Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مُک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی،پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے نعرے

    مُک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی،پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے نعرے

    مُک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی،پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے نعرے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے

    وزیراعظم عمران خان ایوان میں موجود ہیں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو بھی ایوان میں موجود ہیں آرمی چیف سمیت مسلح افواج کے سربراہان بھی گیلری میں موجود ہیں اسپیکراسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی اپنی نشستوں پر موجود ہیں صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا، صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کا کہنا تھا کہ میری گفتگو حال اور مستقبل کے حوالے سے ہے،گزشتہ 3 سالوں میں ملک وقوم میں بہت مثبت تبدیلیاں آئی ہیں پاکستان کی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے شور مچانے کی بجائے حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی تیسرے پارلیمانی سال کی تکمیل پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،کورونا کے باعث دنیا بھرکی معیشتیں متاثرہوئیں،کورونا کے دوران پاکستان کی معیشت مستحکم رہی بہتر حکومتی پالیسیوں کی بدولت معیشت مستحکم رہی،حکومت نےتعمیراتی شعبے کو 36ارب روپے کی سبسڈی دی،

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    اپوزیشن کے شور شرابے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ صبرکریں اورسنیں،عوام کوبات سمجھ آ گئی ہے یہاں بھی سمجھنی چاہیے ، ترسیلات زر 19.4ارب ڈالرتک پہنچ گئے ،پاکستان اسٹاک ایکس چینج نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑدیئے ،زرعی شعبے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے،غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے،دنیا اس وقت چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے یہ صرف معاشی انقلاب نہیں،فکری انقلاب ہے،ملکی ترقی کا سہرا وزیراعظم عمران خان کے سر جاتا ہے،اپوزیشن کچھ سن لیں تو سمجھ میں آجائے گی اسٹیل اور سیمنٹ سمیت 60 کے قریب انڈسٹری چل پڑی ہے،اب تک 17 لاکھ نوجوانوں کو ڈیجیٹل کی تربیت دی جاچکی ہے، احساس پروگرام کےتحت غریبوں کی مددکی گئی، ہم نےماضی میں ٹیلنٹ کی قدرنہیں کی،3 سال میں پاکستان نے اندرونی وبیرونی محاذپرکامیابیاں حاصل کیں،زرعی شعبے میں مزیدبہتری کی ضرورت ہے،نوجوانوں کوتربیت اورروزگارکے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں،احساس کفالت،نشوونمااوراحساس آمدن اورلنگرخانے جیسے پروگرام شروع کیے گئے،ہم نےلوٹ مارسے توجہ ہٹا کرانسانیت پرفوکس کیا ہے،احساس کفالت پروگرام کے تحت رواں سال 70 لاکھ خواتین کو ماہانہ 2 ہزارروپے دیئے جائیں گے،کامیا ب جوان پروگرام کیلئے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں،کامیاب جوان پرگرام کےتحت نوجوانوں کوآسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں گے،پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی پرتوجہ دینےکی ضرورت ہے،بڑھتی آبادی کی وجہ سے وسائل پربوجھ پڑرہا ہے .بچوں کی پیدائش میں وقفےکی اشد ضرورت ہے ،انتخابات میں شفافیت جمہوریت کے لیے بہت ضروری ہے ای وی ایم میں پرانے بیلٹ کا نظام بھی شامل ہے،انتخابی اصلاحات کو متنازع نہ بنایا جائے، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا بہت ضروری ہے،

    صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کئی دہائیوں سے کشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے،وزیراعظم نے خود کوکشمیرکا سفیر کہا اورعالمی فورم پربھارت کا چہرہ بےنقاب کیا، سمندر پار پاکستانیوں کوووٹ کا حق دلانے کیلئے موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ کام کیا

    قبل ازیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور اس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا اس دوران پارلیمنٹ میں مکمل خاموشی رہی مگر جونہی سپیکر قومی اسمبلی نے مائیک سنبھالا اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کر دیا سپیکر قومی اسمبلی نے صدر مملکت کو خطاب کی دعوت دی صدر مملکت کے مائیک سنبھالنے سے قبل ہی اپوزیشن نے نعرے بازی شروع کر دی تھی اپوزیشن کی جانب سے گو نیازی گو کے نعرے لگتے رہے ،اس دوران وزیراعظم عمران خان ایوان میں بیٹھے رہے، شہباز شریف اور بلاول بھی ایوان میں تھے پارلیمنٹ میں ن لیگی رہنما خواجہ آصف ، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال مُک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی کا نعرہ لگاتے رہے ،شہباز شریف اور یوسف رضا گیلانی بھی اس دوران ایک ساتھ خاموشی سے کھڑے نظر آئے

    دوسری جانب نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے پارلیمنٹ ہائوس پریس گیلری بند کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار صحافیوں کے لئے پارلیمان کی پریس گیلری بند کی گئی ہے، پارلیمان کی پریس گیلری کبھی مارشل لا میں بھی بند نہیں ہوئی، صحافیوں کی پریس گیلری جانے پر پابندی کس بنیاد پر لگائی جا رہی؟ تباہی سرکار کو صحافیوں سے کیا خطرہ ہے؟ اسپیکر قومی اسیمبلی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، پہلے ہی صحافی پارلیمان کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، مشترکہ اجلاس میں دنیا بھر کے سفیر ہونے، حکومت اپنا تماشہ نہ بنائے، صدر کا خطاب ان کیمرا نہیں جو صحافیوں پر پابندی لگائی جا رہی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی اپنا فیصلہ واپس لے،

  • مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کئے جانے سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، ۔سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ثنا اللہ عباسی اور چیئرمین پیمرا سلیم بیگ عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے جبکہ انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس قاضی جمیل الرحمان بھی عدالت میں پیش ہوئے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے والے پہلے کارروائی کرتے ہیں بعد میں قانونی طریقہ کاردیکھتے ہیں اورکبھی کسی کوپکڑکربٹھا لیتے ہیں اورکبھی کسی کو چھوڑ دیتے ہیں تحقیقاتی ادارے کو واضح طریقہ کار کے تحت ایف آئی آر درج کرنی چاہئے.

    ڈ ی جی ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں لیکن ریگولیشن پیکا ایکٹ کے تحت کرتے ہیں چار سال میں صحافیوں کے خلاف 27 شکایات ملیں جن میں سے صرف چار شکایات کی انکوائری میں تبدیل ہوئیں اور مقدمات درج ہوئے ،دوران سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی صاحب پریس کی ریگولیشن پیکا ایکٹ کے تحت نہیں ہوتی آپ اپنی سوچ واضح کریں صحافتی آزادی آرٹیکل 19 کے تحت ہوتی ہے فاضل جج نے ثنا اللہ عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ذاتی طور پر ہر ایک کیس کے ذمے دار ہیں

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    جسٹس منیب اختر نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا اور کہا کہ بتائیں صحافت کی کیاتعریف ہے؟ اگر منیب اختر کیمرا پکڑ کر یوٹیوب چینل پر تنقید شروع کرلے تو کیا یہ صحافت ہوگی؟میں کسی کی نہیں اپنی مثال دے رہا ہوں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے سلیم بیگ سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا نے صحافیوں یا چینلز کے خلاف کاروائیوں کے ایس اوپیز مرتب کئے پیمرا کو آئین میں کارروائی کا طریقہ کارنہیں دیا گیا اس کے لئے ایس اوپیز بتانا ضروری ہیں،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ملک کے اعلیٰ ادارے کے طور پر صحافتی آزادی کا تحفظ کرے گا،حدود ہر چیز کی مقرر ہیں یہ واضح ہونا چاہئے کہ آپ کی حدود کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہیں جائزہ لیں گے کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی آرٹیکل 19سے متصادم تو نہیں ہے گائیڈ لائنز جاری کریں گے جس پر حکومت اورتمام ادارے عمل کریں گے

    جسٹس قاضی امین نے آئی جی اسلام آباد سے استفسارکیا کہ اسلام آباد میں ایک صحافی کو پیٹ میں گولی ماری گئی اس واقعے کے ملزمان کے بارے میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟ جس پر آئی جی نے بتایا کہ اس کیس کی ابھی تفتیش ہورہی ہے جسٹس قاضی امین نے کہا کہ بھول جائیں تفتیش کو یہ آپ کی ناکامی ہے کہ اب بس تفتیش ہورہی ہے دن دہاڑے ایک شخص کو گولی مار دی گئی اور آپ ملزمان نہیں پکڑ سکے آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے سی سی ٹی وی سے شکلیں ٹریس کرکے نادرا کو بھجوائیں لیکن شناخت نہیں ہو سکی جس پر جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ مینار پاکستان واقعے کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ ملزمان کا گرفتار نہ ہونا آئی جی صاحب آپ کی ناکامی ہے ،سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق ازخود نوٹس پر ڈی جی ایف آئی اے سے صحافیوں کے مقدمات سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے

    https://login.baaghitv.com/sahafion-ka-dharna-hakotmi-itthadi-jamat-bhi-sahafion-0ksataha0bialwlal-ka-dabang-elana/

  • مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان

    مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان

    مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں نے ڈی چوک پر دھرنا دے رکھا ہے

    حکومت کی میڈیا کے خلاف دہشت گردی، میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف صحافیوں کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا جاری ہے پارلیمان کی کاروائی کور کرنے والوں صحافیوں کو پریس گیلری میں داخلے سے روک دیا گیا ،اسلام آباد، پنڈی و دیگر شہروں سے صحافیوں کی بڑی تعداد ڈی چوک پر موجود ہے، صحافی اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کر رہی ہیں وہیں حکومت کی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے پہنچ گئی،وفاقی وزیرآئی ٹی امین الحق کی اسلام آباد میں صحافیوں کے دھرنے میں آمد ہوئی ہے ،امین الحق کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر نہیں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے آیا ہوں ،ایم کیوایم صحافیوں کے مطالبات کے ساتھ کھڑی ہے اس موقع پر صحافیوں کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، پریس گیلری میں جانے سے روکا جارہاہے،

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں اس بل کو پاکستان میڈیا ڈنڈا اتھارٹی کہوں گا،جہاں جمہوریت ہے وہاں صحافت ہے،پاکستان میں آنے والی آمرانہ جمہوریت میڈیا کی زبان بندی چاہتی ہے،میں میڈیا کے ساتھ کھڑا رہوں گا،میں نے میڈیا کا ساتھ دینا اپنے والد سے سیکھا ہے،میڈیا کی آزادی پر سیاستدانوں پر کوئی اختلاف نہیں ہیں،میڈیا کی آزادی پر سب متفق ہیں،اسلام آباد کی طرف مارچ ہمارے ذہین میں تجویز ہے،انشاءاللہ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے،

    ن لیگی قیادت احسن اقبال خواجہ آصف شہباز شریف بھی صحافیوں کے دھرنے میں پہنچ گئے صدرمسلم لیگ ن شہبازشریف نے صحافیوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ کالا قانون پاس نہیں ہونے دیں گے،پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں صحافیوں کےساتھ ہے،پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں صحافیوں کےساتھ ہیں،میڈیا نے خودجدوجہدک رکے یہ آزادی حاصل کی ہے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے ساتھ ہر جگہ احتجاج کرنے کیلئے تیار ہوں پرویز مشرف کے کالے قوانین کو 18ویں ترمیم سے ختم کیا اگر کالا قانون بنتا ہے تو فورن عدالتوں سے رجوع کریں گے،جب بھی ملک میں کسی آمر کی یا سلیکٹیڈ کی حکومت آتی ہے تو وہ عوام کی آواز دبانے کیلئے آزادی صحافت اور میڈیا پر پابندی عائد کرنے کیلئے کالے قانون بناتی ہے،موجودہ حکومت کو کسی صورت بھی حق روزگار پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے خلاف سازش آج نہیں ہوئی یہ پچھلے تین سال سے شروع ہوگئی تھی یہی وجہ ہے کہ آپ لوگ پیچھے نہیں ہٹے آپکے حوصلے پست نہیں ہوئے اسی لیے یہ آج کالا قانون لیکر آرہے ہیں.اتنے بزدل ہیں جو کالا قانون لارہے ہیں وہ دکھاتے نہیں ہیں انشاءاللہ اسے ہم پاس نہیں ہونے دینگے

    اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ صحافیوں کے دھرنا میں پہنچ گیئے پولیس گردی کے خلاف صحافی برادری سے اظہار یکجہتی کی جبکہ سابق رکن اسمبلی عمران ندیم ,سابق ممبر کیپٹن سکندر علی سمیت دیگر بھی شریک ہیں

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد شہباز شریف، مریم اورنگزیب اور بلاول بھٹو صحافیوں کے دھرنے میں پہنچ گئے ،اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ میڈیا کے لیے اپوزیشن ایک پیج پر ہے،پارلیمنٹ میں صحافیوں کےلیے بھرپور احتجاج کیا ہے جہاں بادشاہت ہوتی ہے وہاں صحافت نہیں ہوتی،آئین سے متصادم قوانین پر خاموش نہیں رہیں گے،کسی کٹھ پتلی کے کالے قانون کو پاس ہونے نہیں دیں گے، پارليمان سے لے کر عدالت تک میڈیا کے ساتھ تھے اور رہیں گے جوزبان بندی ضیا کا کالا قانون نہ کر سکا یہ کٹھ پتلی حکومت بھی نہیں کر سکے گی میڈیا کی زبان بندی پر عدالت جائیں گے،ہر فورم پر اس بل کے خلاف آواز اٹھائیں گے

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

  • #درندے_جعفر_کو_سزا_دو ٹرینڈ، ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں امریکی نژاد کے ہاتھوں قتل ہونے والی نور مقدم کو انصاف دلوانے کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شہری پھٹ پڑے

    صارفین نے نورمقدم کے قاتل کو سزا دلوانے کا مطالبہ کیا اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نور مقدم کے قاتل درندے کو پھانسی دی جائے، ٹویٹر پر صارفین نے بڑی تعداد میں ٹویٹس کیں اور نور مقدم کو انصاف دلوانے کی اپیل کی، شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نور کے قاتلوں کو سزا ملنی چاہئے، ایسے درندے کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں

    #درندے_جعفر_کو_سزا_دو ٹرینڈ، ٹویٹر پر ٹاپ پر رہا، اس ٹرینڈ میں اہم شخصیات نے بھی ٹویٹس کیں

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تھانہ کوہسار میں درج ہونیوالے ایف آئی آر کے مطابق شوکت علی مقدم نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ 19جولائی کونورمقدم فیملی کی غیرموجودگی میں گھرسے نکلی اور ہمیں رات کے وقت اطلاع ملی کہ وہ دوستوں کے ساتھ لاہورجارہی ہے نور نے ایک دو دن میں واپس آنے کا کہا۔ ملزم ظاہر جعفر سے فیملی طرز کی جان پہچان تھی کل دوپہر ظاہرجعفر کا ٹیلیفون آیا کہ نوراس کیساتھ نہیں ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پرپہنچ کردیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

    https://twitter.com/its_Amanat/status/1437319202113789956?s=19

    https://twitter.com/pakistanZ786/status/1437314249790038025?s=19

    https://twitter.com/MalikZamad_/status/1437323714396295169?s=19

    https://twitter.com/alwaystalat/status/1437281581996072960?s=19

    https://twitter.com/RealPahore/status/1437311143513559047?s=19

    https://twitter.com/aworrior888/status/1437326889597739009?s=19

    https://twitter.com/TeamLucmanML/status/1437329519992524804

    https://twitter.com/AgentPak1979/status/1437319150410608640?s=20

    https://twitter.com/rs_janbaz/status/1437326570365071363

    https://twitter.com/RajaArshad56/status/1437310183051509764

  • پی سی بی کا نیا چیئرمین کون، انتخاب ہو گیا

    پی سی بی کا نیا چیئرمین کون، انتخاب ہو گیا

    پی سی بی کا نیا چیئرمین کون، انتخاب ہو گیا
    سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے

    رمیز راجہ کا شمار پاکستان کے ڈومیسٹک سرکٹ میں کھیلنے والے مایہ ناز بلے بازوں میں ہوتا ہے رمیز راجہ نے 13 سال تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی، 57 ٹیسٹ میچز میں نمودار ہوئے رمیز راجہ کیریئر کی اوسط 31.83 ہے اور 2 سنچریاں اسکور کیں رمیز راجہ نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میدان میں 198 میچ کھیلے اور 9 سنچریاں بنائیں رمیز راجہ نے 1992 ورلڈ کپ میں 2 سنچریاں اسکور کیں

    چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کے لیے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا جس مین رمیز راجہ چیئرمین منتخب ہوئے،اجلاس کی صدارت پی سی بی الیکشن کمشنر جسٹس ( ر)عظمت سعید نے کی اجلاس میں رمیز راجہ، وسیم خان، اسد علی خان سمیت دیگر گورننگ بورڈ ممبران شریک ہوئے رمیز راجہ پی سی بی کے36 ویں چیئرمین ہوں گے جو 3 سال کے لیے ذمہ داری سنبھالیں گے رمیز راجہ نے گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کو اپنے منصوبوں سے آگاہ کیا تھا 59سالہ رمیز راجہ نے مجموعی طور پر 255 انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے 8ہزار674انٹرنیشنل رنز بنائے رمیز راجہ کی پیدائش 14 اگست 1962 کو راجپوت گھرانے میں ہوئی رمیز راجہ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں ہی حاصل کی رمیز راجہ نے 1978 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھا رمیز راجہ نے لسٹ اے میں 9000 سے زیادہ رنز بنائے رمیزراجہ نے پہلی کلاس میچز میں 10،000 رنز بنائے

    قبل ازیں پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے عہدہ چھوڑ دیا ہے، احسان مانی کا کہنا تھا کہ وزیراعطم عمران خان کوبتا دیا مزید کام نہیں ہو سکتا احسان مانی کے عہدے کی معیار 24 اگست کو پوری ہوگئی تھی، جس کے بعد پیٹرن وزیر اعظم کی جانب سے گورننگ بورڈ کے لیے مزید 2 ارکان کی نامزدگی کرنا ہے احسان مانی نے وزیر اعظم سے دو ملاقاتیں کیں

  • گزشتہ برس کتنے مقدمات نمٹائے؟ چیف جسٹس نے بتا دیا

    گزشتہ برس کتنے مقدمات نمٹائے؟ چیف جسٹس نے بتا دیا

    کورونا کے باوجود عدالتوں کا دروازہ کھلا رکھا،گزشتہ برس کتنے مقدمات نمٹائے؟ چیف جسٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد نے نئے عدالتی سال پرفل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال میں 20910 نئے مقدمات درج ہوئے ،گزشتہ سال 12 ہزار968 مقدمات نمٹائے گئے

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ گزشتہ عدالتی سال ہر لحاظ سے پاکستان سمیت دنیابھرکیلئے مشکل سال تھا کورونا کے باعث مقدمات کو نمٹانے کی راہ میں مشکلات کا سامنا رہا،کورونا کے باوجود ہم نے عدالتوں کا دروازہ عوام کیلئے کھلا رکھا،کورونا کے باعث عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں اضافہ ہوا،گزشتہ عدالتی سال میں زیر التوا مقدمات میں اضافہ وکلا کا پیش نہ ہونا بھی ہے،گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پر45 ہزار644 زیر التوا مقدمات تھے، گزشتہ سال میں 20910 نئے مقدمات درج ہوئے ،گزشتہ سال 12 ہزار968 مقدمات نمٹائے گئے،سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک سے بھی مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے،23دسمبر کو نیشنل جوڈیشل کمیٹی نے ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی 10 سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا،پشاور ہائی کورٹ کو تجویز دی کہ ضم قبائلی اضلاع کے ججز کی تعداد میں اضافہ کرے،ہائیکورٹس کو عدالتوں کی تزئین و آرائش کیلئے فنڈز فراہم کر دئے گئے،

    سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال پرفل کورٹ ریفرنس سے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے نئے سال کے آغازپرججزکی تعداد مکمل نہیں،اعلیٰ عدلیہ میں خاتون جج کی کمی آدھی آبادی کونمائندگی سے محروم رکھے گی،سپریم کورٹ نے گزشتہ عدالتی سال میں متعدد اہم فیصلے کیے، گزشتہ عدالتی سال کے 2 فیصلے اہم رہے،ایک فیصلے کی وجہ سے بہت سے لوگ بے روزگارہوئے،دوسرے فیصلے نے ظاہرکیا خواتین ہراسگی سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کتنی بے بس تھی،آج سے پہلے بنچ اوربارکے درمیان اتنی دوریاں کھبی نہیں تھیں، وکیل ہڑتال کرتے ہیں اورعدالتوں کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں، ہڑتال مزدوروں کا ہتھیارتھا جونا انصافیوں کیخلاف استعمال ہوتا تھا، اب ہڑتال کوذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے،

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس، وکلاء مشکل میں پھنس گئے

    ہم سب ٹرائل پرہیں، اللہ بھی ہمیں دیکھ رہا ہوں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

    ستر سال سے کچھ نہیں ہوا،موجودہ حکومت نے بہت کچھ کیا،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

    پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

    بسکٹ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اس کے اشتہار میں ڈانس کیوں؟ اراکین پارلیمنٹ نے کیا سوال

    میرے پاس کوئی اختیار نہیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پیمرا نے کیا بے بسی کا اظہار

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے

    وزیراعظم صاحب جو کام گذشتہ چھ دہائیوں سے نہ ہوسکا آج وہ آپ نے کر دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

  • نورمقدم کیس،ضمانت کی درخواست پر نوٹس،نور کو انصاف دلوانے کیلئے عدالت کے باہر احتجاج

    نورمقدم کیس،ضمانت کی درخواست پر نوٹس،نور کو انصاف دلوانے کیلئے عدالت کے باہر احتجاج

    نورمقدم کیس،ضمانت کی درخواست پر نوٹس،نور کو انصاف دلوانے کیلئے عدالت کے باہر احتجاج

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ کو آج ہی وکالت نامہ داخل کرانے کی ہدایت کی،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت منظور اور منسوخ کرنے کے اصول مختلف ہیں، ہم دونوں درخواستوں کو الگ الگ سنیں گے ،عدالت نے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت ذاکر کی درخواست ضمانت پر بھی دوبارہ نوٹس جاری کر دیئے پٹیشنر کے وکیل خواجہ حارث جبکہ مدعی شوکت مقدم کی جانب سے شاہ خاور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے شاہ خاور نے عدالت کو آج ہی وکالت نامہ جمع کرانے کی یقین دہانی کروا دی شاہ خاور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مدعی شوکت مقدم کی جانب سے پاور آ ف اٹارنی آج جمع کرادوں گا،تھراپی ورکس والوں کی ضمانت منسوخی کی درخواست بھی زیر سماعت ہےعدالت مناسب سمجھے تو ان تمام درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کرے دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ اگرسماعت ملتوی ہونی ہے تو کل تک ملتوی کریں

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر نور مقدم کے قاتلوں کو سزا اور مقتولہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ،نور مقدم کے والد شوکت مقدم بھی شریک ہوئے عام مظاہروں کے برعکس مظاہرین نے کوئی نعرے بازی نہیں کی، صرف پلے کارڈز اٹھا کر اپنے مطالبات بتائے. مظاہرین نے نور مقدم کے قاتل کو سزا دلوانے کا مطالبہ کیا،پلے کارڈز پر نور کے لئے انصاف و دیگر تحریریں درج تھیں

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

    نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    نورمقدم کیس، فارنزک رپورٹ آگئی. وحشی درندہ قتل سے پہلے دو دن نور سے کیا کرتا رہا. دل دہلا دینے والے انکشافات.

    نور مقدم قتل کیس میں نیا موڑ، والدین نے درندے کو بچانے کی کیسے کوشش کی؟

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں مزید توسیع

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم کیس،تھراپی ورکس والوں کی ضمانت منسوخی پر نوٹسز جاری

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نورمقدم کیس،پولیس کی پھرتیاں، نامکمل چالان پیش،نورمقدم نے واش روم سے چھلانگ لگائی مگر، اہم انکشاف

  • کنٹونمنٹ بورڈ زانتخابات، نتائج کا سلسلہ جاری،ن لیگ دوسرے نمبر پر،تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری

    کنٹونمنٹ بورڈ زانتخابات، نتائج کا سلسلہ جاری،ن لیگ دوسرے نمبر پر،تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری

    اسلام آباد:کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات، نتائج کا سلسلہ جاری،ن لیگ دوسرے نمبر پر،تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری ،تمام 212وارڈزکے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج موصول ہوگئے ۔ حکمران جماعت کو لاہور ، راولپنڈی ، ملتان ، پشاور میں بڑا دھچکا لگاہے ۔غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 60،پاکستان مسلم لیگ (ن)59،آزادامیدواروں نے 55، پاکستان پیپلز پارٹی17،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 10،جماعت اسلامی7،عوامی نیشنل پارٹی2 اوربلوچستان عوامی پارٹی نے 2نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے ۔ملک بھر میں 7نشستوں پر پہلے ہی امیدواربلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

    لاہور کے دونوں کنٹونمنٹ بورڈز میں19میں سے 15 وارڈز پر ن لیگ کامیاب ہوگئی،راولپنڈی میں بھی میدان مارلیا،ملتان میں 10میں سے 9نشستوں پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے ،پی ٹی آئی کوئی سیٹ نہ جیت سکی۔گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی نے 10میں سے 6نشستیں جیت لیں ،کراچی میں پیپلزپارٹی،حیدرآبادمیں ایم کیوایم کی برتری رہی،خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے 18سیٹیں نکال لیں، 9آزادامیدوار فاتح رہے ،کوئٹہ میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

    لاہور میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت سے میدان مارا لاہور کنٹونمنٹ کی 10 نشستوں میں 6 نواز لیگ جیت گئی 3 سیٹیں پی ٹی آئی، ایک آزادامیدوار لے اڑا۔ والٹن کینٹ میں نواز لیگ نے کلین سویپ کیا۔ دس میں سے 9 سیٹیں جیت لیں، ایک نشست پر امیدوار کے انتقال کے باعث الیکشن نہ ہو سکا

    راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بھی نواز لیگ 9 میں سے 7 سیٹیں لے کر فاتح رہی۔ پی ٹی آئی ایک بھی نشست نہ لے سکی۔ دو آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے۔ چکلالہ کینٹ سے مسلم لیگ ن نے میدان مارلیا، دس میں سے 5 نشستیں حاصل کیں، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے دو، دو، آزاد امیدوار نے ایک سیٹ جیت لی۔

    واہ کینٹ کی 10 میں 8 سیٹوں پر مسلم لیگ ن، دو پر پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی۔ ٹیکسلا کی 3 وارڈز پر ن لیگ فاتح رہی۔ پی ٹی آئی 2 سیٹیں لے سکی، مری میں ایک نشست پر تحریک انصاف، ایک پر نواز لیگ جیتی، اٹک اور سنجوال میں دو، دو جبکہ کامرہ کینٹ میں ایک آزاد امیدوار کامیاب رہا۔ملتان کنٹونمنٹ میں حکمران جماعت کا صفایا ہو گیا۔ 10 میں سے 9 نشستیں آزاد امیداور لے اڑے۔ ایک سیٹ نواز لیگ کے حصے میں آئی، بہاولپور کی 3 وارڈز پر ن لیگ کامیاب ہوئی جبکہ 2 پر پی ٹی آئی نے کامیابی سمیٹی۔ سیالکوٹ کی 5 وارڈز میں مسلم لیگ ن تین سیٹیں لے کر فاتح رہی، تحریک انصاف دو سیٹیں لے سکی۔گوجرانوالہ میں 10 نشستوں میں سے تحریک انصاف 6 پر کامیاب رہی، مسلم لیگ ن اور آزاد امیدوار دو، دو سیٹیں لے سکے۔ منگلامیں ایک نشست نون لیگ، ایک آزاد کے حصے میں آئی۔

    سندھ میں کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق کراچی فیصل کنٹونمنٹ میں تین سیٹوں کے ساتھ پی ٹی آئی نے اکثریت حاصل کرلی۔ جماعت اسلامی کو ایک سیٹ ملی، ایک آزاد امیدوار جیتا۔ ملیر کینٹ میں بھی پی ٹی آئی چار سیٹوں کے ساتھ فاتح رہی، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے دو، دو نشستیں جیتیں، ایک آزاد امیدوار کامیاب رہا۔ کراچی کینٹ میں دو سیٹیں ایم کیو ایم، دو آزاد امیدواروں کے نام رہیں۔ کورنگی کنٹونمنٹ کی 5 میں سے 2 نشستیں ن لیگ جیت گئی۔ پی ٹی آئی، پی پی اور ایم کیو ایم کو ایک ایک سیٹ ملی۔ منوڑہ کنٹونمنٹ کی دونوں سیٹیں پیپلزپارٹی لے گئی۔ حیدرآباد میں ایم کیو ایم نے سات سیٹوں کے ساتھ برتری حاصل کرلی۔ تین پیپلزپارٹی کے نام رہیں، پنو عاقل کی ایک نشست آزاد امیدوار جیتا۔

    جہلم میں دونوں سیٹیں تحریک انصاف لے گئی۔ کھاریاں کی دونوں نشستیں بھی پی ٹی آئی کے نام رہیں۔ سرگودھا میں 5 سیٹوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، پی ٹی آئی 3، ن لیگ 2 پر فاتح رہی۔ اوکاڑہ کی 5 میں سے 4 نشستوں پر آزاد، ایک پر پی ٹی آئی کو کامیابی ملی۔

    پنوعاقل وارڈ ون کے تمام 2 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار محمد یعقوب مہر 115 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلز پارٹی کے میجر (ر) احمد علی سومرو 107 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے مردان وارڈ 2 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق اے این پی کے وحید خان 126 ووٹ لے کر کامیابرہے جبکہ تحریک انصاف کے طارق علی 92 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔لورالائی کے وارڈ نمبر ون کا مکمل غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار وحید خان 225 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ آزاد امیدوار ظریف خان 203 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔منوڑہ کینٹ وارڈ 1 کا مکمل غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ بھی آ گیا ہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے محمد طیب 111 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ آزاد امیدوار عبدالعلیم کوکنی 63 ووٹ لے سکے۔منوڑہ واڈر نمبر 2 سے پیپلزپارٹی کے فضل خان 550 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار ایاز خان 198 ووٹ لے کر دوسری نمبر پر رہے۔

    ملتان کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈ نمبر 7 کا مکمل غیر سرکاری نتیجہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار شمشاد علی انصاری 396 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار ناصر علی انصاری 318 ووٹ لے سکے۔ ملتان وارڈ نمبر تین سے مسلم لیگ ن کے اختر رسول 321 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ آزاد امیدوار خالد اسد نے 249 ووٹ حاصل کئے۔ وارڈ نمبر 6 سے آزاد امیدوار ثناء اکبر 467 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ آزاد امیدوار عارف رضا صرف 280 ووٹ حاصل کر سکے۔

    مری کے وارڈ 1 کے تمام 4 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے ملک خلیل 249 ووٹ لے کر کامیاب رہے، مسلم لیگ ن کے بلال یاسین 170 ووٹ لے سکے۔ وارڈ 2 کے تمام 4 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی نتیجہ کے مطابق مسلم لیگ ن کے اکمل نواز 478 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ تحریک انصاف کے صحبت خان 290ووٹ لے سکے۔کوہاٹ کے وارڈ نمبر 3 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سفیان الرحمان 1070 ووٹ لے کر کامیاب رہے، آزاد امیدوار شوکت نواز 457 ووٹ لے سکے۔

    پشاورکے وارڈ 5 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق وارڈ نمبر 1 سے آزاد امیدوار نعمان فاروق 705 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ آزاد امیدوار شہزادرفیق 528 ووٹ لے سکے۔جبکہ وارڈ نمبر 2 کے مکمل غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے نعیم بخش 593 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پی ٹی آئی کے علاؤالدین 515 ووٹ لے سکے۔

    ڈی آئی خان وارڈ 2 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق ٹی آئی کے ڈاکٹر انور علی 75 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ آزاد امیدوار محمد ریاض 83 ووٹ لے سکے۔سیالکوٹ کے وارڈ نمبر 3 تمام پولنگ اسٹیشنزکے غیرحتمی نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے شیخ عمر 732 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ تحریک انصاف کے کاشف صدیق 631 ووٹ لے سکے۔بنوں کے وارڈ نمبر 1 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے سمیع اللہ 366 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جےیوآئی کے حافظ زعفران 213 ووٹ لےسکے۔جبکہ وارڈ نمبر2 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جمشید محی الدین 444 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ جے یو آئی کے نعیم گل 348 ووٹ لے سکے۔منگلا کے وارڈ نمبر 2 کے غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار شکیل احمد 561 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ آزادامیدوارمحمدحسین 531 ووٹ لے سکے۔

    کراچی کے کورنگی کریک وارڈ نمبر 1 کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق ایم کیوایم کے محمدعدنان 610 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جماعت اسلامی کے گل شیر 558 ووٹ لے سکے۔جبکہ کورنگی وارڈ نمبر 2 کے غیرحتمی نتیجے مسلم لیگ ن کے محمد شوکت 824 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کےنوشاداحمد 392 ووٹ لے سکے۔ وارڈ نمبر 3 کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق تحریک انصاف کے کامران خان 828 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ جماعت اسلامی کے جہانگیر خان 329 ووٹ لیکردوسرے نمبر پر رہے۔

    اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کراچی کے کورنگی کریک وارڈ 4 کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے عامرعباسی 497 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔جبکہ وارڈ نمبر 5 کے مکمل غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق مسلم لیگ ن کے ملک جاوید اقبال 182 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کے کامران آصف 179 ووٹ لےسکے۔کنٹونمنٹ بورڈ ملیر وارڈ نمبر 1 کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق جماعت اسلامی کے ملک محمد رضا نے 258 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔کنٹونمنٹ بورڈ ملیروارڈ نمبر 4 کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے ملک امان اللہ 365 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کےعلی قاسم 346 ووٹ لے سکے۔

    کراچی کے کنٹونمنٹ بورڈ ملیر وارڈ نمبر 2 کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق تحریک انصاف کے محمد افسر خان 324 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جماعت اسلامی کے محمد اشرف 222 ووٹ لے سکے۔جبکہ ملیروارڈ نمبر 7 کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق پی ٹی آئی کے محمد واصف 273 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کے گلفام منشا 272، ایم کیو ایم کے افضل بھٹی نے بھی 272 ووٹ لیے۔چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے ملک نعیم اظہر 1706 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پی ٹی آئی کےعثمان وڑائچ 1613 ووٹ لے سکے۔

  • آذربائیجان کی میزبانی میں‌ خصوصی فوجی مشقیں”’برادرہڈ‘:پاکستان اور ترکی کی فورسز شامل

    آذربائیجان کی میزبانی میں‌ خصوصی فوجی مشقیں”’برادرہڈ‘:پاکستان اور ترکی کی فورسز شامل

    راولپنڈی: آذربائیجان کی میزبانی میں‌ خصوصی فوجی مشقیں”’برادرہڈ‘:پاکستان اور ترکی کی فورسز شامل
    ،اطلاعات کے مطابق آذربائیجان کی میزبانی میں فوجی مشقوں کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں پاک فوج کی اسپیشل فورس بھی شامل ہے۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آذربائیجان کی میزبانی میں3ملکی فوجی مشقوں کا باکو میں انعقاد کیا جارہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشقیں’برادرہڈ‘ کےنام سے ہورہی ہیں، جس میں پاکستان، آذربائیجان اور ترکی کی اسپیشل فورسز شریک ہیں۔

    پاک فوج کے ترجمان کے مطابق ان مشقوں کا آغاز گیارہ ستمبر سے ہوا، جو بائیس ستمبر تک جاری رہیں گی۔ فوجی مشقیں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے خصوصی طور پر منعقد کی گئیں ہیں۔ان فوجی مشقوں کا مقصد تینوں ممالک کی افواج میں تعاون بڑھانا اور تجربے کی بنیاد پر معلومات کا تبادلہ کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ ترکی اور آذربائیجان نے رواں سال کے آغاز پر باکو میں پانچ روزہ فوجی مشقیں کیں تھیں۔

    اس سے قبل گزشتہ برس انقرہ میں ترک اور آذربائیجان کی فوجی مشقیں اُس وقت ہوئیں تھیں جب آرمنینا کی فوج نے آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا

  • نوازشریف کی جائیدایں ،بچےاوردوست باہر:پاکستان میں ان کاکیا ہے!وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے:مبشرلقمان

    نوازشریف کی جائیدایں ،بچےاوردوست باہر:پاکستان میں ان کاکیا ہے!وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے:مبشرلقمان

    لاہور:نوازشریف کی جائیدایں باہر،بچے باہر، دوست باہر:پاکستان میں ان کا کیا ہے !وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے:مبشرلقمان نے نوازشریف کا ایسا جھوٹ بے نقاب کردیا ہے جو شاید ہمیشہ سچ رہے ، پاکستان کے سینیئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے حقائق اور نوازشریف کی روایات کوسامنے رکھتے ہوئے کچھ ایسی باتیں کردیں کہ جن کو سن کرعام شخص تو حیران رہ جائے گا مگرجونوازشریف کو جانتے ہیں وہ وہ ضرور ان حقائق کو نہیں جھٹلاسکتے ،

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس وقت تمام صحافی تنظیمیں ، وکلا باڈیز ، ڈاکٹرز، سرکاری بابو احتجاج میں مصروف ہیں مجھے نہیں معلوم ان کا کیا بنے گا حکومت انکے آگے سرنڈر کرے گی یا یہ حکومت کے آگےسرنڈر کریں گے ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر جو چیز مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ نواز شریف نے پاکستان واپس نہیں آنا ۔ اور نواز شریف تو کیا انکے سمدھی ، ببلو اور ڈبو نے بھی واپس نہیں آنا ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ گزشتہ کئی دنوں سے کبھی کوئی اٹھ کر تو کبھی کوئی لیٹ کر پھر سے یہ راگ الاپنہ شروع ہوچکا ہے کہ میاں صاحب کی اگلے مہینے ، چھ مہینے بعد یا اسی سال واپسی ہو جائے گی ۔

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر یہ جو ڈرامہ کوئین مریم نواز کہتی پھرتی ہیں کہ حالات بہت بدل گئے۔ نواز شریف جلد آئیں گے۔ تو مریم بی بی میاں صاحب تو واپس نہیں آتے ۔ پر میں یہ بتا دوں کہ آپ بھی باہر اپنے پاپی پاپا کے پاس نہیں جا سکتیں ۔ رسیدیں تو دینی پڑیں گی ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ نواز شریف کی واپسی بارے اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ میں ان کی رگ رگ سے واقف ہوں ۔ آپ دیکھ لیجئے گا جب بھی کہا جائے گا کہ میاں صاحب نے واپس آنا ہے ان کی طبیعت خراب ہوجانی ہے ۔ پھر ڈاکٹر کا بورڈ بیٹھے گا اور وہ فیصلہ کرے گا کہ میاں صآحب کا علاج پاکستان سے باہر ہی ہو سکتا ہے ۔ پاکستان گئے تو پھر رسک ہے ۔ میں بڑی اچھی طرح جانتا ہوں نواز شریف کی بیماری اور ان ڈاکٹرز کے علاج کو ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان کو بیماری نہیں ان کی نیت میں کھوٹ ہے۔ یہ سرٹیفائیڈ چور ہیں ۔ انھوں نے دونوں ہاتھوں سے اس ملک کو لوٹ لوٹ کر گنگال کر دیا ہے ۔ یہ سزا یافتہ مجرم چاہتے ہیں کہ یہ قوم پہلے ان کی غلامی کرتی تھی اب ان کے بچوں کی بھی غلامی کرے ۔ انھوں نے مذاق بنایا ہوا ہے ۔ ان کی شادیاں باہر ۔ انکے بچے باہر ، کاروبار باہر ، علاج باہر ، عیدیں باہر اور اب یہ ہم کو سناتے ہیں کہ میاں صاحب پاکستان آنے کے لیے بڑا بے چین ہیں ۔

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس حکومت کی پیدا کردہ مہنگائی، کوتاہیاں اور نااہلیاں اپنی جگہ پر قوم جانتی ہے کہ مریم کے پاپا کے پاس رسیدیں نہیں ہیں۔ ہوں بھی کیوں جب کوئی چیز اپنی جیت سے خریدی ہوتو رسیدیں ہوں نا ۔۔۔ جب عوام کے پیسے کو لوٹ کر ڈاکے ڈالے ہوں تو پھر رسیدیں نہیں ہوتیں ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ جو ن لیگی ٹی وی پر بیٹھ کر بھاشن دیتے ہیں کہ پاکستانی نواز شریف کو منت کرکے واپس لائیں گے ۔ اور چوتھی بار وزیر اعظم بھی منتخب ہونے دیں گے۔ تو میں ان کو یاد کروادوں کہ اس قوم کو العزیہ شوگر مل بھی یاد ہے ، ایوین فیلڈ بھی یاد ہے ، قطری خط ، calibre fontبھی یاد ہے ، پارک لین بھی یاد ہے ، سانحہ ماڈل ٹاون بھی یاد ہے ، کلبوشھن پر خاموشی بھی یاد ہے ۔ مودی کو بغیر ویزہ گھر بلانا بھی یاد ہے ۔ جندال کو مری کی سیر کروانا بھی یاد ہے ۔ نواز شریف کے دونوں بیٹوں کا ملک سے بھاگ جانا بھی یاد ہے ، پاناما بھی یاد ہے ۔ براڈ شیٹ بھی یاد ہے ۔

    یہ ہاں یہ بھی یاد ہے کہ احتساب عدالت نے میاں نواز شریف کو کرپشن ثابت ہونے پہ 7 سال قید بامشقت ، 5 ارب روپے تک کا جرمانہ کیا تھا ۔ مگر ان کے بوٹ پالشیوں نے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے حقائق کو توڑ مروڑ کر کچھ اسطرح سے پیش کرنا شروع کیا ہے کہ میاں صاحب عوام کی نظروں میں مجرم کے بجائے مظلوم بن جائیں۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر ایسا نہیں کہ نواز شریف کو کچھ یاد نہیں ۔ ان کو بھی اڈیالہ اور کوٹ لکھ پت جیل یاد ہے ۔ اس لیے یہ واپس نہیں آتے ۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی مجرم بھگوڑا ہوجائے اور وہ خود کہے کہ میں واپس آجاوں گا ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ اس کو پکڑکر لانا پڑتا ہے ۔ ٹھڈے مار کر ، گریبان سے پکڑ کر گھسیٹ کر لانا پڑتا ہے ۔

     

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ تو بس لیگی لیڈروں کی جانب سے ورکرز کو حوصلہ دینے کا بہانہ ہے ۔ کہ میاں صاحب آرہے ہیں ۔ ڈٹے رہو۔ میاں صاحب نے واپس آنا ہوتا تو جاتے ہی کیوں ۔ میاں صاحب کی لندن میں موج لگی ہوئی ہے کبھی پیزا کھاتے ہیں تو کبھی لندن کے ٹھنڈے موسم میں کافیاں پیتے ہیں کبھی سڑکوں پر واک کرتے ہیں تو کبھی پولو میچ دیکھتے ہیں ۔ ذرا خود سوچیں یہ سب کچھ کیا میاں صاحب یہاں کرسکتے ہیں ۔ بالکل بھی نہیں کر سکتے ۔ پاکستان میں چاہے انصاف و قانون کے معاملات خراب ہوں پر اتنی بھی اندھیر نگری چوپٹ راج نہیں کہ چور اچکے یوں موجیں مارتے پھریں جو وہ لندن میں کرتے ہیں ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے تو ان لوگوں پر حیرت ہے جو نوازشریف کو نیلسن منڈیلا سمجھتے ہیں ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ حالانکہ ووٹ کو عزت دو کی بات کرنے والوں کو جب ڈیل کا موقع ملتا ہے تو فوراً ڈیل کرکے بھاگ جاتے ہیں ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ انقلابی نہیں پاپی ہیں ۔ ان کے پاپوں کی بوئی ہوئی فصل یہ قوم کاٹ رہی ہے ۔ انھوں نے پاکستان کو پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی سمجھا ہوا تھا ۔ اسی لیے تو ان کی یہ حالت ہے کہ یہ دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ کہیں کسی عام پاکستان نے دیکھ لیا تو خوب برا بھلا کہنا ہے ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب لوگ بھی نواز شریف کو جھوٹا اور بھگوڑا قرار نہ دیں تو کیا کریں ۔ کیونکہ یہ جھوٹی رپورٹس بنوا کر اور جعلی بیمار بن کر ملک سے فرار ہوا ہے ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس لیے ان میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ پاکستان واپس آئیں اور عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں، نواز شریف جس طرح برطانیہ میں گھوم پھر رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بیمار نہیں۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ اتنے ہی غیرت مند ہوتے تو برطانیہ میں ایکسپائرڈ پاسپورٹ کے ساتھ بھگوڑے بن کرنہ بیٹھے ہوتے ۔ واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرتے۔ شرم کی بات ہے کہ ملک کا سابق وزیر اعظم مفرور ہے، انہیں واپس آ کر سیدھا جیل جانا چاہئے۔

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ لیڈر کوئی بھی ہو اسکی اخلاقی اتھارٹی کیا رہ جاتی ہے جب وہ بیماری کا بہانہ بنا کر علاج کیلئے ملک سے باہر چلا جائے اور پھر واپس آنے کی بجائے لندن میں بیٹھ کر ریاستی اداروں کے خلاف جارحانہ خطاب کرے۔ پاکستان کے عوام اگر بیدار باشعور اور منظم ہوں تو وہ کبھی کسی آزمائے ہوئے سیاستدان کو دوبارہ آزمانے پر آمادہ نہ ہوں۔ افسوس پاکستان کے سیاستدان عوام کو بار بار بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور یہی ہمارے ملک کا قومی المیہ ہے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین پاک فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے اور اسے تضحیک کا نشانہ بنانے یا عوام کے اندر اداروں کے بارے میں نفرت پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیتا مگر اسکے باوجود میاں نواز شریف سلامتی اور انصاف کے اداروں پر کھلم کھلا تنقید کر رہے ہیں جو پاکستان کی آزادی اور سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کیا اب بھی کسی کو کوئی شک باقی رہ گیا ہے کہ میاں نواز شریف انقلابی ہیں ۔ حقیقت میں یہ خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور الطاف حسین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں انہیں بھارت کی مدد حاصل ہے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کیا کوئی اس سوال کا جواب دینا پسند کرے گا کہ سعودی عرب اور دبئی میں کس طرح اربوں کا بزنس کیا؟اس کا سچا اور کھرا جواب تو شریف فیملی کے پاس کل تھا اور نہ آج ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ پھر اِس کا جواب نہ تو کوئی لیگی دے سکتی ہے اور نہ ہی نواز شریف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر میرے پاس جواب ہے یہ پیسہ حکومتی ٹھیکوں، بڑے بڑے پروجیکٹس سے کمیشن اور کک بیکس سے کمایا گیا۔ یہ ہنڈی ، ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ سے بنایا گیا ۔ دراصل میاں نواز شریف اپنے خاندان کو کرپشن کیسوں سے بچانے کیلئے اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ ان کو پاکستان کے قومی مفادات کا ذرہ بھر بھی احساس نہیں رہا۔ اب یہ پاکستان کے دوسرے الطاف بنتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں نہ الطاف واپس آیا نہ ہی اب نواز واپس آئے گا ۔

     

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر یاد رکھیں جب جب اس ملک میں کرپشن کنگ کی بات آئے گی تو نوازشریف کو ہی سب سے بڑے کرپٹ ، چور اوربھگوڑے کا خطاب دیا جائے گا۔ عدالت سے بھاگ جانانہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ جو بھی مال ان کے پاس ہے وہ کرپشن کا ہے۔ ورنہ حلال اور اپنی محنت کا ہوتا تو سینہ تان کر۔عدالت آتے اور رسیدیں دکھا کر اپنا مال حلال ثابت کرتے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے تو لگتا کہ میاں صاحب نے دولت اور جائیداد اپنے بیٹوں کے نام ہی اس لئے رکھی کہ یہ دلیل دے سکے کہ دادا نے پوتوں کو دی۔ بیٹوں کو غیر ملکی شہری اسلئے رکھا کہ پاکستان کا قانون ان پہ لاگو نہ ہوسکے اور ان کو گرفتار کرکے عدالتی کاروائی میں شامل نہ کیا جاسکے۔ کیونکہ جب تک ملزم عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہو اس کے خلاف نیب کیس آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس سارے کھیل میں جہاں میاں نواز اور بیٹی کو جیل ہوئی وہاں ان کے بیٹے اور انہی جائیداد محفوظ رہی۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر دنیا کو بھی معلوم ہے کہ حسن و حسین نواز مفرور ہی اسلئے ہیں کہ جو بھی مال و جائیداد ان کے پاس ہے وہ دادا کا دیا ہوا نہیں پاپا کے کرپشن کی کمائی ہے۔ یوں یہ پورا ٹبر چور ہے ۔ میاں صاحب کیا ان کا کوئی بیٹا بھی پاکستان واپس آتے دیکھائی نہیں دیتا ۔