Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسمبلی سے منظوری نہ ہو تو رقم نیب ملازمین سے واپس لی جائے،کمیٹی کا چیئرمین نیب کو حکم

    اسمبلی سے منظوری نہ ہو تو رقم نیب ملازمین سے واپس لی جائے،کمیٹی کا چیئرمین نیب کو حکم

    اسمبلی سے منظوری نہ ہو تو رقم نیب ملازمین سے واپس لی جائے،کمیٹی کا چیئرمین نیب کو حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب میں چلنے والے مقدمات پر بات کرنے سے صحافی کو منع کر دیا ،چیئرمین نیب سے صحافی نے سوال کیا کہ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں آپ ڈیلی ویجز چیئرمین نیب ہیں جس پر چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا جن پر مقدمات چل رہے ہو ں ان کے کمنٹس کی کوئی حیثیت نہیں

    چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے جہاں راہداری میں صحافیوں نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین نیب جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی اہمیت مسلمہ ہے ہمیشہ پارلیمنٹ کا احترام کیا ہے اور آئندہ بھی کروں گا ،صحافی نے سوال کیا کہ آپ بہت عرصے کے بعد آئے ہیں ، چیئرمین نیب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آپ نے بلایا ہی بہت عرصے بعد ہے ، مصروفیت کے باعث پارلیمنٹ نہیں آسکا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سلیکٹو احتساب کی بات سو فیصد غلط ہے ایسا احتساب نہ ماضی میں کبھی ہوا نہ مستقبل میں ہو سکتا ہے ۔ صحافی نے سوال کیا کہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توسیع دینے پر بہت تنقید ہو رہی ہے، چیئرمین نے جواب دیا کہ تنقید تو ان پر کریں جنہوں نے آرڈیننس کا نفاذ کیا ہے،صحافی نے سوال کیا کہ نیب پر الزام ہے کہ وہ حکومت کو فیور دیتا ہے،چیئرمین نیب نے کہا کہ پرویز خٹک کے خلاف پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ واضح ہے،

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کا کوئی نمائندہ کرپشن میں ملوث نہیں؟ چیئرمین نیب نے کہا کہ آپ بتائیں کہ ان کے خلاف کتنی شکایتیں آئی ہیں، سوال کیا گیا کہ کیا کابینہ میں بیٹھے لوگوں کی کرپشن آپ کو نظر نہیں آتی؟ جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ کیا سبطین خان اور بلین ٹری پر کارروائی جاری نہیں ہے؟آٹا گندم اسکینڈل کا معاملہ ہمارے پاس نہیں ایف آئی اے کے پاس ہے،

    قبل ازیں رانا تنویر کی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا،کمیٹی نے نیب کے آڈٹ پیراز مالی سال 19-2018 کا جائزہ لیا،چئیرمین نیب کمیٹی کے اجلاس میں موجود تھے ،آڈٹ حکام نے کہا کہ نیب نے منظوری کے بغیر 38 کروڑ روپے خرچ کیے،چیئرمین نیب نے کہا کہ ‏اس سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا، مالی سال کے اختتام سے پہلے آخری سہ ماہی میں رقم منظور کی گئی،سی جی اکاؤنٹ نے کہا کہ ‏یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن بعد میں وزارت خزانہ ریگولر کرتی تھی، اب یہ قانون نہیں ہے، نیب حکام نے کہا کہ ‏یہ مالی سال کے اختتام سے پہلے آخری سہ ماہی میں یہ رقم منظور کی گئی، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹ‏ نے کہا کہ ایساپہلے بھی ہوتا رہا ہے بعد میں وزارت خزانہ ریگولر کرتی تھی، اب قانون نہیں ،رانا تنویر نے ہدایت کی کہ یہ ضروری خرچا تھا کر لیا، اب اسے ریگولرائز کرائیں،اسے منی بجٹ میں ایک ماہ کے اندر ریگولرائز کرائیں، یہ معاملہ سینیٹ کی فائنانس کمیٹی میں زیر غور آیا، وزارت خزانہ نے کہا انہیں 815 بلین کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی، ہم کس قانون کے تحت وزارت خزانہ کو بتائیں؟کیا قانون میں کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ کو بتانا ہوگا؟ 3ارب 60 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ بغیر منظوری استعمال نہیں کی جا سکتی، نیب اور سیکریٹری خزانہ سپلیمنٹری گرانٹ کو ایک ماہ میں قومی اسمبلی سے منظور کروائے، اسمبلی سے منظور نہ ہونے کی صورت میں رقم نیب ملازمین سے وصول کی جائے چیئرمین نیب جنوری کے پہلے ہفتہ پی اے سی کو بتائیں کہ کتنی رقم ملزمان سے وصول کی گئی،،تفصیل بتائی جائے لوٹی ہوئی رقم کتنی تھی، ڈیفالٹ کتنی اور ہائزنگ سوسائٹی سے کتنی وصول کی،

    قبل ازیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین نیب نے شرکت کی مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء خواجہ آصف نے پورے اجلاس میں نہ کوئی سوال پوچھا نہ ہی کوئی ریمارکس دیئے چیئرمین کمیٹی کی جانب سے آئندہ اجلاس کب رکھنے کے سوال پر خواجہ آصف کی جانب سے”فرسٹ ویک”(جنوری کا) کا لفظ ہمیں سنائی دیا ،

    قبل ازیں ن لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ 23مارچ کو روایتی پریڈ ہوتی ہے،اس دفعہ عوامی پریڈ ہوگی ہم پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنائیں گے،چند لوگ کہتے ہیں سڑکوں سے ترقی نہیں ہو سکتی، سڑکیں اور شاہراہیں نہ ہوں تومعیشت ترقی نہیں کر سکتی،عوام کے فیصلے کسی کو بند کمروں میں کرنے نہیں دینگے،ملک کے مستقبل کا فیصلہ 22کروڑ عوام کرے گی ہمارے دور حکومت میں پاکستان پر امن ملک بنا،گزشتہ 3سالوں میں جس طرح واقعات پیش آرہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے،

    ن لیگی قیادت پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والے بدر رشید کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر وائرل

    ن لیگی قیادت پر بغاوت کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ ملزم نکلا

    ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،شہر یار آفریدی

    بشیر میمن کے انکشاف کے بعد عمران خان کیخلاف مقدمہ بنایا جائے،مریم اورنگزیب

    شاہد خاقان عباسی کا وزیراعظم کیخلاف تھانہ شاہدرہ میں غداری کا مقدمہ درج کرانیکا اعلا

    مزار قائد کی بے حرمتی، شیخ رشید بھی میدان میں آ گئے

    کیپٹن ر صفدر نے وزیراعظم کا "سیکنڈل” میڈیا کو بتا دیا

    کوئی شہر ایسا نہیں جہاں میرے خلاف مقدمہ درج نہ ہو،کیپٹن ر صفدر

    میرا باپ کون؟ کیپٹن ر صفدر نے ایسا نام لے لیا کہ مریم بھی ..

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    مریم نواز کو بیرون ملک بھجوانے پر حکومت راضی ہو گئی

    مریم نواز کی گاڑی پر پتھراؤ، شہباز شریف، بلاول بھی میدان میں آ گئے

    تمام گاڑیوں کی فوٹیجز موجود ،پتھراؤ کرنیوالوں کیخلاف کاروائی ہو گی، راجہ بشارت

    نیب دفتر کے باہر ن لیگی کارکنان کی ہنگامہ آرائی پر وزیراعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب

    کیپٹن صفدر کا کورٹ مارشل کرو، اب سب اندرجائیں‌ گے،مبشر لقمان کا اہم انکشاف

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    کیپٹن ر صفدر کا تو کوئی "کردار” ہی نہیں،دلائل سن کر مریم بھی وکیل کا چہرہ دیکھنے لگ گئیں

    نیب کے پاس ریکوری کا ریکارڈ ہے یا نہیں؟ جسٹس ر جاوید اقبال بھی میدان میں آ گئے

  • وزیر اعظم عمران خان کا کرکٹ گراؤنڈ کا دورہ

    وزیر اعظم عمران خان کا کرکٹ گراؤنڈ کا دورہ

    وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ سے گزرتے ہوئےکرکٹ گرائونڈ کا دورہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے گرائونڈ میں انتظامات کا جائزہ لیا اور گرائونڈ کے اطراف درخت لگانے کی ہدایات دیں گراونڈ کے دورے کے دوران عمران خان کے ساتھ معاون خصوصی شہباز گل بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم نے کرکٹ کھیلتے بچوں کے ساتھ ملاقات بھی کی اور ان سے گرائونڈ میں کھیلنے کیلئے انتظامات کے حوالے سے رائے بھی لی، وزیراعظم عمران خان اس سے قبل بھی متعدد بار اس گرائونڈ کا دورہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔

    کھلاڑی مشکل وقت سے گھبراتا نہیں ہے ۔ وزیراعظم

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ‏اسلام آباد میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی لانچنگ تقریب‏ ہوئی تھی جس میں ا 6 ہزار اتھلیٹس اور نوجوان جناح اسٹیڈیم میں موجود‏ تھے،وزیراعظم عمران خان نے جناح اسٹیڈیم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عثمان ڈار کو ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی لانچنگ پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،اسپورٹس نوجوانوں کے لیے بہت ضروری ہے ،جب کھیل کے میدان میں مقابلہ کرتے ہیں تو ہار اور جیت کا طریقہ سیکھتے ہیں ،دلبرداشتہ ہوکر شکست تسلیم کرنا ہی اصل ہا ر ہے،مشکل وقت میں مقابلہ کرنے والا گھبراتا نہیں ،اسپورٹس زندگی کے عملی میدان میں مقابلے کا فن سکھاتی ہے 70فیصد پاکستانی 30سال کے عمر سے کم ہے ،اسپورٹس انسان کی صحت کے لیے اہم ہے ،ہم نے اپنے نوجوانوں کے لیے کھیل کےمیدان آباد کرنے ہیں ،

    تقریریں اچھی کرنے والا لیڈر نہیں ہوتا،اسد عمر

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہم نے 300 کھیل کے میدان بنائے ہیں ،کھیلوں سےانسان کومشکلات سے لڑنا آجاتا ہے،زندگی کے 21 سال انٹرنیشنل اسپورٹس گراؤنڈزمیں گزارے،نئی اسپورٹس کمیٹیوں میں تبدیلی کردی ہے،اسپورٹس کمیٹیوں سے مافیاز نکال دیئے ہیں،‏نیوزی لینڈمیں 22 کروڑ آبادی والے پاکستان سے زیادہ گراؤنڈز ہیں، خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے 300 گراؤنڈ بنا چکے ہیں،کھیل کے میدان میں آپکو جیتنا آتا ہے اور ساتھ ہی آپ ہار کا مقابلہ کرنا بھی سیکھتے ہیں لیکن یاد رکھیں ہارتا وہ ہے جو ہار مان کر دلبرداشتہ ہو جاتا ہے کھلاڑی مشکل وقت سے گھبراتا نہیں ہے۔

    یونیورسٹی آف نارووال میں 86 خاندانوں کامعاشی تحفظ کیوں ضروری؟

  • میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ…سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان جمع کروا دیا

    میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ…سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان جمع کروا دیا

    اسلام آباد: مبینہ بیان حلفی کے معاملے پر توہین عدالت کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت میں پیش ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم کے مبینہ بیان حلفی کی خبرپرتوہین عدالت کے کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں رانا شمیم ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور شوکاز کا جواب داخل کرایا دی نیوزکے ایڈیٹر عامر غوری اور ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصارعباسی بھی عدالت میں پیش ہوئے جب کہ جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی۔

    سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ جواب ابھی تک عدالت میں تو داخل نہیں ہوا۔

    رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    چیف جسٹس نے عدالتی معاون فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ خبرشائع کرنے پرمختلف ذمہ داروں کی کیا ذمہ داری ہے؟ ہم نے صحافت سے متعلق بین الاقوامی معیارات کوبھی دیکھنا ہے۔

    عدالت نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنا جواب جمع کرایا ہے؟ اس پر سابق جج نے جواب دیا کہ میرے وکیل راستے میں ہیں وہ ابھی پہنچنے والے ہیں میں نے چار دن پہلے جواب دے دیا تھا، وہ جواب عدالت میں لطیف آفریدی صاحب کوجمع کرانا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نےعدالتی معان فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ اخبار کی رپورٹنگ کیلئے کیا ذمہ داریاں ہیں؟رانا شمیم نے گزشتہ سماعت پر کہا کہ انہوں نے بیان حلفی اخبار کو نہیں دیا۔کیا کسی ذمہ داری کے بغیر خبر شائع کی جا سکتی ہے؟

    جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ کسی دستاویز کو شائع کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقین سے موقف لینا ضروری ہے۔کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے موقف نہیں لیا گیا۔ رانا شمیم نے کہا کہ یہ خفیہ دستاویز تھا اور اسے شائع کرنے کیلئے نہیں رکھا گیا تھا۔اگر رانا شمیم کا دستاویز پرائیویٹ ہے تو پھر ان پر توہین عدالت نہیں بنتی۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کسی جج کی عزت بچانے کیلئے نہیں ہے ججز پریس کانفرنس نہیں کر سکتے-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے کہا کہ ایک سابق چیف جسٹس نے انکے سامنے اتنا سنگین جرم کیا۔جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر تھے، جب متعلقہ اپیلوں پر سماعت تھی۔ کیا چھٹیوں پر موجود جج نے باقی دو ججز کا بھی سمجھوتہ کرایا؟ بینچ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    ا نہوں نے کہا نواز شریف کی رہائی پر بھی اسی طرح کی خبریں شائع کی گئیں۔ یہ تاثر دیا گیا کہ رہائی الیکشن سے پہلے نہیں ہوئی بعد میں ہوئی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا کہ اس ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سمجھوتہ کیا۔ یہ کیوں ہوا کہ رانا شمیم نے 3 سال بعد بیان حلفی لکھا؟یہ تاثر دیا گیا کہ ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سمجھوتہ کر رکھا ہے۔ اگر ضمیر جاگ گیا تھا تو بیان حلفی کہیں جمع کراتے۔

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میں دعوے اور اعتماد سےکہہ سکتاہوں اس عدالت کے ججزکوکوئی اپروچ نہیں کرسکتا، میں نے اپنی پوری زندگی کسی کو خود تک رسائی نہیں دی میرے دروازے ہر کسی کے لیے بند رہے میں چیف جسٹس ہوں، میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسا جرم کرتا تو مجھے کیا کرنا چاہیے تھا؟یہ ایک مسئلہ ہے جب کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے تو ضمیر نہیں ہوتا،یہ مسئلہ ہے کہ کافی عرصے بعد ضمیر جاگ جاتا ہے-

    عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میرے کسی جج نے کسی کے لیے دروازہ نہیں کھولا، اگر انہوں نےکہیں پر اوریجنل ڈاکومنٹ جمع نہیں کرایا تو وہ عدالت میں پیش کریں، اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس عدالت پرعوام کا اعتماد ختم کیا جائے، کوئی آزاد جج یہ عذر پیش نہیں کرسکتا کہ اس پر کوئی دباؤ تھا۔

    عدالت نے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ پر کوئی دباؤ اس لئے نہیں ڈال سکتا تھا کیونکہ وہ دروازہ نہیں کھولتے تھےاس عدالت کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے کوئی غرض نہیں یہ مسئلہ اس عدالت کے اپیلیں سننے والے بینچ میں شامل ججز پر الزام لگانے کا ہے-جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الزام چیف جسٹس پاکستان کےخلاف نہیں بلکہ اس ہائی کورٹ کےجج کےخلاف ہے، آپ کیاچاہتے ہیں مجھ سمیت تمام ہائی کورٹ ججزکےخلاف انکوائری شروع ہوجائے؟

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    رانا شمیم کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ میرے کلائنٹ نے بیان حلفی کے متن سے کوئی انکار نہیں کیا، اس پر اٹارنی جنرل پاکستان نے سوال کیا کہ یہ بتائیں اصل ڈاکومنٹ خود لارہے ہیں یا پاکستانی سفارت خانے کو دیں گے؟ایڈووکیٹ لطیف آفریدی نے کہا کہ اصل بیان حلفی رانا شمیم کے پوتے کے پاس ہے رانا شمیم کو بیان حلفی لینے باہر جانے دیں جس پرعدالت نے رانا شمیم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رانا شمیم باہر نہیں جا سکتے-لطیف آفریدی نے عدالت سے کہا کہ راناشمیم کے بیٹے کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لطیف آفریدی سے سوال کیا کہ برطانیہ میں کون کیسے ہراساں کر سکتا ہے؟

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اب انہیں بتانا ہو گا کہ پاکستان سے باہر انہیں کون ہراساں کر رہا ہے؟ انہیں بیان حلفی پاکستانی سفارتخانے کو دینا تھا وہ پاکستان آ جاتا -چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پہلے رانا شمیم کو بیان حلفی پیش کر کے اپنی اچھی نیت ثابت کرنی ہو گی پیرتک اصل بیان حلفی پیش نہ کیا گیا توفردجرم عائدکی جائےگی بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان حلفی پر توہین عدالت کے کیس میں اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے جواب میں کہا گیا کہ ثاقب نثار سے گفتگو گلگت بلتستان میں ہوئی جہاں پاکستان کے قوانین لاگو نہیں ہوتے لہذا توہین عدالت کی کارروائی واپس لی جائے ۔بیان حلفی کیس میں رانا شمیم نے تحریری جواب میں کہا کہ میں نے اپنا بیان حلفی پولیس کو بھیجا نہ کسی اور کو بیان حلفی میں بیان کئے گئے حقائق بتانے کو تیار ہوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے حلف نامے کی کاپی جمع کر ارہا ہوں سوشل میڈیا والے حلف نامے کے مندرجات وہی ہیں جو میرے جواب میں ہیں میں قانون کی پاسداری کرنے والا شخص ہوں کبھی عدلیہ کو بدنام کرنے یا مذاق آرانے کا ارادہ نہ تھا نہ ہی کسی عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی حلف نامے میں بیان واقعہ 15 جولائی 2018 کی شام 6 بجے کے پاس کا ہے ،اس وقت میں اور سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار ایک ساتھ چائے پی رہے اور ناشتہ کر رہے تھے میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ اس وقت پیش آنے والی حقیقت کو تحریری طور پر ریکارڈ کراؤں گا حلف نامے کی شکل میں مرحومہ بیوی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا عدلیہ کی تضحیک کا ارادہ ہوتا تو پاکستان میں حلف نامہ میڈیا کو دیتا ، 4 جون 2021 کو اہلیہ کے انتقال کے بعد میرا پہلا غیر ملکی دورہ تھا ۔ امریکہ سے واپس آتے ہوئے دو روز لندن میں رہا جہاں اپنے پوتے سے ملاقات کی جو قانون کا طالبعلم ہے ، میں بیان حلفی کو اپنی زندگی میں عام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اس لئے مناسب سمجھا کہ اپنا بیان ریکارڈ کراؤں اور حلف نامہ پاکستان سے باہر نوٹرائز کراؤں میں نے بیان حلفی پوتے کو دیا اور ہدایت کی کہ اسے نہ کھولے مجھے نہیں معلوم کہ حلف نامہ رپورٹ تک کیسے پہنچا واقعہ گلگت بلتستان کا ہے جہاں پاکستانی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا لہذا توہین عدالت کی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ عدالت کو پریشانی ہوئی تو افسوس کا اظہار کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہوگی عاجزی سے عدالت سے درخواست ہے کہ شوکاز نوٹس واپس لے لیا جائے

    دوسری جانب ایڈوکیٹ جنرل نے خط میں کہا ہے کہ رانا شمیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی زیرسماعت ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ رانا شمیم کو شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہےرانا شمیم کا نام جلد از جلد ای سی ایل پر ڈالا جائے، اگر رانا شمیم بیرون ملک روانہ ہو جاتے ہیں تو عدلیہ کی آزادی پر سنجیدہ سوال اٹھیں گےکیس کی آئندہ سماعت 13 دسمبر کو ہو گی، کارروائی جلد مکمل کی جائے،

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    @MumtaazAwan

  • سیالکوٹ واقعہ:ملک عدنان کو وزیراعظم نے ملاقات کے لئے بلا لیا، آج رات وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے

    سیالکوٹ واقعہ:ملک عدنان کو وزیراعظم نے ملاقات کے لئے بلا لیا، آج رات وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے

    وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعہ میں سری لنکن مینیجر کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کوملاقات کے لیے بلا لیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق ملک عدنان وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل اور اعلی ٰحکام نے ان کا استقبال کیا وزیراعظم عمران خان سے ملک عدنان کی ملاقات کل ہو گی وہ آج رات وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے۔اور ان کے اعزاز میں وزیراعظم آفس میں تقریب کا اہتمام بھی کیا جائے گا تقریب میں ملک عدنان کی سری لنکن شہری کو بچانے کی کاوشوں کو سراہا جائے گا۔

    وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، آرمی چیف کی شرکت،سری لنکن مینجر کے قتل کے ظالمانہ فعل پر تشویش کا اظہار

    یاد رہے کہ وزیراعظم ہاوس میں غیرملکی سربراہان کا قیام کروایا جاتا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر داخلہ شیخ رشید، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اعلیٰ عسکری و سول افسران نے شرکت کی ۔

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    اجلاس میں سری لنکن منیجر کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کی بہادری اور جرأت کی بھی تعریف کی گئی ملک عدنان نے سری لنکن شہری کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی-

    واضح رہےکہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ملک عدنان کو تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ وہ پوری قوم کی جانب سے ملک عدنان کی اخلاقی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرنا چاہتے ہیں ملک عدنان نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی۔

    سیالکوٹ میں تشدد سے ہلاک ہونیوالے سری لنکن منیجر کا پوسٹمارٹم مکمل:پریشان کن حقائق

  • وزیر اعظم  کی زیر صدارت اجلاس، آرمی چیف کی شرکت،سری لنکن مینجر کے قتل کے ظالمانہ فعل پر تشویش کا اظہار

    وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، آرمی چیف کی شرکت،سری لنکن مینجر کے قتل کے ظالمانہ فعل پر تشویش کا اظہار

    وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اجلاس ہوا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر داخلہ شیخ رشید، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اعلیٰ عسکری و سول افسران نے شرکت کی ۔

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سیالکوٹ کی فیکٹری میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے منیجر کے قتل کے ظالمانہ فعل پر تشویش کا اظہار کیا گیااجلاس میں قصور واروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    اجلاس کے شرکا نے مؤقف اپنایا کہ افراد اور ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جائے گا، تمام مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں گی علاوہ ازیں سری لنکن منیجر کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کی بہادری اور جرأت کی بھی تعریف کی گئی۔

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

    اعلامیے کے مطابق ملک عدنان نے سری لنکن شہری کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی اجلاس میں سری لنکن شہری کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ملک عدنان کو تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ وہ پوری قوم کی جانب سے ملک عدنان کی اخلاقی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرنا چاہتے ہیں ملک عدنان نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی۔

    سیالکوٹ میں تشدد سے ہلاک ہونیوالے سری لنکن منیجر کا پوسٹمارٹم مکمل:پریشان کن حقائق

    علاوہ ازیں سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کرنے پر پنجاب حکومت نے ملک عدنان کو انسانی حقوق کا ایوارڈ د ینے کا اعلان کیا تھا صوبا ئی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم کا کہنا تھا کہ ملک عدنان کو 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن پر ایوارڈ دیا جائے گا ملک عدنان نے سری لنکن منیجر کو بچانے کی ہر ممکنہ کوشش کی خوشی ہے کہ ملک عدنان نے انسانیت کی بہترین مثال قائم کی۔

    نعرہ عشق رسول ہی نہیں سیرت رسول کا بھی مطالعہ کرو ازقلم: غنی محمود قصوری

  • مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں،فواد چوہدری ،حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں، فرخ حبیب

    مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں،فواد چوہدری ،حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں، فرخ حبیب

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ 23 مارچ (یوم پاکستان) قوموں کو جوڑنے کا دن ہے توڑنے کا نہیں۔

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم کی جانب سے مارچ کے اعلان پر اپنے ردعمل میں فواد چوہدری نے کہا کہ 23 مارچ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دن ہے مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے مولانا فضل الرحمان کی ساری کوششیں دوبارہ سسٹم میں داخل ہونے کے لیے ہیں۔

    وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ 23 مارچ کا دن قرار داد پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے یہ تاریخ احتجاج کے لیے مناسب نہیں ہے آرپار کی باتیں کرنے والے بری طرح خوار ہوئے ہیں، ان کے پاس کوئی عوامی ایجنڈا نہیں ہے اور آج کا اجلاس بھی چوں چوں کا مربہ بنا ہوا ہے-

    فرخ حبیب نے کہا کہ استعفوں کے معاملے پر آج بھی ان کی لڑائی ہوئی ہے یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف مارچ کریں گے حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں ہے فضل الرحمان کے چہرے پر آج مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے یوم پاکستان پر پی ڈی ایم کے مارچ کی کال کوغیر ذمہ دارانہ فعل قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ مناسب ہو گا کہ پی ڈی ایم مارچ کی کال اپریل میں لے جائے۔

    شیخ رشید احمد نے کہا کہ 23 مارچ کو افواج پاکستان قومی دن پر روایتی پریڈ کرتی ہیں پریڈ میں پاکستانی عوام سمیت غیر ملکی سفرا اور مندوبین بھی شرکت کرتے ہیں پریڈ کی تیاری کے حوالے سے اسلام آباد کو سیکیورٹی الرٹ پر رکھا جاتا ہے جبکہ تیاری کے لیے بعض راستے 2/3 روز قبل بند بھی کردیئے جاتے ہیں ایسے وقت پر مارچ کی کال ملک دوستی نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے 23 مارچ کو اسلام آباد میں مہنگائی مارچ کا اعلان کردیا،پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس آج پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں حکومت مخالف تحریک چلانے اور 23 مارچ کو مہنگائی مارچ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

    پی ڈی ایم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 23 مارچ کو ملک بھر سے کارکنان اسلام آباد پہنچیں گےاس سلسلے میں صوبائی سطح پر اجلاس بلائے جائیں گے عام آدمی کی غربت، بے روزگاری کے حوالے سے بڑا مظاہرہ ہوگا اور صوبائی سطح پر مارچ کیلئے حکمت عملی طے ہوگی۔

    مارچ میں مارچ،کونسی نماز پڑھیں گے اسلام آباد، مولانا کا بڑا اعلان

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں شہبازشریف اور خیبرپختونخوا میں اجلاس کی صدارت کروں گا پی ڈی ایم سندھ کے اجلاس کی صدارت اویس نورانی اور پی ڈی ایم بلوچستان کے اجلاس کی محمود خان اچکزئی کریں گے تمام رہنما اپنے متعلقہ صوبوں سے کارکنوں کو لانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی مارچ سے متعلق سیمینار کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس میں سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کے نمائندگان سے بھی ملاقات کی جائے گی، سول سوسائٹی اور دیگر کمیونٹی کی بھی مشاورت سے ایک بڑا سیمینار منعقد کیا جائے گا۔

    پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 2018ء میں انتخابات کے نتیجے میں عوامی مینڈیٹ سے محروم، دھاندلی سے حکومت وجود میں آئی، یہ حکومت نااہل اور پبلک کی سپورٹ سے محروم تھی.

    بلاول کا سانحہ سیالکوٹ کے مجرموں کو فی الفور سزائیں دینے کا مطالبہ

    ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اجلاس میں اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ بھی زیرغور آیا ہے، یہ کارڈ کب استعمال کریں گے اس کا فیصلہ وقت پر ہو گا دھرنے سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

    یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت آج پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں نے اسلام آباد میں دھرنے کے بجائے ایک روزہ شو کرنے اور کارکنان کو جلسہ کے لیے فوری متحرک کرنے کی تجویز دی تھی۔

    سری لنکا کا پاکستانی کرکٹرز اورکوچزکی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ

    دوسری جانب سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان اسمبلیوں سے فوری استعفوں پر بضد رہے اور کہا کہ اسمبلیوں سے استعفے دے کرعوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہےانہوں نے پی ڈی ایم کی سربراہی سے مستعفی ہونے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آج فیصلہ کریں ورنہ میں سربراہی سے مستعفی ہوتا ہوں اگر آج کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو پی ڈی ایم کی تحریک کا کیا فائدہ ہوگا۔

    گزشتہ روز شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے پی ڈی ایم کے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ اور استعفوں پر اتفاق کیا گیا تھا۔

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس،ورک پلیس پر ہراسمنٹ سے تحفظ کا بل منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس،ورک پلیس پر ہراسمنٹ سے تحفظ کا بل منظور

    اسلام آباد: ایوان بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ورک پلیس پر ہراسمنٹ سے تحفظ کا بل منظور کرلیا ہے،بل کی منظوری سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں دی گئی جو چیئرمین سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسپورٹس اورآن لائن کام کرنے والی خواتین کے تحفظ کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا ہے اور قانون کے دائرہ کارمیں یونیورسٹیاں اور آرٹ اسٹوڈیو بھی شامل کیے گئے ہیں علاوہ ازیں منظور کیے جانے والے بل میں گھروں میں کام کرنے والی خواتین کی ہراسمنٹ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے جو بل منظور کیا گیا ہے اس کے تحت ہراسمنٹ میں ملوث سرکاری ملازم کو نوکری سے برخا ست اور ترقی روکنے کی سزا مل سکتی ہے جب کہ پیشہ ورانہ شعبوں میں ملوث افراد کا بطور سزا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔

    یونیورسٹی آف نارووال میں 86 خاندانوں کامعاشی تحفظ کیوں ضروری؟

    بل میں واضح کیا گیا ہے کہ جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک قابل سزا جرم ہوگا اور ہراسمنٹ کی درخواستوں پر فیصلہ 90 دن میں ہو گا۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ 26 نومبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ترمیمی بل چیرمین کمیٹی اوراپوزیشن اراکان کی فوری پاس کرنے کی مخالفت پرشیریں مزاری اور اپوزیشں اراکین میں تلخ کلامی ہو ئی تھی جبکہ قائمہ کمیٹی نے اسلام چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ ترمیمی بل نیشنل کمیشن ان دا رائٹ آف چائلڈ اسلام آباد بل منظور کر لیا تھا سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس ہوا تھا اجلاس کے ایجنڈے میں جووینائل جسٹس سسٹم (ترمیمی) بل 2021 پر غور شامل تھا۔

    اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری چائلڈ پروٹیکشن (ترمیمی) بل 2021 کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ (ترمیمی) بل، 2021 اور قومی کمیشن برائے حقوق اطفال (ترمیمی) بل، 2021۔

    یہ تمام بل 19 نومبر 2021 کو سینیٹ میں پیش کیے گئے تھے اور ان کا حوالہ دیا گیا تھا تفصیلی غور و خوض کے لیے کمیٹی جوینائل جسٹس سسٹم (ترمیمی) بل، 2021؛ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ پروٹیکشن (ترمیمی) بل 2021 اور نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (ترمیمی) بل 2021 کو کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

    وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں ایم مزاری نے کمیٹی کو ان ترامیم کی نوعیت کے بارے میں بتایا جو کہ معمولی تھیں اور لفظ حکومت کو متعلقہ محکمہ کے ساتھ تبدیل کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا تاکہ تاخیر سے بچا جا سکے اور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر واضح کیا جا سکے۔ امپیکس کیس۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ ترامیم بروقت یقینی بنائے گی کیونکہ معاملات کابینہ کے بجائے متعلقہ وزارت نمٹائے گئےکام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ (ترمیمی) بل کو اٹھاتے ہوئے کمیٹی کے ارکان نے تفصیلی غور و خوض کی ضرورت پر زور دیا جس سے بل پر نظرثانی پر زیادہ وقت صرف کرنا پڑے گا-

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    کمیٹی کے اجلاس میں کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ترمیمی بل پر بحث کے بعد شیریں مزاری نے کہا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق بل پر سیاست کھیلی جا رہی ہے یا کچھ اور ہم سے خواتین نے اس بل میں ترامیم کے لئے رابطہ کیا اور سپریم کورٹ نے بھی تشریح کے لئے کہا تھا ہم نے اپنے طور پر کوشش کر لی ہے اس بل کو بہترین بنانے کے لیے لیکن اب دیکھتے ہیں کہ سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کیا فیصلہ کرتی ہے-

    تقریریں اچھی کرنے والا لیڈر نہیں ہوتا،اسد عمر

    رکن قومی اسمبلی قراتہ العین مری نے کہا تھا کہ بل کو بغیر پڑھے دیکھے بل ڈوز نہیں کرا سکتے اس بل میں گھروں میں کام کرنے والی خواتین کی ہراسمنٹ ک زکر نہیں ہے اس موقع پر شیری مزاری نے کہا تھا کہ بل میں تمام جگہوں پر ہونے والی ہراسمنٹ کا ذکر ہے بل میں ترمیم کا مقصد ہراسمنٹ کے کیسز کے غلط استعمال سے روکنا ہے کنول شوزب کے جوائنٹ سیشن سے متعلق کل کے بیان کو غلط چلایا گیا شیریں مزاری نے بھی اپنے نام موبائل سیم کی ٹھٹھہ میں استعمال ہونے کی تصدیق کر لی میں نے کہا تھا کہ میرے نام سے ایک سم سندھ کے علاقے ٹھٹھہ میں استعمال ہورہی ہے، اس کو چیک کیا جائے اس پر زور دیا گیا کہ قانون سازی میں بے شمار خامیاں ہیں جن کو دور کرنا ہوگا۔

    کھلاڑی مشکل وقت سے گھبراتا نہیں ہے ۔ وزیراعظم

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال نے بل کے خلاف عوامی ہنگامہ آرائی کے پیش نظر خواتین کے حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے مشورہ کرنے کی سفارش کی تھی اسٹیک ہولڈر کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے کہا تھا کہ یہ قانون سازی کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔ کمیٹی نے اس معاملے پر 6 دسمبر 2021 کو عوامی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا اجلاس میں سینیٹر سیمی ایزدی، سینیٹر فلک ناز، سینیٹر قرت العین مری، سینیٹر محمد طاہر بزنجو اور وزارت انسانی حقوق کے سینئر افسران کے ساتھ اس کے متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں نے شرکت کی۔ سینیٹر کیشو بائی خصوصی مدعو تھیں۔ وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں ایم مزاری بھی موجود تھیں۔

    بیٹے کی شادی کی تقریب میں مریم نواز کے گانا گانے کی ویڈیو وائرل

  • مارچ میں مارچ،کونسی نماز پڑھیں گے اسلام آباد، مولانا کا بڑا اعلان

    مارچ میں مارچ،کونسی نماز پڑھیں گے اسلام آباد، مولانا کا بڑا اعلان

    مارچ میں مارچ،کونسی نماز پڑھیں گے اسلام آباد، مولانا کا بڑا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا اجلاس جاری ہے

    پی ڈی ایم اسلام آباد میں دھرنا دینے سے پیچھے ہٹ گئی،مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں نے اسلام آباد میں ایک روزہ شو کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ اسلام آباد میں بھرپور انداز میں احتجاجی جلسہ کیا جائے،ملک بھر سے کارکنان کو جلسہ کے لیے فوری متحرک کرنے کی تجویز دی گئی،

    سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان اسمبلیوں سے فوری استعفوں پر بضد ہیں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا اجلاس میں سخت موقف سامنے آیا ہے ،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں سے استعفے دے کرعوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہے،اگر آج کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو پی ڈی ایم کی تحریک کا کیا فائدہ ہوگا، مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کی سربراہی سے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی اور کہا کہ فیصلہ کریں ورنہ میں سربراہی سے مستعفی ہوتا ہوں،

    اجلاس میں پہلی تجویز آئی کہ اسمبلیوں سے فورا مستعفی ہوجانا چاہیے،دوسری تجویز دی گئی کہ اسمبلیوں سے ساری اپوزیشن مستعفی ہوجائے تو فائدہ ہوگا،تیسری تجویز دی گئی کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کوقومی اسمبلی کا مستقل بائیکاٹ کرنا چاہیے قومی اسمبلی سے بائیکاٹ کے معاملہ پر پیپلزپارٹی اور اے این پی سے رابطہ کیا جانا چاہیے

    پی ڈی ایم اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی ویڈیو لنک کے‌ذریعے شریک ہیں ،پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اسمبلیوں سے فوری استعفوں پر متفق نہ ہو سکیں، اراکین نے رائے دی کہ استعفوں کا معاملہ لانگ مارچ کے بعد زیر غور لایا جائے،پی ڈی ایم نے اسلام آباد میں 3روزہ قیام پر اتفاق کرلیا،پی ڈی ایم نے 23 مارچ کو کارکنوں کو جمع کرنے پر اتفاق کیا،لانگ مارچ کے شرکاء جمعہ کی نماز اسلام آباد میں ادا کریں گے،لانگ مارچ 23 مارچ 2022 کو اسلام آباد پہنچے گا،

    پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب، شہباز شریف کا وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ

    بزدار بڑا کھلاڑی نکلا،کس جماعت کی بڑی وکٹ گرا لی ؟

    ن لیگ کو پنجاب اور پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کردیا ،ترجمان اسلام آباد سیٹ ہارنے کے باوجود نہال

    یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں چیئرمین سینیٹ کے لئے وزیراعظم نے امیدوار کا کیا اعلان

    چیئرمین سینیٹ کا الیکشن، اگلا بڑا معرکہ کب ہو گا؟ تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

    وزیراعظم سے آرمی چیف کے بعد ایک اور اہم شخصیت کی ملاقات، لاہور سے کس کو ہنگامی طور پر طلب کر لیا گیا؟

    ڈر اور کسی خوف میں حکومت نہیں کر سکتا،وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    سینیٹ انتخابات اور اعتماد کے ووٹ کے بعد کابینہ میں رد و بدل کا امکان،ایم کیو ایم کی بھی "ڈومور”

    مریم نواز نے یوسف رضا گیلانی کو مشکل میں پھنسا دیا

    اب نہیں تو کبھی نہیں، گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے بڑا قدم اٹھا لیا

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    ابو نہیں بیٹا بچاؤ مہم آج چلی، شکست پر پاکستانی ٹرمپ کا ردعمل قوم نے دیکھ لیا،مریم نواز

    ہم دیکھیں گے آپ کا وزیراعلیٰ اور اسپیکر کب تک کرسی پر بیٹھیں گے،بلاول

    بزدار کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی،پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کب ہو گی؟ بڑا فیصلہ ہو گیا

    پی ڈی ایم کا فیصلہ کن اجلاس طلب،لانگ مارچ کا اعلان بھی متوقع

  • حامد خان صاحب بے بنیاد الزامات سے گریز کریں، جسٹس عمر عطا بندیال

    حامد خان صاحب بے بنیاد الزامات سے گریز کریں، جسٹس عمر عطا بندیال

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    وکیل حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کیخلاف ریفرنسز کی تفصیل پیش کردی ،وکیل نے کہا کہ پہلے ریفرنس میں سرکاری رہائش پر حد سے زیادہ اخراجات کا الزام لگایا گیا پہلے ریفرنس پر 16 جولائی 2016 کو شوکاز جاری ہوا21جولائی 2018 کو پہلے ریفرنس پر کونسل نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی، 31جولائی کو تقریر والے معاملہ پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا،فیض آباد دھرنا کیس کے حکمناموں پر موکل کیخلاف دو ریفرنس دائر ہوئے،یہ وہ تما کڑیاں ہے جو ریکارڈ پر لانی ہیں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حامد خان صاحب بے بنیاد الزامات سے گریز کریں،

    قبل ازیں گزشتہ روز کی سماعت میں جسٹس مظہر عالم خیل نے استفسار کیا صرف شوکت عزیز صدیقی کو ہی کیوں ٹارگٹ کیا گیا؟ جس پر وکیل حامد خان نے بتایا شوکت صدیقی ایک ادارے کوتنگ کرتے تھےاس لیے ٹارگٹ کیا گیا ،جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کریں آج ہی اپنے دلائل مکمل کر لیں،وکیل صدیقی حامد خان نےعدالت میں جواب دیا کہ آج دلائل مکمل کرنا ناممکن ہے، 6 ماہ بعد میرا کیس لگایا گیا ہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ چھ ماہ کے دوران ہم نے بھی بہت سے اہم مقدمات سنے،16ہزار ملازمین برطرف ہوئے انکا اہم کیس ہم سن رہے ہیں،شوکت عزیز صدیقی روسٹرم پر آگئے ،شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ میں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتا تو کیا ہوتا اس وقت کے ادارے کے سربراہ ثاقب نثار میری گردن کے پیچھے تھے ،اس کے بعد آپ مجھے پھانسی دیں گے تو دے دیں،23سال وکیل، 7 سال جج اور 3 سال بطور سائل ہو گئے ہیں، میں اس نظام کو بہت اچھے سے سمجھتا ہوں،

    جسٹس عمر عطا بندیال نے شوکت عزیز صدیقی پر اظہار برہمی کیا،جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دانستہ خاموشی اختیار کی ہے، جب آپ کے موکل نے عدالت کی تضحیک کی تو آپ خاموش رہے،جس طرح آپ کے موکل پھٹ پڑے یہ ہر لحاظ سے غیر اخلاقی ہے، آپ نے شوکت عزیز صدیقی کی خاموش رہ کر حوصلہ افزائی کی، وکیل حامد خان نے کہا کہ معذرت کرتا ہوں جذبات اکثر آڑے آجاتے ہیں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جذبات کی یہاں کوئی جگہ نہیں، ہمیں یہ انداز پسند نہیں آیا، آپ اپنے موکل کو اجازت دیتے رہے کہ وہ عدالت کی تضحیک کرتے رہیں آپ اپنے موکل کو سمجھائیں کہ جب ان کے وکیل موجود ہیں تو وہ بات نہ کریں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کردی

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی ایک بار پھر عدالت پہنچ گئے

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو خط لکھ دیا

    شوکت عزیز صدیقی نے برطرفی کیخلاف اپیل جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست 28 اپریل کو سپریم کورٹ میں دائر کی تھی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر کی جائے،

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

  • رات سونے سے پہلے یہ کام کر لیں، خاتون رکن کا  قومی سلامتی کمیٹی میں بریفنگ بارے تہلکہ خیز انکشاف

    رات سونے سے پہلے یہ کام کر لیں، خاتون رکن کا قومی سلامتی کمیٹی میں بریفنگ بارے تہلکہ خیز انکشاف

    رات سونے سے پہلے یہ کام کر لیں، خاتون رکن کا قومی سلامتی کمیٹی میں بریفنگ بارے تہلکہ خیز انکشاف

    پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ہوا

    اجلاس کی صدارت اسد قیصر نے کی،اپوزیشن جماعتوں نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا تو دوسری جانب حکومت کا بھی یہ حال ہے کہ متعدد اراکین اجلاس میں نہیں آئے،آئے تو فوری چلے گئے،پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں حکومتی رہنماوں کی بھی عدم دلچسپی دیکھنے میں آءی،کمیٹی رکن شاہ محمود قریشی، اعظم سواتی، طارق بشیر چیمہ تاحال نہ پہنچ سکے ،پرویز خٹک، اسد عمر، حماد اظہر، علی امین گنڈاپور، فخر امام بھی تاحال نہیں آئے

    جی ڈی اے کی سائرہ بانو نے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ بریفنگ دی گئی ہے کہ پانی کا برتن ڈھک کر رکھنا ہے،گیس کا ہیٹر بند کر کے سونا ہےاور دواؤں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں، رات سونے سے پہلے دروازہ بند کر لیں،

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اجلاس میں شرکت کرنی چاہیئے تھی،کورم پورا تھا اس لیے اجلاس منعقد کیا گیا، وزرا آئے تھے، کچھ کو وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں جانا پڑا، مشیر قومی سلامتی نے بہت اچھی بریفنگ دی ہے،

    مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے قومی سلامتی پالیسی ڈرافٹ پر اجلاس کوبریفنگ دی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا ڈرافٹ تیار کیا گیا قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن نے تیار کیا ہے مسودہ میں ملکی سلامتی پالیسی کی گائیڈ لائن شامل ہے ،پالیسی کو وفاقی کابینہ کے اجلاس اور پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا،پالیسی میں معیشت ، فوڈ ، ملٹری ، پانی ، خارجہ ،آبادی اور دہشت گردی سے نمٹنےسے متعلق امور شامل ہیں پالیسی میں کشمیر ایشو ، افغان ایشو اور خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات بھی شامل ہیں نیشنل سیکیورٹی پالیسی میں متعلقہ وزارتیں شامل ، وزارتیں پالیسی پر عمل کرائیں گی

    دوسری جانب اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،اجلاس میں وفاقی وزیر شیریں مزاری اور انوار الحق کاکڑ کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی ہے .اجلاس میں وفاقی وزیر شیریں مزاری کے جبری گمشدگی کے معاملے پر سوالات کئے گئے ،انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ اس طرح کے سوالات کابینہ اجلاس میں پوچھنے چاہیئں، آپ جبری گمشدگی کے معاملے پر چیمپئن بنتی ہیں تو استعفٰی کیوں نہیں دیتیں بی ایل اے کے دہشتگردوں کے ظلم کا شکار ہونے والوں کے خلاف کون بولے گا؟ ایم کیو ایم کے دور میں بھی لوگ لاپتہ ہوتے رہے ان پر کوئی بات نہیں کرتا،

    انوار الحق کاکڑ اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے، اسپیکر نے خاموش کروایا،اجلاس میں شہزاد وسیم، کامل علی آغا، فیصل سبزواری، عالیہ حمزہ ملک نے معید یوسف سے سوالات کئے،مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کمیٹی ارکان کے حساس سوالات کے جواب دینے سے گریزکیا ،ارکان نے معید یوسف سے سوال کیا کہ پالیسیاں پہلے بھی موجود ہیں، عمل کے حوالے سے کیا پلان ہے،معید یوسف نے کہا کہ ہم نے پالیسی بنائی ہے، متعلقہ وزارتوں کی ذمہ داری ہوگی، نیشنل سیکیورٹی پالیسی میں 9 وزارتوں کا اہم کردار ہے، دفاعی سیکیورٹی کے ساتھ انرجی، فوڈ ، اقتصادی اور واٹر سیکیورٹی بھی اہم ہے،

    وزیر مملکت علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی پراپوزیشن سیاست کررہی ہے،سیکیورٹی معاملات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے،عوام نے اپوزیشن کو مسترد کردیا ہے عسکری حکام کی بریفنگ پر اپوزیشن فوری آ جاتی ہےسوال یہ ہے کہ اپوزیشن پھر ووٹ کو عزت دینے والی بات کیوں کرتے ہیں

    وزیرداخلہ شیخ رشید پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اجلاس میں پہنچے تو انہوں نے میڈیا سے بات کی، وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو کل کے الیکشن سے سبق سیکھنا چاہیئے،جہاں انسانی ہمدردی ہو وہاں دس فیصد ووٹ ویسے ہی پڑ جاتے ہیں،ایسا الیکشن زندگی میں نہیں دیکھا، کل کے الیکشن نے ثابت کیا ہے کہ سیاسی جماعتیں صرف میڈیا ہاوسز کے سہارے زندہ ہیں،کل پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ بریانیاں اور حلوے خالی پڑے رہے لوگوں نے منہ نہیں مارا، میں دو دن ڈپریشن میں ہوں، بہت افسوسناک واقعہ ہے،ہم انڈیا پر الزام لگاتے تھے کہ وہاں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک ہوتا ہے، قانون پر عمل دار آمد نہیں ہوگا اور دہشتگردی کے خلاف پکا ہاتھ نہیں ڈالیں گے تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے،

    خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جاؤ،جنید سلیم

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، بڑا مطالبہ سامنے آ گیا

    میرے پاکستانیو….رات کے اندھیرے میں پٹرول بم گرا دیا گیا،ریٹ‌ ڈالر کے قریب پہنچ گیا

    اگر ٹیکس لیتے تو پٹرول کی قیمت 180 ہونی تھی،وزارت خزانہ