Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • قومی اسمبلی کا آج کا اجلاس،تحریک عدم اعتماد ایجنڈے میں شامل:پی ٹی آئی کےمنحرف ارکان کوپکڑنےکی چال

    قومی اسمبلی کا آج کا اجلاس،تحریک عدم اعتماد ایجنڈے میں شامل:پی ٹی آئی کےمنحرف ارکان کوپکڑنےکی چال

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کا آج کا اجلاس،تحریک عدم اعتماد ایجنڈے میں شامل:پی ٹی آئی کےمنحرف ارکان کوپکڑنےکی چال ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کیے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس آج پھر ہو گا۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔ ایجنڈے کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر بحث کی جائے گی۔

    قرارداد کے متن کے مطابق وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں، عمران خان اب وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائِز نہیں رہ سکتے۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث کا آغاز کریں گے۔

    باغی ٹی وی کو بااعتماد ذرائع سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیاہے کہ آج کے اجلاس میں صرف بحث ہوگی اورپھراس اجلاس میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کواجلاس میں شرکت کے دوران ہتھیانے کا پروگرام بھی ہے جس کے لیے اہم وسائل بھی حاصل ہوں گے ، ان اراکین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا فی الحال پوچھنے کے باوجود یہ نہیں بتایا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ان منحرف پی ٹی آئی کے ممبران کے ووٹ توکاسٹ ہوں گے مگرآئینی طورپراسپیکرکے اختیار میں ہےکہ وہ ان کوگنتی میں شمار کرے یا ناں کرے

    خیال رہے کہ 28 مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔

    نمبر گیم کی صورتحال پر بات چیت کی جائے تو جمہوری وطن پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد متحدہ اپوزیشن کو عددی نمبر سے بھی زیادہ تعداد حاصل ہو گئی ہے۔ سندھ ہاؤس میں 196 اراکین اسمبلی نے شرکت کی، اپوزیشن کی طرف سے تمام رہنماؤں سے دستخط لے لیے گئے ہیں۔

  • وزیراعظم کی جان کو خطرہ:قتل کی سازش کی جا رہی ہے:   اللہ حفاظت فرمائیں:اہم شخصیت نےخطرے کی گھنٹی بجادی

    وزیراعظم کی جان کو خطرہ:قتل کی سازش کی جا رہی ہے: اللہ حفاظت فرمائیں:اہم شخصیت نےخطرے کی گھنٹی بجادی

    لاہور:وزیراعظم کی جان کو خطرہ:قتل کی سازش کی جا رہی ہے:اللہ حفاظت فرمائیں:اہم شخصیت نےخطرے کی گھنٹی بجادی ،اطلاعات کے مطابق سابق وفاقی وزیر و تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں فیصل واوڈا کا کہنا تھاکہ وزیراعظم عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور انہیں قتل کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ وزیراعظم عمران خان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور انہیں کئی بار کہا کہ جلسے مں بلٹ پروف شیشہ لگوائیں۔

    فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا جب میری موت لکھی ہوگی چلا جاؤں گا۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سیکورٹی اداروں کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جان خطرے میں ہے اس لیے سیکورٹی اداروں کی ہدایت پر وزیراعظم نے اپنی نقل و حرکت محدود کردی ،

    اسی حوالے سے انکشاف کرتےہوئےبڑی شخصیت وفاقی وزیرنے خبردار کیا تھا کہ وزیراعظم کی جان کو خطرات ہیں لیکن وہ پرواہ نہیں کرتے،وزیراعظم نے اپنی نقل و حرکت محدود کردی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ ہم پر ڈبل گیم کا الزام لگا لیکن حقیقت میں ہمارے ساتھ ڈبل گیم ہوئی ،ہم نے امریکا کاساتھ دیا، بدلے میں افغانستان میں براہمداغ جیسوں کو کیمپس دے دیئے ،ان کاکہناتھاکہ اڈے مانگنے کی بات سرکاری طور پر نہیں ہوتی ۔

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل سینئر صحافی ہارون الرشید کا بھی ایسا ہی بیان سامنے آیا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکا کے خلاف بیان دے کر جان خطرے میں ڈال دی

    یاد رہے کہ باغی ٹی وی اس حوالے سے ایک مفصل رپورٹ جاری کرچکا ہے جس میں عمران خان کو اسرائیل ، بھارت ، امریکہ ،افغانستان اورپاکستان کے خلاف سازشوں میں حصے دار چند دیگرممالک وزیراعظم عمران خان کوراستے سے ہٹانا چاہتے ہیں ،اس سلسلے میں غیرملکی ایجنسیاں ملک کے اندر موجود غیرملکی دہشت گردوں سے مدد حاصل کرسکتی ہیں‌

  • وزیراعظم پاکستان کودھمکی آمیزخط پبلک نہ کریں:آپ ایک ذمہ دارشخص ہیں:اسلام آبادہائی کورٹ کا حکم

    وزیراعظم پاکستان کودھمکی آمیزخط پبلک نہ کریں:آپ ایک ذمہ دارشخص ہیں:اسلام آبادہائی کورٹ کا حکم

    اسلام آباد:وزیراعظم پاکستان کودھمکی آمیزخط پبلک نہ کریں:یہ ان پرذمہ داری عائد ہوتی ہے:اسلام آبادہائی کورٹ کا حکم،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو خفیہ دستاویزات پبلک کرنے سے روک دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ایک شہری کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامے میں وزیراعظم کے حلف کا حوالہ دیا اور کہا کہ امید ہے کہ وزیراعظم اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔

     

     

    عدالت کا کہنا تھاکہ اعتماد ہے کہ وزیراعظم ایسی معلومات افشا نہیں کریں گے جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حلف اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ وزیراعظم کو پابند بناتا ہے کہ اس سے بالاتر کوئی فیصلہ نہ کریں۔

    فیصلے میں عدالت نے آئین کے آرٹیکل 91 شق 5 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق 5 کا حوالہ دیا اور کہا کہ اعتماد ہے بطور منتخب وزیراعظم وہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق5 کی خلاف ورزی نہیں کریں گے اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کوئی معلومات افشا نہیں کریں گے۔

    اس حوالے سے سینیئرصحافی مبشرلقمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خبربریک کرتے ہوئے کہا ہے وزیراعظم کو اسلام آباد نے پاکستان کو ملنے والے دھمکی آمیزخط کو پبلک کرنے سے روک دیا ہے،مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ ان کا اپنا خیال ہے کہ  اس بات کی ضرورت ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق بلاجواز روکنے کا حکم جاری کرنا منتخب وزیراعظم پر عدم اعتماد کو ظاہر کریگا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر اعظم کو سیکریٹ دستاویز پبلک کرنے سے روکنے کی درخواست نمٹا دی۔

  • پاکستان میں مکمل امن واپس آئے گا: آرمی چیف

    پاکستان میں مکمل امن واپس آئے گا: آرمی چیف

    اسلام آباد: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کےمکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان میں مکمل امن واپس آئے گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کورہیڈکوارٹرز پشاور کے دورے پر پہنچے تو کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے استقبال کیا۔آرمی چیف کو سیکیورٹی صورتحال اور ضم اضلاع میں ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دی گئی۔

     

    آرمی چیف نے کیپٹن سعد اور لانس ئانیک عرفان شہید کی نمازجنازہ میں شرکت کی۔ گورنر کے پی اور صوبائی وزرا بھی نمازجنازہ میں شریک تھے۔ دونوں اہلکار جنوبی وزیرستان میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

    سپہ سالار نے نئے انضمام اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی تعریف کی اور کہا کہ منصوبے علاقے کے پائیدار استحکام اور پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہیں۔

    جنرل باجوہ نے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سازگار ماحول کی فراہمی پر اظہاراطمینان کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع میں دیرپاترقی اوراستحکام اتنہائی ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہے، شہدا کی فروغ امن کیلئے قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، پاکستان میں مکمل امن واپس آئے گا۔

  • اور ایم کیو ایم نے کپتان کو چھوڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا

    اور ایم کیو ایم نے کپتان کو چھوڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا

    اور ایم کیو ایم نے کپتان کو چھوڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا
    متحدہ اپوزیشن اور ایم کیوایم کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی

    بلاول بھٹو،شہبازشریف،مولانا فضل الرحمان اور خالد مقبول صدیقی پریس کانفرنس میں موجود تھے، خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آج تاریخی موقع پر جمع ہوئے ہیں، آج کا دن دعاوں کا دن ہے،امید کرتاہوں اب دعووں اور وعدوں سے آگے کام کریں،ہمارے معاہدے کی ایک ایک شق پاکستان کے عوام کیلئے ہے، ہمارا ذاتی اور جماعتی کوئی بھی مفاد شامل نہیں،اپنے تمام سیاسی مفادات پر پاکستان کے مفادات کو ترجیح دی ہے،چاہتے ہیں کہ ایسے دور کا آغاز ہو جہاں سیاسی اختلاف ، ذاتی دشمنی نہ سمجھی جائے، چاہتےہیں سیاسی اختلافات ختم کرکے آگے بڑھیں،چاہتےہیں سیاسی اختلافات ختم کرکے آگے بڑھیں ،تبدیلی کے اس سفر میں اب متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں،

    پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا فیصلہ پورے پاکستان کیلئے ایک سیاسی یکجہتی کا اظہار ہے،ایم کیوایم کا متحدہ اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا فیصلہ بہت اچھااقدام ہے ایم کیوایم کا فیصلہ کراچی اور سندھ کےمفادات میں ہے،عوام کا شکر گزارہیں جنہوں نے سلیکٹڈ کو نکالنے کےلیے قربانیاں دیں، پاکستان میں صحت مند سیاست کی بنیاد ڈالنا چاہتےہیں،پونے 4سال سے ہونے والے ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا جن دوستوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا انہیں چاہیے کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوں اب بھی وقت ہے جو دوست فیصلہ نہیں کرسکے جلدی کرلیں، پاکستان میں معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے،اب سب کچھ حکومت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، سناہے وہ قوم سے خطاب کرے گا،عالمی سازش اس وقت ہوئی تھی جب عمران خان کو لایا جارہا تھا،متحدہ اپوزیشن اپنے موقف پر آخری دم تک قائم ہے،کوئی سازش نہیں ہورہی یہ سب ڈرامہ ہے آپ کی کوئی حیثیت نہیں کہ آپ کے خلاف سازش ہو،م

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کو اپنے ساتھ شریک سفر ہونے پر خوش آمدید کہتاہوں آج پاکستان کی تاریخ میں بہت اہم دن ہے ایم کیو ایم کے ساتھ 20منٹ میں معاملات طے ہوئے،امید کرتا ہوں کہ معاہدے پر عملدرآمد ہوگا، وزیراعظم عمران خان آج اکثریت کھو چکے ہیں۔ انہیں چاھئے کہ استعفیٰ دے کر ایک روایت قائم کریں۔

    سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ حکومت کو پہلے ہی دن کہاتھا کیچ اور رن آوٹ نہیں ہوں گے،آپ کی صرف وکٹ اڑائیں گے ،بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے، ہمیں نیا اور پرانا پاکستان نہیں چاہیے وہ پاکستان چاہیے جس میں ہمیں جینے کا حق ہو،ہمیں وہ پاکستان چاہیے جس میں ہر صوبے کو اپنے وسائل پر حق ہو، آپ کا جتنا کھیل کا تجربہ ہے اس سے زیادہ ہمارا سیاست کا تجربہ ہے،حکومت نے ہماری کوئی بات نہیں سنی،حکومت سے درخواست ہے اب مستعفی ہونے کا وقت آچکاہے،بین الاقوامی سازشوں کا چورن بہت پراناہے خان صاحب کا تجربہ کھیل میں زیادہ ہے اور ہمارا سیاست میں ،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے کراچی کے مفاد اور مسائل کو دیکھتے ہوئے حکومت سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا، ایم کیوایم پاکستان نے کراچی کے مفادات میں اچھا فیصلہ کیاہے،ایم کیوایم کا متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ تاریخی فیصلہ ہے،پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے ہر حال ہر صورت میں مل کر کام کرنا ہے،پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم تعلق عدم اعتماد سے نہیں ہے،2018میں الیکشن کے نام پر جو الیکشن ہوئے وہ سلیکشن تھی، اس سلیکشن کا نقصان کراچی اور پورے ملک کی قوم اٹھا رہی ہے ،وزیراعظم عمران خان اپنی اکثریت کھوچکے ہیں،وزیراعظم کو چاہیے کہ اب وہ استعفیٰ دیں،اب عمران خان وزیراعظم نہیں رہے،کل ہی قومی اسمبلی کا اجلاس ہے، کل ہی ووٹنگ رکھتے ہیں،ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کے تعلقات خراب کرنے کی سازش کی گئی،کراچی کو اس سازش سے بہت نقصان ہوا،کراچی کی ترقی کے لیے دونوں جماعتیں مل کر بھرپور اقدامات کرے گی،شہبازشریف جلد ہی ملک کے وزیراعظم منتخب ہوں گے،متحدہ اپوزیشن مل کر پاکستان کی خدمت کرے گی پاکستانی عوام پر ایک سلیکٹیڈ کو مسلط کیاگیا،متحدہ اپوزیشن نے ملکر سلیکٹڈ کے خاتمے کا فیصلہ کیا،

    خالد مگسی کا کہنا تھا کہ نیا یا پرانا پاکستان نہیں عوامی پاکستان چاہتے ہیں ،پیپلزپارٹی نے ایم کیوایم کے ساتھ معاہدہ کیا اس پر خوشی ہوئی،

    ایم کیو ایم اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ حقیقی معاہدہ ہے جعلی خط نہیں ہے،معاہدہ پر شہبازشریف،بلاول بھٹو اور خالد مقبول صدیقی نے دستخط کیے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان ،خالدمگسی اور سرداراخترمینگل نے بھی دستخط کیے، امین الحق کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ متحدہ اپوزیشن اور دوسرا معاہدہ پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا گیا ہے،

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

    خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ

  • ایم کیو ایم نے میلہ لوٹ لیا، الوداع وزیراعظم عمران خان

    ایم کیو ایم نے میلہ لوٹ لیا، الوداع وزیراعظم عمران خان

    ایم کیو ایم نے میلہ لوٹ لیا، الوداع وزیراعظم عمران خان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے خطاب کے دوران ایک بار پھر سازش کا ذکر کیا میں کئی دن سے کہہ رہا تھا کہ ایم کیو ایم کا اصولی فیصلہ ہے اور طے کر لیا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے گی، سب سے بڑی جماعت سیاسی بن کر ابھری ، سیاسی سوچ و بصیرت کے اعتباد سے تو وہ ایم کیو ایم پاکستان ہے، ایم کیو ایم پر ہمیشہ الزامات لگائے کہ ذاتی مفادات اور عہدوں کے لئے ہر چیز کرتے ہیں لیکن اس بار متحدہ نے دکھایا کہ انکو ہر چیز آفر ہوئی، عہدے، سندھ کی گورننس آفر ہوئی، تا ہم انہوں نے قبول نہیں کی،ایم کیو ایم کے دونوں وزراء نے استعفیٰ بھجوا دیا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کو تمام اختیارات دے کر ایم کیو ایم کو منانے کی کوشش کی گئی،فیصل واوڈا جھوٹ بولنے کی وجہ سے نااہل ہوئے، جھوٹے مکار آدمی کو اپنی مذاکراتی ٹیم کا ہیڈ بنایا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کتنے سیریس ہیں، ایم کیو ایم نے لوکل باڈیز پر بات کی، انکو احساس ہے کہ اگر ووٹر کو ڈلیور نہ کیا تو پھر مشکل کا سامنا ہو گا، ایم کیو ایم نے ذاتی مفاد کی جگہ ووٹر کے مفاد کو ترجیح دی ،یہ قابل تحسین ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے اچھا فیصلہ کیا ہے، متحدہ نے ذاتی مفاد کی جگہ ووٹر کے مفاد کو سامنے رکھا ، شاید انکا ووٹر بھی یہی چاہتاتھا، حکومت بجٹ اناؤنس کرتی رہی لیکن دیا کچھ نہیں،کوئی پیکج نہیں گیا، کراچی کو جو حال ہو گیا، سب کے سامنے ہے، ایم کیو ایم اگلے الیکشن کو دیکھ رہی ہے، وہ افورٹ نہیں کر سکتے تھے کہ اس حکومت کے ساتھ کھڑے ہو کر لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں،وزیراعظم نے من پسند دوست صحافیوں کو بلایا ہے اور انکو خط دکھایا جائے گا،میں وزیراعظم کو مشورہ دوں گا کہ ایسا نہ کریں اگر کیا تو آپ پر سنگین الزام لگ سکتے ہیں،پارلیمنٹ میں دکھا دیں،ڈیفنس کمیٹی میں دکھا دیں، پالیسی والوں کو دکھائیں ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کردار کشی کی گئی، جن لوگوں کو انہوں نے ساتھ ملایا انکو باضمیر کہہ رہے ہیں اور جو انکے گئے وہ لوٹے بن گئے، کیوں، وزیراعظم نے ملک کا بہت نقصان کر دیا ،نوجوانوں نے امیدیں لگائی تھیں وزیراعظم نے مایوس کیا ،عمران خان کے لئے مشکلات شروع، یہ اختتام نہیں ہے، کئی سیاستدانوں کا مستقبل اب تاریک ہو چکا ہے،کئی سیاستدان نیب کے شکنجے میں آئیں گے

  • کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا صدر اسمبلی کارروائی کے بارے میں رائے لے سکتے ہیں؟ کیا عدالتی رائے کی اسمبلی پابند ہے؟ کیا اسپیکر کی ایڈوائس پر صدر نے ریفرنس بھیجا ہے؟ اسمبلی کارروائی کے کسٹوڈین تو اسپیکر ہوتے ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ انکے سوالات کے جواب اٹارنی جنرل ہی دے سکتے ہیں،صدر نے عدالت سے پوچھا ہے ہارس ٹریڈنگ کیسے روکی جاسکتی ہے ہارس ٹریڈنگ روکنے کے سوال کا جواب رائے نہیں بلکہ آئین سازی کے مترادف ہو گا، صدر نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے کسی طریقہ کار پر رائے نہیں مانگی،ریفرنس میں سینیٹ الیکشن میں خریدو فروخت کا حوالہ دیا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63اے میں واضح ہے کہ پارٹی سے انحراف غیر آئینی ہو گا،آپکی گفتگو سے لگ رہا ہے پارٹی سے انحراف غلط کام نہیں، مخدوم علی خان نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں سکا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک نقطہ نظر تو یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف جمہوریت کا حصہ ہے، دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف جان بوجھ کر دیا گیا دھوکہ ہے، آرٹیکل 63 اے پارٹی سے انحراف کو غلط کہتا ہے، سوال یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف کیا اتنا غلط ہے کہ تاحیات نااہلی ہو؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ صدر کے بقول سینیٹ الیکشن میں غلط کام ہوا اور شواہد بھی ہیں، صدر اور وزیراعظم کو ہارس ٹریڈنگ کا علم تھا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسے کے لین دین کا ذکر تھا، پیسوں کے معاملے میں ثابت کرنا لازمی ہے، آرٹیکل 63اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مفروضہ پر بات کررہا ہوں اگر ایک ممبر اپنے ضمیر پر ووٹ دیتا ہے تو وہ ڈی سیٹ ہو گا،صرف 4 شرائط پر عمل کرنے کے بعد ہی آرٹیکل 63اے لگے گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں ممبر نے ووٹر کے طور پر ووٹ ڈالتا ہے،اگرچہ سینیٹ الیکشن میں بھی پیسے لے کر ووٹ ڈالنا جرم ہے ، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کے مطابق پارٹی سربراہ انحراف کا ڈکلیئریشن دیتا ہے، کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی موقع نہیں دیا جائے گا،، مخدوم علی خان نے کہا کہ میرا کہنا ہے آرٹیکل 63اے کہ نتائج آئین میں دیئے گئے ہیں جسٹس اعجاز الاحسن کی آبزرویشن سے متفق ہوں کہ انحراف کا کوئی مثبت منفی کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ صرف اس دفعہ ہارس ٹریڈنگ تو نہیں ہورہی پہلے بھی ہوتی رہی ہے،کیا کیا گیا؟ انحراف کرنے والے واپس اپنی پارٹیوں میں لیے جاتے رہے ہیں ممکن ہے پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے والے کو پارٹی معاف کردے،عدالت آئین پر عمل کے لیے ہے،آئین کے آرٹیکل کو موثر ہونا ہے،سسٹم کمزور ہو تو آئین بچانے کے لیے سپریم کورٹ کو آنا پڑتا ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ پارٹی سے انحراف لازمی نہیں غیر اخلاقی یا کرپشن کی بنیاد پر ہو، پارٹی سے انحراف اچھے مقصد کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے،تاریخ نے سیا ست کو اک برا لفظ بنا دیا ہے، شوکاز کے جواب میں منحرف رکن پارٹی سربراہ کو جواب دے گا، پارٹی سربراہ مطمئن ہو ں تو شوکاز نوٹس واپس ہو جائے گا، عدالتی جواب شاید سیاسی معاملات کو مطمئن نہ کر سکے،برطانیہ میں اپوزیشن کو بھی خصوصی معاملات میں شامل کیا جاتا ہے،اپوزیشن کو آن بورڈ رکھنے کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں، صدارتی ریفرنس کی ٹائمنگ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے،صدر نے تحریک عدم اعتماد آنے پر ہی ریفرنس کیوں دائر کیا،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ او آئی سی کی وجہ سے اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب کیا تھا 20مارچ کو اسپیکر نے بذریعہ نوٹیفکیشن 25 مارچ کا اجلاس بلایا ، مخدوم علی خان نے کہا کہ آئینی طور پر 8 مارچ کے بعد 14 دن میں اجلاس بلانا ضروری تھا ،عدالت کو صرف حقائق بتا رہا ہوں سیاسی بات نہیں کرونگا ، ججز کو عدالت کے باہر ہونے والے معاملات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے،عدالت سے سوال خلا میں نہیں پوچھے جاتے عدالت نے سوالات پوچھتے وقت اور حالات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکے مطابق سماعت کا سیاسی معاملے پر اثر پڑ سکتا ہے؟ آپ کہنا چاہتے ہیں ان حالات میں ایڈوائزری اختیار استعمال نہ کیا جائے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت آئینی سوال کے جواب سے پہلے حالات دیکھا کرے، آپکو سمجھا چاہیے عدالت آئین کی تشریح حالات دیکھ کر نہیں کرتی،عدالتی تشریح کے اثرات حال کیساتھ مستقبل کیلئے بھی ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا سینیٹ الیکشن کو ایک سال گزرنے کے بعد صدر سوال نہیں کر سکتے، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آرٹیکل 63اے پر عمل ووٹ ڈالنے سے شروع ہو گا،صدر کو کیسے معلوم ہو کہ حکومتی جماعت کے لوگ منحرف ہورہے ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب پی ٹی آئی کے وکیل دے سکتے ہیں، ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات مفروضوں اور افواہوں پر مبنی ہیں، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ پارٹی سربراہ کس قسم کی ہدایات دے سسکتا ہے؟ ایک پارٹی سربراہ کی ہدایت کی کاپی میرے پاس ہے، جسٹس مظہر عالم نے عمران خان کی پارٹی اراکین کو دی گئی ہدایات کی کاپی مخدوم علی خان کو فراہم کر دی

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس مظہر عالم نے مخدوم علی خان کو ایک دستاویز دی تھی،جاننا چاہتا ہوں کہ یہ دستاویز کیا تھی؟ کیا یہ کوئی پبلک دستاویز تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستاویز چھوڑیں ہم واپس لیتے ہیں،وقت کم ہے اس معاملے کو چھوڑ دیں، جسٹس جمال خان نے کہا کہ یقینی بنائیں عدالتی کارروائی کی بنیاد پر کچھ ایسا ویسا نہ ہو،

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

  • دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 27 مارچ کے جلسے میں لہرایا گیا خط وزیراعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو دکھانے کی پیشکش کے بعد سینئر صحافیوں کو بھی دکھانے کا اعلان کر دیا،

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ایک جائز جمہوری حق ہے تحریک عدم اعتماد ایک غیر ملکی سارش ہےیہ ان لوگوں کی سازش ہے کہ جو نہیں چاہتے کہ پاکستان کی خود مختار پالیسی ہو خط کے حوالے سے بہت باتیں ہو رہی ہیں، آج میں یہ خط سینئر صحافیوں کو دکھاؤں گا پاکستان کے خلاف باہر سے سازش ہو رہی ہے انجانے میں لوگ سازش کا حصہ ہیں انہیں نہیں پتہ کہ وہ کتنی بڑی سازش کا حصہ ہیں خط کے اندر واضح ہے کہ یہ کتنی بڑی سازش ہے،لوگوں نے جو فیصلہ کرنا ہے کرلیں،خط بین الاقوامی میڈیا سے بھی شییر کیا جائے گا عوام کو نہیں بتا سکتے کہ حکومت کے خلاف بین الاقوامی سازش میں کون کون ملوث ہے لیکن فیصلہ کرلیا کہ آج ٹاپ صحافیوں اور ہر اتحادی جماعت کے ایک نمائندے کو خط دکھا دوں گا۔ جس کو جو فیصلہ کرنا ہے کرلے مجھے ایسے اقتدار کی ضرورت نہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف یہ سازش تب سے ہو رہی جب قومی مفاد کے خلاف ایک فون پر حکمرانوں کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا عالمی طاقتوں کو یہ برداشت نہیں کہ پاکستان میں ایسی لیڈرشپ ہو جو اہنے ملک کے مفاد میں فیصلہ کرے دہشت گردی کی جنگ میں صرف نقصان ہی نقصان ہوا تھا

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پریڈ گراونڈ کے جلسے میں ایک خط لہرایا تھا جس کےبارے میں تفصیلات نہیں بتائی تھیں اور کہا تھا کہ یہ دھمکی آمیز خط ہے، آف دی ریکارڈ دکھا سکتا ہوں، ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال لیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شک کر رہا ہے، اسے آف دی ریکارڈ خط دکھا سکتا ہوں، بیرونی سازش کی بہت سی باتیں مناسب وقت پر جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تھاکہ خط چیف جسٹس کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں، مقصد خط کی حقیقت آشکار کرنا ہے دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں سات مارچ کو جیسے ہی خط ملا، مراسلے میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی اور عمران خان وزیراعظم برقرار رہے تو خوفناک نتائج آسکتے ہیں

     باسط بخاری نے وزیراعظم عمران خان کے خط کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے

    تیاررہیں، عمران خان کو جو خط آیا وہ میں بتاؤں گی،مریم نواز کا بڑا اعلان

    غریدہ فاروقی وزیراعظم کو بھجوایا گیا خط سامنے لے آئیں

    بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالہی نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط 7 مارچ کو موصول ہوا تھا مالہی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کو ملنے والے دھمکی آمیز خط میں تحریک عدم اعتماد کا بھی ذکر ہے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کا ملک کی عسکری قیادت اور وزارت خارجہ کو علم ہے مختلف ممالک سے نازک قسم کے معاملات ہیں اس لیے نام نہیں لے سکتے ہیں۔

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    تحریک انصاف کے جلسے کی تیاریاں مکمل،جلد اچھی خبر آئے گی،وفاقی وزیر کا دعویٰ

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

  • خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کس تاریخ کو یہ آرڈینس جاری ہوا ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ آرڈینس 18 فروری کو جاری ہوا آفیشل گزٹ میں 19 فروری کو آیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے کسی ہاؤس کے سامنے پیش کیا گیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈیننس ابھی تک پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسز کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو ایگزیکٹو کا اختیار نہیں ہے کہ آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے سامنے نہ رکھے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی ایک ٹائم لائن ہے اس دوران ہی رکھا جانا ہے، جب تک رولز موجود ہیں تو ایگزیکٹو نے انہیں کو اختیار کرنا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے سے یہ تاثر مل رہا ہے ایگزیکٹو کی بدنیتی شامل ہے،قومی اسمبلی یا سینیٹ کسی بھی وقت آرڈیننس کو مسترد کر سکتے ہیں،آئین پابند بناتا ہے کہ آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا،اگر آج آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوتا تو کیوں نہ عدالت ایگزیکٹو کی بدنیتی قرار دے،آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے، ایگزیکٹو یہ نہیں کر سکتی کہ جس ایوان میں اکثریت ہو وہاں پیش کر دیں ،اگر ایگزیکٹو نے اپنے فرض کی خلاف ورزی کی ہے تو اسکے نتائج کیا ہونگے، کیا ایگزیکٹو پارلیمنٹ کو آرڈیننس منظور یا مسترد کرنے کے اختیار سے روک سکتا ہے؟ آئین کہتا ہے آرڈیننس جاری ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش ہو گا، پارلیمنٹ سپریم ہے وہ آرڈیننس کو مسترد کر سکتی ہے، اگر ایگزیکٹو جان بوجھ کر اپنے فرض کو پورا نہیں کر رہی تو اسکے نتائج کیا ہونگے،ایگزیکٹو کے پاس آئین کی خلاف ورزی کا کوئی اختیار نہیں ہے، اگر پارلیمنٹ کا کوئی بھی ایوان آرڈیننس کو مسترد نہیں کرتا تو پھر وہ بل کے طور پر پیش کیا جائے گا،ایگزیکٹو پارلیمنٹ کو آرڈیننس کا جائزہ لینے کے حق سے محروم رکھ رہی ہے،اگر پارلیمنٹ کا ایک ایوان آرڈیننس کو مسترد کر دیتا ہے تو وہ ختم ہو جائے گا،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیکا آرڈیننس کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت تو اس کیس کو پس پشت نہیں ڈال سکتی نا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ہی واپس لے لے، کسی درخواست میں بھی پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 کو چیلنج نہیں کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی درخواست موجود ہے جس میں پیکا ایکٹ کی دفعات کو بھی چیلنج کیا گیا، سیکشن 20 میں گرفتاری کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے، کیوں نہ عدالت پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 کو کالعدم قرار دے، اس عدالت نے کبھی نہیں کہا کہ کوئی تہمت لگائے لیکن اسکا الگ قانون موجود ہے، ایک صحافی نے کتاب کا حوالہ دیا جو پبلش ہو چکی، وہ غلط کیسے ہو گیا جو ایف آئی اے نے نوٹس بھیجا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے کہا کہ پیکا کا سیکشن 20 قابل ضمانت ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قابل ضمانت ہے تو پھر محسن بیگ کو کس طرح گرفتار کر رہے تھے، ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہا کہ محسن بیگ کو اس مقدمہ میں گرفتار نہیں کیا گیا،عدالت نے کہاکہ محسن بیگ کو گرفتار کرنے گئے تھے اسی لئے وہ وقوعہ بنا، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ایف آئی آر میں مزید ناقابل ضمانت دفعات بھی موجود تھیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیگر جو دفعات لگائی گئی تھیں وہ بالکل درست نہیں تھیں،خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،کیا شکایت کنندہ (مراد سعید) کی شکایت لاہور میں موصول ہوئی تھی؟ اگر درخواست موصول ہوئی تو کس سورس کے ذریعے ہوئی، کیا ٹی سی ایس سے ہوئی، کیا ایف آئی اے صرف حکومت کی خدمت کیلئے ہے؟ ایف آئی اے عوام کی خدمت کیلئے موجود ہے، جن درخواستوں پر ایف آئی اے نے کارروائی کی ان میں سے زیادہ تر پبلک آفس ہولڈرز کی ہیں،ایف آئی اے نے درخواستوں پر کارروئی صحافیوں، اختلاف رائے اور تنقیدی آوازیں دبانے کیلئے کی، ایف آئی اے نے اپنے اختیارات کا بہت غلط استعمال کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی اقدار بہت خراب ہو چکی ہیں، کیا سب کو جیل بھیج دیں معاشرے کی ان اقدار کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں، اگر کوئی سچی گواہی نہیں دیتا تو پراسیکیوٹر کو کسی کو بھی سزا دینے کی اجازت دے دی جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سال بعد کوئی اور حکومت آ جائے گی تو ایف آئی اے پھر بھی یہی کریگی؟ حکومت نے آرڈیننس میں سیکشن 20 ناقابل ضمانت بنا دیا ہے؟ ناقابل ضمانت بنایا گیا تاکہ اسکے مزید خطرناک نتائج سامنے آ سکیں؟ کیا نیچرل پرسن کی تعریف بھی تبدیل کر دی گئی ہے؟ آپ نے اداروں اور کمپنیوں کو بھی اس میں شامل کر دیا ہے، کل پی ٹی سی ایل پر کوئی تنقید کرتا ہے تو ایف آئی اے اس پر بھی کارروائی کریگی،کل کوئی ڈیفالٹر کمپنی شکایت کرتی ہے تو ایف آئی اے کارروائی کریگی،دنیا کی ایک مثال دے دیں جہاں اداروں کی ساکھ کا اس طرح تحفظ کیا جاتا ہو،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیکا آرڈیننس کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے،ہو سکتا ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ہی واپس لے لے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ایف آئی اے پر تنقید کرے تو ایف آئی اے خود ہی اسے گرفتار کر لے گا؟آئندہ سماعت پر حتمی دلائل دیں، کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

  • وزیراعظم  کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ  پہنچ گیا

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے سپریم کورٹ سے تحقیقات کیلئے درخواست دائر کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وزیراعظم کی جانب سے دکھائے گئے خط کی تحقیقات کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ عوام کو ذہنی تنائو سے نکالنے کیلئے فوری مداخلت کی ضرورت ہے، دھمکی آمیز خط متعلقہ سول اور فوجی قیادت کو بھجوا کر تحقیقات کروائی جائیں،دھمکی آمیز خط اتنہائی حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے،

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پریڈ گراونڈ کے جلسے میں ایک خط لہرایا تھا جس کےبارے میں تفصیلات نہیں بتائی تھیں اور کہا تھا کہ یہ دھمکی آمیز خط ہے، آف دی ریکارڈ دکھا سکتا ہوں، ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال لیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شک کر رہا ہے، اسے آف دی ریکارڈ خط دکھا سکتا ہوں، بیرونی سازش کی بہت سی باتیں مناسب وقت پر جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تھاکہ خط چیف جسٹس کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں، مقصد خط کی حقیقت آشکار کرنا ہے دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں سات مارچ کو جیسے ہی خط ملا، مراسلے میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی اور عمران خان وزیراعظم برقرار رہے تو خوفناک نتائج آسکتے ہیں

     باسط بخاری نے وزیراعظم عمران خان کے خط کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے

    تیاررہیں، عمران خان کو جو خط آیا وہ میں بتاؤں گی،مریم نواز کا بڑا اعلان

    غریدہ فاروقی وزیراعظم کو بھجوایا گیا خط سامنے لے آئیں

    بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالہی نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط 7 مارچ کو موصول ہوا تھا مالہی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کو ملنے والے دھمکی آمیز خط میں تحریک عدم اعتماد کا بھی ذکر ہے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کا ملک کی عسکری قیادت اور وزارت خارجہ کو علم ہے مختلف ممالک سے نازک قسم کے معاملات ہیں اس لیے نام نہیں لے سکتے ہیں۔

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    تحریک انصاف کے جلسے کی تیاریاں مکمل،جلد اچھی خبر آئے گی،وفاقی وزیر کا دعویٰ

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان