Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوجوان جوڑے کو برہنہ کرکے تشدد کیس،عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرکے تشدد کیس،عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں لڑکا لڑکی تشدد کیس کا فیصلہ آ گیا

    مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت 5 ملزمان کو عمر قید کی سزا کا حکم دے دیا سیشن کورٹ اسلام آباد نے ملزم عمر بلال اور ریحان کو بری کر دیا ملزم عثمان مرزا،محب بنگش، اداریس قیوم بٹ،عطا الرحمان اور فرحان شاہین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی مقدمے کا ٹرائل ساڑھے 5ماہ تک چلتا رہا ، 21گواہان پر وکلا نے جرح کی متاثرہ جوڑا 11جنوری کو اپنے بیان سے منحرف ہوا

    ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا کیس کے ملزم عطا الرحمان عدالت میں پیش ہوئے ،جج نے ملزم سے استفسار کیا کہ آپ نے چابیاں دی تھیں؟ پھر آپ کو ملوث کیوں کیا گیا ہے؟ ملزم نے کہا کہ عثمان مرزا کے ساتھ سلام دعا تھی اور میں پراپرٹی کا کام کرتا ہوں، جج نے ملزم سے استفسار کیا کہ وقوعہ کے بعد آپ نے پولیس کو کیوں نہیں بتایا؟ ملزم کی موجودگی میں اسکی ویڈیو عدالت میں چلائی گئی، جج نے پولیس کو ہدایت کی کہ ملزم کو بھی واپس لے جاؤ،

    6 جولائی 2021 کو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد 28 ستمبر 2021 کو مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت سات ملزمان پر فرد جرم عائد ہوئی تھی ، عدالت نے فریقین کے حتمی دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،جو اب سنا دیا گیا ہے گزشتہ سماعت پر عثمان مرزا کے وکیل جاوید اقبال وینس نے حتمی دلائل میں کہا کہ موبائل آئی ایم ای آئی نمبر میرا نہیں جس کی لوکیشن بتائی گئی وقوعہ کی جگہ پر میری موجودگی بھی ثابت نہیں شناخت پریڈ پری پلینڈ تھی متاثرہ لڑکا لڑکی کا 164 کا بیان بدنیتی پر مبنی ہے اتنے بڑے تضادات کے بعد ان گواہوں کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں رہتی ایسے لگتا ہے تفتیشی افسر کو چار ویڈیوز کہیں اور سے دی گئیں ہیں

    واضح رہے کہ اسلام آبا د کے سیکٹر ای الیون میں لڑکا لڑکی تشدد کیس متاثرہ لڑکی اپنے بیان سے منحرف ہو گئی، متاثرہ لڑکے اور لڑکی نے ملزمان کو پہنچاننے سے انکار کردیا ،عثمان مرزا زیادتی کیس میں مدعی لڑکے اور لڑکی اپنے بیان سے مکر گئے ،متاثرہ لڑکے اور لڑکی نے ٹرائل کورٹ میں بیان دے دیا ،عدالت میں بیان حلفی جمع کرا دیا گیا ،متاثرہ لڑکی نے بیان دیا کہ پولیس نے سارا معاملہ خود بنایا ہے،میں نے بیان حلفی کسی کے دباو میں آکر نہیں دیا، کسی بھی ملزم کو نہ شناخت کیا اور نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کیے

    ملزم عثمان مرزا و دیگر کو پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے، ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہو چکے ہیں، متاثرہ لڑکی اور لڑکے کی شادی ہو گئی ہے،

    موصول ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان نے تشدد کر کے لڑکی کی شرٹ اتروا دی اس دوران لڑکی انکی منتیں کرتی رہی تا ہم ملزمان باز نہ آئے، آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے وقوعہ کا فوری نوٹس لیا اور ایس ایس پی آپریشنز کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا گرفتار ملزمان میں عثمان مرزا، فرحان اور عطاء الرحمان شامل ہیں۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

  • قومی حکومت کے تصور کا سوال ہی نہیں،آصف زرداری

    قومی حکومت کے تصور کا سوال ہی نہیں،آصف زرداری

    قومی حکومت کے تصور کا سوال ہی نہیں،آصف زرداری
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس سے قبل متحدہ اپوزیشن کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں آصف زرداری، بلاول بھٹو شہباز شریف، اختر مینگل شریک ہوئے اجلاس میں قومی اسمبلی سیشن سے متعلق مشاورت جاری ہے ، سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ قومی حکومت کے تصور کا سوال نہیں،جو بھی ہوگا وہ اتحادیوں کے ساتھ ہوگا، عدم اعتماد کی تحریک 100فیصد کامیاب ہوگی، اگر اسپیکر نے قراداد پیش نہ ہونے دی تو احتجاج کرینگے

    قبل ازیں بلاول بھٹو،آصف زرداری پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے،شہباز شریف بھی پہنچ گئے ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ساری حکمت عملی بنائیں گے،شہباز شریف سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا بیک ڈور معاملات طے ہورہے ہیں ؟ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ کس نے کہا آپ سے؟ ،سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میں کہتا ہوں انشااللہ بہتر ہوگا،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کوئی ممبر فوت ہو جائے تو اجلاس اگلے دن کے لیے ملتوی کر دیا جاتا ہے،کل تک جلاس ملتوی کیا جاتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں،اگراجلاس لمبے عرصے ملتوی کیا جاتا ہے تو مسئلہ ہوگا،اجلاس بلانا پڑتا ہے آئین سے کب تک انحراف کرینگے،اسپیکر سے کوئی امید نہیں کہ آج تحریک عدم اعتماد کو موو کریں ،عدم اعتماد ہوگا تو وزیر اعظم اسمبلی سے سیدھے گھر جائینگے ،

    قادر خان مندو خیل کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی سخت ہونی چاہیے مگراپنے لوگ بھی سنبھالیں حکومت کے پاس 28 تاریخ تک کا وقت ہے ،پیپلز پارٹی کے رہنما آغٍا رفیع اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکارہے اس جلسے کرنے پراترآئی حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی ہے

    مولانا اسعد محمود کی سربراہی میں جے یو آئی ف وفد کی اپوزیشن لیڈر کے چیمبر آمد ہوئی ہے، مولانا اسعد محمود کی وفد کے ہمراہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے، سابق سپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ روایت کے مطابق اجلاس آج ملتوی کردیا جائےگا اگر کوئی اہم معاملے کا بزنس ہو تو اجلاس چلایا بھی گیا ہے،اگراجلاس ملتوی کیا گیا تو پرامن احتجاج ہمارا حق ہے، میرا نہیں خیال کہ اجلاس لمبے عرصے کیلئے ملتوی کیا جائے گا ،

    اختر مینگل بلاول بھٹو کے چیمبر میں پہنچ گئے اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آج فتح کا دن ہے،ہم اپنی محنت کررہے ہیں،عمران خان اپنی اکثریت کھو چکے ہیں،ہماری تیاری مکمل ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ حکومت واضح طور پر ہار چکی ہے حکومت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں تاخیر کر سکتی ہے بھاگ نہیں سکتی اگر آئینی طریقے سے چلیں تو آج ہی حکومت کے جانے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا، ہمارے حکمران جماعت سے کئی زیادہ ہیں، ہمارے پاس سے 172 سے زیادہ اراکین ہیں،اسپیکر کے کردار کو متنازع کر کے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی جار ہی ہے،

    اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کروائے جانے کے بعد آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہو گا .قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت سپیکر اسد قیصر کریں گے، اسمبلی اجلاس گیارہ بجے ہو گا، اجلاس میں وفات پا جانے والے رکن قومی اسمبلی خیال زمان کے لیے فاتحہ خوانی بھی ہو گی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے فاتحہ خوانی کے بعد اراکین اسمبلی وفات پا جانے والے رکن سے متعلق اظہار خیال کریں گے

    ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ ایوان کی رائے ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں 152 ارکان وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتمادکی قرارداد پیش کریں گے

    اجلاس کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، اراکین اسمبلی کی گاڑیوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کوئی رکن اپنی گاڑی میں نہیں آئے گا شٹل سروس چلائے جائے گی قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کےلیے ہدایت نامہ جاری کردیا گیا ریڈزون کو سیل بھی کیا گیا ہے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ارکان قومی اسمبلی کو شٹل سروس کے ذریعے پارلیمنٹ ہائوس پہنچایا جائے گا اراکین پارلیمنٹ مخصوص پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کے پابند ہونگے پارلیمنٹ میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی ہو گی۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کو بھی اپنے سٹاف تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے دوسری جانب ریڈ زون میں داخلے اورباہرنکلنےکی اجازت صرف مارگلہ روڈ سے ہے، سریناچوک ،نادرا چوک، ایکسپریس چوک بند ہیں۔

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

  • منی لانڈرنگ بذریعہ مقصودچپڑاسی:شہبازکوسزاکاامکان:     پارٹی سربراہ کون؟ارکان اسمبلی کی حیثیت کیاہوگی:گفتگو

    منی لانڈرنگ بذریعہ مقصودچپڑاسی:شہبازکوسزاکاامکان: پارٹی سربراہ کون؟ارکان اسمبلی کی حیثیت کیاہوگی:گفتگو

    لاہور:مقصود چپڑاسی کی وجہ سےاگرشہبازشریف کوسزاہوئی توپارٹی سربراہ کون اورارکان اسمبلی کی حیثیت کیاہوگی:اہم سوال،اطلاعات کےمطابق ایک طرف ملک میں اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے خلاف سخت محاذ قائم ہوچکا ہے تو دوسری طرف افغانستان کی سرحدسے پاک فوج کی چوکی پربھارت نوازدہشدت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کےچار جوان شہید ہوگئے ہیں

    ادھر پاکستان میں غیر یقینی کی صورت حال ہے اور اس وقت جوڑتوڑ جاری ہے ،حکومت سخت دباو کے باوجود کامیابی کے دعوے کررہی ہے تو اپوزیشن بڑے بھرم سے کامیابی کے دعوے کررہی ہے، یہ دعوے تو اس وقت تک دعوے ہی رہیں گے جب تک کوئی فیصلہ کُن صورت حال سامنے نہیں آتی ، بہرکیف اس وقت ایک نئی بحث نے اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک سے جان نکال دی ہے

    وہ معاملہ کیا ہے؟اس کے کیا اثرات ہوں گےیہ بھی بڑا دلچسپ معاملہ ہے ،صورت حال یہ ہےکہ اپوزیشن لیڈر پرمنی لانڈرنگ کے واضح ثبوت ہیں اور ان ثبوتوں کو میڈیا میں پیش ہونے سے تو روکا جاسکتا ہے لیکن انکو جھٹلایا نہیں جاسکتا،

    یہ ثبوت اپوزیشن لیڈرمیاں شہبازشریف کے ملازمین کے اکاونٹس میں اربوں روپےکی منتقلی اورپھران اکاونٹس سے وہ منتقلی شریف فیملی کے اکاونٹس سے متعلق ہیں

    ویسے تو میاں شہاز یہ کھیل اور بھی اپنے ملازمین کے ذریعے کھیلتے رہے لیکن فی الحال مقصود چپڑاسی کو زیربحث کرلیتےہیں

    ایف آئی اے نے بینکرز کے بیانات اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں جمع کرا دیے ، جس میں بتایا گیا کہ مقصود چپراسی کے 7مختلف اکاونٹ میں رقوم جمع ہوتی رہیں۔

    بینکرز کے بیانات میں کہا گیا کہ مقصود چپڑاسی ہر اکاونٹ کے لیے اپنا بزنس اور سالانہ ٹرن اوور مختلف ظاہر کرتارہا اور مختلف بینکوں میں رمضان شوگر مل نے ہی اکاونٹ کھلوانے کے لیے مقصود چپراسی کو ریفر کیا۔

    بینکرمحمداعجاز نے بتایا کہ رمضان شوگر ملزکا کیش بوائے مزمل اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بینکرز کو دھمکاتا رہا جبکہ ایک اکاونٹ کے لیے مقصود چپراسی نےخودکورمضان ملز کاشوگربروکر ظاہر کیا جب رمضان شوگر ملز نے تصدیق کی تو کیی مگر کوئی دستاویز فراہم نہ کی۔

    بینکرنوید وہاب نے بیان میں کہا کہ چنیوٹ میں مقصود کے اکاؤنٹ میں مشکوک ٹرانزیکشنز پرڈیبٹ بلاک کر دیا، جس کے بعد مقصود چپراسی نے اکاؤنٹ کو بزنس اکاونٹ میں تبدیل کرا کردوبارہ کھلوا لیا۔

    بینکر تنویر حسین کا کہنا تھا کہ مقصود احمد 2017 میں چنیوٹ کے نجی بینک آیا ، اس کے دستخط اردو میں ہونے پراس کو فوٹو اکاؤنٹ کھولنے کا کہا گیا تو مقصود نےکہا وہ سادہ اکاؤنٹ کھلواناچاہتا ہے کیونکہ اس کو استعمال کوئی اور کرے گا۔

    تنویرحسین نے بتایا کہ انکارپرمقصوداوررمضان شوگرملزکے کیش بوائےمزمل نےعملےکوڈرایادھمکایا اور مقصود نےانگلش دستخط کے ساتھ نیافارم دے کراپنی کمپنی کے نام پر اکاونٹ کھلوا لیا۔

     

    بینکر نے کہا کہ ایک اکاونٹ میں 70ہزارماہانہ اورسالانہ ٹرن اوور 13 لاکھ لکھا، مگر اصل ٹرن اوور 360 ملین تھی۔

    عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں بینکرمحمدہشام نے بتایا کہ مقصود چپراسی نےایک اکاونٹ کاسالانہ ٹرن اوور 12ملین ظاہر کیا، اصل ٹرن اوور463 ملین ہوئی، ایک اکاونٹ میں مقصود نے13 لاکھ ٹرن اووظاہرکیامگر سالانہ ٹرن اوور1064 ملین تھا جبکہ ایم سی بی میں کے اکاؤنٹ میں مقصود نے 1.5ملین ٹرن اوور لکھا، اصل میں 772 ملین تھا۔

    بینکرزنےرمضان شوگر ملز کے کیش بوائےمزمل کی جانب سے ہراساں کرنے کا بیان دیا ، جس میں بتایا کہ مزمل شہباز شریف فیملی کا ملازم تھا ڈرا دھمکا کر بینکرز سے کام کراتاتھا اور وہ ہی مختلف ملازمین کے نام پر کھلے اکاؤنٹس میں لین دین کرتا تھا۔

    ان حالات کے بعد جب کہ تمام ثبوت بول رہےہیں اور ثبوتوں کی بنیاد پر شہباز شریف کو سزا ہوجاتی ہے اور اس سزا کی بنیاد پر شہبازشریف نااہل ہوجاتے ہیں جوکہ یقینی نظرآرہا ہے تو پھرپارٹی کا اگلہ سربراہ کون ہوگا اور پارٹی کے ارکان اسمبلی کی کیا حیثیت ہوگی

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فی الوقت شاہد خاقان عباسی کو پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری سونپی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ نااہلی کے اس فیصلے کو پہلے تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا کیونکہ وہاں پہلے ہی معاملات طئے ہوچکے ہیں اور اگرمعاملہ وہاں ان کی حمایت میں نہیں جاتا توپھرسپریم کورٹ تک نظرثانی کی درخواست جائے گی لیکن امکان یہی ہے کہ شہبازشریف ناہلی سے نہیں بچ پائیں گے کیونکہ ان کے جرائم نوازشریف کے جرائم سے واضح اور مضبوط شکل میں موجود ہیں

    دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ شہبازشریف کی نااہلی کی صورت میں ارکان اسمبلی کی کیا حیثیت ہوگی ، کیا نوازشریف کو سزا ملنے کے بعد جس طرح پارٹی کے ارکان اسمبلی کی پارٹی حیثیت بھی ختم ہوگئی ایسے ہی شہبازشریف کی نااہلی کے ساتھ پارٹی اراکین کی پارٹی حیثیت ختم ہوجائے گی

    اس کے بعد اگلہ دلچسپت سوال ہے کہ جیسا کہ امکان ہے کہ نااہلی کی صورت میں ارکان اسمبلی کی حیثیت آزادانہ رہ جائے گی توپھر ان ارکان اسمبلی کو دوسری پارٹیوں میں جانے سے کون روکے گا ، حالانکہ کہ قانون کے مطابق یہ اب کہیں بھی جاسکتے ہیں

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تکنیکی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا اس صورت حال کے بعد عدم اعتماد کی تحریک دم توڑ جائے گی ،کیا ن لیگی ارکان اسمبلی پی ٹی آئی اور پی پی میں چلے جائیں گے اور اگرایسا ہوا تو پھرن لیگ کے مستقبل پرکیااثرات مرتب ہوںگے یہ ایک بہت اہم نقطہ بحث ہے جس پر ابھی تو نہیں مگرکچھ وقت بعد ایک نئی بحث چھڑ جائے گی

  • کرپشن قبول کرلی تومعاشرہ تباہ ہوجائیگا:آخرتک مافیا کا مقابلہ کروں‌ گا:اللہ میرا حامی وناصرہے:وزیراعظم

    کرپشن قبول کرلی تومعاشرہ تباہ ہوجائیگا:آخرتک مافیا کا مقابلہ کروں‌ گا:اللہ میرا حامی وناصرہے:وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں دباؤ میں آجاؤں گا یہ مخالفین کی غلط فہمی ہے، عوام 27 مارچ کو بتا دیں گے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں، تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی، آخر تک مافیا کا مقابلہ کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا، عمران خان سے قانونی ٹیم کی بھی ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورتحال، اتحادی جماعتوں اور ارکان سے رابطوں کا جائزہ لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کو سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر سماعت کی بریفنگ دی گئی جس پر انہوں نے کیس کی پیروی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ حکومت نے قومی اسمبلی اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

    اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن قبول کر لی تو معاشرہ تباہ ہو جائے گا، معاملہ حق اور باطل کا ہی نہیں آنے والی نسلوں کا بھی ہے، ہم عدم اعتماد کی تحریک میں جیت رہے ہیں، ان کا نمبر پورا نہیں ہو گا۔

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس موقع پر سوال کیا کہ بہت اہم دن ہے، اتحادی اعلان کیوں نہیں کرتے؟ جس پر جواب دیتے ہوئے وزیراعظم پرعزم نظر آئے اور کہا کہ اتحادی میرے ساتھ ہی رہیں گے۔

     

    سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں 27 مارچ کے جلسہ کی حکمت عملی تیار کر لی گئی، پارٹی کی سینئر رہنما اپنے علاقوں سے ریلیوں کی قیادت کریں گے، حماد اظہر لاہور، پرویز خٹک پشاور، شیخ رشید اور عامر کیانی راولپنڈی، فواد چودھری جہلم، مراد سعید سوات، فرخ حبیب فیصل آباد اور علی زیدی سندھ سے ریلی کے ہمراہ اسلام آباد پہنچیں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پارٹی کی سینئر قیادت کو جلسہ کے حوالے سے اہم ٹاسک سونپ دیے ہیں، پارٹی کارکنان کو جلسہ کا وقت 3 بجے کا دیا جائے گا، پی ٹی آئی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی جلسہ میں شریک ہوں گے، وزیراعظم نے پارٹی کے تمام تنظیمی عہدیداران کو جلسہ کی بھر پور تیاریوں کی ہدایت کر دی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سارے چور اکٹھے ہو گئے، پوری قوم 27 مارچ کو باہر نکلے اور سچائی کا ساتھ دے

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ڈاکوؤں کا ٹولہ 30 سال سے ملک کو لوٹ رہا ہے، چاہتا ہوں 27 مارچ کو پوری قوم میرے ساتھ نکلے، ہم برائی کے ساتھ نہیں سچائی کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ لوگ قوم کے پیسے سے عوامی نمائندوں کو خریدرہے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے27مارچ کےجلسےکےحوالےسےقوم کےنام اہم پیغام میں کہا کہ امربالمروف ونہی عن المنکرقرآن پاک میں اللہ کاحکم ہے، اللہ تعالی مسلمانوں کوحکم دیتاہےکہ اچھائی کےساتھ کھڑےہوناہے، اسلام میں برائی اوربدی کےخلاف کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سارے چور اکٹھے ہو گئے، ڈاکوؤں کاٹولا30سال سےملک کولوٹ رہاہےاورپیسےباہربھیج رہاہے۔ کرپٹ ٹولےنےعوامی نمائندوں کےضمیرکی قیمتیں لگائیں، عوام کے پیسے سے عوامی نمائندوں کی خریدوفروخت کی جا رہی ہے، چاہتا ہوں عوام 27 مارچ کو سچائی کا ساتھ دیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی میزبانی میں اوآئی سی کے کامیاب انعقاد پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، اجلاس میں کشمیر اور فلسطین کی منصفانہ تحریکوں کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    ٹویٹر پیغام میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کےانسانی بحران اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر اتفاق ہوا، او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں مسلمانوں کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات پر بھی اتفاق ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے حوالے سے اقدامات امت کے اتحاد کا مظہر ہے، وزرائے خارجہ کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان عالمی سطح پر امت کی آواز کو دنیا تک پہنچائے گا، پاکستان اتحاد، انصاف اور ترقی کیلئے باہمی اشتراک کو فروغ دے گا۔

  • اگرحکومت کے پاس جواب ہےتوعدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ عدالت اٹارنی جنرل کے سوال پر برہم

    اگرحکومت کے پاس جواب ہےتوعدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ عدالت اٹارنی جنرل کے سوال پر برہم

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کےلیے صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم ،سٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس منیب اختر سماعت کر رہا ہے خیبرپختونخوا اور سندھ کے ایڈووکیٹ جنرلزعدالت میں موجود ہیں سینیٹر رضا ربانی روسٹرم پر آئےانہوں نے کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے بیٹھ جائیں-

    عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعتوں کو نوٹسز کیے تھے وہ آج موجود ہیں؟ صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹسز جاری کریں؟-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت چاہے تو صوبوں کو نوٹس جاری کرسکتی ہے صوبوں میں موجود سیاسی جماعتیں پہلے ہی کیس کا حصہ ہیں جس پر عدالت نے صوبائی حکومتوں کو بھی صدارتی ریفرنس پر نوٹسز جاری کردیئے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی اور پی آئی ٹی نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی جے یو آئی نے کشمیر ہائی وے پر دھرنے کی درخواست کی ہےکشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے،کشمیر ہائی وے سے گزر کر ہی تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتے ہیں قانون کسی کو ووٹنگ سے 48 گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتا ہے-

    چیف جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا کہ عدالت چاہے گی کہ سیاسی جماعتیں آئین کے دفاع میں کھڑی ہوں گی، معلوم نہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری عمل کا مقصد روزمرہ امور کو متاثر کرنا نہیں ہوتا، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں واضح کیا ہے کہ قانون پر عمل کریں گے-

    سماعت کے دوران جے یو آئی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہمارا جلسہ اور دھرنا پرامن ہو گا ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے جے یو آئی وکیل سے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں چیف جسٹس عمر عطابندیال کی آبزرویشن پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی پر امن رہے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا، جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نےستفسار کیا کہ جے یو آئی کا جلسہ تو عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہے؟

    عدالت نے سندھ ہاوس کے معاملے پر آرڈر لکھوانا شروع کردیا-

    ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی پیش رفت پر مطمئن ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بار کی درخواست کو یہ عدالت اب صرف سندھ ہاوس پر حملے تک محدود رکھے گی،سندھ حکومت کو اگر کوئی مسئلہ ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتی ہے-

    جسٹس مظہر عالم نے سندھ ہاؤس پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوس ناک ہے-

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے حکم دیا کہ تمام جماعتیں جمہوری اقدار کی پاسداری کریں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا کہا سا تھ ہی اٹارنی جنرل کی جانب سے 1992 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ضمیر تنگ کررہا ہے تو مستعفی ہو جائیں جس پر چیف جسٹس عمرعطابندیال 1992کے بعد سے بہت کچھ ہو چکا ہے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ بہت کچھ ہوا لیکن اس انداز میں وفاداریاں تبدیل نہیں ہوئی، آرٹیکل 63 اےکے تحت اراکین پارٹی ہدایات کے پابند ہیں وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد پر ارکان پارٹی پالیسی پر ہی چل سکتے ہیں-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا ذکر ہے؟ جواب میں اٹاعنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی ہیڈنگ ہی نااہلی سے متعلق ہے، نااہلی کے لیے آئین میں طریقہ کار واضح ہے آرٹیکل 63،62 اے کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا عدالت پارلیمانی نظام کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دے چکی عام شہری اور رکن اسمبلی کےووٹ میں فرق بتانا چا رہے ہیں

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ریفرنس میں بھی یہ معاملہ سامنے آیا تھا، جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ عام شہری اور اراکین اسمبلی کے ووٹ کیلئے قوانین الگ الگ ہیں سیاسی جماعتیں پارٹی نظام کی بنیاد ہیں عدالت نے ماضی میں پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کی آبزرویشن دی عدالت نے کہا مسلم لیگ بطور جماعت کام نہ کرتی تو پاکستان نہ بنتا عدالت نے کہا مسلم لیگ کے ارکان آزادانہ الیکشن لڑتے تو پاکستان نہ بن پاتا-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ادارے ہیں، ڈسپلن کی خلاف ورزی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں پارٹی لائن کی پابندی نہ ہو تو سیاسی جماعت تباہ ہو جائے گی-

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں دی گی آبزرویشن بہت اہمیت کی حامل ہے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ ایوان میں اجتماعی حثیت میں سامنے آتا ہے سیاسی جماعتیں عوام کے لیے ایوان میں قانون سازی کرتی ہیں-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ووٹ کا حق اراکین اسمبلی کو ہے نہ کہ پارٹی اراکین کو جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ چار مواقع پر اراکین اسمبلی کے لیے پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی بنانے کے لیے ارٹیکل 63اے لایا گیا-

    چیف جسٹس نے کہا کہ دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کسی رکن کو پارٹی کے خلاف فیصلے کے اظہار کا حق ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی میں بات نہ سنی جا رہی ہو تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ٹکٹ لیتے وقت امیدواروں کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ کب آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے کیا دوسری کشتی میں چھلانگ لگا کر حکومت گرائی جاسکتی ہے؟زیادہ تر جمہوری حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں کیا دوسری کشتی میں جاتے جاتے پہلا جہاز ڈبویا جاسکتا ہے؟ اب پنڈورا باکس کھل گیا تو میوزیکل چیئر ہی چلتی رہے گی-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چھلانگیں لگتی رہیں تو معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی سب نے اپنی مرضی کی تو سیاسی جماعت ادارہ نہیں ہجوم بن جائے گی انفرادی شخصیات کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ صرف 63 اے کی تلوار کا نہیں پورا سسٹم ناکام ہونے کا ہے،ہارس ٹریڈنگ روکنے کے سوال پر نہیں جاوں گا، یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑنا چاہیے-

    جسٹس جمال مندو خیل نے سوال کیا کہ کیا فلور کراسنگ کی اجازت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے؟ کیا آپ پارٹی لیڈر کو بادشاہ سلامت بنانا چاہتے ہیں؟

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین نے پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا ہے،پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے سیاسی نظام کے استحکام کے لیے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کے لیے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک تشریح تو یہ ہے انحراف کرنے والے کا ووٹ شمار نہ ہو، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمار ہو سکتا ہے؟ اٹھارہویں ترمیم میں ووٹ شمار نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں-

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا- اٹارنی جنرل نے کہا یہ ضمیر کی آواز نہیں کہ اپوزیشن کیساتھ مل جائیں-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں نے عدم اعتماد کیا اور حکومت بدل گئی جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا بلوچستان میں دونوں گروپ باپ پارٹی کے دعویدار تھے سب سے زیادہ باضمیر تو مستعفی ہونے والا ہوتا ہے –

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے-

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پارٹی ٹکٹ پر اسمبلی آنے والا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہے –

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیئں عدالت نے آرٹیکل کو 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آپ اور کتنا وقت لینگے؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ میں مزید 3 گھنٹے دلائل دوں گا-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ کل ہمارے ایک جج ریٹائر ہو رہے ہیں کیا پیر تک سماعت ملتوی کریں؟سب مشورہ دیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر رکن ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے تو نظام کیسے چلے گا؟

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آرٹیکل 63(4) کے تحت ممبر شپ ختم ہونا نااہلی ہے آرٹیکل 63(4) بہت واضح ہے –

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہی آرٹیکل 63(4) واضح نہ ہونے کا ہے خلاف آئین انحراف کرنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی جو آئین میں نہیں لکھا اسے زبردستی نہیں پڑھا جاسکتا، آرٹیکل 62ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایماندار اور امین ہونا چاہیے مغرب کےبعض ممالک میں فلورکراسنگ کی اجازت ہے-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہرمعاشرے کے اپنے ناسورہوتے ہیں انہوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا سیاسی جماعتوں کےاندربحث ہوتی ہے؟-

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس سے زیادہ بحث کیاہوگی کہ سندھ ہاؤس میں بیٹھ کرپارٹی پرتنقید ہورہی ہے کیا پارٹی سے انحراف کرنے پر انعام ملنا چاہیے؟ کیاخیانت کرنے والے امین ہو سکتے ہیں؟-

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ہر رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے ووٹ اگرڈل سکتا ہے تو شمار بھی ہو سکتا ہے،اگر حکومت کے پاس جواب ہے تو عدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ اگر اس نقطہ سے متفق ہیں تو اس سوال کو واپس لے لیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کے خلاف ڈالے بغیر آرٹیکل 63 اے قابل عمل نہیں ہو گا –

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کی ڈکلیئریشن پر کیا انکوائری کرے گا؟ کیا الیکشن کمیشن تعین کرے گا کہ پارٹی سے انحراف درست ہے کہ نہیں؟ کیا الیکشن کمیشن کا کام صرف یہ دیکھنا ہوگا کی طریقہ کار پر عمل ہوایا نہیں؟ –

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف درست نہیں ہو سکتا-

    عدالت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح کےلیے صدارتی ریفرنس کی سماعت کل ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی-

  • سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ،ریڈ زون کو سیل کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ،ریڈ زون کو سیل کردیا گیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پرریڈ زون کو سیل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق سرینا چوک، نادرا، ڈی چوک اور میریٹ چوک سے تمام راستے بند کردیئے گئے۔پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے سیکرٹریٹ اور سپریم کورٹ جانے کیلئے صرف مارگلہ روڈ والا راستہ کھلا ہے-

    سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے پولیس کی واٹرکینن بھی سپریم کورٹ کے قریب پہنچا دی گئی ہے، ریڈزون کے داخلی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    واضح رہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس اور سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت آج ہوگی چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ دن ایک بجے سماعت کرے گا، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم ،سٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس منیب اختر بنچ کا حصہ ہوں گے-

    صدارتی ریفرنس پر عدالت نے وفاقی حکومت سمیت اپوزیشن جماعتوں کو نوٹس جاری کر رکھا ہے، گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلا کو تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیا تھا عدالت نے واضح کیا تھا کہ صدارتی ریفرنس کیوجہ سے پارلیمنٹ کی کاروائی تاخیر کا شکار نہیں ہوگی، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے تھے کہ کسی بھی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سے نہیں روکا جاسکتا۔

    اپوزیشن اپنے بچھائے ہوئے جال میں پھنس چکی ہے،شیخ رشید

    عدالت نے قرار دیا کہ صدارتی ریفرنس پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے جلد فیصلہ کیا جائے گا، جسٹس قاضی فائز عیسی لارجر بنچ میں سینئر ججز کو شامل نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

    دوسری جانب عدالت عظمیٰ،سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے سپریم کورٹ بار نے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن قومی اسمبلی کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیدیا ہے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں ہے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا،عوام اپنے منتحب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنے پرکوئی نااہلی نہیں، جے یو آئی نے موقف اختیارکیا ہے کہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔

    کورونا وبا: پاکستان میں دوسرے روز بھی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،مثبت کیسز کی شرح 0.69 فیصد

  • وزیراعظم کا 27 مارچ کےجلسے سے متعلق قوم کے نام  اہم پیغام

    وزیراعظم کا 27 مارچ کےجلسے سے متعلق قوم کے نام اہم پیغام

    وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کےجلسے سے متعلق قوم کے نام پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اہنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکوؤں کاٹولہ 30سال سےملک کولوٹ رہااورپیسےباہربھیج رہا ہے کرپٹ ٹولے نے عوامی نمائندوں کےضمیرکی قیمتیں لگائیں عوامی نمائندوں کو کھلےعام خریداجارہاہےاللہ مسلمانوں کوحکم دیتاہےکہ اچھائی کیساتھ کھڑےہوں-

    ،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکم ہےکہ برائی اوربدی کیخلاف کھڑےہوں عوام حکومت کا ساتھ دے کر جمہوریت کےساتھ کھڑے ہوں
    27مارچ کو لوگ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ہمارے ساتھ نکلیں –

    دوسری جانب شیخ رشید نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی ملاقات کے نعد شیخ رشید نے کمیڈیا سے گتفگو کرتے ہوئے کہا کہ جےیوآئی کوان کی ڈیمانڈکےمطابق جلسےکی اجازت دےدی ن لیگ کی ابھی تک جلسےکی کوئی درخواست نہیں آئی کل کوئی واقعہ ہو جائے تووزارت داخلہ ذمہ دارنہیں ہوگی عمران خان تاریخی جلسہ 27 مارچ کوپریڈ گراؤنڈمیں کریں گے اب ان کوفوج کاخیال آگیاہے،بہت اچھی بات ہے-

    وزیرداخلہ شیخ رشیدنے کہا کہ کوئی شک نہیں پاک فوج عظیم فوج اورعدلیہ دوراندیش ہے جوفوج یاعدلیہ مخالف مہم چلائےگااسےسختی سےکچل دوں گا جو نسلی اور اصلی ہے وہ پاکستان کے ساتھ ہے ایمرجنسی قانون کا حصہ ہے لیکن عدلیہ کے فیصلےکا احترام کرتے ہیں ان کے پاس ہمارے کچھ بندے ہیں توہمارے پاس بھی اپوزیشن کےکچھ بندےہیں چاہتےہیں جمہوریت اورملک آگےبڑھے پارٹیاں بدلنے سے کوئی عزت نہیں ملتی-

    شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات جلدی بھی ہوسکتےہیں اتحادی ہمیشہ دیرسےفیصلہ کرتےہیں،ایم کیوایم کیساتھ اچھےتعلقات ہیں آج کےبعدخبریں دوں گا، سب کو کہہ رہا ہوں باخبرآدمی ہوں، تحریک عدم اعتماد کے روز اپوزیشن کوبڑا سرپرائز ملے گا،کوئی کہیں نہیں جارہا تحریک عدم اعتماد کے روز اپوزیشن کوبڑا سرپرائز ملے گا عثمان بزدار سے مل کرآرہا ہوں وہ بھی چٹان کی طرح کھڑا ہے گورنرراج کی تجویز وزیراعظم نے مسترد کردی تھی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے ساتھ ہے اتنا جوش و جذبہ قوم میں اس سے پہلے نہیں دیکھا-

  • روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    ماسکو:روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا،اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی رہائش گاہ مولوٹوو کاک ٹیل (پیٹرول بم) سے حملے کی اطلاعات ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کریملن بھی اب حملے کی زد میں ہے۔

    ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ماسکو میں قلعہ بند سرکاری عمارت کی دیواروں پر ایک شخص کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ایک ٹک ٹاک صارف نے چلتی گاڑی کے اندر سے بنائی گئی ایک شخص کی ویڈیو کلپ کو اپ لوڈ کیا، جس میں ایک نامعلوم حملہ آور کو روسی صدر کی رہائش گاہ پر مولوٹوو کاک ٹیل مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ ولادی میر پیوٹن اس عمارت میں رہتے اور دیگر سرکاری امور انجام دیتے ہیں۔حملے کے بعد کریملن کی دیواروں کی بنیاد پر کم درجے کی آگ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔اس حملے کو مقامی خبر رساں اداروں بشمول بیلاروسی میڈیا چینل نیکٹا لائیو نے بھی شیئر کیا۔

    دوسری جانب یوکرین میں ایک ٹک ٹاکر کو روسی فوج کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاری ٹک ٹاکر کی جانب سے ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد عمل میں آئی جس میں کیف میں ایک شاپنگ مال کے پاس کھڑی یوکرینی فوجی گاڑیوں کے بیڑے کو دکھایا گیا تھا۔

    جس کے فوراً بعد عمارت کو روسی فضائی حملے سے نشانہ بنایا گیا۔اتوار کو ہونے والی اس فضائی کارروائی میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے بتایا کہ یوکرینی شاپنگ مال کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    مذکورہ ٹک ٹاکر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے یوکرینی فوج کا مقام دکھا کر “دشمن کے لیے سہولت کار کے طور پر کام کیا”۔

    یوکرینی سیکیورٹی سروس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “ایک ٹک ٹاکر نے حال ہی میں کیف میں یوکرینی فوج کے مقام کے بارے میں انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا۔“بعد میں، شاپنگ سینٹر، جہاں ہمارے محافظ تھے، روسی قابضین کی طرف سے ایک طاقتور میزائل حملے کا نشانہ بنے۔

    “جانے انجانے میں اس شخص نے دشمن کے لیے سہولت کار کا کام کیا، اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔”

    بعد ازاں، ایک ویڈیو میں اس شخص نے معافی مانگتے ہوئے دوسرے یوکرین کے باشندوں کو متنبہ کیا کہ وہ ایسی ٹک ٹاک ویڈیوز پوسٹ نہ کریں جو روسی افواج کو اسٹریٹجک معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکو نے بھی اس حوالے سے کہا کہ یوکرینی باشندوں کو “فوجی سازوسامان، چوکیوں، اسٹریٹجک اشیاء کی نقل و حرکت” سے متعلق کسی بھی چیز کی فلم بندی یا تصویر کھینچنے سے گریز کرنا چاہیے۔

  • پاک فوج زندہ باد :پاکستان درست سمت آگےبڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سےگفتگو

    پاک فوج زندہ باد :پاکستان درست سمت آگےبڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سےگفتگو

    راولپنڈی :چین پاک فوج کی صلاحیتوں کا معترف ہے:پاکستان درست سمت آگے بڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سے گفتگو،اطلاعات کے مطبق چین کے وزیرخارجہ کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق چین کے وزیرخارجہ کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور علاقائی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران چین کے وزیرخارجہ نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

    اس موقع پر چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ پاک چین تعلقات خیالات کی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، دنیا کو علاقائی استحکام کے لئے پاکستان کی کوششوں تسلیم کرنا چاہیے۔

  • اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا:اسد قیصرکااعلان:آئینی ذمہ داریوں کاسُن کراپوزیشن پریشان

    اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا:اسد قیصرکااعلان:آئینی ذمہ داریوں کاسُن کراپوزیشن پریشان

    لاہور: اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا: اسد قیصرنے اعلان کیا تو دوسری طرف اپوزیشن والے گھبرا گئے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے سے رابطے بھی کررہےہیں ، متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ میں ملکی قومی اسمبلی کا نگراں ہونے کے ناطے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا اور آئین کے آرٹیکل95 اور قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس 2007 کے رول 37 کے تحت کارروائی ہو گی۔

    خیال رہے کہ ان دنوں ملکی سیاسی صورتحال میں گہما گہمی ہے کیونکہ اپوزیشن ارکان نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔

     

     

    تحریکِ عدم اعتماد پر ن لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی سمیت 86 اراکین کے دستخط ہیں۔ تحریکِ عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے سٹاف نے وصول کی۔

    اس حوالے سے جہاں وزیراعظم عمران خان کے مخالفین سامنے آرہے ہیں تو وہیں اُن کے حمایتی خوب اُن کا ساتھ دیتے نظر آرہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کیا وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوسکے گی یا نہیں۔

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

    حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔