Baaghi TV

Category: صحت

  • پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا

    پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا

    راولپنڈی: پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی: قومی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا، متاثرہ شخص راولپنڈی میں زیر علاج ہے، وزا رت صحت کی جانب سے منکی پاکس سے متاثرہ شخص کی کنٹیکٹ ٹریسنگ جاری ہے، متاثرہ شخص کے خاندان کے افراد کو بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے، تاحال پاکستان میں منکی پاکس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ نہیں۔

    منکی پاکس ایک ایسا وائرس ہے جو بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے منکی پاکس، وائرس کے ’پاکس وائری ڈائے‘ (Poxviridae) فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اس فیملی کو مزید 2 ذیلی خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 22 انواع ہیں اور مجموعی طور پر اس فیملی میں وائرس کی 83 اقسام ہیں اس فیملی سےتعلق رکھنے والے وائرس میں ’اسمال پاکس‘ یعنی چیچک بھی شامل ہے اور علامات میں قریب ترین ہونے کی وجہ سے منکی پاکس کو اس کا کزن بھی کہا جاتا ہے،عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کا نام تبدیل کرکے اسے ’ایم پاکس‘ کردیا ہے تاہم اب بھی یہ منکی پاکس کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔

    یوکرین میں روس کے میزائل حملے،11 بچوں سمیت 37 افراد زخمی ،5 ہلاک

    منکی پاس کا نقطہ آغاز افریقا بتایا جاتا ہے منکی پاکس کی دو اقسام دنیا میں موجود ہیں جن میں سے ایک قسم مغربی افریقا میں جبکہ دوسری وسطی افریقا میں کانگو طاس کے اطراف موجود ممالک میں پائی جاتی ہے دنیا میں انسانوں میں منکی پاکس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1970 میں افریقی ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔

    کووڈ کی نئی قسم پھیلنے لگی. عالمی ادارہ صحت

  • کووڈ کی نئی قسم پھیلنے لگی. عالمی ادارہ صحت

    کووڈ کی نئی قسم پھیلنے لگی. عالمی ادارہ صحت

    کووڈ کی نئی قسم پھیلنے لگی ہے جس کا نام ای جی.5 ہے جو کووڈ-19 کی اومیکرون قسم کی ذیلی نسل بتائی جارہی ہے جبکہ کووڈ کی نئی قسم ای جی.5 کا دنیا بھر میں پھیلنے والی دیگر اقسام سے قریبی تعلق ہے اور ماہرین کے مطابق یہ وائرس کا ایک تبدیل شدہ ورژن ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کووڈ کی نئی قسم میں عوامی صحت کے لیے خطرات کم ہیں، تاہم یہ وائرس کچھ ممالک یا عالمی سطح پر کووڈ 19 کے کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

    خیال رہے کہ یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں ویٹرنری ایپیڈ یمولوجی اینڈ ڈیٹا سائنس کے پروفیسر رولینڈ کاؤ نے وضاحت کی کہ یہ واضح طور پر دوسروں کے مقابلے میں کسی نہ کسی طرح کا فائدہ رکھتا ہے۔ لیکن انہوں نے یورو نیوز نیکسٹ کو بتایا کہ یہ اتنی ڈرامائی چیز کے قریب بھی نہیں ہے جب 2021 میں دنیا بھر میں اومیکرون کی اصل قسم کے پھیلاؤ میں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا۔

    تاہم کچھ لوگوں نے ای جی.5 کی ایک اور ذیلی نسل کا نام دیا ہے ، جسے ای جی.5.1 کے نام سے جانا جاتا ہے ، ایک ایسا نام جو خبروں اور آن لائن گردش کرتا ہے، اس کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ جبکہ واضح رہے کہ جان ہاپکنز یونیورسٹی میں مالیکیولر مائیکروبائیولوجی اور امیونولوجی کے شعبے کے پروفیسر اینڈریو پیکوز نے یونیورسٹی کے پبلک ہیلتھ اسکول کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ای جی.5 کی علامات دیگر اقسام سے ملتی جلتی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    جبکہ کووڈ 19 کی عام علامات میں بخار، کھانسی اور تھکاوٹ کے ساتھ ساتھ ناک کا بہنا، سر درد یا پٹھوں میں درد شامل ہیں، جبکہ یہ سردی ، فلو یا نمونیا کی طرح محسوس ہوسکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی کووڈ 19 کی تکنیکی سربراہ ماریا وان کیرکوف نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ’ہمیں 2021 کے آخر سے گردش میں موجود اومیکرون کی دیگر ذیلی نسلوں کے مقابلے میں ای جی .5 کی شدت میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں انفیکشن اینڈ امیونٹی کے پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے یورو نیوز نیکسٹ کو بتایا کہ اس بات کے کچھ شواہد موجود ہیں کہ اومیکرن اور اس کے ذیلی اقسام وائرس کی سابقہ اقسام کے مقابلے میں کم شدید ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کی تشریح کرنا پیچیدہ ہے کیونکہ آبادی اب وائرس کے خلاف انتہائی مدافعتی ہے اور ہماری قوت مدافعت سنگین بیماری کے خلاف بھی دفاع کرے گی۔

  • خواتین میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کےعلاج کیلئے تیار گولی کی منظوری مل گئی

    خواتین میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کےعلاج کیلئے تیار گولی کی منظوری مل گئی

    امریکا میں ہیلتھ ریگولیٹرز کی جانب سے ہر سال پوسٹ پارٹم ڈپریشن (بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والے ڈپریشن) کے علاج کے لیے پہلی گولی کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماں بننے والی خواتین میں ڈپریشن کی علامات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے بچے کی پیدائش کے بعد ماؤں میں ڈپریشن کے لیے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے جو ایک عام عارضہ ہے، صرف امریکا میں ہی ہر 7 میں سے ایک خاتون کو اس کا سامنا ہوتا ہے۔

    امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کہا ہے کہ انہوں نے بائیوجن اور سیج تھراپیوٹکس کی تیار کردہ ”زرزووائی“ کو بچے کی پیدائش یا حمل سے متعلق خواتین میں شدید ڈپریشن کے علاج کے لیے منظورکیا ہے یہ گولی ہر سات میں سے ایک نئی ماں کے لیے لائف لائن ہے، کیونکہ اب تک امریکا میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا علاج صرف ایک انجکشن سے کیا جاتا تھا س دوا کو Zurzuvae کے نام سے فروخت کیا جائے گا منہ کے ذریعے کھائے جانے والی اس دوا کو روزانہ ایک بار کھانا ہوگا جبکہ مجموعی طور پر اس کا کورس 14 دن کا ہوگا۔

    چین میں 5.5 شدت کا زلزلہ.عمارتئں منہدم متعدد افراد زخمی

    ایف ڈی اے کے مطابق پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک سنجیدہ اور ممکنہ طور پر جان لیوا مرض ہے، جس کے دوران خواتین کو اداسی، پچھتاوے اور اپنی شخصیت ناکارہ ہونے جیسے احساسات ہوتے ہیں جبکہ سنگین کیسز میں تو وہ خود کو نقصان پہنچانے کےبارے میں بھی سوچنے لگتی ہیں اس ڈپریشن کے باعث ماں اور بچے کے درمیان تعلق بھی متاثر ہوتا ہے جس سے بچے کی جسمانی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، مگر یہ دوا ان نقصانات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

    ایف ڈی اے نے دوا کے حوالے سے ایک انتباہ بھی جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوا کو کھانے کے بعد کم از کم 12 گھنٹے تک ڈرائیونگ کرنے یا مشینری چلانے سے گریز کرنا بہتر ہوگااس دوا کو کھانے سے سر چکرانے، غنودگی طاری ہونے، ہیضے، تھکاوٹ، نزلہ زکام اور پیشاب کی نالی میں سوزش جیسے مضر اثرات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

    نیو یارک ٹائمزکی ایک رپورٹ کے مطابق ”بریکسینولون“ نامی اس دوا کے لیے اسپتال میں 60 گھنٹے تک انفیوژن کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی قیمت 34 ہزار ڈالر ہے میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں واقع سیج تھراپیوٹکس اینڈ بائیوجن کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ زرزووائی رواں سال دستیاب ہو جائے گی۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    سیج تھراپیوٹکس اینڈ بائیوجن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کنٹرولڈ شیڈولنگ کے بعد 2023 کی چوتھی سہ ماہی میں زرزووائی کو لانچ اوردستیاب کیا جائے گا۔

    ایف ڈی اے کی جانب سے یہ منظوری کمپنی کے دو مطالعات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین نے یہ ادویات استعمال کیں ان میں چار سے چھ ہفتوں کے عرصے میں ڈپریشن کی علامات کم پائی گئیں، زرزووائی کے رپورٹ کردہ ضمنی اثرات میں غنودگی اور چکر آنا شامل ہیں تاہم 14 روز تک دن میں ایک بار لی جانے والی اس گولی کی قیمت کا اعلان ابھی تک اس کے مینوفیکچرر کی جانب سے نہیں کیا گیا ہے اس دوا کو 2 کمپنیوں Biogen اور Sage Therapeutics, Inc نے مل کر تیار کیا ہے جس کی منظوری کے لیے فروری میں ایف ڈی اے کو درخواست دی گئی تھی۔

    اس سے قبل 2019 میں ایف ڈی اے نے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے علاج کے لیے Zulresso نامی دوا کی منظوری دی تھی یہ دوا ایک آئی وی ڈرپ کے ذریعے دی جاتی ہے اور اس کے لیے 60 گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے، جس وجہ سے بیشتر خواتین اسے استعمال کرنے سے گریز کرتی ہیں اس نئی دوا کے حوالے سے ہونے والے کلینیکل ٹرائل کے تیسرے مرحلے میں دریافت کیا گیا تھا کہ 14 دن تک روزانہ 50 ملی گرام گولی کھانے سے خواتین کی ڈپریشن کی علامات میں 50 فیصد یا اس سے زیادہ کمی آتی ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر …

  • اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    لمبی عمر جینا دنیا کے ہر ایک شخص کی خواہش ہوتی ہے متحدہ عرب امارات میں ایک نئی صحت لیب طویل العمری کے لیے ‘خلیاتی صحت’ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے تاکہ آپ اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق فائیو سکور لیبز، جو ہارورڈ کے تربیت یافتہ سائنسدانوں کے تعاون سے قائم کی گئی ہیں، دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خطے کا پہلا طویل العمری کا صارف برانڈ ہے جس کا مقصد لوگوں کو زیادہ دیر تک صحت مند رہنے میں مدد کرنا ہے یہ لیب سائنس کی مدد سے میٹابولزم کو فروغ دے کر اور ڈی این اے کو نقصان سے بچا کر بڑھتی عمر کے اثرات سے بچانے کا دعوی کرتی ہے جس کی خدمات سعودی عرب سمیت پورے خطے میں پھیل رہی ہیں۔

    فائیو سکور لیبز کے بانی، الطارق نے العربیہ کو بتایا کہ طویل العمری کا نظام ممکنہ طور پر عمر سے متعلق بیماریوں جیسے کہ دل کی بیماری، ذیابیطس اور نیوروڈیجنریٹو عوارض کے آغاز میں تاخیر یا روک تھام میں مدد کر سکتا ہے ‘طویل العمری کا نظام’ ایک جامع منصوبہ ہے جو کسی کی صحت مند عمر کو بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اس میں طرز زندگی میں تبدیلیوں اور مخصوص غذائی سپلیمنٹس کے استعمال کروایا جاتا ہے، جسے سائنسی تحقیق کی حمایت حاصل ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر …

    طارق نے کہا کہ 100 سال کی عمر تک جینے کا خیال، جو کبھی نایاب سمجھا جاتا تھا، "طب، صحت اور تندرستی میں ترقی کی وجہ سے اب ایک حقیقت پسندانہ خواہش بنتا جا رہا ہے عمر بڑھنا صرف ایک ناگزیر عمل نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اسے سست کیا جا سکتا ہے ہمارا نقطہ نظر صرف زندگی کو بڑھانے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہماری عمر کے ساتھ زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے لیب مریضوں کے لیے دو قدرتی علاج استعمال کرتی ہے ایک متوازن خوراک اور دوسرا صحت مند طرز زندگی۔

    اطارق نے کہا کہ پہلا عنصر جو استعمال کروایا جاتا ہے وہ ریسویراٹرول ہےیہ ایک قدرتی مرکب جو کئی پودوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو روکنے والے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے حالیہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ریسویراٹرول ممکنہ طور پر کچھ جینز کو فعال کر سکتا ہے جنہیں سیرٹوئن کہتے ہیں جو لمبی عمر سے منسلک ہوتے ہیں۔

    چندریان تھری کا دو تہائی سفر مکمل،آج کا دن اہم

    مزید برآں، وہ نیکوٹینامائڈ مونو نیوکلیوٹائڈ کا استعمال کرواتے ہیں۔ یہ مرکب عام کھانوں جیسے بروکولی وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور این اے ڈی+ کا پیش خیمہ ہے۔ یہ ایک شریک انزائم (خامرہ) ہے جو میٹابولزم کے ضابطے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اور ساتھ ہی اس کا استعمال جسم میں خراب ڈی این اے کی مرمت کرتا ہے لمبی عمر، سے مراد عام طور پر زندگی کی طویل مدت ہوتی ہے تاہم، صحت اور تندرستی کے تناظر میں، یہ اس سے کہیں زیادہ پر محیط ہوتی ہے۔ یہ زندگی کی اس مدت کو بڑھانے کے بارے میں ہے جو اچھی صحت میں گزارا جائے اور کمزوری اور بیماری سے محفوظ رہے اسے ‘صحت کی مدت’ کہا جاتا ہے۔

    حیاتیاتی نقطہ نظر سے، طویل عمر پانے کے لیے عمر کے مختلف عمل کو سست کرنا یا ممکنہ طور پر تبدیل کرنا شامل ہے یہ پروگرام خلیات، ٹشوز اور اعضاء کے کام کو بہتر بناتا ہے تاکہ جب تک ممکن ہو زندگی اور صحت کو برقرار رکھا جا سکےخلیات ہمارے جسم کی بنیادی عمارت ہیں۔ "ہر عضو، ٹشو اور حیاتیاتی نظام ایسے خلیوں سے بنا ہوتا ہے جو ہمیں زندہ اور صحت مند رکھنے کے لیے ضروری کام انجام دیتے ہیں۔ اسی لیے سیلولر ہیلتھ میں سرمایہ کاری بہت اہم ہے ۔

    جنوب مشرقی ایشیاء میں سالن بنانے کا طریقہ تقریباً 2000 سال پُرانا ہے،محققین

    بہت سی علامات اور حالات جو ہم عمر بڑھنے کے ساتھ محسوس کرتے ہیں، جیسے جھریاں، جسمانی توانائی میں کمی اور یہاں تک کہ دائمی بیماریاں، سیلولر سطح پر پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے، ہمارے خلیے آہستہ آہستہ بہتر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ سیلولر صحت کو برقرار رکھنے کے ذریعے، ہم ممکنہ طور پر ان عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں-

    العربیہ کے مطابق اسی طرح، بہت سی بیماریاں سیلولر بے ضابطگی کا نتیجہ ہیں۔ مثال کے طور پر، کینسر کا پتہ سیلولر میوٹیشن سے لگایا جا سکتا ہے، جبکہ الزائمر جیسی بیماریاں دماغ میں سیلولر انحطاط سے منسلک ہیں۔ اپنے خلیات کو صحت مند رکھ کر، ہم ایسی بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں ہمارے خلیے توانائی کی پیداوار، فضلہ کے اخراج، مواصلات اور مرمت جیسے بہت سے کام انجام دیتے ہیں۔ جب ہمارے خلیے صحت مند ہوتے ہیں، تو یہ عمل زیادہ موثر ہوتے ہیں، جس سے بہتر توانائی، بہتر قوت مدافعت، تیزی سے شفا اور مجموعی طور پر جسمانی اور ذہنی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔

    آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    طارق نے کہا کہ 2016 میں متحدہ عرب امارات کی صرف ایک فیصد آبادی 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کی تھی لیکن 2050 تک یہ تعداد 16 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اب عمر بڑھانے والی سائنس کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنا اور صحت کے دورانیے اور عمر کے تمام پہلوؤں کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔ فائیو سکور لیبز کے قیام کے پیچھے یہی محرک رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

    انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ طویل العمری کے نظام کو دو بنیادی اجزاء میں تقسیم کیا گیا ہے – غذائی سپلیمنٹس اور طرز زندگی کے پروٹوکول۔ طرز زندگی کے پروٹوکول میں متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی، نیند کی حفظان صحت اور تناؤ کے انتظام کی تکنیکوں کے بارے میں ہدایات شامل ہیں لمبی عمر کے طریقہ کار کا حتمی مقصد صرف عمر بڑھانا نہیں ہے، بلکہ ان سالوں کو بڑھانا ہے جن میں ایک شخص صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نےسائبیریا کی برف کےنیچے 46 ہزارسال سےمنجمد کیڑےہوش میں لےآئے

    عمر بڑھنے کا تعلق مختلف قسم کے سیلولر اور سالماتی عوامل سے ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ فنکشنل کمی کا باعث بنتے ہیں ان میں سیلولر مرمت کی صلاحیتوں میں کمی، سوزش میں اضافہ اور ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان جیسے عوامل شامل ہیں۔ طویل عمری سائنس کے میدان میں ہونے والی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ان میں سے بہت سے عوامل کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر سست یا تبدیل شدہ مداخلتوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے ان مداخلتوں کو ذاتی طرز زندگی کے پروٹوکول کے ساتھ جوڑ کر جیسے متوازن خوراک، باقاعدگی سے ورزش، کافی نیند اور تناؤ کا انتظام، ہم افراد کو 100 سال کی عمر کے بعد ایک فعال اور متحرک طرز زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں عمر اور صحت کو بڑھانے کے بارے میں سائنسی معلومات تک رسائی کئی وجوہات کی بنا پر بہت ضروری ہے۔

    علم لوگوں کو اپنی صحت کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انٹرنیٹ کے دور میں، ہم اکثر صحت اور تندرستی کے بارے میں متضاد معلومات حاصل کرتے ہیں۔ قابل اعتماد اور سائنس کی حمایت یافتہ معلومات تک رسائی سے لوگوں کو ایسے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے جو واقعی ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوں سائنسی علم اکثر احتیاطی تدابیر پر زور دیتا ہے اور ان کو تقویت دیتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کس طرح بعض رویے اور مداخلتیں بیماری کے آغاز کو روک سکتی ہیں، ان بیماریوں کے ہونے کے بعد ان کے علاج کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور فائدہ مند ہے-

    غلاف کعبہ کی تیاری میں زائرین بھی حصہ لے سکیں گے

    انہوں نے کہا کہ ہماری ابتدائی پروڈکٹ لائن انسانی جسم میں صحت مند این اے ڈی پلس کی سطح کو سپورٹ کرنے پر مرکوز ہے۔ این اے ڈی پلس ایک اہم شریک انزائم (خامرہ) ہے جو انسانی جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔ یہ توانائی کے تحول اور توانائی کی پیداوار کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

    عمر بڑھنے کا تعلق این اے ڈی پلس کی سطح میں قدرتی کمی سے ہے، اور اس کمی کو عمر سے متعلق صحت کے مختلف مسائل جیسے میٹابولک عوارض، نیوروڈیجینریٹیو امراض، اور عمر میں کمی سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس طرح، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انسانی جسم میں این اے ڈی پلس کی سطح میں اضافہ عمر سے متعلق گراوٹ کا مقابلہ کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آیا کافی لوگ اپنی سیلولر صحت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟طارق نے کہا کہ بیداری بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے بہت سے لوگ صحت کی ظاہری علامات یا بیماریوں کے علامتی علاج پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ بنیادی وجہ اکثر خلیاتی سطح پر ہوتی ہے۔ یہ بیماری کی روک تھام کے بجائے بیماری کے علاج پر تاریخی توجہ کی وجہ سے ہے۔

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

  • سروسز سے ابتر حالت کسی ہسپتال کی نہیں دیکھی،ذمہ دار حکومت بھی ہے،محسن نقوی

    سروسز سے ابتر حالت کسی ہسپتال کی نہیں دیکھی،ذمہ دار حکومت بھی ہے،محسن نقوی

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے سروسز ہسپتال کے سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے آڈیٹوریم میں سینئر ڈاکٹرز سے ملاقات کی۔

    وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ہسپتال میں مریضوں کے لئے علاج معالجہ اور دیگر سہولتیں بہتر بنانے کے لئے سینئر ڈاکٹرز سے اپنے خطاب میں کہاکہ صرف لیڈر،سیاست دان اور بیورکریسی خرابیوں کی ذمہ دار نہیں ہے۔مایوسی گناہ ہے، اللہ تعالی نے مایوسی کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ بحیثیت پاکستانی حالات میں بہتری کیلئے اپناپورا حصہ ڈالنا ہمارا فرض ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک کی چھوٹی سے چھوٹی کوشش سے مثبت اور بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔سروسز ہسپتال کی حالت دیکھ کر مجبوراً کہنا پڑا کہ کسی دشمن کو بھی اس ہسپتال نہ بھیجوں

    ۔وزیراعلی نے کہا کہ پورے پنجاب میں ہسپتالوں کے دورے کئے، سروسز سے ابتر حالت کسی ہسپتال کی نہیں دیکھی۔خرابیوں اورخامیوں کے ذمہ دار محض ڈاکٹر ز نہیں بلکہ حکومت بھی ہے۔ ہاتھ دھونے کیلئے صابن،فرش دھونے والا ملازم اور اے سی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر کو کام کرنے کیلئے صاف ستھرا اور بہترین ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملتان کے ہسپتال میں ایک ہی بیڈ پر پانچ بچوں کا علاج ہوتے دیکھاہے۔اگر ایک بیڈ پر پانچ،پانچ مریضوں کا علاج ہو رہا ہے، یہ ڈاکٹر کا قصور نہیں ہے۔ ہم کو ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے کہ ایک کی گنجائش پر 5 مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔ ہسپتالوں میں نامساعد حالات کے باوجود فرض ادا کرنے والے ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔

    وزیراعلی نے کہا کہ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی، ہر خرابی کا ذمہ دار ڈاکٹر نہیں ہوتا۔لاہور کے مرکز میں واقع سروسزہسپتال ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا فیس ہے،یہ ہسپتال ہمارا اثاثہ ہے۔جو بھی حکمران آتے ہیں، نئے ہسپتال بنانے لگ جاتے ہیں،پرانے ہسپتالوں پرکوئی توجہ نہیں دیتا۔سہولتیں نہ ہوں تو ڈاکٹرکیسے کام کریں گے؟ سہولتیں ہوں اور کام نہ کرنے پر قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ہم چند ماہ میں پانچ، دس ارب لگائیں گے،سروسز ہسپتال کے لئے کوئی لمٹ نہیں۔سروسز ہسپتال کو مختصر عرصے میں بر ینڈ نیو ہسپتال بنا یا جائے گا لیکن اونرشپ نہ لی گئی تو پھر یہی حال ہوگا۔ سرکاری ہسپتال بہترین پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرح کیوں نہیں بن سکتے؟ سینئرڈاکٹرز اگرہسپتال میں ڈیوٹی کے اوقات پورا نہیں کریں گے تو نچلا سٹاف بھی پوری ڈیوٹی نہیں کرے گا۔خبریں چلیں گی کہ ہسپتال ٹھیک ہو رہا ہے لیکن پھر ویسا حال ہو جائے گا، اپنی ذمہ داری نبھائیں۔آپ اس ہسپتال کے مالک بنیں اور اس کے لئے دن رات کام کریں۔ گھر کے لئے کوشش کرتے ہیں ہسپتال بھی آپ کا گھر ہے اس کے لئے بھی کوشش کریں۔ ہسپتال کی اونرشپ کا مطلب ہے ڈاکٹراور دیگر سٹاف ڈیوٹی کے اوقات پورے کرے۔ڈیوٹی پوری کرنے کا عہد کرلیں تو مختصر وقت میں مثبت نتائج آپ کے سامنے ہوں گے۔ سرکاری ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد ڈاکٹر اپنا کام کریں۔ نیت صاف ہے ،اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔اگردل سے کاوشیں کی جائیں تو بہترین رزلٹ آتا ہے،۔ تمام ٹیسٹ، ادویات ہسپتال میں مہیا ہونے چاہئیں

    نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ڈاکٹروں کی تجاویز اور سفارشات پر فوری احکامات جاری کئے
    وزیراعلی نے کہا کہ ہم نے چند ماہ میں چلے جانا ہے لیکن جاتے جاتے آپ کا ہسپتال ٹھیک کرکے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو کامیاب کرے۔سب کو اپنا کردار مزید بڑھانا پڑے گا۔یہ ہسپتال آپ لوگوں کا ہے، آپ لوگوں کی رائے باقی افسران سے زیادہ اہم ہے۔سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہسپتال کے دورے کرتا رہوں گا۔ ہسپتال سٹاف جہاں بھی کام کررہا ہے، واپس آئے گا، یہاں کام کرے گا ورنہ تنخواہ نہیں ملے گی۔فالج کے دورے کے لئے ضروری انجکشن فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کریں گے۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ڈاکٹروں کی تجاویز اور سفارشات پر فوری احکامات جاری کئے۔ پرنسپل سمز نے سروسز ہسپتال کے امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔بعدازاں وزیراعلیٰ محسن نقوی نے آج سروسز ہسپتال میں میڈیکل یونٹ ون کا معائنہ کیا۔ محسن نقوی نے اپ گریڈیشن کے بعد میڈیکل یونٹ ون میں مریضوں کے لئے فراہم کردہ سہولتوں کوسراہا۔محسن نقوی میڈیکل یونٹ ون کے مختلف سیکشن میں گئے اور فراہم کردہ سہولتوں کا جائزہ لیا۔

    میوہسپتال کی او پی ڈی،ایمرجنسی او رچائلڈبلاکس کو ری ڈیزائن کرنے کا اصولی فیصلہ
    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر میوہسپتال کی او پی ڈی،ایمرجنسی او رچائلڈبلاکس کو ری ڈیزائن کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ محسن نقوی نے اس ضمن میں پلان طلب کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ محسن نے ہسپتالوں میں نرسوں کی تعدادبیڈز کے تناسب سے پوری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو میں نرسز کی تعداد ترجیحی بنیادوں پر پوری کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی حالت کو بہتر بنانا ہمارا عزم ہے۔ میوہسپتال کی تعمیر نوکے ساتھ ضروری فرنیچر اور طبی آلات بھی فراہم کئے جائیں گے۔ ایم آر آئی، سی ٹی سکین او رانجیوگرافی سروسز کی آؤٹ سورسنگ کے پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ ہسپتالوں کی میڈیسن کیلئے مرکزی سٹور ہائر کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ہسپتالو ں میں ائیرکنڈیشن ترجیحی بنیادوں پر درست کرنے کی ہدایت کی۔ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں منعقدہ اجلاس میں ہسپتالوں میں صحت کی سہولتوں کی بہتری اور اپ گریڈیشن کے حوالے سے اقدامات کاجائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیرسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر جاوید اکرم،سیکرٹریزفنانس، تعمیرات و مواصلات، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، صحت، ہاؤسنگ، پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، پرنسپل سمز اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی

    ہتھکڑیاں لگے فواد چودھری کی عدالت پیشی،رات میری آنکھوں پرپٹی باندھی گئی،فواد کا بیان

    فواد چودھری کیخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی باغی ٹی وی کو موصول

     فواد چودھری کو گرفتار کر لیا گیا 

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ہ عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

     فوادچودھری کے بھائی فراز چودھری کو بھی گرفتار کر لیا گیا

  • نرسوں کی بیرون ملک ملازمت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور

    نرسوں کی بیرون ملک ملازمت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور

    چھٹی کی درخواست پر فیصلہ چار دن میں کیا جائے گا، ان کا زرمبادلہ پاکستان بھجوانا قومی خدمت ہوگا- ڈاکٹر جمال ناصر
    وزیر پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی ہدایت پر محکمہ پرائمری ہیلتھ کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والی سینئر نرسوں کی بیرون ملک ملازمت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔ گریڈ 16 سے 19 تک ریگولر ملازم نرسوں کو بیرون ملک ملازمت کی خاطر چھٹی دینے کے لئے سہولتیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان کی بیرون ملک رخصت کی درخواست پر فیصلہ چار دن کے اندر اندر کر دیا جائے گا تا ہم ان کے پاس غیر ملکی ہسپتال کی طرف سے ملازمت کی پیشکش کا لیٹر ہونا ضروری ہے۔

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    گزشتہ روز ایک اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک ملازمت کی خواہشمند نرسوں کو چھٹی کی درخواست اپنے ادارے کے سربراہ کے ذریعے بھجوانا ضروری نہیں۔ اہل نرسیں درخواستیں براہ راست محکمہ پرائمری ہیلتھ کیئر کے سہولت مرکز میں جمع کروا سکتی ہیں۔ بیرون ملک چھٹی کی درخواستوں پر تاخیری حربے استعمال نہیں کئے جاسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ پیڈا ایکٹ 2006کے تحت انکوائری کا سامنا کرنے والی نرسوں کی بیرون ملک رخصت کی درخواست پر فیصلہ کیس ٹو کیس بنیاد پر کیا جائے گا۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ نرسوں کی بیرون ملک ملازمت سے واپسی کے بعد مقامی مریض اور ہسپتال ان کے تجربے سے استفادہ کر سکیں گے۔ ان کا بیرون ملک ملازمت کے دوران نرسوں کا قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھجوانا قومی خدمت ہوگا-

  • مختلف بیماریوں میں اضافہ، سندھ زیادہ متاثر

    مختلف بیماریوں میں اضافہ، سندھ زیادہ متاثر

    ملک میں حالیہ دنوں میں مختلف بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ان بیماریوں سے سب سے زیادہ افراد صوبہ سندھ میں متاثر ہوئے ہیں لیکن ملک کے باقی حصے بھی مختلف بیماریوں کے کیسز سے ناصرف متاثر ہورہے ہیں جبکہ اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے جبکہ اس بارے میں قومی ادارہ صحت نے رپورٹ بھی جاری کردی ہے۔

    واضح رہے کہ ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 89 ہزار 58 افراد میں ایک ہفتے میں ہیضے کی تشخیص ہوئی ہے، اور ہیضے کے سب سے زیادہ کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں، ایک اندازے کے مطابق صوب سندھ میں 48 ہزار647 افراد ہیضے کا شکار ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر مختلف بیماریوں کے مریضوں میں بھی سندھ کا پہلا نمبر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    ادارہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیضے کے علاوہ مچھروں کے کاٹنے سے مریضوں کا دوسرا نمبر رہا ہے اور ملک میں ملیریا سے 81 ہزار 775 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ سب سے زیادہ کیسز سندھ سے67 ہزار 301 ریکارڈ ہوئے ہیں، ادارہ صحت کی رپورٹ میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں انفلوانزا کے 25 ہزار 482 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، بچوں میں سانس کے مسائل کے 12ہزار 288 کیسز سامنے آئے ہیں، جب کہ کتے کے کاٹنے کے 858 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ ان میں بھی سب سے زیادہ کیسز سندھ سے 513 رپورٹ ہوئے ہیں.

  • پنجاب،28 بڑے ہسپتالوں کی تعمیرومرمت، طبی آلات پر15ارب روپےخرچ کرنے کا فیصلہ

    پنجاب،28 بڑے ہسپتالوں کی تعمیرومرمت، طبی آلات پر15ارب روپےخرچ کرنے کا فیصلہ

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر محکمہ صحت نے سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کا پلان تیار کر لیا ہے جس کے تحت صوبے کے28بڑے ہسپتالوں کی تعمیر و مرمت اور طبی آلات کی فراہمی پر 15ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔

    سول سیکرٹریٹ میں منعقد جلاس کے دوران محکمہ صحت کے حکام نے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کو پلان پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس میں سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات بہتر بنانے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں کی پارکنگ کا انتظام لاہور پارکنگ کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوام کو صحت اور تعلیم کی بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت اہل مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں معیاری طبی سہولیات مہیا کی جائیں اورسہولیات کا معیار ایسا ہو کہ مریض سرکاری ہسپتال سے علاج کروانے کو ترجیح دیں۔انہوں نے تاکید کی کہ ڈپٹی کمشنرز اضلاع میں صحت اور تعلیم کی سہولیات بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔

    چیف سیکرٹری نے خانیوال میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کی آئی ایس او سرٹیفیکیشن کروانے پر ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو کی تعریف کی۔ انہوں نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز بطور سربراہ ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیلتھ کونسلز اپنی ذمہ داریاں فعال انداز میں سر انجام دیں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور عملہ کی سو فیصد حاضری کو یقینی بنایا جائے۔سیکرٹری صحت علی جان نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی ری ویمپنگ دسمبر تک مکمل کر لی جائے گی،تمام بنیادی مراکز صحت میں مریضوں کا ڈیجیٹل یکارڈ مرتب کیا جا رہاہے۔اجلاس میں خزانہ اور پی اینڈ ڈی کے محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور محکمہ صحت کے حکام نے شرکت کی جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    گیمبیا اور ازبکستان میں بھارت سے درآمدی کھانسی کے سیرپ سے سیکڑوں بچوں کی موت کے بعد اب عراق میں دستیاب بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : عراق میں دستیاب بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف عالمی نشریاتی ادارہ ’’بلومبرگ نیوز‘‘ نے کیابلومبرگ نیوز کے مطابق عراق میں فروخت ہونے والے ’’سردیوں کے سیرپ میں زہریلے کیمیکلز‘‘ موجود ہیں رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک آزاد امریکی لیبارٹری ’’والیسور ایل ایل سی‘‘ کے مطابق مارچ میں بغداد کی ایک فارمیسی سے سردیوں میں استعمال ہونے والے بچوں کے سیرپ کی ایک بوتل خریدی گئی تھی جس میں 2.1 فیصد ایتھیلین گلائکول کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ کیمیکل عالمی سطح پر منظور شدہ مقدار سے 21 گنا زیادہ ہے جبکہ اس کی معمولی مقدار بھی انسانوں کے لیے مہلک ہے اور اسی ایک کیمیکل کی وجہ سے گزشتہ برس گیمبیا اور ازبکستان میں بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت سے ہونے والی بڑے پیمانے پر بچوں کی اموات میں کردار ادا کیا۔

    عالمی منڈی میں چاول کی قلت شدت اختیار،متحدہ عرب امارات میں چاول کی برآمد پرپابندی

    بلومبرگ نے 8 جولائی کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ عراقی اور بھارتی حکام کے ساتھ ٹیسٹ کے نتائج کا تبادلہ کیا۔ ڈبلیو ایچ او نے بلومبرگ کو بتایا کہ اسے امریکی لیبارٹری کے ٹیسٹ کے نتائج “قابل قبول” ہیں اور اگر عراقی حکومت بھارتی سیرپ سے متعلق تصدیق کرتی ہے تو وہ الرٹ جاری کرے گا کیونکہ عراق میں ابھی تک کسی عوامی الرٹ یا واپسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    عراق کی وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزارت کے پاس "دواؤں کی درآمد، فروخت اور تقسیم کے لیے سخت ضابطے ہیں۔” انہوں نے کولڈ آؤٹ کے بارے میں مخصوص سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

    ایک سال میں یہ پانچواں موقع ہے کہ جانچ میں کسی ہندوستانی برآمد کنندہ کی دوائیوں میں ایتھیلین گلائکول کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔ گیمبیا اور ازبکستان کے پھیلنے کے علاوہ، سرکاری لیبارٹریوں کی جانچ نے مارشل جزائر اور لائبیریا میں دیگر آلودہ مصنوعات کی نشاندہی کی ہے، حالانکہ ان دوائیوں سے منسلک کسی بیماری کی اطلاع نہیں ہے۔

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل …

    کولڈ آؤٹ لیبل اشارہ کرتا ہے کہ اسے Fourrts (India) Pvt. لمیٹڈ، چنئی میں قائم ایک صنعت کار جو برطانیہ، جرمنی اور کینیڈا سمیت 50 سے زائد ممالک کو ادویات برآمد کرتا ہے۔ وہاں کے ایک نائب صدر بالا سریندرن نے کہا کہ بلومبرگ کی پوچھ گچھ کے بعد، فورٹس نے کولڈ آؤٹ کے ایک نمونے کا تجربہ کیا جو اس کے ہاتھ میں تھا اور اسے بے داغ پایا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی ریگولیٹرز نے شرون کے پلانٹ سے دیگر نمونے قبضے میں لیے ہیں اور فورٹس کو ان ٹیسٹوں کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ نیشنل ڈرگ ایجنسی کے حکام اور دو مقامی ریگولیٹرز نے یا تو تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا یا کہا کہ ان کے پاس شیئر کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ شارون کے ایگزیکٹوز نے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    قصور میں کل ہونے والا ن لیگ کا جلسہ ملتوی

    گیمبیا میں گزشتہ سال پھیلنے والی وباء سے 60 سے زائد بچے ہلاک ہوئے تھے، اور ازبکستان میں ہونے والے ایک بچے نے سمیت 20 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے نے بھارت سے منشیات کی برآمدات کے معیار پر تازہ سوالات اٹھائے ہیں، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا عام منشیات بنانے والا ملک ہے اور خود کو دنیا کی "فارمیسی” کہتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے اس ماہ کہا تھا کہ اس سال کیمرون میں 12 بچوں کی موت کا ذمہ دار کھانسی کے شربت میں ڈائیتھیلین گلائکول کی غیر محفوظ سطح موجود تھی، جو کہ ایک ایسا ہی زہریلا مرکب ہے۔ اس صورت میں، دوائیوں کی پیکیجنگ میں کسی بنانے والے کا نام نہیں ہوتا ہے لیکن کسی اور ہندوستانی کمپنی کا مینوفیکچرنگ لائسنس نمبر ہوتا ہےکھانسی کے شربت اور دیگر مائع ادویات زہریلے صنعتی سالوینٹس سے آلودہ پائی گئی-

    انٹر نیشنل کر کٹ کونسل نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2024 کی تاریخ دے دی

  • جدید طریقہ علاج میں گھٹنوں کے پرانے درد سے چھٹکارا ممکن ہے،ڈاکٹر بابر بخت

    جدید طریقہ علاج میں گھٹنوں کے پرانے درد سے چھٹکارا ممکن ہے،ڈاکٹر بابر بخت

    اُوچ شریف(باغی ٹی وی) معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر بابر بخت چغتائی نے کہا ہے کہ ہڈیوں اور جوڑوں کا مرض خاموش قاتل ہے،باقاعدہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ہی آسٹروپروسس کی شناخت کر سکتے ہیں جوڑوں کے درد کی بڑی وجوہات میں بڑھتی عمر، اٹھنے بیٹھنے کے غلط انداز، غذائی بے اعتدالیاں‘ سورج کی روشنی کی شکل میں وٹامن ڈی سے محرومی‘کچھ بیماریاں اور حادثات نمایاں ہیں

    اگرجوڑوں کے گھس جانے کاسبب بڑھاپا ہو تواسے واپس نہیں پلٹایا جا سکتا، اس کا علاج دوائیں،ورزش یاپھر جوڑ کی تبدیلی ہے،ڈاکٹر بابر بخت چغتائی نے کہا کہ علاج کیلئے پہلے’’روماٹالوجسٹ‘‘اور پھر’’آرتھو پیڈک سرجن“ سے رابطہ کرنا چاہئے لوگوں کو چاہئے کہ بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جانیں اور باقاعدہ واک اور ورزش کو عادت بنائیں سرخ گوشت کا زیادہ استعمال بھی اس کا ایک سبب ہے لہٰذا اس سے اجتناب کریں۔عام گوشت بھی کم اور سبزیاں زیادہ کھائیں۔

    موٹاپے کا جوڑوں کے درد سے گہرا تعلق ہے‘ اس لئے اسے لازماً کنٹرول میں رکھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کی عمر زیادہ نہیں اور چھوٹے جوڑوں مثلاً ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں یا کلائی میں درد خواہ کم ہی کیوں نہ ہو‘ ایک دفعہ ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں۔ اگر اسے نظرانداز کیا جائے تو کچھ ایسی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جو بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہیں اور دیگر اعضاء کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر آپ کی زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔جوڑوں کے درد کی صورت میں 90 فی صد لوگ واک یا ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔اگر لوہے کے دروازوں کو گریس نہ لگائی جائے تو انہیں زنگ لگ جاتا ہے اور پھر وہ کھلتے نہیں۔اسی طرح اگرجوڑوں کے درد کے مریض اس معاملے میں لاپرواہی برتیں گے توان کے جوڑ اکڑ جائیں گے اور بعد میں ان کے لئے کھڑا ہوناتک مشکل ہوجائے گا۔

    موٹاپا بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرد کا اضافی بوجھ جوڑوں کوہی اٹھانا پڑتاہے جس سے انہیں نقصان پہنچتا ہے۔مرض کی اس قسم میں گھٹنوں، ایڑی،کولہے اورکندھے وغیرہ جیسے بڑے جوڑ متاثر ہوتے ہیں۔اسے جوڑوں کا پرانا درد (osteoarthritis) کہا جاتا ہے۔دوسری قسم کاجوڑوں کا درد وہ ہے جو زیادہ تر نوجوانی میں ہوتا ہے۔اس میں ہاتھوں اورپاؤں کی انگلیوں اور کلائیوں وغیرہ کے چھوٹے جوڑ شامل ہیں۔یہ ریوماٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis) کہلاتا ہے۔

    تیسری قسم وہ ہے جس میں ہڈیاں بھربھری ہو جاتی ہیں اور جلد ٹوٹ جاتی ہیں۔اس مرض میں مبتلا افراد کو فریکچر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ مرض خواتین میں زیادہ ہے‘ خصوصاً ان خواتین میں جو زیادہ دفعہ حمل کے تجربے سے گزری ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ہڈیوں میں سے کیلشیم زیادہ نکل جاتا ہے جس سے اس کی کمی ہو جاتی ہے۔ اسے ہڈیوں کا بھربھرا پن(osteoporosis) کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ آسٹیو آرتھرائٹس سے مختلف بیماری ہے۔ اس سے متعلق تمام امور کیلئے ماہر امراض ہڈی و جوڑ (آرتھو پیڈک سرجن)کے پاس جانا چاہئے۔