Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    اسلام آباد: تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی طرف سے او آئی سی اجلاس سے متعلق سخت پیغام کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن نے پیر کو تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر ایوان میں ہی دھرنا دینے اور او آئی سی اجلاس روکنے کی دھمکی دی تھی۔ وزرا نے بلاول کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور شاہ محمود نے امید ظاہر کی کہ بلاول بھارتی آلہ کار بن کر او آئی سی اجلاس کو سبوتاژ نہیں کریں گے جبکہ شیخ رشید نے بلاول کو چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو کانفرنس روک کر دکھائیں۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے، او آئی سی اجلاس کے باعث اسمبلی سیکریٹریٹ کا چارج وزارت خارجہ کے پاس ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکوزیشن کے 14 دن کے اندر اجلاس بلانا لازم ہے، اجلاس کا ہونا لازم نہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم نے سیاسی کمیٹی اجلاس میں بھی قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق مشاورت کی تھی۔

    اُدھر وزیراعظم عمران خان نے سیاسی کمیٹی کا اجلاس اتوار کو ایک بار پھر طلب کرلیا، بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت شریک ہوگی، جس میں اتحادیوں اور ناراض اراکین سے رابطوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ادھر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ جیت ان کی ہوگی اور تمام اراکین پارٹی ان کےساتھ وفا کریں گے اور اس سلسلے میں ایک اہم شخصیت نے اپنا فن دکھانا شروع کردیا ہے

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

    حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

  • ہندوستانOIC کےانعقادکامخالف:بلاول بھی دھمکیاں دے رہا ہے:ٹائمنگ ایک ہے:اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی

    ہندوستانOIC کےانعقادکامخالف:بلاول بھی دھمکیاں دے رہا ہے:ٹائمنگ ایک ہے:اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :ہندوستان او آئی سی کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈال رہا ہےاوربلاول بھی دھمکیاں دے رہےہیں،اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے خلاف سازش کا انکشاف کردیا ،اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بلاول کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میری نظر میں بلاول کا بیان انتہائی ناسمجھداری والا بیان ہے، پریشان ہمیں ہوناچاہیے جبکہ پریشان یہ خود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد تو ابھی جمع کروائی گئی ہے، او آئی سی کے سنتالیسویں اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ زبردستی نہیں کریں گے اپنامینڈیٹ اراکین کو یاد کرائیں گے اور کسی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سےنہیں روکیں گے جبکہ تحریک کا آئینی اور قانونی انداز میں مقابلہ کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ 27 او آئی سی کا اجلاس حکومت کا نہیں ریاست پاکستان کا ایونٹ ہے،ستمبر کو میرے خطوط او آئی سی وزرائے خارجہ کو بھجوائے جا چکے ہیں اور آج صبح سے مہمان آنا شروع ہو گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مصر کے وزیر خارجہ کل آ رہے ہیں جبکہ 21 تاریخ کو ایک اور اہم وزیر خارجہ پاکستان تشریف لا رہے ہیں، میں بطور وزیر خارجہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، مجھے امید ہے بلاول ہندوستان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ بچہ گھبراہٹ کا شکار دکھائی دے رہا ہے، آپ کے پاس نمبرز پورے ہیں تو پھر آپ گھبراہٹ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟

    وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی صفوں میں یکسوئی نہیں ہے کیونکہ یہ بنانے کیلئے نہیں گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں جبکہ یہ مثبت نہیں منفی اتحاد ہے، ان کے اندر یکسوئی نہیں ہے یہ مختلف مفادات والے لوگ عمران خان کو گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد ضرور کریں ہم اپنے ممبران کو منانے کی کوشش کریں گے لیکن زبردستی نہیں کریں گے جبکہ ہم تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ قانونی، جمہوری اور سیاسی انداز میں کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ کے اندر مسائل سامنے آ رہے ہیں جبکہ ن لیگ کے اندر دو سوچیں ہیں ، ایک سوچ تحریک عدم اعتماد کی پشت پناہی کر رہی ہے اور ایک اس کے برعکس بھی ہے۔ کیا عدم اعتماد کی تحریک انہوں نے سوچ سمجھ کے پیش نہیں کی تھی ؟

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اب ان کو گھبراہٹ کس بات کی ہے، یہ تو پچھلے اڑتالیس گھنٹوں میں 190/200 ووٹوں کی بات کر رہے تھے تو پھر آج بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہو گئے؟

    واضح رہے اس سے قبل اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر پیر تک اجلاس نہ بلایا گیا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے۔

    بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتےہیں، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے، کوشش کی جارہی ہے کہ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں، تاثر دیا جارہا ہے وہ نہیں کھیلے گا تو کوئی نہیں کھیلے گا۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے آئینی بحران پیدا ہو اور تیسری قوت کو موقع ملے، عمران خان نے شکست دیکھ کر غیرجمہوری عمل اختیار کیا، حکومت طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پہلے پارلیمان پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئیں مقابلہ کریں، عمران نیازی زندگی بھر کھلاڑی رہے، آخرمیں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، ہم ذمہ داری کے ساتھ آج تک چل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے آئینی بحران پیدا ہو۔

    بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اسپیکر نے غیر جمہوری سوچ اپنائی تو ساری اپوزیشن کو مناؤں گا، اسپیکر پیر تک عدم اعتماد نہ لائے تو ایوان میں دھرنا دیں گے، دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ عمران اکثریت کھو چکا ہے، عمران شکست دیکھ کر غیر جمہوریہ اپنا رہا ، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے۔

  • مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے

    مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے

    راولپنڈی :مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے،اطلاعات کے مطابق واران ٹورز کی چیئر پرسن عظمیٰ گل کی طرف سے سنیئر صحافی پرلگائے گئے الزامات راولپنڈی کی ایک عدالت نے نہ صرف مسترد کردئیے ہیں بلکہ عظمیٰ گل کی درخواست خارج کرتےہوئے اسے بے بنیاد قراردیا ہے

    ذرائع کے مطابق راولپہنڈی کی ایک عدالت اس کیس کا فیصلہ سنایا،ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل ماجوکے نے اس کیس کا فیصلہ سنایا،عدالت نے عظمیٰ گل اور اس کے شوہر کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو انتقامی رویہ قراردیا

    عدالت نے ہتک عزت کے الزام کے اس کیس میں ہرجانے کا دعویٰ بھی مسترد کردیا ہے
    یاد رہے کہ عظمیٰ‌ گل نےمعروف اینکر پرسن مبشر لقمان کواپنے متعلق پروگرام کرنے پر لیگل نوٹس بھجوا یا تھا . عظمی گل نے اپنے شوہر ونگ کمانڈر ریٹائرڈ یوسف گل کی جانب سے مجموعی طور پر ایک ارب روپے کی مالیت کے لیگل نوٹس بھجوائے تھے. انہیں پچاس پچاس کروڑ‌کے الگ الگ نوٹس بھجوائے گئے تھے

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474427″ /]

    واضح رہے کہ چند روز قبل سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم کی ایک جائداد جو کہ بس اڈا ہے اس پر پروگرام کیاتھا .اس بس سٹینڈ پر جنرل حمید گل کےبیٹے عبداللہ گل اور بیٹی عظمیٰ گل کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے .حکومت نے اس اڈے کو خالی کرا کر اسے قرنطینہ سینٹرز بنا دیا تھا . جس پر عظمیٰ گل نے سٹے آرڈر لے رکھا تھا .

    حکومتی اہلکاروں نے زبردستی یہ اڈا خالی کرا کے اس پر قرنطینہ سینٹر بنایا . اس جائیداد پر پروگرام کرنے پر عظمیٰ گل نے مبشر لقمان پر یہ الزام لگایا کہ اس میں‌حقائق کے خلاف اور من گھڑت باتیں کی ہیں. اور حتک عزت کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے خلاف لیگل نوٹس بھیجا  .

    یاد رہے کہ سینیئر صحافی مبشرلقمان نے اس کیس کے حوالے سے کافی تحقیق کے بعد کہا تھا کہ عظمیٰ گل کے شوہر یوسف صاحب جو جنرل حمید گل کے داماد اور ائیرفورس میں ہوتے تھے وہ ایک زمانے میں نواز شریف کے آئی ڈی سی بھی تھے ایک اے ڈی سی کیپٹن صفدر تھے اور دوسرے ایئر فورس کی طرف سے یوسف صاحب ۔پھر کسی وجہ سے یوسف نے ائیرفورس چھوڑ دیں یا ان سے ایئر فورس چھڑوا دی گئی

    مبشرلقمان نے اس وقت پروگرام میں حقائق پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں صاحب نے خوش ہو کر راولپنڈی کا جنرل بس اسٹینڈ ان کو غیرمعینہ مدت کے لیے لیز پر دے دیا ، مبشرلقمان نے یہ بھی کہا تھا کہ ظاہر ہیں نوازشریف بادشاہ سلامت تھے جو دل کرتا تھا وہی کرتے تھے اس زمین پر ایک بس سروس شروع کی گئی قرضے بھی لیے گئے لیکن 2005 میں وہ بس سروس بند ہو گئی لیکن لیس پر 35 کنال اراضی لی گئی تھی وہاں پر قبضہ نہیں چھوڑا گیا بس سروس بند ہونے کے بعد وہاں غیر قانونی طور پر پٹرول پمپ اور جیولری شاپ پر دفاتر کھول دیے گئے سینئر صحافی افتخار احمد جیو پروگرام جواب دے کیا کرتے تھے اپنے پروگرام میں انہوں نے جنرل حمیدگل سے واران بس سروس کے بارے میں پوچھا جنرل حمید گل نے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ویسے بھی جو کام کرنے لے کر سود پر کیا جائے میں اسے پسند نہیں کرتا مجھ سے اس بارے میں بات نہ کریں ۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں اب ہوا کچھ یوں کہ غیرقانونی کام زمین پر ہو رہے تھے کرونا وائرس پھیلنے کے بعد راولپنڈی میں حکومت کو کر قرنطینہ سینٹر بنانے کے لیے جگہ درکار تھی حکومت نے عازمین کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا اس دوران حمیدگل کی بیٹی نے کوئی اسٹے آرڈر لے رکھا تھا لیکن قانونی طور پر یہ زمین حکومت کی ملکیت ہے جب یہاں بس سروس نہیں چل رہی تھی دوسرے کام ہو رہے تھے تو وہ غلط تھا اب یہ لوگ جنرل حمید گل کا نام استعمال کر رہے تھے

    مبشرلقمان نے کہا تھا کہ دکھ اس بات کا ہے کہ داماد اور بیٹی نے جنرل حمید گل کا نام لے لیا حالانکہ جنرل حمید گل نے کبھی کسی کی زمینوں پر قبضہ نہیں کیا تھا باعزت طریقے سے زندگی گزاری ان کے مخالفین بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔

    مبشر لقمان نے یہ بھی انکشاف کیاتھا کہ جو صاحب کو یاد کرنا چاہیے جب نوازشریف نے زمین دی تھی اگر ان کی کیپٹن صفدر سے دوستی تھی اور آپ کی بیگم بھی مریم نواز کی اسسٹنٹ بن جانے کی وجہ سے دوستی تھی آپ کے خاندان کی نواز شریف سے کافی پربت رہی ہے اگر اس وجہ سے عمران خان کو برا کہہ رہے ہیں تو اور بات ہے ورنہ آپ کو مرحومین کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے مبشر لقمان اس وقت کہا تھا کہ کہا میرے لحاظ سے تو حکومت کو چاہیے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرے اور اتنے سال جو انہوں نے سرکاری زمین غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھیں اور کام کرتے رہے اس پر ٹیکس بھی لینا چاہیے

    اس پروگرام کے پیش ہونے کے بعد عظمٰی گل نے سنیئر صحافی کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کیا تھا جسے آج عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے

    ادھر اس کیس میں‌کامیابی پر مبشرلقمان کے چاہنے والوں کی طرف سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے

  • ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    راولپنڈی: ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں سندھ ہاؤس میں موجود زیادہ پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رنگ روڈ لندن کی ایم 25 کی طرح ہے، نالہ لئی کا پراجیکٹ اگلے تین ہفتے میں لانچ کریں گے، راولپنڈی شہر پھیل گیا پلاننگ نہیں ہوئی، راولپنڈی کوماڈرن سٹی بنائیں گے، نالہ لئی کے ساتھ ہم نے ایک نیا پنڈی بنانا ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، شہرپھیلتے جا رہے ہیں، پچھلے سال چاربڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کوپہلی دفعہ پوری قیمت ملی اور ان کی پیداواربڑھی، ہم نے اپنی زرعی زمینوں کوبھی بچانا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خریدوفروخت کی سیاست پر کسی کو شرم نہیں آرہی، اس کوجمہوریت نہیں کہتے، سب کچھ کھلے عام ہورہا ہے، برطانیہ میں کوئی سیاست دان تصوربھی نہیں کرسکتا پیسے لیکر پارٹی بدل لے، اگر کوئی برطانیہ میں پیسے لے بھی لے تو اسے معاشرہ برداشت نہیں کرے گا، عوام کے خوف کی وجہ سے برطانیہ کا سیاست دان سندھ ہاؤس والی حرکت نہیں کرسکتا، ہمارے کارکن جذبات میں آکرایسا کیا، کارکنوں سے کہتا ہوں پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ضمیر خریدنے کے لیے چوری کے پیسوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، سندھ کی عوام کا چوری کے پیسے کو استعمال کیا جا رہا ہے، سندھ ہاؤس میں کونسا ایسا کام ہو رہا تھا اس وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا، اگرہمارے لوگ تنگ ہیں تو ان کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟ خریدوفروخت پوری قوم کے سامنے ہو رہی ہے، پاکستان کے لوگوں نے اس طرح کی سیاست کودیکھ لیا، خریدوفروخت کی سیاست کی وجہ سے پاکستان پیچھے چلا گیا۔

  • حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    لندن:لاہور::حکومت کے کسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت،پاکستان کے ایک بڑے نام معروف صحافی جن کی خبرکوہرکوئی مصدقہ اور معتبر جانتا ہے کا کہنا ہےکہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے والی سب سے بڑی جماعت ن لیگ لندن کے سربراہ نوازشریف نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اس کے بعد ضمیرفروشوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے

    سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے والی سب سے بڑی جماعت کو اپنے ساتھیوں‌ پر اعتماد نہیں ، خصوصا ان پر جواپنی عزت ، شہرت اور اپنی نسلوں کا مستقبل نوازشریف کی خاطرقربان کرچکے ہیں

    عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ نوازشریف نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دینے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو کسی قسم کا عہدہ نہ دیا جائے کیوں کہ وہ قابل اعتبار نہیں ہیں جو عمران خان کو دھوکہ دے سکتے ہیں وہ ہمیں بھینقصان پہنچا سکتے ہیں‌

     

     

    عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہےکہ نوازشریف کی طرف سے یہ رویہ پہلی مرتبہ نہیں اپنایا بلکہ نوازشریف اپنے ساتھیوں پر بھی اعتبار نہیں کرتے ،

    عدم اعتماد میں کامیابی کی صورت میں نئی بننے والی حکومت میں عمران خان کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کوعہدے نہ دینے کے نوازشریف کے حکم کے بعد سوشل میڈیا پرضمیرفروش ارکان اسمبلی کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا ہے ،اہل پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے بے ضمیر ہونے کی قدرنوازشریف کے بیان سے تلاش کریں‌ کہ جس نے ایک ٹشوکی طرح استعمال کرکے پھراسے پھینکنے کا حکم دیا ہے

    یاد رہے کہ نوازشریف کی طرف سے یہ بھی حکم دیاگیا ہے کہ چوہدری برادران پربھی اعتبار نہ کرنا یہ بھی کسی سے وفا نہیں‌ کرتے اور یہ اپنے مفاد کی خاطر ن لیگ کو پھرسبق سکھا سکتے ہیں

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ پارٹی رہنماوں‌ نے ان سے درخواست کی ہے کہ منحرف ہونے والے پی ٹی آئی ممبران سے درگزر کریں وہ اپوزیش کے ہاتھوں ڈی ٹریک ہوگئے ہیں اور اگر وہ اپنے گھرکو لوٹ آتے ہیں تو ان کو باور نہ کرانا یہی ایک بہادر انسان کی خوبی ہے

  • پی ڈی ایم قیادت کاصدر مملکت کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ

    پی ڈی ایم قیادت کاصدر مملکت کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فورا” بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: باخبر ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے، جو وفاقی دارالحکومت کے سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے یقینی نظر آرہا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    اطلاعات کے مطابق مواخذے کی تحریک دائر کی جائے گی کیونکہ ڈاکٹر علوی کے خلاف مواخذے کے لیے کافی مواد موجود ہے اس سلسلہ میں تیاری کے لئے پی ڈی ایم کی لیگل کمیٹی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    تحریک انصاف کی ناراض اراکین کو منانے کے لیے کوششیں تیز

    برٹانیکا کے مطابق، عام قانون میں مواخذہ ایک قانون ساز ادارے کی طرف سے ایک عوامی اہلکار کی طرف سے سنگین بدانتظامی کو دور کرنے کے لیے قائم کی جانے والی کارروائی ہے۔ پاکستان کے سیاسی پس منظر کو دیکھتے ہوئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کی آڑ میں صدر کو ان کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہٹایا جا سکتا ہے۔

    ارکان قومی اسمبلی پر حملےعمران نیازی کی ملک کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کی سازش ہے،شہباز شریف

    باخبر ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کی قانونی کمیٹی کو مواخذے کی تحریک کی تیاری شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ پی ڈی ایم کی قیادت نے دو دن پہلے لیا تھا۔

    مواخذہ کیسے ہوتا ہے؟
    مواخذہ ایک قانونی طریقہ کار ہے جس کا مقصد سینئر عہدیداروں کو سنگین غلط کاموں کے لئے جوابدہ ٹھہرانا ہے اس کا آغاز صدر ، وزراء ، گورنرز ، ججوں اور حکومت کے ایگزیکٹو برانچ کے دیگر سرکاری ملازمین کے خلاف کیا جاسکتا ہے حتمی فیصلہ ایوان بالا یا ریاست کی اعلی ترین عدالت کرتی ہے جہاں بحث اور رائے دہی ہوتی ہے کہ آیا صدر کے خلاف مواخذے کی منظوری یا "مواخذے کے متن’ کی منظوری دی جائے؟سادہ اکثریت کی رائے دہی پر مواخذے کی منظوری ہوتی ہے ایسی صورت میں جب کوئی اہلکار قصوروار ثابت ہوتا ہے تو ، اسے اپنے عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

    ‏کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا،ترجمان سپریم کورٹ کی تردید

  • کے پی کے میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کااعلان

    کے پی کے میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کااعلان

    سندھ ہاؤس حملہ افٹرشاکس ، پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا نے بھرپور جوابی وارکر دیا-

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق مرکزکےبعد صوبہ خیبر پختو نخوا میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کااعلان کر دیا گیا-

    تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے کااعلان کردیا گیا ہے یہ اعلان پی پی پی کے صوبائی صدر نجم الدین خان نے لواری ہاؤس دیر میں نیوزکانفرنس کے دوران کیا-

    اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری شجاع خان اور سیکرٹری اطلاعات امجد آفریدی بھی موجود تھے نجم الدین نے پی ٹی آئی کے 45 ایم پی ایز کی حمایت حاصل کرنے کادعوی کیا ہے-

    نجم الدین خان کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن ایک پیج پر ہے-

    دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فورا” بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے، جو وفاقی دارالحکومت کے سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے یقینی نظر آرہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مواخذے کی تحریک دائر کی جائے گی کیونکہ ڈاکٹر علوی کے خلاف مواخذے کے لیے کافی مواد موجود ہے اس سلسلہ میں تیاری کے لئے پی ڈی ایم کی لیگل کمیٹی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

  • PTIممبران کی خریداری :ن لیگ میں انتشار،نوازشریف کی سوچ پراظہارافسوس:شدیداختلافات:اجلاس ملتوی کرنا پڑگیا

    PTIممبران کی خریداری :ن لیگ میں انتشار،نوازشریف کی سوچ پراظہارافسوس:شدیداختلافات:اجلاس ملتوی کرنا پڑگیا

    اسلام آباد:پی ٹی آئی ممبران کی خریداری پر ن لیگ میں انتشار،نوجوان اورپڑھا لکھا طبقہ ن لیگ سے نفرت کرنے لگا ہے:شدیداختلافات اجلاس ملتوی ،اطلاعات کے مطابق ہارس ٹریڈنگ معاملے پر خود ن لیگ میں انتشار پیدا ہوگیا ، کارکنوں کے ردعمل بچنے کیلیے آج ہونیوالا مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ملتوی کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ضمیر فروشوں کو خریدنے کے معاملے پر مسلم لیگ ن اندرونی انتشار کا شکار ہوگئی ہے اورکئی سوالات اٹھنے لگے ہیں جسکے باعث ن لیگ کی مرکزی قیادت نے آج ہونیوالا پارٹی کا جنرل کونسل کا اجلاس ملتوی کردیا ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اجلاس میں یہ انکشاف ہوا ہےکہ ن لیگ قائدین کی اس گھٹیا حرکت کی وجہ سے نوجوانوں اور پڑھے لکھے طبقے میں شدید نفرت پائی جاتی ہے اور اس اجلاس میں یہ برملا کیا گیا ہےکہ اگراب عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے ارکان کی خریدوفروخت وقتی طور پر کام آسکتی ہے لیکن عمران خان کا بیانیہ اس قدر مضبوط اور کامیاب ہوگا کہ اگلے الیکشن میں ن لیگ کو تباہ کرکے رکھ دے گا ،

    ذرائع نے بتایا مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے وفاداروں کی جگہ ضمیر فروشوں کو سے ٹکٹ دینے کے وعدے پر ن لیگی اراکین میں تشویش پھیل گئی ہے اور لوگ اپنے ہم خیال لوگوں سے اس کا کھل کر اظہار کررہے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس جو کہ آج ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے فارم ہاؤس پر ہونا تھی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے ان ہی سوالوں اور کارکنوں کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلیے اجلاس کو ملتوی کردیا ہے اور اس کی اطلاع متعلقہ رہنماؤں کو بھی دے دی گئی ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کو یہ خوف ہے کہ اجلاس میں اس حوالے سے جو سوالات کیے جائیں گے ان کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں ہوں گے، کیونکہ اس سے قبل بھی سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ساتھیوں کو پارٹی میں لینے پر ن لیگ کے دیرینہ کارکنوں نے سوالات اٹھائے تھے تو اب کیسے ممکن تھا کہ اس پر کارکنوں کا کوئی ردعمل نہ آئے۔

    اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی نے جنرل کونسل اجلاس وکنونشن منسوخ کیاہے، جس کی اگلی تاریخ کااعلان بعدمیں کیاجائیگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ پی ٹی آئی ایم این اے ملک نواب شیر وسیر کو نواز شریف نے خود آئندہ الیکشن میں ٹکٹ کی گارنٹی دی۔

  • منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری

    لاہور: منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے منحرف 13 ارکان قومی اسمبلی کے شو کاز نوٹسز پر دستخط کر دیے۔

    ذرائع کے مطابق شوکاز نوٹس میں منحرف ارکان سے وضاحت طلب کی گئی ہے، ارکان کو 7 روز کے اندر معافی مانگ کر غیر مشروط طور پر پارٹی میں واپس آنے کی مہلت دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق 7 روز تک جواب نہ دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ منحرف ارکان کو آج شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔

    یہ واضح نہیں کہ شوکاز کن 13 ارکارن کو جاری کیے جائیں گے۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں 24 کے قریب پی ٹی آئی ارکان موجود ہیں۔

    ادھر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور دونوں جانب سے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے، اسی تناظر میں ترین گروپ میں بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں

    ذرائع کے مطابق لاہور میں ترین گروپ کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں جہانگیرترین نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، ترین گروپ نے جہانگیرترین کو موجودہ سیاسی صورتحال پر بریفنگ بھی دی جبکہ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    مشاورتی اجلاس میں حمزہ شہباز اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کے بعد تمام تر معاملات کا جائزہ لیا گیا جبکہ ترین گروپ کی اکثریت نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی حمایت کی۔

    ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ ترین گروپ نے اجلاس میں کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے، مائنس بزدار اعلان پر قائم ہیں۔اجلاس میں ترین گروپ نے حتمی فیصلے کا اختیار جہانگیرترین کو دے دیا ہے۔

  • کپتان OIC کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبر ملے گی:ان شااللہ کپتان ہی جیتے گا:شاہ محمود قریشی

    کپتان OIC کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبر ملے گی:ان شااللہ کپتان ہی جیتے گا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :کپتان اوآئی سی کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبردےگا:شاہ محمود قریشی کا اعلان سن کراپوزیشن حیران ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی،وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد حسین چوہدری اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس نے ایک بارپھرحکومت کوسنبھلتے ہوئے دکھایا ہے

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،اس اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہم عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کریں گے اور انہیں انشاء اللہ شکست دیں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں اس ابہام کو دور کرنا چاہتا ہوں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، کسی طرح کی رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے،یہ بھی واضح کر دوں کہ سندھ میں گورنر راج کا نہ کوئی ارادہ تھا نہ ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعید غنی صاحب اور بلاول بیٹا بے جا پریشان نہ ہوں، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے اتحادیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں تسلسل سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے اتحادی ہمیں نہیں چھوڑیں گے،میں چوہدری صاحبان کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ جذباتی نہیں سیاسی فیصلے کرتے ہیں، انہیں علم ہے کہ نون لیگ ان کیلئے کتنی گنجائش رکھتی ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2018 میں ان کے راستے میں روڑے نون لیگ نے اٹکائے،

    وزیرخارجہ نے کہا کہ پنجاب میں اکثریت نون لیگ کی ہے وہ جب چاہیں کرسی کھینچ سکتے ہیں، سیاسی سوچ رکھنے والے جانتے ہیں کہ چوھدری صاحبان وضع دار لوگ ہیں کوئی غیر سیاسی فیصلہ نہیں کریں گے،کراچی میں پیپلز پارٹی نے جو ایم کیو ایم کے ساتھ سلوک کیا وہ سب کے علم میں ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم والے سیاسی لوگ ہیں وہ پچھلے چار سال میں ایم کیو ایم کےساتھ، پیپلز پارٹی کے سلوک کو نہیں بھولیں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو سندھ ہاؤس میں ہیں سیاسی لوگ ہیں انہیں علم ہے کہ آئین اور قانون کا تقاضا کیا ہے، وہ بلے کے نشان پر جیت کر آئے ہیں وہ کسی مخالف کی گود میں نہیں بیٹھیں گے، نون لیگ نے ماضی میں کئی لوگوں سے ٹکٹوں کے وعدے کیے جو ایفا نہ ہوئے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ ہمارے کولیگ ہیں ہم ان سے کہیں گے کہ وہ سیاسی حریفوں کی گود میں نہ بیٹھیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ میں ان سے کہوں گا کہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں، آج پولیٹیکل کمیٹی نے وزیر اعظم کی صدارت میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر کوئی اس اپیل کے باوجود منحرف ہوتا ہے تو اسے شو کاز نوٹس جاری کیا جائے گا،میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف میں مائینس ون کی کوئی گنجائش نہیں ہے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں جب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے ادوار میں مائنس ون کی بات کی گئی تو کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اس پر اتفاق کیا، آج شہباز شریف، نواز شریف کی جگہ نہیں لے سکتا،عمران خان بانی ہیں انہوں نے تحریک انصاف کا پودا لگایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آج الحمد للہ چار حکومتیں انہوں نے قائم کی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سندھ میں بھی تبدیلی کی ہوا دیکھ کر آ رہا ہوں، اپوزیشن کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ افغانستان کی صورتحال کیا ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان ابھی تک حادثاتی طور پر چلائے گئے میزائل کی کوئی توجیع نہیں دے سکا،ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی صورتحال کے باعث معیشتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کیا اس صورت حال میں ملک عدم استحکام کا متحمل ہو سکتا ہے؟ میں آج اپنے دوستوں کو بھی کہوں گا کہ اپنی گفتگو میں پارلیمانی لہجہ استعمال کریں اور الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں، آج پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں سب کی متفقہ رائے تھی کہ نہ ہمیں گورنر راج کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ارادہ ہے، شاہ جی کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک ان کا آئینی حق ہے ہم مقابلہ کریں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا تصادم کا نہ ارادہ تھا نہ ہے نہ ہو گا،ابھی پیپلز پارٹی والے سرکاری وسائل پر مارچ لیکر اسلام آباد آئے ہم نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی،