سرگودھا کا اہم مسئلہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہے
سرگودھا۔(نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں مسائل کا جائزہ لیکر ان کے حل کیلئے حکومت سے فنڈز کی استدعاء کی جائیگی تاکہ سرگودھا کے دیرینہ مسائل حل ہوسکیں اس سلسلہ میں باقاعدہ طور پر فنڈز کا حصول اولین ترجیح ہے جس کیلئے وزیر اعظم‘ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے انہیں فنڈز کیلئے درخواست کرونگا۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی و سینئر راہنما پاکستان تحریک انصاف الحاج ممتاز اختر کاہلوں نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرگودھا کے مسائل سابقہ حکومتوں کا تحفہ ہے جس کی وجہ سے مسائل سنگین صورتحال اختیار کرچکے ہیں ان میں سب سے اہم مسئلہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہے جو سیوریج کی وجہ سے خراب ہورہا ہے۔ الحاج ممتاز اختر کاہلوں نے کہا کہ شہر بھر میں سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے زیر زمین پانی بھی کڑوا ہوچکا ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں زیر زمین پانی کو میٹھا رکھنے کیلئے بنائے جانیوالے کھالے بھی لوگوں نے بند کردیئے ہیں جو زیر زمین پانی کو کڑوا کرنے کا موجب بنے ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ زیر زمین پانی کو میٹھا کرنے کیلئے دوبارہ کھالوں کو فعال کیا جائے اور سیوریج کا نظام بھی اس طریقہ سے بچھایا جائے کہ یہ پانی زیر زمین پانی کیلئے مسائل پیدا نہ کرے
Category: صحت

سرگودھا کا اہم مسئلہ کیا ہے پی ٹی آئی رہنمانے بتا دیا

ڈینگی، پولیو ورکرز کی شامت آگئی ، شوکاز نوٹس جاری
لاہور: پنجاب بھر میں پولیو اور ڈینگی کے روز بروز نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کمشنر لاہور نے ورکروں کوذمہ دارقرار دیا ہے. ناقص کارکردگی پر ڈینگی اور پولیو ورکرز کی شامت آگئی، کمشنر لاہور نے ڈینگی اور پولیو مہم کے دوران 30 فیصد سے کم کارکردگی والے سٹاف کو شوکاز جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
کمشنر ہاوس سے ذرائع کے مطابق آج کمشنر لاہور آصف بلال لودھی کی زیر صدارت ڈینگی و پولیو کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر طارق قریشی، ڈی سی شیخوپورہ سید طارق بخاری، ڈی سی ننکانہ راجہ منصور ، اے ڈی سی جی لاہور صفدر ورک، اے سی جی لاہور انعم زید اور تمام سی ای اوز ہیلتھ اتھارٹیز اور پی آئی ٹی بی افسران نے شرکت کی۔
دوران بریفنگ کمشنر کو بتایا گیا کہ لاہور شہر میں یکم جنوری تا 31 جولائی 2019 ڈینگی کے مصدقہ 7 مریض سامنے آئے ہیں، جس کے جواب میں کمشنر لاہور نے کہا کہ لاہور میں انسداد پولیو پر پورا فوکس کریں، انہوں نے کہا کہ ڈینگی مریض رپورٹنگ سسٹم کو موثر بنائے بغیر اعدادو شمار غیر موثر ہیں۔
کمشنر لاہور نے کہا کہ والڈ سٹی، یو ای ٹی اور مرغزار کالونی سمیت دیگر علاقوں میں سرویلنس بہتر ہوئی ہے، انہوں نے ڈینگی اور پولیو مہم کے دوران 30 فیصد سے کم کارکردگی والے سٹاف کو شوکاز جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ شاہدرہ اور فیروز والہ میں گہری ڈینگی لاروا سرویلنس کی جائے،

بجلی کا بس ایک جھٹکا ، بڑھاپے کے تمام امراض سے افاقہ ، نیا طریقہ علاج دریافت
لندن : بجلی کی مدد سے مختلف بیماریوں کا علاج ممکن ہے ،بڑھاپا کئی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور اس عمر میں کان کی لو پر ہلکی بجلی پہنچا کر عمررسیدگی سے وابستہ کئی امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے یا کئی بیماریوں کو روکا جاسکتا ہے۔ماہرین نے اسے ایئر ٹکلنگ تھراپی کا نام دیا ہے۔
یہ بجلی کا جھٹکا کیسے اور کہاں لگایا جائے کہ بیماریوں سے آرام آجائے اس کے بارے میں برطانوی ماہرین نے کہا ہے کہ کان پر ایک خاص رگ ہوتی ہے جسے ویگس نرو کہا جاتا ہے۔ یہ رگ جسم کی طویل ترین رگ بھی ہے جو دل، آنتوں اور جسم کے مختلف حصوں تک جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی کارکردگی اعصابی نظام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جسے پیرا سمپیتھے ٹک نروس سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔
برطانوی ماہرین کا کہنا ہےکہ پیراسمپیتھے ٹک اور سمپیتھے ٹک نروس سسٹم دونوں مل کر خودکار اعصابی نظام کی تشکیل کرتے ہیں جو سانس لینے اور دل کی دھڑکن جیسے عمل کو خودبخود ممکن بناتے ہیں۔
دوسری طرف یونیورسٹی آف لیڈز اور گلاسگو یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اس رگ کا ایک اہم گوشہ کان کے پاس موجود ہوتا ہے اور بیرونی جانب محسوس ہوتا ہے۔ اس پر ہلکی بجلی دے کر آٹونومک یا خوداختیار نروس سسٹم کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس نروس سسٹم کو بہتر کرکےصحت کو بہتر رکھا جاسکتا ہے اور بڑھاپے کے امراض کو ٹالا جاسکتا ہے۔ ان امراض میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔
برطانیہ میں اس بات کا پتہ لگانے کے لیے کہ کیا واقعی یہ طریقہ علاج مفید ہے اس تجربے کے لیے 55 سال سے زائد عمر کے کئی افراد کے اعصاب پر ہلکی بجلی دی گئی۔ شرکا کو ذیابیطس، بلڈ پریشر، مرگی اور امراضِ قلب کی کوئی شکایت نہیں تھی۔ پہلے مرحلے میں 14 افراد کو ویگس اعصاب پر بجلی دی گئی۔
برطانوی ماہرین طب کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں بہت زیادہ کامیابی ملنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ اس پر مزید تجربات کیے جائیں ، اس سلسلے میںدوسرے مطالعے میں 51 افراد کو ایک ایک مرتبہ بجلی کے ہلکے جھٹکے دیئے گئے۔ 29 افراد کو دو ہفتے تک روزانہ اعصابی بجلی کے جھماکے دیئے گئے۔ صرف دو ہفتوں بعد ان کے خود کار اعصابی نظام میں بہتری پیدا ہوئی اور سب نے نیند، موڈ اور ہاضمے میں بہتری کے علاوہ معیارِ زندگی بہتر ہونے کا قرار کیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان تجربات سے جو فوائد سامنے آئے ہیں وہ بہت معمولی ہیں جبکہ یہ تکنیک کئی طرح سے انسانوں اور بالخصوص بزرگوں کی صحت پر انتہائی مفید اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس سے بڑھاپے کے ساتھ ساتھ لاحق ہونے والے مرض کو بھی ٹالا جاسکتا ہے۔ماہرین نے اسے ایئر ٹکلنگ تھراپی کا نام دیا ہے۔

اگر کوئی شخص دانتوں کےساتھ ناخن کتراتا ہے تو سمجھ لو وہ شکار ہے ، کس چیز کا ؟ ڈاکٹروں نے بتا دیا
لاہور : ہمارے ہاں ناخن کُترنا ایک عام سی عادت سمجھی جاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباً 20 سے 30 فیصد لوگ اس عادت میں مبتلا ہیں. ایسے افراد کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ،لیکن طبی ماہرین اس دباؤ، بے چینی، اور احساس کمتری کو اس عادت کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔
ڈاکٹروں کےمطابق ناخنوں کے اندر بے شمار جراثیم پائے جاتے ہیں، اگر کوئی شخص ناخن کُترنے کی عادت میں مبتلا ہے تو وہ جلد اس سے پیچھا چُھڑا لے کیونکہ اس عادت کی وجہ سے صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ناخن کُترنے کی عادت سے نزلہ اور زکام کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس کے علاوہ قوت مدافعت بھی شدید متاثر ہوتی ہے جس کے باعث جراثیم جسم پر باآسانی حملہ آور ہوتے ہیں۔
انسانی صحت کے حوالے سے دی اکیڈمی آف جنرل ڈینٹسٹری نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق ناخن چبانے کی عادت سے ناصرف ہمارے دانت اور مسوڑں کو شدید نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس کے باعث نظام ہضم بھی متاثر ہو جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عادت میں مبتلا افراد کو انگلیوں کے انفیکشن ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے کیوںکہ ناخن چبانے سے انگلیوں کا میل براہ راست پیٹ میں جاتا ہے جو ہیضے، معدے کی خرابی اور پیٹ درد جیسی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ’چوئنگ گم‘ کا استعمال موثر ہے تاکہ ذہن ناخن کُترنے کے بارے میں نہ سوچے۔ اگر اس بیماری سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا گیا تو یہ عادت مہلک بیماریوں کا شکار کر سکتی ہے اور انسان صحت مند زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھ سکتا ہے۔

زیادہ چینی کا استعمال کس حد تک خطرناک ہوسکتا ہے؟ سنیئے ماہرین طب سے خاص خاص باتیں
لاہور: چینی کے بارے میں بہت سے ماہرین طب کا یہ کہنا ہےکہ اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے. اس حوالے سے ایک نئی تحقیق آئی ہے کہ کتنی چینی کا استعمال جسم کے لیے بہت زیادہ ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب مختلف ماہرین طب نے کچھ اس طرح دیا ہے.
چینی کے روزانہ استمعال کے بارے میںایک تحقیق سامنے آئی کہ لوگوں کو روزانہ صرف 50 گرام چینی کا استعمال کرنا چاہئے۔یہ4 چائے کے چمچ یا سافٹ ڈرنک کے ایک کین سے کم کچھ کم ہوتی ہے۔روزانہ 25 گرام یا 6چائے کے چمچ چینی کا استعمال طبی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
سائنسی طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق اگر کوئی زیادہ چینی استمعال کرتا ہے تو پھر اس کوکیا بھگتنا پڑسکتا ہے.ماہرن طب نے تحقیق کے بعد یہ اخذ کیا ہے کہ اس کے زیادہ استعمال سے ہر وقت بھوک کا بہت زیادہ احساس رہتا ہے.
بھوک کا یہ احساس کیسے محسوس ہوتا ہے ، ماہرین طب بتاتے ہیںکہ ایک ہارمون لپٹین جسم کو بتاتا ہے کہ کب اس نے مناسب حد تک کھالیا ہے۔ جن لوگوں میں اس ہارمون کی مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے تو انہیں پیٹ بھرنے کا اشارہ کبھی موصول نہیں ہوتا اور یہ وزن کنٹرول کرنے کے لیے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔
کچھ طبی ماہرین تو یہ کہتے ہیںکہ لپٹین کی مزاحمت موٹاپے کے اثرات میں سے ایک ہے مگر چوہوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ چینی کا استعمال خاص طور پر اس کا سیرپ جو کولڈ ڈرنکس میں عام ہوتا ہے، براہ راست لپٹین کے لیول کو معمول سے زیادہ بڑھا دیتا ہے اور اس ہارمون سے متعلق جسمانی حساسیت میں کمی آجاتی ہے۔کچھ طبی ماہرین اس سے اگلی سطح کے شروع ہونے کا بھی اشارہ کرتے ہیں اور ان کے مطابق یہ شوگر یا ذیا بطس کی صورت میں ہوسکتاہے
تازہ ترین طبی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جن ممالک میں چینی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے وہاں اس مرض کی شرح کافی بلند ہے۔ 51 ہزار خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ میٹھے مشروبات جیسے کولڈ ڈرنکس، میٹھی آئس ٹی، انرجی ڈرنکس وغیرہ استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق ذیابطس کے بعد چینی کا زیادہ استعمال گردوں پر منفی اثرات چھوڑتا ہے .
حال ہی میں دنیا بھر سے ہونے والی تحقیقات سامنے آئی ہیںجن سے پتا چلتا ہے کہ چینی سے بھرپور غذا اور بہت زیادہ سافٹ ڈرنکس کا استعمال گردوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ میٹھے مشروبات کا استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گردوں کے نقصان اور میٹھے مشروبات کے درمیان تعلق ایسے افراد میں سامنے آیا ہے جو 2 یا 3 کولڈ ڈرنکس روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چینی کے زیادہ استمعال سے موٹاپے کی بیماری بھی لاحق ہوسکتی ہے.
تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ موٹاپا چینی کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں لاحق ہونے والے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ روزانہ صرف ایک کین کولڈ ڈرنک کا استعمال ہی ایک سال میں تین کلو وزن بڑھنے کا باعث بن جاتا ہے جبکہ سوڈا کا ہر کین بہت زیادہ موٹاپے کا امکان بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ چینی براہ راست موٹاپے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ذیابیطس، میٹابولک سینڈروم یا عادات جیسے زیادہ غذا کا استعمال اور ورزش نہ کرنا بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ہماری غذا کی سپلائی اور ان کے استعمال کا رویہ موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔
چینی کے زیادہ استعمال سے جگر کے متاثر ہونے کا بھی خطرہ رہتا ہے. ڈاکٹروں کے مطابق بہت زیادہ مقدار میں چینی آپ کے جگر کو بہت زیادہ کام پر مجبور کردیتی ہے اور لیور فیلیئر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چینی کو جس طرح ہمارا جسم استعمال کرتا ہے وہ جگر کو تھکا دینے اور متورم کردینے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔
چینی کے زیادہ استعمال کو حوالے سے یہ بات بھی سامنےآئی ہےکہ چینی کی بہت زیادہ مقدار جگر پر غیر الکحلی چربی بڑھنے کے مرض کا باعث بن سکتی ہے اور یہ چربی بتدریج پورے جگر پر چڑھ جاتی ہے۔ عام فرد کے مقابلے میں 2 گنا زیادہ سافٹ ڈرنکس استعمال کرنے والے افراد میں اس مرض کی تشخیص زیادہ ہوتی ہے۔ جگر پر غیر الکحلی چربی کے امراض کے شکار بیشتر افراد کو اکثر علامات کا سامنا نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ کافی عرصے تک اس سے آگاہ بھی نہیں ہوپاتے۔
اس سے پہلے عام طور پر نمک کو فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کا باعث سمجھا جاتا ہے مگر بہت زیادہ چینی کھانے کی عادت بھی آپ کو اس جان لیوا مرض کا شکار بناسکتی ہے۔ طبی ماہرین نے بلڈ پریشر کے حوالے سے غلط سفید دانوں پر توجہ مرکوز کررکھی ہے۔ تحقیق کے بعد یہ رائے سامنے آئی ہے کہ نمک کے مقابلے میں اس غذا پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے جو لت کی طرح انسانی دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور وہ ہے چینی۔ محقین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی کو ہضم کرنے سے یورک ایسڈ پیدا ہوتا ہے یعنی ایسا کیمیکل جو ہائی بلڈ پریشر کا باعث ہے۔تاہم محققین کے مطابق اس حوالے سے بڑے پیمانے پر طویل المعیاد تحقیق کی ضرورت ہے۔
زیادہ چینی کے استعمال سے انسولین کا معاملہ پچیدہ ہوجا تا ہے ماہرین طب کےمطابق جب آپ ناشتے میں بہت زیادہ مٹھاس پر مشتمل غذا استعمال کریں تو کیا ہوگا؟ یہ آپ کے جسم میں انسولین کی طلب کا مطالبہ بڑھا دے گی۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو غذا کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کرنے کا کام کرتا ہے مگر جب اس کی مقدار زیادہ ہو تو جسم اس کے حوالے سے کم حساس ہوجاتا ہے اور خون میں گلوکوز جمنے لگتا ہے۔

محکمہ صحت سرگودھا ڈینگی کے خاتمہ کیلئے عملی اقدامات کررہا ہے، ڈاکٹر طارق حسن
سرگودھا۔ 31 جولائی (اے پی پی) حکومت پنجاب کے احکامات کی روشنی میں محکمہ صحت سرگودھا ڈینگی کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات کررہا ہے۔ محکمہ صحت سرگودہا کی جانب سے سرویلنس ٹیمیں ڈینگی لاروے کی انسپکشن کے لئے سروے کا کام مکمل کرچکی ہیں۔اِن خیالات کا اظہار محکمہ صحت کے دینگی کے فوکل پرسن ڈینگی کنٹرول ڈاکٹر طارق حسن نے اے پی پی سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ضلع بھرمیں کُل19مقامات پر ڈینگی لاروا پایا گیا اور 350مریضوں ڈینگی کا ٹیسٹ کروایا لیکن اس سلسلہ میں کسی ایک مریض میں بھی ڈینگی ٹیسٹ مثبت نہ آیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع بھرمیں لاروا انسپکشن کے لیے کُل501ٹیموں نے حصہ لیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ برسات کے موسم میں لاروا سے مکمل ڈینگی مچھر بننے کا امکان ہوتاہے۔اسی سلسلہ میں انسپکشن کے دوران پائے جانے والے لارواکو تلف کردیا گیاہے۔ڈاکٹر طارق حسن نے بتایاکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈینگی کنٹرول پروگرام کے سلسلہ میں خصوصی وارڈ بھی بنایا گیاہے۔ ڈینگی کے خاتمہ کے لئے اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت باہمی تعاون سے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ شہری اس موسم میں بارشی پانی کو زیادہ دیر تک کھڑا نہ رہنے دیاجائے اور صفائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

بلاول زرداری کے شہر لاڑکانہ میں ایڈز کے کتنے مریض ؟ خوفناک رپورٹ آ گئی
بلاول زرداری کے علاقہ لاڑکانہ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 972 تک پہنچ گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول زرداری کے آبائی حلقہ لاڑکانہ میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ایڈز کے مریضوں کی تعداد 972 تک پہنچ گئی ہے.
لاہور میں ایڈز کے کتنے رجسٹرڈ مریض، خوفناک اعدادوشمار سامنے آ گئے
لاہور کے بعد ملتان میں بھی ایڈز کے مریض سامنے آ گئے
رتوڈیرو میں ایچ آئی وی ایڈز کی بڑھتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے عالمی ماہرین نے رتوڈیرو کا دورہ کیا، اور رپورٹ تیار کی، عالمی ماہرین کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رتوڈیرومیں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 751 ہے ،جن میں 604 بچے بھی شامل ہیں. اب تک صرف 43 فیصد افراد کو علاج مل سکا، 57 فیصد علاج کی سہولت سے محروم ہین. پاکستان کے پاس صرف 240 متاثرین بچوں کے علاج کے لیےادویات موجود ہیں،ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ 364بچے علاج کے منتظر ہیں ،
اندرون سندھ میں ایڈز کے بعد کراچی میں جان لیوا بیماری سامنے آ گئی
عالمی ماہرین نے تحقیقات اور متاثرین کے علاج کے لیے خطیر رقم کامطالبہ بھی کردیا ،ماہرین نے رپورٹ میں لکھا کہ ڈبلیو ایچ او کو تحقیقات اور کنٹرول کے لیے15 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے،ڈبلیو ایچ او کے پاس 2لاکھ ڈالرز موجود ہیں مزید 13 لاکھ ڈالرز فراہم کئے جائیں.عالمی ماہرین نے رپورٹ میں ایچ آئی وی اسکریننگ کے طریقہ کار پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کر دیا .
شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟
بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص
نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب
بلاول زرداری نے سندھ میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے مریضوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس طلب کیا تھا جس میں ڈاکٹروں نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 32 دنوں میں رتو دیرو تعلقہ اسپتال میں 22ہزار سے زائد افراد کی ایچ آئی وی اسکریننگ کی گئی ہے. بلاول زرداری نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں سے ملاقات کی، ان کے والدین کو حوصلہ دیا ،کیمپ میں ایڈز کے مریضوں سے ملاقات کی. بلاول بھٹو زرداری نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے نئے قائم کیےگئے وارڈ کا بھی دورہ کیا. اس موقع پر بلاول زرداری نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو تنہا نہیں چھوڑیں گے .
واضح رہے کہ سندھ میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ ہونے پر شیخ رشید و دیگر نے بلاول پر تنقید کی تھی، سندھ بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، سندھ بھر سے ساڑھے 10 ہزار ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا رجسٹرڈ مریضوں کے علاوہ سندھ میں ہزاروں کیسز ایسے ہیں جو رجسٹرڈ نہیں ہوئے.
فیصل آباد میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے اقدامات
فیصل آباد ( نمائندہ باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی نے ہدایت کی ہے کہ ضلع بھر میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کی تیاری و فروخت کے ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لئے جارحانہ اپریشن جبکہ عطائیت کے خاتمے کے لئے بھی ضلعی محکمہ صحت کی کارروائیوں کو نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کا قلع قمع ہو سکے۔ انہوں نے یہ ہدایت ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جس میں اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹرز عفیفہ شاجیہ‘ سی سی او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق سپرا‘ ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر سجیلہ نذیر‘ ڈرگ انسپکٹر خالد مصطفی کے علاوہ بورڈ کے دیگر اراکین ڈاکٹر کیپٹن محمد صدیق‘ غلام صابر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈرگ انسپکٹرز کی طرف سے میڈیکل سٹورز کی انسپکشن رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے بلاورانٹی ڈرگ لائسنس اور غیر رجسٹرڈ ادویات فروخت کرنے والوں کے کیسز کی بھی سماعت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے بورڈ کے ممبرز کی مشاورت سے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں 10 میڈیکل سٹورز اور عطائی کلینکس کے کیسز ڈرگ کورٹ بھجوانے کی سفارش کی جبکہ چار میڈیکل سٹورز مالکان کو وارننگ اور ایک میڈیکل سٹور کو ڈی سیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین کیسز کو ریکارڈ کی طلبی کے لئے آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا۔ اس موقع پر ایک میڈیکل سٹور کا لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے ڈرگ انسپکٹرز کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل سٹورز کے امور کو قانون اور ضابطہ کا پابند بنانے میں موثر اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں کسی جگہ بھی جعلی ادویات کی تیاری کی شکایت موصول ہوئی تو وہ جواب دہ ہونگے۔ انہوں نے سی ای او ہیلتھ سے کہا کہ وہ ڈرگ لائسنس کے اجراء و تجدید کے معاملات پر کڑی نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سیل کئے گئے میڈیکل سٹور کو مالک کی طرف سے ازخود کھولنے پر فوجداری مقدمہ درج کرایا جائے۔
انسدادِ ڈینگی کے سلسلے میں فیصل آباد کی تحصیل سمندری میں آگاہی واک
فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی )ڈپٹی کمشنرطارق خاں نیازی کی ہدایت پر ضلع میں انسداد ڈینگی کی جاری مہم کے سلسلے میں محکمہ صحت کے زیر اہتمام تحصیل سمندری میں آگاہی واک منعقدہوئی جس کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر سمندری فیصل سلطان نے کی۔محکمہ صحت ودیگر محکموں کے افسران کے علاوہ این جی اوز کے نمائندے اور سول سوسائٹی کے افراد بھی شریک تھے۔واک اسسٹنٹ کمشنر آفس سے شروع ہو کر مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی واپس اسی مقامات پر پہنچ کراختتام پذیر ہوئی۔واک کے شرکاء نے آئیے ہم سب مل کر اپنے ماحول کو صاف ستھرارکھیں۔ڈینگی سے بچاؤ ممکن اوردیگر احتیاطی وانسدادی اقدامات پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔اسسٹنٹ کمشنرنے کہا کہ ڈینگی لاروا کے انسداد کے لئے بھرپور انسدادی اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم شہریوں کے تعاون کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکتے لہذا شہری گھروں اور ارد گرد صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھیں اور کسی جگہ پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی ایک سماجی مسئلہ ہے جس سے بچاؤ احتیاطی تدابیر سے ہی ممکن ہے۔محکمہ صحت کے افسران نے بتایا کہ اینٹی ڈینگی ٹیموں کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر سرویلنس کا عمل جاری ہے اور ٹیمیں کباڑ خانوں،ٹائر شاپس،قبرستانوں،گھروں میں ڈینگی لاروا کی پیدائش وافزائش کو چیک کرکے ان کا صفایا کر رہی ہیں۔دیگر مقررین نے بھی ڈینگی کے انسداد کے لئے مشترکہ کاوشوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت پرزور دیا۔
چنیوٹ میں ڈاکٹر کی ناقص کارکردگی، خدمات واپس کر دی
فیصل آباد ( نمائندہ باغی ٹی وی ) میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چنیوٹ ڈاکٹر انجم اقبال نے ناقص کارکردگی اور فرائض میں لاپروائی کی بناء پر ہسپتال میں تعینات لاجسٹک آفیسر عثمان تنویر کی خدمات پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کو واپس کر دی ہے۔اس سلسلے میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کے نام تحریر کئے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال چنیوٹ کا اچانک معائنہ کیا تو لاجسٹک آفیسر عثمان تنویر دستیاب طبی آلات کے فنکشنل ہونے کے بارے میں نہ صرف تفصیلات بتانے سے قاصر رہے بلکہ غلط روی کا مظاہرہ بھی کیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق مذکورہ آفیسر کو کئی بار اپنے فرائض پر توجہ دینے اور رویہ بہتر بنانے کی تاکید کی گئی تھی لیکن اصلاح نہ ہو سکی جبکہ ڈویژنل کمشنر کے دورے کے دوران بھی لاجسٹک آفیسر عثمان تنویر نے غلط رویہ اختیار کیا جس پر اس کی خدمات پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کو واپس کرنے کے لئے تحریر کیا گیا۔ دریں اثناء ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال چنیوٹ کے اچانک دورے کے دوران انتظامی و طبی امور کا معائنہ کرتے ہوئے نظم و نسق کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے گائنی وارڈ میں غیر متعلقہ افراد کی موجودگی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ مریضوں کی بھلائی اور بہبود کا خصوصی خیال رکھا جائے۔
۔۔۔///۔۔۔






