Baaghi TV

Category: صحت

  • ملک میں پولیو کا نیا کیس رپورٹ، مجموعی تعداد 24 ہوگئی

    ملک میں پولیو کا نیا کیس رپورٹ، مجموعی تعداد 24 ہوگئی

    جنوبی خیبرپختونخوا میں ایک نیا کیس سامنے آگیا،جس کے بعد رواں برس کے دوران ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے پیر کو ضلع ٹانک کی یونین کونسل پنگ اے سے تعلق رکھنے والی 20 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تشخیص کی تصدیق کی ہےمتاثرہ بچی کا تعلق بیتنی قبیلے سے ہے اور وہ تحصیل جنڈولہ میں رہائش پذیر ہے، جو کہ سیکیورٹی کے لحاظ سے نہایت حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق بچی کی کوئی سفری تاریخ موجود نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس اب بھی مقامی سطح پر گردش کر رہا ہے، تاہم وائرس کے جینیاتی تجزیے کی رپورٹ ابھی باقی ہےیہ کیس رواں سال جنوبی خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہونے والا 14واں کیس ہے، صوبائی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2025 میں 16 کیس خیبرپختونخوا، 6 سندھ، جبکہ پنجاب اور گلگت بلتستان سے ایک ایک کیس سامنے آیا ہے۔

    پنجاب حکومت کا جاں بحق اسسٹنٹ کمشنر پتوکی کو اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے حکام نے اس پیشرفت کو تشویشناک مگر متوقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹانک، شمالی و جنوبی وزیرستان اور دیگر قریبی قبائلی اضلاع میں بچوں تک رسائی میں رکاوٹیں پولیو کے مکمل خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

    پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد 2 ممالک ہیں جہاں معذور کردینے والا پولیووائرس اب بھی موجود ہے، عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کی معاونت سے ملک بھر میں مہمات جاری ہیں لیکن دور دراز یا شورش زدہ علاقوں میں لاکھوں بچے اب بھی حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

    ملک میں انسداد پولیو مہم شروع، 2.8 کروڑ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

  • بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی

    ملک میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ہوگئے، سندھ کے ضلع بدین اور خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر کوہستان سے نئے پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو کے مجموعی طور پر 21 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم یکم ستمبر سے شروع ہوگی،این ای او سی نے والدین سے بچوں کو قطرے پلانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے، بچاؤ صرف ویکسین سے ممکن ہے، ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم یکم ستمبر سے شروع ہوگی، والدین بچوں کو قطرے پلوا کر عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتے ہیں۔

    نئے گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کیلئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال

    نیشنل ای او سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ والدین پولیو ویکسین کے ساتھ حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی بروقت مکمل کروائیں، انسدادِ پولیو مہم میں والدین اور کمیونٹی کا کردار اہم ہے، پولیو ورکرز سے تعاون بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

    ملک میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی، مری میں کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ

  • خیبر پختونخوا سے پولیو کا نیا کیس سامنے آگیا

    خیبر پختونخوا سے پولیو کا نیا کیس سامنے آگیا

    خیبر پختونخوا سے پولیو کا نیا کیس سامنے آگیا،ضلع ٹانک میں 10 ماہ کے بچے کے پولیو سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوگئی-

    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ )،اسلام آباد کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسدا پولیو نے جنوبی خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک سے پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق کی ہے،یونین کونسل ملازئی، ضلع ٹانک سے تعلق رکھنے والے 10 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جو رواں سال خیبر پختونخوا سے سامنے آنے والا11واں کیس ہے اس کے ساتھ ہی سال 2025 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

    این ای او سی نے بتایا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے جنوبی خیبرپختونخوا پر خصوصی توجہ مرکوز ہے جس کے لیے نیا ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے۔

    ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کے اعدادوشمار جاری

    پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو اور نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر نے پشاور میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے ملاقات کی،اس ملاقات میں جاری اقدامات، مہم کی کارکردگی، موجودہ چیلنجز اور جنوبی اضلاع، خاص طور پر ٹانک، میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہدفی حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سونے کی قیمت میں مزید کمی

  • پاکستان میں پولیو وائرس ایک بار پھر خطرناک حد تک پھیلنے لگا

    پاکستان میں پولیو وائرس ایک بار پھر خطرناک حد تک پھیلنے لگا

    پاکستان میں پولیو کیسز میں اضافہ، مزید 3 نئے کیسز کی تصدیق ہو گئی،جسکےبعدرواں سال کے دوران پولیو کیسز کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق خیبرپختونخوا میں دو جبکہ سندھ میں ایک نئے پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہےخیبرپختونخوا کے اضلاع شمالی وزیرستان اور لکی مروت سے پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں بھی ایک بچہ پولیو وائرس کا شکار پایا گیا ہےپولیو وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم مسلسل کیسز سامنے آنا قومی صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے پولیو وائرس کمزور قوتِ مدافعت والے بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔

    محکمہ صحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو ہر بار پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔

    ہزاروں افراد کا احتجاج، وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    عمران خان نےضمانت منسوخی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سیالکوٹ: فانا گینگ کا سرغنہ گرفتار، لاکھوں کا مال مسروقہ اور اسلحہ برآمد

  • ملک بھر کے47 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک بھر کے47 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک بھر کے47 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

    پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے بتایا کہ مئی میں 116 ماحولیاتی نمونے پولیو کی جانچ کیلئے جمع کیے گئے تھے، 69 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی جب کہ پولیو وائرس 34 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا۔

    سندھ کے 14 اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی، خیبرپختونخوا کے 8، بلوچستان کے 6 اور پنجاب کے 4 اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی،اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے ایک ضلع کا ماحولیاتی نمونہ بھی مثبت پایا گیا جب کہ اسلام آباد کے ماحولیاتی نمونے میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    اسرائیل کا ایران میں 14 منزلہ رہائشی عمارت پر حملہ،60 افراد کی موت

    پاکستان انسداد پولیو پروگرام کے مطابق تمام ماحولیاتی نمونوں میں جنگلی پولیو وائرس ٹائپ 1پایا گیا ہے، ملک بھر میں 47 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی تشویشناک ہے، پولیو وائرس کی موجودگی بچوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے، والدین بچوں کو بار بار پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔

    تبریز میں اسرائیلی حملہ،دو افراد شہید،تہران جل جائے گا،اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

  • شدید گرمی اور ذہنی صحت،  عالمی منصوبہ بندی میں اہم پہلو نظر انداز

    شدید گرمی اور ذہنی صحت، عالمی منصوبہ بندی میں اہم پہلو نظر انداز

    ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کے اثرات صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں بلکہ ذہنی صحت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تازہ تحقیق کے مطابق دنیا کے 24 ممالک میں تیار کیے گئے 83 ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلانز کا جائزہ لیا گیا جس سے انکشاف ہوا کہ ان میں ذہنی صحت کے خطرات یا اثرات کو یا تو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا یا اس پر ناکافی اقدامات تجویز کیے گئے۔

    تحقیق کے مطابق 75 فیصد منصوبوں میں ذہنی صحت کا عمومی تذکرہ موجود ہے۔صرف 31 فیصد منصوبے ایسے ہیں جن میں گرمی کی شدت سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل، مثلاً خودکشی کے خطرات یا دماغی ایمرجنسیز کی نشان دہی کی گئی۔زیادہ تر منصوبوں میں عملی حکمت عملیاں اور بچاؤ کے اقدامات شامل نہیں۔

    ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت کے دوران ڈپریشن اور اضطراب میں اضافہ، نیند کی خرابی، معاشی دباؤ و بے گھری کا خطرہ اور سماجی تنہائی اور دماغی دباؤ جیسے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیںیہ تحقیق ان ممالک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے جہاں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جیسے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ۔

    ماہرین کی رائے میں ان ممالک کو اپنے ہیٹ ایکشن پلانز میں فوری طور پر ذہنی صحت کے پہلوؤں کو شامل کرنا چاہیے اور ذہنی صحت کے ماہرین کی مشاورت سے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔گرمی کے سیزن سے قبل عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ذہنی و نفسیاتی مدد کے لیے خصوصی ہیلپ لائنز اور ہنگامی خدمات مہیا کی جائیں۔

    تحقیق میں شامل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا ایک خطرناک غفلت ہے.صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی فلاح کو بھی پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں ان ماحولیاتی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

    گرمی کے دنوں میں پانی کا وافر استعمال کریں، نیند پوری کریں، خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کریں، اور اگر ذہنی دباؤ یا بے چینی محسوس ہو تو قریبی ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رجوع ضرور کریں۔

    پی پی 52 ضمنی انتخاب: انتخابی مہم پر 30 مئی کی رات 12 بجے سے مکمل پابندی

    وفاقی ترقیاتی بجٹ 2025-26، ایک ہزار ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان

    مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، طلبا و فیکلٹی سے خطاب

  • بنوں اور لکی مروت سے پولیو کے 2 نئے کیسز سامنے آ گئے

    بنوں اور لکی مروت سے پولیو کے 2 نئے کیسز سامنے آ گئے

    پشاور:خیبر پختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے صوبے میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق، بنوں اور لکی مروت سے تعلق رکھنے والے دو کمسن بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہےنیشنل انسٹیٹیو ٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسداد پولیو نے ان کیسز کی تصدیق کی ہے بنوں کی یونین کونسل سین تانگہ سے 28 ماہ کے ایک بچے میں جبکہ لکی مروت کی یونین کونسل بخمل احمد زئی سے 26 ماہ کی ایک بچی میں وائرس پایا گیا۔

    ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، یو سی بخمل احمد زئی لکی مروت میں سینکڑوں بچے پولیو ویکسین سے محروم ہیں۔

    بھارت کو رافیل کی فروخت،کرپشن،فرانس میں تحقیقات،جج کو ذمہ داری مل گئی

    محکمہ صحت کے مطابق، رواں سال خیبر پختونخوا میں بنوں سے دو جبکہ تورغر، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہےملک بھر میں اب تک پولیو کے کل 10 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں خیبرپختونخوا سے 5، سندھ سے 4 اور پنجاب سے ایک کیس شامل ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال 2024 میں ملک بھر میں پولیو کے 74 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، ان میں بلوچستان سے 27، سندھ سے 23، خیبرپختونخوا سے 22 جبکہ پنجاب اور اسلام آباد سے ایک ایک کیس شامل تھا۔

    شالیمار ایکسپریس ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی، 12 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 5 زخمی

    محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو سے بچاؤ کے لیے بچوں کو بروقت ویکسین دلائیں اور انسداد پولیو مہمات میں بھرپور تعاون کریں۔

  • پنجاب:محکمہ صحت میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ غائب

    پنجاب:محکمہ صحت میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ غائب

    پنجاب کے محکمہ صحت میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کی خطیر رقم کے اخراجات کا ریکارڈ غائب ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے دور حکومت میں مالی سال 2020-21 کے دوران یہ رقم خرچ کی گئی، تاہم آڈٹ ڈپار ٹمنٹ کی بارہا کوششوں کے باوجود اس کا کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا سکا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں محکمہ صحت کے افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس ریکارڈ نہیں، سی اینڈ ڈبلیو سے معلوم کریں-

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹو کے چیئرمین علی حیدر گیلانی نے اس معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

    متنازعہ کینالز منصوبہ رانا ثنااللہ اور شرجیل میمن کا رابطہ، بات چیت پر اتفاق

    کورونا کے دوران غیر ملکی دوست ممالک کی جانب سے دیئے گئے وینٹیلیٹرز بھی استعمال نہ کیے جا سکے اور خراب پڑے رہے، کمیٹی نے محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ خراب وینٹیلیٹرز کو فوری طور پر مرمت کروایا جائے تاکہ عوام کو بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

    صدر مملکت کی ایسٹر کے موقع پرمسیحی برادری کو دلی مبارکباد دی

  • پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو ایکسپائر اسٹنٹس ڈالنے کا انکشاف

    پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو ایکسپائر اسٹنٹس ڈالنے کا انکشاف

    لاہور: شعبہ صحت میں آڈٹ کے دوران پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں سنگین مالی اور طبی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ادارے میں 2021 کے جولائی سے دسمبر 2022 کے دوران کم از کم 22 مریضوں کو مکمل طور پر ایکسپائر اسٹنٹس لگائے گئے، جبکہ نو مریضوں کو ایسے اسٹنٹس ڈالے گئے جن کی معیاد ختم ہونے کے قریب تھی، یعنی ان کی صرف تین فیصد مؤثر مدت باقی تھی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل نے اسٹاک اور مریضوں کی فائلز کا تفصیلی معائنہ کیا، جس کے دوران 263 ملین روپے (26 کروڑ 30 لاکھ) کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی ہوا، جو ایکسپائر اسٹنٹس اور ادویات کی خریداری میں کی گئیں، آڈیٹر جنرل کی جانب سے اس سنگین معاملے پر وضاحت طلب کی گئی تاہم محکمہ صحت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخِ معیاد ختم ہونے کے بعد اسٹنٹس لگانا نہ صرف غیر قانونی بلکہ مریضوں کی جان کے لیے خطرناک ہے، اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔

  • ملک کے 20 اضلاع  کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک کے 20 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    اسلام آباد: ملک کے 20 اضلاع کے 25 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) فار پولیو کے مطابق کے مطابق کوئٹہ، خضدار، لاہور، ملتان، نوری آباد، بنوں، لکی مروت اور بہاولپور سمیت 20 اضلاع کے نمونوں میں وائرس موجود ہے ملک کے 31 اضلاع کے 35 ماحولیاتی نمونوں کے منفی ہو نے کی تصدیق ہوئی ہے، مسلسل مہمات کے نتیجے میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ اور کیسز میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

    قومی ادارہ صحت کے مطابق بلوچستان کے بھی 9 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں دکی،کیچ، لسبیلہ، لورالائی،پشین،نصیرآباداوراوستہ محمد شامل ہیں، ان اضلاع سے ماحولیاتی نمونے 5 سے 19مارچ تک لیے گئے تھے 21 تا 27 اپریل ملک بھر میں قومی پولیو مہم کا انعقاد کیا جائے گا، مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔

    پشاور: ایکسائز پیٹرولنگ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،3 اہلکار شہید

    نیشنل ای او سی نے والدین سے درخواست کی ہے کہ بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں، مسلسل ویکسینیشن کی بدولت قوتِ مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی