Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    اسلام آباد (محمداویس ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی میں انکشاف ہواہے کہ چینی سفیر نے شکوہ کیا ہے کہ تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا ہے ،چینی کمپینوں کی بات کوئی نہیں سنتا وہ رورہے ہیں ،شعبہ توانائی کے منصوبوں میں حکومت کی طرف سے 1عشایہ 2ارب ڈالر کی عدم ادائیگی پر چینی کمپنیوں نے کام روک دیا ہے۔وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے کمیٹی کوبتایا کہ سی پیک پر جتنا کام ہوناچاہیے تھا وہ نہیں ہوا ،مختلف منصوبے اب پی پی پی موڈ میں لے کرجا رہے ہیں ۔حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ گوادر میں وکیشنل ٹریننگ سنٹر بن گیا ہے مگر وہاں سٹاف نہیں ہے۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ گوادرکے عوام کوصاف پانی دستیاب نہیں ہے پانی کے بغیر کوئی منصوبے نہیں لگ سکتا سب سے پہلے پانی کا بندوبست کیاجائے ۔کمیٹی نے سی پیک منصوبوں کی پیش رفت پر عمل درآمد کے لیے گوادر کا دورہ کرنے کافیصلہ کیا۔

    باغی ٹی وی کے اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلا س چیرمین سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں ہوا ،اجلاس میں سینیٹردنیش کمار،سینیٹر طاہر بزنجو،سینیٹرپلواشہ،سینیٹر ہدایت اللہ نے شرکت کی ۔اجلا س میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر ،معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے شرکت کی ۔چیرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چینی سفیر نے میرے ساتھ ملاقات میں کہا کہ تین سال سے سی پیک کوبند کیا ہوا ہے سی پیک منصوبوں کا بیڑاغرق کردیا گیا ہے چینی کمپینوں کے ساتھ بھی رویہ ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کومسائل ہیں توانائی شعبے کے منصوبوں کی 1عشاریہ 2ارب ڈالر حکومت نے چینی کمپنیوں کوادائیگی کرنی ہے ادائیگی نہ ہونے پر چینی کمپنیوں نے توانائی کے شعبوں پر کام بند کردیا ہے اور کہا ہے کہ جب ادائیگی ہوگی توکام کریں گے ۔

    وفاقی وزیراسد عمر نے کہا کہ سی پیک کے جو منصوبے لگے ہیں وہ پاکستان کے لیے ہیں سی پیک میں کام زیادہ ہونا چاہیے خصوصی طور پر سی پیک پر کام بلوچستان میں زیادہ ہوا ہے۔بلوچستان کے لیے 560ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام شروع اس حکومت نے کئے ہیں ۔بلوچستان کو زیادہ فائدہ انڈسٹری زون سے ہوگا۔ گوادر میں بھی انڈسٹری زون بنایا جائے گا۔وہاں پر سرمایہ کاروں کو لانا ہمارے لیے چیلنج ہے زراعت پر کام کررہے ہیں۔ میرانی ڈیم کے ساتھ زراعت کے حوالے سے کام ہورہا ہے۔سینیٹردنیش کمار نے کہاکہ گوادر کے عوام کو پانی دینا کس کی ذمہ داری ہے کیا چین سے یہ نہیں کہے سکتے ہیں کہ آپ پانی کا منصوبہ گوادرمیں بھی لگائیں۔ اسد عمر نے کہا کہ گوادر میں صاف پانی دینا بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے۔چین کی ذمہ داری نہیں ہے کہ پانی دے گوادر پاکستان کاحصہ ہے۔ ترقیاتی بجٹ کی منظوری این ای سی کی منظوری سے ایوان میں لاتے ہیں منظوری کے بعد ہم تبدیلی نہیں کرسکتے ہیں۔ بلوچستان کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے اس میں سب سیاسی جماعتیں موجود ہیں وہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں اپنی سفارشات دیتے ہیں۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کرنیوالا گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

    کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت، ڈی جی آئی ایس پی آر سب کچھ سامنے لے آئے

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سینیٹرطاہر بزنجو نے کہا کہ صنعتی زون پانی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔بجلی گھر سے بلوچستان کو فائدہ نہیں ہے کیونکہ ٹرانسمیشن خراب ہے ۔گوادر میں پانی پینے کے قابل نہیں ہے گوادر کے عوام کو ائیرپورٹ سے زیادہ ضرورت صاف پانی کی ہے اس سے وہ خوش ہوں گے۔ مچھلیاں پکڑنے کے غیرقانونی ٹرالر نے مائی گیروں کی روٹی چھین لی ہے۔ غیر قانونی ماہی گیری میں افسران اور بڑے لوگ ملوث ہیں۔ بلوچستان کے لیے فنڈ دیئے جاتے ہیں عمل نہیں ہوتا ہے موٹروے دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں کیوں نہیں بن سکتی ہے۔ کراچی سے چمن جانے والی سڑک پر ہر سال 4ہزار لوگ حادثات میں مرجاتے ہیں۔35سال پہلے یہ ہائی وے بنایا گیا اب یہ بلوچستان کی مصروف ترین شاہراہ ہے۔وفاقی وزیراسد عمر نے کہاکہ کراچی سے چمن تک شاہراہ کو پی پی موڈ میں بنایا جارہاہے ایک حصہ پی ایس ڈی پی میں شامل ہے۔ مشرف بھی بنانا چارہاتھا مگر نہیں بناسکے۔ وفاقی حکومت اربوں روپے گوادر میں پانی کے لیے خرچ ہوچکے مگر پانی نہیں مل رہا اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے پانی مہیا کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ گوادر نیشنل گریڈ کے ساتھ منسلک ہی نہیں ہے۔ایران سے بھی اضافی بجلی لینے جارہے ہیں۔ گوادر کو نیشنل گریڈ سے منسلک کررہے ہیں۔

    معاون خصوصی سی پیک خالد منصور نے کہاکہ گوادر کے پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دومزید ڈیموں سے لائن گوادر لانے کا منصوبہ ہے۔ گوادر میں 14گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ۔ گوادرمیں پانی کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ چینیوں کی سیکورٹی کے لیے اقدامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں سخت سیکورٹی کی وجہ گوادر میں خود کش حملہ آور چینیوں کے پاس نہیں پہنچ سکا۔جس کی وجہ سے کوئی چینی جان بحق نہیں ہوا۔چین پاکستان کے سیکورٹی انتظامات سے مطمئن ہے۔

    چیرمین کمیٹی نے انکشاف کیاکہ چینی سفیر مجھے شکایت کی ہے کہ تین سال میں سی پیک کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے چینی کمپنیاں بھی خوش نہیں ہیں کہ سی پیک کو بند کردیا گیا ہے پتہ نہیں چینی سفیر آپ سے ملاقات میں کیا کہتا ہے ۔خالد منصور نے کہا کہ چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کررہا ہوں اور ان کے مسائل بھی حل کررہا ہوں۔ وکیشنل ٹریننگ سنٹر گوادر میں بن گیا ہے مگر استاد نہیں ہیں۔ گوادر ہسپتال بن رہاہے مگروہاں ڈاکٹروں و سٹاف کی تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہورہاہے اس طرح ہسپتال بن جائے گا مگر کوئی ہوگا نہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ گوادر میں ماں بچے کا ہسپتال ہی نہیں ہے جہاں ڈلیوری کی سہولت ہو۔سی پیک حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے کا 6فیصد کام رہتا ہے اکتوبر یہ موٹروے کھل جائے گا۔

    سینیٹرہدایت اللہ نے کہاکہ ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے میں جب میں اس کمیٹی کاچیرمین تھا اس وقت بھی 6فیصد کام رہتاتھا اب بھی اتنا رہتا ہے اس کی کیا وجہ ہے یہ مکمل کیوں نہیں ہورہاہے ۔کمیٹی نے سی پیک مغربی روٹ پر کام کرنے والے کنٹریکٹر کی لسٹ مانگ لی۔چیرمین نے کہاپاکستان میں کام کرنے والے چائینز رورہے ہیں۔خالد منصور نے کہاکہ 1.2ارب ڈالر ادائیگی چین کے کمپنیوں کو ادائیگیاں کرنی ہیں جس کی وجہ سے کچھ پروگرام رکھے ہوئے ہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جب تک پاور کے منصوبوں کے لیے 1.2ارب ڈالر ادا نہیں کریں گے کام شروع نہیں ہوگا۔ایم ایل ون اہم منصوبہ ہے۔چین کہتا ہے کہ 9ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور پاکستان کہتا ہے کہ 6ارب کا منصوبہ ہے۔جس کی وجہ سے اس کے لون کی منظوری نہیں ہورہی ہے۔دوسری طرف وزیر ریلوے اعظم سواتی کہتے ہیں کہ ریلوے کو ہی بند کردیں ۔حکام سی پیک نے کہاکہ ایم ایل ون پر ابھی کوئی کام شروع نہیں ہوا لون کی منظوری ہوگی تو اس پر بیڈز جاری کریں گے۔پاکستان میں 137چینی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ان کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

  • فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبریں تو بہت ہیں لیکن اس حکومت کے لیے مسئلہ نمبر ون میڈیا بنا ہوا ہے ۔ آج کی بھی خبریں اور وزراء کے بیانات صرف یہ ہی تھے کہ کیسے بے لگام میڈیا کو لگام ڈالی جائے ۔ یہ حکومت اپنی کارکردگی ، وزراء اور مشیروں کا احتساب کرنے کو تیار نہیں ۔ پر میڈیا کے ہاتھ پاوں باندھا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ معیشت کو ٹھیک کرنے اور پاکستان کو پتہ نہیں کیا بنانے کے جو دعوے کیے جاتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی اعلی کارکردگی سے ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 170روپے کے قریب پہنچ گیا ۔ جس سے سٹاک مارکیٹ میں 1کھرب ڈوب گئے ہیں ۔ جی ہاں ایک کھرب روپے ۔ یہ وہ خبر ہے جو حکومت سمجھتی ہے کہ فیک نیوز ہے ۔ ایسے جب پیڑول ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے تو حکومت سمجھتی ہے کہ یہ بھی فیک نیوز ہے ۔ بجلی آٹے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو بھی حکومت فیک نیوز کی نظر دے دیکھتی ہے ۔ حقیقت اور کھرا سچ یہ ہے کہ یہ حکومت ہی فیک ہے۔ اس کے کنڑول میں نہ تو اس کے اپنے وزیر ہیں نہ ہی بیوروکریٹ ۔ اور مافیاز تو اس حکومت کو استعمال کرتے ہیں ۔
    ۔ ان کو کنٹرول کرنا اس حکومت کے بس میں نہیں یہ سچ آپ بتائیں گے تو آپکو غداری سے لے کر پٹواری جیالے سمیت پتہ نہیں کیا کیا طعنے دیے جائیں گے ۔ آپکو کہا جائے گا کہ آپ بھارت چلے جائیں ۔ آپ ایجنٹ ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی اور کرائم بڑھ رہا ہے ۔ آپ کہیں گے کہ عثمان بزدار اورمحمود خان ٹکے کا کام نہیں کررہے۔ تو یہ اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں آپکے پیچھے لگا دیں گے جو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آپکو لعن طعن کریں گے ۔ یہ آپکو لفافہ کہیں گے ۔ یہ آپکو ننگی گالیاں دیں گے ۔ یہ آپکی ایسی کردار کشی کریں گے کہ آپ اپنی ہی نظروں میں گر جائیں گے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے رتی برابر بھی نہ خوف ہے نہ ڈر ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غلط استعمال پی ٹی آئی نے کیا۔ بلکہ باقی جماعتوں نے ان کی دیکھا دیکھی میڈیا سیل بنائے ۔ یہ واحد جماعت تھی جس نے کئی سال قبل برطانیہ، امریکہ ،سنگاپور اور یورپ میں خصوصی اور خفیہ سوشل میڈیا سیل قائم کئے تھے جو فیک اکائونٹس سے نقادوں کی کردار کشی کرتے رہے۔ ملک کے اندر مختلف اہم لیڈروں نے سوشل میڈیا کے اپنے اپنے سیٹ اپ بنائے ۔ جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی تنظیم کے سوشل میڈیا کے سیٹ اپس اس کے علاوہ تھے ۔ تو اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فیک ٹرولنگ سے مجھے کوئی فرق پڑے گا تو یہ غلطی پر ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز حکومتی پارٹی خود پھیلاتی ہے ۔ میرا کام ہے یہ بتانا کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ کن اذیتوں میں مبتلا ہیں ۔ اور میں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ۔ آپ جا کر میری گزشتہ ویڈیوز دیکھیں لیں ۔ کمنٹس پڑھ لیں ساری کہانی آپکو معلوم ہوجائے گی ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اس وقت نواز شریف اور آصف زرداری کے کرپشن اسکینڈلز سے لے کر بری گورننس کو ایکسپوز کیا جب وہ حکومت میں تھے ۔ ہم آج بھی کئی کیس اس دور کے بھگت رہے ہیں ۔ ہم پر حملے ہوئے ۔ ہم نوکریوں سے نکالے گئے ۔ لفافے لینے ہوتے تو نواز شریف سے زیادہ کون دے سکتا تھا ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اکیلے مریم کے میڈیا سیل کو ٹکر دیے رکھی ۔ تو میں اور میری ٹیم ان سے نہیں ڈری تو یہ جو جھوٹی ٹرولنگ میری کی جارہی ہے ۔ یا مجھے اور میری ٹیم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ میں ڈرنے والا نہیں ہوں میں سچ بولوں گا ۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذان

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مالشیوں اور پالشیوں کی تو ہی دور میں ہی آؤ بھگت ہوتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ میں یہ نہیں کروں گا ۔ یہ میں بتادوں کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے میڈیا کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے ۔ اگر یہ قانون بن گیا تواس کے بعد حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ صرف اخبار نہیں اور الیکٹرونک چینلز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول بھی حکومت کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کالے قانون کے لئے عمران خان اور ان کے ترجمان یہ بھونڈی دلیل دے رہے ہیں کہ وہ فیک نیوز کا خاتمہ چاہتے ہیں حالانکہ سب سے زیادہ فیک نیوز خود یہ حکومت پھیلارہی ہے ۔ شائد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بارعوام نے یہ افسوسناک منظر دیکھا ہے کہ کسی وفاقی وزیر نے بے دریغ اور بلا جھجک الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پیسے لینے کی سنگین تہمت عائد کی ہے۔ کیا وفاقی وزیر کے پاس ثبوت ہیں ۔ کیا یہ فیک نیوز نہیں ہے ۔ اپوزیشن سمیت سب عوام اس الزام پر ہل کر رہ گئے ہیں ۔ چنانچہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اُس سیاسی جماعت کا نام بتائے جس نے الیکشن کمیشن کو بطورِ رشوت پیسے دیے ہیں۔ اس پرحکومتی وزیر کہتے ہیں کہ ہم کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے خلاف میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں آٹا ، چینی ، گھی ، بجلی ، دوائیوں ، پیٹرول مافیا پر اس حکومت کے بیانات اور فیک نیوز کی ایک داستان ہے جس پر اگرکوئی کتاب لکھنے بیٹھے تو صحفے کم پڑجائیں ۔ حکومت اگر فیک نیوز کا خاتمہ چاہتی ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز چل رہے ہیں ۔ قانون بنا دے کہ ان کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہئے ۔ آج بھی تمام حکومتی وزیر ڈھٹائی سے کہتے رہے کہ حکومت کو غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جب کہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ یہ پتہ کیسے لگائیں گے کہ فیک نیوز کونسی ہے؟ کیا فیک نیوز وہ ہوگی جسے حکومت کہہ دے کہ یہ فیک نیوز ہے۔ یعنی حکومت جسے سچ قرار دے، وہ ہی سچ ہو گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے بھی کون سا صحافی ہے جو چاہے گا کہ وہ فیک نیوز دے ۔ اس ملک میں خبر کی حرمت کی خاطر صحافیوں نے صرف ماریں نہیں کھائیں اپنے گلے تک کٹوائے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کی شکل بگاڑنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں ۔ اُن سے کون واقف نہیں۔ کئی چینل و اخبارات سخت مالی دباؤ کا شکار ہوکر بند ہوگئے ہیں ہزاروں صحافی بے روز گار ہوگئے اور کئی ادارے مقروض ہوگئے۔ پاکستان صحافت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 138ویں پوزیشن سے145ویں پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت نے خود ایک فیک نیوز کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ اس حکومت میں جو جتنا جھوٹ بولے ۔ جو جتنے اچھےطریقے سے مخالفین کو لتراڑے اس کو اتنا ہی اچھا عہدہ مل جاتا ہے ۔ اس حکومت نے چن چن کر بدتمیز ، اخلاق سے گری گفتگو کرنے والوں ، رنگ بازوں اور نااہلوں کی فوج کو جمع کر رکھا ہے ۔ جس کا کام بس روز دن میں دس دفعہ میڈیا پر آکر لوگوں کی کردار کشی کرنا ہے ۔یعنی جتنا لُچا اتنا اُچا۔ میڈیا پر اس قدر پابندیاں تو شاید ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں لگی تھیں جتنی آج لگائی جا رہی ہیں ۔ لہٰذا حکومت، عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ کیونکہ نہ یہ حکومت صدا رہنے ہے ۔ نہ عہدے صدا رہنے ہیں ۔ نہ کرسی صدا رہنی ہے ۔ دراصل پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ اس خواہش کا عملی اظہار پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالتے ہی کر دیا تھا۔ پچھلے تین برسوں کے دوران بھی خان صاحب کی حکومت ملکی میڈیا کو زیرکرنے اور اپنے ڈھب پر کرنے کی لاتعداد کوششیں کر چکی ہے۔ کئی صحافی اور میڈیا ورکرز لمبے حکومتی ہاتھوں کا ہدف بنے ہیں۔ یہ میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا بھی امتحان ہے۔ اپوزیشن کی ساری قیادت اور ملک کی نمایاں وکلا تنظیموں نے بھی میڈیا ورکرز کے اس احتجاج میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ وعدہ کہاں تک ایفا ہوتا ہے ۔

  • ہوشیار، کرونا ویکسین کا گھن چکر شروع،ویکسین نہ لگوائی تو زندگی رک جائے گی

    ہوشیار، کرونا ویکسین کا گھن چکر شروع،ویکسین نہ لگوائی تو زندگی رک جائے گی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت ہمارا ملک کرونا وائرس کی چوتھی لہر چل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لاک ڈاون دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے بلکہ ویکسین کو لیکر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی سننےمیں آ رہا ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی لاک ڈاون کی نظر ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہے جسے مکمل طور پرvaccinateکرنا ہے اور جب یہ ہدف حاصل کرلیں گے تو ستمبر کے آخر میں پانبدیوں میں کمی ہو گی۔ اور 30 ستمبر تک جن لوگوں نے دونوں ڈوز نہیں لگوائیں ہوں گی ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا عملہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کرونا وائرس بہت خطر ناک ہے ہمیں اس سے بچاو کے لئے ہر صورت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کرونا اور اس سے بچاو کی ویکسین کو لیکر مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں کے رویے اتنے دوغلے کیوں ہیں؟پابندیوں کے معیار مختلف کیوں ہیں؟جس کام میں حکومت کی مرضی ہو اس کام پر چھوٹ کیسے مل جاتی ہے؟صرف چند چیزوں کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟کورونا وائرس جب پھیلنا شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کے بہت سے ممالک میں بہت سخت لاک ڈاون لگایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بغیر لاک ڈاون کے بھی اس پر قابو پا لیا گیا۔ اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو عجیب ہی صورتحال ہے جب گزشتہ سال کورونا وبا کی شروعات تھی توپاکستان میں سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ عوام کو گھروں میں بند کردیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سخت لاک ڈاون کے بعد کرونا وائرس کا پاکستان سے خاتمہ ہو جاتا اور اب ہم سکون میں ہوتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وائرس شدید سے شدید ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ جن ممالک سے یہ وائرس یہاں آ رہا تھا ان کی فلائٹس بند کرکے ہم اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچاو کے لئے فلائٹس بند نہیں کیں لیکن خود پر پابندیاں لگوا کر ریڈ لسٹ میں ضرور آ گئے۔ اور اب جیسے جیسے ویکسین کو لیکر حکومت عوام پر دباو بڑھا رہی ہے تو لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دراصل لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو اس فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہ لگوائیں یا ابھی نہ لگوائیں اور کچھ عرصہ بعد لگوائیں لیکن حکومت بضد ہے کہ اگر ویکسین نہ لگوائی تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، ہم سم بند کر دیں گے، شناختی کارڈ بلاک کردیں گے۔ کسی دفتر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ جسے عوام حکومت کی بدمعاشی کہہ رہی ہے۔ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ دھمکیاں پاکستانیوں کو دی جارہی ہیں اور ان کی پرسنل لائف میں دخل دیا جارہا ہے؟
    اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج جب اس وائرس کے پھیلاو کو شروع ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ویکسین کا عمل شروع ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں تو عوام ابھی تک اسے قبول کیوں نہیں کررہی عوام اتنیConfuseاور ڈری ہوئی کیوں ہے؟دراصل اس کی وجہ دنیا کے کئی ممالک اور ان کی حکومتوں کا دوغلا پن ہے۔سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کی ہی بات کر لیں تو حکومت کی طرف سے شادی ہالز میں تین سو لوگوں کی اجازت ہے۔ پارکس میں پانچ سو لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لوکل بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ بازاروں میں رات آٹھ بجے تک خوب ہجوم ہوتا ہے۔ لیکن سکولز بند ہیں۔۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیل ہونے والے طلبہ کو بھی رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا اور آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔اور اگر کہیں پابندیوں میں نرمی بھی کر دی جائے تو تعلیمی ادارے 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جاتے ہیں Alternate daysمیں کلاسز ہوتی ہیں۔جب کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو سب ماہرین نے خود ہمیں یہ بتایا تھا کہ بچوں کے لئے یہ وائرس خطرناک نہیں ہے بچے صرف اس وائرس کے
    Carrier ہوتے ہیں۔ تو اب جب بڑوں کو ویکسین لگ چکی ہے اور بچوں کا اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو سکولز ابھی تک کیوں بند ہیں؟ اگر کھولے بھی جا رہے ہیں تو پچاس فیصد حاضری کیوں؟ ایک بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں تو کلاس میں پچیس بچے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جہاں بہت سخت لاک ڈاون لگائے گئے تھے لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا گیا تو سب سے پہلے سکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں سکول کھلے ہوئے ہیں اس کے بعد سکولز بند نہیں کئے گئے۔تو جب باقی ممالک میں سکولز کھولے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پاکستان میں جب لاک ڈاون میں نرمی کی بات آتی ہے تو سکولز کا نمبر سب سے آخر میں کیوں؟ کیا پاکستان میں وائرس کی کوئی خاص قسم ہے جو سکولز میں زیادہ ایکٹیو ہے؟اور ساتھ ہی پندرہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہ
    Carrier ہیں آپ نے ان کو ویکسین لگانی شروع کر دی حالانکہ کوئی بھی ویکسین کیوں نہ ہوBioNTech, Pfizer CanSino CoronaVac Moderna Oxford, AstraZeneca
    Sinopharm Sputnik V ان کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ویکسینز کرونا سے بچاو میں کارگر نہیں ہیں یہ کرونا کا علاج نہیں ہیں۔ ان کا رول صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کو کرونا ہو جائے تو یہ آپ کی حالت کو زیادہ بگڑنے نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو ventilator کی ضرورت پڑے یا خدانخواستہ کسی کی موت ہو جائے۔ صرف اس بنیاد پر ہم خود بچوں کے اندر ویکسین کی صورت میں وائرس والا جراثیم ڈال رہے ہیں تاکہ ان کی Immunityبڑھ جائے۔اور جبکہ ان ویکسینز کے بہت سے Side effectsکے کیسسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت جلدی میں بنائیں گئیں ہیں آج تک تاریخ میں کوئی ویکسین بھی تیار کرکے اتنی جلدی سب انسانوں کو نہیں لگائی گئی جتنی جلدی اس ویکسین کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے لازمی قرار دے کر زبر دستی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی جن کو کرونا ہو چکا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں ان کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سکولز کے ساتھ ساتھ یہی حال مساجد کا بھی ہے اور یہی دوغلاپن آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی نظر آئے گا۔ جب بھی جس سیاسی جماعت کا دل کرتا ہے وہ جلسے جلوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں کوئی ایس او پیز فالو نہیں کی جاتیں اور اتنی بڑی تعداد میں عوام کا ہجوم اکھٹا کر لیا جاتا ہے۔ اور تو اور آپ خود دیکھ لیں کرونا کی وجہ سے سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن الیکشنز بند نہیں ہوئے لوگ پولنگ بوتھ پر اکھٹے ہو رہے ہیں ایک بیلٹ پیپر کتنے ہاتھوں سے گزر رہا ہے ایک ہی سٹیمپ سے کتنے لوگ ٹھپا لگا رہے ہیں لیکن وہاں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔اور یہ دوغلا پن صرف پاکستان میں نہیں ہے اور بھی کئی ممالک میں ہے آپ سعودیہ عرب کی ہی مثال لے لیں۔ سعودیہ عرب میں حرم خالی ہے حج تقریبا معطل ہے۔ عمرہ بھی بند ہے۔ لیکن 5 جولائی 2021 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق حج مقامات پر جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سینما ہالز کھلے ہیں فلم فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ کورونا کے ‏دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔ آخری 2 سینما 19 اگست 2021 کو ریاض اور طائف میں کھولے گئے۔ دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سعودیہ میں 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے 13 میں سے 9 صوبوں میں سینما کھل چکے ہیں جن میں سے 21 ریاض، 9 مکہ مکرمہ ریجن اور 8 مشرقی ریجن میں کھولے گئے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 تک پہنچی اور اب 44 ہوگئی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب کرونا اپنے عروج پر رہا ہے۔ جدہ اورریاض میں بڑے میوزیکل ‏کنسرٹ ہوئے ہیں فٹ بال میچز بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن لوگ حرم شریف میں نہیں آ سکتے؟
    وہاں جانے کے لئے تو ابھی تک کوئی ویکسین بھی فائنل نہیں کی جا رہی کہ لوگوں کو پتہ ہو کہ اگر ہم یہ ویکسین لگوا لیں تو اس کے بعد حج یا عمرہ کے لئے جا سکتے ہیں لیکن نہیں صرف اپنی مرضی کی جگہیں کھولنی ہیں اور جہاں مرضی نہیں ہے وہاں سب بند ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کی ان دوغلی پالیسیز کی وجہ سے عوام ابھی تک اس وائرس کو لیکر کنفیوز ہے۔ جس طرح زبردستی ویکسین لگائی جا رہی ہے عوام اس سے ڈری ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا میں یہ وائرس ہے تو پوری دنیا کا اس سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ سیاسی ہجوم کی اجازت ہے الیکشنز کی اجازت ہے لیکن سکولز اور مساجد پر پابندی ہے۔ ایک پالیسی بنائیں اور اس کو ہرجگہ لاگو کریں اور جہاں تک بات ویکسین کی ہے تو پہلے لوگوں کا اس پر اعتماد بحال کریں پھر ویکسین لگائیں تاکہ لوگوں میں بے چینی ختم ہو عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہی چلانے کا وتیرہ مت اپنائیں اس میں سب کا نقصان ہے۔

  • قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل

    قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل

    قتل کے بعد تھراپی ورکس والوں کوموقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ وکیل کے دلائل

    اسلام آباد ہائیکور ٹ میں نور مقدم قتل کیس ،ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    وکیل خواجہ حارث نے چالان سے ملزم ظاہر جعفر کا اعترافی بیان پڑھا ،خواجہ حارث نے کہا کہ پولیس چالان کے مطابق ظاہر جعفر اپنے والدین سے رابطے میں تھا، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی نے پولیس کو اپنے بیان میں کیا کہا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ میں پولیس نے دونوں ملزمان سے کچھ پوچھا ہی نہیں،تھراپی ورکس کو 7 بج کر 5 منٹ پر ذاکر جعفر نے کال کی، عدالت نے کہا کہ اگر تھراپی ورکس کو کال کی گئی تو واقعہ ساڑھے 6 سے 7 کے روران ہو سکتا ہے،وکیل نے کہا کہ ذاکر جعفر نے پولیس کو کال کی اورکہا ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں اسے لے جائیں،

    جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیکھنا کہ موکلین کا کیس میں کیا کردار ہے؟ اگر تھراپی ورکس کو کال کی گئی تو واقعہ ساڑھے 6 سے 7کے دوران ہو سکتا ہے،برطانیہ میں سسٹم ہے جہاں 20،20 سال بعد کیس کا فیصلہ سنایا گیا ہمارے یہاں تو شواہد محفوظ کرنے کا کوئی سسٹم نہیں، وکیل نے کہا کہ چالان کے ساتھ ریکارڈ میں نہیں لکھا گیا کہ وقوعہ کی اطلاع پولیس کو کس نے دی ؟ عدالت نے استفسار کیا کہ موکلین نے7 بجکر 5 منٹ پر تھراپی ورکس کو کال کی اور ظاہر جعفر کو ریسکیو کا کہا؟ وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کے حوالے سے ہسٹری موجود ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا تھراپی ورکس کے 5 افراد بھی ملزم ہیں؟ جس پر وکیل نے عدالت میں بیان دیا کہ تھراپی ورکس کے ملازمین پر بھی شواہد مٹانے کا الزام ہے، پہلے تو یہ معلوم ہی نہیں کہ ظاہر جعفر نے والدین کو قتل کا بتایا تھا یا نہیں، اگر یہ معلوم بھی ہو اور تھراپی ورکس والے ثبوت مٹانے گئے ہوں پھر بھی یہ کیس نہیں بنتا،

    خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مقدمہ میں یک طرفہ تفتیش کی، تفتیش کے عمل میں گرے ایریاز ہیں، پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ ذاکر جعفر نے تھراپی ورکس والوں کو لاش ٹھکانے لگانے بھیجا۔ اگر انہیں قتل کے بعد موقع پر بھجوایا گیا تو اس میں اعانت جرم کہاں ہے؟ پولیس چالان کے مطابق ظاہر جعفر اپنے والدین سے رابطے میں تھا، والدین سے کیا بات ہوئی؟ محض مفروضے پر بات نہیں ہوسکتی۔ پراسیکیوشن کے مطابق والد نے لاش ٹھکانے لگانے تھراپی ورکس والوں کو بھیجا۔ بغیر کسی ثبوت کے ایسی بات خود سے ہی کیسے کہی جا سکتی ہے؟

    نور مقدم قتل مقدمہ ،ظاہر جعفر کے والدین ضمانت کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ،جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیکھنا کہ موکلین کا کیس میں کیا کردار ہے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی پر اس الزام میں بھی قابل ضمانت دفعات لگتی ہیں،چالان میں ہے کہ ظاہر جعفر نے قتل کے بعد والدین کو آگاہ کیا،مالی اور چوکیدار پر نور مقدم کو گھر سے باہر جانے سے روکنے کا الزام ہے،شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ہوتا ہے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کالزپر شواہد مٹانے کا کہا گیا یا نہیں یہ تو پولیس کو ثابت کرنا ہے،ہمارے یہاں تفتیش کا عمل موثر نہیں،

    نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت لوئر کورٹ مسترد کر چکی ہے جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے طور پر دائر کیا گیا ہے

    دوسری جانب بدنام زمانہ قاتل ظاہر جعفر کے گھر کے مالی جان محمد اور خانساماں جمیل کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے گزشتہ روز فیصلہ جاری کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کو مسترد کردیا تھا

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    نورمقدم کیس، فارنزک رپورٹ آگئی. وحشی درندہ قتل سے پہلے دو دن نور سے کیا کرتا رہا. دل دہلا دینے والے انکشافات.

    نور مقدم قتل کیس میں نیا موڑ، والدین نے درندے کو بچانے کی کیسے کوشش کی؟

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں مزید توسیع

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم کیس،تھراپی ورکس والوں کی ضمانت منسوخی پر نوٹسز جاری

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نورمقدم کیس،پولیس کی پھرتیاں، نامکمل چالان پیش،نورمقدم نے واش روم سے چھلانگ لگائی مگر، اہم انکشاف

    نورمقدم کیس،ضمانت کی درخواست پر نوٹس،نور کو انصاف دلوانے کیلئے عدالت کے باہر احتجاج

    ایف آئی آر میں ظاہر جعفر کے والدین کا کوئی ذکر نہیں،ملزم کیسے بن گئے، وکیل کے عدالت میں دلائل

  • عمران خان نے کہا تھا کہ میں رلاؤں گا، آج پوری قوم رو رہی ہے،بلاول

    عمران خان نے کہا تھا کہ میں رلاؤں گا، آج پوری قوم رو رہی ہے،بلاول

    عمران خان نے کہا تھا کہ میں رلاؤں گا، آج پوری قوم رو رہی ہے،بلاول
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کردیا

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پیٹرول 5 روپے مزید مہنگا ہوگیا، قوم کے اچھے دن کب آئیں گے؟ پیٹرول بلند ترین سطح پر پہنچا کر عمران خان نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مارا ، ڈالر اور پیٹرول بلند ترین سطح پر ہوں گے تو ہر شے عوام کی دسترس سے نکل جائے گی،عمران خان نے کہا تھا کہ میں رلاؤں گا، آج پوری قوم رو رہی ہے،عمران خان چین کی بانسری بجارہے ہیں، بجٹ کے بعد عوام کو ریلیف پہنچانے کے وہ دعوے کہاں گئے؟اقتدار میں آنے والے آج مہنگا ترین پیٹرول بیچ کر اس کا دفاع بھی کررہے ہیں،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے جمع رقم حکومت کرپشن میں اڑا دے گی،

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی ہے ،قرارداد مسلم لیگ(ن)کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کرتا ہے پیٹرول کی قیمت میں 5روپے اضافہ قابل مذمت ہے عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے ہر پندرہ دن بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام دشمن حکومت کا واضع ثبوت ہے وزیرخزانہ شوکت ترین بھی اسد عمر اور حفیظ شیخ کی پالیسیوں پر گامزن ہیں موجودہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے .

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ہوشربا اضافہ قابل مذمت ہے، تبدیلی سرکار نے گزشتہ 3 سال تیل کی قیمتوں میں 28 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے،اب دعوی کریں گے کہ اوگرا نے عوام پر بڑا بم گرانے کو کہا تھا ہم نے چھوٹا گرایا ہے،

    امیر جماعت اسلامی غربی لاہور عبدالعزیز عابد نے پٹرولیم مصنوعات اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کرتی ہےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ ریاست مدینہ میں کیسا ظالمانہ نظام نافذ کیا جارہا ہے۔ پٹرول، گھی آٹے اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر نکل گئی ہیں۔ جماعت اسلامی اس ہوشربا مہنگائی کے خلاف مہم چلائے گی۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لے۔کرونا وباء کی وجہ سے متوسط طبقہ پہلے ہی دو وقت کی روٹی سے تنگ ہے۔

    دوسری جانب یٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا پٹرول کی قیمت میں اضافے سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے حکومت چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک زندگی گذارنے کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں کے حوالے سے بہتر حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، بڑا مطالبہ سامنے آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،عدالت نے کیا جواب طلب

  • وزیراعلیٰ کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    وزیراعلیٰ کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    وزیراعلیٰ کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
    سندھ ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ سندھ کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے حلیم عادل شیخ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا حلیم عادل شیخ کی درخواست پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے سماعت کی ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صادق اور امین نہیں رہے،مراد علی شاہ نے الیکشن میں دہری شہریت چھپائی تھی،درخواست میں مراد علی شاہ پر الیکشن میں دہری شہریت چھپانے کاالزام ہے

    سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ پی ایس 73 سے منتخب ہوئے،جھوٹے حلف نامے جمع کروائے گئے، مراد علی شاہ صادق اور امین نہیں ،دہری شہریت کے باوجود 2007 میں الیکشن لڑا،مراد علی شاہ کو 2013 میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا،ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مراد علی شاہ کو نااہل قرار دیا جائے،سندھ اسمبلی سے نا امید ہوچکے ہیں وہاں صرف اپنے قوانین بنائے جاتے ہیں کرپٹ وزیر اعلیٰ کے خلاف پٹیشن فائل کی ہے،سندھ میں زرعی پانی کی چوری کے خلاف درخواست دینے جارہے ہیں،کتوں کے کاٹے جانے اور گندے پانی کی فراہمی پرعدالت سے رجوع کریں گے، سندھ میں 43 لاکھ ایکڑ اراضی کی جعلی الاٹمنٹ کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے ،پولیس کے سپاہیوں کو قتل کرنے والے ڈاکو صوبائی وزیر کے محافظ ہیں،کچے کے ڈاکووَ ں کے سرپرست پکے کے ڈاکو ہیں

    دوسری جانب حلیم عادل شیخ کی جانب سے وزیر اعلی سندھ کے خلاف ریٹرنگ آفیسر سینیٹ الیکشن کو تحریری درخواست بھی ارسال کی گئی ہے، حلیم عادل شیخ کی جانب سے دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ 14 فروری کو وزیر اعلی نے نیشنل میڈیا کے سامنے سینیٹ انتخابات میں سندھ سے ووٹوں سے زیادہ دس سیٹیں حاصل کرنے کا بیان دیا۔ وزیر اعلی سندھ الیکشن رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں ملوث ہوئے ہیں۔ ووٹوں سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کا بیان دیکر وزیر اعلی کرپٹ پریکٹس میں ملوث ثابت ہوئے ہیں۔

    حلیم عادل شیخ کی جانب سے دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی نے سندھ سے دس سیٹیں حاصل کرکے وفاقی حکومت کو سرپرائز دینے کا بیان دیا تھا۔ وزیر اعلی سندھ کے خلاف الیکشن رولز کے تحت کارروائی کرکے ممبر صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے نااہل قرار دیا جائے۔ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا سہارا لینے والی پارٹیاں اپنی مقبولیت کھو بیٹھی ہیں۔ وزیر اعلی سندھ کا سینیٹ انتخابات میں ووٹوں سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کا بیان اعتراف جرم ہے۔حلیم عادل شیخ کی جانب سے دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی سندھ سینیٹ انتخابات میں خرید فروخت کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ وزیر اعلی کے اس بیان کو سپریم کورٹ میں بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

  • افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے رابطے میں ہیں    امریکا

    افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے رابطے میں ہیں امریکا

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے مسلسل رابطے میں ہیں پاکستانی رہنماؤں او ر ہم منصبوں کے ساتھ رابطہ جاری ہے پاکستان کے نمائندے گزشتہ ہفتے جرمنی میں بھی موجود تھے۔

    باغی ٹی وی : نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ میں کہا کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان سے گزشتہ 20 برس کے حاصل کردہ فوائد ضائع نہیں ہونے چاہیےخصوصاً افغان خواتین، لڑکیوں کی تعلیم اور اقلیتوں کے حقوق متاثر نہ ہوں اور افغانستان سے حاصل کردہ فوائد کا تحفظ ہم سب کے لیے فائدہ مند ہے۔

    ترجمان امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی بھی طالبان سے وہی توقعات ہیں جو عالمی دنیا اورامریکہ کی ہیں، توقعات میں افغانستان سے نکلنے والوں کے لیے محفوظ راہداری بھی شامل ہے۔

    نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ پاکستا ن اور خطے کے دوسرے ممالک کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ بیانات اور وعدوں پر قائم رہیں، وعدوں میں افغان عوام کی معاونت بھی شامل ہے، جبکہ رابطوں میں افغانستان کی صورت حال پر تفصیل سےذکر ہوا ہے۔

    دوسری جانب امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ تھا کہ دو ہفتے تک کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔

    امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کہا ہے کہ 14 اگست کو امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ ہوا کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔

    فیس بک کی تحقیق، انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کے لئے نقصان دہ ثابت

    زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے دوران اقتدار کی منتقلی عمل میں آنی تھی۔ لیکن اشرف غنی کے اچانک جانے سے طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹ گیا۔اشرف غنی کے ملک سے نکل جانے کے بعد یہ منصوبہ ناکام ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی کے نکل جانے سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ ہوا۔طالبان نے اشرف غنی کے جانے کے بعد امریکہ سے کابل کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لینے کا کہا جس پر امریکا کا جواب تھا کہ ہم سیکورٹی کی ذمہ داری نہیں لیں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے اصرار کیا تھا کہ امریکی فوجی صرف امریکیوں اور افغان اتحادیوں کو نکالنے کے لیے کام کریں گے اور امریکہ کی طویل ترین جنگ میں مزید توسیع نہیں کریں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں مزید امریکہ کے قیام کے لیے کوئی عملی آپشن نہیں تھا ۔ ہمیں ایک واضح تاثر دیا گیا کہ اگر امریکہ افغانستان میں موجودگی کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے تو ہمارے سروس ممبرز دوبارہ طالبان تشدد کا نشانہ بنیں گے ۔

    زلمے خلیل زاد نے جنگ کے اس طرح سے خاتمے کی ذمہ داری قبول نہیں کی انہوں نے کہا ہے کہ یہ افغانوں پر منحصر ہے کہ وہ امن معاہدے پر پہنچیں۔

  • طالبان رہنماوں کےدرمیان کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی یہ پراپیگنڈہ ہے:قاری یوسف کی باغی ٹی وی سےگفتگو

    طالبان رہنماوں کےدرمیان کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی یہ پراپیگنڈہ ہے:قاری یوسف کی باغی ٹی وی سےگفتگو

    کابل:طالبان رہنماوں کے درمیان کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی یہ دشمنوں‌ کا پراپیگنڈہ ہے:افغان طالبان رہنما کی باغی ٹی وی سے گفتگو،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے پاکستانی اورعالمی میڈیا پرپھیلائی جانے والی ان خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں پراپیگنڈہ کیا جارہا ہےکہ افغان طالبان رہنماوں میں تلخ کلامی ہوئی ہے

    کابل سے افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے نائب قاری یوسف احمدی نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی استعمار کی چالیں ہیں جن کا مقصد دنیا کوباورکرانا ہے کہ طالبان میں اختلاف رائے ہے ،مگرایسا نہیں ہے

    قاری یوسف احمدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوخبریں چل رہی ہیں‌ کہ نائب وزیر اعظم ملا برادر اور وزیر برائے مہاجرین خلیل الرحمان حقانی، جو حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ رہنما بھی ہیں، کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جب کہ صدارتی محل میں موجود دونوں رہنماؤں کے پیروکاروں نے بھی ایک دوسرے سے تکرار کی۔یہ سراسرجھوٹ اورامارت اسلامی کے خلاف پراپیگنڈہ ہے

    یاد رہےکہ کل سے پاکستانی اورعالمی میڈیا پرافغان طالبان رہنماوں کے درمیان اختلافات کے حوالے سے باقاعدہ منصوبہ بندی سے خبریں‌ چلائی جارہی تھیں کہ نائب وزیراعظم ملابرادراورخلیل الرحمن حقانی کے درمیان کسی معاملے پرتلخ کلامی ہوئی ہے

    آج ذبیح اللہ مجاہد کے نائب قاری یوسف احمدی نے باغی ٹی وی سے ان خبیروں کی تردید کی ہے

  • افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی سب کےمفاد میں:دنیا بھرپورساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کوانٹریو

    افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی سب کےمفاد میں:دنیا بھرپورساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کوانٹریو

    اسلام آباد:افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی دنیا کےمفاد میں ہے:دنیا خوشحال افغانستان کےلیےساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کو انٹریو ،اطلاعات کے مطابق امریکی ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن ، خوشحالی اورترقی دنیا کے مفاد میں ہے اورپرامن افغانستان کے لیے اب دنیا کوآگے بڑھنا چاہیے ، پاکستان کے ساتھ مل کرایک نئے سفرکا آغازکرنا چاہیے

    افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی دنیا کےمفاد میں ہے:دنیا خوشحال افغانستان کےلیےساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کو انٹریووہاں کیا ہونے والا ہے کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا، افغانستان کی خواتین بہت بہادر اور مضبوط ہیں، وقت دیا جائے وہ اپنے حقوق حاصل کر لیں گی۔ وہاں کی خواتین کو باہر سے کوئی حقوق نہیں دلوا سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کو حقوق مل جائیں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طالبان عالمی سطح پر خود کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔ طالبان چاہتے ہیں عالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔خطے کا امن افغان عوام سے جڑا ہے، 20 سال میں وہاں پر عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ دنیا طالبان کو انسانی حقوق کے معاملے پر وقت دے لیکن امداد کے بغیر انتشار کا اندیشہ ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہمیں بتایا تھا کہ افغان طالبان پورے افغانستان پر مکمل قبضہ نہیں کر پائیں گے۔ اگر وہ عسکری طریقے سے کنٹرول حاصل کریں گے تو سول وار ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ہم خوفزدہ تھے کیونکہ پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان برداشت کیا، دنیا کو ایک جائز حکومت بنانے اور اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے افغانستان میں حکومت کو وقت دینا چاہیے۔

    افغانستان سے انخلاء پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں افغان طالبان کے قبضے کے بعد امریکی صدر جوزف بائیڈن سے ٹیلیفون پر رابطہ نہیں ہوا حالانکہ پاکستان امریکا کا نان نیٹو اتحادی ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ بہت مصروف ہوں گے۔ لیکن امریکا کے ساتھ رشتہ صرف ایک فون کال پر منحصر نہیں ہے اسے کثیر جہتی تعلقات کی ضرورت ہے۔

    ان کاکہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا کیساتھ 20 سال تک ملکر جنگ لڑی، ہم کرائے کے بندوق کی طرح تھے، امریکا سے افغان جنگ جیتا چاہتا تھا۔ جو وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے۔ بار بار امریکی حکام کو خبردار کیا تھا کہ امریکا عسکری طور پر اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 11/9 حملے کے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے ہزاروں لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے، ایک موقع پر وہاں 50 عسکریت پسند گروہ ہماری حکومت پر حملہ کر رہے تھے، امریکا نے پاکستان میں 480 ڈرون اٹیک کیے۔

    میزبان کی طرف سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان افغان طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں تھا،اس سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی اور کی جنگ لڑنے کے لیے ہم اپنے ملک کو تباہ نہیں کر سکتے۔ افغان طالبان ہمارے ملک پر حملہ نہیں کر رہے تھے۔ اگر اس وقت میں حکومت میں ہوتا تو امریکی انتظامیہ کوبتاتاکہ افغان طالبان کیخلاف ہم اپنی فوج استعمال نہیں کریں گے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور میرے ملک کے لوگ میری ذمہ داری ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں شورش سے پاکستان بھی زیادہ متاثر رہا ہے، وہاں 40 سالوں کے بعد امن قائم ہوسکتا ہے، افغانستان سے متعلق ایک بڑا مسئلہ مہاجرین بھی ہے، عالمی برادری مدد کرے تو افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے، طالبان بحران سے بچنے کے لیے عالمی امداد کی تلاش میں ہیں

  • تبدیلی کا کیڑا دفن، خدا کے واسطے ،پاکستان بچا لو، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    تبدیلی کا کیڑا دفن، خدا کے واسطے ،پاکستان بچا لو، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    تبدیلی کا کیڑا دفن، خدا کے واسطے ،پاکستان بچا لو، مبشر لقمان پھٹ پڑے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یہ حکومت میری سمجھ سے باہر ہے ۔ بیک وقت انھوں نے مختلف لوگوں سے پنگے لے رکھے ہیں ۔ سب سے بڑا پنگا تو اندھا دھند مہنگائی کرکے عوام سے لیا ہوا ہے جس کا اظہار کل عوام نے پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ڈال کر کھل کر کردیا ہے ۔۔ اور آج تو صحافیوں پر پابندی ہی لگا دی ۔ ہوں کچھ یوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تھا ۔ جس سے صدر عارف علوی نے خطاب کرنا تھا ۔ پر حکومت نے اس اہم موقع پر پارلیمنٹ میں داخلے پر صحافیوں پر پابندی لگادی ۔ یعنی جو سرکاری ٹی وی دیکھائے گا اور بتائے گا وہ ہی دیکھانا اور بتانا ہوگا ۔ ۔ یوں صحافیوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ احتجاج کرتے اور انھوں نے خوب کیا بھی پارلیمنٹ کی راہ داریوں میں بھی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی ۔۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں حکومت کیوں اتنی بضد ہے کہ وہ ڈاکٹرز کو بھی سبق سیکھائے گی ۔ جج بھی اپنی مرضی کے لگوائے گی ۔ الیکشن کمیشن کو بھی اپنی جوتی کی نوک پر رکھے گی اور صحافیوں کو تو ویسے ہی تن کررکھی گی کیونکہ میڈیا نے اس عمران خان اور انکی پارٹی کو سب سے زیادہ سپورٹ کیا تھا ۔ تو بدلہ اتارنا تو بنتا ہے نا ۔۔۔۔۔ میں اس پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ جوحکومت نہ مہنگائی کنٹرول کر سکے، نہ قرضے کنڑول کر سکے، نہ کابینہ کنٹرول کر سکے، نہ معیشت کنٹرول کر سکے، نہ ڈالر کنٹرول کر سکے۔اور نہ ہی اپنی زبانیں کنٹرول کر سکے وہ اب خواب دیکھ رہی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کریں ۔ یہ دیوانے کا خواب ہے ۔ ۔ یہ اتنا درد پتہ نہیں کیوں اس حکومت کے دل میں جاگ اٹھا ہے ۔ کہ اس کی نظر کرم صحافیوں پر پڑ گئی ہے اور یہ میڈیا اتھارٹی بل لا کر پتہ نہیں کون سا انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے ۔حالانکہ اس دورحکومت میں سب سے زیادہ صحافی متاثر ہوئے ہیں ۔ اس دور میں جتنے صحافی بے روزگار ہوئے ہیں شاید پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ جتنی صحافیوں کو اس دور میں مار پڑی ہے پہلے کبھی نہیں پڑی ۔ جتنے صحافی اس دور میں اٹھائے گئے یا غائب کیے گئے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔ جتنے پرچے اس دور میں صحافیوں پر ہوئے ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ ۔ جتنی پابندیاں اس دور میں صحافیوں پر لگی ہیں پہلے کبھی نہیں لگیں ۔ یہ ہے کھرا سچ ۔۔۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کسی اور کیا بات کرنی ۔ جولائی 2018میں یہ حکومت آئی اور دسمبر 2018سے اب تک میں اور میری پوری ٹیم بے روزگار ہے ۔ پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جس کو میڈیا نے سب سے زیادہ سپورٹ دی ۔ اور آج جو پریس گیلری بند کی گئی یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں سول مارشل لاء لگا ہوا ہے ۔ اس پارٹی کی تمام حرکتیں اور زبان ایسی ہے جو کسی فاشسٹ پارٹی کی ہوتی ہیں ۔ آج صحافیوں کے احتجاج میں بلاول ، شہباز اور فضل الرحمان سب ہی باری باری شریک ہوئے اور اظہار یکجہتی بھی کیا ۔ پھر پارلیمنٹ کے اندر بھی اپوزیشن نے صحافیوں کے حق میں احتجاج بھی کیا ۔ پلے کارڈز بھی اٹھائے اور حکومت کے کالے قوانین کے خلاف خوب نعرے بازی بھی کی ۔ ان سب سے لاکھ اختلاف صحیح لیکن ان کا شکریہ کہ یہ حق اور سچ کی آواز کے ساتھی بنے ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں اس حکومت سے ایف بی آر کا ڈیٹا تو سنبھالا نہیں جاتا اور زور دے رہے ہیں کہ ان پڑھ اور عام عوام الیکٹرانک مشینوں سے ووٹ ڈالیں۔ کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں دن دیہاڑے لوگوں کے ووٹ غائب ہو جاتے ہیں۔ انگوٹھوں کے جعلی نشانوں پر موبائل فون کی سمیں مل جاتی ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکل آتے ہیں لیکن چور پھربھی پکڑے نہیں جاتے۔۔ پھرالیکشن کمیشن کا جو حال یہ حکومت کرنا چاہ رہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ہار چکی ہے اور اس سے پہلے کے الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ سنائے یہ الیکشن کمیشن کو ہی متنازعہ بننے پر تل گئے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو وفاقی وزراء ان تمام معاملوں میں پیش پیشں ہیں ۔ یہ سب کرائے کے کھلاڑی ہیں یعنی یہ جس کی حکومت ہو اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ جس کا وقت اچھا ہو یہ اس کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ ان کو موقع پرست کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ یہ پارٹیاں ایسے بدلتے ہیں جیسے کپڑے بدلے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک آدھ وزیر موصوف تو ایسے بھی ہیں جو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے قابل تو نہیں ، پر ہر بار اپنے پیسے کے زور پر سینیٹر ضرور بنتے ہیں۔ ۔ یہ صرف پیسے کی چمک کا کمال ہے ورنہ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوتی کہ کسی آئینی ادارہ کو آگ لگانے کی بات کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ وزراء بی جے پی اور شیو سینا کے بیانات بہت غور سے پڑھتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہاں میں آپکو ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی مثال دیے دیتا ہوں ۔ جنہوں نے اپنے دور کا سب سے تاریخی کام متفقہ آئین بنایا ۔ سب جانتے ہیں کہ بھٹو ایک سخت گیر شخص تھے ۔ اور ایسے کئی واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جب انہوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کی۔ ۔ لیکن 1973ء کا آئین منظور کروانے کے لئے وہ ہر کسی کے پاس خود چل کر گئے تھے۔ وہ مولانا مودودی سے ملے اور اس وقت کی اپوزیشن کے تمام راہنماؤں کے پاس بھی گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کی نیت بہت اچھی ہے اور ہر حال میں الیکشن ریفارمز کرنا چاہتی ہے ۔ تو وہ دوسروں کی رائے کیوں نہیں لیتی ۔ وہ کیوں ہر معاملہ میں اپنی منوانا چاہتی ہے ۔ پھر چاہے معاملہ صحافیوں کا ہو ، اپوزیشن کا ہو ، وکیلوں کا ہو یا ڈاکٹروں کا ۔۔۔ حکومت صرف یہ کیوں چاہتی ہے کہ اس کی ہی بات مانی جائے ۔ معذرت کے ساتھ ایسا ڈکیٹروں کے دور میں ہوتا ہے جمہوریت میں ایسا کوئی چلن نہیں ہے۔ آخر کیوں وزیراعظم عمران خان اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ وہ چل کر مولانا فضل الرحمان یا شہباز شریف یا بلاول کے پاس جائیں؟عمران خان تو پہلے دن سے ہی ۔۔۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔ نعرہ بھی لگا رہے ہیں اور عملی طور پر تمام سیاسی مخالفین سمیت صحافی ، وکلاء ، ڈاکٹرز سب کے خلاف انتقامی کاروائیوں کر رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی طور پر ہزار اختلافات ایک طرف ، لیکن یہ ان کی سیاسی بصیرت تھی کہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود انہوں نے آئین کا بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کرنے کی بجائے تمام سیاسی قیادت کو ایک پیج پر اکٹھا کیا اور اسے متفقہ آئین کے طور پر منظور کروایا۔ پتہ نہیں یہ حکومت کیوں سیاسی محاذ آرائی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ حالانکہ سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت اس محاذ آرائی سے زیادہ ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سچ یہ ہے کہ حکومت اہم سیاسی معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے تصادم کی طرف جانا چاہتی ہے اور متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کر کے یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ لانا چاہتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری موجودہ قیادت کی سیاسی طور پر گرومنگ نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں یہ کون سا حکیم ہے جو کپتان کو بھی یہ مشورے دے رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول اور بیورو کریسی میں آئے دن کی اکھاڑ پچھاڑ سے یہ لولا لنگڑا نظام ہمیں نئے پاکستان میں لے جائے گا۔ حالانکہ کے جو کل کینٹ بورڈ انتخابات کا رزلٹ آیا ہے وہ انکی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیئے ۔ کل یہ دو سو سے زائد سیٹوں پر یہ الیکشن ہوا ۔ جس میں پی ٹی آئی نے 63سیٹیں جیتیں ۔ یعنی آدھی سے بھی کم ۔ میری نظر میں یہ الیکشن کے ساتھ ساتھ حکومت کی popularity کا ایک سروے تھا ۔ لوگوں نے ووٹ کی طاقت سے اظہار کر دیا ہے کہ وہ حکومتی کارکردگی سے کس قدر خوش ہیں ۔ اوپر سے حد تو یہ ہے کہ ہار کو تسلیم کرنے کی بجائے یا وجوہات کو جاننے کی بجائے ۔ کل سے وفاقی وزراء ایسے خوشی منا رہے ہیں۔ جیسے پتہ نہیں کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ویسے ہار کے خوشی منانے کا طریقہ اگر کسی نے سیکھنا ہو تو پی ٹی آئی کے وزیروں اور مشیروں سے سیکھے ۔ آخر میں بس یہ کہوں گا کہ یہ جو ہم آئے دن حکومت کی گڈ گورننس کا پول کھول دیتے ہیں اور گورننس کا اصل چہرہ کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے چھپے انداز میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر حکومت کا یہ خیال ہے کہ یہ سلسلہ میڈیا کو بیڑیاں پہنانے سے تھم جائے گا۔ تو حکومت غلطی پر ہے ۔