Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سندھ میں حالات خراب ہیں شیخ رشید نے گورنرراج لگانے کا مشورہ دیا ہے:جائزہ لیا جارہاہے:فواد چوہدری

    سندھ میں حالات خراب ہیں شیخ رشید نے گورنرراج لگانے کا مشورہ دیا ہے:جائزہ لیا جارہاہے:فواد چوہدری

    اسلام آباد:سندھ میں حالات خراب ہیں شیخ رشید نے گورنرراج لگانے کا مشورہ دیا ہے:جائزہ لیا جارہاہے:فواد چوہدری وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے ہم کسی کوکوئی پیسہ نہیں دیں گے ضمیرکےمطابق ہی چلیں گے۔

    اسلام آباد میں وفاقی وزرا اسدعمر اور حماداظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے کہا تھا ایکشن لیں گے لوٹےخود ہی آج سامنے آگئے حکومت بچانےکیلئےکسی بھی بلیک میلنگ، سودے بازی کو مسترد کرتے ہیں اپوزیشن کاماڈل ہے پیسہ لگاؤ حکومت میں آؤاورپیسہ کماؤ اب عوام پرفرض عائد ہوتا ہےکہ وہ اس قسم کی سیاست کو مسترد کردیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارےکارکنان مشتعل ہیں قانون ہاتھ میں نہ لیں احتجاج آپ کاحق افسوس کی بات ہےایک خاتون ایم این اے کو 7کروڑ روپے دیئےگئے سندھ میں لوگوں کےپاس پینےکاپانی نہیں اورجہازوں میں پیسہ لایا گیا سندھ ہاؤس اس وقت نیا چھانگا مانگا ہے، ضمیروں کی خریدوفروخت ہورہی ہے سندھ ہاؤس میں جو کہتا ہے ضمیر کی آواز پر ووٹ دے رہا ہوں انہیں کہنا چاہتا ہوں عمران خان کے نام پر ووٹ لیا اور اب ضمیر کی بات کر رہے ہیں رکنیت سے مستعفی ہوں، دوبارہ الیکشن لڑ کر پھر ضمیر پر ووٹ کی بات کریں ضمیر فروش ارکان کیخلاف آئین کےمطابق کارروائی کی جائےگی۔

    فوادچوہدری نے کہا کہ عوام کی طاقت سےتحریک عدم اعتمادکوناکام بنائیں گے ہم نےکسی کو پیسے دے کر لانےکی بات نہیں کی، ہم بھی خزانوں کےمنہ کھول دیں توہم میں اوراپوزیشن میں فرق کیارہ جائے گا ہم بھی پیسہ استعمال کریں تو عمران خان اورنوازشریف میں فرق کیا رہ جائے گا خاتون ایم این اےکو 7 کروڑ دیئے گئے ہم بھی 10 کروڑ دے سکتے ہیں عمران خان اصولوں پرکبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے وزیراعظم کو سندھ میں گورنرراج لگانےکی تجویز دی شیخ رشید نے کہا بطور اتحادی اور وزیرداخلہ گورنرراج کی تجویز دیتا ہوں شیخ رشیدنےکہاسندھ ہاؤس میں لوگوں کوخریدناآئین کی خلاف ورزی ہے۔

  • سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج لگانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی،اپوزیشن کے اراکین سے ہمارے رابطے ہیں،کتنے اپوزیشن اراکین سے رابطے ابھی نہیں بتاوں گا172ہم نے نہیں اپوزیشن نے پورے کرنے ہیں

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی تجویز دی ہے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے، سندھ میں گورنرراج نافذ کردینا چاہئیے،یہی مشورہ وزیر اعظم عمران خان کو دے کر آیا ہوں۔ یہ پیسوں کے لالچ میں گئے ہیں یہ جانیں اور انکا کام جانے،کوئی کاروائی سندھ ہاؤس پر نہیں کر رہے، وزیراعظم عمران خان نے مشاورت کے لئے سپیکر قومی اسمبلی کو بھی فوری طلب کرلیا ہے ،عمران خان کا مورال قائم ہے،قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے،

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ 25 فروری 2009 کو اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر آئین کےآرٹیکل 237 کے تحت صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کی حکومت کے خلاف 2 مہنیے کے لئے گورنر راج نافذ کیا۔ صوبہ سندھ میں آج تک تین گورنر راج لگ چکے ہیں۔ سندھ میں گورنر راج کے بغیر اب کوئی دوسرا حل نہیں ہے کیونکہ سندھ حکومت ہارس ٹریڈنگ کرکے کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ اب بلیک میلرزاور ووٹ بیچنے اور خریدنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو اب سندھ میں گورنر راج لگانا پڑیگا۔

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ انفرادی طور پر کسی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا،عمران خان 26سال سے سیاست کررہے ہیں، عمران خان اپنی ذات کے لیے سیاست نہیں کرتے،عمران خان نہ کبھی کسی کو بلیک میل کرتے ہیں نہ وہ بلیک میل ہونے کو تیار ہیں،چھانگامانگا تو ان کا بہت پرانا کاروبار ہے، وزیراعظم عمران خان عوامی لیڈر ہیں ، قوم نے انہیں وزیراعظم بنایا، وزیراعظم عمران خان اصول اور نظریے پر کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے،تحریک انصاف پورے طریقے سے مقابلہ جاری رکھے گی،ہم جو بھی کریں گے وہ آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا،ہم کوئی غیر قانونی کام نہیں کریں گے،یہ لوگ صرف جمہوریت کا نام استعمال کرتے ہیں،یہ جمہوریت کے نام پر کاروبار کرتے ہیں،وزیراعظم عمران خان سچے ثابت ہوگئے ہیں،

    وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ عمران خان اس ہارس ٹریڈنگ کے نظام کیخلاف کھڑے ہیں، یہ کروڑوں روپے کی بولیاں لگانے کا نظام ہے،عمران خان اس سارے نظام کیخلاف کھڑے ہیں، ہم عوام کیلئے سیاست کرتے ہیں،حکومت کے پاس اربوں روپے موجود ہیں ہم چاہیں تو ان کے آدھے لوگ خرید سکتے ہیں،اقتدار کیلئے کبھی سودے بازی نہیں کریں گے، ہم اپنے ووٹر اور پاکستان کیلئے سیاست کریں گے، ہم اپنےا تحادیوں کےساتھ رابطے میں رہیں گے، ہمارے تمام اتحادی ملک کے مفاد میں فیصلہ کریں گے، سندھ ہاوس میں ضمیر کی نہیں پیسے کی آواز ہے،جن لوگوں کے چہرے نظر آئے میڈیا ان کے حلقے میں جا کر عوام سے پوچھے،27مارچ کے جلسے اور عدم اعتماد کی تیاری کررہے ہیں،ہم ان کی عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام کریں گے، پاکستان کی سیاست کی گندگی کھل کر سامنے آگئی ہے، کارکن 27مارچ کے جلسے کی تیاری جاری رکھیں،

    واضح رہے کہ تحریک اںصاف کے باغی اراکین سامنے آ چکے ہیں اور انہوں نے سندھ ہاؤس میں رہائش اختیار کر رکھی ہے، سندھ ہاؤس میں میڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے کسی کا کوئی دباؤ نہیں اور نہ ہی پیسے لئے ہیں، تحریک انصاف کے باغی اراکین سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی سر جوڑ لیا ہے اور فوری اجلاس بلایا جس میں شیخ رشید نے انہیں گورنر راج سندھ میں نافذ کرنے کا مشورہ دیا، تا ہم ابھی تک اجلاس جاری ہے اور کوئی بھی فیصلہ متوقع ہے

    دوسری جانب تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی سندھ ہاؤس میں تعداد 12 نہیں بلکہ 24 ہے اس بات کا انکشاف راجہ ریاض نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا، راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس میں 24 اراکین ہیں جن کاتعلق پی ٹی آئی سے ہے، مزید اراکین بھی آنے کو تیار ہیں،اراکین ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں گے ان پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے،خان صاحب سے اختلاف ہے اس لیے ہم نے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے مسلم لیگ (ن) انہیں ایڈجسٹ نہیں کرپارہی ہمیں گھوڑے اور خچر کہا جارہا ہے ان سے اچھائی کی کیا امید ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما،سندھ کے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ ہاؤس کے مرکزی دروازے کے بلکل سامنے چیف جسٹس آف پاکستان کا گھر ہے ، حملہ کرنے والے گلو بٹوں سے درخواست ہے کہ چیف جسٹس کے گھر کے تقدس کا خیال رکھیں جب سندھ ہاؤس کی دیواریں کود رہے ہوں۔

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    چودھری برادران کی جانب سے 25 مارچ تک مہلت مانگی گئی ہے،اہم شخصیت کا انکشاف

    ٹائیگر فورس سندھ ہاؤس پر حملے کی تیاری کررہی ہے، پی پی اراکین اسمبلی کا انکشاف

    کہتے ہیں پانچ سال کے لیے قومی حکومت بنے گی ،ایسی کی تیسی تمہاری ،شیخ رشید

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    سندھ ہاوس کے خلاف آپریشن کیا گیا تو غیرقانونی عمل ہوگا،گیلانی

    وفاقی وزیرکا سندھ ہاؤس پر آپریشن کا عندیہ

    اراکین کو دھمکیاں،حکومت ہمیں اشتعال نہ دلائے، بلاول کی وارننگ

    سندھ ہاؤس میں کون کونسے حکومتی اراکین موجود؟ نام سامنے آ گئے

    پی ٹی آئی کے 24 ایم این ایز سندھ ہاؤس میں موجود ،مزید آئیں گے ،راجہ ریاض

  • آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ:یادگار شہداء پر حاضری

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ:یادگار شہداء پر حاضری

    راولپنڈی :آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ:یادگار شہداء پر حاضری ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ کیا ہے اور یادگار شہداء پر حاضری دی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ کیا اور یادگار شہداء پر حاضری دی۔ انہوں نے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی۔

    آرمی چیف نے ایک پروقار تقریب کے دوران میجر جنرل عثمان حق کو کرنل کمانڈنٹ آرمی سروس کور کے بیجز لگائے، تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے سروس کور کی زمانہ امن اور آپریشنز میں خدمات کو سراہا۔

  • سندھ ہاؤس میں کون کونسے حکومتی اراکین موجود؟ نام سامنے آ گئے

    سندھ ہاؤس میں کون کونسے حکومتی اراکین موجود؟ نام سامنے آ گئے

    سندھ ہاؤس میں کون کونسے حکومتی اراکین موجود؟ نام سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہاؤس موجودہ سیاسی صورتحال کا مرکز بن گیا

    سندھ ہاؤس کی فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں سندھ ہاؤس کی چار دیواری پر خاردار تارلگانے کا کام جاری ہے، سندھ ہاؤس کے تینوں داخلی راستوں پر سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے، تحریک انصاف کے باغی رکن اسمبلی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں اور ان میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے بھی وزیر قانون فروغ نسیم کو ہنگامی طور پر بلا کر اس حوالہ سے قانونی مشاورت کی ہے

    سندھ ہاؤس اسلام آباد میں حکومتی جماعت تحریک انصاف کے کتنے اراکین موجود ہیں، نام سامنے آ گئے پی ٹی آئی کے راجہ ریاض،باسط سلطان راجہ، احمد حسین ڈیہڑ ،نواب شیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو ،خواجہ شیراز،نزہت پٹھان، وجیہہ اکرم اور نورعالم خان سندھ ہاوس میں موجود ہیں،نورعالم کا کہنا ہے کہ ہم لائے نہیں گئے خود آئے ہیں، لوڈشیڈنگ یا کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی تو کہاگیا کیا آپ پیپلزپارٹی میں ہو،میرے حلقے میں گیس نہیں آتی کوئی بات سننے والا نہیں،

    نزہت پٹھان پیپلز پارٹی اور ق لیگ سے ہوکر تحریک انصاف کے پاس آئیں۔ وجیہہ اکرم کو تحریک انصاف نے پہلی بار ایم این اے بنایا بنا کسی بریک گراونڈ کے۔دونوں اب سندھ ہاوس کی مقیم ہیں۔

    ملتان سے حکوتی رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ بھی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں ،احمد حسین ڈیہڑ کا کہنا ہے کہ اپنی مرضی سے آئے ہیں حکومت کا پیسوں کا الزام جھوٹ ہے، چند ماہ قبل ملتان میں ریسکیو 1122کو 40کروڑ کی زمین عطیہ کی ہم پیسے لے کر بکنے والے نہیں

    باسط سلطان بخاری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف حکومت سے کوئی وزارت نہیں مانگی،ایک منصوبہ تھا جو اپنی سربراہی میں مکمل کرنے کا کہا،حکومت نے ساڑھے تین سالوں میں کچھ نہیں کیا،

    نواب شیر وسیر نے حکومت کے خرید و فروخت کے الزام کو مسترد کردیا ،نواب شیر وسیرنے اگلا الیکشن تحریک انصاف کے ٹکٹ پر نہ لڑنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ فواد چودھری کو جھپی ڈال کر پارلیمنٹ کے اندر جائیں گے،

    ریاض مزاری کا کہنا ہےکہ کس نے کہا کہ ہم تحریک انصاف سے الگ ہوگئے،پیپلزپارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی سب سے دوستی ہے،یہ اگر ہمیں پنجاب ہاوس یا خیبر پختونخوا ہاوس لے جائیں تو چلے جائیں گے،گزشتہ ایک سال سے عمران خان ہم سے ملنا نہیں چاہتے،مجھے نہیں پتہ عمران خان مجھ سے کیوں نہیں ملنا چاہتے،جب عمران خان ہی ملنا نہیں چاہتے تو میں کس منہ سے ان کے پاس جاوں گا،ہم سے کوئی نہیں ملتا ہم تو صرف کورم پورا کرنے والے وزیر ہیں،عوام سے پوچھیں گے کس کو ووٹ دینا ہے ڈیڑھ سال سے وزیراعلیٰ پنجاب مجھ سے نہیں ملے،

    قاسم نون کا کہنا تھا کہ ہمارے پارٹی کے ساتھ بہت سے تحفظات تھے،تحریک انصاف کی حکومت ہمیں نظرانداز کیا،پوری قوم تحریک انصاف سے مایوس ہوچکی ہے،

    وجیہہ مقر نے کہا کہ آئین مجھے حق دیتاہے اور ضمیر کے مطابق ووٹ دوں گی بڑے خواب لے کر تحریک انصاف میں آئے تھے لوگوں کے خواب چکنا چور ہوگئےہیں مزید خواتین ارکان بھی ہمارے ساتھ ہیں،سندھ ہاوس میں بہت اچھا ماحول ہے، ہمارا حلقے میں جانا مشکل ہوگیاہے،تحریک انصاف کی تین خواتین ارکان قومی اسمبلی یہاں موجود ہیں

    ترین گروپ کے رہنما راجہ ریاض کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو اس وقت نااہل مشیروں کا سامنا ہے وزیر اعظم مہنگائی اور کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کریں گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ہے،وزیر اعظم عمران خان کو اپنے ورکز کے رویے کا نوٹس لینا چاہیے ،کسی نے کوئی پیسہ نہیں دیا،ہم نے ووٹ ضمیر کے مطابق دینا ہے پوری قوم کو پتہ ہے پولیس سے لاجز پر حملہ کرایاگیا،ہمارے ارکان پر تشدد کیاگیا تھانے لے گئے، محسوس کیا جو واقعہ لاجز میں ہوا وہ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتاہے،2درجن سے زائد ارکان قومی اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں،

    پیپلزپارٹی کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی سہیل انور سیال نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے سابق صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کہا کہ اگر عمران خان نے پولیس استعمال کی تو یاد رکھیں، سندھ میں گورنر ہاؤس اور قصر ناز ہیں عمران خان یاد رکھیں کہ ان کے کچھ اراکین اسمبلی سندھ میں بھی رہتے ہیں۔ انہوں ںے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے خلاف کچھ ہوا تو ردعمل بھی آسکتا ہے ہم آئین و قانون کی پاسداری کرنے والے لوگ ہیں اور ہم کسی صورت میں کوئی غیر جمہوری اقدام نہیں کریں گے عمران خان ہمیں مت اکسائیں، گیم ان کے ہاتھ سے نکل چکی، ہم ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنا جانتے ہیں

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ اتحادی نہ بھی آئیں تو ہمارے پاس نمبرزپورے ہیں، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی سندھ ہاؤس میں ہیں یا کہیں اور بھی اس کے علاوہ کئی اور ایم این اے بھی عمران خان کو ووٹ دیں گے، گورنر سندھ عامر لیاقت کے گھر گئے اسکی منت کی، لیکن عامرلیاقت نے بھی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کیا، لوگوں پرکروڑوں روپے لینے کے الزامات لگائے جارہے ہیں،پی ٹی آئی کیمپ میں موجودلوگ بھی عمران خان کےساتھ نہیں،سندھ ہاؤس پرحملہ کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،سندھ ہاؤس میں ڈاکو ٹھہرے ہوئے ہیں جو چھاپہ مارا جائےگا؟ اب آپ سابق وزیراعظم ہونے والے ہیں اب آپ بھی کہیں گے مجھے کیوں نکالا؟ ایم این ایز اپنی مرضی سے سندھ ہاؤس میں ٹھہرے ہیں،

    وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ سندھ ہاؤس پر کوئی غیر قانونی اقدام کیا گیا حملے کی کوشش کی گئی تو سخت ردعمل دیا جائے گا یہ بدمعاشی نہیں چلے گی اب جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ کسی کیساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی گئی تو شرافت کا لبادہ ہم نے بھی نہیں اوڑھا ہے ،تم کسی کو زبردست روکنے کی کوشش کروگے توہم زبردستی قومی اسمبلی بھیجیں گے وزیراعظم اور وزرا دھمکیاں دے رہے ہیں ،ایک وزیر نے کہا کہ خودکش بمبار بن کر حملہ آور ہو جاتا ،عمران خان اب تم بار بار کہو گے کہ مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا، تحریک انصاف کو سیاسی لوگوں کو ساتھ چلانا نہیں آتا ،عمران خان کو آج پتہ چلا ہے کہ اپنے لوگوں کے ساتھ کیسے چلا جاتا ہے،وفاقی وزرا جو دھمکیاں دے رہے ہیں انکوسمجھانا چاہتا ہوں تمہاری نیازی سلطنت ختم ہو رہی ہے

    واضح رہے کہ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد ہارس ٹریڈنگ کا دار الخلافہ بن چکا ہے ،سندھ ہاؤس اسلام آباد ہارس ٹریڈنگ کا مرکز بن چکا ہے، ممبران کی منڈیاں لگائی جا رہی ہیں یہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے،اس کے خلاف جلد سخت ایکشن ہوگا ،آپ سب سندھ ہاوس میں گھس کر دکھائیں جانے کی اجازت ہی نہیں ہے یہ پولیس کیوں لے کر آئے ہیں، ایکشن کے ڈر سے لوٹے ظاہر ہونا شروع ہو گئے پچھلے 5 لوگوں کو 15 سے بیس کروڑ ملے خچروں اور گھوڑوں کی منڈیاں لگ گئیں

    وزیراطلاعات فوادچودھری نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ اسپیکر ضمیر فروشوں کو تاحیات اور نااہل قرار دینے کی کارروائی کرنی چاہیے،سندھ میں موجود ارکان باضمیر ہوتےتو مستعفیٰ ہوجاتے،

    سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ارکان کی سندھ ہاوس میں موجودگی کا نوٹس لے،الیکشن کمیشن ہارس ٹریڈنگ کا فوری نوٹس لے،اگر ان لوگوں کو پیپلزپارٹی میں شامل ہونا ہے تو مستعفی ہوں

    شہباز گل کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود صحافیوں کو بلا کر انٹر ویو ز کرائے،اپوزیشن جو کوشش کررہی ہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے، اپوزیشن کی ڈوریں بیرونی آقاوں کے حکم پر ہلتی ہیں،ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے ہماری حکومت رہے یا نہ رہے،عوام کو سب کچھ نظر آرہا ہے، عوام بہتر جج ہے، سب کو پتہ ہے کہ پیپلزپارٹی کس طرح کی جماعت ہے، حکومت کی قانونی ٹیم ایم این ایز پرممبران پر لائحہ عمل طے کرے گی،راجہ ریاض کو اپنے حلقے کے عوام کو جواب دینا ہوگا،آج جو ہورہا ہے اس کا ردعمل ان ایم این ایز کو خود دینا ہے،وقت ثابت کرے گا کہ ان کے پاس 24 لوگ ہیں یا کم عمران خان اگر اس وقت اکیلا بھی ہوگیا تو قوم کو پتہ ہے کہ وہ ٹھیک ہیں یا غلط،بہت سارے لوگ جو پہلے چھپ جاتے تھے اس بار ان کے چہروں سے نقاب ہٹ جائیگا،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ ہم تو سمجھے عمران خان گھبراہٹ کا شکار ہیں مگر جتنے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اس وقت سامنے آ چکے ہیں، نیازی صاحب کو تو رات کو نیند بھی نہیں آتی ہوگی۔۔۔ان کو پاگل پن کے دورے ایسے ہی نہیں پڑ رہے

    حنا پرویز بٹ کا ایک اور ٹویٹ میں کہنا تھا کہ راجہ ریاض نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی کہ پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان ن لیگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں مگر ن لیگ کیلئے اتنی تعداد میں ارکان کو ایڈجسٹ کرنا مشکل ہے۔تو پھر بازی کون جیتا ؟ نواز شریف

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    چودھری برادران کی جانب سے 25 مارچ تک مہلت مانگی گئی ہے،اہم شخصیت کا انکشاف

    ٹائیگر فورس سندھ ہاؤس پر حملے کی تیاری کررہی ہے، پی پی اراکین اسمبلی کا انکشاف

    کہتے ہیں پانچ سال کے لیے قومی حکومت بنے گی ،ایسی کی تیسی تمہاری ،شیخ رشید

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    سندھ ہاوس کے خلاف آپریشن کیا گیا تو غیرقانونی عمل ہوگا،گیلانی

    وفاقی وزیرکا سندھ ہاؤس پر آپریشن کا عندیہ

    اراکین کو دھمکیاں،حکومت ہمیں اشتعال نہ دلائے، بلاول کی وارننگ

  • اراکین کو دھمکیاں،حکومت ہمیں اشتعال نہ دلائے، بلاول کی وارننگ

    اراکین کو دھمکیاں،حکومت ہمیں اشتعال نہ دلائے، بلاول کی وارننگ

    اراکین کو دھمکیاں،حکومت ہمیں اشتعال نہ دلائے، بلاول کی وارننگ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہاؤس میں وفاقی وزیر فواد چودھری کی جانب سے آپریشن کے عندیے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری میدان میں آ گئے ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی کو عدم اعتماد کے عمل میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے تشدد، گرفتاری اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، اراکین کی جان ،انکا خاندان اور انکی آزادی خطرے میں ہے، اراکین قومی اسمبلی اس فسطائی حکومت کے خلاف اپنے تحفظ کے لیے ہر طرح کا راستہ اختیار کریں گے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پی پی پی اور پی ڈی ایم اراکین اسمبلی کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی، اب ہم اپنے تمام کارڈ نہیں دکھائیں گے۔ ان شاء اللہ چند دوست عمران خان کے الزامات کا جواب دیں گے۔حکومت کیخلاف مزید لوگ جلد سامنے آئیں گے، بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی کانفرنس کے احترام میں ہم اسلام آباد میں انتشار نہیں چاہتے۔ حکومت ہمیں مشتعل نہ کرے۔

    واضح رہے کہ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد ہارس ٹریڈنگ کا دار الخلافہ بن چکا ہے ،سندھ ہاؤس اسلام آباد ہارس ٹریڈنگ کا مرکز بن چکا ہے، ممبران کی منڈیاں لگائی جا رہی ہیں یہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے،اس کے خلاف جلد سخت ایکشن ہوگا ،آپ سب سندھ ہاوس میں گھس کر دکھائیں جانے کی اجازت ہی نہیں ہے یہ پولیس کیوں لے کر آئے ہیں،

    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی نے خیبرپختونخوا میں چار بڑے جلسوں کا اعلان کردیاپاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری چترال، اپر دیر، مالاکنڈ اور کرم ایجنسی میں ہونے والے جلسوں سے خطاب کریں گے

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    چودھری برادران کی جانب سے 25 مارچ تک مہلت مانگی گئی ہے،اہم شخصیت کا انکشاف

    ٹائیگر فورس سندھ ہاؤس پر حملے کی تیاری کررہی ہے، پی پی اراکین اسمبلی کا انکشاف

    کہتے ہیں پانچ سال کے لیے قومی حکومت بنے گی ،ایسی کی تیسی تمہاری ،شیخ رشید

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    سندھ ہاوس کے خلاف آپریشن کیا گیا تو غیرقانونی عمل ہوگا،گیلانی

    وفاقی وزیرکا سندھ ہاؤس پر آپریشن کا عندیہ

  • وفاقی وزیرکا سندھ ہاؤس پر آپریشن کا عندیہ

    وفاقی وزیرکا سندھ ہاؤس پر آپریشن کا عندیہ

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوھدری نے سندھ ہاؤس پر آپریشن کا عندیہ دے دیا

    فواد چودھری کا کہنا تھاکہ سندھ ہاؤس اسلام آباد ہارس ٹریڈنگ کا دار الخلافہ بن چکا ہے ،سندھ ہاؤس اسلام آباد ہارس ٹریڈنگ کا مرکز بن چکا ہے، ممبران کی منڈیاں لگائی جا رہی ہیں یہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے،اس کے خلاف جلد سخت ایکشن ہوگا ،آپ سب سندھ ہاوس میں گھس کر دکھائیں جانے کی اجازت ہی نہیں ہے یہ پولیس کیوں لے کر آئے ہیں،جہاز سے پیسے ٹرانسفرز کیے گئے ،یہ چیزیں چھپتی نہیں ہیں، ایجنسیاں موجود ہیں،آئی بی ہے،ہمیں پتہ ہے کیا ہورہا ہے،آسانی سے نہیں ہونے دیں گے سندھ ہاوس میں جو ارکان موجود ہیں ان کی تعداد کا نہیں پتہ،ابھی تو نوٹوں کی گڈیاں دکھارہے ہیں،امید ہے تحریک انصاف کے لوگ غیرت کا مظاہرہ کرینگے، تحریک انصاف کے لوگ اپنی عزت کو داو پرنہیں لگائیں گے،

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے کہا قومی حکومت بنائی جائے ،کیا حکومت چوروں کے حوالے کریں ؟ملک میں خرید و فروخت کی منڈیاں لگی ہیں،ہم تاریخ کا بڑا اجتماع دکھائیں گے سندھ ہاؤس میں بولیاں لگ رہی ہیں ڈی چوک پر 10 لاکھ کارکن جمع کرینگے ،تحریک انصاف کے پاس انصار الاسلام جیسی تنظیم نہیں ہے ،ہمارے ساتھ زرتاج گل جیسی لڑکیاں ہیں جوخون دیکھ کر بیہوش ہوتی ہیں ہم شریف ہیں بدمعاش مت بناؤ،

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کی تفصیلات پیش کر دی گئی ہیں، شرکا کو سندھ ہاؤس میں سندھ پولیس کے اہلکاروں کی موجودگی پر بھی بریفنگ دی گئی اسلام آباد میں منعقدہ اہم حکومتی اجلاس کی سربراہی وزیراعظم عمران خان نے کی، منحرف اراکین کی تفصیلات سامنے آنے پر حکومتی رہنما بھی ششدر رہ گئے شرکا نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز بھی دے دی تاکہ حکومت کا ساتھ دینے والے اراکین کی اصل تعداد کا علم ہو سکے

    وزیر اعظم عمران خان نے منحرف ارکان کو راضی کرنے کا ٹاسک پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی کو دے دیا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ ہاؤس کو ہارس ٹریڈنگ کی آماجگاہ نہیں بننے دیں گے نہ ہی اس غیر قانونی اقدام کی کسی صورت اجازت دی جائے گی، متعلقہ اداروں کو کارروائی کیلئے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی گئی۔ وزیراعظم نے وفاقی ایجنسیوں کو سندھ ہاؤس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت بھی کی جبکہ حکومت کی جانب سے جوابی ایکشن کا فیصلہ کیا گیا

    وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان قومی لیڈر ہیں باقی سب بونے ہے،اپوزیشن کو منہ کی کھانی پڑے گی،یہ گھوڑا یہ میدان دو ہفتے میں سب کچھ سامنے آئے گا،تیسری دنیا میں انٹر نیشنل اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اپوزیشن وزیر اعظم کی مخالفت میں قوم کا نقصان کر رہی ہے ،عدم اعتماد کی امتحان میں کامیابی سے نکلیں گے وقت ثابت کریگا کے کس کے کتنے بندھے ٹوٹے ہیں،یہ گھوڑا یہ میدان دو ہفتے میں سب کچھ سامنے آئے گا،عدم اعتماد کے امتحان میں کامیابی سے نکلیں گے ،وقت ثابت کرے گا کہ کس کے کتنے بندے ٹوٹے ہیں،

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ ضمیر بیچنے والے ملک کے لیے کچھ نہیں کرسکتے،مارچ کو پوری دنیا دیکھے گی کہ پاکستان عمران خان کے ساتھ ہے حرام پیسوں سے اراکین اسمبلی کو خریدا جارہا ہے،وزیر اعظم عمران خان کا ہر فیصلہ قوم کے لیے ہے،ملک کے نوجوان عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں وزیراعظم عمران خان کا قافلہ مضبوط ہورہاہے،ملک میں نوجوانوں کا کردار اہم ہے ،پیسوں سے اراکین اسمبلی کو خریدا جارہا ہے،

    دوسری جانب شہبا زگل کا کہنا تھا کہ نااہل اپوزیشن چھانگا مانگا پارٹ 2 کےذریعے اقتدار چاہتی ہے،نااہل شریف اور ان کے نااہل درباری گھٹیا سیاست میں مصروف ہیں،سیاسی بساط بچانے کیلئے غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، چرایا ہوا پیسہ عوامی نمائندوں کے خرید و فروخت کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے،خرید وفروخت کے گھناؤنے عمل کو نااہل درباری قبول کر چکے

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    چودھری برادران کی جانب سے 25 مارچ تک مہلت مانگی گئی ہے،اہم شخصیت کا انکشاف

    ٹائیگر فورس سندھ ہاؤس پر حملے کی تیاری کررہی ہے، پی پی اراکین اسمبلی کا انکشاف

    کہتے ہیں پانچ سال کے لیے قومی حکومت بنے گی ،ایسی کی تیسی تمہاری ،شیخ رشید

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    سندھ ہاوس کے خلاف آپریشن کیا گیا تو غیرقانونی عمل ہوگا،گیلانی

  • گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترین گروپ کے رہنما راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ میں کہیں غائب نہیں ہوا، اسلام آباد میں موجود ہوں اور ووٹ بھی دوں گا ،

    ترین گروپ کے رہنما راجہ ریاض کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو اس وقت نااہل مشیروں کا سامنا ہے وزیر اعظم مہنگائی اور کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کریں گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ہے،وزیر اعظم عمران خان کو اپنے ورکز کے رویے کا نوٹس لینا چاہیے ،کسی نے کوئی پیسہ نہیں دیا،ہم نے ووٹ ضمیر کے مطابق دینا ہے پوری قوم کو پتہ ہے پولیس سے لاجز پر حملہ کرایاگیا،ہمارے ارکان پر تشدد کیاگیا تھانے لے گئے، محسوس کیا جو واقعہ لاجز میں ہوا وہ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتاہے،2درجن سے زائد ارکان قومی اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں،

    پی ٹی آئی کے راجہ ریاض،باسط سلطان راجہ، احمد حسین ڈیہڑ اور نورعالم خان سندھ ہاوس میں موجود ہیں،نورعالم کا کہنا ہے کہ ہم لائے نہیں گئے خود آئے ہیں،لوڈشیڈنگ یا کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی تو کہاگیا کیا آپ پیپلزپارٹی میں ہو،میرے حلقے میں گیس نہیں آتی کوئی بات سننے والا نہیں،

    ملتان سے حکوتی رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ بھی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں ،احمد حسین ڈیہڑ کا کہنا ہے کہ اپنی مرضی سے آئے ہیں حکومت کا پیسوں کا الزام جھوٹ ہے، چند ماہ قبل ملتان میں ریسکیو 1122کو 40کروڑ کی زمین عطیہ کی ہم پیسے لے کر بکنے والے نہیں

    باسط سلطان بخاری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف حکومت سے کوئی وزارت نہیں مانگی،ایک منصوبہ تھا جو اپنی سربراہی میں مکمل کرنے کا کہا،حکومت نے ساڑھے تین سالوں میں کچھ نہیں کیا،

    دوسری جانب تحریک انصاف جہانگیر ترین گروپ کے اجلاسوں میں اراکین کی تعداد کم ہونے لگی ہےترین گروپ کے حالیہ 5 اجلاسوں میں راجہ ریاض سمیت کوئی رکن قومی اسمبلی شریک نہیں ہوا جب کہ حالیہ اجلاسوں میں ترین گروپ کے 10 ارکان پنجاب اسمبلی بھی شریک نہیں ہوئے

    جہانگیر ترین علاج کے لئے لندن گئے ہوئے ہیں اور وہ ابھی تک واپس نہیں آئے،

    قبل ازیں گورنر سندھ عمرن اسماعیل کا کہنا تھا کہ میں کسی کو منانے نہیں اپنے بھائی کے گھر آیا ہوں سندھ ہاوس میں خریدو فروخت کا بازار لگا ہوا ہے،عامر لیاقت حسین کے ضمیر کی قیمت ان کے تصور سے زیادہ ہے، عامر لیاقت پیسے پر بکنے والا شخص نہیں ہے، ہمارے ایم این ایز کو خریدنے کی کوشش کی جاری ہے،عمران خان ایک غیرت مند وزیراعظم ہیں، عمران خان کی لڑائی صرف اپنی قوم کو خودمختار بنانے کیلئے ہیں،ہمارے پاس 172 کا نمبرز پورے ہیں، ہمارے اتحادی حق اور سچ کا ساتھ دیں گے،

    دوسری جانب عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ میں نیوٹرل ہوں کسی کی طرف نہیں ،میں عمران خان کے ساتھ ہوں یا نہیں اچھا فیصلہ جلد سامنے آئے گا،

    راہنما پیپلزپارٹی سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ سلطنت نیازیہ تکبر کی وجہ سے جمہوریت کے سمندر میں ڈوب رہی ہے۔
    پی ٹی آئی وزرا کو عمران خان کی نہیں اپنی نوکری کی فکر ہے۔عمران خان کے ساتھ شیخ رشید کی سیاست آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔پی ٹی آئی کو اپنے اسمبلی ممبران نہیں مل رہے تو ہمارا کیا تعلق، عمران خان سازش سے اقتدار میں آئے تھے جمہوری طریقے سے نکالے جا رہے ہیں ۔سندھ ہاؤس کا نام سن کر عمران خان کو پسینہ آ رہا ہے

    قبل ازیں ن لیگ پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار اپنی کرسی بچانے کےلئے اب ٹیچر اور ایس ایچ اوز کے تبادلوں کا سہارا لے رہے ہیں آجکل تبادلوں اور فنڈز کی حکومتی ٹرالیاں اور ٹرک بھر کے ایوان وزیراعلیٰ پہنچ رہے ہیں چار سال پی ٹی آئی کے جن ایم پی ایز پر وزیراعلیٰ ہاﺅس کے دورازے بند رہے وہ آج کھل گئے ہیں عثمان بزدار اب صوبے کے مسائل کی بجائے ارکان اسمبلی کی فرمائش پر درجہ چہارم کے ملازمین کے بھی تبادلے کررہے ہیں عثمان بزدار کے نیچے سے جب کرسی سرکنے لگی ہے تو ارکان اسمبلی یاد آگئے 20ایم پی اے جہانگیر ترین کے گروپ میں، 30علیم خان گروپ میں 14 چھینہ گروپ میں ہیں، عثمان بزدار کے پاس صرف 100 ایم پی اے رہ گئے ہیں دو،چار دنوں میں آدھے سے زیادہ دائیں ،بائیں ہونے والے ہیں عنقریب عثمان بزدار اکیلے ہی وزیراعلیٰ ہاﺅس میں عدم اعتماد تک مکھیاں ماریں گے

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    چودھری برادران کی جانب سے 25 مارچ تک مہلت مانگی گئی ہے،اہم شخصیت کا انکشاف

    ٹائیگر فورس سندھ ہاؤس پر حملے کی تیاری کررہی ہے، پی پی اراکین اسمبلی کا انکشاف

    کہتے ہیں پانچ سال کے لیے قومی حکومت بنے گی ،ایسی کی تیسی تمہاری ،شیخ رشید

  • سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے جلسے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ہدایت کے ساتھ نمٹا دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، حکومتی جماعت ہو یا کوئی اور، شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے،وکیل نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے جلسوں کا اعلان کیا ہے، ٹکراؤ کا خدشہ ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے درخواست گزار وکیل سے استفسار کیا کہ ٹکراؤ کیوں ہو گا؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ایک دن اور ایک وقت میں سب اکٹھے ہو رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ عدالت اس میں کیا کر سکتی ہے؟ یہ عدالت متعلقہ فورم نہیں ہے انتظامیہ نے اجازت دینے کا فیصلہ کرنا ہے یہ عدالت رسک اسسمینٹ تو نہیں کر سکتی، یہ تو متعلقہ اتھارٹی کا کام ہے جن کی ذمہ داری ہے سیکیورٹی کا تعین بھی تو وہی کرتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اجازت تو نہیں دی گئی، اگر کوئی تقصان ہوتا ہے تو سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد ذمہ دار ہونگے، 2014میں بھی اس نوعیت کی ایک درخواست اس عدالت کے سامنے آئی تھی،عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ جنہوں نے اجازت دینی ہے ذمہ داری بھی انکی ہے،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر انتظامیہ کی نااہلی سے نقصان ہوتا ہے تو پھر کیا ہو گا،جس پر عدالت نے کہا کہ پھر آپ درخواست دائر کریں کہ یہ نقصان ہوا ہے عدالت ذمہ داری فکس کریگی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی ,درخواست میں وزیر اعظم ،اپوزیشن لیڈر اور اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی فریق بنایا گیا ہے، درخواست گزارنے کہا کہ سپریم کورٹ تمام ریاستی حکام کو آئین کے مطابق عمل کرنے کا حکم دے، سپریم کورٹ تمام ریاستی حکام کو آئینی حدود میں رہنے کا حکم دے، اسلام آبا دمیں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیا جائے، عدم اعتماد کا عمل پر امن انداز سے مکمل ہو،عدم اعتماد معاملے پر سیاسی جماعتوں میں ممکنہ تصادم کاخدشہ ہے عدم اعتماد آرٹیکل 95کے تحت وزیراعظم کوہٹانے کا آئینی راستہ ہے سپریم کورٹ اسٹیک ہولڈرز کو عدم اعتماد کا عمل پر امن انداز سے مکمل ہونے کا حکم دیں، درخواست میں وزارت داخلہ،دفاع،آئی جی اسلام آباد،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے

    قبل ازیں صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کا کہنا تھا کہ ہررکن اسمبلی کا آئینی حق ہے کہ وہ پارلیمنٹ جائے اور اپنا ووٹ کاسٹ کرے ریاست ذمے دار ہے کہ اسے سکیورٹی دے ،کوئی بھی ایم این اے کو نہیں روک سکتا، وکلا کے اعلئ قیادت کی میٹنگ کے بعد صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن احسن بھون نے وائس چیرمین پاکستان بار کونسل کے ہمراہ پریس کانفرس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عدم اعتماد لانا اپوزیشن کاجمہوری حق ہے۔اس مسئلے کو جمہوری طریقے سے حل ہونا چاہئے اسپیکر آئین کے مطابق چلے

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

  • الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر اعتراض لگا دیا

    وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جلسہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے نوٹس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعتراض لگا دیا ہے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کا بیان حلفی درخواست کے ساتھ منسلک نہیں ہے وزیراعظم نے بائیو میٹرک کے بغیر درخواست دائر کی

    وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکور ٹ میں درخواست دائر کی گئی وزیراعظم اور وفاقی وزیر کی جانب سے درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی گئی وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے پبلک آفس ہولڈر الیکشن مہم میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی الیکشن کمیشن نے وزیراعظم سمیت ہم سب کو نوٹسز جاری کیے وزیراعظم عمران خان اور میری دستخط سے پٹیشن دائر کی ہے الیکشن کمیشن کے پاس قانون کی تشریح کا اختیار نہیں تھا

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

  • کیا ن لیگ پاکستان میں قومی حکومت بنانے جا رہی ہے؟ شاہد خاقان عباسی نے اصل حقائق بتا دیئے

    کیا ن لیگ پاکستان میں قومی حکومت بنانے جا رہی ہے؟ شاہد خاقان عباسی نے اصل حقائق بتا دیئے

    لاہور:کیا ن لیگ پاکستان میں قومی حکومت بنانے جا رہی ہے؟شاہد خاقان عباسی نے اصل حقائق بتا دیئے،اطلاعات کے مطابق سنیئرصحافی مبشرلقمان سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کے بعد نئے الیکشن ہوں گے اور پھرایک قومی حکومت ہوگی

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی حکومت میں جہاں تک تعلق ہے پی ٹی آئی کی شمولیت کا تو اگران کا رویہ درست رہا تو ان کو بھی شامل کرلیا جائے گا ،ایک اور سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ ملک کو بحرانوں سے نکال لیں گے

    عدم اعتماد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 23 کے قریب حکومتی ارکان کا ہمارے ساتھ رابطہ ہے اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں، ایک موقع پر جب مبشرلقمان نے یہ پوچھا کہ اتحادیوں کے بغیر تو عباسی نے کہا کہ اتحادیوں کے بغیر ان کے اپ مطلوبہ تعداد ہے

    ایم کیوایم کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ ان کے کنسرنز ہیں لیکن امید ہے کہ وہ بھی بہت جلد دور کرلیئے جائیں گے

    پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ وفاق میں تبدیلی کے بعد ہی ممکن ہے اور اپوزیشن اگر فیصلہ کرے گی تو چوہدری پرویزالٰہی کو قبول کرلیا جائے گا اور یہ بھی امکان ہے

    مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پنجاب میں عثمان بزدار کا جانا ٹھہر گیا ہے لیکن اس کے حوالے سے مزید فیصلے بعد میں ہوں گے

    بلوچستان کے حوالے سے مبشرلقمان نے انکشاف کیا کہ اگلے چند دنوں تک حکومت کو ختم کیا جارہا ہے تو اس کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جام کمال ایک اچھے انسان ہیں ان کی حکومت کو ختم کرنا اچھا شگون نہیں تھا

    مبشرلقمان نے کہا کہ یار محمد رند اگلے وزیراعلٰی ہوسکتے ہیں ، تواس کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ تو نہیں چاہتے لیکن اگر ہوگئی تو پھر قبول کرنا پڑے گی

     

    https://www.youtube.com/watch?v=9Iz7r912Cpk

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کا کہنا کہ سندھ ہاوس میں ارکان اسمبلی کی بولیاں لگی ہوئی ہیں یہ بات غلط ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں‌ جو حمایت کررہا ہے وہ بے لوث کررہے ہیں جبکہ حکومت بڑی بڑی آفرز دی ہیں‌

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم دھمکیاں دے رہے ہیں اور یہ شکست کا ایک دوسرا روپ ہے ،ان کایہ بھی کہنا تھا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں‌گے

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر عدم اعتماد میں کوئی رکاوٹ بنا تو آرٹیکل 6 لاگو ہوگا،اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ ہمیں ووٹ دیں گے ان کو سپورٹ تو کریں گے ، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ امید ہے کہ 185 تک ارکان عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے