Baaghi TV

Category: صحت

  • فیصل آباد میں "ویلج واش کمیٹی” کے قیام کی افتتاحی تقریب، اہم راہنماوں کی شرکت

    فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی )ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر دیہاتوں ودوردراز علاقوں میں صفائی ستھرائی،پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں تاہم اپنی مدد آپ کے تحت دیہی علاقوں میں صاف ستھرے و خوشگوار ماحول کو پروان چڑھانے میں حصہ لینے والوں کے فلاحی اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جن کی بھرپور سرپرستی اور حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے یہ بات چک 4ج ب ارفع کریم آباد میں ”ویلج واش کمیٹی“کے قیام کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی،اسسٹنٹ کمشنر(جنرل) مصور خاں نیازی،چیف کوآرڈینیٹر کمیٹی خاور شفیق رندھاوا،محمد عظیم رندھاوا،سماجی کارکن نذیر احمد وٹو کے علاوہ اہل دیہہ بڑی تعداد میں شریک تھے۔ڈویژنل کمشنر نے ویلج واش کمیٹی کے قیام کو سراہا اور کہا کہ دیگر دیہاتوں کو بھی اس اقدام کی پیروی کرتے ہوئے صحت مند معاشرے کی بنیادیں مضبوط کرنی چاہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر میں کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام پر بھی بھرپور انداز میں عملدرآمد کے حوصلہ افزاء نتائج حاصل ہوئے ہیں جس کا تسلسل آئندہ بھی برقرار رہے گا۔ڈویژنل کمشنر نے اہل دیہہ پر زور دیا کہ وہ خواتین کو بھی ویلج واش کمیٹی میں مناسب نمائندگی دیں تاکہ کمیٹی کے قیام کے حقیقی مقاصد حاصل ہوسکیں۔انہوں نے مرحومہ ارفع کریم کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ارفع نے آئی ٹی کے میدان میں جودیاجلایا وہ ہمیشہ روشن رہے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اپنی مدد آپ کے تحت ارفع کریم آباد میں ویلج واش کمیٹی کے شاندار اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ ایسے فلاحی اقدامات کی بھرپور سپورٹ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گاؤں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائیں گے۔انہوں نے صفائی کی اہمیت وافادیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے لہذا اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں جذبہ کے تحت آگے بڑھایا جائے۔چیف کو آرڈینیٹر نے ویلج واش کمیٹی کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت پر ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی اور ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی کا شکریہ ادا کیا اور کمیٹی کے قیام کے اغراض ومقاصد پرروشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ اہل دیہہ کے تعاون سے صفائی کے نظام میں جدت لائی جارہی ہے۔اس سلسلے میں عارضی ویسٹ ورکرز کی خدمات حاصل اور اس اقدام میں اہل دیہہ بھر پور انداز میں شریک ہیں۔انہوں نے گاؤں کو درپیش دیگر مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں کو آنے والی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ سوئی گیس وپینے کے صاف پانی کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے۔قبل ازیں ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی اور ڈویژنل کمشنر طارق خان نیازی نے فیتہ کاٹ کر ویلج واش کمیٹی کے قیام کا افتتاح کیا۔

  • فیصل آباد ضلع میں 4 لاکھ 11 ہزار مستحق خاندانوں میں صحت کارڈ کی تقسیم

    فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی )وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق ضلع میں 4لاکھ 11ہزار مستحق خاندانوں میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کئے جارہے ہیں جس کی بدولت ایک خاندان کے افراد سالانہ 7لاکھ 20ہزارروپے تک پینل میں شامل سرکاری ونجی ہسپتالوں سے مختلف بیماریوں کا علاج معالجہ کراسکیں گے۔صحت انصاف کارڈز تقسیم کرنے کی تقریب میونسپل کارپوریشن کے ہال میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز میاں فرخ حبیب تھے۔ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی،ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی،چیئرمین پی ایچ اے/ایم پی اے لطیف نذر،وائس چیئرمین واسا شیخ شاہد جاوید،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق سپرا،میڈیکل سپرنٹنڈنٹس الائیڈ،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال وچلڈرن ہسپتال ڈاکٹر خرم الطاف،ڈاکٹر خالد فخر،ڈاکٹر حبیب بٹر،میاں نبیل ارشداوردیگر پارٹی کارکن بھی موجود تھے۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ پروگرام اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کی جانب اہم قدم اور وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کئے گئے وعدے کی تکمیل ہے جس کی بدولت رواں مالی سال میں ضلع فیصل آباد کی 22فیصد آبادی مستفید ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گزشتہ روز دورہ فیصل آباد سے صحت انصاف کارڈ کی تقسیم کا آغاز کیااور اس سلسلے کو آگے بڑھایا جارہا ہے جس کے تحت ضلع کا کوئی مستحق کارڈ کی سہولت سے محروم نہیں رہے گا۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ کو ہر حقدار تک پہنچانے کے لئے دوبارہ سروے بھی کرایا جارہا ہے۔انہوں نے کارڈ حاصل کرنے والوں سے کہا کہ وہ دھوکہ بازوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ صحت انصاف کارڈ کی کوئی فیس نہیں جبکہ انتظامی سطح پر مانیٹرنگ سسٹم بھی وضع کریں گے تاکہ ایسی کسی شکایت پر فوری کارروائی ہوسکے۔انہوں نے صحت انصاف کارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ شعبہ صحت کی ترقی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے اور جدید علاج معالجہ کی سہولیات کے ثمرات غریب ونادار مریضوں تک پہنچائے جارہے ہیں۔ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے صحت انصاف کارڈ کو موجودہ حکومت کا انقلابی قدم قرار دیا اور کہا کہ اس کی بدولت غریب ومستحق مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات کا جائزہ لینے کے لئے دورے بھی کئے جارہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے صحت انصاف کارڈ پروگرام کے تحت کارڈ حاصل کرنے والوں کومبارکباد دی اور کہا کہ آئندہ مرحلے میں شروع کئے جانے والے سروے میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ حقیقی معنوں میں حقدار ہی فہرست میں شامل ہوسکیں۔چیئرمین پی ایچ اے/ایم پی اے لطیف نذراوروائس چیئرمین واسا شیخ شاہد جاوید نے کہا کہ شعبہ ہیلتھ میں صحت انصاف کارڈ انقلاب ہے جسے صوبہ کے کونے کونے تک پہنچایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو راحت اوریلیف فراہم کرنا ہی پنجاب حکومت کامشن ہے۔قبل ازیں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویزمیاں فرخ حبیب نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ کی بدولت صوبہ بھر میں اب تک مختلف نوعیت کے 91ہزار آپریشنز اور ساڑھے تین لاکھ مریضوں نے او پی ڈی سے علاج کی سہولیات حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے شعبہ صحت پر ذرا بھی توجہ نہ دی لیکن وزیر اعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی پسماندہ طبقات کی فلاح کے لئے قدم اٹھایا اور صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا جس کی بدولت غریب آدمی بھی صحت کی بہترین سہولیات حاصل کررہا ہے۔اس موقع پر صحت انصاف کارڈ حاصل کرنے والے مستحقین نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا شکریہ ادا کیا۔

  • پھولوں کی قدر کیا کرو ، پھول اور کینسر کے تعلق نے سب کو حیران کردیا

    پھولوں کی قدر کیا کرو ، پھول اور کینسر کے تعلق نے سب کو حیران کردیا

    برمنگھم:قدرت نے اس کائنات میں کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ، جن پھولوں کو ہم اپنے پاوں تلے مسل دیتے ہیں ان کو نہ مسلا کرو یہ انسانوں کی زندگی کا سبب بنتے ہیں ، ماہرین طب کی تحقیقات سامنے آئیں ہیں‌جن میں یہ کہا گیا ہے کہ سدا بہار کے پھول میں کینسر کے خلاف اجزا ایک عرصہ قبل دریافت ہوچکے ہیں جس کی بنا پر بعض دوائیں بھی بنائی گئی ہیں۔ اب ایک اور پھول میں ایسے ہی خواص ملے ہیں اور یہ پھول بھی عام پایا جاتا ہے۔

    وہ پھول جو انسانی جسم میں کینسر جیسی موذی مرض کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں ان میں عاقر قرحا یا فیورفیو پھول دیکھنے میں انتہائی خوشنما لگتا ہے۔یہ پھول حکمت اور روایتی ادویہ سازی میں اسے صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔اس سے پہلے یہ پھول کئی اقسام کے درد اور بالخصوص دردِ سر میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن اب یونیورسٹی آف برمنگھم کے ماہرین نے خاص طور پر اس کے پودے کے پتوں سے کینسر کے خلاف اہم جزو یا مرکب (کمپاؤنڈ) دریافت کیا ہے۔

    جدید سائنسی اصطلاحات میں اس مرکب کا نام پارتھینولائڈ ہے جو دیگر پودوں میں تو ہوتا ہے لیکن اس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ دوسری جانب یہ فیورفیو کے پودے کے پھول دینے کے آخری مرحلے میں غیر معمولی طور پرزیادہ پیدا ہوتا ہے۔

    برمنگھم یونیورسٹی کے محققین نے اسی پودے سے پارتھینو لائڈ کشید کرنے کی کوشش ہے۔ ان تھک محنت سے ماہرین نے اس مرکب سے مزید ذیلی اجزا یا ڈرائیویٹوز کشید کئے ہیں ۔ نکالے گئے کیمیکل کی تعداد 71 تھی جنہیں باری باری آزمایا گیا۔ ان میں سے ایک مرکب بہت کارآمد ثابت ہوا۔ پھر یہ مرکب زندہ خلیات کے ساتھ بہت سرگرم بھی دیکھا گیا جس میں بہتر ادویاتی خواص بھی دیکھے گئے۔

    برمنگھم یونیورسٹی کے طبی ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ جب اس مرکب کوکرونِک لمفوسائٹک لیوکیمیا کے خلیات اورآزمائشی ڈشوں پر آزمایا گیا تو یہ انہیں ختم کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوا۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مرکب ری ایکٹوو آکسیجن اسپیشیز (آراوایس) کی تعداد گھٹاتا ہے جو صحتمند خلیات کے لیے زہریلے ثابت ہوتے ہیں۔ آراوایس کینسرزدہ خلیات میں پہلے ہی دریافت ہوچکے ہیں۔

  • جگر کے مریضوں کے لیے خوشخبری ، کیا ہے وہ ؟ ماہرین طب نے بتا دیا

    جگر کے مریضوں کے لیے خوشخبری ، کیا ہے وہ ؟ ماہرین طب نے بتا دیا

    لندن : علم میں‌وسعت ، نئی تحقیق اور سائنس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ جگرکا دوبارہ بننا اب ممکن ہوگیاہے ،اس سے پہلے کئی بیماریوں سے جگر جیسا حساس عضو مکمل طور پر ناکارہ ہوجاتا ہے جس کے بعد صرف جگر کے عطیے اور پیوندکاری سے ہی مریض کو زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ تاہم ماہرین طب کے مطابق اب جگر میں بھی خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) دریافت ہوئے ہیں جس کے بعد آج نہیں تو کل جگر کے مریضوں کو عطیے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    جگر کی بیماریوں اور اس کی ساخت کے حوالے سے بڑے عرصے سے جاری تحقیقات میں کنگز کالج آف لندن کے ماہرین جگر کے مریضوں کے لیے نئی خوشخبری لے کر آئے ہیں ، تفصیلات کے مطابق کنگز کالج لندن کے محققین نے پیدائش کے بعد انسانی بچے کے جگر میں ایک نیا قسم کا خلیہ (سیل) دریافت کیا ہے۔ یہ اسٹیم سیل یا خلیاتِ ساق جیسا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ان خلیات سے جگر کے حصوں کو دوبارہ فروغ دے کر اس سے جگر کی مرمت کرسکیں گے۔

    مسلمان ماہرطب تامر رشید کہتے ہیں کہ انسانی جگر میں حقیقی اسٹیم سیل کی طرح خلیات ملے ہیں۔ اس سے اعضا کو دوبارہ فروغ دینے والے کئی طریقے سامنے آئیں گے۔ ان سےجگر کا علاج آسان ہوگا اور شاید جگر کی منتقلی کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔

    کنگز کالج آف لندن میں سنگل سیل آراین اے طریقے کے ذریعے نومولود بچوں اور بالغوں میں جگر کے خلیات کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔ ماہرین طب نے دعویٰ کیا ہےکہانہوں نے ایک خاص طرح کا خلیہ دیکھا جسے ہیپاٹوبائلیئری ہائبرڈ پروجینیٹر سیل یا ایچ ایچ وائی پی کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عین اسٹیم سیل جیسا دکھائی دیتا ہے۔

    چند دن قبل لندن کنگز کالج کے طب پر مشمتل ماہرین نے ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربات کے دوران مزید غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ایسے خلیات عین چوہے کے پروجینیٹر خلیات کی طرح کام کررہے ہیں۔ بعد میں ان خلیات کو چوہے کے متاثرہ جگر کی مرمت کرتے ہوئے دیکھا گیا اور وہ بھی حیرت انگیز طور پر بہت کم وقت میں ہوا۔ اب تک انسانوں میں یہ خواص سامنے نہیں آئے تھے۔

    کنگز کالج سے وابسہ مسلمان ماہرطب تامر رشید کہتے ہیں‌ اگر جگر کے خلیات اسی طرح کا برتاؤ کرسکیں تو ایک نہ ایک دن ہم اپنے متاثرہ جگر کی مرمت ازخود کرسکیں گے۔ تامر رشید کہتے ہیں‌کہ نودریافت شدہ ایچ ایچ وائے پی خلیات دو اہم اقسام کے جگری خلیات کی تشکیل کرسکتے ہیں جن میں ایک تو ہیپاٹوسائٹس ہیں اور دوسرے کولنگایوسائٹس یا بی ای سی ہیں۔ یہ دونوں اقسام کے خلیات بہت حد تک جگر کے کئی امراض کو ختم کرسکتے ہیں۔ اس طرح ایچ ایچ وائے پی جگر کے کئی امراض کا شافی علاج ثابت ہوسکتا ہے۔

  • کن افراد کو صحت کارڈ جاری کیے جائیں گے؟ محکمہ صحت نے اعلان کر دیا

    فیصل آباد (اے پی پی)محکمہ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ صرف پاکستان و پنجاب بیت المال، زکوٰۃ و عشر ڈیپارٹمنٹ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے امداد لینے والے مستحق افراد کو ہی صحت انصاف کارڈز جاری کئے جائیں گے۔ جمعہ کے روز فیصل آباد اور چنیوٹ میں صحت انصاف کارڈز کی تقسیم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر محکمہ صحت کے حکام نے بتایاکہ صرف انہیں مستحق و غریب اور بے سہارا خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ جاری کئے جائیں گے جو پہلے ہی مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں سے امداد حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ متعلقہ افراد موبائل فون کے ذریعے 8500 نمبرپر اپنا شناختی کارڈ نمبر میسج کرکے اپنی صحت انصاف کارڈ کی اہلیت کے بارے میں تصدیق حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ میسج کے جواب میں متعلقہ شخص کو بتایا جائے گا کہ اسے صحت انصاف کارڈ کس جگہ سے جاری ہوگا اس طرح مستحق افراد مقرر ہ جگہ پر جاکر بآسانی کارڈ جاری کرواسکتے ہیں۔

  • ملک میں مون سون بارشیں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں، ماہرین نے خبردار کردیا

    ملک میں مون سون بارشیں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں، ماہرین نے خبردار کردیا

    کراچی: پاکستان میں مون سون بارشوں کے بعد طبی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ شہر قائد میں ہونے والی مون سون کی بارشیں ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر وسیم جعفری کا کہنا تھا کہ مون سون کی ہونے والی بارشیں ’’ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں کیونکہ سندھ میں پہلے ہی یہ مرض خطرناک صورت اختیار کرچکا ہے۔

    کراچی میں‌ہونے والے اس اجلاس میں‌انہوں نے بتایا کہ جگر کی سوزش کو بھی ہیپاٹائٹس کہتے ہیں، زندگی کے لئے جگر کا صحت مند ہونا لازمی ہے، ہیپاٹائٹس ’اے‘ اور ’ای‘ ناقص غذا اور آلودہ پانی کے سبب ہوتے ہیں جو پاکستان میں بہت زیادہ عام ہیں اور بارش کے بعد آلودہ پانی گھروں میں فراہم کیا جاتا ہے۔

  • ماں کے دودھ کی افادیت کیا ہیں؟ گوجرانوالہ میں اس پر ہفتہ منایا جا رہا ہے

    گوجرانوالہ : سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی گوجرانوالہ ڈاکٹر فرجاد احمد نے کہا ہے کہ ضلع بھر میں ایک تا7- اگست 2019 ماں کے دودھ کی افادیت کا ہفتہ منایا جا رہا ہے جس میں دودھ پلانے والی ماؤ ں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس میں یہ بتایا جائے گا کہ ماں کادودھ بچے کی بہترین ذہنی نشوو نما کر تاہے ماں کاددھ زود ہضم اور قبض کشا ہے – اسہال اور پیٹ کی خرابی سے حفاظت کرتاہے بچے میں قوت مدافعت پیدا کرتاہے اور بچے کو مختلف بیماریوں سے بچا تاہے- دو سال کی عمر تک اضافی خوراک کے ساتھ ماں کا دودھ بھی جاری رکھا جائے-
    انہو ں نے کہا کہ ماں کے دودھ کی افایت کے ہفتہ کے دوران ضلع بھر میں کم از کم 292359 ماؤں اور بالغ بچیوں کو بچے کے لئے ماں کادودھ نہ پینے کے نقصانات، ماں کے لئے بچے کو دودھ پلانے کے فوائد او رماں کو اپنی اور بچے کی صحت بہتر بنانے کے مشورے بھی دیئے جائیں گے اور تقریبًا2400000 آبادی کو کور کیاجائے گا جس میں رولر آبادی100 فی صد کور کی جائے گی- ماں کے دودھ کی افادیت کے ہفتہ کے دوران آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت1523 لیڈی ہیلتھ ورکرز 65+14 لیڈ ی ہیلتھ سپر وائزرز کے ذریعے گھر گھر جاکر ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کریں گی- بچوں اور حاملہ خواتین کا چیک اپ اور ویکسینیشن بھی کروائی جائے گی اور دو سال سے کم عمر بچوں کو حفاظتی ٹیکے بھی لگائے جائیں گے- ماں کے دودھ کی افادیت کے ہفتہ کے دوران شادی شددہ جوڑوں کو فیملی پلاننگ کے مفید مشورے دیں گے اور فیملی پلاننگ کی اشیاء بھی مہیا کی جائیں گی اور تمام لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ سپر وائزرز مل کر کمیونٹی میں ہیلتھ آگاہی سیشن بھی کریں جس میں خاص طو ر پر بچے کی زندگی کے ابتداءي ایک ہزار دنوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گی-
    سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فرجاد احمد نے مزید کہا کہ 80 سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر دیہی علاقوں میں پبلک سیکٹر کے تمام سکولوں کو کور کریں گے اور صحت اور صفاءي کو بہتر بنانے کیلئے لیکچر بھی دیں گے -خواتین سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر ضلع بھر کے مختلف خواتین کالجز میں بھی ماں کے دودھ کی اہمیت پر لیکچر دیں گے-

  • سرگودھا کا اہم مسئلہ کیا ہے پی ٹی آئی رہنمانے بتا دیا

    سرگودھا کا اہم مسئلہ کیا ہے پی ٹی آئی رہنمانے بتا دیا

    سرگودھا کا اہم مسئلہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہے
    سرگودھا۔(نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں مسائل کا جائزہ لیکر ان کے حل کیلئے حکومت سے فنڈز کی استدعاء کی جائیگی تاکہ سرگودھا کے دیرینہ مسائل حل ہوسکیں اس سلسلہ میں باقاعدہ طور پر فنڈز کا حصول اولین ترجیح ہے جس کیلئے وزیر اعظم‘ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے انہیں فنڈز کیلئے درخواست کرونگا۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی و سینئر راہنما پاکستان تحریک انصاف الحاج ممتاز اختر کاہلوں نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرگودھا کے مسائل سابقہ حکومتوں کا تحفہ ہے جس کی وجہ سے مسائل سنگین صورتحال اختیار کرچکے ہیں ان میں سب سے اہم مسئلہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہے جو سیوریج کی وجہ سے خراب ہورہا ہے۔ الحاج ممتاز اختر کاہلوں نے کہا کہ شہر بھر میں سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے زیر زمین پانی بھی کڑوا ہوچکا ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں زیر زمین پانی کو میٹھا رکھنے کیلئے بنائے جانیوالے کھالے بھی لوگوں نے بند کردیئے ہیں جو زیر زمین پانی کو کڑوا کرنے کا موجب بنے ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ زیر زمین پانی کو میٹھا کرنے کیلئے دوبارہ کھالوں کو فعال کیا جائے اور سیوریج کا نظام بھی اس طریقہ سے بچھایا جائے کہ یہ پانی زیر زمین پانی کیلئے مسائل پیدا نہ کرے

  • ڈینگی، پولیو ورکرز کی شامت آگئی ، شوکاز نوٹس جاری

    ڈینگی، پولیو ورکرز کی شامت آگئی ، شوکاز نوٹس جاری

    لاہور: پنجاب بھر میں پولیو اور ڈینگی کے روز بروز نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کمشنر لاہور نے ورکروں کوذمہ دارقرار دیا ہے. ناقص کارکردگی پر ڈینگی اور پولیو ورکرز کی شامت آگئی، کمشنر لاہور نے ڈینگی اور پولیو مہم کے دوران 30 فیصد سے کم کارکردگی والے سٹاف کو شوکاز جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    کمشنر ہاوس سے ذرائع کے مطابق آج کمشنر لاہور آصف بلال لودھی کی زیر صدارت ڈینگی و پولیو کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر طارق قریشی، ڈی سی شیخوپورہ سید طارق بخاری، ڈی سی ننکانہ راجہ منصور ، اے ڈی سی جی لاہور صفدر ورک، اے سی جی لاہور انعم زید اور تمام سی ای اوز ہیلتھ اتھارٹیز اور پی آئی ٹی بی افسران نے شرکت کی۔

    دوران بریفنگ کمشنر کو بتایا گیا کہ لاہور شہر میں یکم جنوری تا 31 جولائی 2019 ڈینگی کے مصدقہ 7 مریض سامنے آئے ہیں، جس کے جواب میں‌ کمشنر لاہور نے کہا کہ لاہور میں انسداد پولیو پر پورا فوکس کریں، انہوں نے کہا کہ ڈینگی مریض رپورٹنگ سسٹم کو موثر بنائے بغیر اعدادو شمار غیر موثر ہیں۔

    کمشنر لاہور نے کہا کہ والڈ سٹی، یو ای ٹی اور مرغزار کالونی سمیت دیگر علاقوں میں سرویلنس بہتر ہوئی ہے، انہوں نے ڈینگی اور پولیو مہم کے دوران 30 فیصد سے کم کارکردگی والے سٹاف کو شوکاز جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ شاہدرہ اور فیروز والہ میں گہری ڈینگی لاروا سرویلنس کی جائے،

  • بجلی کا بس ایک جھٹکا ، بڑھاپے کے تمام امراض سے افاقہ ، نیا طریقہ علاج دریافت

    بجلی کا بس ایک جھٹکا ، بڑھاپے کے تمام امراض سے افاقہ ، نیا طریقہ علاج دریافت

    لندن : بجلی کی مدد سے مختلف بیماریوں کا علاج ممکن ہے ،بڑھاپا کئی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور اس عمر میں کان کی لو پر ہلکی بجلی پہنچا کر عمررسیدگی سے وابستہ کئی امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے یا کئی بیماریوں کو روکا جاسکتا ہے۔ماہرین نے اسے ایئر ٹکلنگ تھراپی کا نام دیا ہے۔

    یہ بجلی کا جھٹکا کیسے اور کہاں لگایا جائے کہ بیماریوں سے آرام آجائے اس کے بارے میں برطانوی ماہرین نے کہا ہے کہ کان پر ایک خاص رگ ہوتی ہے جسے ویگس نرو کہا جاتا ہے۔ یہ رگ جسم کی طویل ترین رگ بھی ہے جو دل، آنتوں اور جسم کے مختلف حصوں تک جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی کارکردگی اعصابی نظام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جسے پیرا سمپیتھے ٹک نروس سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔

    برطانوی ماہرین کا کہنا ہےکہ پیراسمپیتھے ٹک اور سمپیتھے ٹک نروس سسٹم دونوں مل کر خودکار اعصابی نظام کی تشکیل کرتے ہیں جو سانس لینے اور دل کی دھڑکن جیسے عمل کو خودبخود ممکن بناتے ہیں۔

    دوسری طرف یونیورسٹی آف لیڈز اور گلاسگو یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اس رگ کا ایک اہم گوشہ کان کے پاس موجود ہوتا ہے اور بیرونی جانب محسوس ہوتا ہے۔ اس پر ہلکی بجلی دے کر آٹونومک یا خوداختیار نروس سسٹم کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس نروس سسٹم کو بہتر کرکےصحت کو بہتر رکھا جاسکتا ہے اور بڑھاپے کے امراض کو ٹالا جاسکتا ہے۔ ان امراض میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

    برطانیہ میں اس بات کا پتہ لگانے کے لیے کہ کیا واقعی یہ طریقہ علاج مفید ہے اس تجربے کے لیے 55 سال سے زائد عمر کے کئی افراد کے اعصاب پر ہلکی بجلی دی گئی۔ شرکا کو ذیابیطس، بلڈ پریشر، مرگی اور امراضِ قلب کی کوئی شکایت نہیں تھی۔ پہلے مرحلے میں 14 افراد کو ویگس اعصاب پر بجلی دی گئی۔

    برطانوی ماہرین طب کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں بہت زیادہ کامیابی ملنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ اس پر مزید تجربات کیے جائیں ، اس سلسلے میں‌دوسرے مطالعے میں 51 افراد کو ایک ایک مرتبہ بجلی کے ہلکے جھٹکے دیئے گئے۔ 29 افراد کو دو ہفتے تک روزانہ اعصابی بجلی کے جھماکے دیئے گئے۔ صرف دو ہفتوں بعد ان کے خود کار اعصابی نظام میں بہتری پیدا ہوئی اور سب نے نیند، موڈ اور ہاضمے میں بہتری کے علاوہ معیارِ زندگی بہتر ہونے کا قرار کیا۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان تجربات سے جو فوائد سامنے آئے ہیں وہ بہت معمولی ہیں جبکہ یہ تکنیک کئی طرح سے انسانوں اور بالخصوص بزرگوں کی صحت پر انتہائی مفید اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس سے بڑھاپے کے ساتھ ساتھ لاحق ہونے والے مرض کو بھی ٹالا جاسکتا ہے۔ماہرین نے اسے ایئر ٹکلنگ تھراپی کا نام دیا ہے۔