Baaghi TV

Category: صحت

  • شدید گرمی اور ذہنی صحت،  عالمی منصوبہ بندی میں اہم پہلو نظر انداز

    شدید گرمی اور ذہنی صحت، عالمی منصوبہ بندی میں اہم پہلو نظر انداز

    ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کے اثرات صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں بلکہ ذہنی صحت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تازہ تحقیق کے مطابق دنیا کے 24 ممالک میں تیار کیے گئے 83 ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلانز کا جائزہ لیا گیا جس سے انکشاف ہوا کہ ان میں ذہنی صحت کے خطرات یا اثرات کو یا تو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا یا اس پر ناکافی اقدامات تجویز کیے گئے۔

    تحقیق کے مطابق 75 فیصد منصوبوں میں ذہنی صحت کا عمومی تذکرہ موجود ہے۔صرف 31 فیصد منصوبے ایسے ہیں جن میں گرمی کی شدت سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل، مثلاً خودکشی کے خطرات یا دماغی ایمرجنسیز کی نشان دہی کی گئی۔زیادہ تر منصوبوں میں عملی حکمت عملیاں اور بچاؤ کے اقدامات شامل نہیں۔

    ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت کے دوران ڈپریشن اور اضطراب میں اضافہ، نیند کی خرابی، معاشی دباؤ و بے گھری کا خطرہ اور سماجی تنہائی اور دماغی دباؤ جیسے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیںیہ تحقیق ان ممالک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے جہاں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جیسے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ۔

    ماہرین کی رائے میں ان ممالک کو اپنے ہیٹ ایکشن پلانز میں فوری طور پر ذہنی صحت کے پہلوؤں کو شامل کرنا چاہیے اور ذہنی صحت کے ماہرین کی مشاورت سے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔گرمی کے سیزن سے قبل عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ذہنی و نفسیاتی مدد کے لیے خصوصی ہیلپ لائنز اور ہنگامی خدمات مہیا کی جائیں۔

    تحقیق میں شامل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا ایک خطرناک غفلت ہے.صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی فلاح کو بھی پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں ان ماحولیاتی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

    گرمی کے دنوں میں پانی کا وافر استعمال کریں، نیند پوری کریں، خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کریں، اور اگر ذہنی دباؤ یا بے چینی محسوس ہو تو قریبی ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رجوع ضرور کریں۔

    پی پی 52 ضمنی انتخاب: انتخابی مہم پر 30 مئی کی رات 12 بجے سے مکمل پابندی

    وفاقی ترقیاتی بجٹ 2025-26، ایک ہزار ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان

    مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، طلبا و فیکلٹی سے خطاب

  • بنوں اور لکی مروت سے پولیو کے 2 نئے کیسز سامنے آ گئے

    بنوں اور لکی مروت سے پولیو کے 2 نئے کیسز سامنے آ گئے

    پشاور:خیبر پختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے صوبے میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق، بنوں اور لکی مروت سے تعلق رکھنے والے دو کمسن بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہےنیشنل انسٹیٹیو ٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسداد پولیو نے ان کیسز کی تصدیق کی ہے بنوں کی یونین کونسل سین تانگہ سے 28 ماہ کے ایک بچے میں جبکہ لکی مروت کی یونین کونسل بخمل احمد زئی سے 26 ماہ کی ایک بچی میں وائرس پایا گیا۔

    ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، یو سی بخمل احمد زئی لکی مروت میں سینکڑوں بچے پولیو ویکسین سے محروم ہیں۔

    بھارت کو رافیل کی فروخت،کرپشن،فرانس میں تحقیقات،جج کو ذمہ داری مل گئی

    محکمہ صحت کے مطابق، رواں سال خیبر پختونخوا میں بنوں سے دو جبکہ تورغر، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہےملک بھر میں اب تک پولیو کے کل 10 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں خیبرپختونخوا سے 5، سندھ سے 4 اور پنجاب سے ایک کیس شامل ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال 2024 میں ملک بھر میں پولیو کے 74 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، ان میں بلوچستان سے 27، سندھ سے 23، خیبرپختونخوا سے 22 جبکہ پنجاب اور اسلام آباد سے ایک ایک کیس شامل تھا۔

    شالیمار ایکسپریس ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی، 12 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 5 زخمی

    محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو سے بچاؤ کے لیے بچوں کو بروقت ویکسین دلائیں اور انسداد پولیو مہمات میں بھرپور تعاون کریں۔

  • پنجاب:محکمہ صحت میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ غائب

    پنجاب:محکمہ صحت میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ غائب

    پنجاب کے محکمہ صحت میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کی خطیر رقم کے اخراجات کا ریکارڈ غائب ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے دور حکومت میں مالی سال 2020-21 کے دوران یہ رقم خرچ کی گئی، تاہم آڈٹ ڈپار ٹمنٹ کی بارہا کوششوں کے باوجود اس کا کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا سکا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں محکمہ صحت کے افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس ریکارڈ نہیں، سی اینڈ ڈبلیو سے معلوم کریں-

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹو کے چیئرمین علی حیدر گیلانی نے اس معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

    متنازعہ کینالز منصوبہ رانا ثنااللہ اور شرجیل میمن کا رابطہ، بات چیت پر اتفاق

    کورونا کے دوران غیر ملکی دوست ممالک کی جانب سے دیئے گئے وینٹیلیٹرز بھی استعمال نہ کیے جا سکے اور خراب پڑے رہے، کمیٹی نے محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ خراب وینٹیلیٹرز کو فوری طور پر مرمت کروایا جائے تاکہ عوام کو بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

    صدر مملکت کی ایسٹر کے موقع پرمسیحی برادری کو دلی مبارکباد دی

  • پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو ایکسپائر اسٹنٹس ڈالنے کا انکشاف

    پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو ایکسپائر اسٹنٹس ڈالنے کا انکشاف

    لاہور: شعبہ صحت میں آڈٹ کے دوران پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں سنگین مالی اور طبی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ادارے میں 2021 کے جولائی سے دسمبر 2022 کے دوران کم از کم 22 مریضوں کو مکمل طور پر ایکسپائر اسٹنٹس لگائے گئے، جبکہ نو مریضوں کو ایسے اسٹنٹس ڈالے گئے جن کی معیاد ختم ہونے کے قریب تھی، یعنی ان کی صرف تین فیصد مؤثر مدت باقی تھی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل نے اسٹاک اور مریضوں کی فائلز کا تفصیلی معائنہ کیا، جس کے دوران 263 ملین روپے (26 کروڑ 30 لاکھ) کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی ہوا، جو ایکسپائر اسٹنٹس اور ادویات کی خریداری میں کی گئیں، آڈیٹر جنرل کی جانب سے اس سنگین معاملے پر وضاحت طلب کی گئی تاہم محکمہ صحت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخِ معیاد ختم ہونے کے بعد اسٹنٹس لگانا نہ صرف غیر قانونی بلکہ مریضوں کی جان کے لیے خطرناک ہے، اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔

  • ملک کے 20 اضلاع  کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک کے 20 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    اسلام آباد: ملک کے 20 اضلاع کے 25 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) فار پولیو کے مطابق کے مطابق کوئٹہ، خضدار، لاہور، ملتان، نوری آباد، بنوں، لکی مروت اور بہاولپور سمیت 20 اضلاع کے نمونوں میں وائرس موجود ہے ملک کے 31 اضلاع کے 35 ماحولیاتی نمونوں کے منفی ہو نے کی تصدیق ہوئی ہے، مسلسل مہمات کے نتیجے میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ اور کیسز میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

    قومی ادارہ صحت کے مطابق بلوچستان کے بھی 9 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں دکی،کیچ، لسبیلہ، لورالائی،پشین،نصیرآباداوراوستہ محمد شامل ہیں، ان اضلاع سے ماحولیاتی نمونے 5 سے 19مارچ تک لیے گئے تھے 21 تا 27 اپریل ملک بھر میں قومی پولیو مہم کا انعقاد کیا جائے گا، مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔

    پشاور: ایکسائز پیٹرولنگ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،3 اہلکار شہید

    نیشنل ای او سی نے والدین سے درخواست کی ہے کہ بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں، مسلسل ویکسینیشن کی بدولت قوتِ مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی

  • ملک میں  رواں سال کا چھٹا پولیو کیس سامنے آگیا

    ملک میں رواں سال کا چھٹا پولیو کیس سامنے آگیا

    کراچی:پاکستان میں رواں سال کا چھٹا پولیو کیس سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی: سندھ کے ضلع ٹھٹھہ سے پولیو کا ایک نیا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد صوبے میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد چار ہوگئی ہے، جبکہ ملک بھر میں یہ چھٹا کیس ہے ،نئے کیس کی تصدیق کے بعد محکمہ صحت نے متاثرہ علاقے میں انسدادِ پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    یاد رہے کہ 28 فروری کو ایک پولیو کیس سندھ کے ضلع قمبر اور دوسرا پولیو کیس پنجاب کے منڈی بہاؤالدین سے رپورٹ ہوا تھا جبکہ گز شتہ سال 2024 میں پاکستان میں مجموعی طور پر 74 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ ان میں سے 27 بلوچستان، 23 سندھ، 22 خیبرپختونخوا، جبکہ ایک ایک کیس پنجاب اور اسلام آباد سے سامنے آیا تھا۔

    پاکستان اٹلی کے مابین مشاورت کا چھٹا دور،عوامی روابط کے شعبہ جات میں مزید تعاون پر گفتگو

    مولانا حامد الحق کی جگہ ان کے بھائی نائب مہتمم مقرر

    تمام بینک 3 مارچ کوعوامی لین دین کے لیے بند رہیں گے

  • روزے اور  الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    روزے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    سائنسدانوں نے وقفے وقفے سے روزہ رکھنے (Intermittent Fasting) اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تحقیق کے مطابق روزانہ مخصوص اوقات میں کھانے کی عادت نہ صرف یادداشت کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ الزائمر کی علامات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے،روزہ رکھنے کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے یہ نہ صرف دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ، بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے انسولین کی سطح متوازن رکھتا ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے، جس سے وزن میں کمی ممکن ہوتی ہے نیند، ہارمونی نظام اور مجموعی دماغی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

    رمضان کے روزے، جن میں مسلمان سال بھر میں ایک مہینے تک روزانہ 14 سے 16 گھنٹے بغیر کھانے پینے کے رہتے ہیں، صرف روحانی عبادت نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتے ہیں جبکہ جدید تحقیق اب یہ ثابت کر رہی ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا دماغی صحت، نیند کے معیار اور جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین تال) کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق، روزانہ 10 گھنٹے کی مخصوص مدت میں کھانے سے نہ صرف علمی صلاحیتیں (Cognitive Abilities) بہتر ہو سکتی ہیں بلکہ دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر کو کم کیا جا سکتا ہے، جو الزائمر کی ایک بڑی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صبح 8 بجے ناشتہ کرتا ہے، تو شام 6 بجے تک اسے کھانے سے رک جانا چاہیے۔

    تحقیق میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے ان کی یادداشت اور نیند کے انداز میں بہتری آئی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غذا نہ صرف ڈیمنشیا (دماغی کمزوری) سے بچا سکتی ہے بلکہ اس کی علامات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 فیصد الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال (Circadian Rhythm) یعنی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی میں خلل پیدا ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے انہیں نیند میں دشواری ہوتی ہے اور رات کے وقت ان کی ذہنی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔

    سرکیڈین تال جسم کے 24 گھنٹے کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، جس میں نیند، جسمانی درجہ حرارت، میٹابولزم اور ہارمونی نظام شامل ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ الزائمر کے مریض اکثر رات کے غیر متوقع اوقات میں جاگ جاتے ہیں اور الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے زخمی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الزائمر کے کئی مریضوں کو رہائشی دیکھ بھال کی ضرورت پیش آتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کی نیورو سائنس دان، ڈاکٹر پاؤلا ڈیسپلاٹس (Paula Desplats)، جو اس تحقیق کی سربراہ بھی ہیں نے کہا کہ ہم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال کی خرابی نیوروڈیجنریشن (دماغی خلیوں کی تباہی) کا نتیجہ ہے، لیکن اب ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ خرابی خود الزائمر کے آغاز کا ایک سبب بھی ہو سکتی ہے۔’

    تحقیق میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہوں کو شامل کیا گیا، جنہیں الزائمر جیسی علامات لاحق تھیں، جیسے یادداشت کی کمزوری، رات کے وقت بے چینی اور دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر۔ ان چوہوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو دن بھر کھانے کی آزادی دی گئی،دوسرے گروپ کو روزانہ صرف 6 گھنٹوں کے اندر کھانے کی اجازت تھی، جبکہ باقی 18 گھنٹے وہ روزہ رکھتے۔

    وہ چوہے جو مخصوص کھانے کے اوقات پر عمل پیرا رہے، ان میں الزائمر سے جُڑے درجنوں جینز میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ان کے علمی امتحانات کے نتائج بہتر ہوئے، نیند کے مسائل کم ہوئے اور ان کے سرکیڈین تال میں بہتری آئی۔

    مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے نہ صرف نئے امائلائیڈ پروٹین کے بننے کی رفتار کم ہو گئی بلکہ پہلے سے موجود امائلائیڈ تختیاں بھی کم ہونے لگیں، جس کا مطلب ہے کہ دماغ انہیں خود صاف کرنے لگا تھا جس چیز کو سائنس آج دریافت کر رہی ہے یا انکشاف کر رہی ہے، وہ حقیقت میں اسلام میں چودہ سو سال پہلے ہی واضح کر دی گئی تھی۔

  • ملک کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی: ملک بھر کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: قومی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے اور یہ نمونے 6 جنور ی سے 15 جنوری کے دوران حاصل کیے گئے تھے،کراچی کے مختلف اضلاع بشمول سینٹرل، ایسٹ، کورنگی، ملیر، ساؤتھ، ویسٹ اور کیماڑی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع بدین، گھوٹکی، حیدرآباد، جیکب آباد، قمبر، میرپورخاص، سجاول اور سکھر کے سیوریج میں بھی وائرس پایا گیا۔

    خیبرپختونخوا میں ایبٹ آباد، باجوڑ، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور پشاور کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، بلوچستان کے اضلاع چمن، لورالائی اور کوئٹہ جبکہ پنجاب کے اضلاع لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں بھی پولیو ٹیسٹ مثبت آیا ہے،سال 2025 کی پہلی ملک گیر پولیو مہم 3 فروری سے شروع ہو گی۔

    فلسطینیوں کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، مولانا فضل الرحمان

    لاس اینجلس : خوفناک آگ پر3ہفتوں بعدقابو پالیاگیا، نقصانات کا تخمینہ کتنا؟

    لندن کے میئر صادق خان کا 10 ملین پاؤنڈ کی تاریخی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان

  • سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے سندھ اسمبلی میں معاملہ اٹھایا ہے کہ ایچ آئی وی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے گزشتہ چند سالوں میں پانچ ہزار مریض جان سے جا چکے ہیں پچیس ہزار افراد اب بھی متاثر ہیں جن میں سے تئیس ہزار مریض کراچی سمیت سندھ کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ماہرین صحت کے مطابق ایڈز ایک ہیمو فیلیکس وائرس (HIV) کی وجہ سے ہوتا ہے ایڈز ایک ایسا مرض ہے جو انسان کے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے ایچ آئی وی وائرس انسان کے جسم میں داخل ہو کر خون کے سفید خلیوں، جنہیں سی ڈی 4 (CD4) خلیے کہتے ہیں کو تباہ کرتا ہے۔ یہ خلیے جسم کی مدافعتی صلاحیت کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ماہرین نے بتایاکہ جب ایچ آئی وی وائرس کا حملہ زیادہ شدت اختیار کرتا ہے، تو مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے ایڈز کی بیماری کا آغاز ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایڈز کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں اور اس کا پتہ کئی سال بعد چل سکتا ہے جب تک کہ وائرس مدافعتی نظام کو بہت زیادہ نقصان نہ پہنچا دے۔ ایڈز کے مریضوں میں انفیکشنز اور سرطان جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ جسم ان بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی مدافعتی طاقت کھو چکا ہوتا ہے

    ۔ماہرین نے بتایاکہ ایڈز کا علاج نہیں ہے لیکن اینٹی ریٹرووائرل (ART) ادویات کے ذریعے ایچ آئی وی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور مریض کی زندگی کو لمبا کیا جا سکتا ہے ایچ آئی وی کا پھیلا غیر محفوظ جنسی تعلقات، مشترکہ سرنجوں کے استعمال اور متاثرہ خون کی منتقلی کے ذریعے ہوتا ہیاس لیے اس کے پھیلا کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔

    سوشل میڈیاکا غلط استعمال، دوست ممالک میں 210 پاکستانی گرفتار

    رائٹ سائزنگ پالیسی،ریلوے سے 17 ہزار پوسٹیں ختم

    کیٹی بندر پورٹ،سندھ حکومت کی وفاق سے این او سی کی درخواست

    مریم سندھ کو دے دیں، تاجر عتیق میر اپنے بیان سے مکرگئے

    کراچی : 26 دنوں میں چار افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بنے

  • طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین صحت نے انکشاف کیا ہے کہ طلاق یافتہ والدین کے بچوں کو فالج کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی : جریدے PLOS One میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ جن بچوں کے والدین نے بچپن میں طلاق لی ہو، ان میں آنے والی زندگی میں فالج کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 13,000 افراد کا جائزہ لیا گیا، تحقیق کے نتائج کے مطابق جن افراد کے والدین نے ان کی 18 سال کی عمر سے پہلے طلاق لے لی تھی، ان میں فالج کا سامنا کرنے کا امکان ایسے افراد کے مقابلے میں جو محفوظ خاندانوں میں پلے بڑھے تھے 60 فیصد زیادہ تھا۔

    تحقیق کی سربراہ اور ٹورنٹو کی ٹنڈیل یونیورسٹی میں نفسیات کی لیکچرر، ڈاکٹر میری کیٹ شلکے نے بتایا کہ والدین کی طلاق، فالج کے خطرے کو کئی دیگر اہم عوامل جیسے سگریٹ نوشی، کم جسمانی سرگرمی، کم آمدنی، اور تعلیم کے اثرات سے بھی بڑھا دیتی ہے اگر ان تمام عوامل کو نظرانداز بھی کر دیا جائے، تو بھی والدین کی طلاق کا تجربہ بڑی عمر میں فالج کے خطرے کو 61 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق، فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ میں خون کی فراہمی رک جاتی ہے یا دماغ کی کوئی خون کی نالی پھٹ جاتی ہے، جس سے دماغی نقصان اور طویل مدتی معذوری پیدا ہو سکتی ہے۔

    حالانکہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی تھی اور یہ ثابت نہیں کرتی کہ طلاق براہ راست فالج کا سبب بنتی ہے تاہم، تحقیق میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ والدین کی طلاق کئی ایسے عوامل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جو فالج کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جیسے ڈپریشن، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور موٹاپا۔

    فالج کی علامات کی بروقت نشاندہی سے فوری طبی علاج ممکن ہوتا ہے اس کے لیے فالج کی علامات کو جاننا ضروری ہے فالج کی علامات میں شامل ہیں، چہرے، بازو یا ٹانگ میں اچانک بے حسی یا کمزوری کا محسوس ہونا خاص طور پر جسم کے ایک طرف، اچانک الجھن، بولنے میں مشکل، یا بات کو سمجھنے میں دشواری، ایک یا دونوں آنکھوں میں دیکھنے میں اچانک پریشانی، چلنے میں دقت، چکر آنا، توازن کھونا یا ہم آہنگی کی کمی، اگرفالج کی علامات کو جلدی پہچان لیا جائے تو یہ علاج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔