Baaghi TV

Category: صحت

  • شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف

    شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف

    شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف

    مارکیٹ ادویات میں شوگر کے مریضوں میں استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت شدت اختیار کررہی ہے. شوگر کے مریضوں کو شوگر کنٹرول کرنے کے لیے ڈاکٹر حضرات مختلف اقسام کی انسولین تجویز کرتے ہیں، اس وقت مارکیٹ مختلف اقسام کی انسولین کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ٹریبیون کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی کی سابق پروفیسر آف میڈیسن اور ماہر امراض شوگر پروفیسر زمان شیخ نے بتایا کہ پاکستان میں شوگر کی مریضوں کی مجموعی تعداد 33 ملین (3کڑور 30 لاکھ) ہے۔ ان میں 19 ہزار 851 افراد ٹائپ ون شوگر جبکہ 32.9 ملین افراد ٹائپ ٹو شوگرکا شکار ہیں۔ شوگر ٹائپ ون میں مبتلا تمام مریض اپنی شوگر کو کنٹرول کرنے ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے مطابق استعمال کررہے ہیں کیونکہ انسولین کے بغیر ان کی شوگر کنٹرول کرنا ممکن نہیں،انھوں نے بتایا کہ ٹائپ ٹو شوگر کے مرض میں مبتلا 1.2 ملین مریض بھی انسولین لیتے ہیں۔انسولین لینے والے مریضوں کے لیے انسولین کا کوئی متبادل دوا موجود نہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر انسولین کی قلت نہیں لیکن یہ بات درست ہے کہ انسولین کے کچھ برانڈ مارکیٹ میں وقتی طور پر قلت پیدا ہوجاتی ہے لیکن دیگر برآنڈ کی انسولین مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ سول سیل کیمسٹ کونسل آف پاکستان کے صدر عاطف بلو نے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں Humalin 70/30 انسولین کی قلت بدستور برقرار ہے، ادویات مارکیٹ میں انسولین سمیت جان بجانے والی دیگر ادویات کی بھی قلت برقرار ہے جبکہ بیرون ممالک سے درآمد کی جانے والی ادویات کا بحران نظر آرہا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    بلاول نے ارجنٹینا کی جیت پر لیاری میں ہونے والے جشن کی ویڈیو شیئرکردی
    احسان فراموش نہ بنیں، پرویز الہی نے پی ٹی آئی کو کھری کھری سنا دی

    ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹور مالکان کا کہنا تھا کہ دیکھا جارہا ہے کہ جو مریض تین ٹائم کی ادویات استعمال کرتے ہیں، اب مہنگائی کی وجہ سے دو اور ایک ٹائم کی دوا خریدنے پر مجبور ہیں۔ میڈیکل اسٹور کے مالک واصف شیخ نے بتایا کہ سال 2022 جون کے بعد سے تقریباً تمام دواؤںکی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، اگست میں سیلابی صورتحال کے بعد مختلف ادویات کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا جس کے پیش نظر مارکیٹ میں ادویات کی قلت پیدا ہوگئی، ادویات کی قلت بدستور موجود ہے۔ اسی دوران بیشتر ادویات مارکیٹ سے بھی غائب ہوئیں جس کے بعد یہی ادویات بیلک میں فروخت ہورہی ہیں جس میں انسولین بھی شامل ہیں۔

  • توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ توانا بچے ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں کیونکہ وطن عزیزکے معاشی ترقی اور استحکام کے لئے صحت مند نوجوان نسل موثر کردار ادا کر سکتی ہے لہذا شیرخوار بچوں کو پیدائشی طور پر مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور طبی پیچیدگیوں کی روک تھام کے لئے اُن کی مکمل سکریننگ ضروری ہے تاکہ قبل از وقت موروثی اور وائرل انفیکشن کا علم اور اُن کا موثر علاج بھی یقینی بنایا جا سکے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس حوالے سے لاہور جنرل ہسپتال میں زچہ بچہ کی سکریننگ کی افادیت بارے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امریکی ماہر متعدی امراض پروفیسر مبین راٹھور نے خصوصی شرکت کی اور شرکاء کو نومولود بچوں میں وائرس” "Congenital Cytomegalovirusکی تشخیص، جدید طریقہ علاج اور دیگرتکنیکی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ سیمینار میں پروفیسر محمد اشرف سلطان، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر محمد فہیم افضل، ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر خالد بن اسلم، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر آفتاب انور،ڈاکٹر نادیہ ارشد، ڈاکٹر سونیہ ایوب سمیت صوبائی دار الحکومت کے سرکاری و نجی ہسپتالوں کے امراض نسواں و بچگان کے ڈاکٹرز کی کثیرتعداد شریک ہوئی۔

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسرالفرید ظفر نے یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہر متعدی امراض پروفیسر ڈاکٹر مبین حسین راٹھور کی لاہور جنرل ہسپتال آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مقامی ڈاکٹرز اپنی صلاحیتوں اور پیشہ وارانہ سکلز کے حوالے سے پوری طرح مہارت کے حامل ہیں تاہم جدید ترقی یافتہ ممالک کے شعبہ صحت سے وابستہ ماہرین کو سیکھنے کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ سمندر پار بسنے والے ڈاکٹر ز اپنے ہم وطن معالجین کو اپنے شانہ بشانہ چلانے کے لئے اُن کی گاہے بگاہے پاکستان آ کر تربیت اور نالج اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں جس سے جدید میڈیکل ورلڈ میں ہونے والی ترقی اور نئی ایجادات سے مقامی ڈاکٹر زکو آگاہی حاصل ہوتی ہے جو بالآخر مریضوں کے علاج معالجے کومزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہمارا مشترکہ ہدف بھی” پیشنٹ کئیر” ہے جس سے ماہرین کا باہمی تبادلہ خیال اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیئے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ زچگی کے بعد ماں بچے کا مکمل چیک اپ /سکریننگ انہیں مختلف قسم کے امراض کی پیچیدگیوں و تشخیص پر بر وقت علاج کی اہمیت کا حامل ہے اوراس ضمن میں گائناکالوجسٹ اور پیڈریاٹک ڈاکٹرز کو عوام میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ سیمینار کے اختتام پر پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے مہمان خصوصی امریکی ماہر متعدی امراض ڈاکٹر مبین حسین راٹھور کو اعزازی شیلڈ پیش کی اور اُن کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ٭٭٭٭

  • فیفا ورلڈ کپ:ماہرین نے ’کیمل فلو‘  پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

    فیفا ورلڈ کپ:ماہرین نے ’کیمل فلو‘ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

    فیفا ورلڈ کپ: ماہرین نے قطر سے آنے والوں کو’کیمل فلو‘ سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : طبی جریدے میں شائع تحقیقی رپورٹ کے مطابق ورلڈکپ کے دوران نہ صرف قطر بلکہ اس کے پڑوسی ممالک میں کئی متعدی امراض پھیل سکتے ہیں۔ چونکہ لاکھوں افراد ٹورنامنٹ دیکھنے قطر آرہے ہیں اور ان سے کووڈ، منکی پاکس، مرس اور دیگر امراض مختلف ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سے قطر سے برطانیہ آنے والے فٹ بال کے شائقین کو کیمل فلو کی علامات پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے، ان علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور قے کرنا شامل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق قطر میں اونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہونے والے برطانوی شائقین کو اس سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ’کیمل فلو‘ کورونا وائرس سے ہی تعلق رکھتا ہے مگر یہ اس سے بھی زیادہ جان لیوا وائرس ہے۔

    اگرچہ قطر اس حوالے سے تیار ہے مگر لوگوں کے تحفظ کیلئے پھیلاؤ کی نگرانی کرنا ضروری ہے۔ماہرین نے قطر جانے والے افراد کو اونٹوں کو چھونے سے گریز کا مشورہ بھی دیا۔

    واضح رہے فیفا ورلڈ کپ میں سیمی فائلز کے لیے لائن اپ مکمل ہو گئی ہے، میگا ایونٹ کا پہلا سیمی فائنل منگل کو ارجنٹینا اور کروشیا کے درمیان کھیلا جائے گا۔ دوسرے سیمی فائنل میں بدھ کو مراکش کا مقابلہ دفاعی چیمپئن فرانس سے ہوگا۔

    خیال رہے کہ مرس وائرس سب سے پہلے 2012میں سعودی عرب میں رپورٹ ہوا تھا اور اب تک اس کے 27مختلف ممالک میں 2600کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

  • آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں اور پودوں میں پائے جانے والے خصوصی اجزا کینسر کے علاج میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے فرنٹیئرز ان فارماکولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق پولینڈ اور برطانیہ کے ماہرین نے مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا، جن سے یہ دریافت ہوا کہ آلو اور ٹماٹر سمیت مختلف سبزیوں اور پودوں میں پائے جانے والے گلائیکول کلوئیڈز اجزا کینسر کے علاج میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گلائیکول کلوئیڈز دراصل نائٹروجن اورمختلف کیمیکلزکا ایک گروہ ہےجو کہ سبزیوں، پودوں اور جڑی بوٹیوں میں پائے جاتے ہیں گلائیکول کلوئیڈز عام طور پر پانچ مختلف کیمیکل کا گروپ ہوتا ہے،جن میں سولانائن، چاکونین، سولاسونین، سولا مارگین اور ٹماٹین شامل ہیں یہ اجزا عام طور پر ٹماٹر، آلو، بینگن اور کالی مرچوں میں پائے جاتے ہیں، تاہم یہ اجزا مختلف جڑی بوٹیوں اور پودوں میں بھی ہوتے ہیں۔

    ماہرین نے ان ہی اجزا کا کینسر کے علاج اور مرض پر اثر دیکھنے کے لیے تحقیق کی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ اجزا موذی مرض کے علاج کے دوران فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گلائیکول کلوئیڈز پر مبنی پانچوں اجزا کینسر کے مریض کو کیمو تھراپی کے دوران فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ اجزا صرف کینسر کے سیلز کو نشانہ بناتے ہیں، تاہم یہ صحت مند سیلز کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ کیمو تھراپی کے دوران دوا کینسر کے سیلز سمیت صحت مند سیلز کو بھی نشانہ بناتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کمزور پڑ جاتا ہے۔

    اس بات پر ابھی تحقیق ہونا باقی ہے کہ مذکورہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) اجزا کو کس طرح استعمال کرنے سے کینسر کے علاج فائدہ ہو سکتا ہے تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) براہ راست کینسر کا علاج کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا کہ سموگ سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں اور بالخصوص حاملہ خواتین اور ان کے بطن میں پرورش پانے والا بچہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث آکسیجن کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے، لہذا ایسی خواتین خصوصی احتیاط برتیں تاکہ ماں اور بچہ کی صحت محفوظ رہ سکے۔ سربراہ جنرل ہسپتال نے سموگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ شہری، بچے اور بیمار افراد بھی ماحولیاتی آلودگی کا آسان ہدف ہیں جبکہ فضائی آلودگی حاملہ خواتین اوربچے کی صحت کو متاثر کرنے کے علاوہ نشوونما میں خلل ڈال سکتی ہے۔حاملہ خواتین جو آلودہ علاقوں میں رہتی ہیں ان کے ابتدائی یا قبل از وقت لیبر کا زیادہ امکان ہو سکتا ہے۔سموگ سے قبل از وقت لیبر اور دیگر مسائل جیسے کہ پیدائش کے وقت کم وزن، بچے کے پھیپھڑوں کا متاثر ہونا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سموگ کی وجہ سے قوت مدافعت انتہائی کم ہو جاتی ہے۔اگر حاملہ خواتین دمہ کے مرض میں مبتلا ہوں تو پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ سموگ کی آلودگی بچوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے اور ان کے بڑے ہونے پر ان کی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں،جس میں ہائی بلڈ پریشر، دمہ، دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس وغیرہ شامل ہیں اور سانس کے مرض میں مبتلا مریض سموگ سے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں جس سے پھیپھڑوں کے نقصان کا تناسب بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ سموگ کی علامات میں گھرگھراہٹ، سینے میں جکڑن، سانس لینے میں دشواری، موٹاپا اور الرجی جیسے کھانسی،سینے، آنکھوں، گلے اور ناک میں جلن شامل ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا شہری سموگ کے اوقات میں ورزش کرنے سے گریز کریں اور COPDمیں مبتلا افراد ہر وقت اپنا انہیلر ساتھ رکھیں، سموگ سے بچاؤ کے لیے ماحول دوست صارف مصنوعات استعمال کریں اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں اور ہجوم میں جاتے وقت فیس ماسک کا استعمال لازمی کریں تاکہ آلودگی سے محفوظ رہ سکیں۔

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ماحولیاتی نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈپولیووائرس کی تصدیق

    لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ماحولیاتی نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈپولیووائرس کی تصدیق

    لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ماحولیاتی نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈپولیووائرس کی تصدیق

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ماحولیاتی نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈپولیووائرس کی تصدیق کردی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی)کے مطابق لاہور سے 17 اور ڈیرہ اسماعیل خان نے 19 نومبر کو نمونے حاصل کئے گئے، ان نمونوں کو جانچ کے لئے پاکستان نیشنل پولیو لیبارٹری بھجوایا گیا تھا۔ این ای او سی کے مطابق دونوں شہروں میں ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رواں سال لاہور سے وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق کا یہ چوتھا جب کہ ڈی آئی خان سے پہلا مثبت نمونہ ہے تاہم ماحولیاتی نمونوں کی جینیاتی ترتیب کے نتائج کا انتظارہے۔ این ای او سی کا کہنا ہے کہ ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس افغانستان اور پاکستان میں پایا جاتا ہے، بہت تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔ دنیا میں پاکستان اور افغانستان ہی 2 ملک ہیں جہاں اب تک پولیو پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ رواں برس بھی ملک میں پولیو کے کئی کیسز ریکارڈ سامنے آچکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمعمزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمعمزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    خیال رہے کہ 1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 339,521 پولیو ورکرز پولیو کے خاتمے کے ان اقدامات میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کو دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظام کی خدمات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کو معلومات کے حصول اور تجزیے کا معیاری نیٹ ورک، جدید ترین لیبارٹریز، وبائی امراض کے بہترین ماہرین اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پبلک ہیلتھ کے نمایاں ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہیں۔

  • پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے.

    اگر آپ خاتون کی حیثیت سے کسی دفتر، اسکول یا ادارے سے وابستہ ہیں تو مکمل گہری نیند نہ صرف اگلے دن آپ کو پرعزم بناتی ہے بلکہ اس سے اپنے شعبے میں آگے بڑھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ تحقیق واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی نے کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کارکن خواتین اپنی پوری نیند لیتی ہیں ان کا موڈ بہتر رہتا ہے، اگلے دن دفاتر کے کام بھاری نہیں پڑتے اور وہ اپنے شعبے میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ مردوں کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ۔

    اس ضمن میں مختلف اداروں میں کام کرنے والی 135 خواتین اور مردوں کا دو ہفتے تک سروے کیا گیا ہے۔ مطالعے سے پہلے ان کا موڈ، آرام کے اوقاتِ کار اور اگلے دن کی یہی تفصیلات جمع کی گئی تھیں۔ پھر خواتین سے کام کی ذمے داریوں اور خود ان کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب خواتین پرسکون اور پورے وقت کی نیند لیتی ہیں تو ان کا مزاج بہتر ہوتا ہے، وہ قدرے زیادہ پرعزم ہوتی ہیں اور اپنے اہداف مکمل کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔ بصورتِ دیگر نیند کی کمی ان کے مثبت مزاج کو متاثر کرتی ہے اور وہ اپنے اہداف کی جانب زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔

    یہ تحقیق ’سیکس رولز‘ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس مطالعے میں ہر روز دوپہر کے بعد شرکا سے ان کی نیند اور اس وقت کے موڈ کے بارے میں سوالات کیے گئے تھے۔ پھر شام کو گھر جانے سے قبل ان کی ذمے داریوں کے احساس، کام میں دلچسپی اور جوش و عزم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ مرد اور خواتین، دونوں نے ہی اچھی اور بری نیند کا ذکر کیا لیکن مردوں کے مقابلے میں جس رات خواتین کی نیند متاثر ہوئی ان میں عزم کی کمی، کام سے لگاؤ میں عدم دلچسپی اور مجموعی پھرتی کی کمی محسوس کی گئی جو سوالنامے سے بھی عیاں ہوگئی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ نیند کی کمی خواتین کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ گھروں تک محدود خواتین بھی اگر اپنی نیند پوری کریں تو وہ گھریلو کام کاج کو بہتر انداز میں کرسکتی ہیں جن میں بچوں کی تربیت جیسے اہم امور بھی شامل ہیں۔

  • ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے ترقیاتی امور (UNDP) کی نمائندہ ایلیونا نیکولیٹا نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق کے ہمراہ میو ہسپتال میں قائم ایچ آئی وی، ایڈز سپیشل کلینک کا دورہ کیا۔

    وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر اختر ملک اور سیکریٹری صحت نے ڈاکٹر محمد ارشاد کی پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی عالمی اداروں سے بہتر شراکت داری کی ہدایات دے دی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول کی تکنیکی ٹیم اور میو ہسپتال کے ماہرین نے شرکت کی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق احمد نے پروگرام کے مختلف امور اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میو ہسپتال کا ایچ آئی وی ایڈز کلینک سولہ سال سے اس بیماری میں مبتلا افراد کو مفت تشخیص اور علاج کے ساتھ ساتھ مفت ادویات فراہم کر رہا ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام اس وقت صوبہ کے تمام اضلاع میں قائم 45 کلینکس کے ذریعے اس مرض میں مبتلا افراد کو مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    ڈاکٹر فاروق کا کہنا کہ انجکشن کا غیر محتاط استعمال ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس موقع پر عالمی ادارہ کے نمائندہ نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کی تعریف اور عالمی ادارہ برائے ترقیاتی امور مریضوں کی فلاح اور علاج میں بہتری کے لئے شراکتی اقدامات میں اضافہ کرے گا۔ایلیون نیکولیٹا نے کہا کہ ایچ آئی وی, ایڈز کے مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔

  • پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی

    پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی

    پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی

    وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے کیسز کا تناسب کئی گناہ بڑھ گیا ہے۔ جمعرات کے روز امیریکن سینٹر فار ڈیزیز اینالیس (سی ڈی اے) سے تعلق رکھنے والے معروف وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ہومی رضاوی نے اپنے خیالات کا اظہار ہیپاٹائٹس سے متعلق سیمینار میں کیا۔

    طبی ماہرین کے مطابق 2030 تک ہیپاٹائٹس کو ختم کرنے کے حکومتی عزم کے باوجود، ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے،یہاں تک کہ آج تقریباً 10 ملین یعنی ایک کڑور پاکستانی وائرل ہیپاٹائٹس سی کے مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن کی تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں صرف 2020 میں ہیپاٹائٹس سی کے 461,000 سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے جو کہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں نئے کیسز کی بڑی تعداد ہے۔ پاکستان سوسائٹی فار اسٹڈی آف لیور ڈیزیز کے زیر اہتمام سولہویں سالانہ کانفرس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بیرون ملک سے آئے ہوئے ماہرین کے علاوہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی گیسٹرواینٹرولوجسٹ پروفیسر آمنہ سبحان نے بھی شرکت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد میں مطلع ابرآلود، کراچی میں پارہ 12 ڈگری تک گرگیا
    اسلام آباد سے قطر جانے والے مسافر کے پیٹ سے منشیات بھرے کیپسول برآمد
    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی سماعت آج ہوگی
    تمام مقررین نے ہیپاٹائٹس سی کے غیر منظم پھیلاؤ سے ہونے والے نقصانات پر روشنی ڈالی۔ جس کے نتیجے میں جگر کا کینسر اب ملک میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا کینسر ہے۔ مقررین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے اپنے پروگراموں کو تیز کریں۔ ڈبلیو ایچ او کے اہداف کو پورا کریں، جس سے 150,000 سے زیادہ جانیں بچیں گی۔ اس موقع پر امیریکن سینٹر فار ڈیزیز اینالیس (سی ڈی اے) سے تعلق رکھنے والے معروف وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ہومی رضاوی نے کہا کہ دس ملین افراد پاکستان میں ہیپاٹائٹس سے متاثر ہیں اور پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں اس کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ہیپاٹائٹس سے کینسر کے خدشات میں اضافہ ہوجاتا ہے کیوں کہ ہیپاٹائٹس ایک خاموش قاتل ہے۔

    آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل کی گیسٹرواینٹرولوجسٹ پروفیسر آمنہ سبحان بٹ نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا تناسب بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں انجکشن کے ذریعے ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں غیر ضروری طور پر انجکشن لگایا جاتا ہے۔بیشتر غیر معیاری بلڈ بینکز کی وجہ سے بلڈ ٹرانسفیوژن بھی محفوظ نہیں رہا۔ماں سے بچے میں بھی ہیپاٹائٹس منتقل ہوسکتا ہے۔ویکسینیشن کے ذریعے اس پر قابو پانا ممکن ہے۔

  • پنجاب،23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ،37 ہزار افراد میں تصدیق

    پنجاب،23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ،37 ہزار افراد میں تصدیق

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر، پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام، یواین ڈی پی، یواین ایڈز اور یونیسف کے مشترکہ تعاون سے ایچ آئی وی /ایڈز سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ متوازن زندگی اور احتیاطی تدابیر کے اصولوں کو اپنا کر ہی ایڈز سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

    ایڈز سے نفرت، مریض سے نفرت نہیں بلکہ ان سے بہترین برتاؤ عالمی دن کے موقع پر ہمارا پیغام ہے۔ڈاکٹر اختر ملک آج مقامی ہوٹل میں ایڈز پر منعقدہ سیمینار سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کررہے تھے۔ سیمینار میں ایڈیشنل سیکریٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا، ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل، ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ڈاکٹر شاہد مگسی سمیت پروگرام ڈائرکٹرز شریک ہوئے جبکہ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، یو این ایڈز اور یو این ڈی پی کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ایچ آئی وی/ایڈز پر کام کرنے والی فلاح تنظیموں، خواجہ سرا تنظیموں اور کمیونٹی تنظیموں سے پانچ سو زائد لوگوں نے بھر پور شرکت کی۔سیمینار میں بیماری کے بارے میں غلط تصورات کے موضوع پر خصوصی سٹیج ڈرامہ کا انعقاد کیا گیا۔

    ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کی رازداری کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہیاور مخصوص گروہوں جن میں سرنج سے نشہ کرنے والے افراد زیادہ اس مرض کا شکار ہیں ان میں زیادہ ایڈز پھیلنے کی شرح زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مرض غیر ٹیسٹ شدہ خون کے انتقال اور سرنج کے غیر محتاط استعمال سے پھیل سکتا ہے اور یہ مرض غیر محتاط جنسی تعلق اور متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا کہ ساتھ کھانا کھانے اور ہاتھ ملانے سے یہ مرض نہیں پھیلتا۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب میں مفت تشخیص، علاج اور مشاورت کی سہولت تمام اضلاع میں موجود ہے۔ ٹرک، بس ڈرائیور اور جیل کے قیدیوں کی مفت ایچ آئی وی سکریننگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ میں اب تک 23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ کی گئی ہے اور پروگرام کے آغاز سے آج تک مجموعی طور پر 37 ہزار افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تصدیق ہوئی۔اس وقت صوبہ بھر میں سترہ ہزار سے زائد لوگوں کو تشخیص، علاج، مشاورت اور ادویات کی سہولت مکمل طور پر مفت فراہم کی جارہی ہے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام صوبہ بھر میں 45 مراکز پر ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کررہا ہے اور ایڈوانس بائیو سیفٹی لیول-3 لیبارٹری کے ذریعے ایچ آئی وی مریضوں کو مفت پی سی آر اور CD4 ٹیسٹ کی سہولیات میسر ہیں۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ایڈز سے بچاؤ اور آگہی میں یواین ایڈز، یونیسف کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ان کے تعاون پر ان کے مشکور ہیں۔ حکومت، میڈیا اور شہری تنظیمیں اس مرض کی آگہی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ایڈز کا مریض مخصوص ادویات کے استعمال سے معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا نے کہا کہ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر تعلیمی اداروں میں آگہی کی بھرپور مہم چلا رہا ہے