Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف

    دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف

    لندن : دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف،اطلاعات کے مطابق ادارہ عالمی صحت ڈبلیو ايچ او اور یوروپی ڈیزیز کنٹرول شعبے نے کورونا وائرس کے نئے ویريئنٹ اومیکرون کے تیزی سے پھیلاو کے مدنظر عوام سے ٹیکہ لگوانے کے ساتھ ساتھ ماسک اور جسمانی فاصلے کا خیال رکھنے پر بھی تاکید کی ہے۔ ان دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ اس ویريئنٹ سے صرف ٹیکے کے ذریعہ نہیں نمٹا جا سکتا۔

    یوروپی حکومتیں جہاں ایک طرف اس وائرس کے مہلک اثرات پر قابو پانے کے لئے ٹیکہ لگانے کا عمل تیز کر رہی ہیں وہیں دوسری طرف برطانیہ میں اس نئے ویریئنٹ کی چپیٹ میں آنے والوں کی تعداد میں دن بدن تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    برطانیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 78 ہزار 610 نئے کیس سامنے آئے ہیں جسکے مدنظر حکومت نے اس مہینے کے آخر تک بڑے پیمانے پر لوگوں کو کورونا کے ٹیکے کی بوسٹر ڈوز لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے لگتا ہے کہ صرف ٹیکہ اومیکرون کو روکنے میں زیادہ موثر نہیں ہوگا۔

    ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیرث کے دعوے کے مطابق ویکسین نے اومیکرون کے مقابلے میں یہ کیا کہ بہت سے لوگوں کو اسپتال جانے سے بچا لیا اور زیادہ شدید علامات سامنے نہیں آئیں، اس لئے ٹیکہ لگوانا ضروری تو ہے مگر یہ کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسک لگانا اور جسمانی فاصلے کا خیال رکھنے کی بدستور ضرورت ہے۔

    دوسری طرف یوروپی یونین کی عہدیدار اورسیلا وندیرلاین نے کہا کہ اس وقت یوروپ میں ہر تین دن میں اومیکرون سے متاثر لوگوں کی تعداد دگنی ہوتی جا رہی ہے اور اگلے مہینے یوروپ میں یہ ویریئنٹ بہت بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہوگا۔

    دنیا کے 77 ملکوں میں اب تک اومیکرون ویریئنٹ کے پہونچنے کی تائید ہو چکی ہے۔

    دوسری طرف ہندوستان میں بھی اومیکرون کے کیسز تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اب تک مغربی بنگال، تمل ناڈو، مہاراشٹر، کیرل، تلنگانہ، راجستھان، کرناٹک، گجرات، آندھرا پردیس، دہلی، اور چندیگڑھ میں اومیکرون کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اومی کرون سے بھارتی معیشت بھی تباہی کی جارہی ہے

  • برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف اورپاک فوج کے سربراہ آرمی چیف کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو

    برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف اورپاک فوج کے سربراہ آرمی چیف کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو

    راولپنڈی:برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف اورپاک فوج کے سربراہ آرمی چیف کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ،اطلاعات کے مطابق برطانوی چیف آف ڈیفنس سے گفتگو کرتے ہوئ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ علاقائی امن، خوشحالی کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف ایڈمرل سر انٹونی ڈیوڈ کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ باہمی دلچسپی، فوجی تعاون، علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغانستان میں سلامتی، انسانی بحرانی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ایڈمرل سر انٹونی کو نئی تقرری پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تقرری سے دوطرفہ تعاون مزید مستحکم ہو گا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ برطانوی ایڈمرل نےافغانستان کی صورتحال میں پاکستان کےکردارکوسراہا ہے ۔برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی علاقائی استحکام کیلئےپاکستان کےکردارکی تعریف اور پاکستان کیساتھ ہرسطح پر سیکیورٹی تعاون کوفروغ دینےکےعزم کااعادہ کیا۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ادارہ جاتی میکانزم کی تشکیل کی ضرورت ہے، افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

    ادھر دوسری طرف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے جاپان کے سفیر نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران جاپانی سفیر نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، علاقائی استحکام کے لیے خصوصی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    ملاقات کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی المئیے کو روکنے کیلئے امداد پہنچانے کے لئے فوری طور پر ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کا خواہاں ہے ، علاقائی امن، خوشحالی کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کاپرامن حل ضروری ہے۔

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ون ڈے سیریز ملتوی کرنے کا اچانک اعلان:اہم وجہ سامنے آگئی

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ون ڈے سیریز ملتوی کرنے کا اچانک اعلان:اہم وجہ سامنے آگئی

    لاہور: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ون ڈے سیریز ملتوی کرنے کا اچانک اعلان:اہم وجہ سامنے آگئی ،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے مابین ون ڈے سیریز کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ویسٹ انڈیز کے مشترکہ بیان میں سیریز منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کیریبین کیمپ میں پانچ مزید کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ بدھ کو ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد دورہ پاکستان پر موجود سائیڈ کے کل پازیٹو کیسز کی تعداد نو ہو گئی تھی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نو دسمبر کو کراچی پہنچی تھی۔

    کرکٹ بورڈز کے مشترکہ بیان کے مطابق جمعرات کو کیے گئے کورونا ٹیسٹوں کے نتائج کے بعد ون ڈے سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز کے پاس موجود محدود آپشنز کی وجہ سے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ سیریز کے حصے کے طور پر کھیلی جانے والی ون ڈے سیریز ملتوی کی جا رہی ہے۔

    ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان ون ڈے سیریز اب جون 2022 کی ابتدا میں کھیلی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ورلڈ کپ کوالیفائر میچوں کے لیے ویسٹ انڈیز کو بہتر ٹیم تشکیل دینے کا موقع ملے گا۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ون ڈے سیریز ملتوی کرنے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دونوں ٹیمیں کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں تیسرے ٹی20 میچ میں مدمقابل ہیں۔ تین میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کے پہلے دونوں میچوں میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے۔

    دوسری طرف آج کے میچ میں‌ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں جیت کیلئے 208 رنز کا ہدف دے دیا۔کراچی میں کھیلے جارہے سیریز کے آخری ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    ویسٹ انڈیز نے پاکستانی بولرز کی ایک نہ چلنے دی اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر207رنز بنائے،کپتان نکولس پورن 64 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے بیٹرز نے شروعات سے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر207 رنز بنائے۔کپتان نکولس پورن نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 64 رنز بنائے جبکہ بروکس نے 49 اور برینڈن کنگ نے 43 رنز کی اننگز کھیلی۔

    پاکستان کی جانب سے محمد وسیم نے 2 اور شاہنواز دھانی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

  • ایک اورعالمی ادارے کی سربراہی ایک بھارتی خاتون کے سپرد:عالمی سازش یا بھارتی لابنگ

    ایک اورعالمی ادارے کی سربراہی ایک بھارتی خاتون کے سپرد:عالمی سازش یا بھارتی لابنگ

    لینا نائر:ایک اورعالمی ادارے کی سربراہی ایک بھارتی خاتون کے سپرد:عالمی سازش یا بھارتی لابنگ ،اطلاعات کے مطابق بھارت کواس وقت عالمی اداروں کا کنٹرول دیا جارہاہے ، اس حوالےسے ایک سوال بڑی تیزی سے گردش کررہا ہے کہ کیا یہ عالمی سازش ہے یا پھربھارتی لابنگ کہ ہربڑے عہدے پربھارتی قابحض ہورہے ہیں‌،

    ادھراسی حوالے سے معلوم ہو اہے کہ انڈین نژاد خاتون لگژری فیشن برانڈ شینیل کی عالمی چیف ایگزیکٹیو بن گئیں

    رواں ہفتہ انڈیا کے لیے بہت خاص رہا ہے اور انڈین خواتین نے اسے خاص بنا دیا ہے۔ ایک طرف ہرناز سندھو نے مس ​​یونیورس کا اعزاز جیتا وہیں اب ایک اور انڈین نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے۔

    یہ خاتون لینا نائر ہیں۔ اگر آپ کا فیشن کی دنیا سے کوئی تعلق ہے تو آپ نے لگژری فیشن برانڈ شینیل کا نام ضرور سنا ہوگا اور لینا اب اس کمپنی کی گلوبل چیف ایگزیکٹیو بن چکی ہیں۔

    اندرا نوئی کے بعد وہ دوسری انڈین نژاد خاتون ہیں جو کسی عالمی کمپنی کی سی ای او بنیں۔ اندرا نوئی پیپسی کو کی گلوبل سی ای او تھیں۔اگرچہ انڈین نژاد لینا نائر نے اپنے پچھلے عہدے پر رہتے ہوئے بھی ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    لینا نائر پہلے اینگلو ڈچ کمپنی یونی لیور میں چیف ہیومن ریسورس آفیسر تھیں۔ وہ یونی لیور میں اس عہدے پر فائز ہونے والی سب سے کم عمر اور پہلی خاتون تھیں۔وہ یونی لیور میں یونی لیور لیڈرشپ ایگزیکٹیو کی رکن بھی تھیں۔ لینا نے ٹوئٹر پر اپنے نئے عہدے کے بارے میں بھی بتایا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’میں شینیل میں گلوبل چیف ایگزیکٹیو کے طور پر تعینات ہونے پر فخر محسوس کر رہی ہوں۔ یہ ایک شاندار اور مثالی کمپنی ہے۔‘شینیل فیشن، جیولری، گھڑیاں، شیشے، پرفیوم، میک اپ اور جلد کی دیکھ بھال کے حوالے سے ایک معروف برانڈ ہے۔اس برانڈ کی بنیاد گیبریئل بونل شنیل نے رکھی تھی۔ وہ ایک فرانسیسی فیشن ڈیزائنر اور کاروباری خاتون تھیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارتی نژاد گیتا گوپی ناتھ کوعالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر(اول ) تعینات کردیا گیا ہے ۔وہ آئندہ برس کے آغاز میں جیوفری ایکاموتو کی سبکدوشی پر عہدے کا چارج سنبھالیں گی۔

     

    گیتا گوپی ناتھ اس وقت آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ کی حیثیت فرائض انجام دے رہی ہیں ۔انہیں جنوری 2022 میں ہارورڈ یونیورسٹی میں اپنی تدریسی ذمے داریاں سنبھالنے واپس جانا تھا تاہم اب انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ بطور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (اول ) کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کے بانی اور سی ای او جیک ڈورسی نے عہدہ چھوڑ دیا جس کے بعد پراگ اگروال اب کمپنی کے نئے سربراہ ہوں گے۔

     

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی نژاد امریکی شہری و ٹوئٹر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر پراگ اگروال اب کمپنی کے نئے سربراہ ہوں گے۔ اپنے پیغام میں جیک ڈورسی نے کہا ہے کہ میں نے آج ٹوئٹر کو خیرآباد کہنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ کمپنی میرے بغیر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔

  • پاکستان زندہ باد:پاکستان نےتیسرے ٹی 20 میچ میں ویسٹ انڈیزکوہراکرکلین سویپ کرکےسیریزجیت لی

    پاکستان زندہ باد:پاکستان نےتیسرے ٹی 20 میچ میں ویسٹ انڈیزکوہراکرکلین سویپ کرکےسیریزجیت لی

    کراچی :پاکستان زندہ باد:پاکستان نےتیسرے ٹی 20 میچ میں ویسٹ انڈیزکوہراکرکلین سویپ کرکےسیریزجیت لی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں7 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز 0-3 سے اپنے نام کرلی۔

    پاکستان نے 208 رنز کا ہدف با آسانی 19 ویں اوور میں 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا، محمد رضوان 87 اور کپتان بابر اعظم نے 79 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔واضح رہے کہ یہ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اپنا سب سے بڑا رنز کا ہدف تعاقب مکمل کیا ہے۔

    کراچی میں کھیلے گئے سیریز کے آخری ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    ویسٹ انڈیز نے پاکستانی بولرز کی ایک نہ چلنے دی اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر207رنز بنائے،کپتان نکولس پورن 64 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    ویسٹ انڈیز نے پاکستانی بولرز کی ایک نہ چلنے دی اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر207رنز بنائے،کپتان نکولس پورن 64 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے بیٹرز نے شروعات سے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر207 رنز بنائے۔کپتان نکولس پورن نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 64 رنز بنائے جبکہ بروکس نے 49 اور برینڈن کنگ نے 43 رنز کی اننگز کھیلی۔

     

    پاکستان کی جانب سے محمد وسیم نے 2 اور شاہنواز دھانی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے آج کراچی میں کھیلے جا رہے سیریز کے تیسرے ٹی20 میچ میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے باؤلنگ کی دعوت دی ہے۔

    پاکستان نے میچ کے لیے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کو آرام کراتے ہوئے ان کی جگہ محمد حسنین اور شاہنواز دھانی کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا ہے۔

     

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ویسٹ انڈین کھلاڑیوں سمیت مہمان ٹیم کے وفد کے پانچ افراد کے کورونا ٹیسٹ آج مثبت آنے کے سبب میچ کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا تاہم بعد میں دونوں ملکوں کے بورڈز نے باہمی اتفاق سے میچ کا شیڈول کے مطابق انعقاد کا فیصلہ کیا۔

    واضح رہے کہ تین میچوں کی سیریز میں پاکستان کو پہلے ہی 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

    پاکستان: بابر اعظم (کپتان)، محمد رضوان، فخر زمان، حیدر علی، افتخار احمد، آصف علی، شاداب خان، محمد نواز، محمد وسیم، محمد حسنین، شاہ نواز دھانی۔

    ویسٹ انڈیز: نیکولس پوران (کپتان)، برینڈن کنگ، ڈیرن براوو، شمرابروکس، روومین پاول، اوڈیئن اسمتھ، ڈومینک ڈریکس، ہیڈن واش جونیئر، روماریو شیفرڈ، عقیل حسین، اوشین تھامس، گوداکیش موتی۔

  • بلوچستان سے خوشخبری آگئی :گوادر میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان:جیت گیا کپتان

    بلوچستان سے خوشخبری آگئی :گوادر میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان:جیت گیا کپتان

    کوئٹہ:بلوچستان سے خوشخبری آگئی :گوادر میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع گوادر میں چند ہفتوں سے جاری دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

    اس بہت بڑی کامیابی اور خوشی کے حوالے سے دھرنا ختم کرنے کی تصدیق ’گوادر کو حق دو‘ تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے’حق دو گوادر کو‘ تحریک کے طویل احتجاجی دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے 2 وفاقی وزراء اسد عمر اور زبیدہ جلال کو گوادر جانے کی ہدایت کی تھی۔

    وزیراعظم عمران خان نے دونوں وزراء کو ہدایت کی تھی کہ گوادر کے عوام کے مسائل کے جلد حل کی سفارشات مرتب کریں۔

    واضح رہے کہ گوادر تحریک کے شرکاء سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ روکنے، مکران میں چیک پوسٹوں کے خاتمے اور گوادر کو پینے کے پانی کی فراہمی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے ہیں۔

    گوادر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر یہاں آئے ہیں تاکہ عوام کی فلاح کے لئے وفاقی منصوبوں کو دیکھاجاسکے ،وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے گوادرکے عوام کو یہاں بہتری نظر آئےاگر ایسانہیں ہواتو قومی مقصد حاصل نہیں ہوگاانہوں نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان بلوچستان اورچیف سیکرٹری سے تفصیلی ملاقات ہوئی اورتمام امورکاجائزہ لیاگیا ۔

    ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں 2 ڈیم سبتزئی اور شادی کوڈ ڈیم مکمل ہو چکے ہیں ان ڈیمز سے آنیوالے پانی کی شہر میں ترسیل کا نظام بہتر ہوگا۔گوادر شہر میں پانی کی ترسیل کے حوالے پلاننگ کررہے ہیں مئی جون تک پانی کا مسئلے واضح بہتری آجائیگی، اور بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے کیسکو سے معاہدہ ہوچکاہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 2023تک 100 میگاواٹ نیشنل گریڈ سے بجلی فراہم کردی جائے گی اس وقت ملک میں وافر مقدار میں بجلی موجود ہے ،نوجوان کے لئے ووکیشنل سینتر مکمل ہوچکاہے ،چین کی مدد سے 3200 گھروں کے لئے سولر سسٹم بلوچستان پہنچ جائیں گے جن کافائدہ گوادرکے عوام کو پہنچے گا۔

  • علاقائی امن کیلئے تمام پڑوسیوں کیساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں: آرمی چیف

    علاقائی امن کیلئے تمام پڑوسیوں کیساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی:علاقائی امن کیلئے تمام پڑوسیوں کیساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ علاقائی امن، خوشحالی کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے جاپان کے سفیر نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران جاپانی سفیر نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، علاقائی استحکام کے لیے خصوصی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    ملاقات کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی المئیے کو روکنے کیلئے امداد پہنچانے کے لئے فوری طور پر ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کا خواہاں ہے ، علاقائی امن، خوشحالی کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کاپرامن حل ضروری ہے۔

  • بالآخرجنرل نروانے چیفس آف اسٹاف کمیٹی چیئرمین کا عہدہ لینےمیں کامیاب

    بالآخرجنرل نروانے چیفس آف اسٹاف کمیٹی چیئرمین کا عہدہ لینےمیں کامیاب

    نئی دہلی بالآخرجنرل نروا چیفس آف اسٹاف کمیٹی چیئرمین کا عہدہ لینےمیں کامیاب:جنرل بپن راوت کی ہلاکت سوالیہ نشان بن گئی ،اطلاعات کے مطابق آ رمی چیف جنرل ایم ایم نروانے چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی او ایس سی ) کے چیئرمین کا عہدے کواپنے قبضے میں لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں‌۔ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ انہیں ملک کا نیا چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) بنایا جائے گا لیکن اس دوران انہیں بدھ کو سی او ایس سی کا عہدہ سونپ دیا گیا۔ تینوں خدمات کے سربراہوں پر مشتمل کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ 8 دسمبر کو ہیلی کاپٹر حادثے میں ملک کے پہلے سی ڈی ایس جنرل بپن راوت کے انتقال کے بعد خالی تھا

    ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نئے سی ڈی ایس کے بارے میں ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ لیکن جنرل نروانے کو تینوں خدمات کے سب سے سینئر سربراہ ہونے کی وجہ سے سی او ایس سی کا چیئرمین بنایا گیا ہے اور اس سے اگلے سی ڈی ایس ہونے کے ان کے دعوے کو تقویت ملی ہے۔

    ۔ 30 ستمبر کو آئی اے ایف کے سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چودھری، جبکہ بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آر۔ ہری کمار نے 30 نومبر کو اپنا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس کے برعکس جنرل نروانے کو آرمی چیف بنے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں۔ 61 سالہ جنرل نروانے نے جنرل بپن راوت کی ریٹائرمنٹ اور ملک کے پہلے سی ڈی ایس کے طور پر ترقی کے بعد 31 دسمبر 2019 کو چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس ) کا عہدہ سنبھالا۔

    سی او ایس سی کیا ہے اور چیئرمین کی تقرری کیسے کی جاتی ہے۔ سی او ایس سی تینوں سروسز کے سربراہوں پر مشتمل ایک کمیٹی ہے، جو آپریشنز اور دیگر امور کے حوالے سے تینوں سروسز کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کام کرتی ہے۔ جنرل نروانے کو اسی پرانی روایت کے مطابق سی او ایس سی کا چیئرمین بنایا گیا ہے، جو سی ڈی ایس کا عہدہ بننے سے پہلے نافذ تھا۔ اس روایت کے تحت تینوں سروسز کے سربراہوں میں سب سے سینئر افسر کو سی ایس او سی کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

    جنرل راوت کی موت ایک حادثے میں ہوئی۔ ملک کے پہلے سی ڈی ایس جنرل بپن راوت کی 8 دسمبر کو ہیلی کاپٹر حادثے میں ایک المناک حادثے میں اس وقت موت ہو گئی تھی جب وہ اپنی اہلیہ اور 12 دیگر فوجی افسران کے ساتھ تمل ناڈو کے کونور میں ایک تقریب کے لیے جا رہے تھے۔ ان کا ایم آئی 17وی5 ہیلی کاپٹر لینڈنگ سائٹ سے صرف 7 کلومیٹر پہلے اچانک جنگل میں گر گیا۔ اس حادثے میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افسران موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے، جب کہ واحد زخمی گروپ کیپٹن ورون سنگھ 8 دن اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد بدھ کو دم توڑ گئے۔

    دوسری طرف بھارتی وزارت دفاع اور بھارتی جرنیلوں کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ گفتگو سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ بھارتی فوجی قیادت میں شدید اختلافات ہیں اور موجودہ آرمی چیف اور ہلاک ہونے والے چیف آف ڈیفنس جنرل بپن راوت کے درمیان شدید اختلافات تھے اور ان اختلافات کو جنرل بپن راوت کی ہلاکت سے تعبیر کیا جارہا تھا

  • تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار

    تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار

    تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ کہ ایک تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دینا دوسرا روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیان ضرور دینا ہے جو عوام کے زخمی پر نمک پاشی کے مترادف ہو ۔ جہاں وزیر اطلاعات فواد چوہدری مہنگائی پر اپنی ماہرانہ رائے دینے سے باز نہیں آرہے ہیں تو شہریار آفریدی بیرون ملک جا کر صحافیوں کو تڑیاں لگا رہے ہیں تو شبلی فراز قومی بھنگ پالیسی کا اعلان کررہے ہیں ۔ رہی بات علی امین گنڈا پور کی ۔ تو وہ ہر کسی کے ساتھ ہی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب ایسی کارکردگی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنی ہوتو پھر وہ ہوتا ہے ہے جو آج لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شہبازگِل کے ساتھ ہوا ہے ۔ جہاں خاتون پروفیسرنے شہبازگِل سے ڈگری لینے سے انکار کردیا اور خاتون پروفیسر کا نام باربار پکارنے پر بھی وہ اسٹیج پرنہ آئیں۔ اس حوالے سے جب صحافی نے شہباز گل سے سوال کیا گیا کہ خاتون پروفیسر نے ٹوئٹ کے ذریعے آپ سے ڈگری لینے سے انکار کیا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھاکہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے۔ ویسے یہ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں مجھ تو ڈر ہے کہ کہیں جب یہ ووٹ مانگنے جائیں گےتو بات کہیں برابھلا کہنے سے جوتیاں اور گندے انڈے پڑنے تک نہ پہنچ جائے ویسے اس کا ایک مظاہرہ ہم آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھ چکے ہیں جب علی امین گنڈاپور پر ایسی ہی کاروائی کی گئی تھی جب وہ سنجے دت کے طرح فائرنگ کرتے ہوئے ایک جگہ سے گزرے تھے ۔ اب تازہ تازہ جو علی امین گنڈا پور نے فضل الرحمان کو ٹارگٹ کیا ہے اس ہر جے یو آئی ف کے حافظ حمد اللّٰہ نے علی امین گنڈا پور کوتسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ جس میں انھوں نے علی امین گنڈا پور کو سیاست کے بجائے فلم انڈسٹری میں سلطان راہی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور آج کل اس لیے خوش ہیں کہ ان کے لیڈر نے بھنگ کی کاشت شروع کر دی ہے۔ بھنگ کے بعد آپ کو بلیک لیبل شہد استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بات تو ہے رسوائی کی ۔ پر مجھے امید ہے کہ جلد علی امین گنڈا درعمل میں مزید کوئی نئی بونگی ماریں گے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال تحریک انصاف کے لیے اچھی خبر نہیں آرہی ہے ۔ کے پی کے میں جو بلدیاتی الیکشن ہورہا ہے اس میں پی ٹی آئی کی حالت کافی پتلی ہے ۔ اسکی وجہ ہے ۔ جب فواد چوہدری کبھی کہیں گے کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف فضول مہم بنا دی جاتی ہے کہ جی قیمت میں اضافہ ہو گیا، اگر تین روپے قیمت ہے سات روپے ہو گئی تو کیا قیامت آگئی؟تو کبھی کہتے ہیں کہ گیس ختم ہوگی اب سستی گیس نہیں ملے گی۔ ان بیانات اور حرکتوں کے بعد کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عوام کیوں پی ٹی آئی سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم کی طرح حکومتی وزراء جو مرضی دعوے کرتے رہیں۔ عالمی ادارے پاکستان کو مہنگائی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک قرار دے چکے ہیں۔ یوں پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان کی صف میں آکھڑا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حکومتی صفوں میں شامل مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جن کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ملک کی نصف آبادی غربت اور افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اپوزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو خبر یہ ہے کہ جہانگیر ترین بھی پاکستان سے لندن پہنچ گئے ہیں ۔ وہ دو ہفتے لندن میں رہیں گے۔ جہاں وہ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان سے پہلے ایاز صادق بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور پچیس لوگوں کے حوالے سے خبر بھی زیر گردش ہے کہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کا وعدہ کیا جائے تو وہ پانسہ پلٹ دیں گے ۔ میں تصدیق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کہنے والے تو کہہ رہے ہیں جہانگیر ترین شاید اسی سلسلے میں لندن پہنچے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے اس وقت جہانگیر ترین نے بھی ساری ہی آپشنز رکھی ہوئی ہیں ۔ گزشتہ دنوں انکی یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تصویر بھی وائرل تھی جس کے بعد چہ مگویاں شروع ہوگئی تھیں ۔ میں آپکو یہ بتادوں کہ اس وقت ترین گروپ میں لگ بھگ 25 سے 30 قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں ۔ اور ان میں زیادہ تر electables ہیں ۔ ویسے چند ہفتے قبل ہی جہانگیر ترین یہ دعوی کر چکے ہیں ۔ کہ میری تاحیات انتخابی نااہلی ٹیکنیکل بنیادوں پر ہے۔ یہ جلد ختم ہو جائے گی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آنے والے الیکشن میں پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ ایک بڑا گروپ ہوگا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نتھی رہے گا یا پرواز کرکے کس اور جگہ چلا جائے گا ۔ اچھا صرف جہانگیرترین ہی نہیں اپنی نااہلی کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں بلکہ محمد زبیر بھی مریم نواز کے حوالے سے دعوی کر رہے ہیں کہ اگلا الیکشن وہ لڑیں گی اور تمام کیس بھی ختم ہونگے ۔ اچھا مجھے غیب کا علم تو نہیں پر اگر زبیرعمر کہہ رہے ہیں تو یقینی طور پر وہ کسی انفارمیشن کی بنیاد پر ہی کہہ رہے ہوں گے ۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات پنڈی اور اسلام آباد دنوں جگہ کافی اچھے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایاز صادق اگر لندن جاکر اپنی رائے نوازشریف کو دینا چاہتے ہیں تو ان کا حق بنتا ہے، میرا خیال ہے عام انتخابا ت2022ء کے اوائل یا درمیان میں ہوں گے۔ ۔ فارمولہ بھی خواجہ آصف نے بتا دیا ہے کہ کیسے اس حکومت کو گھر بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔موجود حکومت کو نکالنا ہے تو تحریک عدم اعتماد سے نکالیں، کسی غیر آئینی طریقے سے ان کو نہیں نکالنا چاہیے۔ ان کی اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اسی صورت ممکن ہے جب اتحادی تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیں یا پھر پی ٹی آئی کے اپنے عمران خان سے داغا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ ڈالیں ۔ جو حالات بنتے دیکھائی دے رہے ہیں اس میں ممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ کیونکہ حکومت کی کسی بھی قسم کی کوئی کارکردگی نہ ہونے کہ وجہ سے پی ٹی آئی کی popularityمیں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے اور اگلے جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا بڑے جگرے والا کام ہے ۔ اس کی مثال میں آپکو دے دیتا ہوں جیسے لاہور این اے 133کے الیکشن میں جمشید اقبال چیمہ نے راہ فرار اختیار کی وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جیسے کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹکٹیں دیتے ہوئے جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی آپکے سامنے ہے کہ لوگ تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں لے رہے تھے یہاں تک پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ۔ اب جو بلدیاتی الیکشن اور خانیوال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا رزلٹ سامنے آئے گا اس سے چیزیں مزید واضح ہوجائیں گی ۔ کہ حکومت وقت پورا کرے گی یا وقت سے پہلے انتخابات ہون گے ۔ دوسرا خانیوال میں ضمنی الیکشن کی بڑی وجہ شہرت یہ بھی بنی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون جبکہ مسلم لیگ نے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر خانیوال میں ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے ٹی ایل پی کی پرواز کیا ہوگی یہ بھی معلوم ہوجائے گا کیونکہ علامہ سعد رضوی وہاں ایک تگڑا جلسہ بھی کر آئے ہیں ساتھ ہی انھوں نے اہلسنت کی تمام جماعتوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں کہ ہر جگہ مشترکہ امیدوار لائے جائیں ۔ اب یہ ٹی ایل پی فیکڑ ن لیگ کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے یا پی ٹی آئی کو ۔۔۔ اس خانیوال کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے واضح ہوجائے گا ۔ اس لیے یہ الیکشن مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ہوگا اس لیے یہ کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔ سیاسی شعبدہ بازیوں ۔۔۔ نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہم نے اپنی معیشت تو کیا سنبھالنی تھی۔ مقروض ہی ہوتے چلے گئے۔ قرضے اتارنے کے لیے مزید نئے قرضے لیے اور قرضوں کے اس جال سے کبھی نہ نکل سکنے کی بنیاد ڈال دی گئی ہے ۔ ۔ لب لباب یہ ہے کہ ایک طرف حکمرانوں کے رنگین و سنگین بیانات ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی حالت زار دیدنی ہے۔ ۔ اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی پر قابو پانا مریخ پر آکسیجن کی تلاش کی طرح ناممکن ہوچکا ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی منتخب جمہوری حکومت آٹا ، چینی ،دودھ ، گھی ، سبزی،گوشت اور دالوں جیسی کچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو عوام اسے دوسرا آئینی دورانیہ انعام کے طور پر بخش دیتے ہیں ورنہ اسکے خلاف ووٹ ڈال کر اسکو تاریخ بنا دیتے ہیں

  • ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    نئی دہلی:ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار ،اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی فوج کی ایک اعلیٰ‌سطحی اہم میٹنگ میں ہونے والی آہ و بکا کی آوازیں بیجنگ اور اسلام آباد تک سنائی دی جانے لگی ہیں ، اطلاعات ہیں کہ اس اہم اجلاس میں لداخ اورکشمیر میں ماموراعلیٰ بھارتی جرنیلوں نے بھارتی حکومت اور فوجی قیادت سے یہ شکوہ کیا ہے کہ چین لداخ میں کچھ کرنے جارہا ہے اورجس کا نتیجہ وہاں پھربھارتی افواج کو ذلت آمیزرسوائی کی صورت میں اٹھانا پڑے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں اسی دوران چینی فوج کی نقل وحرکت اور دیگرسرگرمیوں کے حوالےسے واویلا کیا گیا ، دوسری طرف بھارتی فوج کے اہم اجلاس سے کچھ اہم باتیں کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ چین نے2020ءمیں مشرقی لداخ میں جس بھارتی علاقے پر قبضہ کیاتھا وہاں چینی فوج اپنے لیے نئے مسکن، ہائی ویز اور سڑکیں بنا رہی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس پیشرفت سے بھارت کے سابق فوجی افسروں اور سکیورٹی ماہرین میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ چین شاید اس علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اوروہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرنئے سٹیٹس کوکا اعلان کر سکتا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ چینی فوج مشرقی لداخ میں مزید شاہراہیں اور سڑکیں بنا کر اپنی فوجی پوزیشنوں میں اضافہ کررہی ہے اور اس نے اپنے فوجیوں کے لیے بھارتی علاقے کے اندرر نئے مسکن بنائے ہیں۔

    بھارت اورچین کی فوجیں گزشتہ سال مئی سے لداخ کے متعدد مقامات پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ چین نے اب تک ہاٹ اسپرنگس اور ڈیپسانگ کے میدانی علاقے چھوڑنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ وادی گلوان، پینگونگ جھیل اور گوگرا سے اپنی شرائط پرجزوی واپسی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں جگہوں پر دونوں فوجیں یکساں فاصلے کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی ہیں تاہم چینی فوج اب بھی بھارت کے دعویٰ کردہ علاقے میں موجود ہے اور بھارت اپنے ہی علاقے میں پیچھے ہٹ گیا ہے جس کی وجہ سے اس پر چین کومزید زمین دینے کے الزامات لگ رہے ہیں۔