Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امریکہ کی پاکستان کو دھمکیاں، لیکن آپ نے گھبرانا نہیں. کیوں، دیکھیں اس ویڈیو میں

    امریکہ کی پاکستان کو دھمکیاں، لیکن آپ نے گھبرانا نہیں. کیوں، دیکھیں اس ویڈیو میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان سے سخت ناراض ہے، اور پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔امریکہ کی ناراضگی پاکستان کو کتنی مہنگی پڑے گی۔ اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں آپ کو ایک بات کہنا چاہوں گا کہ سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں۔ کیوںکیونکہ اس کی وجہ میں آپ کو اس ویڈیو میں بتادوں گا۔ کہ پاکستان کے سامنے دو آپشن تھے ایک پاکستان کی تباہی اور اس کے ٹکڑے اور دوسرا اپنے مفادات کا تحفظ۔۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ Antony blinkinنے گانگریس کے سامنے وہی کچھ کہا جو آپ کو بتایا جا رہا ہے یا صرف گفتگو میں سے ایک فقرہ لے کر پیش کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد میں آپ اصل حقائق سے آگاہ کروں گا کہ پاکستان نے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا اس کے نقصان کے ازالے کا پہلے ہی بندوبست کیا ہو گا۔Antony blinkinجو امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ہیں نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پانچ گھنٹے تک تند و تیز سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آنے والے چند روز یا ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔ اور نئے تعلقات کے تعین کے لیے امریکہ پاکستان کا افغانستان میں گزشتہ بیس سال کا کردار دیکھے گا جبکہ یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ پاکستان افغانستان میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو ہم اس سے مستقبل میں چاہتے ہیں۔جب ٹونی بلنکن سے پوچھا گیا کہ کیا اسے پتا تھا کہ اشرف غنی بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے تو ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ چودہ اگست کی رات کو اس کی اشرف غنی سے بات ہوئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ Fight to the deathاس لیے امریکہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور وہ پندرہ اگست کو بھاگ گیا اور امریکہ کے افغانستان کے انخلا سے دو ہفتے پہلے ہی طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔کانگرس مینBill Keatingنے کہا کہ پاکستان نے دو ہزار دس میں طالبان کوبنایا، انہیں نام دیا اور انہیں ری گروپ ہونے میں مدد دی۔ حقانی گروپ جو امریکیوں کی موت کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے گہرے تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی فتح کوCelebrate کیا اور کہا کہbreaking the shackles of slaveryجبکہ کانگریس مینScott Perryکا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکی Tax payer کے پیسے سے طالبان کو مدد دی، امریکہ کو پاکستان کو مزید رقم نہیں دینی چاہیے اور اس کا Non-Natto ally status کینسل کرنا چاہیے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس گفتگو میں امریکہ میں بھارت کے سفیرTaranjit Singh Sandhuکی بڑے پیمانے پر امریکی کانگریس مین سے ملاقاتوں کا ذکر بھی آیا۔ اور ایک ریپلکن کانگریس مین Mark Greenکا کہنا تھا کہ کیونکہ Isi نے طالبان اور حقانی گروہ کی مدد کی ہے اس لیے امریکہ کو بھارت سے مضبوط تعلقات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔امریکی کانگریس کے ان ارکان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے امریکیوں کو اپنا موقف پہنچانے میں کتنی محنت کی ہے ، اور پاکستان کتنے گانگریس مین سے ملا۔کیا امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے وہاں پاکستان کے امیج اور مجبوریوں کے حوالے سے کچھ نہیں کرنا تھا۔ انہیں افغانستان میں بھارت کے کالے کرتوتوں سے اآگاہ کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ بہر حال آپ نے گھبرانا نہیں۔۔ کیوں میں آپ کو آگے چل کے بتاتا ہوں۔امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے وہ بھی ٹونی بلنکن نے اس سوال جواب کے سیشن میں بتا دیا ہے۔امریکہ نے پاکستان کو کہہ دیا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوشش ہرگز مت کرے۔دنیا کے زیادہ تر ممالک کے ساتھ Line up کرے، اور طالبان کو فورس کرے کہ وہ افغان عوام کے Basic rightsکا خیال رکھے، عورتوں اور بچوں کے حقوق کو شامل کرے، Humanitarian aid کی اجازت دے اور حکومت میں تمام حلقوں کو شامل کرے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک گانگرس ممبر نے کہا کے ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ پاکستا ن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات Complicated ہیں لیکن یہ اکثرDuplicitiousہوتے ہیں جس پر ٹونی بلنکن نے کہا کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں جو کانگریس مین نے پاکستان کے گزشتہ بیس سال یا اس سے بھی پہلے کے کرادار پر تبصرہ کیا ہے۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسیاں کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ہیں اور کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے مطابق ہیں۔یہ پاکستان ہی ہے جو مسلسل افغانستان کے مستقبل پر Bets لگا رہا ہے، یہی طالبان کے ممبر اور حقانی گروپ کی دیکھ بھا ل کر رہا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جو مختلف مقامات پر امریکہ کی مدد اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں Involveرہا ہے۔ پاکستان کا افغانستان میں کردار زیادہ تر بھارت کے خلاف خدشات کی صورت میں ترتیب پاتا ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تمام ممالک بشمول پاکستان، انٹر نیشنل کمیونٹی کی طالبان سے امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اپنا اچھا کردار ادا کرے۔اور ہم اسے پاکستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک نے کہا ہے کہ طالبان کو دنیا تسلیم کر سکتی ہے اورمالی مدد بھی کر سکتی ہے اگر وہ اس بات کی گارنٹی دیں کہ وہ اپنے شہریو ں کو Basic right دیں، جس میں خاتون،بچے اور اقلیتیں شامل ہیں۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی سے بڑے پیمانے پر Line up کرے، اور ان کی امیدوں کو پورا کرے۔ یہ تو وہ باتیں تھی جو امریکی کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان کا موقف کون پہنچائے گا۔ کیا 2004تک پاکستان کی مدد سے امریکہ نے طالبان کی کمر نہیں توڑ دی تھی۔ افغانستان مِن الیکشن کے بعد جمہوری حکومت قائم ہو چکی تھی۔اس وقت طالبان کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آرہا تھا پھرامریکہ نے دوہزار پانچ میں بھارت کے ساتھ سول نیوکلیر ڈیل کا فریم ورک سائن کیا، جب پاکستان نے یہ مطالبہ کیا تو پاکستان کو کہا گیا کہ وہ اس ڈیل کے لیے قابل اعتبار نہیں ہے۔ اپنے ہزاروں لوگ مروا کر، افغانستان میں اپنے مفادات کی قربانی دے کر بھی اگر پاکستان امریکہ کی دوستی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو پھر پاکستان کے پاس امریکہ کی مزید باتیں ماننے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ یہی نہیں امریکہ بھارت کو دوبارہ افغانستان لایا، جس کی پاکستان نے جڑین اکھاڑ دی تھی۔ پھر اس بھارت نے افغانستان میں آکر پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔ امریکہ کی افغانستان میں بنائی ہوئی حکومت صبح شام پاکستان کے خلاف زہر اگلتی تھی، بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان شہروں میں درجنوں کونسلیٹ کھولے ہوئے تھے جو Raw کے ایجنٹوں سے بھرے پڑے تھے۔ بھارت کے66ٹریننگ سینٹر حال ہی میں بند ہوئے ہیں، بھارتی کونسلیٹوں سے اربوں روپے پاکستانی کرنسی کی صورت میں ملے ہیں۔ اسے روکنا کس کی ذمہ داری تھی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے Counter terrorism کے نام پر ہر رات افغانوں کی چادر اور چار دیورای کا تقدس پامال کیا اور افغانوں کے دل میں طالبان کے لیے ہمدردی پیدا کی ۔ کیا یہ پاکستان کا قصور ہے۔کیا پاکستان طاقت ہونے کے باوجود اتنا بے بس ہو جاتا کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیتا۔بھارت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ پشتونستان کا مسئلہ کھڑا کر رہا ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں چلوا رہا ہے۔ تو پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھر کے امریکہ بہادر کی جی حضوری میں کھڑا رہتا۔ یہ امریکہ کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی روس کو ہرا کر ایک دم سے نکل گیا تھا اور پاکستان میں کلاشنکوف کلچر پھیل گیا تھا۔ پھر الٹا پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئی۔ یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے، جب روس کے خلاف جہاد تھا تو اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک تھے تو دنیا نے رزلٹ دیکھ لیا۔ پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں گھسیٹا گیا، پاکستان بلیک واٹر اہلکاروں کی جنت بن گیا۔امریکہ اپنے اٹھارہ بلین ڈالر کو رو رہا ہے کیا پاکستان ان پیسوں کے لیے پاکستان کے ٹکڑے کروا لیتا۔ پاکستان کا نفراسٹرکچر تباہ ہو گیا، پاکستان کی معشیت تباہ کر دی گئی، ایک سو پچاس بلین ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا اور اسی ہزار لاشیں پاکستانیوں نے اٹھائی۔ کیا اٹھارہ بلین ڈالر اس کی قیمت چکا سکتا تھا۔ اس جنگ میں پاکستان نے اپنے جرنیل تک دہشت گردی میں کھودیے، اس کے بعد بھی کیا پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن بچا تھا۔پاکستان کے امریکہ کو چھوڑ کر اپنے مفادات کے تحفط کی کئی وجوہات ہیں‏۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھارت سے جنگ کے دوران امریکی مدد کبھی نہ پہنچی۔ پاکستان کو روس کے خلاف جہاد میں استعمال کر کے نہ صرف امریکہ یہاں سے چپ کر کے نکل گیا بلکہ پاکستان کو الٹا پابندیوں کا نشانہ بنایا۔ اور پھر جب دوہزار ایک میں واپس آیا تو بات کو سمجھنے کی بجائے دھمکیاں دی کہ۔ You r with us or against us. پاکستان کو پتا تھا کہ دوبارہ امریکہ اپنا مطلب نکال کر یہاں سے نکل جائے گا اور پھر وہی ہوا چین کے خلاف امریکہ نے بھارت سے نا صرف ہاتھ ملا لیا بلکہ بھارت کو پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی اجازت بھی دے دی۔امریکہ اس خطے میں بھارت کو اپنا اتحادی بنا کر چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے ایسی صورت میں ایک میان میں دو تلواریں کسی صورت نہیں رہ سکتی۔ امریکہ نے افغان سر زمین افغان طالبان کے لیے تو تنگ کر دی لیکن پاکستانی طالبان کے لیے وہ Safe heaven بن گیا۔ پاکستان بڑے عرصے سے شور مچا رہا ہے کہ امریکہ اپنی زلت آمیز شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ کیا عراق، شام اور دنیا بھر میں امریکی شکست کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے۔ میرا امریکہ کو مشورہ ہے کہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لے۔ امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغان سر زمین پر قدم بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب پاکستان نے طالبان کی مدد ختم کی تو ان کا بھی وہی حال ہوا تھا جو افغان حکومت کا امریکہ کی مدد کے بغیر ہوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن جیسے میں نے آپ کو شروع میں کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں، افغانستان میں طالبان اس وقت مغرب کے لیے وہ کڑوا گھونٹ بن چکے ہیں جسے وہ نہ نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں۔ اگر مغرب طالبان اور پاکستان پر پابندیاں لگائے گا تو انہیں تحفظ فراہم کرنا، اور افغانستان کو دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکنا ہمارے بس میں نہیں رہے گا۔ ابھی کئی مہینے تک تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیےاپنے شہریوں کی افغانستان سے evacuationکے لیے بہت اہم ہے، اس کے بعد دشت گردی کے خلاف آپریشن بھی پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور طالبان کواس بات پر راضی کرنا کہInclusive govtبنائیں شائد پاکستان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکے تو اس لیے ابھی پاکستان دنیا کے لیے بہت اہم ہے اور ایک نیوکلیئر اسٹیٹ کو دنیا اس طرح تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ اس لیے امریکہ دھمکیاں دے گا لیکن اتنا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا ہم ڈر رہے ہیں۔

  • جنوبی وزیرستان میں آپریشن، 5 دہشت گرد مارے گئے، 7 جوان وطن پرقربان

    جنوبی وزیرستان میں آپریشن، 5 دہشت گرد مارے گئے، 7 جوان وطن پرقربان

    راولپنڈی:جنوبی وزیرستان میں آپریشن، 5 دہشت گرد مارے گئے، 7 جوان وطن پرقربان ،اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 7 جوان شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے آسمان منزا میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے 7 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں ممکنہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 2 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے سے ہتھیار اور گولیاں برآمد کرلی گئیں، علاقے میں مزید دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی سے متعلق آپریشن جاری ہے۔گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں کلیئرنس آپریشن کے دوران بارودی سرنگ پھٹنے سے 2 جوان شہید ہوگئے تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شہدا میں 25 سال کے سپاہی ضیا اکرم اور 20 سال کے مصور خان شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے علاقے کا محاصرہ کرکے دہشت گردوں کی تلاش شروع کردی، آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں فرار ہوتے ہوئے ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔

    پی پی پی چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری نے جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے 7 جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے پی پی پی چیٸرمین نے شہید جوانوں کے خاندانوں سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی قربانیاں بے مثال ہیں ،دہشتگردی کے خلاف سینہ سپر جوانوں کے پیچھے پوری قوم متحد کھڑی ہے موجودہ حالات میں دہشتگردوں کی حوصلہ شکنی اور دہشتگردی سے ہمیشہ کے لیٸے جان چھڑانے کے لیٸے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ناگذیر بن چکا نااہل و ناکام ترین حکومت کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے

  • مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر

    مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر

    لاہور:مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر، اطلاعات کےمطابق ابھی تھوڑی دیرپہلے لاہور میں مریم نواز کی زیرصدارت اہم اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں ن لیگ کے رہنما پرویزرشید،احسن اقبال ، رانا ثنااللہ سمیت کئی رہنما شریک جبکہ ش لیگ کے سربراہ شہبازشریف ،حمزہ شہبازاورخواجہ آصف اس اجلاس میں نہیں‌ آئے

    اس اہم اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اب ووٹ کو چوری نہیں ہونے دیں گے، مریم نواز نےکہا کہ پارٹی کو نچلی سطح تک آرگنائز کریں گے انتخابات کیلئے ہر وقت تیار ہیں،

    مریم نوازکی زیرصدارت ہونے والے اس تنظیمی اجلاس میں ن لیگ کے رہنما احسن اقبال، پرویز رشید، رانا ثنااللہ سمیت دیگررہنما شریک ہوئے ، اس اجلاس میں کئی اہم ارکان نے میاں شہبازشریف کی غیرموجودگی کے بارے میں پوچھا توان کوجھاڑپلا دی گئی اوریہ بھی کہا گیا ہےکہ آئندہ جوکہا جائے اس پرعمل کیا جائے اورنوازشریف کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے شریف کی ضرورت نہیں

     

    https://twitter.com/GulHassanKhosa2/status/1438114342474551300

    یاد رہےکہ آج لاہورمیں مریم نواز کی زیر صدارت مسلم لیگ ن ڈی جی خان ڈویژن کا تنظیمی اجلاس کے بارے میں کہا جارہاہے کہ اس اجلاس میں میاں شہبازشریف کوسرسری سی دعوت دی گئی ہے اور”گونگواں تومٹی چاہڑی گئی اے”

    ادھرذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہبازشریف اورحمزہ شہبازنے واضح طوراپنی عزت کومجروح نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہےاورآئندہ سوائے اہم اجلاس میں جانے کے وہ پارٹی کے دیگراجلاسوں میں شرکت نہیں کریں‌گے

  • ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی

    ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی

    اسلام آباد:ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ جن پاکستانیوں‌ پاس ایک سے زائد پاسپورٹ ہیں ان کومختلف اندازسے ڈیل کیاجائے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیرصدارت اجلاس ،ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے والوں سے متعلق آج اہم فیصلے ہوئے ہیں‌، اس حوالے سےوزیرداخلہ شیخ رشید احمد کوبریفنگ دی گئی کہ ماضی میں 6 ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے 12 ہزار پاسپورٹ کی کلیرنس کی جا چکی ہے،

    بریفنگ میں شیخ رشید کو افسران نے بتایا کہ اس ایمنسٹی ا سکیم سے ایک سے زائد نام کے پاسپورٹ رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایاگیاکہ موجودہ قانون میں ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے والوں کی سزا کم از کم 3 سال کی جیل ہے

    شیخ رشید کی صدارت میں اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ ایمنسٹی ا سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے افراد کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا دیئے جائیں گے

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسکیم کے تحت ایک سے زائد پاسپورٹ منسوخ کروانے کیلئے 90 روز کی مہلت دی جائے گی،جبکہ دہرے پاسپورٹ ایمنسٹی ا سکیم کیلئے درخواست گزار کو ایک پاسپورٹ رکھنے کی اجازت ہوگی،

    وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس موقع پر ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو کابینہ کیلئے سمری تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ بہت جلد اس کے نتائج آنے چاہیں .شیخ رشید نے کہا کہ ایمنسٹی کے حوالےسے حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی

    اس موقع پر شیخ رشید کو یہ بھی بتایا گیا کہ دہرے پاسپورٹ سے متعلق درخواستیں پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں،وزارت داخلہ کو دہرے پاسپورٹ کی ایک ہزار 629درخواستیں موصول ہوچکی ہیں،

  • مسجد نبویﷺ میں ڈیڑھ برس بعد آب زمزم کے کولروں کی واپسی

    مسجد نبویﷺ میں ڈیڑھ برس بعد آب زمزم کے کولروں کی واپسی

    مدینہ منورہ میں مسجد نبوری کے امور کی انتظامی ایجنسی نے مسجد کے تمام حصوں میں آب زمزم کے کولروں کو دوبارہ رکھے جانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ” العربیہ ” کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں صحت کے پہلو سے تمام حفاظتی تدابیر اور احتیاطی اقدامات پر عمل درامد کیا جائے گا۔

    یو اے ای نے 15 اداروں سمیت 38 افراد کو بلیک لسٹ کر دیا

    حرمین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی میں ’سقیا زمزم‘ انتظامیہ کے ڈائریکٹر عبدالرحمن الزہرانی کے مطابق زمزم کی لیبارٹری اس پانی کے معیار اور سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم عنصر ہے۔

    پاکستان کے برطانوی ریڈ لسٹ سے باہر نکلنے کے امکانات

    یہ تجربہ گاہ جدید ترین ٹکنالوجی اور آلات سے لیس ہے یہاں متعین خصوصی تکنیکی عملہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف جگہاؤں سے یک دم پانی کے نمونے لے کر ان کی جانچ کرتا ہےالزہرانی نے بتایا کہ گذشتہ برس کے دوران میں آب زمزم کے 7380 نمونوں کی جانچ کی گئی۔

    بغیر اجازت عمرہ کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنا کا اعلان

    واضح رہے کہ کرونا کی وبا کے سبب ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ پہلے ان کولروں کو ہٹا دیا گیا تھا۔

    سعودی عرب: عمرہ زائرین کی یومیہ تعداد بڑھا دی گئی

  • مچھر کاٹے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، آپکی ویکسی نیشن ہو رہی ہے

    مچھر کاٹے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، آپکی ویکسی نیشن ہو رہی ہے

    مچھر کاٹے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، آپکی ویکسی نیشن ہو رہی ہے

    کامسیٹس یونیورسٹی مچھروں کے ذریعے ویکسین لگانے پر کام کررہی ،قائمہ کمیٹی میں انکشاف
    مچھرکو ویکسین لگائی جائے گی اورمچھر جس کوبھی کاٹے گا اس کی ویکسینیشن ہوجائے گی،ریکٹر کامسیٹس
    2018کے بعد پاکستان انجینئرنگ کونسل میں انجینئرز کی رجسٹریشن ہرسال کم ہورہی ہے،حکام
    کمیٹی کا انجینئر کی رجسٹریشن میں کمی پر تشویش کااظہار، وجوہات بتائی جائیں کہ کیوں انجینئرکم ہورہے ہیں ،کمیٹی

    اسلام آباد(محمداویس )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں انکشاف ہواہے کہ کامسیٹس یونیورسٹی مچھروں کے ذریعے ویکسین لگانے پر کام کررہی ہے،جس سے مچھرکو ویکسین لگائی جائے گی اورمچھر جس کوبھی کاٹے گا اس کی ویکسینیشن ہوجائے گی۔کمیٹی نے 2018کے بعد پاکستان انجینئرنگ کونسل میں انجینئرز کی رجسٹریشن کم ہونے پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجوہات بتائی جائیں کہ کیوں انجینئرکم ہورہے ہیں ۔

    بدھ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کااجلاس سردار محمدشفیق ترین کی سربراہی میں اولڈ پپس پارلیمنٹ لاجز میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹر لیاقت خان تراکئی ،ثناءجمالی ،انجینئر رخسانہ زبیری نے شرکت کی جبکہ وزارت کی طرف سے سیکرٹری اختر نزیر ، ریکٹر کامسیٹس نے شرکت کی ۔ ریکٹر کامسیٹس نے کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے کہ کامسیٹس کو 1998 میں بنایا گیا 2000میں ڈگری دینے والا انسٹ ٹیوٹ بنا اور 2018میں یہ مکمل یونیورسٹی بنی اس کی 7کیمپس ہیں۔جن میں سے ایبٹ آباد، اٹک ،اسلام آباد، ساہیول، وہاڑی واہ اور ایک ورچوئل کیمپس ہے۔ چیرمین کمیٹی محمدشفیق نے کہا کہ کوئٹہ میں ایک بھی کیمپس نہیں ہے اس کی کیا وجہ ہے اسلام آباد اٹک اور واہ ساتھ ساتھ کیمپس بنائے گئے ہیں۔ حکا م نے بتایاکہ دنیا میں کامسیٹس میں ہمارا شمار 800 سے 1000 ٹاپ یونیورسٹی میں ہوتا ہے جبکہ ایشاء میں 171نمبر پرہے۔یونیورسٹی نے ابھی تک تین پیٹرن منظور ہوگئے ہیں جن پر کام ہورہاہے۔ طلبہ کو ریسرچ کے لیے تین لاکھ روپے دیتے ہیں۔ کامسیٹس3473 تحقیقاتی پیپرز 2020میں شائع کئے ہیں۔پاکستان کے 15 فیصد تحقیقاتی پیپرز کامسیٹس نے شائع کئے ہیں۔ کامسیٹس کے کل سٹوڈنٹس سٹارٹ اپ 129 ہیں ،کامسیٹس نے 42سٹارٹ اپس کو سپورٹ کیا ہے سٹارٹ اپ بزنس انکوبیشن 30ہیں کیمپس گریجویٹ 40ہیں وہ اب مارکیٹ میں چلے گئے ہیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں بتایا گیا کہ مچھروں کے ذریعے ویکسین لگانے پر کام کررہے ہیں جس کے تحت مچھر کو ویکسین لگائیں گے اس کے بعد مچھر جس کوبھی کاٹے گا اس کی ویکسینیشن ہوجائے گی،ارکان نے اگر مچھر ایک بندے کوزیادہ کاٹے گا تواس کی ویکسین تو ڈبل ہوجائے گی ۔ رخسانہ زبیری نے کہا کہ ایبٹ آباد کیمپس جہاں بن رہاہے اس کے خلاف تین رپورٹ سروے آف پاکستان نے دیئے ہیں کہ یہاں کھائیاں ہیں اس لیے یہاں کیمپس نہ بنائیں۔ حکام نے بتایاکہ جی یہ بات ٹھیک ہے مگر جگہ اہم جگہ پر ہے ۔ریکٹر کامسٹس نے بتایاکہ کامسٹس میں کل 5385 ملازمین ہیں ۔ فیکلٹی 1865اور نان فیکلٹی ملازمین 2326ہے اور فیکلٹی اور نان فیکلٹی کاتناسب 1:24ہے۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ بلوچستان کے لوگ اس میں بہت کم ہیں کوٹے کو فالو نہیں کیا جا رہا ہے اگلے اجلاس میں بتائیں کہ صوبہ وائز کتنے ملازمین یونیورسٹی میںکام کررہے ہیں اس کی تفصیل دیں ۔صوبوں کا کوٹہ ہونا چاہیے صوبوں کے اندر میرٹ ہونا چاہیے داخلوں کانظام تبدیل کیا جائے۔ کامسٹس میں خواتین اور مردوں کے درمیان فرق بہت زیادہ ہے اس کوکم کیا جائے ۔حکام نے بتایا کہ اکامسٹس انجینئرنگ پروگرام زیادہ ہیں جس کی وجہ سے طالبات کی تعداد کم ہے۔کوئٹہ کیمپس کا پی سی ون منظور نہیں ہوا ہے فنڈ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اس پر کام نہیں ہورہاہے بلوچستان حکومت نے 150ایکڑ زمین دی ہے ڈیزائن بن گیا ہے ایچ ای سی اس کو پلاننگ کمیشن نہیں لے کرگئی ہے۔

    ثناءجمالی نے کہاکہ جعفرآباد میں بھی زمین پڑی ہوئی ہے مگر ابھی تک کام نہیں ہورہاہے ۔چیرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ 2015سے منظور ہواہے مگر ابھی تک کام نہیں ہو رہا ہے۔سیکرٹری نے کہاکہ جب تک کوئٹہ کمپس نہیں بنتا ہے اس وقت تک اتنے بچوں کو بلوچستان سے رکھا جائے۔ چیرمین نے کہا کہ آپ کی رینکنگ بہتر ہونے کے بجائے نیچے آرہی ہے اس کی کیا وجہ ہے اس کو بھی دیکھیں۔ چیرمین کمیٹی نے کہاکہ آئندہ اجلاس میں پاکستان انجینئرنگ کونسل چیرمین کوکمیٹی میں آنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ اگلے اجلاس میں چیرمین کو کمیٹی میں خود آنا ہوگا۔حکام نے بتایاکہ 2018 کے بعد پاکستان انجینئرنگ کونسل میں انجینئر کی رجسٹریشن کم ہورہی ہے ۔کمیٹی نے انجینئر کی رجسٹریشن میں کمی پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اس کی وجوہات بتائی جائیں کہ کیوں انجینئرکم ہورہے ہیں ۔

  • وزیراعظم کل تاجکستان کے دو روزہ دورے پر جائیں گے

    وزیراعظم کل تاجکستان کے دو روزہ دورے پر جائیں گے

    وزیراعظم عمران خان 16اور 17 ستمبر 2021 تاجکستان کا دو روزہ دورہ کریں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی دعوت پر 16 تا 17 ستمبر 2021 کو تاجکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ وزیراعظم کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وزارتی وفد بھی ہوگا۔

    وزیر اعظم کا یہ وسطی ایشیا کا تیسرا دورہ ہو گا ، جس میں خطے کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی ہوئی مصروفیت کو واضح کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں عالمی کانفرنس میں شرکت کریں گےذرائع کے مطابق دوشنبے میں دو روزہ کانفرنس 16 اور 17 ستمبر کو ہوگی۔

    ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے بھی ملاقات کریں گے وزیر اعظم افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقات کریں گے۔

    اس سے قبل وہ 13-14 جون 2019 کو بشکیک ، کرغیز جمہوریہ میں منعقدہ SCO-CHS اور 10 نومبر 2020 کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے روس کی میزبانی میں SCO-CHS میں حصہ لے چکے ہیں ۔

    ایس سی او ایک 8 رکنی مستقل بین سرکاری بین علاقائی تنظیم ہے۔ یہ 15 جون 2001 کو شنگھائی میں قائم کیا گیا تھا۔ پاکستان 2005 میں ایس سی او مبصر اور جون 2017 میں ایس سی او-سی ایچ ایس سمٹ کے دوران ایک مکمل رکن بن گیا۔ روس ، چین ، بھارت ، ازبکستان ، قازقستان ، کرغیز جمہوریہ اور تاجکستان ایس سی او کے دیگر رکن ہیں۔

    ایس سی او میں 4 مبصر ریاستیں (ایران ، منگولیا ، بیلاروس اور افغانستان) اور 6 ڈائیلاگ پارٹنرز (آذربائیجان ، آرمینیا ، کمبوڈیا ، نیپال ، ترکی اور سری لنکا) شامل ہیں وزیراعظم اس موقع پر دیگر شریک رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

    ایس سی او-سی ایچ ایس میں شرکت کے بعد وزیر اعظم اس دورے کے دوطرفہ حصے پر ہوں گے۔ تاجک صدر کے ساتھ ان کی بات چیت دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرے گی ، خاص طور پر علاقائی رابطے پر خصوصی توجہ کے ساتھ تجارتی ، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو بڑھانا۔ دونوں ممالک اس سے قبل باضابطہ اسٹریٹجک شراکت داری میں داخل ہونے کے مضبوط عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔

    وزیراعظم پاکستان تاجکستان بزنس فورم کے پہلے اجلاس کا افتتاح بھی کریں گے جس کے لیے پاکستانی تاجروں کا ایک گروپ دوشنبے کا دورہ بھی کرے گا۔ جوائنٹ بزنس فورم بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو متحرک کرے گا اور دونوں اطراف کی تجارتی برادریوں کے درمیان کاروباری روابط کو کاروبار کو فروغ دے گا۔ پاکستان تاجکستان مشترکہ بزنس کونسل کا اجلاس بھی اس موقع پر ہوگا۔

    پاکستان اور تاجکستان مشترکہ عقیدے ، تاریخ اور ثقافت کےبرادرانہ تعلقات کے رشتوں سے جُڑے ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں معاشی ترقی ، امن ، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ خیالات اور مشترکہ خواہش رکھتے ہیں۔

    وزیر اعظم کا دورہ وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کی گہری وابستگی کا ایک حصہ ہے جس میں ‘وژن سینٹرل ایشیا’ پالیسی ہے ، جس نے سیاسی تعلقات ، تجارت اور سرمایہ کاری ، توانائی اور رابطے ، سیکیورٹی اور دفاع کے پانچ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔

  • سیاحتی مقامات پر ائیر سفاری سروس کا اجرا،اب تک کیا ہو چکا؟ وزیراعظم کو بریفنگ

    سیاحتی مقامات پر ائیر سفاری سروس کا اجرا،اب تک کیا ہو چکا؟ وزیراعظم کو بریفنگ

    سیاحتی مقامات پر ائیر سفاری سروس کا اجرا،اب تک کیا ہو چکا؟ وزیراعظم کو بریفنگ
    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے سیاحت کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین، معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان و دیگر صوبائی حکام بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے، اجلاس میں ملک بھر کے سیاحتی مقامات کے فروغ کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا،اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں چار سیاحتی مقامات کے لئے سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور منیجمنٹ کے لئے بین الاقوامی ادارے کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔ اسی طرح صوبہ سرحد میں بھی چار انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز کے ماسٹر پلان کے مسودے تیار کیے جا چکے ہیں جن کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں سیاحت کے حوالے سے ذیلی قوانین اور ریگولیشنز کو حتمی شکل دی جا چکی ہے اور جلد ان کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا جبکہ خیبرپختونخواہ میں ان کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے

    وزیرِ اعظم کو اٹک اور بالا حصار قلعے کو سیاحتی مراکز بنانے کے حوالے سے پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ سیاحتی مقامات پر ائیر سفاری سروس کے اجراء کے لئے سول ایوی ایشن کی جانب سے اپنے قواعد مین ترمیم کی جا چکی ہے اور اس کے نتیجے میں نجی شعبے کے لئے بے شمار مواقع پیدا ہو چکے ہیں۔ اجلاس کو مختلف سیاحتی مقامات کے لئے ڈیسٹی نیشن منیجمنٹ پلان کی تیاری کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے چاروں صوبوں میں سنٹرلائزڈ ٹورازم ویب سائٹ مکمل طور پر فعال ہے۔ گورنمنٹ ریسٹ ہاؤسز اور گورنر ہاؤسز کو عوام کے لئے دستیاب کرنے کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی

    فواد چودھری، تھپڑ کے بعد صحافیوں کو دھمکیاں، ،متنازعہ ترین بیانات،کیا واقعی کرائے کا ترجمان ہے؟

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    پارلیمنٹ سپریم، شہبازشریف گھٹنے نہ پکڑیں سیدھا راستہ پکڑیں، بابر اعوان

    پاکستان ریلوے کا سیاحت کے فروغ کے لیے بڑا اقدام

    گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی و فروغ کیلئے وزیراعظم کی وزیراعلیٰ گلگت کو اہم ہدایات

    پاک فوج کا سیاحت کے فروغ کیلئے شاندار قدم،وادی ناران میں شاندار ہیلی سکیئینک ایونٹ کا انعقاد

    دہشتگردی پر قابو پانے سے سیاحت کو فروغ ملا،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاحت کا بے شمار پوٹینشل موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پوٹیشنل کو مکمل طور پر برؤے کار لایا جائے اور سیاحتی مقامات پر بین الاقوامی معیار کی سہولتوں کو یقینی بنایا جائے۔وزیرِ اعظم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سیاحتی مقامات پر ٹورسٹ ریزاٹ اور بین الاقوامی معیار کے ہوٹل قائم کرنے والوں کے لئے حکومت کی جانب سے سہولیات بشمول ٹیکس میں چھوٹ پر مبنی تجاویز پیش کی جائیں تاکہ ان کو جلد از جلد حتمی شکل دی جا سکے۔ وزیر اعظم نے جہلم اور اس کے اطراف میں واقع ریسٹ ہاؤسز و دیگر تاریخی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان عمارات کی بحالی کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو برؤے کار لایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ سیاحت کے حوالے سے زیر التوا معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

  • اسلام_مخالف_بل_نامنظور ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    اسلام_مخالف_بل_نامنظور ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ان دنوں مذہب کی جبری تبدیلی کے ایک قانونی بل کے مسودے کا چرچا ہے وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل شیریں مزاری کی وزارت انسانی حقوق سے بھی مجوزہ بل کا مسودہ مانگ رہی ہے مگر اس وزارت کے طاقتور اہلکاروں کا موقف ہے کہ وہ یہ مسودہ دینے کے پابند نہیں‘ مجوزہ بل کے ذریعے کسی بھی غیر مسلم کے قبول اسلام کو جرم قرار دینے اور کسی غیر مسلم کو بذریعہ تبلیغ‘ نصیحت و حسن اخلاق اسلام کی طرف راغب کرنے والے شخص کو اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کی آڑ میں سزا دلانے کا پکا بندوبست کیا گیا ہے۔

    چند برس قبل سندھ اور پھر رحیم یار خان میں عاقل بالغ ہندو خواتین نے اسلام قبول کرکے مسلم نوجوانوں سے نکاح کیا‘ جس پر غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی این جی اوز نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اسے مذہب کی جبری تبدیلی کا نام دے کر اندرون و بیرون ملک مہم چلائی۔ متاثرہ خاندان کے علاوہ سندھ کے متمول ہندو سیاستدانوں اور ارکان اسمبلی نے بھی اس مہم کی حوصلہ افزائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے فی الفور واقعہ کا نوٹس لیا اور ان خواتین کو ریاستی طاقت سے اپنے والدین اور آبائی مذہب کی طرف لوٹ جانے پر آمادہ کیا گیا مگر پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں ان خواتین نے قبول اسلام کا دفاع کیا اور ثابت ہوا کہ ان خواتین نے کسی دبائو‘ لالچ کے تحت نہیں‘ اپنی خوشی سے اسلام قبول اور مرضی سے نکاح کیا۔

    تاہم چند ارکان پارلیمنٹ نے مل جل کر ایک غیر سرکاری بل پیش کردیا سینٹ کی مجلس قائمہ نے سینٹر انوارالحق کاکڑ کی سربراہی میں ملک بھر سے حقائق اور اعداد و شمار جمع کئے تو یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ سندھ سمیت کسی صوبے میں مذہب کی جبری تبدیلی کا ایک بھی واقعہ منظر عام پر نہیں آیا‘ البتہ پسند کی شادی کے لیے مذہب تبدیل کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

    مذہب کی جبری تبدیلی کے سدباب کے لیے انسانی حقوق کی وزارت اور سینٹ کی مجلس قائمہ نے جس کے سربراہ ان دنوں لیاقت ترکئی ہیں جو مجوزہ بل تیار کیا ہے اس میں لکھا گیا ہے کہ : ’’ کوئی بھی غیر مسلم، جو بچہ نہیں ہے 18 سال سے زیادہ عمر والا شخص، اور دوسرے مذہب میں تبدیل ہونے کے قابل اور آمادہ ہے، اس علاقہ کے ایڈیشنل سیشن جج سے تبدیلی مذہب کے سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گا‘ جہاں عام طور پر غیر مسلم فردرہتا ہے یا اپنا کاروبار کرتا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج مذہب کی تبدیلی کے لیے درخواست موصول ہونے کے سات دن کے اندر انٹرویو کی تاریخ مقرر کرے گا۔ فراہم کردہ تاریخ پر، فرد ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہو گا جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مذہب کی تبدیلی کسی دبائو کے تحت نہیں اور نہ ہی کسی دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی وجہ سے ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج غیر مسلم کی درخواست پر اس شخص کے مذہبی اسکالرز سے ملاقات کا انتظام کرے کا جو مذہب وہ تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج مختلف مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے اور ایڈیشنل سیشن جج کے دفتر واپس آنے کے لیے غیر مسلم کو نوے دن کا وقت دے سکتا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج، اس بات کو یقینی بنانے کے بعد کہ یہ شرائط پوری ہو جائیں، مذہب کی تبدیلی کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔‘‘ ’’جبری مذہب کی تبدیلی میں ملوث فرد کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال تک قید کی سزا اور جرمانہ ہو گا۔

    مذہب کی تبدیلی کے لیے مجرمانہ قوت کا استعمال اس شخص کے خاندان، عزیز، برادری یا جائیداد کے خلاف ہو سکتا ہے بشمول شادی۔ جو شخص (شادی) انجام دیتا ہے، کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے یا کسی بھی طرح سے شادی میں سہولت فراہم کرتا ہے‘ اس بات کا علم رکھتے ہوئے کہ یا تو دونوں فریق جبری تبدیلی کے شکار ہیں وہ کم از کم تین سال قید کے مجرم ہوں گے۔اس میں کوئی بھی شخص شامل ہوگا جس نے شادی کی تقریب کے لیے لاجسٹک سپورٹ اور کوئی دوسری ضروری خدمات وغیرہ فراہم کی ہوں۔ مذہب کی تبدیلی کی عمر: کسی شخص کے بارے میں یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنا مذہب تبدیل کیا ہے جب تک کہ وہ شخص بالغ (18 سال یا اس سے بڑا) نہ ہو جائے۔ جو بچہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے اپنے مذہب کو تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا مذہب تبدیل نہیں سمجھا جائے گا۔

    پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے خواہش مند عمران خان کے دور حکومت میں مجوزہ بل منظور ہو گیا تو 18 سال سے کم عمر کا کوئی غیر مسلم اسلام قبول نہیں کرسکتا اور زیادہ عمر کے شخص کو قبول اسلام کے بعد تین ماہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرنا پڑے گا تاکہ وہ اپنے ارادے سے باز آئے اور باطل مذہب پر قائم رہ سکے۔ انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور دیگر کئی ممالک میں کثیر تعداد نے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کئے بغیر محض مسلمان تاجروں کے حسن عمل اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا‘ جو مجوزہ بل کی روشنی میں ناقابل قبول عمل ہے جبکہ اس بل نے غیر مسلموں کے لیے تبلیغ اسلام کا راستہ بھی بند کردیا ہے۔

    وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل اب تک اس بل کی منظوری میں حائل ہیں مگر طاقتور لابی ان دونوں سے بالا بالا غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کے نام پر سینٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کی مہم چلا رہی ہے-

    تاہم سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بل کے خلاف ایک مہم چالئی جا رہی ہے اور ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ اسلام_مخالف_بل_نامنظور سرفہرست ہے جس میں صارفین ا س بل کے خلاف ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس بل کو ختم کرنے اور پاس نہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں-


    https://twitter.com/MahnoorRizwan14/status/1438034806181400577?s=20
    https://twitter.com/Va_Leed/status/1438034790024945670?s=20
    https://twitter.com/AzeemAmeen14/status/1438034676875149315?s=20


    https://twitter.com/shahidchoudhrey/status/1438034292559523842?s=20
    https://twitter.com/RealNaumanRind/status/1438034201455079428?s=20
    https://twitter.com/GulfamRaza92/status/1438033199842697216?s=20


    https://twitter.com/AsifBai91498077/status/1438032896116281345?s=20


    https://twitter.com/Sharazi007/status/1438027524026638337?s=20
    https://twitter.com/Muhamma58791434/status/1438027453755236353?s=20

  • طالبان کا خوف،مودی نے سعودی عرب سے مدد مانگ لی؟ سعودی شخصیت کا دورہ بھارت متوقع

    طالبان کا خوف،مودی نے سعودی عرب سے مدد مانگ لی؟ سعودی شخصیت کا دورہ بھارت متوقع

    طالبان کا خوف،مودی نے سعودی عرب سے مدد مانگ لی؟ سعودی شخصیت کا دورہ بھارت متوقع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی اہم شخصیت آنے والے دنوں میں بھارت کا دورہ کرنے والی ہے

    سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان رواں ماہ بھارت کا دورہ کریں گے، اس دورے کے دوران انکی بھارتی ہم منصب سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ہوں گی ،سعودی وزیر خارجہ بھارتی وزیراعظم مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے بھی ملاقات کریں گے، افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سعودی وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کو بھارتی تجزیہ کار اہمیت دے رہے ہیں

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد مودی سرکار کی افغانستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری اور دہشت گردی کے لئے لگائے جانے والے فنڈز اور پاکستان کے خلاف سازشوں پر پانی پھر چکا ہے اور بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کو اب یہ خوف سوار ہے کہ کہیں افغان طالبان کشمیر کی طرف نہ آ جائیں، اس ضمن میں مودی سرکار کئی اجلاس کر چکی ہے، مودی کی زیر صدارت بھی ایک اجلاس ہوا تا ہم مقبوضہ جموں کشمیر میں افغان طالبان کو لے کر کم از کم ایک درجن کے قریب سیکورٹی حکام کے اجلاس ہو چکے ہیں

    باخبر ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے کشمیر کی طرف افغان طالبان کوآنے سے روکنے کے لئے سعودی عرب اور قطر سے مدد مانگنے کا فیصلہ کیا ہے، اسی ضمن میں جب سعودی وزیر خارجہ بھارت آئیں گے تو مودی سرکار کا سب سے پہلا ایجنڈا یہی ہو گا کہ طالبان کے ساتھ ہمارے تعلقات ٹھیک کروا دیں اور انہیں کشمیر کی طرف نہ آ نے دیں، بھارت قطر کے ساتھ بھی ایسی ہی بات کر چکا ہے، قطر نے ابھی تک بھارت کو کوئی جواب نہیں دیا

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ 19 ستمبر تک بھارت کا دورہ کر سکتے ہیں، سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کے اگلے روز ہی مودی اعلیٰ حکام کے ساتھ نیویارک روانہ ہوں گے

    دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق مودی اور اسکی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان حکومت بنا لیتے ہیں تو انکے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کئے جائیں گے تا ہم افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا، اس ضمن میں مودی کو اسکے مشیروں نے مشورہ دیا ہے کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کو دیکھ کر پھر ہی بھارت کوئی فیصلہ کرے،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار ضرورت پڑنے پر طالبان حکومت سے رابطہ کرے گی اور ممکنہ طور پر یہ رابطہ کسی دوسرے ملک کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے، مودی کی خواہش ہے کہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جائیں تا کہ بھارت کو کوئی خطرہ نہ ہو ،دوسری جانب مودی کو اسکے ایڈوائیزر محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں،

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

    کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

    افغانستان سے غیر ملکی صحافیوں کا انخلا ،وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس

    افغان طالبان نے حکومت سازی کے حوالہ سے اہم اعلان کر دیا

    مودی افغان طالبان کے سامنے "جھکنے” کو تیار

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    واقعی طالبان کشمیر پہنچ گئے؟ بھارتی فوج کی دوڑیں لگ گئیں

    افغان طالبان کا خوف یا کچھ اور، مودی سرکار کی نئی چال سامنے آ گئی