Baaghi TV

Category: صحت

  • پنجاب،28 بڑے ہسپتالوں کی تعمیرومرمت، طبی آلات پر15ارب روپےخرچ کرنے کا فیصلہ

    پنجاب،28 بڑے ہسپتالوں کی تعمیرومرمت، طبی آلات پر15ارب روپےخرچ کرنے کا فیصلہ

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر محکمہ صحت نے سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کا پلان تیار کر لیا ہے جس کے تحت صوبے کے28بڑے ہسپتالوں کی تعمیر و مرمت اور طبی آلات کی فراہمی پر 15ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔

    سول سیکرٹریٹ میں منعقد جلاس کے دوران محکمہ صحت کے حکام نے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کو پلان پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس میں سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات بہتر بنانے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں کی پارکنگ کا انتظام لاہور پارکنگ کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوام کو صحت اور تعلیم کی بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت اہل مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں معیاری طبی سہولیات مہیا کی جائیں اورسہولیات کا معیار ایسا ہو کہ مریض سرکاری ہسپتال سے علاج کروانے کو ترجیح دیں۔انہوں نے تاکید کی کہ ڈپٹی کمشنرز اضلاع میں صحت اور تعلیم کی سہولیات بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔

    چیف سیکرٹری نے خانیوال میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کی آئی ایس او سرٹیفیکیشن کروانے پر ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو کی تعریف کی۔ انہوں نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز بطور سربراہ ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیلتھ کونسلز اپنی ذمہ داریاں فعال انداز میں سر انجام دیں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور عملہ کی سو فیصد حاضری کو یقینی بنایا جائے۔سیکرٹری صحت علی جان نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی ری ویمپنگ دسمبر تک مکمل کر لی جائے گی،تمام بنیادی مراکز صحت میں مریضوں کا ڈیجیٹل یکارڈ مرتب کیا جا رہاہے۔اجلاس میں خزانہ اور پی اینڈ ڈی کے محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور محکمہ صحت کے حکام نے شرکت کی جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    گیمبیا اور ازبکستان میں بھارت سے درآمدی کھانسی کے سیرپ سے سیکڑوں بچوں کی موت کے بعد اب عراق میں دستیاب بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : عراق میں دستیاب بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف عالمی نشریاتی ادارہ ’’بلومبرگ نیوز‘‘ نے کیابلومبرگ نیوز کے مطابق عراق میں فروخت ہونے والے ’’سردیوں کے سیرپ میں زہریلے کیمیکلز‘‘ موجود ہیں رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک آزاد امریکی لیبارٹری ’’والیسور ایل ایل سی‘‘ کے مطابق مارچ میں بغداد کی ایک فارمیسی سے سردیوں میں استعمال ہونے والے بچوں کے سیرپ کی ایک بوتل خریدی گئی تھی جس میں 2.1 فیصد ایتھیلین گلائکول کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ کیمیکل عالمی سطح پر منظور شدہ مقدار سے 21 گنا زیادہ ہے جبکہ اس کی معمولی مقدار بھی انسانوں کے لیے مہلک ہے اور اسی ایک کیمیکل کی وجہ سے گزشتہ برس گیمبیا اور ازبکستان میں بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت سے ہونے والی بڑے پیمانے پر بچوں کی اموات میں کردار ادا کیا۔

    عالمی منڈی میں چاول کی قلت شدت اختیار،متحدہ عرب امارات میں چاول کی برآمد پرپابندی

    بلومبرگ نے 8 جولائی کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ عراقی اور بھارتی حکام کے ساتھ ٹیسٹ کے نتائج کا تبادلہ کیا۔ ڈبلیو ایچ او نے بلومبرگ کو بتایا کہ اسے امریکی لیبارٹری کے ٹیسٹ کے نتائج “قابل قبول” ہیں اور اگر عراقی حکومت بھارتی سیرپ سے متعلق تصدیق کرتی ہے تو وہ الرٹ جاری کرے گا کیونکہ عراق میں ابھی تک کسی عوامی الرٹ یا واپسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    عراق کی وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزارت کے پاس "دواؤں کی درآمد، فروخت اور تقسیم کے لیے سخت ضابطے ہیں۔” انہوں نے کولڈ آؤٹ کے بارے میں مخصوص سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

    ایک سال میں یہ پانچواں موقع ہے کہ جانچ میں کسی ہندوستانی برآمد کنندہ کی دوائیوں میں ایتھیلین گلائکول کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔ گیمبیا اور ازبکستان کے پھیلنے کے علاوہ، سرکاری لیبارٹریوں کی جانچ نے مارشل جزائر اور لائبیریا میں دیگر آلودہ مصنوعات کی نشاندہی کی ہے، حالانکہ ان دوائیوں سے منسلک کسی بیماری کی اطلاع نہیں ہے۔

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل …

    کولڈ آؤٹ لیبل اشارہ کرتا ہے کہ اسے Fourrts (India) Pvt. لمیٹڈ، چنئی میں قائم ایک صنعت کار جو برطانیہ، جرمنی اور کینیڈا سمیت 50 سے زائد ممالک کو ادویات برآمد کرتا ہے۔ وہاں کے ایک نائب صدر بالا سریندرن نے کہا کہ بلومبرگ کی پوچھ گچھ کے بعد، فورٹس نے کولڈ آؤٹ کے ایک نمونے کا تجربہ کیا جو اس کے ہاتھ میں تھا اور اسے بے داغ پایا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی ریگولیٹرز نے شرون کے پلانٹ سے دیگر نمونے قبضے میں لیے ہیں اور فورٹس کو ان ٹیسٹوں کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ نیشنل ڈرگ ایجنسی کے حکام اور دو مقامی ریگولیٹرز نے یا تو تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا یا کہا کہ ان کے پاس شیئر کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ شارون کے ایگزیکٹوز نے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    قصور میں کل ہونے والا ن لیگ کا جلسہ ملتوی

    گیمبیا میں گزشتہ سال پھیلنے والی وباء سے 60 سے زائد بچے ہلاک ہوئے تھے، اور ازبکستان میں ہونے والے ایک بچے نے سمیت 20 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے نے بھارت سے منشیات کی برآمدات کے معیار پر تازہ سوالات اٹھائے ہیں، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا عام منشیات بنانے والا ملک ہے اور خود کو دنیا کی "فارمیسی” کہتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے اس ماہ کہا تھا کہ اس سال کیمرون میں 12 بچوں کی موت کا ذمہ دار کھانسی کے شربت میں ڈائیتھیلین گلائکول کی غیر محفوظ سطح موجود تھی، جو کہ ایک ایسا ہی زہریلا مرکب ہے۔ اس صورت میں، دوائیوں کی پیکیجنگ میں کسی بنانے والے کا نام نہیں ہوتا ہے لیکن کسی اور ہندوستانی کمپنی کا مینوفیکچرنگ لائسنس نمبر ہوتا ہےکھانسی کے شربت اور دیگر مائع ادویات زہریلے صنعتی سالوینٹس سے آلودہ پائی گئی-

    انٹر نیشنل کر کٹ کونسل نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2024 کی تاریخ دے دی

  • جدید طریقہ علاج میں گھٹنوں کے پرانے درد سے چھٹکارا ممکن ہے،ڈاکٹر بابر بخت

    جدید طریقہ علاج میں گھٹنوں کے پرانے درد سے چھٹکارا ممکن ہے،ڈاکٹر بابر بخت

    اُوچ شریف(باغی ٹی وی) معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر بابر بخت چغتائی نے کہا ہے کہ ہڈیوں اور جوڑوں کا مرض خاموش قاتل ہے،باقاعدہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ہی آسٹروپروسس کی شناخت کر سکتے ہیں جوڑوں کے درد کی بڑی وجوہات میں بڑھتی عمر، اٹھنے بیٹھنے کے غلط انداز، غذائی بے اعتدالیاں‘ سورج کی روشنی کی شکل میں وٹامن ڈی سے محرومی‘کچھ بیماریاں اور حادثات نمایاں ہیں

    اگرجوڑوں کے گھس جانے کاسبب بڑھاپا ہو تواسے واپس نہیں پلٹایا جا سکتا، اس کا علاج دوائیں،ورزش یاپھر جوڑ کی تبدیلی ہے،ڈاکٹر بابر بخت چغتائی نے کہا کہ علاج کیلئے پہلے’’روماٹالوجسٹ‘‘اور پھر’’آرتھو پیڈک سرجن“ سے رابطہ کرنا چاہئے لوگوں کو چاہئے کہ بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جانیں اور باقاعدہ واک اور ورزش کو عادت بنائیں سرخ گوشت کا زیادہ استعمال بھی اس کا ایک سبب ہے لہٰذا اس سے اجتناب کریں۔عام گوشت بھی کم اور سبزیاں زیادہ کھائیں۔

    موٹاپے کا جوڑوں کے درد سے گہرا تعلق ہے‘ اس لئے اسے لازماً کنٹرول میں رکھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کی عمر زیادہ نہیں اور چھوٹے جوڑوں مثلاً ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں یا کلائی میں درد خواہ کم ہی کیوں نہ ہو‘ ایک دفعہ ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں۔ اگر اسے نظرانداز کیا جائے تو کچھ ایسی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جو بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہیں اور دیگر اعضاء کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر آپ کی زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔جوڑوں کے درد کی صورت میں 90 فی صد لوگ واک یا ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔اگر لوہے کے دروازوں کو گریس نہ لگائی جائے تو انہیں زنگ لگ جاتا ہے اور پھر وہ کھلتے نہیں۔اسی طرح اگرجوڑوں کے درد کے مریض اس معاملے میں لاپرواہی برتیں گے توان کے جوڑ اکڑ جائیں گے اور بعد میں ان کے لئے کھڑا ہوناتک مشکل ہوجائے گا۔

    موٹاپا بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرد کا اضافی بوجھ جوڑوں کوہی اٹھانا پڑتاہے جس سے انہیں نقصان پہنچتا ہے۔مرض کی اس قسم میں گھٹنوں، ایڑی،کولہے اورکندھے وغیرہ جیسے بڑے جوڑ متاثر ہوتے ہیں۔اسے جوڑوں کا پرانا درد (osteoarthritis) کہا جاتا ہے۔دوسری قسم کاجوڑوں کا درد وہ ہے جو زیادہ تر نوجوانی میں ہوتا ہے۔اس میں ہاتھوں اورپاؤں کی انگلیوں اور کلائیوں وغیرہ کے چھوٹے جوڑ شامل ہیں۔یہ ریوماٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis) کہلاتا ہے۔

    تیسری قسم وہ ہے جس میں ہڈیاں بھربھری ہو جاتی ہیں اور جلد ٹوٹ جاتی ہیں۔اس مرض میں مبتلا افراد کو فریکچر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ مرض خواتین میں زیادہ ہے‘ خصوصاً ان خواتین میں جو زیادہ دفعہ حمل کے تجربے سے گزری ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ہڈیوں میں سے کیلشیم زیادہ نکل جاتا ہے جس سے اس کی کمی ہو جاتی ہے۔ اسے ہڈیوں کا بھربھرا پن(osteoporosis) کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ آسٹیو آرتھرائٹس سے مختلف بیماری ہے۔ اس سے متعلق تمام امور کیلئے ماہر امراض ہڈی و جوڑ (آرتھو پیڈک سرجن)کے پاس جانا چاہئے۔

  • بچوں کی زیرو ویکسی نیشن فہرست  بھارت پہلے نمبر پر

    بچوں کی زیرو ویکسی نیشن فہرست بھارت پہلے نمبر پر

    پاکستان دنیا میں تعداد کے لحاظ سے بچوں کی زیرو ویکسی نیشن فہرست میں 8ویں نمبر پر آگیا ہے جبکہ بھارت زیرو ڈوز بچوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت نے بچوں کی زیرو ویکسی نیشن فہرست جاری کردی، جس میں بھارت پہلے نمبر پرہےرپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال 6 لاکھ 11 ہزار بچوں کو ایک بھی ویکسین ڈوز نہیں لگی گزشتہ سال پاکستان میں 12 لاکھ بچے خسرے کی ویکسین سے محروم رہے جبکہ بھارت میں 27 لاکھ بچے ہر طرح کی ویکسین سے محروم رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں زیرو ڈوز بچوں کی تعداد 1کروڑ 43 لاکھ تھی۔ جس میں پاکستان میں 12 لاکھ، نائیجیریا میں 31 لاکھ بچوں کو خسرے کی ویکسین نہیں لگی تھی نائجیریا خسرے کی ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں میں سرفہرست ملک ہے-

    خیبر پختونخوا میں ایچ ائی وی ایڈز بے قابو

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں زیرو ڈوز بچوں کی تعداد 1 کروڑ 43 لاکھ تھی جبکہ 2021 میں ایک یا زیادہ ویکسین سے محروم بچوں کی تعداد ڈھائی کروڑ کے قریب تھی۔

    ڈبلیو ایچ او نے پاکستان میں بچوں میں ویکسی نیشن کے عمل کو بڑھانےکی ضرورت پر زور دیا ہےعالمی ادارہ صحت پاکستان کے مطابق پاکستان میں زیرو ڈوز بچوں میں ویکسی نیشن بڑھانے کی ضرورت ہے، بچوں کی ویکسی نیشن بڑھانے پر بہت زور دیا جا رہا ہے۔

    نئے انتخابات سے قبل آئی ایم ایف کی نئی شرائط پر پاکستان کی یقین دہانی

    اس حوالے سے ڈاکٹر خالد شفیع کا کہنا ہے کہ سندھ میں بریسٹ فیڈنگ پروموشن اینڈ پروٹیکشن بل منظور کر لیا گیا ہے، نیا قانون بچوں کی جان بچانے میں انتہائی معاون ہو گا پاکستان میں ویکسی نیشن کے غلط اعداد و شمار فراہم کیے جاتے ہیں۔

    پروفیسر شہزاد علی کا کہنا ہے کہ ویکسی نیشن کی شرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بڑھائی جا سکتی ہے وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے کہا کہ ویکسی نیشن بڑھانے کے لیے نجی اداروں کا تعاون حاصل کر نا ہو گا۔

    اعظم خان گواہ، عمران خان کی کمر ٹوٹ گئی، اسی کوڑے

  • کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کی وفاقی سیکرٹری صحت سے ملاقات

    کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کی وفاقی سیکرٹری صحت سے ملاقات

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے دور کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو
    اسلام آباد: وفاقی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی ایک ناسور ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کم عمری سے ہی اس لت میں مبتلا ہورہی ہے جس کے سدباب کے لئے حکومت انتہائی سنجیدہ ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے وفاقی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو سے ان کے دفتر میں ملاقات کی،

    اس موقع پر شارق خان نے ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو کو تمباکو نوشی کے خاتمے کے حوالے سے کرومیٹک کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ شارق خان نے کہا کہ سگریٹ کے متبادل کے طور پر نوجوانوں میں شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز کا استعمال عام ہو رہا ہے، نوجوانوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ سگریٹ کے متبادل اشیاء بھی سگریٹ ہی کی طرح نقصان دہ ہیں اس لئے شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز پر بھی حکومت کو فوری پابندی عائد کرنی چاہئے تاکہ نوجوان نسل اس لعنت میں مبتلا ہو کر اپنی صحت اور پیسے کا ضیاع نہ کریں۔

    اس موقع پر ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو نے کہا کہ پاکستان میں 12 سو سے زائد بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں، یہ صورتحال تشویش ناک ہے اور اس کے سد باب کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے، سگریٹ کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو نے کہا کہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے کرومیٹک کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • وزن کم کرنے کے لئے دوائیوں کا استعمال

    وزن کم کرنے کے لئے دوائیوں کا استعمال

    موٹاپا ایک بیماری، اس سے بچاؤ کے لئے ہر ایک کوشش کرتا ہے
    موٹاپے کے خاتمے کے لئے خوراک ،ورزش کے ساتھ دوائیاں بھی کھائی جاتی ہیں
    سوشل میڈیا پر، بلکہ دیواروں پر بھی اشتہار لگتے ہیں کہ یہ دوا کھائیں اور وزن کم کریں
    جب تک خوراک ، ورزش کا خیال نہیں رکھیں گے وزن کم ہونے کا کوئی امکان نہیں
    پاکستان کو چھوڑیئے امریکہ میں بھی وزن کم کرنے کی جعلی دوائیاں بیچنے کا فراڈ ہو چکا
    کراچی میں بھی ایک وزن کم کرنے کی جعلی دوا فروخت کرنے پر صارف عدالت پہنچ گیا تھا
    وزن کم کرتا ہے تو دواؤں کا سہارا چھوڑیئے، ڈاکٹر کے پاس جائیے اورہدایت پر عمل کیجئے

    موٹاپا ایک بیماری اور اس سے بچاؤ کے لئے ہر ایک کوشش کرتا ہے، کوئی کامیاب ہو پاتا ہے اور کوئی سعی کرتا رہتا ہے، موٹاپے کے خاتمے کے لئے جہاں خوراک ،ورزش کی جاتی ہے وہیں دوائیاں بھی کھائی جاتی ہیں اور وزن کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،وزن کم کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر، بلکہ شہر میں نکلیں تو دیواروں پر بھی اشتہار لگے ہوتے ہیں،چوکوں چوراہوں پر پمفلٹ بانٹے جاتے ہیں کہ یہ دوا کھائیں اور وزن کم کریں،کیا ان دواؤں سے وزن کم ہوتا بھی ہے یا نہیں؟ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دوائیں جتنی مرضی کھا لیں جب تک خوراک کا خیال نہیں رکھیں گے اور ورزش نہیں کریں گے تب تک وزن کم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے

    بازاروں میں جائیں،ٹی وی پر ،سوشل میڈیا پر ایڈ دیکھیں جہاں خوشنما دعوے کئے جاتے ہیں کہ اپنے کھانے پر پاؤڈر چھڑک کر وزن کم کریں، بادام کی خوشبو والی کریم اپنی رانوں پر لگائیں اور انہیں پتلا کریں، زبان کے نیچے صرف دو قطرے ڈالیں اور روز وزن کم کریں، یہ دعوے تو بہت اچھے ہیں مگر حقیقت اسکے برعکس ہوتی ہے، پاکستان کو تو چھوڑیئے امریکہ میں بھی ایسا وزن کم کرنے کا فراڈ ہو چکا ، جس کا عدالت میں بھی کیس چلا، دوا بنانے والی چار کمپنیوں کے خلاف امریکی عدالت میں کیس ہوا جن کے اسی طرح کے خوشنما دعوے تھے

    وزن کم کرنے کے لئے ٹوٹکوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے،وزن کیسے کم ہو گا؟ اس حوالہ سے ٹوٹکے، دوائیاں،اگرچہ کچھ اچھی بھی ہو سکتی ہیں تا ہم ورزش اور خوراک ساتھ بہت ضروری ہیں، اگر معالج کے مشورے کے بغیر ہی وزن کم کرنے کی دوائیں خوشنما اشتہار دیکھ کر کھاتے رہیں گے تو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہونیوالا،کچھ دوائیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں، خوشنما دعووں کی بجائے حقیقت کو تسلیم کرنا سیکھیں، جنہوں نے اپنی مصنوعات فروخت کرنی ہوتی وہ بڑے بڑے دعوے کرتے اور اتنے دعوے کرتے کہ انسان ان کے جھوٹ کو بھی سچ مان لیتا ہے اور جب انکی پروڈکٹ استعمال کی جاتی ہے تو اسکا نتیجہ صفر،کیونکہ وہ صرف خوشنما دعوے کر کے اپنی مصنوعات کی فروخت کر رہے ہیں

    اگر کوئی کہے کہ ڈائٹنگ یا ورزش کے بغیر وزن کم کریں، اس دوا کا استعمال کریں اور وزن کم کریں، وزن کم کرنے کے لئے بس یہ ایک گولی کھائیں، تیس دنوں میں دس کلو وزن کم شرطیہ،تو یہ بالکل بھی نہیں ہو گا،اچھی خوراک اور ورزش کے بغیر وزن کم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، تیزی سے وزن کم کرنے کی دوائیں صرف دھوکہ ہی ہوتی ہیں،دھوکہ دینے والے جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں اور سوشل میڈیا، ویب سائٹس کا سہارا لے کر اپنی دوا بیچ کر صارفین کو لوٹتے ہیں، کبھی کبھار دھوکہ دہی کرنیوالے اپنی دوا فروخت کرنے کے لئے کسی معروف کمپنی کے لوگو کی طرح کا استعمال بھی کریں گے تا کہ اسکی پہچان نہ ہو سکے،وزن کم کرنے کی آن لائن دوا فروخت کرنیوالوں کی یہ بھی ایک چال ہوتی ہے کہ اپنے اشتہارات کے نیچے کمنٹس خود ہی لکھواتے ہیں جس میں لوگ کہتے ہیں کہ ہاں، اس دوا سے انکا وزن کم ہوا، حالانکہ وہ کمنٹ کمپنی کے اپنے بندوں کے اور جھوٹ ہوتے ہیں

    پاکستان کے شہر کراچی میں ایک وزن کم کرنے کی جعلی دوا فروخت کرنے پر صارف عدالت پہنچ گیا تھا ، عدالت نے ڈاکٹر کو جرمانہ بھی کر دیا تھا، کنزیومر کورٹ شرقی میں ڈائٹ پلان خریدنے والے شہری عبد الجبار لغاری نے ڈاکٹر کے خلاف درخواست جمع کروائی ،فہمیدہ ساہیووال کے روبرو ڈائٹ پلان فروخت کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس کے بعد ڈائٹ پلان فروخت کرنے والی ڈاکٹر ندا کو ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ عدالت میں جمع کروانا پڑا۔کنزیومر کورٹ شرقی میں جمع کروائی درخواست کے متن کے مطابق ستمبر 2022 میں عبدالجبار لغاری نے والدہ کیلئے ڈاکٹر سے ڈائٹ پلان خریدا تھا، ڈائٹ پلان کی مکمل رقم 38 ہزار روپے بھی ادا کردی گئی تھی۔درخواست گزار کے مطابق ڈاکٹر نے ایک ماہ میں 10 کلو وزن کم کرنے کی گارنٹی دی تھی، تاہم ڈائٹ پلان سے والدہ کے پیٹ میں تکلیف شروع ہوگئی، شکایت کے باوجود رقم واپس نہیں کی گئی۔درخواست پر فیصلہ آنےکے بعد ڈائٹ پلان خریدنے والے شہری کے کیس میں ڈاکٹر ندا نے ڈھائی لاکھ روپے جرمانے کی رقم عدالت میں جمع کرا دی۔

    وزن کم کرتا ہے تو دواؤں کا سہارا چھوڑیئے، ڈاکٹر کے پاس جائیے اور اس سے وزن کم کرنے کے لئے اپنی خوراک اور ورزش کے بارے میں پوچھئے، ورنہ پچھتاتے رہیں گے اور وزن بھی کم نہیں ہو گا،

    وزن کم کرنے کا آسان نسخہ
    اجزاء:
    لیموں چار عدد
    شہد تین کھانے کے چمچ
    دار چینی دو چائے کے چمچ
    ادرک ایک ٹکڑا
    تازہ سہانجنا ایک سو پچیس گرام

    ترکیب:
    ادرک اور سہنجنا کو بلینڈر میں اچھی طرح پیس لیں اس میں لیموں کا رس شامل کر کے دو سے تین منٹ پھر بلینڈ کریں پھر اس میں سہد اور دار چینی ملا کر دوبارہ بلینڈ کریں اور اس کو نکال کر شیشے کے جار میں محفوظ کر لیں اس کا ایک چمچ دن میں دو بار کھانے سے پہلے استعمال کریں تین ہفتے استعمال کریں پھر کچھ دنوں کے وقفے کے بعد دوبارہ استعمال شروع کریں اس سے نہ صرف وزن کم ہوگا بلکہ اس سے نظر دماغ اور یاداشت بھی تیز ہوگی سہانجنا میں وٹامن چی بی سکس بی ون پوٹاشئیم میگنیشئم اور فاسفورس پایا جاتا ہے اس کی وجہ سے میٹابولزم بھی تیز ہوجاتا ہے اور تھکاوٹ بھی دور ہوتی ہے

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو …

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ …

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    شادی کے بعد جوڑوں کا جسمانی وزن بڑھ جاتا ہے۔

  • غذائیں اور مشروبات جو گرمی میں راحت پہنچاتے ہیں

    غذائیں اور مشروبات جو گرمی میں راحت پہنچاتے ہیں

    گرمیوں میں موزوں غذاؤں کا انتخاب کر کے ہم جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اور قوت بخش رکھ سکتے ہیں

    زیادہ پانی کا استعمال اچھا ہے مگر یہ تسلی ضرور کرلیں کہ کیا آپ موزوں مشروبات ہی حلق میں انڈیل رہے ہیں

    لسی: یہ گرمی میں سب سے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے میٹھی یا نمکین لسی دونوں ہی جسم کو پرسکون رکھتی ہیں

    جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے تربوز بہترین پھل ہے اس پھلے میں قدرتی طور پر 90 فیصد پانی پایا جاتا ہے

    بے انتہا گرمی نہ صرف پریشانی کا سبب بنتی ہے ایسے میں ہر کوئی متعدد بیماریوں اور پیٹ سے جڑی شکایتوں میں گھِرا نظر آتا ہے، گرمیوں میں موزوں غذاؤں کا انتخاب کر کے ہم جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اور قوت بخش رکھ سکتے ہیں طبی ماہرین کے مطابق موسم گرما کے آتے ہی سب سے پہلے ہر عمر کے فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانی کے استعمال کی مقدار بڑ ھا دے، اس کے علاوہ سادہ اور گھر میں بنے کھانوں، موسمی اور ٹھنڈی تاثیر والی سبزیوں کا استعمال اپنی غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیے، سبزیاں نہ صرف انسانی مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ گرمی کی شدت اور لو سے بھی بچاتی ہیں۔

    قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک فریز کر سکتے ہیں؟

    گھر سے باہر نکلنے والے افراد کے لیے جھلستی گرمی کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا اس موسم میں جسم میں آسانی سے پانی کی کمی ہوسکتی ہے گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے جسم میں پانی کی مقدار کا برقرار رہنا بھی نہایت ضروری ہے، سال کے گرم مہینوں کے آتے ہی تیز دھوپ، تپتی دوپہر، گرمی اور لو کی وجہ سے جسم کے درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی کے سبب دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ پانی کا استعمال اچھا ہے مگر یہ تسلی ضرور کرلیں کہ کیا آپ موزوں مشروبات ہی حلق میں انڈیل رہے ہیں یا نہیں بے تحاشہ میٹھے مشروبات یا کولڈ ڈرنکس پینا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے بھلے ہی آپ کو ان کی طلب ہو رہی ہو-

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ …

    سادہ پانی: طبی ماہرین کے مطابق جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہر انسان کو خواہ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت گرمیوں کے آغاز سے ہی سادہ پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، اس دوران زیادہ میٹھے اور پروسیسڈ، ڈبے کے مشروبات سے پرہیز کریں۔

    ہم وزن املی اور خشک آلو بخارے کو رات بھر پانی میں بھگوئے رکھیں ، صبح گودا نچوڑ کر گٹھلیاں الگ کر لیں ۔ کڑاہی میں یہ پانی اور گودا ڈالیں اورحسب پسند چینی ڈال کر پکا لیں۔ پھر اس محلول کو چھان لیں۔ جگ میں حسب ضرورت شربت ، پانی اور برف ڈالیں، آپ کا فرحت بخش مشروب تیار ہے۔

    دہی یا دودھ سے بنی لسی: یہ گرمی میں سب سے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کئی کمپنیوں نے گرمیوں میں لسی متعارف کروادی ہے۔ میٹھی یا نمکین لسی دونوں ہی جسم کو پرسکون رکھتی ہیں لیکن یاد رہے کہ رات کے وقت میٹھی لسی سے اجتناب کرنا چاہیے –

    شربت بادام: یہ پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ غذائی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ اسے بنانا بھی نہایت آسان ہے۔ دودھ میں حسب پسند بھیگے اور چھلے ہوئے بادام ،چٹکی بھرزعفران، سبز الائچی کے دانے اور حسب زائقہ چینی ڈال کر گرائینڈ کرلیں۔ مزیدار شربت تیار ہے۔

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    تربوز: موسم گرما میں جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے تربوز بہترین پھل ہے اس پھلے میں قدرتی طور پر 90فیصد پانی پایا جاتا ہے اور اس کے استعمال سے ہمارا جسم پانی کی کمی کا شکار نہیں ہوتا اور ساتھ ہی ہمیں گرمی کا احصاس بھی کم ہوتا ہے تربوز کے شربت کا ایک گلاس آپ کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔ تربوز کاٹ کر بیج الگ کر لیں ۔ گرائنڈر میں تربوز کے ٹکڑے، تھوڑی چینی، حسب پسند نمک، لیموں کا رس اور تھوڑا سا پانی ڈال کر گرائنڈ کرلیں۔ مزیدار تربوز شربت تیار ہے۔

    کیلے کاشیک: یہ پوٹاشیئم سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ایک کیلا زیادہ پسینے کے اخراج سے آپ کے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی کو بحال کرنے میں مدد کر سکتا ہےجبکہ جسم کو طاقت دینے کے لیے کیلے کا شیک بہترین ہے یہ آپ کی توانائی بحال رکھتا ہے۔ بنانا شیک میں بھرپور وٹامنز،منرلزاور ضروری چکنائی پائی جاتی ہے۔ دودھ اور کیلے کا یہ مکسچر سستی بھگانے کے ساتھ ساتھ جسم کی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرتا ہے۔

    آم: کچی کیری سے بننے والا مشروب قطعی طور پر فرحت بخش ہوتا ہے اور ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رکھتا ہے۔ جیسے جیسے گرمیوں کا موسم گزرتا جائے گا ویسے ویسے زرد پیلے آم مارکیٹ میں نظر آنے لگ جائیں گے اور آپ ان کی بھرپور مٹھاس اور قوت بخش ملک شیکس کے لیے خود کو چھوٹ دے سکتے ہیں۔

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو …

    لیموں: علاوہ ازیں گرمی میں لیموں کی سکنجین سب سے اہم چیز ہے تازہ لیموں پانی بھی تازگی اور وٹامن سی سے بھرپور، اور صحت کے لیے مفید ہے اور آپ کو چاہیے کہ اپنی پیاس بجھانے کے لئے اس مشروب کا استعمال کریں، گرمی کے توڑ کے ساتھ ساتھ جسم میں وٹامن سی کی مقدار بھی مناسب رہے۔

    ناریل کا پانی: اس کی سادہ مٹھاس، الیکٹرولائیٹس اورضروری معدنیات جسم میں پانی کی مناسب مقدارقائم رکھتے ہیں اس بات کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ ناریل پانی میں کینسر کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی عمر کے آثار روکنے کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں۔ اس کے اندر موجود گودے کو مزے لے کر کھائیں اور اس میں موجود وٹامنز، منرلز اور پوٹاشیم کی دعوت اڑائیں۔

    خربوزہ بھی گرمیوں کا ایک لذیذ پھل ہے جس میں 90 فی صد پانی موجود ہوتا ہے۔ یہ پودوں سے حاصل ہونے والی معدنیات، وٹامن اے اور زی زینتھن (جو کہ ایک اہم غذائی عنصر ہے) سے بھرپور ہوتا ہے۔ وٹامن اے اور زی زینتھن بینائی کے لیے زبردست ہوتے ہیں۔

    کولڈ کافی: اگر آپ کو اپنا دن شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ کیفین کی ضرورت ہوتی ہے تو آپ صبح کی کڑک کافی کی جگہ کولڈ کافی استعمال کرسکتے ہیں۔ کولڈ کافی سے جلد کے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے جس کا شکار آپ اس جھلسا دینے والی گرمی میں ہوسکتے ہیں۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    سبز چائے: زیادہ چائے پینے کے بجائے سبز چائے کا استعمال کریں جو کہ ایک صحت بخش اور ہلکا پھلکا انتخاب ہے۔ اس کے ساتھ چائے ہی کی طرح آپ کو متحرک بنانے کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ آئس ٹی بھی ایک اچھا انتخاب ہو سکتا ہے۔

    کھیرے: اس قدرتی سبزی میں بھی پانی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں ان کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔آپ کو چاہیے کہ انہیں دہی یا لیموں کے ساتھ کھائیں کھیرے میں 96.4 فی صد پانی ہونے کی وجہ سے اس میں بے تحاشہ ٹھنڈک پہنچانے، پانی کی مقدار کو دوبارہ بحال کرنے اور زہریلے مادوں کے جسم سے اخراج کی خصوصیات موجود ہیں یہ فائبر سے بھی بھر پور ہوتے ہیں جو کہ قبض ختم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان میں وٹامن اے، بی 1، بی 6، سی اور ڈی، کیلشیم، پوٹاشیم اور فولیٹ شامل ہوتا ہے۔

    پودینہ: جب بھی سلاد بنائیں پودینے کا استعمال کریں کہ اس طرح نہ صرف آپ کا کھانا خوشبودار ہوگا بلکہ یہ معدے کو بھی ٹھنڈا رکھتے ہوئے جسم کو پرسکون رکھے گا، یہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد نہیں کرتا مگر پھر بھی یہ بہت فرحت بخش ہوتا ہے۔

    کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

    پیاز: دوپہر کو سلاد میں کھیرے اور پیاز کا استعمال کریں ۔پیاز میں یہ خاصیت موجود ہے کہ اسے بطور سلاد کھانے سے جسم کو نمکیات کی مطلوبہ مقدار میسر رہتی ہے،لال پیاز خصوصی طور پر ہلوطین سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ ایک قدرتی الرجی شکن ہے اور اینٹی ہسٹا مائین کے طور پر کام کرتا ہے ہسٹامائین تکلیف دہ عنصر ہوتا ہے جس کی وجہ سے گرمی کے زخم اور کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے یا ڈنک مارنے سے شدید ردِعمل ہوتے ہیں۔ اس لیے روز پیاز کھانا گرمیوں کی شکایتوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    ٹماٹر: یہ ایک پھل ہے مگر سلاد کا ایک اہم حصہ ہے۔ ٹماٹر ایک قدرتی سن اسکرین کی طرح ہیں جو دھوپ میں رنگت خراب ہونے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس کے استعمال سے رنگت تیزی سے نکھرتی ہے جو دھوپ کے سبب خراب ہونے والی رنگت کو نکھارتا ہے اور متاثرہ جھلسی ہوئے جِلد کو صحت مند بناتا ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

  • بارشوں کے باعث ڈینگی کیسز میں اضافے کا خدشہ، محکموں کو الرٹ رہنے کا حکم

    بارشوں کے باعث ڈینگی کیسز میں اضافے کا خدشہ، محکموں کو الرٹ رہنے کا حکم

    …بارشوں کے باعث ڈینگی کیسز میں اضافے کے خدشہ کے پیش نظر صوبائی ڈینگی مانیٹرنگ کمیٹی نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    صوبائی ڈینگی مانیٹرنگ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منگل کے روز سول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں نگران صوبائی وزراء جمال ناصر، منصور قادر،اظفر علی ناصر، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور محکمہ صحت کے حکام نے شرکت کی جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ کمیٹی نے ملتان میں ڈینگی کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور وجوہات کا تعین کرنے کی ہدایت جاری کیں۔ اجلاس میں انسداد ڈینگی سرگرمیوں میں غفلت کا مظاہرہ کرنے والے فیلڈ سٹاف کیخلاف کارروائی کافیصلہ بھی کیا گیا۔

    نگران صوبائی وزیرپرائمری صحت جمال ناصر نے کہا کہ ڈینگی کی تشخیص کیلئے رورل ہیلتھ سینٹرز میں سی بی سی ٹیسٹ کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ ہسپتالوں سے ڈینگی رپورٹنگ بہتر بنانے کیلئے ہیلتھ کیئر کمیشن کردار ادا کرے۔نگران صوبائی وزیر تعلیم منصور قادر نے کہا کہ ملتان میں ڈینگی کیسز میں اضافہ تشویشناک ہے، ڈینگی پر قابو پانے کیلئے کیسز میں اضافے کی وجوہات کا تعین کیا جائے۔نگران صوبائی وزیر ہاؤسنگ اظفر علی ناصر نے کہا کہ ڈینگی کے حوالے سے کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بارشی پانی کے نکاس کیلئے واسا اورمحکمہ بلدیات خصوصی اقدامات کرے۔

    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے الائزا ڈینگی ٹیسٹ کی قیمت 1,500روپے مقررکر دی

    ڈینگی کا ڈنگ تیز، ہسپتال بھر گئے

    لاہور میں ڈینگی کیسز کی شرح میں کمی

    انیل مسرت منموہن سنگھ کے ہمراہ سیلفی بنانے لگے تو کیا ہوا؟

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کرونا ٹیسٹ، کیا آئی رپورٹ؟

    ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری، 68 افراد گرفتار،639 مقدمات درج

    چیف سیکرٹری پنجاب نے حکم دیا کہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز انسداد ڈینگی مہم کی خود نگرانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ انسداد ڈینگی سرگرمیوں اور لاروا کی نشاندہی کے ڈیٹا میں مطابقت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے خاتمے کیلئے نئے ایس او پیز کے تحت تمام متعلقہ محکمے متحرک انداز میں کام کریں۔  سیکرٹری پرائمری ہیلتھ علی جان نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال ڈینگی کے 248کنفرم کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،لاہور میں 73،ملتان میں 59، فیصل آباد میں 16کیسز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بلدیات اور زراعت انسداد ڈینگی سرگرمیوں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

  • ورزش اور وزن کی کمی سے ذیابیطس کامرض دور ہوسکتا ہے، ماہرین

    ورزش اور وزن کی کمی سے ذیابیطس کامرض دور ہوسکتا ہے، ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض ورزش کا معمول جاری رکھتے ہوئے اگر اپنے وزن میں 10 فیصد تک کمی کرلیں تو اس سے بہت سے طبی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

    سیٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ ذیابیطس کے ممکنہ یا مرض کے لاحق ہونے سے پریشان ہیں تو وزن کم کرنے کے ساتھ اگر ورزش کو شامل کرلیا جائے تو انسولین کی حساسیت دوگنا بڑھ جاتی ہے۔ اس سے پری ڈائبیٹس کا اثرکم ہوجاتا ہے اور شوگرکامرض آپ سے بہت دور ہوسکتا ہے۔

    تحقیق میں ماہرین نے 30 س 49 بی ایم آئی کے بہت سے رضاکاروں کو شامل کیا گیا جن میں انسولین سے مزاحمت پیدا ہورہی تھی۔ ان میں پری ڈائبیٹس میں مبتلا افراد بھی شامل تھے۔ تمام رضاکاروں کو دوگروہوں میں شامل کیا گیا۔ ایک گروہ کو صرف وزن کم کرنے کا کہا گیا اور انہوں نے لگ بھگ 10 فیصد وزن گھٹایا۔

    کولمبیا میں 2 طیارے پرواز کے دوران ٹکرا گئے،ویڈٰیو

    دوسرے گروہ کو وزن کی اتنی ہی فیصد کم کرائی گئی اور باقاعدگی سےورزش بھی کرائی گئی جن افراد نے ورزش اور وزن میں کمی کی تھی ان کو غیرمعمولی فائدہ ہوا اور وہ ذیابیطس سے دور ہوتے چلے گئے جبکہ انسولین مزاحمت کا معاملہ بھی بہتری دکھارہا تھا اسی بنا پر پری ڈائبیٹس مریضوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وزن پر سختی سے قابو رکھیں اور ورزش بھی جاری رکھیں۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

    ڈاکٹر سیموئیل کلائن کے مطابق انسولین سینسٹیوٹی کا تعلق نہ صرف ٹائپ ٹو ذیابیطس سے ہے بلکہ یہ جگرکی چربی، خون میں چکنائیوں اور موٹاپے کی وجہ بھی بنتی ہے۔ اس کیفیت کو ورزش اور وزن میں کمی سے بہت اچھی طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر پرعارضی طور پر نئی حد بندیاں متعارف کروا دیں

  • اسپتالوں میں صحت کارڈ بند کرنے سے متعلق خبر کی تردید

    اسپتالوں میں صحت کارڈ بند کرنے سے متعلق خبر کی تردید

    لاہور: نگران وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے پرائیویٹ اسپتالوں میں صحت کارڈ بند کرنے سے متعلق خبر کی تردید کردی۔

    باغی ٹی وی: ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ نہ بند کررہےہیں اور نہ ہی کارڈیالوجی کی سہولیات محدود کی جائیں گی، صحت کارڈ کے ثمرات اصل حق داروں تک پہنچانا چاہتے ہیں پنجاب کےتمام سرکاری اسپتالوں میں صحت کارڈ کےذریعےکارڈیالوجی کی سہولیات بلا تعطل جاری رہیں گی پنجاب حکومت اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے جا رہی ہے جس کے تحت پنجاب کے عوام کو صحت کارڈ کے ذریعے سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں خبریں تھیں کہ پنجاب بھر میں صحت کارڈ پر دل کی بیماریوں اور زچگی کا علاج روک دیا گیا پنجاب کے نجی اسپتالوں میں صحت کارڈ پر امراض قلب کا علاج معطل ہوگیا جس کے بعد نجی اسپتالوں میں دل کے مریضوں کو اسٹنٹس سمیت ہارٹ سرجریز غیرمعینہ مدت تک بند کردی گئیں۔

    بلاول بھٹو زرداری 4 روزہ دورے پر جاپان پہنچ گئے

    اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی نے تمام نجی اسپتالوں کو ہدایات جاری کر دیں اور کہا کہ یکم جولائی سے نجی اسپتالوں میں دل کےمریضوں کا صحت کارڈ پرعلاج نہیں ہو گا، پنجاب حکومت نے مریضوں سے 30 فیصد پیسے چارج کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا پنجاب میں مستحق افراد کے تعین تک کارڈیک سروسز صحت کارڈ پر نہیں ہوں گی۔

    سوئیڈن: قرآن کریم کی بےحرمتی کے واقعے پر یورپی یونین کا ردعمل

    اسٹیٹ لائف انشورنس کے مطابق یکم جولائی کے بعد دل کے امراض کےعلاج پر نجی اسپتالوں کو ادائیگی نہیں ہو گی اس کے علاوہ اسٹیٹ لائف انشورنس نے امراض قلب کے بعد نجی اسپتالوں میں صحت کارڈ پر زچگی کےعلاج کی سہولت بھی بند کردی۔

    اسٹیٹ لائف نے صحت کارڈ پینل کے نجی اسپتالوں کو مفت زچگی علاج بند کرنے کی ہدایت کی اور مراسلے میں کہا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کے نجی اسپتالوں کو مراسلے کا اطلاق یکم جولائی سے ہے نارمل ڈلیوری یا سی سیکشن پر اسٹیٹ لائف کوئی ادائیگی نہیں کرے گا-

    انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں:پرنسپل جنرل ہسپتال

    واضح رہے کہ فروری 2019 میں وزیراعظم عمران خان نے ملک کے آٹھ کروڑ پاکستانیوں کے لیے صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس خواب کی تکمیل کے لیے وزیراعظم نے تین فروری کو “صحت انصاف کارڈز سکیم کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صحت کارڈ سکیم کا مقصد غریب طبقے کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پہلے مرحلے میں اسلام آباد، قبایلی علاقوں کے بعد اب ملک بھر میں انصاف صحت کارڈز کی سکیم متعارف کروا دی گئی ہے۔

    ویڈیو:خواجہ آصف نے شدید گرمی میں نہر میں چھلانگ کر تیراکی کی

    کارڈ ہولڈرز کو سالانہ سات لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج کی سہولت دستیاب تھی ڈیڑھ کروڑ خاندان یعنی آٹھ کروڑ شہریوں کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کی گئیں اینجو پلاسٹی، برین سرجری اور کینسر سمیت دیگر امراض کا مفت علاج، سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت اور ملک کے 150 سے زائد ہسپتالوں سے علاج مہیا تھا-

    انتظار نہ ہو سکا،دولہا ایمبولینس میں دلہن لینے پہنچ گیا