عمل دے گی جیسے الیکشن فارمز میں ترمیم پر ہم نے فیض آباد دھرنا دیا اور حکومت کو ناک رگڑنا پڑی تھی

    تحریک لبیک کی شوریٰ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں مزید کہا گیا کہ ہم پاکستان کی عدلیہ سے استدعا کرتے ہیں عمران خان آئین کو لپیٹنے کی سازش کر رہا ہے اسکی تحقیقات کی جائیں کیونکہ آئین پاکستان کو ختم کرنا دراصل قادیانیوں کا پرانا خواب ہے جس کے پیچھے اسلام اور پاکستان کی تمام دشمن قوتیں اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ اکٹھی ہو چکی ہیں

    لاہور انارکلی دھماکہ، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری کی قبول،الرٹ جاری ہوا تھا مگر جگہ نہیں پتہ تھی،کمشنر لاہور

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    لاہور دھماکہ، جاں بحق اور زخمی افراد کے ناموں کی فہرست جاری

    انار کلی دھماکہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے دہشت گرد کی شناخت ہو گئی

    انار کلی دھماکہ،جگہ کی ریکی کرنے والے مبینہ 2 دہشت گردوں کی نشاندہی

    پہلے اسلام آباد اب لاہوروزیرداخلہ اپنے سگھارکے دھوئیں سے باہرنہیں نکلے؟سربراہ تحریک لبیک کا سوال

    تحریک لبیک سے مقابلہ کرنے کیلئے اہلسنت جماعتیں متحد ہو گئیں