Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزیراعظم کس پارٹی کا ہو گا ؟ بلاول کا بڑا اعلان

    تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزیراعظم کس پارٹی کا ہو گا ؟ بلاول کا بڑا اعلان

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزیراعظم ن لیگ کا ہونا چاہیے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یہ بات بلاول بھٹو زرادری نے اے این پی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کہی چئیرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے عمران خان کا معاشی بحران امن و امان کی صورتحال پر اثرانداز ہو رہا ہے-

    جھوٹے الزامات،عمران خان کو گرفتار کرنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھے اپنے صوبے کی پولیس اور وزیراعلیٰ پر بھرپور اعتماد ہے ہمیں ریاست کی رٹ کو قائم کرنا پڑےگا،ہم پر نالائق ترین وزیراعظم مسلط ہے،علی وزیر ایک ایم این اے ہےعلی وزیر پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے-

    چئیر مین پیپلز پارٹی نے کہا کہ علی وزیر اور ان کے ساتھیوں کیلئے آواز اٹھاتارہا ہوں جو پہلا کیس کیا گیا تھا اس میں نے خود علی وزیر کیلئے وکیل کیا،جیل میں جو کچھ ممکن ہو سہولیات دیے جارہے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ میں اپنے اسپیکر اور اپنے ایم پی اے کو رہا نہیں کراسکا، اگر علی وزیر زیادہ جذباتی ہو گئے تھے تو انہیں معاف کر دینا چاہیے،انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزیراعظم ن لیگ کا ہونا چاہیے-

    تاثر ہے کہ سندھ کو کمزرو کرنے کیلئے وفاق افسران فراہم نہیں کر رہا،سپریم کورٹ

    قبل ازیں بلاول زرداری نے پشاور میں ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی کارکن ہماری طاقت اورہمارا حوصلہ ہیں،حکومت کو ہٹانے کیلئے صرف جمہوری طریقہ استعمال کریں گے،ہ پیپلزپارٹی نے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے ،تبدیلی کا وعدہ کرنے والی حکومت نے 3سالوں میں ملک کو تباہ کردیا،اس شخص کے خلاف احتجاج کریں گے جس نے 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا،نالائق حکومت کے خلاف مارچ کرنے جارہے ہیں،حکومت نے تعلیم کے مواقع فراہم کئے اور نہ ہی روزگار کے، حکومت کا ہر ایک وعدہ جھوٹا اور دھوکہ نکلا، یوٹرن پر یوٹرن لیا گیا-

    اقتدار میں آنے کے بعد جو سب سے زیادہ جملہ ادا کیا وہ "گھبرانا نہیں ہے”

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا موجودہ دور میں سب سے زیادہ کرپشن ہے، ملک بھر میں کرپشن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،ہم نے ڈٹ کر اس کٹھ پتلی کے خلاف مقابلہ کیا،ہم نے وزیراعظم کو پہلے دن ہی سلیکٹڈ قرار دے دیا تھا،دنیا بھر میں وزیراعظم سلیکٹڈ کے نام سے مشہور ہیں، عمران خان بڑی بڑی باتیں کرتے تھے،کہتے تھے میں ہر بدھ کو اسمبلی میں آؤں گا، عمران خان نے حکومت میں آکر اپنا گھر ریگولرائز کرا لیا، ہم نے کہا تھا کہ عمران کو میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے، ضمنی انتخابات ہوئے تو جیت ہماری ہوئی، پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری جماعت ہے، حکومت کو ہٹانے کیلئے صرف جمہوری طریقہ استعمال کریں گے، 8 مارچ کو ہم اسلام آباد میں ملیں گے اور قوم کے سامنے مطالبات رکھیں گے،عدم اعتماد نہ لانے کے خواہشمند ہمارا مؤقف دہرا رہے ہیں،خیبرپختونخوا کے جیالے لانگ مارچ میں صف اول کا کردار ادا کریں گے-

    حکومت کو ہٹانے کیلئے صرف جمہوری طریقہ استعمال کریں گے،بلاول

  • اقتدار میں آنے کے بعد جو سب سے زیادہ جملہ ادا کیا وہ "گھبرانا نہیں ہے”

    اقتدار میں آنے کے بعد جو سب سے زیادہ جملہ ادا کیا وہ "گھبرانا نہیں ہے”

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب ہم نے حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، اقتدار میں آنے کے بعد جو سب سے زیادہ جملہ ادا کیا وہ تھا ’”گھبرانا نہیں ہے” –

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں قومی ای پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب حکومت میں آیا تو کابینہ کو کہا گھبرانا نہیں ہے، آج اپوزیشن کو کہتا ہوں گھبرانا نہیں ہے اور جب دورہ ویسٹ انڈیز پر جاتے تھے تو ٹیم کو کہتا تھا کہ گھبرانا نہیں ہے سب سے زیادہ جو جملہ استعمال کیا وہ یہی ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔

    سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

    وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں دہرے معیار تعلیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا معیار تعلیم کئی حصوں میں تقسیم ہے جس کی مثال دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ملتی ملک میں یکساں تعلیمی نظام ہی ترقی کا ضامن ہے، تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں پاکستان، بھارت سے پیچھے رہ گیا ہے کیونکہ ہمارا تعلیم کا سسٹم نوجوانوں کو اوپر نہیں آنے دیتا-

    وزیر اعظم عمران خان نے رجسٹرڈ فری لانسرز پر ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے مختلف شعبوں کو مراعات فراہم کی گئی ہے آئندہ ایک دو سالوں میں آئی ٹی ایکسپورٹ دو ارب تک پہنچ جائیں گی سب کو پتہ ہے کہ ہماری حکومت آنے سے پہلے مسائل کا سامنا تھا رجسٹرڈ فری لانسرز کے لیے زیروٹیکس کر دیا ہے –

    سدھر جاؤ، وقت تیزی سے نکل رہا ہے

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر میں بہت سارے لوگ ارب پتی بن گئے ہیں، دنیا بھر میں لوگ آئی ٹی کے شعبوں رہتے ہوئے اپنی صلاحیت اور آمدنی کو بڑھا رہے ہیں میں نے بل گیٹس کو پاکستان آنے کی دعوت دی بل گیٹس نے پاکستان کی پولیو کے معاملے پر بہت مدد کی ہے اور خطیر رقم خرچ کی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی یوتھ کے لیے آئی ٹی انڈسٹری اہم ہے دنیا تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جا رہی ہے پاکستان کے لیے بھی اپنے ادارتی نظام کو ڈیجیٹلائزیشن کرنا بہت ضروری ہے ورنہ ہم پہلے ہی ترقی کی شرح میں پیچھے ہیں اور مزید تنزلی کا شکار ہوجائیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر دنیا بھر میں نوجوان آئی ٹی کے شعبے میں آگے بڑھ رہے ہیں آنے والے دنوں میں خوشخبری دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو جب موقع ملتا ہے یہ آگے بڑھتے ہیں۔

    آسٹریلین چیف آف ڈیفنس فورسزکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سےملاقات

  • آسٹریلین چیف آف ڈیفنس فورسزکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سےملاقات

    آسٹریلین چیف آف ڈیفنس فورسزکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سےملاقات

    راولپنڈی: پاکستان کے سرکاری دورے پرچیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا جنرل اینگس جے کیمبل نے آج جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دوطرفہ پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور بالخصوص عالمی اور علاقائی سلامتی کے ماحول اور دونوں مسلح افواج کے درمیان تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی بی اے سکھرمیں پنوعاقل گیریژن کے زیراہتمام ایجوکیشن ایکسپوکا انعقاد

    بعد ازاں 11 واں دور پاکستان – آسٹریلیا، دفاعی اور سیکورٹی مذاکرات اور1.5 ٹریک سیکورٹی ڈائیلاگ کا آٹھواں دور جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں منعقد ہوا پاکستان کی جانب سے سربراہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کی جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا نے قیادت کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اطراف نے پاکستان اور آسٹریلیا کی دفاعی افواج کے درمیان باہمی تبادلوں، تربیتی پروگراموں، مشترکہ مشقوں اور دیگر دفاعی سرگرمیوں کے شعبوں میں جاری تعاون کا جائزہ لیا دونوں اطراف نے دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط اور بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاک فوج کے خلاف سازش میں مصروف:پراپیگنڈہ بھی اورنفرت…

    آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعی اور سلامتی مذاکرات 2006 میں شروع کیے گئے تھے اور اس کے بعد سے پاکستان اور آسٹریلیا میں متبادل بنیادوں پر باقاعدگی سے منعقد ہوتے رہے ہیں اس فورم کے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات بتدریج وسیع تر ہو رہے ہیں۔

    آسٹریلوی معززین نے پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی کامیابیوں اور علاقائی امن و استحکام بالخصوص افغانستان میں امن کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔

    قبل ازیں جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر، جنرل اینگس جے کیمبل کو سہ فریقی خدمات کے دستے نے "گارڈ آف آنر” پیش کیا۔

    وفاقی اردو یونیورسٹی کے طلباء و اساتذہ کا ملیر کینٹ کا دورہ، آئی ایس پی آر

  • سدھر جاؤ، وقت تیزی سے نکل رہا ہے

    سدھر جاؤ، وقت تیزی سے نکل رہا ہے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رات دبئی سے واپس پہنچا ہوں اور بڑی خبریں ملی ہیں

    سینئر صحافی مشبر لقمان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ نورمقدم قتل کیس میں آج دلائل مکمل ہو گئے ہیں اور اگلے ہفتے فیصلے کا امکان ہے، پولیس نے اس میں بہت گند کی،سب سامنے ہے، درندہ قانون کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکے گا، سیشن کورٹ سزا دیتی ہے تو وہ اگلی عدالت میں جائے گا، عدالت کی بات ہو رہی ہے تو عدالت میں محسن بیگ کا کیس بھی لگا ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ نے سماعت کی،محسن بیگ پر تشدد کیا گیا اسکی پسلیاں ٹوٹ گئین، ناک پر بھی زخم، انکو سزا دینے کا مطلب سارے میڈیا کو سزا دینا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ سادہ لباس میں لوگ آئے، خود گھر والوں نے پولیس کو فون کیا کہ ہمارے گھر ڈاکو آ گئے انکو پکڑیں، عدالت اس کیس میں بھی جلد از جلد فیصلہ کرے گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بہت زیادہ مسائل ہیں اور خاص کر ان لوگوں کے مسائل ہیں جو پاکستان میں انویسمنٹ کرتے ہیں، ہمارا بھی عجیب المیہ ہے کہ اگر کسی شیخ نے انویسمنٹ کرنی ہو تو ون ونڈو آپریشن شروع کر دیتے اور اگر کسی اپنے ملک کے شہری نے کرنی تو پھر ایئرپورٹ سے ہی ٹیکسی والے اسے لوٹنے شروع کر دیتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب قومیں اپنی غلطیاں نہ مانیں تو وہ پھر مٹ جاتی ہیں،کئی قومیں آئیں اور مت گئیں، تاریخ بھری پڑی ہے،دبئی میں پاکستانی ہیں جو اپنی انویسمنٹ افریقہ لے کر جا رہے ہیں، پاکستان کے انویسٹر پاکستان میں انویسٹ کرتے ہوئے گھبرا رہے ہیں ،حکومت نے اگر سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں نہیں لیتا پالیسی بنانے میں تو وہ پالیسی کبھی دیرپا نہیں ہو گی، جو پانچ سال عوام سے جھوٹ بولے اسکو پانچ سال کے لئے اور حکومت دے دیں اور جو حکومت کو بے نقاب کریں اسکو پانچ سال کے لئے اندر کر دیں،

  • ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن بیگ کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت پیش کیا گیا

    وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ پولیس نے عدالتی ریمانڈ کا غلط استعمال کیا ہے، پولیس حکام نے عدالت میں کہاکہ محسن بیگ کا مزید جسمانی ریمانڈ چاہئے، اے ٹی سی اسلام آباد نے استفسار کیا کہ مزید ریمانڈ کیوں چاہیے؟ پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ پولیس گرافک ٹیسٹ کرانا ہے، ویڈیو برآمد کرنا ہے،اے ٹی سی اسلام آباد نے استفسار کیا کہ تین دن میں کیا کیا ہے ،6 دن سے محسن بیگ آپکے پاس ہے، آپکی کیا کارکردگی ہے؟ پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ 6 دن میں ویڈیو برآمد نہیں کی جا سکی ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اتوار کو ڈی سی، آئی جی،ایس ایس پی محسن بیگ کے گھر میں تھے اےٹی سی اسلام آباد نے صحافی محسن بیگ کا 2روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکر لیا

    صحافی محسن بیگ کے وکلا نے عدالت میں ایک اور درخواست دائر کر دی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ محسن بیگ کی میڈیکل رپورٹ فراہم کی جائے، اےٹی سی اسلام آباد نے ایم ایس پولی کلینک کو نوٹس جاری کر دیا عدالت نے ایم ایس پولی کلینک کو ریکارڈ سمیت 23 فروری کو طلب کر لیا

    محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے نے مراد سعید کی شکایت پر مقدمہ درج کیا جبکہ اسلام آباد پولیس نے الگ سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کا مقدمہ درج کیا تھا اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں محسن بیگ کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں ان کے بیٹے کو بھی نامزد کیا گیا تھا، جس میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی تھیں

    محسن بیگ کےگھر پرچھاپہ غیر قانونی ہے:عدالت کافیصلہ

    مریم نوازمحسن بیگ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

    محسن بیگ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    مزید کئی صحافی بھی حکومتی نشانے پر ہیں،عارف حمید بھٹی کا انکشاف

    محسن بیگ کی گرفتاری، اقرار الحسن پر تشددکیخلاف کئی شہروں میں صحافی سراپا احتجاج

    کسی جج کو دھمکی نہیں دی جا سکتی،عدالت،محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب

    ایس ایچ او کے کمرے میں ایف آئی اے نے مجھے مارا،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وزیراعظم کا بیان دھمکی،اس سے بڑی توہین عدالت نہیں ہوسکتی ،لطیف کھوسہ

    آخر ریحام خان کی کتاب میں ایسا کیا ہے جو قومی ایشو بن گیا،حسن مرتضیٰ

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

  • نور مقدم قتل کیس،کل فیصلہ محفوظ ہونے کا امکان

    نور مقدم قتل کیس،کل فیصلہ محفوظ ہونے کا امکان

    نور مقدم قتل کیس،کل فیصلہ محفوظ ہونے کا امکان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نور مقدم قتل کیس کی مقامی عدالت میں سماعت ہوئی

    تھراپی ورکس کے 5 ملزمان دلیپ کمار، وامق ریاض،ثمر عباس،عبد الحق اور امجد محمود کے وکیل شہزاد قریشی نے دلائل دئیے وکیل شہزاد قریشی سے جج نے استفسار کیا کہ یہ لوگ جائے وقوعہ پر کس وقت پہنچے تھے۔ جج کو وکیل نے بتایا کہ یہ لوگ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 کے قریب جائے وقوعہ پر پہنچنے تھے اور ڈی وی آر کے اندر پورا واقعہ موجود ہے اور جائے وقوعہ پر کسی نے بھی شواہد کو مٹانے کی کوشش نہیں کی ،شہزاد قریشی نے عدالت کو بتایا کہ ڈی وی آر کھلنے کے بعد ثابت ہو گیا کہ میرے ملزمان نے مرکزی ملزم کو وہاں سے گرفتار کیا اور عدالت سے استدعا ہے کہ یہ پانچوں ملزمان بےگناہ ہیں،ان کو بری کیا جائے

    تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی نے بھی حتمی دلائل دئیے اور بتایا کہ میرے موکل پر الزام لگایا گیا کہ طاہر ظہور کو ذاکر اور عصمت مقدم نے فون کیا، طاہر ظہور کے متعلق کہا گیا کہ ان کو ہدایت دی جاتی رہیں تاہم اب پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے کون سی ہدایات دی جاتی رہیں، سی ڈی آر کےعلاوہ ریکارڈ پر کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

    وکیل اکرم قریشی نے عطا ربانی کی عدالت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں بتایا گیا کہ سی ڈی آر بغیر ٹرانسکرپٹ کے بطور شواہد استعمال نہیں کیا جاسکتا انھوں نے مزید دلائل دئیے کہ تھراپی ورکس ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی،پولیس افسران کو واقعہ کی اطلاع 8:40 پر پہنچ چکی تھی اور اگر پولیس نےجائے وقوعہ پرپہنچ کربھی ایف آئی آر درج نہیں کی تو 174 کا پرچہ تو پولیس پر بنتا ہے

    وکیل اکرم قریشی نے مزید دلائل دئیے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پولیس افسران کی تمام تفتیش مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہوچکی تھی، جس طرح سب کچھ گول مال نظر آتا ہے،سمجھ نہیں آتی کہ پولیس نےکیسی تفتیش کی ہے،پولیس اسٹیشن میں بیٹھ کرپولیس نے ساری کاروائی کی ہے اور مقدمے کی دو مختلف تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ کہانی بنائی گئی ہے، پولیس افسران نے تفتیش کے دوران غیر ذمہ دار ی کا مظاہرہ کیا۔

    عصمت آدم جی کے وکیل اسد جمال نے بھی عدالت میں دلائل دئیے۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کوچھپایا گیا کہ پولیس کو واقعہ کی اطلاع کہاں سے ملی، جو عینی شاہدین تھے انہیں بطورعینی شاہد ہی عدالت میں پیش کیا جاتا، ہمارے کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ پولیس ایک سرے سے دوسرے سرے تک نہیں پہنچ پاتی اور قتل کے وقت کے حوالے سے بھی پراسیکیوشن نے بھی کنجوسی سے کام لیا

    وکیل اسد جمال نے مزید کہا کہ پراسیکیوشن نے کہا تھا کہ قتل رات کو ہوا لیکن کوئی ٹائم لائن پیش نہیں کی گئی،ٹائم لائن قائم کیےبغیر کیس قائم نہیں کیا جاسکتا، موت کا وقت ایف آئی آر میں درج نہیں اور نہ ہی گواہان کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ کب واقعہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس کیس میں پراسیکیوشن کنفیوژن کا شکار نظر آتی ہے،4 گھنٹے کا گھپلا ہے جو پولیس کی تفتیش کی جانب سے بنایا گیا،کیس میں کوئی ایسا فقرہ نہیں کہا گیا جس میں کیس ہمارے ساتھ جوڑا جا سکے ہم پر الزام ہے کہ ہم نے قتل کی اطلاع پولیس کو نہیں دی، ہم پر ثبوتوں کو جائے وقوعہ سے ہٹانے کا الزام لگایا گیا تاہم کرائم سین انچارج یہ کہ سکتا تھا کہ ثبوتوں کو مٹانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا، مقتولہ نورمقدم کے موبائل یا واٹس ایپ کا ڈیٹا بھی نہیں لیا گیا

    نور مقدم کیس میں ملزمان کے وکلاء کے حتمی دلائل مکمل ہو گئے مدعی شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے حتمی دلائل کا آغاز کر دیا ،شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے حتمی دلائل دیتے ہوئے جائے وقوعہ پر ڈرگ پارٹی کے معاملے کو خیالی کہانی قرار دے دیا، اور کہا کہ جب نور مقدم گھر داخل ہوئیں تو ان کے پاس ہینڈ بیگ کے علاوہ کوئی سامان نہیں تھا ،نور مقدم قتل کیس میں مدعی مقدمہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ کے دلائل آج مکمل نا ہو سکے کل صبح ساڈھے نو بجے بھی دلائل جاری رکھیں گے کل نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ ہو جائے گا

    قبل ازیں  اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ کرنے 4 ہفتے میں کرنے کا حکم دے دیا ،ٹرائل کورٹ کے جج نے نور مقدم قتل کیس کا ٹرائل مکمل کرنے کیلئے مزید وقت کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھا ٹرائل کورٹ کے جج عطاربانی کے خط پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید 4 ہفتے کی توسیع کرتے ہوئے سیشن کورٹ کو4 ہفتے میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی ہے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2 ماہ میں نورمقدم قتل کیس کا ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا تھا، دو ماہ مکمل ہونے پر عدالت کو خط لکھا گیا تھا

    @MumtaazAwan

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم قتل کیس،ظاہر جعفر ہاوس کے تین ملازمین کے وکلا کے حتمی دلائل مکمل

  • سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

    سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

    سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

    سپریم کورٹ میں سرگودھا سے مغوی لڑکی کی برآمدگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت ڈی پی او سرگودھا نے ضلع سے اغواء شدہ 151 لڑکیوں کو بازیاب کروائے جانے کا انکشاف کیا، ، سپریم کورٹ نے اتنی بڑی تعداد میں لڑکیوں کے اغواء پر تشویش کا اظہار کیا ،ڈی پی او نے عدالت میں کہا کہ آپریشن عدالتی حکم پر کیا گیا اور مختلف علاقوں سے 151 لڑکیاں ملیں،21 لڑکیاں قحبہ خانوں سے برآمد کی گئیں،

    سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ اتنے چھوٹے سے علاقے سے 151 اغواء شدہ لڑکیاں ملیں؟ لڑکیوں کا اغواء ہونا پولیس کی نااہلی اور ناکامی ہے ، جولڑکیاں برآمد ہوئیں کیا انکی ایف آئی آر درج تھیں، جن تھانوں میں مقدمات تھے ، ان کے ایس ایچ زوز کو نوٹس کرنا چاہیے تھا، ڈی پی او سرگودھا نے عدالت میں کہا کہ مذکورہ مغوی بچی کی تلاش بھی جاری ہے،عدالتی حکم پر مغوی لڑکیوں کو برآمد کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں

    جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ زیادتی کی بات ہے ، ایف آئی آر کے باوجود اتنی سستی برتی گئی ،ڈی پی او نے کہا کہ مختلف مقدمات میں ملوث 16 ملزمان کو گرفتار کر لیاہے بازیاب ہونے والیوں میں سے کچھ لڑکیوں نے نکاح نامے بھی دکھائے جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کہ نکاح نامے تو بن بھی جاتے ہیں

    سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو صوبے میں مغوی لڑکیوں کی بازیابی کیلئے اقدامات کی ہدایت کر دی ہے اور مغوی لڑکیوں کی مبرآمدگی کیلئے بھی پولیس کو اقدامات کرنے کا حکم جاری کر دیا گیاہے ۔

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

  • محسن بیگ کیس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    محسن بیگ کیس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    چار افراد تھے،ایک گرفتار کیوں؟ جمہوری ملک میں ایسا کرنا تو عدالتوں کوبندکردیں،عدالت
    سینئر صحافی محسن بیگ کے خلاف درج 2 مقدمات کے اخراج کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو آزادانہ انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا ،دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سائبر کرائم پربرہمی کا اظہار کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت ڈائریکٹر سائبر کرائم کیخلاف کارروائی کیوں نہ کرے؟ جمہوری معاشرے میں یہ سب ناقابل برداشت ہے پولیس کیس میں قانون کیمطابق کارروائی کیوں نہ چلنے دیں؟ بے شک چھاپہ غلط طریقے سے ہوا ہو کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں،ریاست کی رِٹ بھی کوئی چیز ہوتی ہے ،

    عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ محسن بیگ کو گرفتار کیا، تھانے میں آمد روانگی کا مکمل ریکارڈ موجود ہے،
    محسن بیگ نے گرفتاری کے موقع پر ایف آئی اے کے دو اہلکاروں کومارا،حوالات لے جاتے ہوئے شدید مزاحمت کی، جھگڑا گیا ، تھانے میں آنے کے بعد پھر جھگڑا ہوا،محسن بیگ کی گرفتاری، تھانے میں آمد روانگی کا مکمل ریکارڈ موجود ہے معاملے کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کر دی گئی ۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ریاست کی رٹ ہونی چاہئے؟ بے شک کوئی ان کے گھر غلط گیا ہو گا مگر قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟ اس سے متعلق جو بھی دفاع ہے وہ متعلقہ ٹرائل کورٹ میں پیش کریں۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ محسن بیگ کے خلاف 4مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں 2 مقدمات درج کیے گئے، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وکیل کو تھانے میں رسائی دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ شکایت کنندہ اسلام آباد میں تھا تو مقدمہ لاہور میں کیوں درج ہوا؟ کیا ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈر کی ساکھ کی حفاظت کے لیے کام کر رہا ہے؟ ایف آئی اے کا کون سا ڈائریکٹر ہے جو آئین کو مانتا ہے اورنا قانون کو؟ یہ کسی ایک فرد کا نہیں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا معاملہ ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف ائی اے وکیل سے سوال کیا کی آپ نے انکوائری کی یا کوئی نوٹس جاری کیا ؟ چیف جسٹس نے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس جاری نہ کر کے آپ نے قانون کی خلاف ورزی کی ،یہ کیس اختیارات کے غیر قانونی استعمال کی اعلیٰ مثال ہے،آپ دلائل دیئے جارہے ہیں کیا خود کو قانون سے اوپر سمجھ رہے ہیں ؟آپ نے کارروائی کی کیونکہ شکایت کنندہ ایک وزیر تھا،

    ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ڈائریکٹرایف آئی اے سے سوال کیا کہ آپ نے اس عدالت میں کیا بیان حلفی دیا تھا؟ آپ نے کیا ایس او پی بنایا تھا،اس عدالت نے واضح کہا تھا کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا،ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیکشن 20 پر تھا، یہ سیکشن 21 کے تحت کارروائی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ عدالت آپ کے خلاف کارروائی کریگی،ایف آئی اے کا کام لوگوں کی خدمت کرنا ہے، ایف آئی اے کا کام پبلک آفس ہولڈر کا تحفظ نہیں، یہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہو گا، یہ عدالت کتنے عرصے سے آپ کو موقع دے رہی ہے، ہر کیس میں ایف آئی اے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہا ہے،یہ عدالت ہر بار ایف آئی اے کو بتا رہی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ لاہور میں کمپلینٹ کیوں دی گئی؟ جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ وفاقی وزیر نے لاہور میں درخواست دی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی وزیرلاہور دورے پرگئے ہوئے تھے؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ 15فروری کو شکایت درج کرائی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے نے پہلے نوٹس جاری کیا؟ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں بیان دیا کہ نہیں، نوٹس جاری نہیں کیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ آپ پڑھ کر بتائیں کس جملے سے ہتک عزت کا پہلو نکلتا ہے؟ جس پر ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے نے مراد سعید سے متعلق محسن بیگ کا جملہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اس جملے میں کتاب کا حوالہ ہے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا کتاب کا صفحہ نمبر محسن بیگ نے پروگرام میں بتایا ہے؟ جس پر ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ نے جواب دیا کہ نہیں، یہ بات پروگرام میں نہیں کی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری ملک میں ایسی کارروائیاں کرنی ہے تو عدالتوں کو بند کر دیں آپ اپنی کارروائی کا دفاع بھی کیسے کر سکتے ہیں یہ عدالت آپ کو شوکاز جاری کرتی ہے ، ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ ہم آپ کے بچے ہیں،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ میرے بچے ہیں نا میں آپ کا باپ ،میں یہاں قانون پر عمل کے لیے ہوں،کیا ایف آئی اے نے گرفتاری سے پہلے کوئی انکوائری کی؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ اگر انکوائری کرتے تو ملزم کو پتہ چل جاتا اور وہ شواہد مٹا دیتا،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کتنے کیسز زیرالتوا ہیں؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ 14ہزار کیسز زیر التوا ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے تمام کیسز میں گرفتاریاں کیں؟ آپکا کیس اس عدالت میں زیرسماعت ہے،آپ نےعدالت اور سپریم کورٹ کو بیان حلفی دیا کہ آپ ایس او پی پر عمل کرینگے،آپ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو شرمندہ کر رہے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے سی ایس ایس کیا ہے؟ آپ جو پڑھ رہے ہیں اسکا مطلب بتائیں، ایف آئی اے کے سربراہ کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے، کیا اس ملک میں مارشل لا لگا ہوا ہے؟ ایف آئی اے نے اپنے اقدام سے خود کو ہی شرمندہ کر دیا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ ٹاک شو میں 4 افراد تھے، ایک کو گرفتار کیا، کیا ملزم نے خود ویڈیو شیئر کی تھی ؟ڈائریکٹر سائبر ونگ نے کہا کہ قانون موجود ہے کس کیخلاف کارروائی کریں، عدالت نے کہا کہ کیا آپ قانون سے بالاتر ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ پروگرام میں کتنے لوگ بیٹھے تھے ،ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ پروگرام میں 4 لوگ تھے،عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو پروگرام میں محسن بیگ کے الفاظ پڑھنے کی ہدایت کردی اور پھر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو باتیں آپ نے پڑھیں اس میں کیا ڈیفامیٹری ہے ؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ ریحام خان کی کتاب کاریفرنس ڈیفامیٹری ہے، عدالت نے کہا کہ کیا ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈر کیلئے ہے یا لوگوں کیلئے؟ ہر بار آپ کو سمجھایا کہ ایسا نہ کریں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کے قانون میں ہے کہ آپ نے پہلے انکوائری کرنی ہے، آپ نے کوئی انکوائری نہیں کی کیونکہ شکایت وزیر کی تھی ٹاک شو ٹیلی وژن پر ہوا تو پھر متعلقہ سیکشن کا اطلاق نہیں ہوتا ،ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ نے کہا کہ جب وہ ٹاک شو فیس بک، ٹوئٹر اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو ہم نے کارروائی کی، جس پر عدالت نے پوچھا کہ آپ نے کیا انکوائری کی؟ کیا ملزم نے وہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل کیا؟ اس پروگرام میں کتنے لوگ تھے؟ سب نے وہی بات کی تو باقی تینوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے نے جواب دیا کہ باقی لوگوں نے وہ بات نہیں کی جو محسن بیگ نے کی، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ کو اس بات کا یقین ہے؟ کیا آپ نے وہ کلپ دیکھا ہے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اعتراف کر لیا کہ محسن بیگ کیخلاف ایف آئی اے کی پیکا کی سیکشن 21 کے تحت کارروائی نہیں بنتی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جنسی طور پر ایکسپوز کرنے والی یہ سیکشن لگا کر ایف آئی اے نے شکایت کنندہ کو بھی شرمندہ کیا ہے، ایف آئی اے نے جو دفعات لگائیں ان پر انہیں شرمندہ ہونا چاہیے،اس سے زیادہ اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہو گا، کیا آپکو معلوم ہے پوری دنیا میں ہتک کے قانون کو کس طرح چلایا جاتا ہے، ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نے قانون بنایا ہے اور میں اس پر عمل کر رہا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ پھر اس عدالت میں پیش کیوں ہوئے ہیں؟آپ نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی،آپ نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا یہ عدالت آپکے خلاف کارروائی کریگی،یہ عدالت اٹارنی جنرل کولا رہی ہے، ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ وہ میرا دفاع کیوں کرینگے،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں، آپ لکھ کر دیں کہ آپکو کس نے ہدایات دی تھیں؟ یہ دو مختلف کیس ہیں ملزم نے کیا کیا یہ عدالت اس میں نہیں جائے گی،ایف آئی اے نے جو کیا یہ عدالت اس کو نہیں چھوڑے گی، ایف آئی اے نے لوگوں کی خدمت چھوڑ کر پیکا پر کام شروع کر دیا ہے ایف آئی اے مسلسل اختیارات کا غلط استعمال کررہا ہے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کتاب میں کیا لکھا تھا وہ سب جانتے ہیں،جس پر عدالت نے کہا کہ سب کیا جانتے ہیں، آپ جانتے ہونگے، عام شکایت ہوتی تو پھر بھی گرفتاری نہیں بنتی تھی یہ تو پبلک آفس ہولڈر کی درخواست تھی،ایف آئی اے پوری دنیا میں کیا پیغام رے رہی ہے، یہ ایک آئینی عدالت ہے اور یہ آئین کے تحت چلنے والا ملک ہے،گرفتاری ایک دھمکی ہے کہ اظہار رائے کی کوئی آزادی نہیں، یہ عدالت برداشت نہیں کریگی، ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کیلئے مسلسل اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہی ہے، افریقہ کے ملکوں نے بھی ہتک کو فوجداری قوانین سے نکال دیا ہے، صحافیوں کیلئے پاکستان غیرمحفوظ ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے، یہ اسی وجہ سے ہے کہ یہاں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے، اگر آپ میرٹ پر بات کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں کہ کیا فحاشی ہے، اگر کوئی کتاب کا حوالہ دیتا ہے تو فحاشی کیا ہے اگر کوئی کتاب کا حوالہ دے کر دھمکا رہا ہے تو اس کتاب میں کچھ ہو گا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب آپ کیوں خود کو شرمندہ کر رہے ہیں، کیا مراد سعید کا نام کتاب کے صرف ایک صفحے میں لکھا ہے،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے وہ کتاب نہیں پڑھی، عدالت نے کہا کہ پھر آپ کس طرح یہ بات کر رہے ہیں،ایڈییشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہمیں فحش گوئی کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑی فحاشی آئین کا احترام نہ کرنا ہے،بڑی فحاشی اظہار رائے پر پابندی لگانا، اختیار کا غلط استعمال کرنا ہے،اختیارات کے ناجائز استعمال سے کسی کی عزت نہیں بچتی، یہ ہمارا احتساب ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیکا کی سیکشن 21 ڈی تو اس کیس میں کسی طور نہیں بنتی تھی، اب اس کیس میں عدالت کیا کرے، عدالت نے بار بار سمجھایا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس عدالت نے بارہا ایف آئی اے کو سمجھایا ہے،عدالت نے کہا کہ یہ عدالت بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ آپ محتاط رہیں مگر کیا میسج دیا جا رہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی نہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری ریڈنگ پر بھی سیکشن 21 ڈی نہیں بنتا،عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کے اختیارات کے غلط استعمال پر تشویش ہے،

    محسن بیگ کیس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم بابر بخت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیا،عدالت نے حکم دیا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں، عدالت کو مطمئن کریں کہ آپ نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیوں کیا،اگر آپ عدالت کو مطمئن کر دیتے ہیں تو نوٹس ختم ہو جائے گا، عدالت نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اورکہا کہ اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہو کر ایف آئی اے مقدمے کا دفاع کریں، چیف جسٹس کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ اٹارنی جنرل بھی پیش ہوکر معاونت کریں،اٹارنی جنرل بتائیں کیا محسن بیگ کیخلاف ایف آئی اے کیس کا دفاع کریں گے ؟

    محسن بیگ کی غیر قانونی گرفتاری پر عدالت نے بیلف مقرر کر دیا، پیش کرنیکا حکم

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی بھی اسلام آباد پولیس کے خلاف بول اٹھے

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    محسن بیگ نے کچھ بولا ہی نہیں اب تو پوری دنیا آپ کے راز کھولے گی،ریحام خان

    محسن بیگ کو گرفتار کیوں اور کس کے کہنے پر کیا گیا؟

    سادہ کپڑوں میں چھاپہ مارا گیا،سمجھا ڈاکو گھس آئے،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    محسن بیگ کی گرفتاری کیخلاف پی ایف یو جےکا ملک گیر احتجاج کا اعلان

    محسن بیگ کےگھر پرچھاپہ غیر قانونی ہے:عدالت کافیصلہ

    مریم نوازمحسن بیگ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

    محسن بیگ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    مزید کئی صحافی بھی حکومتی نشانے پر ہیں،عارف حمید بھٹی کا انکشاف

    محسن بیگ کی گرفتاری، اقرار الحسن پر تشددکیخلاف کئی شہروں میں صحافی سراپا احتجاج

    کسی جج کو دھمکی نہیں دی جا سکتی،عدالت،محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب

    ایس ایچ او کے کمرے میں ایف آئی اے نے مجھے مارا،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وزیراعظم کا بیان دھمکی،اس سے بڑی توہین عدالت نہیں ہوسکتی ،لطیف کھوسہ

    آخر ریحام خان کی کتاب میں ایسا کیا ہے جو قومی ایشو بن گیا،حسن مرتضیٰ

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

  • آئی بی اے سکھرمیں پنوعاقل گیریژن کے زیراہتمام ایجوکیشن ایکسپوکا انعقاد

    آئی بی اے سکھرمیں پنوعاقل گیریژن کے زیراہتمام ایجوکیشن ایکسپوکا انعقاد

    انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے ) سکھر میں پنوعاقل گیریژن کے مجموعی انتظامات کے تحت ایجوکیشن ایکسپو کا انعقاد کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس ایکسپو میں نمایاں یونیورسٹیوں بشمول نسٹ، کامسیٹس، یو ای ٹی اور بحریہ یونیورسٹی نے تعلیمی سٹالز لگا کر ایکسپو میں شرکت کی سندھ بھر سے طلباء نے ایجوکیشن ایکسپو کا دورہ کیا اور تقریب کے انعقاد پر پاک فوج کی کاوشوں کو سراہا۔


    آئی ایس پی آر کے مطابق گیریژن کمانڈر پنو عاقل گیریژن نے ایکسپو 2022 کا دورہ کیا اور طلباء سے بات چیت کی جہاں انہوں نے تعلیم کی اہمیت اور قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔

    شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،شدید فائرنگ کے تبادلے میں1 جوان شہید ،5…

  • واپڈا کے سابق چیئرمین زاہد علی اکبرکے خفیہ اکاؤنٹ کا سوئس سیکریٹس میں انکشاف

    واپڈا کے سابق چیئرمین زاہد علی اکبرکے خفیہ اکاؤنٹ کا سوئس سیکریٹس میں انکشاف

    واپڈا کے سابق چیئرمین زاہد علی اکبرکے خفیہ اکاؤنٹ کا سوئس سیکریٹس میں انکشاف ہوا ہے-

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق زاہد علی اکبر خان کے سوئس اکاؤنٹ میں خفیہ اکاؤنٹ میں 3ارب روپے جمع کرائے گئے زاہد علی اکبر پر واپڈا میں 176 ملین روپے کی خورد برد کا الزام تھا 2006میں زاہد علی اکبر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے،زاہد علی اکبر 1987 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی رہے-

    احتساب عدالت نے مئی دو ہزار سات میں انہیں اشتہاری قرار دے دیا تھا مئی 2013 میں جنرل ریٹائرڈ زاہد علی اکبر کو انٹرپول کے ذریعے بوسنیا سے گرفتار کیا گیا تھا-

    جنیوا: آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) نے کریڈٹ سوئس بینک کےاکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات جاری کردیں جس کے تحت پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہان یا ان کے رشتہ داروں کے نام بھی شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    سوئس بینکنگ سیکریٹ منظرعام پر آنے کے بعد متعدد ممالک میں کھلبی مچ گئی ہے او سی سی آر پی کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر سے 15 انٹیلی جنس شخصیات، یا ان کے قریبی خاندان کے افراد کے کریڈٹ سوئس میں اکاؤنٹس ہیں۔

    آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) نے سوئس سیکرٹس کے نام سے سوئس بینکوں میں 100 ارب ڈالرز سے زائد بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات سامنے لانے کا اعلان کیا تھا۔

    او سی سی آرپی نے اس حوالے سے کہا کہ 100 ارب ڈالرز سے زائد کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات آنے والی ہیں جن میں مجموعی طورپر18 ہزار بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات سامنے آئیں گی 47 میڈیا اداروں کےساتھ مل کردنیا کی سب سے بڑی تحقیقات کی ہیں اور یہ تحقیقات سوئس بینکنگ کی پراسراردنیا سے متعلق ہیں-


    او سی سی آرپی نے بتایا ہے کہ تحقیقات میں سیاستدانوں، جرائم پیشہ افراد اور جاسوسوں کے مالی رازوں کو بے نقاب کیا گیا ہے –

    غالب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانامہ اور پنڈورا لیکس کے بعد منظر عام پر آنے والا ایک اور سربستہ راز زیادہ ہنگامہ خیز ثابت ہو گ سوئٹزرلینڈ کے خفیہ اکاؤنٹس سے متعلق یہ اب تک ہونے والی سب سے بڑی تحقیقات ہیں –

    او سی سی پی آر کی رپورٹ کے مطابق ایک یمنی جاسوس سربراہ تشدد میں ملوث ہونے او سی سی آر پی کے مطابق اکاؤنٹس رکھنے والوں میں اردن، یمن، عراق، مصر اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہان یا ان کے رشتہ دار شامل ہیں۔

    او سی سی آر پی نے بتایا کہ بعض افراد پر مالی جرائم، تشدد یا دونوں کا الزام ہے جبکہ کریڈٹ سوئس لیک میں مجرموں، دھوکہ بازوں اور بدعنوان سیاستدانوں کو بے نقاب کیاگیا۔

    پوری دنیا سے تعلق سے تعلق رکھنے والے لوگ ہر ایک مختلف کرپشن، آمرانہ حکومت سے وابستہ ہے اور ہر ایک اپنے اپنے طریقے سے خود کو مالا مال کر رہا ہے۔ لیکن ایک چیز ہے جو انہیں متحد کرتی ہے: انہوں نے اپنا پیسہ کہاں رکھا۔

    اپنی لگژری گھڑیوں سوئٹزرلینڈ کی الپائن قوم شاید اپنے خفیہ بینکنگ سیکٹر کے لیے مشہور ہے۔ اور اس شعبے کے مرکز میں کریڈٹ سوئس ہے، جو اپنی 166 سالہ تاریخ میں دنیا کے اہم ترین مالیاتی اداروں میں سے ایک بن گیا ہے۔

    تقریباً 50,000 ملازمین اور 1.5 ملین کلائنٹس کے زیر انتظام اثاثوں کے ساتھ 1.5 ٹریلین سوئس فرانک کے ساتھ، یہ بینکنگ بیہیمتھ اب بھی سوئٹزرلینڈ کا صرف دوسرا سب سے بڑا بینک ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس امیر اور آرام دہ ملک کے لیے بینکنگ کا شعبہ کتنا مرکزی ہے۔

    لیکن، جیسا کہ جرمن اخبار Süddeutsche Zeitung اور او سی سی آر پی کی سربراہی میں ایک نئی عالمی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے، اس شاندار کامیابی کا اپنا ایک مضحکہ خیز پہلو ہے۔

    صحافیوں نے 18,000 سے زائد اکاؤنٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے لیک شدہ ریکارڈ حاصل کیے ہیں جن کا تعلق غیر ملکی صارفین کے ہے جنہوں نے اپنی رقم سوئس بینک میں جمع کی تھی۔ ریکارڈز بینک کے کلائنٹس کی مکمل فہرست کے قریب کہیں نہیں ہیں، لیکن وہ سوئس بینکنگ کی رازداری کے پردے کے پیچھے ایک واضح جھلک فراہم کرتے ہیں۔

    48 نیوز چینل کے 160 سے زیادہ رپورٹرز نے اعداد و شمار میں کئی ماہ لگائے اور پتہ چلا کہ درجنوں اکاؤنٹس کرپٹ سیاست دانوں، مجرموں، جاسوسوں، آمروں اور دیگر مشکوک کرداروں کے تھے۔ یہ غیر واضح نام نہیں ہیں، ان کی غلطیاں اکثر گوگل سرچ کے ذریعے پہچانی جاسکتی ہیں۔ اور پھر بھی، ان کے اکاؤنٹس – جن میں 8 بلین ڈالر سے زیادہ تھے – برسوں تک کھلے رہے۔

    سوئس بینک کے کسٹمرز میں ایک مصری انٹیلی جنس چیف کا خاندان بھی شامل تھا جو سی آئی اے کے لیے دہشت گردی کے مشتبہ افراد پر تشدد کی نگرانی کرتا تھا۔ ایک اطالوی پر بدنام زمانہ ‘Ndrangheta مجرمانہ گروپ کے لیے مجرمانہ فنڈز کو لانڈرنگ کرنے کا الزام ہے۔ ایک جرمن ایگزیکٹو جس نے ٹیلی کام کے معاہدوں کے لیے نائجیریا کے حکام کو رشوت دی۔ اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم، جنہوں نے اپنے عروج پر 230 ملین سوئس فرانک ($ 223 ملین) کا ایک اکائونٹ رکھا، یہاں تک کہ ان کے ملک نے اربوں کی غیر ملکی امداد حاصل کی۔

    وینزویلا کے اشرافیہ نے سرکاری تیل کی فرم کو لوٹنے کا الزام لگا کر کروڑوں ڈالر سوئس بینک کے کھاتوں میں ڈالے یہ رقم ایک ایسے دور میں اکٹھی کی گئی جب حکومتی خزانوں سے بڑے پیمانے پر لوٹ مار نے معاشی تباہی کو جنم دیا جس نے 60 لاکھ افراد کو ملک سے فرار ہونے پر اکسایا اور دوسروں کو قریب قریب فاقہ کشی کی طرف دھکیل دیا۔ بینک نے اپنے وینزویلا کے کلائنٹس کے اکاؤنٹس کھلے رکھے یہاں تک کہ عالمی میڈیا نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے خلاف بدعنوانی کے معاملات کو بے نقاب کیا۔

    او سی سی آر پی کے نتائج کا جائزہ لینے والے ماہرین نے کہا کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سوئس بینک میں اکاؤنٹس کھولنے کی بالکل اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔

    مالی جرائم کے ایک آزاد ماہر گراہم بیرو نے کہا کہ "لوگوں کو سسٹم تک رسائی نہیں ہونی چاہیے اگر وہ کرپٹ پیسہ لے کر جا رہے ہیں۔” "بینک کا واضح فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ جو فنڈز ہینڈل کرتا ہے وہ واضح اور جائز ہے سوئس بینک واحد مجرم نہیں ہے۔ کئی بڑے بینکوں اور مالیاتی خدمات کی فرموں کو گزشتہ برسوں میں اسی طرح کے سکینڈلز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے بعد بہت سے لوگوں نے اصلاح کا عہد کیا ہے۔ اور پھر بھی جیسا کہ اس طرح کے پروجیکٹوں سے پتہ چلتا ہے انہوں نے ایسے ناقص کلائنٹس کو اجازت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جنہوں نے کمزور قانونی نظام والے ممالک میں خود کو مالا مال کیا ہے اور دنیا کے کچھ محفوظ ترین اور محفوظ ترین مقامات پر اپنی دولت کی حفاظت کرنے میں غفلت برتی ہے۔

    یو کے چیریٹی ٹیکس جسٹس نیٹ ورک کے ایک سینئر مشیر جیمز ہنری کہتے ہیں، "سوئٹزرلینڈ گندے پیسوں کے لیے جانے کی جگہ بن گیا ہے کیونکہ یہ خالص، اچھی طرح سے منظم، قابل اعتماد ہے۔” "غریب ممالک سے پیسہ نکالنے کا بزنس ماڈل مسئلہ ہے۔”

    سوئس بینک پروجیکٹ کے نتائج پر تبصرہ کرنے کے لیے پوچھے جانے پر، اس نے کہا کہ خطرے کا انتظام "ہمارے کاروبار کا مرکز” تھا۔ انفرادی صارفین کے بارے میں بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے، بینک نے کہا کہ وہ "بنیادی طور پر تاریخی” تھے اور صحافیوں کے ذریعہ شناخت کیے گئے مسائل والے اکاؤنٹس کی "زبردست اکثریت” آج بند ہیں یا پریس انکوائریوں کی وصولی سے پہلے بند ہونے کے عمل میں تھے۔

    اس نے مزید کہا کہ "ایک معروف عالمی مالیاتی ادارے کے طور پر، سوئس بینک کے کلائنٹس اور مجموعی طور پر مالیاتی نظام کے لیے اپنی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ طرز عمل کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھا جائے۔

    او سی سی آر پی نے سوئس بینک کے ایک درجن سے زائد سابق اور موجودہ ملازمین سے بات کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا وہ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ بینک نے ایسے لوگوں کو کلائنٹس بنایا تاہم سب نے اس مسئلے پر بات کرنے سے انکار کر دیا-