Baaghi TV

Category: صحت

  • جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف

    جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف

    ٹوکیو: جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف ہوا ہے، وائرس نے خاتون کی جان لے لی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفیکٹیو ڈیزیز(این آئی آئی ڈی) اور وزارت صحت، محنت اور بہبود کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق نئے جان لیوا وائرس کا نام اوز ہے ٹوکیو کی رہائشی 70 سالہ خاتون گزشتہ سال اس وائرس سے متاثر ہوئی تھی جس نے کبھی بیرون ملک سفر نہیں کیا بلکہ اسے ہائی بلڈ پریشر سمیت بنیادی بیماریاں لاحق تھیں۔

    اسپتال لائی گئی مریضہ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تو خاتون کی دائیں ٹانگ پر ایک خون چوسنے والا کیڑا “ٹک” خون چوستا ہوا پایا گیا تاہم اسپتال میں داخل ہونے کے 26 دن بعد دل کی سوزش مایو کارڈائٹس کی علامات کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

    ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع

    وزارت نے کہا کہ اگرچہ جنگلی حیات اور انسانوں میں ٹک سے پیدا ہونے والے وائرس سے ممکنہ انفیکشن کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا مہلک کیس ہے۔

    وزارت کے مطابق، خاتون، جس کی بیرون ملک سفر کی تاریخ نہیں تھی، گزشتہ موسم گرما میں بخار، تھکاوٹ اور جوڑوں کے درد سمیت علامات کے ساتھ اسپتال گئی اسے نمونیا ہونے کا شبہ تھا اور اس نے اینٹی بائیوٹکس تجویز کیں، لیکن اس کی علامات بگڑ گئیں اور اسے سوکوبا میڈیکل سینٹر میں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

    سلمان خان کو انتہائی درد ناک دھوکے ملے،اب انہیں گھریلو خاتون کی ضرورت ہے،ماہر علم …

    ماہرین کے مطابق اوز وائرس “ٹک” کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جس کی نسل جاپان میں موجود ہے تاہم تاحال جاپان سے باہر اس وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جہاں پر یہ خون چوسنے والا کیڑا “ٹک” پایا جاتا ہے وہاں لوگوں کو اپنا پورا جسم ڈھانک کر رکھنا ہو گا اور کیڑے کے چپکنے کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    دلہن کی تلاش میں ناکامی،نوجوان نے زہر پی لیا

  • بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت

    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت

    ماہرین صحت نے بچوں کے لیے مصنوعی دودھ پربھاری ٹیکس لگانے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: وفاقی وزارت صحت کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کے لیے آگاہی سیشن رکھا گیا جس میں صرف ایک سینیٹر سحر کامران نے شرکت کی آگاہی سیشن کے دوران ماہر امراض اطفال اورپاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کےرہنما پروفیسرجمال رضا نےکہا کہ پاکستان میں بچوں کے مصنوعی دودھ کی قیمت اور معیار کو جانچنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہےکہ فارمولا دودھ کی درآمد پرپابندی لگائی جائے، پاکستان بچوں کے مصنوعی دودھ کی درآمد پر 40 کروڑ ڈالر خرچ کرتا ہے۔

    ذکا اشرف کا ہائرڈ ماڈٌل پر تبصرہ،اے سی سی کا ردعمل سامنے آگیا

    ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹربصیر اچکزئی کا کہنا تھا کہ قرآن میں ماؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو 2 سال تک دودھ پلائیں جبکہ سینیٹر سحرکامران کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی طرح فارمولا ملک پر بھی بھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیے، پاکستان میں عوامی مقامات پر دودھ پلانے والی ماؤں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، بچوں کے مصنوعی دودھ سے متعلق سخت قوانین بنانےکی ضرورت ہے۔

    کیا ڈبے کا دودھ بچوں کے لیے صحت بخش ہے؟

    2018 میں کی گئی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ڈبے کا دودھ بچوں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا،نیویارک یونیورسٹی اورکنیکٹیکٹ یونیو ر سٹی کے محققین نے والدین کو انتباہ کیا تھا کہ فارمولا ملک یا ڈبے والا دودھ بچوں کو پلانے سے گریز کریں کیونکہ ان میں موجود مٹھاس صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی …

    اس تحقیق کے دوران حکام کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کے ڈبوں پر لگے لیبل میں واضح لکھنا چاہیے کہ یہ ایف ڈی اے (امریکی محکمہ صحت) کا تجویز کردہ نہیں اور اس میں غیر صحت بخش اجزاء ہو سکتے ہیں،بچوں کے اس طرح کے مشروبات غیر ضر وری اور صحت بخش کے اثرات کو زائل کرسکتے ہیں۔

    تحقیق میں کہا گیا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جانی چاہیے جن سے واضح ہوسکے کہ بچوں کے ایسے مشروبات کیا ہوتے ہیں اور کیونکہ ان کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا محققین نے دریافت کیا کہ بچوں کے لیے دو قسم کے مشروبات یا دودھ ہوتے ہیں ایک وہ فارمولا ملک، جو 9 ماہ سے 2 سال کے بچوں کو اس وقت دیئے جاتے ہیں، جب ماں کا دودھ چھڑایا جاتا ہے دوسرا ایک سال سے 3 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تیار کیے جانے والا دودھ۔

    قطر سے ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گئے

    محققین کا کہنا تھا کہ ایسے بیشتر مشروبات بنیادی طور پر پاﺅڈر ملک ، کورن سرپ، ویجیٹیبل آئل اور ایڈڈ مٹھاس پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ان میں نمک کی مقدار زیادہ اور پروٹین کی سطح گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہےتمام کمپنیاں ان مشروبات کو بچوں کی نشوونما اور غذائی ضروریات کے لیے فائدہ مند قرار دیتی ہیں۔

    مگر عالمی ادارہ صحت مشورہ دے چکا ہے کہ ایک سال کی عمر سے بچوں کو فارمولا ملک کی بجائے گائے کا دودھ صحت بخش غذاﺅں کے امتزاج کے ساتھ دیا جانا چاہیے بچوں کے مشروبات غیرضروری اور غیرموزوں ہوتے ہیں جبکہ گائے کے دودھ اور تازہ خوراک کے مقابلے میں فائدہ مند بھی نہیں ہوتے۔

    لیہ اراضی سکینڈل،عمران خان آج پیش نہ ہوئے تو ہو گی کاروائی

  • خیبرپختونخوا میں  22 بچے خسرے سے جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں 22 بچے خسرے سے جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں خسرہ کیسز میں اضافہ،رواں سال 22 بچے خسرے سے جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال ڈیرہ اسماعیل خان میں خسرہ سے سب سے زیادہ 462 کیسز رپورٹ ہوئے اور 13 بچے جاں بحق ہوئے۔چارسدہ میں 317، پشاور میں 226، باجوڑ میں 166 اور مردان میں خسرہ کے 161 کیسز سامنے آئے جبکہ صوابی 136، نوشہرہ، لکی مروت، اور کرک میں 171 بچے متاثر ہوئے ذرائع محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں باقاعدہ ویکسینیشن نہ ہونے سے خسرہ وبائی شکل اختیار کرگیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز پنجاب کے محکمہ صحت نے بھی خسرہ کے کیسز کی تفصیلات بتائی تھیں، صوبائی محکمہ صحت نے کہا تھا کہ اپریل سے مئی کے دوران 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ لاہور میں 580 سے زائد بچے خسرہ میں مبتلا ہوئے جبکہ راولپنڈی سے 521، حافظ آباد 114، جھنگ 99، شیخوپورہ 72 کیسز رپورٹ ہوئےقصور56، سیالکوٹ 49، ٹوبہ ٹیک سنگھ 43، فیصل آباد سے 42 بچے خسرے سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خسرے سے متاثرہ صوبے کی 265 یونین کونسلز میں کیس رسپانس کیا جارہا ہے 265 متاثرہ یونین کونسلز میں چھ ماہ سے پانچ سال بچوں کی ویکسینیشن ہورہی ہے، خسرے سے بچاؤ کی اضافی ویکسین متاثرہ اضلاع میں بجھوائی جارہی ہیں-

    امریکی وزیرخارجہ بلنکن کی چینی صدر سے ملاقات

    خسرہ ایک ایسی انفیکشن ھے جو وائرس سے پیدا ہوتی ہے۔ِ سردیوں کے آخر میں یا بہار کے موسم میں ہوتی ہے۔ خسرہ کی بیماری کے ساتھ جب کوئی مریض کھانستا یا چھینک مارتا ہےتو نہایت چھوٹےآلودہ قطرے پھیل کر ارد گرد کی اشیاء پر گر جاتے ہیں۔ آپکا بچہ یا تو ڈائیرکٹ سانس کے ساتھ اندر لے لیتا ہے یا پھر آلودہ اشیاء کو ہاتھ لگا کراپنا ہاتھ ناک، منہ، اور کانون لگاتا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں غیرمعمولی اضافہ

    خسرہ کی علامات بخار کے ساتھ شروع ہوتی ھیں اور جو کہ دو دن تک رہتی ہیں۔ اس سے کھانسی ، ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے اور پھر بخار آ لیتا ہے۔ اس سے آنکھ مین انفیکشن ہوتی ہے جسے ‘ پنک آئی’ کہتے ہیں۔ سرخ دانے چہرے اور گردن کےاوپر نمودار ہوتے ہیں اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ دانے بازوں، ہاتھوں، ٹانگوں،اور پیروں تک پھیل جاتے ہیں۔پانچ دن کے بعد جس طرح سرح دانے بڑھے تھے اسی طرح کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں-

    خیبر پختونخوا کے مخصوص اضلاع میں پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم آج سے شروع

  • ہفتے کا وہ دن جب دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    ہفتے کا وہ دن جب دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ایک دن ایسا ہے جس میں دیگر دنوں کے مقابلے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات 13 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی:مانچسٹر میں برٹش کارڈیو ویسکولر سوسائٹی (بی سی ایس) کی کانفرنس میں پیش کی گئی آئرلینڈ کے ماہرین قلب کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق ہفتے کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں پیر کو شدید دل کے دورے پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    سنیل گواسکر ویرات کوہلی پر برس پڑے

    بیلفاسٹ ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر ٹرسٹ اور آئرلینڈ کے رائل کالج آف سرجنز کے ڈاکٹروں کے ذریعہ کی گئی اس تحقیق میں، آئرلینڈ کے جزیرے (بشمول جمہوریہ آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ) کے ہسپتالوں میں داخل 10,528 مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا یہ 2013 سے 2018 کے درمیان دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

    برطانیہ میں ہر سال، 30,000 سے زیادہ لوگ STEMI کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں ان کے دل کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے انہیں فوری تشخیص اور علاج کی ضرورت ہےاس میں عام طور پر ہنگامی انجیو پلاسٹی اور سٹینٹ (زبانیں) شامل ہوتے ہیں، جو کہ بلاک شدہ کورونری شریان کو دوبارہ کھولنے اور خون کو دوبارہ دل تک پہنچانے کا طریقہ ہے۔

    بھارتی محکمہ موسمیات نےکچ اورسوراشٹرا کیلئےاورنج الرٹ جاری کردیا

    ماہرین نے بتایا کہ ہر سال ہزاروں مریض پیر کے دن دل کا دورہ پڑنے کے سبب اسپتال میں داخل ہوتے ہیں ان مریضوں میں پیر کے دن دل کا دورہ پڑنے کے کیسز سب سے زیادہ (13 فیصد اضافہ) ریکارڈ کیے گئے ہیں اس کے علاوہ یہ شرح اتوار کے روز بھی متوقع شرح سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محققین کے مطابق پیر کو اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں کورونری آرٹری بلاک ہونے کی شکایت بھی عام تھی ”بلیو منڈے“ کے نام سے مشہور اس رجحان نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا ہے۔

    گزشتہ مطالعات میں بتایا گیا ہے کہ جسم کے سرکیڈین تال، یا قدرتی نیند کے چکر کی وجہ سے پیر کو دل کا دورہ پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    سعودی عرب:سیکورٹی اہلکار کو قتل کرنے کےمجرموں کو سزائے موت

    بیلفاسٹ ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر ٹرسٹ میں تحقیق کی قیادت کرنے والے ماہر امراض قلب ڈاکٹر جیک لافن نے اس تحقیق کے بارے میں ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ہمیں ہفتے کے آغاز اور دل کے امراض کے واقعات کے درمیان ایک مضبوط شماریاتی تعلق ملا ہےیہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن ایک تجسس بنا ہوا ہے۔ وجہ ممکنہ طور پر کثیر الجہتی ہےتاہم، پچھلے مطالعات سے جو کچھ ہم جانتے ہیں اس کی بنیاد پر، سرکیڈین عنصر کا اندازہ کرنا مناسب ہے۔“

    امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) نے پایا کہ سال کے کسی بھی دوسرے وقت کے مقابلے دسمبر کے آخری ہفتے میں دل کے دورے سے لوگ سب سے زیادہ مرتے ہیں روٹین، نیند اور ورزش کے نظام الاوقات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ خوراک، سال کے اس وقت لوگوں کو دل سے متعلق مسائل کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔

    امریکا کی معروف ہائی وے کے پل کے نیچےآتشزدگی،پُل کا ایک حصہ منہدم ہوگیا

  • صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    فیصد سے زائد میڈیکل اسٹور، فارمیسیز بغیر مستند فارماسسٹس چلانے کا انکشاف انڈس ہسپتال اینڈ نیٹ ورک کے سی ای او ڈاکٹر سیّد ظفر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں 75فیصد سے زائد میڈیکل اسٹور اور فارمیسیز تربیت یافتہ کوالیفائیڈ فارماسسٹ کے بغیر چلائی جا رہی ہیں جبکہ صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اور فارم ایوو کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

    حامد الرحمان کی رپورٹ کے مطابق تقریب میں صدر انڈس اسپتال اینڈ نیٹ ورک ڈاکٹر عبدالباری خان، سی ای او اور ڈین انڈس یونورسٹی اینڈ ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر سیدظفر زیدی، چیئرمین پریمیئر گروپ ابراہم قاسم، فارمیو کے سی ای او ہارون قاسم، ڈپٹی سی ای او سید جمشید احمد، انڈس کے چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹر عبدالکریم پراچہ، چیئرمین ریسورس جنریشن اینڈ پارٹنرشپ کمیٹی، بورڈ آف ڈائریکٹر ، سلیم تابانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیّد مشہود رضوی شامل تھے۔

    ایم او یو کے مطابق مقامی فارماسیوٹیکل کمپنی فارمیوو، انڈس ہسپتال کورنگی کیمپس میں بننے والی نئی عمارت میں ابن سینا کالج آف فارمیسی، انڈس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی تعمیر کے لیے مالی اور تکنیکی وسائل فراہم کرے گی۔ سماء کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید ظفر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 75فیصد سے زائد فارمیسیز تربیت یافتہ کوالیفائیڈ فارماسسٹ کے بغیر چلائی جا رہی ہیں جبکہ صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہیں ہیں۔

    صدر انڈس ہیلتھ نیٹ ورک ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ جب وہ اسپتال شروع کر رہے تھے تو سوچا تھا میڈیکل کالج نہیں بنائیں گے، ہمارے بہترین ڈاکٹر میڈیکل کالجز سے پڑھ کر باہر چلے جاتے ہیں، پھر ہم نے اپنے مشن کو ریوائز کیا کہ اچھی ہیومن ریسورس ملنا مشکل کام ہے۔ اس ادارے کو چلانے کے لیے ایسے لوگ درکار تھے جن کے دل میں درد ہو، پاکستانی پاکستان یا پاکستان کے باہر جتنا چیئرٹی کرتے ہیں اور کوئی نہیں کرتا، مجھ سے کسی نے پوچھا ڈالر مہنگا ہونے سے انڈس کتنا متاثر ہوا ، میں نے انہیں جواب دیا اللہ کے ہاں کرائسز نہیں ہے۔ فارمیوو کی سخاوت واضح طور پر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ پاکستان میں ایک عالمی معیار کی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

    ڈاکٹر عبدالباری کا مزید کہنا تھا کہ انڈس اسپتال کو فارمیوو کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے اور ہمارا وژن ہے کہ ہم ایک ایسا معیار تعلیم فراہم کریں جو نہ صرف معیاری ڈاکٹرز بنائیں بلکہ ضرورت مند کیلیے خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہوں۔ جبکہ چیئرمین پریمیئر گروپ ابراہیم قاسم نے انڈس اسپتال اور انڈس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو پاکستان میں عالمی معیار کی صحت کی تعلیم کو فروغ دینے میں سراہا۔ وہ انڈس اسپتال جیسے اداروں کی حمایت کرتے ہوئے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے کوشاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو بزنس گروپ عطا کیا ہے ہماری کوشش ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں ،اللہ کی راہ میں بھی تعلیم پر خرچ کرنے کی بڑی اہمیت ہے، ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ امانت ہے، ہم اُس کے چوکیدار ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    ان کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ کا نام ابن سینا اس لیے ہے کہ اپنے مسلم ہیروز کو یاد کیا جائے، ڈاکٹر عبدالباری اور ان کی ٹیم نے انڈس کی صورت جو پودا لگایا وہ تناور درخت بن چکا ہے، انڈس بہت اچھا کام کر رہا ہے، مکمل کیش لیس اور پیپر لیس ہے جہاں بغیر سفارش مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر دوا لکھ دے اور مریض کو درست دوا نہ ملے تو پھر فارمیسی کا مقصد پورا نہیں ہوتا، ہمارا مقصد سختی سے اخلاقی مارکیٹنگ کی جائے، فارمیو اسٹرکلی ایتھکلی مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابن سینا کالج آف فارمیسی میں اعلیٰ کوالٹی کی تعلیم دی جائے گی، داخلے کے لیے سختی سے میرٹ پر عمل کریں گے، میری گزارش بھی ہے اگر کسی کو سفارش پر داخلہ نہ دیں، جو اسٹوڈنٹس اس کالج سے نکلیں وہ اچھے مسلمان اور اچھے خدمت گزار ہوں۔

  • نرسنگ کے شعبے کی محرومیت دورکر دی گئی،پروفیسر الفرید ظفر

    نرسنگ کے شعبے کی محرومیت دورکر دی گئی،پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ عوامی شعور کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے وارڈز،آپریشن تھیٹرز اور لیبارٹریز سمیت مختلف جگہوں کو انفکیشن سے پاک رکھا جائے تاکہ مریض جلد از جلد صحت یاب ہوں اور بیماریاں مریضوں اور ہسپتال سٹاف میں منتقل نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس امر سے نہ صرف علاج معالجے پر آنے والے اخراجات کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ بیڈز پر موجود مریضوں کی شرح بھی کم کی جا سکتی ہے۔

    ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے ڈی ایچ کیو (DHQ) اور ٹی ایچ کیو (THQ) ہسپتالوں کی نرسنگ سٹاف کیلئے انفکیشن کی روک تھام کیلئے محکمہ صحت اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے لاہور جنرل ہسپتال میں ایک ماہ سے جاری تربیتی کورس کے اختتام پر سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت پاکستان کے سربر راہ ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر الیاس گوندل، پروفیسر آصف بشیر، پروفیسر جودت سلیم،ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم، ڈاکٹر آمنہ آصف،ڈاکٹر عرفان ملک، ڈاکٹر عبدالعزیز اورڈاکٹرز و نرسز بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ ڈیرہ غازی خان،روجھان،تونسہ شریف، کوٹ چٹھہ اور جام پور سمیت دیگر اضلاع سے نرسز کی کثیر تعداد نے اس کورس میں حصہ لیا۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ نرسز ہماری قوم کا انتہائی قیمتی سرمایہ ہیں ان کی عزت اور قدر بھی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ زندگی اور موت اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے لیکن انسانی جانیں بچانے کے لئے نرسیں اللہ پاک کا فراہم کردہ ایک مقدس وسیلہ ہیں اور پنجاب حکومت نے وقت کے ساتھ ساتھ نرسنگ کے شعبے کی محرومیت دور کر کے اسے با وقار اور با عزت پروفیشن میں بدل دیا ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ سیلابی علاقوں میں جلدی امراض اور آلودہ پانی پینے سے مہلک بیماریاں جنم لیتی ہیں جن کے تدارک کے لئے مقامی لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ پانی ابال کر استعمال کریں اور صابن سے ہاتھ دھوئیں جبکہ سیلاب متاثرین کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور اُن کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ ان کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل و لاہور جنرل ہسپتال عالمی ادارہ صحت کے مشکور ہیں جن کے تعاون سے ایسے تربیتی کورس منعقد ہوتے ہیں جو نرسز کی پیشہ وارانہ مہارت میں اضافہ کرتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ، ڈی جی ڈاکٹر الیاس گوندل، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے تربیت حاصل کرنے والی نرسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے ہسپتالوں میں جا کر دیگر نرسز کی بھی تربیت کریں تاکہ مریضوں کی بہترسے بہتر خدمت کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ تقریب کے اختتام پر نرسز میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    مونس الہیٰ نے اسپین میں 40 کروڑ کی جائیدادیں، اثاثہ جات اور بارسلونا میں ٹیکسی سروس شروع کی۔

    25 برس قبل بھرتی: جنرل ہسپتال کی29 نرسز کو گریڈ17 مل گیا

  • مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    وہ لوگ جو پھیلتے مضافاتی علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں-

    باغی ٹی وی: وہ لوگ جو شہر کی شور شرابے والی اور اعصاب شکن زندگی سے اکتا چکے ہیں، انہیں لگتا ہے مضافاتی علاقوں میں جا کر بس جانا اس مسئلے کا ایک مثالی حل ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق ایسا کرنا زندگی میں سکون کا ضامن نہیں ہو سکتا اس کی بنیادی وجہ اطراف میں تھوڑے لوگوں کے ہونےکےسبب معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں کمی اور اجتماعیت کا عدم احساس ہےجو ذہنی صحت کو بہتر کرنے کا سبب ہوتے ہیں۔

    ترکیہ کا شمالی کوسووو میں اپنی ایک کمانڈو بٹالین بھیجنے کا اعلان

    امریکا کی ییل یونیورسٹی اور ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کے محققین نے ڈنمارک میں 30 برس کے عرصے میں بننے والے علاقوں کی سیٹلائیٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقشہ سازی کی محققین نے دیکھا کہ تقریباً 75 ہزار کی آبادی والے علاقے کے افراد میں ڈپریشن کی تشخیض ہوئی جبکہ اس دورانیے میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے میں لوگوں میں یہ کیفیت نہیں پائی گئی۔

    ترکیہ زلزے کی پیشگوئی کرنیوالےسیسمولوجسٹ کی جون میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ شخص جو مضافاتی علاقے میں زندگی گزاررہا ہوتا ہے اس کے شہر میں رہنے والوں کی نسبت ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے خطرات 10 سے 15 فی صد زیادہ ہوتےہیں تحقیق میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بلند عمارتوں اورکم کثافت والے گھروں کے مجموعے کا تعلق شہر میں رہنے والوں کو لاحق کم خطرے سے تھا۔

    ایران کا پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کا منصوبہ

  • چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانیوالے ملزموں کا جسمانی ریمانڈ‌ منظور

    چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانیوالے ملزموں کا جسمانی ریمانڈ‌ منظور

    چلڈرن ہسپتال میں ڈاکڑ سعد پر تشدد کا معاملہ ،پولیس نے تشدد کرنے والے پانج ملزموں کو انسداد دہشت گردی عدالت میں ہیش کیا

    عدالت نے ملزموں کو سات دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ،انسداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی ملزموں میں خلیل احمد عمران خلیل کامران ولید اور میاں حسن شامل ہیں ،تفشیش افسر نے ملزموں کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، عدالت نے ملزموں کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا،

    ڈاکٹر سعد سے اظہار یکجتی کیلئے چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر ہسپتال میں پیش ہوئے اورکہا کہ ڈاکٹر سعد کی کوئی غلطی نییں تھی ملزموں نے بہمانہ تشدد کیا جس سے اسکی ناک ہڈی ٹوٹ گئی،

    دوسری جانب چلڈرن اسپتال میں ڈاکٹر پر تشدد کے بعد ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے، صوبہ بھر کے ٹیچنگ ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور مکمل بند ہویں مریضوں کو علاج معالجے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لاہور جنرل ہسپتال میں بھی ینگ ڈاکٹر احتجاج کر رہے ہیں

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کی زیر صدارت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں اہم اجلاس منعقد ہوا، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بھی چلڈرن ہسپتال میں ملزمان کی جانب سے ڈاکٹر پر بہیمانہ تشدد کی بہت مذمت کی اور فوری طور پر ملزمان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر پر تشدد کرنے والے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات شامل کر دی گئی۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں سیکیورٹی کے انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ہیلتھ کیئر پروٹیکشن بل کی منظوری کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے درخواست کی گئی ہے۔

    چلڈرن اسپتال نرسری وارڈ عملے کی بڑی غفلت ،زیادہ ہیٹ دینے سے 2 بچے جھلس گئے 

    چوری کا الزام، دو افراد کو برہنہ کر کے تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    جن نکالنے کے بہانے جعلی پیر نے خاتون کے ساتھ ایسا کیا کر دیا کہ والدہ تھانے پہنچ گئی

    چلتی گاڑی میں نرس کے ساتھ اجتماعی زیادتی، گاڑی سے پریس کارڈ برآمد

    راشن تو نہ ملا،20 سالہ لڑکی عزت گنوا بیٹھی،درندہ گرفتار

  • چلڈرن اسپتال؛ ڈاکٹر پر تشدد، تیسرے روز بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری

    چلڈرن اسپتال؛ ڈاکٹر پر تشدد، تیسرے روز بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری

    چلڈرن اسپتال؛ ڈاکٹر پر تشدد، تیسرے روز بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری

    چلڈرن اسپتال میں لواحقین کا ڈاکٹر پرتشدد کے واقعے کیخلاف لاہورکے اسپتالوں کے آوٹ ڈور وارڈزمیں ڈاکٹرز کی دوسرے روز بھی ہڑتال جاری ہے جس سے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ چلڈرن اسپتال کے آوٹ ڈور اورانڈور وارڈ میں ہڑتال کا تیسرا روز ہے۔میواسپتال ،سروسز، جناح جنرل اسپتال میں بھی ہڑتال جاری ہے علاوہ ازیں گنگارام، لیڈی ولنگڈن، لیڈی ایچی سن سمیت دیگر اسپتالوں میں بھی کام بند کررکھا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ ڈاکٹرز کی عدم موجودگی پر دور دراز سے آئے مریض شدید پریشان ہیں، ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عملے کے تحفظ بل کو فوری منظورکیا جائے تاکہ ملزمان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات شامل کردی گئی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی

    یاد رہے کہ چلڈرن ہسپتال میں ایک سال کی بچی کی وفات پر اہل خانہ نے ڈاکٹر کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ڈاکٹر کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور ڈاکٹر کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی تاہم بعدازاں انہیں فوری طبعی امداد دی گئی تھی۔

  • انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن،عہد کریں،محنت کی کمائی کو آگ نہیں لگائینگے

    انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن،عہد کریں،محنت کی کمائی کو آگ نہیں لگائینگے

    تمباکو نوشی کسی بھی شکل میں ہو، صحت کے لئے مضر ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سگریٹ نوشی کی روک تھام کا دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے ، انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر سگریٹ پیمے والے افراد سے درخواست ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کا مضبوط ارادہ کریں اورصحت مند طرز حیات اپنائیں

    تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل نے کی جبکہ آگہی واک میں ای پی آئی ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار اعوان، ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹر یداللہ سمیت محکمہ صحت کے افسران بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر الیاس گوندل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ تمباکو نوشی واک کا انعقاد ایسویسی ایشن فار بیٹر پاکستان کے تعاون سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہرسال پاکستان میں ہزاروں افراد تمباکونوشی کے باعث کینسر کی مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں اور منہ کا کینسر بھی بڑھ رہا ہے. ڈی جی ہیلتھ کا کہنا تھا کہ پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کی وجہ سے سیکڑوں افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں.پاکستان میں نوجوان نسل بڑی تعداد میں تمباکو نوشی میں مبتلا ہو رہی ہے. ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا کہ تمباکونوشی کی روک تھام کیلئے حکومت کو سخت ایکشن لینا چاہیے.

    31 مئی انسداد تمباکو نوشی دن کی مناسبت سے ضلعی انتظامیہ گوجرانوالہ کے زیراہتمام سکولوں اور کالجوں کی سطح پر انسداد تمباکو نوشی پینٹنگ کمپیٹیشن( پوسٹر ) مقابلوں کاا نعقاد کیا جارہا ہے تاکہ تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصانات سے نوجوان نسل کو آگاہ کیا جا سکے۔

    انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے کام کرنیوالی تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے، ہمیں اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل اور ان کی اچھی صحت کے لئے تمباکو نوشی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اس حوالے سے حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شارق خان نے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو مصنوعات مہنگی ہونے کے دورس مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کسی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر صحت عامہ کے مفادات اور خاص طور پر نوجوانوں کو تمباکو کے ناسور سے بچانے کے لئے تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر ٹیکسز کو برقرار رکھنا اور تمباکو مصنوعات کی قیتموں میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔

    فلاحی ادارے چھیپا کے سربراہ رمضان چھیپا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن پر میں جانتے بوجھتے اپنی زندگی کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دینے والے افراد کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں ، زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کیلئے سب سے قیمتی تحفہ ہے اس کی قدر کریں۔