Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل لارجر بینچ کا حصہ ہیں

    عدم اعتماد کا معاملہ،سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے درخواست پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر کی ،سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی

    بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ کی اجازت سے میں گزشتہ روز پیش ہوا تھا آج میں پی ٹی آئی کی طرف سے پیش ہورہا ہوں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کو بعد میں سن لیں گے ،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ میں دوباتیں کرنا چاہتا ہوں اسکی اجازت چاہیے، صدارتی ریفرنس میں 31مارچ کا جو حکم جاری ہوا وہ اہم ہے،عدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں،21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے حکمنامہ جاری کیا تھا،جو کچھ بھی ہوا سب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں ،الیکشن کیلئے تیار ہیں، سارا مسئلہ جلدی الیکشن کا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی بیان ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے سیاسی باتیں نہ کریں ،ہم آج کوئی مناسب حکم جاری کریں گے،ایڈووکیٹ نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے،

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت ساری جماعتوں کے وکلا یہاں موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں سب کو سنیں گے، آپ ہمیں کیس سمجھائیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت اہم نوعیت کے معاملے پر فل کورٹ بنائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو بینچ میں موجود کسی جج پر اعتراض ہے تو بتائیں،اگر کسی کو ہم پر اعتماد نہیں تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے،قومی اسمبلی میں جو کل ہوا ہے اُسکا آئینی جائزہ لینا ہوگا۔عدالت نے پیپلز پارٹی کے وکیل کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی فل کورٹ کی وجہ سے 10 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوا،فل کورٹ کی وجہ سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے،عدم اعتماد جمع کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 95 وزیراعظم پر کسی چارج یا الزام کی بات نہیں کرتا عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ،اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر بھی وزیراعظم والا طریقہ کار لاگو ہوتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اسکی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دی جب ریکوزیشن قوائد کے مطابق جمع ہو تو 14دن میں اجلاس بلانے کا پابند ہے اسپیکر نے تیرہویں دن اجلاس بلایا ،20 تاریخ تک بلانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ریکوزیشن کے بعد ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ اجلاس 14 دنوں میں بلایا جانا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، 28 مارچ کو ایم این اے کی فوتگی کی وجہ سے دعا کے بعد اجلاس ملتوی کیا گیا،جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کیس ہم نہیں سن رہے،آپ کا کیس وہ نہیں جو آپ بول رہے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں، وجوہات درست تھیں یا نہیں اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں،کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو ؟کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے؟ کیا 10 مارچ آرڈر آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں؟کیا 10 مارچ آرڈرز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے،50 ارکان کہتے ہیں تحریک پیش ہو اور 50 کہتے ہیں نہ ہوتو کیا تحریک پیش ہوگی؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی نے قرارداد کی اجازت دے کر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چھوڑیں یہ سب، اور مقدمے کے حقائق کی طرف آئیں،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی ضابطہ کارروائی میں یہ درج ہے کہ سپیکر کوئی بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے اب آپ یہ بتائیں کہ اسپیکر نے صحیح کیا یا غلط؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے، رولز کے مطابق تین دن بحث ہونا تھی ،تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے. فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا بحث کی تاریخ مختص نہ کرنے پر اعتراض کیا؟ فاروق نائیک نے کہا کہ ہم تو صرف بٹن دبا سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے؟

    پیپلزپارٹی وکیل فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کر دی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اجلاس شروع ہوا تو فواد چودھری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سوال کیا فواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت اسپیکر دیتا ہے کہ ایوان ؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے؟ اگر اسپیکر تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کردیا گیا، 27مارچ کو عمران خان نے جلسہ میں غیر ملکی خط لہرایا عمران خان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن بیرونی لوگوں کی سازش کا حصہ ہے،31مارچ کو نیشنل سیکیورٹی کونسل اور کابینہ کا اجلاس ہوا،اسپیکر نے اختیارات سے تجاوز کر کے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کریں

    وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز فواد چودھری نے بیرون ملک سے موصول ہونے والے خط پر تقریر کی 31مارچ کو رولنگ میں بھی تحریک پر بحث کا نہیں کہا گیا اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی کوشش بھی کی عمران خان نے 27 مارچ کو عوامی جلسے میں ایک کی سازش سے آگاہ کیا تین اپریل کو اجلاس اس لئے بلایا گیا کہ اس دن بحث ہوگی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ رولز میں وہ کونسی پرویژن ہے جس کے تحت اسپیکر بحث کی اجازت دیتا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رول 28 میں ہے کہ اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوجاتا ہے تو اس پر بحث ایوان میں کرانی لازم تھی جو رولنگ دی گئی تھی وہ غیر قانونی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ایسی کوئی رولنگ جو اسپیکر کا اختیار ہے وہ اس پر رولنگ دے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ دینے وقت اسپیکر موجود نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رولنگ غیر قانونی ہے،ایوان میں اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس پر ایوان میں بحث لازمی ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے؟ رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے،اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے آفس میں فائل پر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات کی منتقلی ایسے ہی ہے جیسے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات ہوں،جس رولنگ کو آپ چیلنج کررہے ہیں آپ کے مطابق وہ ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات میں نہیں رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے، جسٹس مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں جب 198 ووٹرز موجود تھے تو پھر کیا ووٹنگ ہونا چاہیے تھی،ایوان میں فیصلہ تو ووٹنگ کے تحت ہونا ہے، فاروق ایچ نائک نے کہا کہ ممبر کیریکٹر پر ایوان میں بات نہیں ہوتی صرف ووٹنگ ہوتی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،قائمقام سپیکر کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے،جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ سے ارکان کو غدار قرار دیدیا،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کے معاملہ پر ووٹنگ ہونا تھی،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ 3اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھا،دوسرا کوئی ایجنڈا کارروائی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، ایوان میں ووٹنگ کیلئے اپوزیشن کے 198 ارکان موجود تھے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ 198ارکان میں کیا پی ٹی آئی کے ارکان بھی شامل تھے؟ فاروق نائک نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے ووٹ تو نہیں ڈالا،اپوزیشن کے 175 ارکان موجود تھے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 اکثریت کی بات کرتا ہے، کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد 3 منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی نکتے پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے یہ بتائیں؟ اسپیکر کیطرف سے ارکان اسمبلی کو غدار قرار دینے کی رولنگ غیر قانونی کیسے ہوئی؟ اگر ہم سمجھیں کہ دی گئی رولنگ غیر قانونی ہے تو وہ کیوں ؟ اس بارے میں بتائیں .آپ کہتے ہیں کہ ایک بار موشن ایوان میں پیش ہوجائے تو اسکا فیصلہ جو بھی ہو، ایوان میں پیش ہونے کے بعد موشن کے قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا نہیں جاسکتا، آپ کا مطلب ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا یہ موقف یہی ہے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اسکی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پروسیجرل غلطی آرٹیکل 69 میں کور نہیں ہوگی،پارلیمان کی کارروائی کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ وہ کون سی اسٹیج ہے جہاں اسپیکر قرارداد کی ویلیڈیٹی کو دیکھ سکتا ہے ؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ صرف آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی پر۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یعنی آپکے مطابق اسپیکر کے پاس کوئی گراؤنڈ موجود نہیں تھا کہ وہ قرارداد کو ختم کرتے اور انکا یہ عمل بدنیتی پر مبنی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے میں درخواست گزاروں سے زیادہ جلدی میں ہے ہم اس فیصلے میں تاخیر نہیں کرنا چاہتے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج بھی ہو سکتی اور کالعدم بھی، اپوزیشن کو آج ہی فیصلے کا انتظار مگر ان کی وکیل نے عدالتی سوالات پر جواب کیلئے کل تک کی مہلت مانگ لی ،فاروق نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج ہو سکتی ہے، عدالت نے کہا کہ اپنے اس نکتے پر عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیں،فاروق نائک نے کہا کہ کل تک کا وقت دیں تو مطمئن کر سکتا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ وقت مانگ رہے ہیں ہم تو آپ سے زیادہ کام کر رہے ہیں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایوان کا ہے،کوئی عدالتی فیصلہ بتائیں جس میں عدالت نے آرٹیکل 69 کی تشریح کی ہو، آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے،غیر قانونی غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگررولنگ کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو یہ مستقبل میں ہمارے لیے مسائل پیدا کریگا رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا،تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا،محب وطن ہونے اور مذہب کارڈز سے ابھی تک جمہوریت باہر نہیں نکل سکی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا موقف دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کو کل تک ملتوی کر دیتے ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس کو عدالت آج مکمل کرے اس پر ملکی اور غیرملکی آنکھیں لگی ہوئی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ رضا ربانی آپ اور مخدوم علی خان کتنا وقت دلائل کے لیے لینگے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ممکن ہوسکے تو کل تک سماعت ملتوی کریں آج ہی سماعت مکمل کرکے آج فیصلہ دیں ایسا ممکن نہیں یہ بڑا حساس معاملہ ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس پر سماعت کل 12بجے تک ملتوی کر دی گئی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات مستقبل پر پڑیں گے،فاروق نائک نے کہا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کو توڑ چکے ہیں اور عمران خان کو وزیر اعظم رکھا گیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اگر اپنے دلائل تحریری کے طور پر دیتے تو 2 گھنٹے میں سارے وکلا کو سن لیتے،ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،

    قبل ازیں اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ عدالت کے سامنے رکھیں گے، جو بھی عدالتی فیصلہ ہوگا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن شہباز شریف سپریم کورٹ پہنچ گئے ،ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب بھی شہباز شریف کے ہمراہ تھیں، پی ٹی آئی اور متحدہ اپوزیشن کے رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے

    سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی ڈپٹی اسپیکر رولنگ پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب کیا ہے، عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے وکلاء کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا تھا صدر مملکت، سیکریٹری دفاع و داخلہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کیا گیا جبکہ عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل سے ازخود نوٹس میں معاونت طلب کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر گذشتہ روز کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

  • عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز
    اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں تو تختہ دار پر لٹکا دیں پرعدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ دن ملکی تاریخ میں سیاہ دن تھا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا گزشتہ دن تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر لکھا جائے گا عمران خان اور حواریوں نےآئین کی واضح خلاف ورزی کی ،24 مارچ کو اسپیکر نےعدم اعتماد کی تحریک کو جمع کیا اگر اعتراض تھا تو اسے اپنے دفتر میں ہی مسترد کرتے،تحریک کو ہر صورت ووٹنگ کے لیے پیش کیا جانا تھا عمران نیازی کی فسطائی سوچ غالب آئی اور ڈپٹی اسپیکر کو استعمال کیا گیا ،عمران خان اور ٹولے نے گزشتہ روز آئین شکنی کی 24مارچ کو اسپیکر نے عدم اعتماد کو ایجنڈا میں شامل کیا اگر آرٹیکل 5 کے زمرہ میں کوئی چیز آرہی توایجنڈا میں کیوں شامل کیا،24مارچ کو تحریک جمع کراتے وقت اعتراض کیوں نہیں اٹھایا،عمران خان اور ٹولے نے آئین کو توڑا اور جمہوریت کو مسخ کردیا عمران نیازی ،صدراورڈپٹی اسپیکر ماورائے عدالت اقدام اٹھاچکے تھے،عدالت عظمٰی نے کہا کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے،ماورائے آئین اقدام تو وزیراعظم، صدراوراسپیکر اٹھا چکے تھے،چند روز پہلے اٹارنی جنرل نے کہا تھا ووٹرز کو جانے دیں گے،ٹی وی پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ ہوگی،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 16مارچ کو امریکا میں سفیر اسدخان نے ڈونلڈ لو کی دعوت کی،دھمکی کے بعد 16مارچ کو دعوت کیوں دی گئی اورشکریہ کیوں ادا کیا گیا ،اگر 7 مارچ کو کوئی میٹنگ ہوئی تو 16 مارچ کی دعوت کا شکریہ کس بات کا؟

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جو ہوا غیر آئینی ہوا 1973 آئین کی بنیاد سیاسی جماعتوں نے رکھا عدم اعتماد جمہوری اور آئینی طریقہ تھا حکومت سے نجات ملنے پر کارکن خوش ہیں ،ہم سب نے ملکر 3ماہ حکومت کا جینا حرام کردیا،ہم جیسی جماعتیں آئین کا دفا ع چاہتی ہیں،ہمیں آئین کوتوڑےجانےپرزیادہ تشویش ہے، وزیراعظم کواندازہ نہیں کہ ہوا کیا ہے ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی غیر آئینی کام کیا جائے عمران خان نے دباو میں آکر سیاسی خود کشی کرلی،وزیراعظم خود اگر استعفیٰ دیتے تو آئینی ہوتا،اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر نے عمران خان کی انا کو سنبھالا حکومت گئی تو وزیراعظم جشن منا رہے ہیں،ذوالفقارعلی بھٹو کو آج تک انصاف نہیں مل سکا،یہ قائدِ عوام کی عظمت کا ثبوت ہے کہ ان کے بدترین مخالفوں کو بھی عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیئے ان کے نام کے پیچھے چھپنا پڑتا ہے یہ قائدِ عوام تھے، جنہوں نے تختہ دار پر چڑھ کر دنیا کو ایک پیغام دیا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ آئین کا تحفظ یقینی بنائے،معاملے پر فل بینچ تشکیل دیا جائے اور جلد فیصلہ سنایا جائے،عدم اعتماد تحریک کا عمل مکمل ہونا چاہیے عدالت کا فیصلہ طے کرے گا کہ کیا آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے ؟ اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں، تو سزا دیں عدم اعتماد کا سلسلہ تو مکمل ہونے دیں جمہوریت چلنے دیں،عدلیہ کے فیصلے سے ملک کی قسمت لکھی جائے گی اگر ہمیں سزا دینی ہے دے دیں تختہ دار پر لٹکانا ہے لٹکا دیں پر عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں یہ پاکستان کے آئین کا معاملہ ہے ہم نے ثابت کیا کہ اپنے ووٹوں سے عمران خان کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان اپنے ووٹوں کی طاقت سے ہم آپ کو الیکشن میں بھی شکست دیں گے،

    جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسد الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے197 افراد کو غدار کہا جاتا ہے اگر پارلیمنٹ کو اس کا حق واپس نہیں دیا جاتا تو پھر یہ فیصلہ گلی گلی میں ہوگا کہ کون غدارہےاورکون وفادار ہے سپریم کورٹ پارلیمان کو اس کا حق واپس کرے پارلیمان فیصلہ کرے گی کہ کون غدار ہے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھرافرا تفری پید اہو گی اور گلی گلی میں فیصلہ ہوگا کہ کون غدارہے اورکون وفادارکل ڈپٹی سپیکر نے جس طرح آئین کو توڑا اس نے آئین کی کئی شقیں معطل کرنے کی کوشش کیں

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے شکست سے بچنے کے لیے سیاسی خود کشی کرلی عمران خان بیانیہ بنا چکے ہیں کہ انکے خلاف عالمی سازش ہورہی ہے، سازش ہورہی ہے تو ایک کمیشن بنائیں اور سچ ثابت کریں ،میں آپکے ساتھ ہوں،اگرعمران خان جھوٹ سڑکوں پر لیکر آئیں گے تو ہم اپنا سچ لیکرآئیں گے الیکشن میں ہم سے 14 سیٹیں جیتیں وہ عمران خان نے ہم سے چھینی تھیں ہم نے عمرا ن خان سے حکومت چھین لی ہے،

    ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان نےآئین سے کھلواڑ کیا ،عمران خان خط کو عدالت میں پیش کریں جاننا چاہتےہیں کون سی سازش عمران خان کے خلاف ہورہی ہے،

    واضح رہے کہ قومی اسمبی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

  • پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا
    گورنرپنجاب عمرسرفرازآج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے

    گورنرپنجاب وزیراعظم سےآئندہ کےلائحہ عمل سے متعلق رہنمائی لیں گے گورنرپنجاب پارٹی کےآئندہ اجلاسوں میں بھی شریک ہوں گے ،باخبر ذرائع کے مطابق ملاقات میں پنجاب اسمبلی توڑنے سے متعلق فیصلے کا امکان ہے، پنجاب کے بعد خیبر پختون خواہ اسمبلی بھی تحلیل کیے جانے کا امکان ہے

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نےعثمان بزداراورمحمودالرشید کواسلام آباد بلا لیا ،پنجاب کے سیاسی بحران میں ممکنہ آپشنز پر مشاورت ہوگی ،محمودالرشید پنجاب کی نمبرگیم سےمتعلق بریف کریں گے ، عمران خان نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں پارٹی کی سینئر قیادت شریک ہوگی ،اجلاس میں عمران خان آئندہ انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے اہم ہدایات دیں گے

    گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا
    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ 43 سال گزرنے کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو ملک کی سیاست کا مرکز ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف بھی ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں،ذوالفقار بھٹو ایک ایسی تاریخ ہیں، جس کو کوئی بھی مٹا نہیں سکتا آج پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت ذوالفقار علی بھٹو کے آئین کے بدولت ہے، افسوس ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے آئین کی مسلسل بے حرمتی کی ہے، اپنی کرسی بچانے کے خاطر ملک میں سنگین آئینی بحران پیدا کر دیا گیا آئین پاکستان کی خلاف ورزی سب سے بڑا جرم ہے، حکومت نے آئین کے ساتھ جو بے حرمتی کی وہ ناقابل معافی جرم ہے،

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    https://login.baaghitv.com/480049-2shehbaz-sahreef-ki-hazri-say-sastsna-ki-darkahaat/

  • عمران خان سابق وزیراعظم ۔کابینہ تحلیل:نوٹفکیشن جاری

    عمران خان سابق وزیراعظم ۔کابینہ تحلیل:نوٹفکیشن جاری

    اسلام آباد:عمران خان سابق وزیراعظم ۔کابینہ تحلیل ۔نوٹفکیشن جاری ،اطلاعات کے مطابق عمران خان کا بطور وزیراعظم عہدہ ختم ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، نگران وزیراعظم کے تقرر تک کام کرتے رہیں گے، 52 رکنی کابینہ بھی تحلیل کر دی گئی۔

    کابینہ ڈویژن نے عمران خان کو بطور وزیراعظم ڈی نوٹیفائی کر دیا جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق آرٹیکل 94 کے تحت صدر مملکت نے وزیراعظم کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔

     

    نوٹیفکیشن کے مطابق نگران وزیراعظم کی تقرری تک عمران خان بطور وزیراعظم کام کر سکتے ہیں، کابینہ ڈویژن نے 25 وفاقی وزرا،4وزرائے مملکت 4 مشیروں، 19 معاونین خصوصی کو بھی ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔

     

     

    ادھر بنی گالہ میں سیاسی کمیٹی کے اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں نگران وزیراعظم کے لیے ناموں پر غور کیا گیا۔

     

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔

    اجلاس میں نگران وزیراعظم کے لیے ناموں پر غور کیا گیا، حکومت کی جانب سے نگران وزیراعظم کے لیے نام کل اپوزیشن لیڈر کو بھجوائے جائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجودہ صورتحال اور قانونی امور پر بریفنگ دی گئی۔دوسری جانب کل سہ پہر وزیراعظم عمران خان، پروگرام آپکا وزیراعظم آپکے ساتھ میں عوام کی براہ راست ٹیلی فون کالز وصول کریں گے اور عوام کے سوالات کے جواب دیں گے۔

  • ابھی تک اپوزیشن کوسمجھ نہیں آرہی ہواکیاہے: اللہ نےآسانیاں پیدافرمائیں:وزیراعظم عمران خان

    ابھی تک اپوزیشن کوسمجھ نہیں آرہی ہواکیاہے: اللہ نےآسانیاں پیدافرمائیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:ابھی تک اپوزیشن کو سمجھ نہیں آرہی ہوا کیا ہے:وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے پر کہا ہے کہ کل رات اگر سب کو بتا دیتا تو اپوزیشن آج صدمے میں نہ ہوتی، ابھی تک اپوزیشن کو سمجھ نہیں آ رہی ہوا کیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل شام کو اراکین اسمبلی سے کہا تھا ’گھبرانا نہیں‘،ابھی تک اپوزیشن کوسمجھ نہیں آرہی ہوا کیا ہے، بیرون ملک سے حکومت تبدیلی کی سازش کی گئی، نیشنل سیکیورٹی کونسل کو بیرونی سازش سے تفصیل سے آگاہ کر دیا تھا، نیشنل سکیورٹی کونسل نے واضح کہہ دیا عدم اعتماد میں بیرونی مداخلت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جب قومی سلامتی کمیٹی نے کنفرم کر دیا تو عدم اعتماد غیر متعقلہ تھی، بیرونی طاقتیں کسی آزاد ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتیں، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف سمیت تمام سروسز چیف موجود تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے منٹس جاری کیے گئے، یہ ایک باہرسے پلان کیا گیا تھا، کمیٹی نے واضح طور پر کہا خط میں بیرونی سازش ہے، اپوزیشن کو سمجھ نہیں آرہی ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

  • ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ معطل کرنےکی درخواست مسترد:اپوزیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکارہونےلگی

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ معطل کرنےکی درخواست مسترد:اپوزیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکارہونےلگی

    اسلام آباد:ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ معطل کرنےکی درخواست مسترد:اپوزیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکارہونےلگی ،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ معطل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کونوٹس جاری کر دیا۔

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، بنچ میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس محمدعلی مظہر شامل تھے۔

    عدالت نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف درخواست پر ابتدائی موقف سننے کے بعد اٹارنی جنرل سمیت سیکرٹری داخلہ اور دفاع کو نوٹس جاری کر دیا۔

    سپریم کورٹ نے واضح ہدایات دیں کہ اسمبلی میں جو ہوا اس پر ججز نےنوٹس لینےکافیصلہ لیا تمام ریاستی ادارے کوئی غیرقانونی قدم نہ اٹھائیں امن وامان کی صورتحال خراب نہیں ہونی چاہیے تمام سیاسی جماعتیں امن وامان یقینی بنائیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی تجویز پر صدر مملکت عارف علوی قومی اسمبلی تحلیل کر چکے ہیں، اس سے قبل ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دی تھی۔

    ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں کہا قرارداد آئین کے آرٹیکل 5 اے کے منافی ہے، یہ عالمی سازش کے تحت لائی جا رہی ہے، کسی غیر ملکی طاقت کو حق نہیں کہ منتخب حکومت سازش کے تحت گرائے۔

    بعد ازاں، وزیر اعظم عمران خان کی سفارش پر صدر مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی، صدر نے اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری آئین کے آرٹیکل اٹھاون ون اور اڑتالیس ون کے تحت دی۔

  • ملک کی سیاسی صورت حال پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    ملک کی سیاسی صورت حال پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ملک کی سیاسی صورت حال پر از خود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ اس حوالے سے کیسا بنچ تشکیل دے گی اور اس میں کون سے ججز شامل ہوں گے ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے

    ترجمان سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ملک میں حالیہ سیاسی صورت حال پر نوٹس لے لیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    دوسری جانب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنما بھی سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائز پر صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے۔

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے، ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لائی جا رہی ہے، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا رہی ہے، اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل فائیو اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے، کیا بیرون ملک کی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل ہوسکتی ہے، کیا یہ آئین کے آرٹیکل کے 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیا پاکستانی غلام، فقیر یا کٹھ پتلی ہیں، بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک میں رجیم بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد رولز کی خلاف ورزی ہے، لہذا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم کو مبارک دینا چاہتا ہوں اسپیکر قومی اسمبلی نے رجیم تبدیل کرنے کی تحریک مسترد کر دی، عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، پوری قوم پریشان تھی، غدار بیٹھے ہوئے تھے، ملک کیساتھ غداری ہو رہی تھی، سب کو یہی پیغام دیا گھبرانا نہیں، انشااللہ ایسی سازش قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی، صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل تجویز بھیج دی ہے، کسی بیرونی قوت نے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ملک کیساتھ ہونیوالی بڑی سازش فیل ہوگئی، عوام فیصلہ کریں نہ کہ بیرونی طاقت ہمارے معاملات کا فیصلہ کرے، اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ ارکان اسمبلی خریدنے کی بجائے غریبوں کا بھلا کر دیں، ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔

  • پیپلز پارٹی کے وکلاء پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت میں داخل ہو گئے

    پیپلز پارٹی کے وکلاء پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت میں داخل ہو گئے

    مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ کچھ دیر میں سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی جائے گی-

    باغی ٹی وی : مریم اورنگزیب نے کہا کہ زاہد حامد،اعظم تارڑ،فاروق نائیک اور کامران مرتضیٰ پٹیشن تیار کررہے ہیں، کچھ دیر میں سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی جائے گی-

    عمران خان پر غداری کا مقدمہ ہو گا ، شہباز شریف

    ذرائع کا کا کہنا ہے کہ عدالتی عملہ سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گیا ہے ذرائع کے مطابق مصطفیٰ نواز کھوکر نے کہا ہے کہ سینیٹر فاروق نائیک اور رضا ربانی پٹیشن تیار کر رہے ہیں ہم ساڑھے3 بجے سپریم کورٹ پہنچیں گے-

    دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ امید ہے سپریم کورٹ غیر آئینی قدم کالعدم قرار دے گی-

    سابق صدر آصف علی زرادری کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی کام ہوا ہے،عدالت اس اقدام کو اٹھا کر پھینک دے گی،وستوں کی خواہش تھی ان کے سوچ پر چلنا پڑتا ہے ،دیکھتے ہیں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے،ہم الیکشن اور ہر صورت حال کے لیے مکمل تیار ہیں-

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنیٹرینز کی طرف سے درخواست تیارکرلی گئی درخواست کچھ دیر بعد سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی درخواست نیئر بخاری کی توسط سے دائر کی جائے گی-

    اپوزیشن کو بڑا جھٹکا عدم اعتماد کی تحریک مسترد

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے دی گئی رولنگ کو کالعدم قرار دیا جائے،اسپیکر او رڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد تحریک پر دوبارہ ووٹنگ کی ہدایت کی جائے-

    درخواست کے متن میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر کا اقدام آئین کے مختلف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے علاوہ ازیں درخواست میں کہا گیا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لئے آج ووٹنگ کرانے کی ہدایت کی جائے-

    ادھر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی آئینی صورت حال کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ پہنچ گئے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے ساتھی ججز کو مشاورت کے لیے بلایا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ساتھی ججز کو مشاورت کے لیے اپنےگھر پر بلایا ہے کیونکہ اتوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ کورٹ کو تالے لگے ہوئے ہیں تاہم اب اطلاعات ہیں کہ سپریم کورٹ کے تالے کھول دیے گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اور عدالتی عملہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے وکلاءبھی پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت عظمیٰ میں داخل ہو گئے ہیں۔ وکیل شہباز کھوسہ سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست دائر کریں گے ۔

    دوسری جانب شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جائیں یا کسی اورعدالت ، سپریم کورٹ اسپیکرکےخلاف فیصلہ نہیں دے گی، میری معلومات کے مطابق ریاستی ادارے بھی انتخابات چاہتے ہیں غیر ملکی مداخلت پر پاکستان کی سالمیت کا سوال پیدا ہو جائے تو سب متحد ہیں،لڑائی گلی محلے تک پہنچ چکی ہے۔

    نئے الیکشن کے لیے آصف زرداری کے سوا سب تیار ہے،جب تک سپریم کورٹ کا کیس ہوگا، انتخابات کےدن آچکےہوں گے وزیراعظم نے کوئی سرپرائزنہیں دیا،میں تواشاروں میں سمجھارہا تھا، لیکن آپ لوگوں کوسمجھ نہیں آئی، اب عمران خان کودوتہائی کی اکثریت دلانی ہے۔

    صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی

  • عمران خان پر غداری کا مقدمہ ہو گا ، شہباز شریف

    عمران خان پر غداری کا مقدمہ ہو گا ، شہباز شریف

    قومی اسمبلی کا اجلس ملتوی کرنے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل دیا گیا ہے،‏اپوزیشن نے فوراً سپریم کورٹ جانے اور قومی اسمبلی میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اب سپیکر اور وزیراعظم پر آرٹیکل سکس لگے گا کیونکہ انہوں نے قانون توڑا ہے اب بغاوت کا مقدمہ ہو گا آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا،عمران خان اور ان کے حواری جمہوریت کا چہرہ مسخ کرنا چاہتے ہیں،ڈپٹی اسپیکر نے آئین کی دھجیاں اڑا دیں-

    عامرلیاقت نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا

    ماہر قانون حامد خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو عدالت جانا چاہیے جبکہ ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آئین توڑا ہےاسپیکر نے غیر آئینی رولنگ دی،یہ بڑا معاملہ ہے جو سپریم کورٹ کے سامنے آئے گا –

    بلاول کا کہنا ہے کہ سپیکر نے آئین توڑا اپوزیشن کا تعداد مکمل تھا ہم شکست دے رہے تھے آخری موقع پر سپیکر نے غیر آئینی کام کیا آئین کو توڑنے کی سزا واضح ہے اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم دھرنا دیں گے اور وکلا ابھی ہی سپریم کورٹ پہنچیں گے تا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ آج ہی ہو وزیراعظم پارلیمان تحلیل نہیں کر سکتا انہیں عدم اعتماد کا مقابلہ کرنا پڑے گا جب کہ اسپیکر کے خلاف بھی عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔

    چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ اب سپریم کورٹ نے فیصلہ دینا ہے، یہ بچگانہ حرکت ہے، یہ میدان سے بھاگنا ہے، عمران خان اپنے آپ کو ایکسپوز کرچکا ہے، عوام سے اپیل کرتا ہوں وہ جمہوریت اور آئین کا ساتھ دیں، ہم کسی غیر جمہوری شخص کو آئین پر ڈاکا مارنے کی اجازت نہیں دیں گے-

    ڈپٹی اسپیکر نے الیکشن کا شیڈول بدل دیا،پرویز الہٰی

    بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے آئین اور قانون توڑا ہے،وزیراعظم عمران خان نے آج بغاوت کی ہے،ہم نے پوری دنیا کو دکھایا کہ ہمارے پاس 190 سے زیادہ ارکان ہیں-

    انہوں نے کہا کہ عمران خان آرٹیکل 6 کے تحت پھنس گئے ہیں، انہوں نے جو الزام لگایا وہ کیس سپریم کورٹ نے بھی نہیں سنا، عمران خان کے پاس عالمی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ہے سپریم کورٹ نے اتوار کے روز از خود نوٹس لیا


    مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ توئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپنی کرسی کو بچانے کی خاطر آئینِ پاکستان کا حلیہ بگاڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اس جرم پر اگر اس پاگل اور جنونی شخص کو سزا نا دی گئی تو آج کے بعد اس ملک میں جنگل کا قانون چلے گا!

    اللہ کا شکر ہے کہ غیر آئینی کام کرنے سے بچ گیا،چوہدری سرور

    قمر زمان قائرہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم کہتا ہے کہ میں اقتدار نہیں چھوڑوں گا، میں آخری بال تک کھیلوں گا انہوں نے پورے پاکستان کی اسٹرکچر کو چیلنج کرنےکی کوشش کی تحریک انصاف والوں نے بد تمیزی کی انتہا کردی،آپ پاکستان کے اندر کون سا انارکی کا نظام لانا چاہتے ہیں،اب ان کو کان سے پکڑ کر ٹھیک کریں گے-

    واضح رہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اسمبلی اجلاس میں بدترین ہنگامہ آرائی کو جواز بناتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6 اپریل تک ملتوی کر دیا تھا پنجاب اسمبلی کا اجلاس صرف 6 منٹ ہی چل سکا جس کے باعث نا تو آج نئے وزیراعلیٰ کے چناؤ کے لیے ووٹنگ ہو سکی اور نا ہی پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکی-

    اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے اور شدید نعرے بازی کی اپوزیشن ارکان نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف ایوان میں دھرنا دے دیا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد : ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا رد عمل

  • صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا قوم سے خطاب کرتے ہوئے قوم سے کہنا تھا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے کسی باہر کی قوت نے فیصلہ نہیں کرنا میں نے صدر کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا کہہ دیا اب نگراں حکومت بنے گی اور الیکشن ہوں گے تاہم اب صدر مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کر لی ہے-

    اپوزیشن کو بڑا جھٹکا عدم اعتماد کی تحریک مسترد

    انہوں نے کہا کہ حکومت گرانے کی سازش فیل ہو گئی ہے اب قوم الیکشن کی تیاری کرے اور غدار بھی یاد رکھیں ان کے ساتھ کیا ہونے والا پیسوں کی بوریاں ضائع ہوں گی-

    انہوں نے کہا کہ مجھے گزشتہ روز سے لوگ پیغام دے رہے تھے کہ غداری ہو رہی ہے میں نے قوم سے کہا تھا کہ گھبرانا نہیں جنہوں نے پیسے لیے ہیں وہ لنگر خانوں میں دے دیں جمہوری معاشرے میں عوام کے پاس جائیں، الیکشن ہوں، عوام فیصلہ کرے وہ کسے چاہتے ہیں، کوئی باہر سے سازش، کرپٹ لوگ، پیسہ دے کر قوم کا فیصلہ نہ کریں۔

    پنجاب اسمبلی میں حکومتی رکن مستعفیٰ

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنہوں نے اچکنیں سلوائیں اور لوگوں کو کروڑوں روپے دیے تو وہ پیسہ ضائع ہوگا کوئی باہر سے یا کرپشن کا پیسہ اس ملک کا فیصلہ نہیں کرےگا، جیسے ہی صدر اسمبلیاں تحلیل کریں گے تو نگراں حکومت کا عمل شروع ہوگا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ملک سے بہت بڑی سازش کی جارہی تھی، 22 کروڑ قوم کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی وہ سازش فیل ہوگئی، اس پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں-

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرپی ٹی آئی کی خواتین کارکنان گرفتار