Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مجھے بڑا دکھ ہو رہا ہے، منی بجٹ آیا اس میں دودھ کی قیمت بڑھ گئی، کھانے کی قیمت بڑھ گئی، بچوں کے دودھ کی قیمت بڑھ گئی، ہر ضروری چیز جو زندگی کا حصہ ہے اسکی قیمت بڑھ گئی لیکن حکمرانوں سے کئی بار درخواست کی کہ سگریٹ کی قیمت بڑھائیں ،2017 سے لے کر آج تک سگریٹ کی قیمت نہیں بڑھی، تمباکو کی قیمت نہیں بڑھی،یہ کون سی انڈسٹری ہے جو سگریٹ کی قیمت نہیں بڑھنے دے رہے، غریب کے لئے آٹا دال پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن جس چیز سے لوگ مر رہے ہیں، اس پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا، اسکی قیمت بڑھاتے ہوئے حکمران گھبراتے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ ٹوبیکو کمپنیز کی جانب سے فنڈنگ کی گئی ہے، کینسر ہسپتال کیسے فنڈ لے سکتا ہے ٹوبیکو کمپنیز سے، ہمیں دنیا کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ دنیا میں مہنگائی ہو گئی یہاں بھی ہو گئی، برطانیہ میں سگریٹ کے ریٹ بھی دیکھ لیں اور یہاں کے دیکھ لیں، وہاں سگریٹ مہنگا، یہاں قیمتیں نہ ہونے کے برابر، 12 پاؤنڈ کی ڈبی کریں، غریب کے آٹے دال پر کیوں ٹیکس لگا رہے ہیں، ٹوبیکو پر ٹیکس لگائیں،سگار پر ٹیکس لگائیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ک حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ زیر بحث ہے ابھی منظور ہو گا لیکن اگر بازار چلے جائیں تو ہر چیز کی قیمت بڑھ چکی ہے، ااگر کابینہ اس منی بجٹ کو رد کر دیتی ہے تو ان قیمتوں کو واپس کون لائے گا، اسوقت یہ بیچارے ہو جائیں گے، ہم حکمرانوں کی نالائقیاں بتاتے رہیں گے، گورننس کا آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک کے کوئی تعلق نہیں،

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    سگریٹ پر پچھلے تین سال میں ٹیکس نہ بڑھنے کا انکشاف

     

    شکریہ عمران خان، ہر چیز ڈبل مگر،سگریٹ کی قیمت کئی سال سے نہیں بڑھی

  • چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    لاہور(……9251 +)ہندوستان نے اپنی بحریہ کومزید 57 رافیل جنگی طیاروں سے لیس کرکےپاکستان اورچین کوپیغام بھیج دیا،اطلاعات ہیں‌ کہ ہندوستانی بحریہ کل اپنی بحریہ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کچھ کرنے جارہا ہے ، اس حوالے سے ہندوستانی دفاعی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنی بحریہ کومزید مضبوط کرکے پاکستان اور چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہندوستان سے کبھی بھی نہ ٹکرانا

    ادھرہندوستانی افواج کی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنے نئے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ملٹی رول کیریئر پر مبنی جنگی طیاروں کی تلاش میں ہے جو اس وقت بھارت کی سمندری حدود میں آزمائش کے مرحلے میں ہے اور کارکردگی چیک ہونے کے بعد اس کو شامل کیا جائے گا
    ادھر ہندوستانی بحریہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ MiG-29K کو تبدیل کرنے کے لیے جڑواں انجن والا طیارہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو فی الحال INS وکرمادتیہ سے چل رہا ہے۔

     

     

    ہندوستانی بحریہ 6 جنوری سے گوا میں آئی این ایس ہنسا میں ساحل پر مبنی ٹیسٹ سہولت میں رافیل لڑاکا طیاروں کے بحری ورژن کی فلائٹ ٹیسٹنگ کرے گی تاکہ 40,000 ٹن وزنی کیریئر آئی این ایس وکرانت کے مطابق بہترین جنگی طیارے کا تعین کیا جا سکے۔

    شاید اسی طاقت کے بل بوتے پر ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرمبیر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی بحریہ ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ جنگجوؤں کے مشترکہ حصول کا پیچھا کر سکتی ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روسی ساختہ جنگی طیاروں خاص کر میگ 29 کے متبادل کے طور پر ہندستانی بحریہ نے ڈائریکٹوریٹ آف نیول ایئر اسٹاف کی طرف سے جنوری 2017 میں ملٹی رول کیریئر برن فائٹر کے لیے معلومات کی درخواست (RFI) جاری کی گئی تھی کیونکہ فی الحال آپریشنل Mig-29K کو 2034 میں مرحلہ وار ختم کیا جانا ہے۔

    ہندوستانی بحریہ نے اپنے بحری بیڑوں کو مضبوط سے مضبوط تربنانے کےلیے مبنی جڑواں انجن لڑاکا طیاروں کے لیے عالمی ٹینڈر کا جائزہ لینے کا انتخاب کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹوئن انجن ڈیک بیسڈ فائٹر (ٹی ای ڈی بی ایف) 2032 تک پہنچنا ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کل ہونے والے جنگی مظاہروں کے بعد اگرکوئی صورت حال تسلیٰ‌ بخش ہوتی ہے تو پھر ہندوستانی بحریہ اسی مقام پر رافیل-ایم (میرین) طیارے کے متبادل کے طور پر امریکی F-18 سپر ہارنٹس کی جانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بوئنگ F-18 سپر ہارنیٹ امریکی بحریہ کے لیے ایک آزمائشی اور ہندوستانی بحریہ کی ڈیمانڈ پر مبنی ملٹی رول فائٹر ہے، جس میں 1991 کی خلیجی جنگ سے متعلق حیرت انگیز مشنز ہیں۔

     

    بھارتی دفاعی حکام کے درمیان چلنے والی گفتگو اور باہمی پیغام رسانی سے یہ بھی چیزیں‌ سامنے آئی ہیں‌کہ IAC-1 کو INS وکرانت کے طور پر 15 اگست 2022 کو ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پرہندوستانی بحری بیڑوں میں آپریشنل کرنے کا پروگرام ہے ۔ ہندوستانی بحریہ طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں سے 2022 میں چار سے پانچ Rafale-M طیارے لیز پرلینے کا پروگرام بنا چکی ہے تاکہ طیارہ بردار جہاز کو آپریشنل بنایا جا سکے۔

    ہندوستان میں امبالہ ایئربیس پر پہلے ہی رافیل کی دیکھ بھال اور پرواز کی تربیت کی سہولت موجود ہے۔ بحریہ کے ہوا بازوں کو آئی این ایس ہنسا میں تربیت دی جائے گی۔

    اس موقع پر یہ بھی بتا دوں کہ چند دن پہلے اپنے حالیہ دورہ ہندوستان میں، فرانسیسی وزیر دفاع نے بھی ہندوستان کو کیرئیر پر مبنی رافیل کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔فرانسیسی وزیردفاع کا کہا تھا – "ہمیں معلوم ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جلد ہی پہنچ جائے گا…اور اس کے لیے مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہندوستان دوسرا رافیل خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت، اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ہندوستان کو ضرورت ہو تو فرانس ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ حاصل کیے جانے والے 36 سے زائد رافیل لڑاکا طیارے فراہم کرے گا۔

     

    2016 میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی، Dassault Aviation بحریہ کے ساتھ Rafale کے بحری قسم کی فروخت کے بارے میں بات چیت کر رہی تھی۔

    ہندوستانی بحریہ کو بوئنگ کا جڑواں سیٹوں والا F/A-18 بلاک III سپر ہارنیٹ اس کے RFI کے جواب میں 57 ملٹی رول کیریئر پر مبنی فائٹرز کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سپر ہارنیٹ بلاک III سپر ہارنیٹ کا سب سے نفیس قسم ہے اور چوتھی نسل کی لڑاکا صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑتا ہے۔

    ٹچ اینڈ گو لینڈنگ Rafale-M – امریکی بحریہ کے ذریعےیہ طیارہ "اسکی جمپ” ریمپ سے چل سکتا ہے اور اسے ہندوستانی تجزیہ کاروں کے ذریعہ "محفوظ ہند-بحرالکاہل کے لئے فعال کرنے والا” کا نام دیا گیا ہے، جنہوں نے سپر ہارنٹس کی صلاحیتوں اور ہندوستانی بحریہ کے لئے موزوں ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔ یورو ایشین ٹائمز

    "F/A-18 سپر ہارنیٹ بلاک III ہندوستانی بحریہ (IN) کو پیش کش پر ہے جو امریکی بحریہ (USN) کا سب سے جدید، کثیر کردار، فرنٹ لائن لڑاکا ہے اور یہ بیڑے کے لیے ورک ہارس ہے، اور ایسا ہی رہے گا۔ ،‘‘ انکور کناگلیکر، ہیڈ انڈیا فائٹرز سیلز، بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی، نے پہلے فنانشل ایکسپریس کو بتایا۔

    فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ رافیل میرین فائٹرز کو سپر ہارنٹس پر برتری حاصل ہے کیونکہ فرانس اور ہندوستانی حکومت کے درمیان 36 رافیل ڈبلیو کے لیے 8.7 بلین ڈالر کی ایک میگا ڈیل طے پائی تھی۔

    ادھر بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی بحریہ ایک طرف پاکستان کوجواب دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف بھارت ، جاپان ،آسٹریلیا اور امریکہ کے ساتھ ملکر جنوبی چین اور کواڈ ممالک کے درمیان ہونے والے جنگی معاہدوں کے مطابق چین کے بحری راستوں کی ناکہ بندی کے لیے استعمال ہوں گے جس کا مقصد چین کی بحری ناکہ بندی کرکے چین کومعاشی طورپرکمزوراور تباہ حال کرنا ہے

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا

  • خیبرپختونخوا حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ چیف جسٹس

    خیبرپختونخوا حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ چیف جسٹس

    خیبرپختونخوا حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے کیسز سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی عدالت نے وفاقی اور تمام صوبائی سیکریٹری صحت کو بریسٹ کینسر سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے سیکریٹری صحت بلوچستان کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

    ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بریسٹ کینسر کی مشینری اور علاج کیلئے 3 ارب روپے مختص کیے ،منصوبے کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ صرف پی سی ون ہی بناتے رہتے ہیں عملدرآمد کوئی نہیں ہوتا، جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ انسانی وسائل کا ہے،کروڑوں کی مشینری لا کر رکھ دی جاتی ہے، استعمال کوئی نہیں جانتا جب تک اسپتالوں کا سیٹ اپ بنائیں گے تب تک لوگ مرتے رہیں گے، صوبہ بلوچستان میں ایک بھی انکالوجسٹ نہیں،

    ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ خیبرپختونخواحکومت نے صحت کارڈ کے اجراء کا کام شروع کیا ہے، صحت کارڈ کے تحت ہر شہری کو 10 لاکھ روپے تک علاج کرانے کی سہولت دی گئی ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے5،6ارب مختص کر دیے ہوں گے تا کہ لوگ اس میں سے پیسہ کھاتے رہیں، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تو حکومتوں کو ہوش آیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے گورنمنٹ سیکٹر میں تو کوئی کام ہو ہی نہیں رہا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحت کارڈز کا کوئی طریقہ کار تو ہو، کس کس کو صحت کارڈ دیں گے؟

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری اسپتالوں میں نہ کوئی ایکسرے مشین کام کرتی ہے نہ آکسیجن کا نظام ہے،کے پی حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں ٹاپ سے لے کر نیچے تک لوگ سفارش پر بھرتی کیے گئے ہیں،خیبرپختونخوا حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ بلوچستان کا ہیلتھ بجٹ کہاں جاتا ہے؟ بلوچستان میں آج تک کوئی اوپن ہارٹ سرجری نہیں ہوئی،کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی.

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کیا ملزم کو پیش کرنے سے سپریم کورٹ کی عمارت اڑ جائے گی؟ چیف جسٹس برہم

  • مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک،سینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبا کلمات کا استعمال

    مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک،سینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبا کلمات کا استعمال

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پرویزرشید کی ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگئی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مریم نواز مبینہ آڈیو میں سابق وزیر اطلاعات پرویزرشید سے گفتگوکررہی ہیں آڈیو میں سینئرصحافی حسن نثار اور ارشاد بھٹی پرالزامات لگا ئے گئے اور سینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبات کلمات کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔


    مبینہ آڈیومیں مریم نواز پرویز رشید کو جیو گروپ کو ہدایات دینے پر بات کررہی ہے ، پرویز رشید کہہ رہے ہیں کہ اس کورکارڈ میں حسن نثارصاحب آپ کوپتا ہے ہم کو گالیاں دیتے ہیں، ارشاد بھٹی ایڈ کر لیا ہے وہ بھی آپ کو معلوم ہے گھٹیا گفتگوکرتا ہے۔

    مریم نواز کی آڈیو بھی لیک ہو گئی

    پرویز رشید آڈیو میں کہتے ہیں کہ مظہرعباس کی گفتگو ہمارےخلاف ہوتی ،طنز بھی ہوتا ہےمذاق بھی ، باقی کوئی بندہ وہاں نہیں جس کوہمارااسپوک پرسن کہا جاسکے،مریم نے نواز کہتی ہیں کہ ستار بابر ہے وہ آزادانہ رائے رکھتا ہے، ستار بابر بھی عام طور پر ہمارےبہت حق میں نہیں ہے-

    پرویز رشید نے مزید کہا کہ حفیظ اللہ نیازی ہمارانقطہ نظر نہیں دیتا ، جس طرح یہ گالیاں دیتے ہیں یہی سلوک وہ عمران خان سےکرتاہے،حفیظ اللہ نیازی کو ہٹا دیا، اس کا کالم بھی بند کردیا گیا ہے، یہ بڑی زیادتی اور ناانصافی ہے۔

    مبینہ آڈیو میں مریم نواز نے کہا انکل میں پوچھوں گی ناں کہ پہلے بتاؤہٹا یا کیوں ہے؟ جس پر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ درخواست ہےاس سے بھی بات کریں اورمیرشکیل سےبھی کریں۔

    پی ٹی آئی کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس چھپانے کا دعویٰ

    مریم نواز نے کہا کہ پہلے میں اس سے اندر کی خبر توپوچھوں تو پرویزرشید کا کہنا تھا کہ اتنا بیلنس پروگرام ہوگا عمران خان کےاوپر جو چیک تھاختم کردیا، ہمارے اوپر بھونکنے والےبٹھا دیئےمریم نواز نے کہا کہ انکل یہ بالکل ہی ایک وائس میس ہے-

    مبینہ آڈیو میں مریم نواز نے دوصحافیوں کو باسکٹس دینے کی بھی ہدایت کی کہا کہ ابو آذربائیجان سےدوباسکٹس لائےہیں ، ایک نصرت جاوید اور ایک رانا جواد کو دینی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازصفدر کی آڈیوسامنے آئی تھی جن میں انہوں نے اپنی پارٹی کو 4 بڑے نجی چینلز کا بائیکاٹ کرنے کی ہدایات دی تھیں آڈیو میں وہ اپنی میڈیا ٹیم کو اے آر وائی نیوز، 92 نیوز،سماءنیوز اور 24 نیوز چینلز کو کسی بھی قسم کا کوئی بھی بیان اور ایڈ بھیجنے پرمنع کرتے سانئی دیں کہا تھا کہ مذکورہ بالا 4 نجی ٹی وی چینلز کو کسی بھی قسم کا بالکل کوئی بھی ایڈ‌نہیں بھیجا جائے گا-

  • کابینہ اجلاس، وزیراعظم عمران خان نے بڑی پابندی لگا دی

    کابینہ اجلاس، وزیراعظم عمران خان نے بڑی پابندی لگا دی

    کابینہ اجلاس، وزیراعظم عمران خان نے بڑی پابندی لگا دی
    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیا ہے

    اجلاس میں ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال سمیت 7 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا،وفاقی کابینہ نے متعدد نکات کی منظوری دے دی، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ اجلاس میں کہا کہ تمام وزارتیں اپنی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ عوام کے سامنے رکھیں کوئی بھی سفیر آئندہ وزارت خارجہ کو پیشگی اطلاع دیئے بغیر کسی وزیر سے ملاقات نہیں کریگا، وزارت خارجہ کی کلیئرنس کے بعد سفرا دیگر وزرا سے ملاقات کر سکیں گے، ایسی تمام ملاقاتوں میں وزارت خارجہ کی جانب سے ایک نمائندہ بھی شریک ہو گا،

    وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر غور کیا گیا، پاکستان ادارہ شماریات میں 3 ممبران کی تقرری کا معاملہ بھی کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا وفاقی کابینہ اجلاس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹیلی جینس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے قیام کی سمری پیش کی گئی، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹیلی جینس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی قیام کی تجویز بھی دی گئی، ملزم عبدالقادراحسان کی برطانیہ حوالگی کی منظوری دی گئی

    قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان سے وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیارکی ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات میں علاقائی تنظیمی ڈھانچے اور جنوبی پنجاب کی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کو مضبوط اور فعال بنانے کی ہدایت کی وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں اورجنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کو جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی

    قبل ازیں وزیرِ اعظم عمران خان سے انصاف لائیرز فورم کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف عامر محمود کیانی کے علاوہ چیرمین آئی ایل ایف سینیٹر علی ظفر، نوید سہیل ملک، فیاض احمد مہر، قیصر عباس شاہ، عمیر نیازی، انیس ہاشمی، نہا وسیم شامل تھے۔ ملاقات میں آئی ایل ایف کی مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ مراعات یافتہ طبقے اور عام شہری پر قانون کا اطلاق یکساں ہونا چاہیئے.

  • فارن فنڈنگ کیس، اور عمران خان پھنس گئے

    فارن فنڈنگ کیس، اور عمران خان پھنس گئے

    فارن فنڈنگ کیس، عمران خان پھنس گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے فنڈز سے متعلق اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ کے نکات سامنے آگئے

    رپورٹ کے مطابق سال 2012-13 کی آڈٹ رپورٹ پر کوئی تاریخ درج نہیں،آڈٹ فرم کی فراہم کردہ کیش رسیدیں بنک اکاونٹس سے مطابقت نہیں رکھتیں، آڈٹ رپورٹ منظوری کیلئے پی ٹی آئی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں پیش کی گئی تھی، آڈٹ رپورٹ پر تاریخ نہ ہونا اکاونٹنگ معیار کے خلاف ہے، پی ٹی آئی نے 2008/9 میں میں 53 فارن فنڈنگ کے اکاؤنٹس چھپائے ، 5 سال کے دوران تحریک انصاف نے 32 کروڑ روپے کی رقم چھپائی ،پی ٹی آئی نے نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے اکاؤنٹس تک رسائی نہیں دی،غیر ظاہر شدہ فنڈز کے بارے میں اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ،پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں 12 بینک اکاؤنٹس ظاہر کیا،

    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے سامنے 53 پارٹی بنک اکاؤنٹس چھپائے، اسٹیٹ بینک نے انکشاف کیا کہ ریکارڈ کے مطابق پی ٹی آئی کے 65 بینک اکاؤنٹس ہیں، پی ٹی آئی نے 09-2008اورسال13-2012 میں ایک ارب33 کروڑ کے عطیات ظاہر کیے پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں عطیات سے متعلق غلط معلومات فراہم کی گئیں بینک اسٹیٹمنٹ سے ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک ارب 64 کروڑ روپے کے عطیات موصول ہوئے پی ٹی آئی نے 31 کروڑ روپے سے زائد رقم الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کی،

    قبل ازیں الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر ، عامر کیانی الیکشن کمیشن پہنچ گئے ،درخواست گزار اکبر ایس بابر بھی کیمرہ عدالت میں موجود تھے ،

    فرخ حبیب نے الیکشن کمیشن میں استدعا کی کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی بھی جلد مکمل کی جائے ،الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیا آج مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی فنڈنگ سے متعلق کیس لگا ہے،فرخ حبیب صاحب آپ اپنے کیس سے متعلق علیحدہ درخواست جمع کراسکتے ہیں، فرخ حبیب نے کہا کہ استدعا کرتا ہوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی بھی جلد مکمل کی جائے،الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اکاؤنٹس پر رپورٹ طلب کرلی ،پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    سماعت کے بعد اسد عمر کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے لیے بھی اسکروٹنی کمیٹی بن چکی ہے فارن فنڈنگ کیس میں آج الیکشن کمیشن میں آئے تھے، بے نظیر بھٹو نے کہا کہ نوازشریف کے پاس فارن فنڈنگ اسامہ بند لادن سے آئے الیکشن کمیشن جو کر رہا ہے وہ تاریخی ہے تحریک انصاف نے سب سے زیادہ شفاف طریقے سے پیسہ اکٹھا کیا

    شہزاد اکبر نے کہا کہ پنڈورا پیپرز پر ماضی میں ہم نے کمیشن بنائے تھے،پنڈورا پیپرز کا ٹاسک پرائم منسٹر انسپکشن ٹیم کو دیا گیا ہے،نوازشریف برطانیہ میں صحت کی بنیاد پر ہی رہ رہے ہیں ہماری درخواست پر برطانوی حکومت نے نوازشریف کی ویزا میں توسیع ردکردی نوازشریف پر ایک ٹربیونل میں اپیل چل رہی ہے اس اپیل کے فیصلے کے بعد نوازشریف وہاں سے ڈی پورٹ بھی ہو سکتے ہیں

    اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے 6 بین الاقوامی اکاونٹس کی نشاندہی کرائی،کسی ایک اکاونٹ کا بھی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا،

    فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی رپورٹ مکمل کرلی یہ تمام عمل سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہورہا ہے الیکشن کمیشن بے شک کھلی عدالت میں کیس سنے ہم تیار ہیں ، پتہ چلے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے خفیہ اکاؤنٹس میں پیسے کہاں سے آئے،

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال الیکشن کمیشن پہنچ گئے ، احسن اقبال کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی چوری پکڑی گئی ،عمران خا ن کیس رکوانے کےلیے حیلے بہانے کرتے ہیں، مسلم لیگ ن نے کوئی اکاونٹس الیکشن کمیشن سے نہیں چھپایا، کیس نے پی ٹی آئی کی شفافیت کا میک اپ دھو دیا ،پی ٹی آئی نےمسلم لیگ ن کی بدعوانی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا،یہ لوگ جھوٹ بول کر اپنی چوری چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کی بدعنوانی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ،آپ قوم کو غیر ملکی تحائف سے آگاہ کریں،پاکستان کے عوام اس ڈرامے کی حقیقت جان چکے ہیں،

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ جھوٹے الزامات اور گھٹیا سیاست سے نا اہل لیگ کی تاریخ بھری پڑی ہے،نمل کالج اور شوکت خانم اسپتال کے خلاف بھی پروپیگنڈہ کیا گیا فارن فنڈنگ کیس میں بھی نااہلوں کو منہ چھپانے پڑنے ہیں، تحریک انصاف نے40 ہزار ڈونرز کی لسٹ الیکشن کمیشن کو دی ہے، مسلم لیگ ن یو کے میں پرائیویٹ لمیٹڈ ،پاکستان میں شریف فیملی لمیٹڈ کمپنی کے طو رپر رجسٹرڈ ہے،نااہلوں نے پارٹی کے اکاوَنٹس بھی منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کئے،نوازشریف نے پارٹی کو 10 کروڑ روپے دیئے اور اگلے روز4کروڑ اپنے اکاوَنٹ میں جمع کرلیے وزیراعظم کی لڑائی ذاتی نہیں بلکہ اس ملک کے مستقبل کی جدوجہد ہے،

    وکیل اکبر ایس بابر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ ہمارے حوالے کردی گئی دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے فیکٹس کو کس حد تک اس رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے تحریک انصاف کا موقف ہے کہ تمام پارٹیوں کی سکروٹنی کو ایک ساتھ سامنے لایا جائے،پی ٹی آئی نے درخواست دی ہے کہ تمام پارٹیوں کی رپورٹس ایک ساتھ سامنے لائی جائیں ہم اجتماعی نکاح کا سنتے تھے اجتماعی عدالتی فیصلوں کے بارے میں آج سن رہے ہیں یہ سکروٹنی کمیٹی مارچ 2018 میں قائم کی گئی کمیٹی کو ایک ماہ میں رپورٹ جمع کروانے کا کہا گیا تھا، آج تین سال نو بعد کمیٹی نے رپورٹ جمع کروائی ہے یہ کیس آج تک مینج کیا جارہا ہے ہم سے آج تک 28 اکاؤنٹس ہم سے چھپائے گئے ہیں ہم نے کہا غیر قانونی اکاونٹس کی تلاش کیلئے سکروٹنی کمیٹی کی مدد کرنا چاہتے ہیں کیا سکروٹنی کمیٹی ناکام ہونے کے بعد چل سکتی تھی؟

    قبل ازیں اسکروٹنی کمیٹی نے رپورٹ میں اپنی سفارشات الیکشن کمیشن کو پیش کردیں اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو الیکشن کمیشن اوپن سماعت میں فریقین کے سامنے رکھے گا الیکشن کمیشن اسکروٹنی کمیٹی نے 2018 میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے کی اسکروٹنی کمیٹی کے 80 سے زائد اجلاس ہوئے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے کی اسکروٹنی کمیٹی کا آخری اجلاس 12 اگست کو ہوا تھا الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ پر آخری سماعت اپریل 2021 میں کی تھی درخواستگزار اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کی 2 ارب سے زائد ممنوعہ فنڈنگ کی نشاندہی کی تھی

    قبل ازیں وکیل احمد حسن کا کہنا تھا کہ مارچ 2018 سے اسکروٹنی کا عمل چلا اور 80 سے 85 اجلاس ہوئے اکبر ایس بابر نے اپنی رپورٹ جمع کروائی لیکن اس کے باوجود اسکروٹنی کمیٹی نے اس پر رپورٹ نہیں دی امید ہے اب اس رپورٹ کی روشنی میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی جائے گی پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاورکا کہنا تھا کہ کہ اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس اختتام تک پہنچ گیا ہے

    تحریک انصاف کے منحرف رہنما اکبر ایس بابر نے سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے خلاف 2014 سے درخواست دائر کررکھی ہےان کی درخواست کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت الیکشن کیمشن میں متعدد درخواستیں دائر کی گئی ہیں اس حوالے سے اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اعتراضات اور درخواستیں تاخیری حربے ہیں جو کیس سے بھاگنے کے لیے ہیں پی ٹی آئی سمجھتی ہے مجھے کیس سے الگ کرکے اپنے نتائج حاصل کر سکیں گے کارروائی خفیہ رکھنے کا عمل سمجھ سے بالاتر ہے حقائق سامنے آگئے تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بدل کر رکھ دے گا، لوگوں کوپتہ چلے گا اس فنڈنگ کے پیچھے کون ہے

    اسلام آباد سے صحافی راجہ محسن اعجاز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ نے تحریک انصاف کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں،فنڈز بھی ضبط ہو سکتے اور پارٹی سربراہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف سالانہ اکائونٹس رپورٹس (غلط بمطابق اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ ) اپنے دستخط لے ساتھ جمع کروانے پر کاروائی بھی ہو سکتی ہے

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    شوگر کمیشن رپورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب،اسد عمر اور مشیر تجارت کے جوابات غیر تسلی بخش قرار

    چینی بحران کے ذمہ داروں کیخلاف کب ہو گی کاروائی؟ اسد عمر نے اعلان کر دیا

    اصل چینی چور کا نام رپورٹ سے غائب کر دیا گیا، مریم اورنگزیب کا دعویٰ

    فارن فنڈنگ کیس، سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کی استدعا مسترد کر دی

    الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج ،پی ڈی ایم کو مہنگا پڑ گیا،الیکشن کمیشن کا ایسا فیصلہ کہ مریم نے "سرپکڑ”لیا

    فارن فنڈنگ کیس، سکروٹنی کمیٹی پر اعتراض ہے یا نہیں؟ تحریک انصاف نے عدالت میں بتا دیا

    حکم دینے والا ہوں مجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں،پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں کس نے ایسا کہا؟

    پی ٹی آئی کونسے اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہیں دے رہی،اکبر ایس بابرنے الیکشن کمیشن میں کیا کہا؟

    اکبر ایس بابر کو مریم نوازکیا دیتی ہیں؟ فرخ حبیب نے لگایا بڑا الزام

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت کرنے کا چیلنج دیا تھا جسے مسلم لیگ ن نے وزیر اعظم کے اس چیلنج کو قبول کرلیا تھا وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت اور براہ راست ٹی وی پر نشر کرنے پر بھی تیار ہیں، بے شک فارن فنڈنگ کیس ٹی وی پر براہ راست دکھا دیا جائے بلکہ پارٹی سربراہوں کو بٹھا کر کیس سنا جائے۔

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

  • دو ماہ میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان نے التوا لیا؟ عدالت

    دو ماہ میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان نے التوا لیا؟ عدالت

    دو ماہ میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان نے التوا لیا؟ عدالت
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کے خلاف ہرجانے کے کیس میں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کے خلاف دائر کیے گئے 10 ارب روپے ہرجانے کے کیس کی سماعت ہوئی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کرنے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پراسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

    ‏اسلام آبادہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کارروائی بڑھانے سے روک دیا، وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کردیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت کا یہ کیس کب سے زیرالتوا ہے، وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ یہ کیس 2012 کا ہے، 2021 میں سوالات وضع کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ڈائریکشن دی ہے کہ ہتک عزت کے کیسز جلد نمٹائے جائیں، کیس میں اس التوا کا ذمہ دار کون ہے؟ ‏کیا آپ کہتے ہیں کہ التوا عمران خان کی طرف سے ہوا؟ 2012 سے ہتک عزت کا کیس تاخیر کا شکار ہو رہا ہے،‏ہتک عزت کیس کا تو 2 ماہ میں فیصلہ ہو جانا چاہیئے تھا،

    وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ ‏دونوں فریقین کی جانب سے التوا لیا گیا، جب سوالات وضع ہوئے خواجہ آصف نیب حراست میں تھے، عمران خان نے شروع میں پیروی نہیں کی لیکن بعد میں شروع کی، عدالت نے کیس کی سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی

    غیرقانونی بھرتیاں:لاہورہائی کورٹ نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

    وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم سے متعلق معاملات میں الزامات لگانے پر خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کردیا گیا تھا۔

    خواجہ آصف نے ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کرنے کا آرڈر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا خواجہ آصف نے درخواست میں ایڈیشنل سیشن جج اور عمران احمد خان کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ای کورٹ کے ذریعے وزیراعظم کا بیان وکیل صفائی کی عدم موجودگی میں ریکارڈ کیا۔

    ایف اے ٹی ایف نے جعلی شناختی کارڈز سے کاروبار کرنیوالوں کی فہرست طلب کرلی

    وکیل نے خرابی صحت کے باعث عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 17 دسمبر کو پیش نہیں ہو سکتے، عدالت نے قانون کا حوالہ دیئے بغیر جلدبازی میں فیصلہ سنایا، جرح کا حق ختم کرنے کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے۔

    قبل ازیں لاہورہائی کورٹ نے غیرقانونی بھرتیوں پر وزیراعظم کو نوٹس جاری کیا ، لاہور ہائی کورٹ نے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان(اے ٹی آئی آر)میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست پر وزیراعظم عمران خان، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری قانون اورچئیرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور رجسٹرار ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان سے 14 جنوری 2022 کو جواب طلب کیا ہے۔

    منی لانڈرنگ امیر ممالک کا بڑا مسئلہ ہے،وزیراعظم

    عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 2 جون 2021 کو نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی تقرری کو چیلنج کئے جانے کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے نوٹس جاری کئے ہیں درخواست گزار ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ ان تقرریوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    وحید شہزاد بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تقرریاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی سروسز میں گریڈ 16 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی تقرری فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوگی انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 130 کے تحت وفاقی حکومت کی بجائے وزیر اعظم کو ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے جوڈیشنل ممبران کی تقرری کا دیا جانے والا اختیارغیرقانونی ہے۔

    سندھ ہائیکورٹ میں بلدیاتی ایکٹ کیخلاف درخواست دائر

  • امریکا سمیت 5 جوہری طاقتوں کا ایٹمی جنگوں سے گریز کرنے پراتفاق

    امریکا سمیت 5 جوہری طاقتوں کا ایٹمی جنگوں سے گریز کرنے پراتفاق

    ماسکو: روس، چین، برطانیہ، امریکا اور فرانس نے جوہری ہتھیاروں اور ایٹمی جنگوں سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :روسی ایوانِ صدر کریملن کے مطابق جوہری ممالک نے مشترکہ بیانات جاری کیے جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ہم پر اولین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپس میں جنگ سے بچا جائے اور مل کر عالمی سطح پر سیکورٹی کی فضا قائم کی جائے۔

    بیانات میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر جنگ ہوئی تو اس میں جیت کسی کی نہیں ہوگی۔ ایسی جنگ کا کبھی بھی آغاز نہیں ہونا چاہیے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے نتائج تباہ کُن ہیں۔ جب تک یہ موجود ہیں ان کا استعمال دفاع کیلئے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کیلئے کیا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ ممالک کے درمیان مذکورہ بالا اتفاق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین سرحد پر نیٹو فوجی تنصیبات میں مصروف ہے جس کی وجہ سے روس اور امریکا کے تعلقات میں انتہائی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے صدر ولادیمیر زیلینسکی کو ٹیلی فونک گفتگو میں یقین دلایا ہے کہ اگر روس نے یوکرائن پر حملہ کیا تو روس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گےعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلینسکی سے ٹیلی فونک گفتگو میں روسی جارحیت کیخلاف اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔

    یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ

    امریکی صدر نے اپنے یوکرائنی ہم منصب سے کہا کہ اگر روس نے یوکرائن پر حملہ کیا تو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گے-

    چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت میں خبردار کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں امریکا اور نیٹو یوکرائن کی مدد کریں گے۔

    قبل ازیں جانب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی دھمکی دی تھی کہ مغربی ممالک ہماری دہلیز پر جارحیت کے بارے میں نہ سوچیں ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے –

    واضح رہے کہ روس نے سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یوکرائن کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا تھا اور اب یوکرائن کو دفاعی اتحاد نیٹو کی رکنیت دینے پر سیخ پا ہے۔

    بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے

    ادھر روس کے رہنما اب بھی سوویت یونین کے خاتمے کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ گذشتہ ماہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے تین دہائیوں بعد بھی یہ سانحہ روسی عوام کے دلوں میں زندہ ہے ہم جسے سوویت یونین کہتے ہیں وہ تاریخی روس تھا۔‘ پوتن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب سوویت یونین کا حصہ یوکرین اب روس کی جانب سے حملے کے خطرے سے دوچار ہے۔

    سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سرد جنگ کا اختتام ہوا اور کوئی بھی ایسا ملک نہ بچا جو امریکی اجارہ داری کا مقابلہ کر سکے اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ دنیا اب ایک ہی ملک میں رائج نظام کے تحت چلے گی۔ تاہم اب ایک نئی سرد جنگ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس مرتبہ امریکہ کا مقابلہ روس نہیں چین کر رہا ہےچین نے اب تک اس ممکنہ یا ‘جاری‘ سرد جنگ کے بارے میں جو بھی کہا ہے یہ صرف امریکہ کے لیے ایک چیلنج نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے روس کے پرانے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا بھی کہا جا رہا ہے۔

    یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

    امریکہ میں چین کے سفیر چن گانگ نے گذشتہ پیر کو ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ اگر نئی سرد جنگ جاری ہے تو چین سوویت یونین نہیں ہے جو ہار جائے گا چن گانگ نے امریکہ کو تنبیہ بھی کی کہ وہ تائیوان کے معاملے میں احتیاط سے کام لے کیونکہ یہ تنازع دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا سکتا ہے۔

    چن گانگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات ہونا بہت مشکل ہیں کیونکہ چین کے جوہری ہتھیار امریکہ کے مقابلے میں بہت کم ہیں چن گانگ کا بیان 24 جنوری کو چینی سفارت خانے کی جانب سے بھی شائع کیا گیا تھا۔ انھیں گذشتہ سال جولائی میں امریکہ میں چین کا سفیر بنایا گیا تھا۔

    گلوان وادی سے چینی فوج کیجانب سے نیو ایئر پر جاری ویڈیو نے بھارتیوں کو آگ بگولہ…

    ان کے بیان کی تفصیل کچھ یوں ہے ایسا کیوں لگتا ہے کہ نئی سرد جنگ واپس آ رہی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں کچھ لوگ سرد جنگ کی ذہنیت کا شکار ہیں اور چین کے ساتھ سوویت یونین جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ لیکن چین سوویت یونین نہیں ہے اور امریکہ وہ نہیں جو 30 سال پہلے تھا لہٰذا دونوں ممالک کا پرامن انداز اپنانا ہی وسیع تر مفاد میں ہے۔

    چن گانگ کا مزید کہناتھا کہ ‘چین نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجوہات کا بغور جائزہ لیا ہے اور اس سے سبق سیکھا ہے انھوں نے کہا کہ ‘چین کی کمیونسٹ پارٹی سوویت یونین کی طرح ضدی نہیں ہے۔ امریکہ اب چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ چین میکسیکو اور کینیڈا کے بعد امریکہ کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے رواں سال دونوں ممالک کی باہمی تجارت 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے-

    صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے…

  • پی ٹی آئی کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس چھپانے کا دعویٰ

    پی ٹی آئی کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس چھپانے کا دعویٰ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اقتصادی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس کے بارے مفصل رپورٹ تیار کی ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 صفحات پر مشتمل مرتب کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے 9 خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے کروڑوں روپے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے چھپائےاور استفسار پر صرف 2 ظاہر کیے گئے مسلم لیگ (ن) 62 کروڑ 98 لاکھ سے زائد رقم اور عطیات کی مد میں 45 کروڑ 61 لاکھ کا ریکارڈ دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ن لیگ کو مختلف ڈونرز سے 27 کروڑ کی مشتبہ ٹرانزیکشنز موصول ہوئیں، محمد حنیف نامی ڈونر کے ذریعے ساڑھے چار کروڑ کی ٹرانزیکشنز ہوئیں بھاون داس کے ذریعے 3 کروڑ، حاجی عارف کے ذریعے 3 کروڑ، یوسف عباس شریف کے ذریعے 6 کروڑ جبکہ چوہدری تنویر کے ذریعے 10 کروڑ کی مشتبہ ٹرانزیکشنز ہوئیں اور تمام مشکوک ٹرانزیکشنز حبیب بینک کے ایک ہی اکاؤنٹ میں ہوئیں۔

    جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

    نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کے مطابق پی ٹی آئی کی فنانشل ٹیم نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اراکین صوبائی اسمبلی سے 82 لاکھ روپے کے فنڈز لیے مگر مسلم لیگ (ن) نے بینک ریکارڈ ظاہر نہ کئے۔

    جسٹس عائشہ ملک کی تقرری، پاکستان بار کونسل کا عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

    پی ٹی آئی کے اقتصادی ماہرین کے مطابق پیپلز پارٹی نے 2013 میں 9، 2014 میں 11 اور 2015 میں 10 اکاؤنٹس ای سی پی سے خفیہ رکھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کو عطیات، پارٹی فنڈز، پارٹی ٹکٹس، ممبر شپ فیس سمیت دیگر مد میں کل 63 کروڑ 91 لاکھ روپے وصول کیے۔

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 2013 میں 12 میں سے 9 اکاؤنٹس کے ذریعے 14 کروڑ سے زائد رقم چھپائی جبکہ 2014 میں 11 خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے 15 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز ظاہر نہیں کیے گئے 2015 میں 10 اکاؤنٹس کو خفیہ رکھا اور 4 کروڑ روپے کے فنڈز ظاہر نہیں کیے اس طرح مجموعی طور پر 34 کروڑ 29 لاکھ 53 ہزار سے زائد کی رقوم کو پیپلز پارٹی نے ای سی پی سے چھپائی۔

    نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ رپورٹ آئندہ روز (4 جنوری) کو الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کرائی جائے گی اور الیکشن کمیشن سے تمام ریکارڈز کا جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ جاری کرنے کی درخواست کی جائے گی الیکشن کمیشن کو درخواست کی جائے گی کہ فارن فنڈنگ کیسز سے متعلق تمام کیسز کو ایک ساتھ سنا جائے اور آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق مساوی سلوک کیا جائے۔

    جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج